Baaghi TV

Author: +9251

  • اسحاق ڈار کی درخواست  پرسماعت کل سپریم کورت میں ہو گی

    اسحاق ڈار کی درخواست پرسماعت کل سپریم کورت میں ہو گی

    سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے اور ان کے اثاثے منجمد قرار دیے جانے کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔

    اسحاق ڈار کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 2 رکنی بینچ کل کرے گا۔ سپریم کورٹ کے اس بینچ کا حصہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بھی ہوں گے۔ ن لیگی سینیٹر نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

    اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مفرو ر قرار دیئے جانے کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا.

    سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مفرور قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،اسحاق ڈار نے استدعا میں مذید کہا کہ وکیل کے ذریعے نیب کورٹ میں اپنا کیس چلانے کی اجازت دی جائے، اسحاق ڈار کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ مئی2022میں مجھے پاسپورٹ دیا گیا.سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ 25اگست سے شروع ہونے والے عدالتی ہفتے میں کیس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے.

    یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار علاج کی غرض سے بیرون ملک (لندن) گئے تھے اور وطن واپس نہیں آئے جس کے بعد عدالت نے انہیں مقدمہ میں مفرور قرار دے دیا تھا.

    سپریم کورٹ میں کل سماعت ہونے والے اہم مقدمات میں منظور حسین وسان بنام رجسٹرار اپیلٹ ٹریبونل کورٹ کیس کی سماعت جو صوبائی اسمبلی کی انتخابی عذرداری سے متعلق ہے
    کورٹ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطاء بندیال تین رکنی بینچ سیریل نمبر 2 میں کل ہو گی،
    انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت
    کورٹ نمبر ایک میں ہو گی، چیف جسٹس عمر عطاء بندیال تین رکنی بینچ سیریل نمبر 9 میں سماعت کریں گے..جبکہ رحیم یارخان ہندو مندر حملہ از خود نوٹس کیس کی سماعت
    کل کورٹ نمبر تین میں ہو گی جسٹس اعجاز الاحسن دو رکنی بینچ سیریل نمبر 4 سماعت کریں گے.

    نیب بنام حمزہ شہباز شریف وغیرہ کیس کی سماعت جو حمزہ شہباز شریف کو گرفتاری سے پہلے آگاہ کرنے کےلاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف نیب کی دائر کردہ اپیل سے متعلق ہے کی سماعت بھی کل کورٹ نمبر تین میں ہو گی،جسٹس اعجاز الاحسن دو رکنی بینچ سیریل نمبر 8سماعت کرے گا.تاہم متزکرہ کیس کی سماعت کے موقعہ پر مناسب حفاظتی اقدامات کی ضرورت ست آگاہ کر دیا گیا ہے.

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس،اپوزیشن کا احتجاج،عمران خان کے حق میں قرارداد منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس،اپوزیشن کا احتجاج،عمران خان کے حق میں قرارداد منظور

    مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کا پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر عمران خان کے خاتون جج کو دھمکی دینے کے خلاف احتجاج کیا،مسلم لیگ ن کے ارکان نے فتہ خان نامنظور اور خاتون کی توہین نامنظور کے نعرے لگائے ۔لیگی ارکان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

    حنا پرویز بٹ نے کہا عمران خان کے خاتون جج کے متعلق ریماکس ناقابل معافی ہیں۔پولیس کی اعلی قیادت کو دھمکیاں دینا عمران خان کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔حیرت ہے کیسا ذہنی مریض وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہا ہے۔کل تک یہ پولیس افسران اور ججز اچھے تھے آج عمران خان کی کرسی چھن گئی تو سب برے لگ رہے ہیں۔

    راحیلہ خادم نے کہا تحریک انصاف ایک فاشسٹ جماعت ہے۔جو خواتین کے متعلق اپنا گندہ ذہن پہلے ہی عیاں کر چکی ہے۔خاتون جج کی تذلیل تمام پاکستانی خواتین کی بے عزتی کے برابر ہے۔ہم خاتون جج زیبا چوہدری کے ساتھ مکمل اظہار یک جہتی کرتے ہیں۔سعدیہ تیمور نے کہا عمران خان ایک فتنہ ہے جس کا ایجنڈا ملک میں انتشار پھیلانا ہے۔اداروں کے افسران کو دھمکیاں قابل مذمت ہے۔تحریک انصاف پاکستان کی دشمن جماعت ہے جو غیر ملکی فنڈنگ سے چل رہی تھی اور انکا ایجنڈا بھی غیر ملکی تھا۔

    کنول لیاقت نے کہا پوری مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت خاتون اور پولیس افسران کے ساتھ کھڑی ہے اب عدلیہ کو بھی چاہیے کہ اس ذہنی مریض کو لگا ڈالے۔اس موقع پر لیگی رکن خلیل طاہر سندھو،سنبل ملک،رابعہ فاروقی،زیب النساء اعوان،راحت افزاء،حسینہ بیگم،طارق گل سمیت دیگر ارکان موجود تھے۔

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کا ترمیمی بل پنجاب اسمبلی میں متعارف کرایا گیا.بل صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ کی جانب سے متعارف کرایا گیا،ایوان نے لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا،علاوہ ازیں راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل بھی پنجاب اسمبلی میں متعارف کرایا گیا،یہ بل بھی صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ نے متعارف کرایا،تاہم ایوان نے راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ذرائع کے مطابق دونوں بل قواعد کو معطل کر کے منظور کرائے گئے.

