Baaghi TV

Author: +9251

  • روپے کی بے قدری، ڈالر ایک دن میں 4 روپے مہنگا ہوکر 227 کا ہوگیا

    روپے کی بے قدری، ڈالر ایک دن میں 4 روپے مہنگا ہوکر 227 کا ہوگیا

    امریکی ڈالر ایک مرتبہ پھر تگڑا ہونے لگا ہے اور اوپن مارکیٹ میں ایک دن میں اس کی قدر میں 4 روپے کا اضافہ ہوا جسکے ڈالر 227 روپے کا ہوگیا۔

    منگل کو انٹر بینک میں ڈالر کی قدر ایک روپے بڑھ پر 217 روپے 66 پیسے ہوگئی تھی، بدھ کے روز بھی اس میں اضافہ دیکھا گیا اور ڈالر 85 پیسے مہنگا ہوکر 218 روپے 51 پیسے پر جاپہنچا ہے۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کو پر لگ گئے ہیں، گزشتہ روز ڈالر 3 روپے مہنگا ہوکر 223 روپے ہوگیا تھا جب کہ بدھ کو اس کی قدر مزید 4 روپے بڑھ کر 227 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔ درآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ ڈالر مافیا ایک بار پھر سرگرم ہوگیا ہے،اس صورتحال میں حکومت اور اسٹیٹ بینک نوٹس لے۔

    دوسری جانب فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ کریڈٹ کارڈز کی ادائیگیوں کیلئے اوپن مارکیٹ میں ڈالرکی طلب بڑھی ہے، بینک اور درآمدکنندگان اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید رہے ہیں، اس کے علاوہ لگژری اشیا کی درآمد پر پابندی ختم کرنے سے بھی روپیہ دوبارہ دباؤ میں آیا ہے۔

    یاد رہے گزشتہ منگل کے روز بھی انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا۔ انٹر بینک میں کاروباری اوقات کار کے اختتام پر امریکی ڈالر کی قدر ایک روپیہ بڑھ کر 216.66 روپے سے بڑھ کر 217.66 روپے ہوگئی۔
    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ایک دن کے دوران 3 روپے بڑھ کر 220 روپے سے 223 روپے ہوگئی ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی قسط کی منظوری اور وزیر اعظم کے دورہ قطر سے صورت حال بہتر ہوسکتی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں کاروباری ہفتے کے پہلے ہی روز ڈالر ایک مرتبہ پھر بڑھ 220 روپے سطح پر آگیا تھا۔

    جبکہ گزشتہ پیر کو ملک کی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ دباؤ کا شکار نظر آیا۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 2 روپے پیسے کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد ایک امریکی ڈالر کی قیمت 216 روپے 66 پیسے ہوگئی۔
    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی خریداری کے رجحان کے باعث ڈالر کی قدر میں 2 روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ پیر کے روز کاروباری اوقات کے اختتام تک امریکی ڈالر 220 روپے کی سطح پر آگیا تھا۔

    گزشتہ دنوں بھی ماہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے ہونے والی سیاسی بے یقینی روپے کی گراوٹ کی بنیادی وجہ ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کا کیلنڈر جاری کر دیا گیا۔ پاکستان کیلئے ایک ارب سترہ کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری پیر 29 اگست کو متوقع ہے، جس کے بعد ڈالر کی قدر میں خاطر خواہ کمی واقع ہوسکتی ہے۔

    واضح‌ رہے کہ گزشتہ دنوں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا تھا۔

    گزشتہ ہفتے جمعرات کو انٹربینک میں ڈالر12پیسےمہنگا ہوکر215روپے کا ہوگیا تھا۔ دن کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالرکی قیمت میں 7 پیسے کا اضافہ ہوا تھا اورانٹربینک میں ڈالر 214 روپے 95 پیسے پر بندہوا تھا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 217 روپے کا ہوکر بند ہوا تھا
    گزشتہ ہفتے بدھ کو 13 دن تک مسلسل گرنے کے بعد ڈالر کی قدرمیں اضافہ ہوا تھا۔ انٹربینک میں ڈالر دن کے اختتام پر 214 روپے 88 پیسے پر بند ہوا تھا۔
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 214.50 روپے پر ٹریڈنگ کررہا تھا اوردن کے اختتام پرڈالرکی قیمت 2 روپے بڑھ کر214 روپے ہوگئی تھی۔
    ڈالر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت ملنے کا ڈالر کی قدر بڑھنے سے کیا تعلق ہے؟
    اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں کو 15 اگست کو ڈالر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت د ی گئی، اس اجازت کے بعد اگلے ہی روز سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور صرف 2 روز میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 6 روپے بڑھ گئی۔