    میاں محمود الرشید کی جانب سے قواعد معطل کر کے عمران خان پر بے بنیاد مقدمات کے خلاف قرارداد پیش کی گئی ،قرار داد میں کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی کا یہ ایوان عمران خان پر ہونے والے بے بنیاد مقدمات کی مذمت کرتا ہے، عمران خان پاکستانی قوم ور عالم اسلام کے حقیقی لیڈر ہیں،عمران خان پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا ہے، ان مقدمات سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے روشن چہرے کو مسخ کیا گیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ان مقدمات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، بین الاقوامی جریدے بھی ایسے واقعات کی مذمت کر رہے ہیں، ایسے اوچھے ہتھکنڈے تحریک انصاف کی جدوجہد کو نہیں روک سکتے، یہ ایوان عمران خان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہے،یہ ایوان امپورٹڈ حکومت کی جانب سے درج کئیے جانے والے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے، سیاسی میدان میں سیاسی طور پر جواب دیا جائے ، قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ متفقہ قرارداد منظور ہونے پر ہاوس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں.میاں محمود الرشید نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کے ذمہ داران ہوش کے ناخن لیں ،ایک ایسا لیڈر جس کے ساتھ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے دل دھڑک رہے ہیں ،منتخب حکومت کو راتوں رات بیرونی سازش کر کے فارغ کیا گیا،عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ قوم نے جس طرح عمران خان کی آواز پر لبیک کہا اس کی مثال نہیں ملتی،یہ عمران خان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا قصور یہ ہے کہ وہ ریاست مدینہ کی بات کر رہا ہے ،وہ اس ملک کے پسے ہوئے طبقے ، جوانوں کے لیے کسانوں کے عوام کی بات کرتا ہے ،اگر یہ جرم ہے تو یہ صرف عمران خان نہیں ان کے ساتھ چلنے والا ہر شخص کرے گا،ملک میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں عوام باہر نہ نکلے ہوں
    ،انہوں نے اس امپورٹڈ حکومت کو مسترد کیا ہے ،کیا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمران خان اور ہمارے اوپر دہشتگردی کے مقدمات درج کر ہمیں دبا لیں گے ،اپوزیشن والے حوصلہ کرتے اور یہاں بیٹھ کر ہماری بات سنتے ،یہ جتنا دبائیں گے عوام عمران خان کے ساتھ نکلیں گے.

    حکومتی اراکین نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات پر عدم دلچسپی کا اظہار کیا،
    سپیکر پنجاب اسمبلی اراکین کو بار بار نشستوں پر بیٹھنے کی رولنگ دیتے رہے جبکہ حکومتی اراکین سپیکر کی رولنگ کو نظر انداز کرتے رہے،وقفہ سوالات پر لیگی رکن اسمبلی ارشد ملک بھی سپیکر ہاؤس ان آرڈر کا کہتے رہے،حکومتی اراکین اسمبلی ایک دوسرے سے خوش گپیوں میں مصروف رہے

    راحیلہ خادم حسین نے کہا کہ ہم آپ کو عزت دینے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن آپ کو عزت راس نہیں آئی،جو خود دسویں فیل ہیں وہ ہمیں جواب دے رہے ہیں، سردار شہاب الدین کا کہنا تھا کہ یہ وطیرہ ہمارا نہیں ہے میں نے ان کو عزت سے جواب دیا ہے ،104 میلین روپے کی آمدن ہوئی اسے سرکاری خزانے میں جمع کرایا ہے ،جو ویکسین تیار ہوتی ہے وہ نو پرافٹ نو لاس پر مہیا کی جاتی ہے ،جو لیب سے آمدن اکٹھی ہوتی ہے سرکاری خزانے میں جمع کرائی جاتی ہے،انسداد بے رحمی حیوانات ایک سوسائٹی ہے جو پندرہ اضلاع میں کام کر رہی ہے
    ،اس کے لیے بجٹ ن لیگ کی حکومت نے رکھا تھا

    ملک محمد ارشد نےجواب میں کہا گیا ہے موجودہ وزیراعظم ، جبکہ سابقہ وزیر اعظم نے قوم کو کٹوں وچھوں کے پیچھے لگایا گیا،جو جواب دیا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے ، آج کے وزیر اعظم کی ایسی کوئی پالیسی نہیں تھی ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ جب انہوں نے سوال جمع کرایا تھا اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے اس لیے جواب اسی مطابق دیا گیا ہے

    ملک محمد ارشد کا کہنا تھا کہ یہ ڈیپارٹمنٹ کی غلطی ہے انہوں نے سابق وزیر اعظم نہیں لکھا،مجھے کوئی ایشو نہیں ہے، کل اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی تھے آج آپ ہیں ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ اس سکیم کو اس وقت کی اپوزیشن نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا،خلیل طاہر سندھو نے ضمنی سوال میں کہا کہ چار مرغیاں اور ایک مرغا دینا تھا، لیکن غلطی سے چار مرغے اور ایک مرغی دے دی گئی،اس کا کیس چل رہا ہے کیا یہ درست ہے،جب اگلا سیشن ہو گا تو میں مقدمہ کی ایف آئی آر لے آؤں گا

    محمد ارشد ملک نے کہا کہ بتائیں کہ کتنی ادویات کم ہیں ساہیوال میں ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ میں ان کے پاس جا کر چائے پئیوں گا اور ان کو جواب بھی دوں گا،ان کے اپنے فارم ہاؤس میں ادویات کی ضرورت ہے تو میں مہیا کرا دوں گا،لک ظہیر عباس کھوکھر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں قرار داد منظور کرنے پر پورے ہاؤس کا شکریہ ادا کرتا ہوں،وفاقی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کی بھر پور مذمت کرتے ہیں،عمران خان کو کسی نہ کسی حوالے سے ذچ کرنا، ان کی حرکت کو کنٹرول کرنا، ان کے خلاف مقدمات درج کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وفاقی حکومت عمران خان کی پزیرائی سے گھبرائی ہوئی ہے،عمران خان عوامی لیڈر ہیں یہ ان کو پریشان رکھنا چاہتے ہیں ،عمران خان کو عوام میں انے سے روکنے کی کوششوں پر عوام کو تشویش ہے ،وفاقی حکومت نے میرا نام بھی عمران خان کے ساتھ ایف آئی آر میں درج کر ہے پنجاب اسمبلی کی توہین کی ہے،عمران خان جب بھی بلائیں گے ہم ان کی آواز پر لبیک کہیں گے

  • ماہانہ 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پرفیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ختم کردیے،خرم دستگیر

    ماہانہ 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پرفیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ختم کردیے،خرم دستگیر

    وفاقی وزیر برائے توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ ماہانہ 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پرفیول ایڈجسٹمنٹ چارجز (ایف اے سی) ختم کردیے۔

    کراچی میں اپنی پریس کانفرنس میں خرم دستگیر نے کہا کہ مجموعی طور پر ایک کروڑ 70 لاکھ صارفین کیلئے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ختم کیے گئے ہیں، ایف اے سی کی مد میں 22 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تاجروں پر فکسڈ ٹیکس بھی ختم کردیا گیا ہے، اب پرانے طریقہ کار پر ہی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ تھر کول کے منصوبوں کو جلد مکمل کیا جارہا ہے، تھرکول میں شنگھائی الیکٹرک کا بجلی بنانے کا منصوبہ جلد مکمل ہوگا،2018 سے سولر انرجی کے سیکٹر پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، جون کےمہینوں میں پرائس سر چارج عذابِ عمرانی کا نتیجہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بجلی کی فراہمی اور سستی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، تھرکول میں شنگھائی کمپنی کا 1320 میگاواٹ کےمنصوبےکا کل دورہ کروں گا، صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی چیلنج ہے، کل تھر میں 1320میگاواٹ کا شنگھائی الیکٹرک کا منصوبہ شروع کریں گے، نئے بجلی کے کارخانے پاکستان میں دستیاب ایندھن کی بنیاد پر لگیں گے، نیوکلر، سولر، تھر کول سمیت دیگرذرائع استعمال کریں گے۔

  • سیلاب میں پھنسے 38,143 سے زائد افراد ریسکیو،وزیراعلیٰ کی  ریلیف آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت

    سیلاب میں پھنسے 38,143 سے زائد افراد ریسکیو،وزیراعلیٰ کی ریلیف آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت

    پی ڈی ایم اے نے سیلاب میں پھنسے 38,143 سے زائد افراد کو سیلابی علاقوں سے بحفاظت ریسکیو کر لیا، سیلابی علاقوں میں 67,797 افراد کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، سیلاب متاثرین کے لیے 99 فلڈ ریلیف کیمپس قائم ہیں، حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق سیلاب متاثرین تک تین وقت کا کھانا اور صاف پانی سمیت دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب متاثرین کے 64,974 بڑے اور 114,977 چھوٹے جانوروں کو بیماریوں سے بچاو کی ویکسین لگائی جا چکی۔ اب تک 39,437 گھرانوں میں ایک ماہ کے لیے خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے جبکہ 22267 گھرانوں میں ٹینٹس تقسیم کیے جا چکے۔دور دراز اور کٹھن علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیلاب متاثرین تک خوراک پنچانے کا عمل جاری ہے۔ریسکیو ریلیف آپریشن میں پاک فوج ریسکیو 1122 سمیت دیگر ادارے حصہ لے رہے ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے ۔ممکنہ سیلابی علاقوں سے لوگوں کے انخلاء کے لیے اقدامات بدستور جاری ہیں۔عوام مون سون بارشوں اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ پی ڈی ایم اے کا عملہ 24/7 عوام الناس کی رہنمائی کے لیے کام کر رہا ہے۔

    دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت وزیراعلیٰ آفس میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ وزارتی کمیٹی کا اجلاس منعقدہوا،اجلاس میں راجن پور،تونسہ،ڈیرہ غازی خان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیاگیا۔وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے چیف سیکرٹری کامران افضل کوآج ہی سیلاب متاثرہ علاقوں میں جانے کی ہدایت کی اور کہاکہ وہ متاثرین کی بحالی کے کاموں کی خود نگرانی کریں۔

    وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کو مزید تیز کیا جائے اورتمام ادارے یکسو ہوکر متاثرین کی مدد کریں۔انہوں نے کہاکہ کوہ سلیمان میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں غیر معمولی پانی آیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں پنجاب حکومت اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کی مدد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔

    اجلاس میں سیلاب وبارشوں سے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لئے مالی امداد بڑھانے کا فیصلہ کیاگیا۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے مالی امدا د میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہاکہ گھروں،فصلوں اورمال مویشی کے نقصانات کا ازالہ کریں گے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ امدادی کیمپوں میں لوگوں کو بروقت کھانا پہنچایا جائے اورامدادی کیمپوں میں موجود افراد کیلئے خشک راشن اورفوڈ ہیمپرزکی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام کیلئے میڈیکل کیمپس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اورمحکمہ لائیوسٹاک جانوروں کے لئے چارے کا وافرانتظام کرے۔متاثرین کو امدادی کیمپوں میں ضروری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں صوبائی وزراء راجہ محمد بشارت،سید عباس علی شاہ،سردار آصف نکئی،علی افضل ساہی، ڈاکٹر اختر ملک، بریگیڈئر(ر)اعجاز شاہ، چیف سیکرٹری کامران افضل اورمتعلقہ حکام نے شرکت کی۔

    علاوہ ازیں وزیر پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ کی زیر صدارت وزارتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس منوقد ہوا.اجلاس میں پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال اور ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا گیا.اجلاس میں صوبائی وزرا محسن لغاری، نوابزادہ منصور علی خان، علی افضل ساہی، چیف سیکرٹری نے شرکت کی.ایس ایم بی آر، ڈی جی پی ڈی ایم اے کی ریسکیو آپریشن پر بریفنگ دی.

    راجہ بشارت نےاجلاس میں بتایا کہ سیلاب میں جاں بحق افراد کے ورثا کیلئے امدادی پیکیج میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے ہر جاں بحق فرد کے ورثا کو 10 لاکھ روپے دیئے جائیں گے جبکہ انتہائی زخمی کو 3 لاکھ، شدید زخمی کو ایک لاکھ روپے دینے کی منظوری دی گئی ہے.

    راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ زخمی اور معمولی زخمی افراد کو بالترتیب ایک لاکھ اور 50 ہزار ملیں گے،وزارتی کمیٹی نے مکانات کو نقصان کے امدادی پیکیج پر بھی نظرثانی کی، امدادی پیکیج کے تحت متاثرین کو فوری ادائیگی کی جائے گی.

    راجہ بشارت نے کہا کہ مکمل پکا مکان تباہ ہونے پر پنجاب حکومت 4 لاکھ روپے دے گی،جزوی پکے مکان کو نقصان پر امدادی رقم 40 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کر دی گئی، مکمل کچے اور جزوی کچے مکان کو نقصان پر بالترتیب 2 لاکھ اور 50 ہزار ملیں گے،بڑے مویشی کی ہلاکت پر 50 ہزار، بھیڑ بکری کی ہلاکت پر 5 ہزار دینے کی تجویزدی گئی ہے
    ،کمیٹی کی چھوٹے مویشیوں کے نقصان پر ازالے کی رقم بڑھانے کی بھی تجویززیر غور ہے،فصلوں کے نقصان پر ساڑھے بارہ ایکڑ تک فی ایکڑ 15 ہزار دینے کا فیصلہ کای گیا ہے.وزیراعلی پنجاب پہلے ہی سیلاب زدہ علاقوں آفت زدہ قرار دے چکے ہیں، وزیر خزانہ محسن لغاری نے کہا کہ ہر سال امدادی پیکیج دینے کی بجائے مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہوگا،بلوچستان سے اس بار غیر معمولی سیلابی ریلے ڈی جی خان میں آئے، چیف سیکرٹری نے بتایا کہ کارپوریٹ سیکٹر کو امدادی سرگرمیوں میں شامل کرنے کیلئے کام جاری ہے.