    ایک کرنسی ڈیلرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فیصلہ درست نہیں ہے، اس سے پہلے کرنسی ڈیلرز صرف انٹر بینک میں ڈالر فروخت کرسکتے تھے اب انہیں اگلے ماہ 30 ستمبر تک بیرون ملک ڈالر برآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس کی وجہ سے ان کے پاس آپشنز بڑھ گئے ہیں اور وہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔

    کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں بینک، ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کی ملی بھگت کے باعث گزشتہ ماہ ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس سے کچھ لوگوں نے چند روز میں بڑی کمائی کی اور اب کرنسی ڈیلرز کو بھی موقع مل گیا ہے کہ وہ ڈالر ایکسپورٹ کرنے اور واپس لانے کے عمل میں دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کمائی کرسکتے ہیں۔

    تاہم ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ایکسچینج کمپنیوں نے ڈالرایکسپورٹ شروع کردیا ہے لیکن اس کا ڈالرکی قدر بڑھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ڈالر کی قدر میں اضافہ مارکیٹ میکنزم کے تحت ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ بلوم برگ کے اعداد و شمار کے مطابق یکم تا 15 اگست عالمی سطح پر پاکستانی روپے کی کارکردگی (قدر بڑھنے کے لحاظ سے) 11.12 فیصد رہی جو دنیا کے کسی بھی ملک کی کرنسی کی بہتر کارکردگی میں سب سے زیادہ ہے، دوسرے نمبر پر مڈغاسکر کی کرنسی ہے جس کی کارکردگی کی شرح 5.42 فیصد اور تیسرے نمبر پر اسرائیلی کرنسی ہے جس کی کارکردگی 3.79 فیصد ہے.

  • عمران خان کا ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے کل اے ٹی سی میں پیش ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کا ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے کل اے ٹی سی میں پیش ہونے کا فیصلہ

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے.

    سابق وزیراعظم عمران خان نے بنی گالہ میں آج ایک اجلاس طلب کیا تھا جس میں انہوں نے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کی جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے. عمران خان نے گزشتہ روز بھی اپنے خلاف انسداد دہشتگردی کے مقدمے کو لے کر سیاسی اور قانونی ٹیم سے مشاورت کی تھی جس کے بعد انہوں نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ اب عمران خان نے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد کل ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ خاتون جج کو دھمکانے پر عمران خان کے خلاف تھانہ مرگلہ میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی تین روز کی راہداری ضمانت منظور کی تھی اور انہیں تین روز بعد متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو 2013 میں بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوچکا ہے جس پر انہوں نے معافی مانگی تھی۔ 26 جولائی 2013 میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بیان دیا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں جو الیکشن کمیشن اور پاکستان کی عدلیہ کا پچھلے الیکشن کا رول تھا وہ سب سے شرمناک رول تھا، انہوں نے پاکستان کی تاریخ کا وہ الیکشن کروایا جس میں پاکستان میں کبھی اتنی دھاندلی نہیں ہوئی جتنی اس الیکشن میں ہوئی‘۔

    اس بیان میں عمران خان نے کسی بھی شخصیت کا نام نہ لیتے ہوئے تنقید کی تھی جس پر انہیں سپریم کورٹ میں معافی مانگنی پڑی تھی۔ عمران خان کے حالیہ بیان کی بات کریں تو 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد جب کہ شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو نام لےکر دھمکی بھی دی تھی۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آئی جی، ڈی آئی جی اسلام آباد ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے، تم پر کیس کریں گے اور مجسٹریٹ زیبا چوہدری آپ کو بھی ہم نے نہیں چھوڑنا، کیس کرنا ہے تم پر بھی، مجسٹریٹ کو پتا تھا کہ شہباز پر تشدد ہوا پھر بھی ریمانڈ دے دیا۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا جب کہ پیمرا نے عمران خان کے براہ راست خطاب کر پابندی لگا دی تھی۔

  • سائرہ یوسف کل بھی میری  بیٹی تھی آج بھی بیٹی ہے بہروز سبزواری

    سائرہ یوسف کل بھی میری بیٹی تھی آج بھی بیٹی ہے بہروز سبزواری

    سینئر اداکار بہروز سبزواری جن کے بیٹے شہروز کی شادی سائرہ یوسف سے ہوئی تھی دونوں کی ایک بیٹی بھی ہے، دونوں کے درمیان تلخیوں کی وجہ سے ان کا رشتہ ختم ہو گیا. شہروز نے شادی کر لی اب وہ ایک اور بیٹی کے باپ بھی ہیں لیکن سائرہ وہیں کی وہیں ہیں انہوں نے شادی نہیں کی وہ اپنی بیٹی پال رہی ہیں اور کام کررہی ہیں. بہروز سبزواری کا حال ہی میں ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہےاس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ سائرہ یوسف میری کل بھی بیٹی تھی آج بھی بیٹی ہے میں کل بھی اس کے ساتھ کھڑا تھا آج بھی اسکے ساتھ کھڑ ا ہوں. جب میرے بیٹے