  • حکومت میری آخری کال سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دے،عمران خان کی دھمکی

    حکومت میری آخری کال سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دے،عمران خان کی دھمکی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم اپنے اداروں کی کبھی تنقید نہیں کرتے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے اس امپورٹڈ حکومت سے ہماری جان چھڑوا کر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائے جائیں، حکومت کو کہتا ہوں جب میں کال دوں گا تو وہ آخری کال ہو گی، اس سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دیں۔

    ہری پور میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائداعظمؒ کہتے تھے انگریزوں سے آزادی کے بعد ہم کسی کے غلام نہیں ہیں، پاکستان کی حقیقی طرح آزاد کیا جائے، ملکی فیصلے پاکستان میں ہوں، پاکستان کو کسی اور کی جنگ میں شرکت نہ کروائیں، میں یہ کسی صورت میں نہیں ہونے دوں گا، ہمیں دھمکی ملی اگر امریکہ کی جنگ میں آپ شامل نہیں ہوں گے تو آپ کو ختم کر دیا جائے گا۔ میں امریکا کو کہتا ہم آپ کو ہر طرح مدد کریں گے لیکن دہشتگردی میں ساتھ نہیں دیں گے، میں دہشت گردی کے خلاف کھڑا تھا مجھے دہشت گرد کہا گیا، میں کسی دہشت گردی کے ساتھ نہیں ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ میری قوم جاگ گئی ہے، میری پوری کوشش تھی ہم روس سے سستا تیل لیں اور اپنی عوام کو سستا تیل دیں، پاکستان پر امپورٹڈ مسلط کر دی گئی، آصف زرداری 30 سال سے چوری کر رہا ہے، جیل گیا اور جب واپس آیا پھر چوری شروع کر دی، شہباز شریف پیسہ تم چوری کرو اور پیسہ عوام واپس کرے، ہم نے چوروں سے اس ملک کو آزاد کرنا ہے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمارا حقیقی آزادی کا جو جہاد ہے اس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم کسی کی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، ہمارے فیصلے ہم خود کرینگے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا چلا مجھے گرفتار کرنے آ رہے ہیں، میں تیار ہو گیا، چلو جیل بھی دیکھ لیں گے۔ ہمارا ایک خاص بندہ جو امریکا میں پروفیسر تھا، اس نے کہا میں پاکستان کے لیے کام کروں گا وہ ٹی وی پر کوئی بات کرتا ہے، اگر اس نے کوئی بات کی ہے تو اسے عدالت لے کر جایا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، کسی کو نہیں پتا اسے کہاں رکھا گیا ہے۔ اس پر ننگا کر کے تشدد کیا گیا، شہباز گل پر جنسی تشدد کیا گیا،کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا، اس تشدد سے اس کی ذہنی صورتحال ایسی تھی وہ بالکل ٹوٹ گیا۔ عدالت میں ثابت ہو گیا اس پر ذہنی اور جنسی تشدد کیا گیا۔جنہوں نے یہ کام کیا ہے ہم پولیس والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم قانونی طور پر ان کے خلاف کارروائی کریں گے، یہ نہیں کہا ڈنڈا لے کر ان پیچھے جائیں گے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ساری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی، 25 مئی کو پولیس کے ذریعے تشدد کروایا، جب انہوں نے تشدد کیا تو یہ سمجھے یہ ڈر جائیں گے، میری پارٹی کے لوگوں کو ممی ڈیڈی کہا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 17 جولائی کو پنجاب میں ضمنی الیکشن آ گئے لیکن دھاندلی کے باوجود ایسا پھینٹا پڑا کہ ٹانگیں کانپنی شروع ہو گئی، 17 جولائی کو جب الیکشن میں ہار ملی تو انہوں نے کہا عمران خان کو تکنیکی طور پر شکست دیتے ہیں، جو مرضی کر لیں اب اس حقیقی آزادی کو کوئی نہیں روک سکتا، جب ہمیں ہٹایا گیا تو کہا مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے، ہمارے دور میں مہنگائی 16 فیصد تھی، اب 42 فیصد ہے۔ ہمارے دور میں جب تھوڑا سا بھی پٹرول بڑھتا تھا تو مہنگائی مارچ شروع ہو جاتا تھا۔ مجھے نکالنے کے لیے مہنگائی بہانہ تھا۔ آج ہماری ایکسپورٹس کم ہورہی ہیں۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمارے پاکستانی بہت مشکلوں میں ہیں، میں اپنی پنجاب حکومت کو بھی کہتا ہوں ان کی مدد کریں، شہباز شریف قطر جانے کی بجائے اپنے لوگوں کی مدد کرو، کسی نے تمہیں پیسے نہیں دینے کیونکہ سب کو پتا ہے تم اور تمہارا بھائی چور ہیں، میں اپنی سوشل میڈیا کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اداروں کی کبھی تنقید نہیں کرتے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے اس امپورٹڈ سے ہماری جان چھڑوا کر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائیں، صاف اور شفاف الیکشن سے ملک میں استحکام آئے گا، باہر کے لوگ ان چوروں پر اعتبار کر تے ہیں اور نہ ہی پاکستانی قوم ان پر اعتبار کرتی ہے، ان کے ہوتے ہوئے ملک میں استحکام نہیں آئے گا۔ جب میں کال دوں گا تو آپ سب نے تیار رہنا ہے، میں امپورٹڈ حکومت کو کہتا ہوں جب میں کال دوں گا تو وہ آخری کال ہو گی، اس سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دیں۔ ملکی قیادت کون کرے گا اس کا فیصلہ عوام کرے گی۔

  • وزیراعظم کی ہدایت پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بلوں سے نکالنےکا کام شروع

    وزیراعظم کی ہدایت پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بلوں سے نکالنےکا کام شروع

    وزیراعظم کی ہدایت پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بلوں سے نکالنےکا کام شروع کردیاگیا۔

    باغی ٹی وی اسلام آباد: لیسکو حکام کے مطابق عملہ بجلی کے بلوں میں سےفیول ایڈجسٹمنٹ پرائس نکال رہا ہے جس کی وجہ سے لیسکو کے دفاتر میں صارفین کا رش لگ گیا۔ لیسکو حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے کوئی تحریری نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا، فی الحال مینول طریقے سے اندازےکے مطابق بل درست کیے جارہے ہیں، دو روز تک فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور ٹیکسز کا معاملہ طے ہوجائے گا۔

    لیسکو حکام کے مطابق بجلی بلوں کے ایشو کے حل تک صارفین کےکنکشن کاٹنے سے روک دیا گیا ہے، اب صارفین کو تصحیح شدہ نئے بل جاری کیےجائیں گے۔ لیسکو حکام نے کہا کہ صارفین کو 3 روز کا ریلیف دے رہے ہیں، جو صارف بل جمع کراچکے ان کے اگلے بل میں رقم ایڈجسٹ کی جائے گی، وزارت پاور کمیٹی کل تک نوٹیفکیشن جاری کر دےگی۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز بجلی کے بلوں سے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بجلی کے بلوں پر لگنے والی ’فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ‘ کیا ہے؟

    برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق: انہوں نے اس حوالے سے چند ماہرین سے گفتگو کرنے کے علاوہ آئیسکو کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ اعلامیے سے بھی مدد لی ہے۔

    عارف حبیب لمیٹڈ میں ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس نے بتایا کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو سمجھنے کے لیے ایکچوئل فیول کاسٹ ( ایک ماہ میں ایندھن پر آنے والی لاگت) اور ریفرنس فیول کاسٹ کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر مالی سال کے آغاز میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ایک ریفرنس فیول کاسٹ دیتا ہے، یعنی ایک ایسا حوالہ جس سے ہر ماہ ایندھن پر آنے والی کل لاگت کا موازنہ کیا جا سکے۔

    ایک مہینے میں بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی کُل لاگت (باسکٹ فیول کاسٹ) دراصل ملک میں توانائی کے مختلف ذرائع میں استعمال ہونے والے ایندھن (جیسے کوئلہ، ایل این جی، فرنس آئل) پر آنے والی لاگت کے اعتبار سے نکالی جاتی ہے۔ اور یوں ہر ماہ کے اختتام پر اس ماہ کی مجموعی فیول کاسٹ کا موازنہ ریفرنس فیول کاسٹ سے کیا جاتا ہے اور اسی حساب سے یہ ’ایڈجسٹمنٹ‘ دو ماہ کے بعد بجلی کے بلوں میں لگ کر آتی ہے۔

    اگر اُس ماہ مجموعی فیول کاسٹ، ریفرنس کاسٹ سے زیادہ ہو تو آپ کے بل میں ایف پی اے کی مد میں اضافہ ہو گا جبکہ اگر اس ماہ کی مجموعی فیول کاسٹ ریفرنس کاسٹ سے کم ہو تو ایف پی اے کی مد میں کمی آتی ہے جسے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اب وزیر اعظم شہباز شریف نے بجلی کے بلوں سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز (ایف سی اے) ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے اور انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایک کروڑ 71 لاکھ صارفین کو بجلی کے بلوں کی مد میں اضافی فیول ایڈ جسٹمنٹ چارجز نہیں دینا پڑیں گے، اس ریلیف کی تفصیلات کل سامنے لائی جائیں گی۔
    وزیراعظم نے کہا کہ ٹیوب ویل والے زرعی صارفین کو بھی فیول ایڈجسٹمنٹ سےاستثنیٰ ہوگا،

  • سیلابی تباہی کو حکومتی سطح پر اکیلے حل نہیں کرسکتے. وفاقی وزیر عبدالقادر پٹیل

    سیلابی تباہی کو حکومتی سطح پر اکیلے حل نہیں کرسکتے. وفاقی وزیر عبدالقادر پٹیل

    وفاقی وزیر صحت کی زیرِ صدارت بلوچستان اور سندھ میں سیلاب کی صورتحال کیلئے جائزہ اجلاس ہوا، جس میں پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے پلیتھا ماہی پالا نے بھی شرکت کی ہے۔

    وزیرصحت عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ سيلاب کى تباہی کو حکومتی سطح پر اکیلے حل نہیں کر سکتے، صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہرممکن اقدامات کر رہے ہيں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ سیلاب متاثرین کيلئے دواؤں کی دو کھیپ بھجوا چکے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے نمائندے پلیتھا ماہی پالا کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کو یقینی بنایا ہے، وبائی امراض سے بچاؤ کیلئے مخصوص مچھر دانیاں، گولیاں سندھ اور بلوچستان روانہ کردی ہيں۔ پلیتھا ماہی پالا کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت فوری طور پر موبائل لیبارٹری بلوچستان اور سندھ روانہ کرے گی، عالمی ادارہ صحت پانی کو صاف کرنے والی 10 لاکھ گولیاں فوری فراہم کرے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں: سیلاب زدگان کی مدد کیلئے عطیات کیسے جمع کروائیں؟ مریم اورنگزیب نے بتا دیا

    دوسری جانب ہرنائی میں اونچے درجے کاسیلاب ہے جس کے باعث علاقے کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا اور ہزاروں افراد گھر میں محصور ہوگئے۔ ادھر ڈیرہ بگٹی کےسوئی نالے سے نیوی کےغوطہ خوروں نے 2 افراد کی لاشیں نکال لیں جب کہ 2 مزید لاپتا افراد کو آج پھر تلاش کیاجائے گا۔

    دریں اثنا: اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور قائم مقام سپیکر زاہد اکرم درانی نے بلوچستان ،سندھ، جنوبی پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں سیلاب اور بارشوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے سپیکر اور قائم مقام سپیکر نے متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں پوری قوم سیلاب متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے.

    علاوہ ازیں: نوشکی میں سیلابی ریلے سے درجنوں دیہات ڈوبنے سے نوشکی چاغی کا رابطہ بھی منقطع ہوگیا، پاک افغان بارڈر پرہزاروں شہری محصور ہوگئے، کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ہے۔

  • پی آئی اے انتظامیہ کا  فضائی میزبانوں کے ڈیوٹی ٹائمنگ میں مزید دو گھنٹے کا اضافہ

    پی آئی اے انتظامیہ کا فضائی میزبانوں کے ڈیوٹی ٹائمنگ میں مزید دو گھنٹے کا اضافہ

    پی آئی اے انتظامیہ نے فضائی میزبانوں کے ڈیوٹی ٹائمنگ میں مزید دو گھنٹے کا اضافہ کر دیا ہے.

    اطلاعات کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ نے فضائی میزبانوں کے ڈیوٹی ٹائمنگ میں مزید دو گھنٹے کا اضافہ کر دیا ہے اور اب فضائی میزبانوں کیلئے 16 گھنٹے کی ڈیوٹی لازمی قرار دے دی گئی ہے.

    سی اے اے کی ہدایت پر پی آئی اے کے سیفٹی بلیٹن نے احکامات جاری کر دیئے ہیں اور پی آئی اے انتظامیہ کے مطابق فضائی میزبانوں کی مہینے میں 8 کے بجائے 5 چھٹیاں کردی گئیں ہیں. فضائی میزبان ہفتہ وار چھٹی کے علاوہ ایک اضافی چھٹی مہینے میں کبھی بھی کرسکتے ہیں جبکہ مستقل پروازوں کے باعث ہفتہ وار تعطیل رہ جانے پر عملے کو واپس آنے پر ہوم بیس چھٹی دی جائے گی.

    اسکے علاوہ فضائی میزبان دو راتوں سے زیادہ رات 10 سے صبح 6 بجے کے درمیان ڈیوٹیاں انجام نہیں دے سکتا ہے متعین کیے گئے وقت پر فضائی میزبان کو کسی وقفے کے بغیر ڈیوٹی کے لیئے دستیاب ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
    پی آئی اے انتظامیہ کاکہنا ہے کہ: عملے کو ہوائی اڈے کی اسٹینڈ بائی ڈیوٹی کے لیے 6 گھنٹے موجود رہنا ہوگا، گھر پر موجود کیبن کریو عملے کو 12 گھنٹے اسٹینڈ بائی رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ائیرپورٹس پر اسٹینڈ بائی ڈیوٹی کرنے والوں کو معاوضہ دیا جائے گا۔

    جبکہ ذرائع بتاتے ہیں کہ: قومی ائیر لائن کے اس فیصلے سے فضائی میزبان ذہنی دباوُ کا شکار ہیں اور ادارے سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح مسلسل سولہ گھنٹے ڈیوٹی دینا بہت مشکل ہے، اور اس سے انسان ذہنی طور پر کافی ڈسٹرب ہوتا ہے. لہذا فضائی میزبانوں کو خیال ہے انتظامیہ کو اس فیصلہ پر نظرثانی کری چاہئے تاکہ ہمیں زہبی دباؤ سے بچایا جائے.

  • پاک فضائیہ کا سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف آپریشن جاری

    پاک فضائیہ کا سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف آپریشن جاری

    پاک فضائیہ کا سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف آپریشن جاری ہے

    باغی ٹی وی اسلام آباد: ملک بھر میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے پاک فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے. پاک فضائیہ قدرتی آفات کے دوران انسانی امداد پہنچانے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے،  اپنی اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حالیہ سیلاب کے دوران پاک فضائیہ متاثرین کو ریلیف اور ریسکیو امداد فراہم کرنے میں سرگرم عمل ہے۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق: پاک فضائیہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ نے بتایا کہ:  موجودہ امدادی آپریشن پاکستان ائیر فورس کے اس عزم کا عملی مظہر ہے کہ مشکل کی گھڑی میں ہم وطنوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی ۔ پاک فضائیہ نے مختلف فیلڈ میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے ہیں جہاں پی اے ایف کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف سیلاب متاثرین کو چوبیس گھنٹے مفت علاج کی سہولیات اور ادویات فراہم کر رہے ہیں۔

    ترجمان پاک فضائیہ کا کہنا تھا کہ: ریلیف آپریشن کے دوران پی اے ایف کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے تیار کھانا، راشن اور دیگر ضروری اشیاء بھی تقسیم کیں ہیں. پاک فضائیہ ترجمان کا کہنا ہے کہ  گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 1174 راشن پیک، 13200 پاؤنڈ بنیادی اشیاء خوردونوش ضرورت مند خاندانوں میں  تقسیم کی گئیں ۔  مزید برآں پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے 695 مریضوں کو طبی امداد بھی فراہم کی ہے.

    دوسری جانب پی ڈی ایم اے کی طرف سے جاری بیان کے مطابق: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں بارش و سیلاب سے مزید 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس کے بعد بلوچستان میں جاں بحق افراد کی تعداد 230 ہوگئی۔ جاں بحق ہونے والوں میں 110 مرد 55 خواتین اور 65 بچے شامل ہیں،بارشوں کے دوران حادثات کا شکار ہوکر 98 افراد زخمی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر صوبے بھر میں 26 ہزار 897 مکانات منہدم اور جزوی نقصان کا شکار ہوئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں 710 کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہرائیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں ، بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر 18 پل ٹوٹ چکے ہیں.

    بارشوں سے 1 لاکھ 7 ہزار 377 مال مویشی مارے گئے ہیں ، مجموعی طور پر 1 لاکھ 98 ہزار 461 ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں، سولر پلیٹس، ٹیوب ویلز اور بورنگ کو نقصانات پہنچا ہے۔

  • مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں. شاہ محمود قریشی

    مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں. شاہ محمود قریشی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ افراط زر کی شرح 42 فیصد کو چھو رہی ہے اور لوگ بجلی کے بل ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی لیکن یہاں بڑھا دی گئی اور کسانوں میں سکت نہیں رہی کہ وہ ٹیوب ویل کے بلوں کی ادائیگی کر سکیں۔

    پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ وفاق کو عوام کی مشکلات کے آزالے میں کوئی دلچسپی نہیں اور وفاقی حکومت کی ساری توجہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف مقدمے درج کرنے پر مرکوز ہے جبکہ مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دیں ہیں.

    دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق: سری لنکا کے بعد جنوبی ایشیائی علاقائی ممالک میں جولائی 2022 میں سی پی آئی (صارف قیمت کا اشاریہ) پر مبنی افراط زر کی وجہ سے پاکستان 24.9 فیصد کو چھو کر دوسرے نمبر پر ہے۔ سری لنکا میں افراط زر 60.8 فیصد کو چھوچکی ہے۔

    بھارت میں میں اس وقت افراط زر کی شرح 6.7 فیصد جبکہ نیپال میں یہ 8.08 فیصد کے آس پاس ہے۔ مالدیپ میں مہنگائی کا عفریت جون 2022 میں 5.2 فیصد پر ہے۔ بنگلہ دیش میں مہنگائی کی سالانہ شرح جون 2022 میں بڑھ کر 7.56 فیصد ہوگئی جو پچھلے مہینے 7.42 فیصد تھی۔ بھوٹان میں مہنگائی کی شرح مئی میں بڑھ کر 5.95 فیصد ہوگئی جو اپریل 2022 میں 5.79 فیصد تھی۔

    علاوہ ازیں کچھ اور ممالک بھی ہیں جہاں مہنگائی پاکستان سے زیادہ تھی جیسا کہ ایران میں مہنگائی 54 فیصد اور ترکی میں 79.6 فیصد رہی۔ پاکستان میں حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ پی او ایل اور اشیاء کی بین الاقوامی قیمتوں نے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ کیا لیکن مزید گہرائی سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے کچھ دوسرے عوامل نے بھی افراط زر کو بڑھاوا دیا۔

    جبکہ پیداواری صلاحیت میں کمی اور وزارتوں، محکموں، صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ مسابقتی کمیشن آف پاکستان اور دیگر کے غیر موثر کردار نے بھی مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ کیا۔