    شہروز اور سائرہ کے درمیان معاملات خراب ہو رہے تھے تو اس وقت ہم دونوں کی فیملیوں پر بہت مشکل وقت تھا، ہم بے حد پریشان تھے لیکن سوشل میڈیا پر ایک الگ ہی تماشا لگا ہوا تھا ہر کوئی سائرہ اور شہروز کے متعلق عجیب و غریب باتیں کررہا تھا. حالانکہ یہ ہمارا بہت پہ پرسنل معاملہ تھا لیکن سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ اس پر بات ہو رہی تھی. اس سوشل میڈیا نے تو تباہ و برباد کرکے رکھ دی ہیں ہماری اخلاقیات . بہروز سبزواری نے یہ بھی کہا کہ میں‌نے سائرہ کو کئی بار یہ مشورہ دیا ہے کہ تم اپنی زندگی میں سیٹل ہوجائو ان کا اشارہ دوبارہ شادی کی طرف تھا.بہروز نے یہ بھی کہا کہ سائرہ اور شہروز کی بیٹی میں ہماری جان ہے.

  • مشی خان کا عفت عمر ، ریحام خان اور شمع جونیجو کےلئے گھٹیا الفاظ کا استعمال

    مشی خان کا عفت عمر ، ریحام خان اور شمع جونیجو کےلئے گھٹیا الفاظ کا استعمال

    ماضی کی اداکارہ مشی خان جو سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں وہ ہر وقت عمران خان کے حق میں پوسٹیں لگاتی رہتی ہیں. وہ اپنی آزادی رائے اور حق کو استعمال کرنے کا ہنر تو جانتی ہیں لیکن اگر کوئی دوسرا آزادی رائے یا اپنے حقوق کو استعمال کرنا چاہیے تو انکو لیتی ہیں آڑھے ہاتھوں. ایسا لگتا ہے کہ مشی خان کے نزدیک عزت والا یا والی صرف وہ ہے جو عمران خان کے حق میں بولتا یا بولتی ہے کسی دوسرےکے حق میں بولنے والا یا والی نہ عزت والی ہے نہ ہی اسکی اپنی کوئی رائے ہے بلکہ اسکو پیسے دیکر بلوایا یا لکھوایا جاتا ہے. مشی خان نے انسٹاگرام پر ایک

    وڈیو شئیر کی اس میں انہوں نے کہا کہ تین خواتین ریحام خان ، عفت عمر اورانگینڈ میں گالیوں میں ڈگری ھاصل کرنے والی شمع جونیجو مشہور ہونے کےلئے عمران خان کا نام استعمال کررہی ہیں وہ جان بوجھ کر اور زندہ رہنے کےلئے عمران خان کو دن رات گالیاں دیتی ہیں اور ان کے خلاف لکھتی ہیں. اگر یہ تینوں ایسا نہیں کریں گی تو شاید ان کا نام نہیں ہو گا اور یہ گمنامی کا شکار ہوجائینگی. ان کی پہچان اب صرف عمران خان کو گالی دینا ہی رہ گئی ہے.عمران خان کروڑوں دلوں پر راج کرتے ہیں پوری دنیا میں مشہور ہیں لہذا کرائے پر ہائر کی ہوئی یہ تینوں خواتین ان کو گالیاں دے کر اپنا نام بنا رہی ہیں اسی سے ان کا گزر بسر ہو رہا ہے.

  • سائرہ کو کس نے کہا چائے نہ پینا کالی ہوجائو گی؟

    سائرہ کو کس نے کہا چائے نہ پینا کالی ہوجائو گی؟

    چھوٹی سکرین کی بہتری اداکارہ سائرہ یوسف کا سوشل میڈیا پر آج کل ایک کلپ بہت زیادہ وائرل ہو رہا ہے اس میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ خوبصورتی کے لئے کوئی نصیحت جو آپ کو کسی نے دی ہو تو سائرہ نے کہا کہ یقینا مجھے خوبصورتی کو برقرار رکھنےکے لئے ایک ٹپ دی گئی تھی اور وہ ٹپ مجھے میری دادی نے دی تھی انہوں نے مجھے کہا تھا کہ چائے بہت زیادہ نہ پینا رنگت خراب ہوجائیگی سانولی ہو جائوگی. سائرہ نے کہا کہ میرا اس چیز پر بالکل بھی یقین نہیں ہے کہ چائے پینے سے رنگت خراب ہوتی ہے. میں یہ بھی جانتی ہوں کہ بہت سارے لوگوں کا اس بات پر یقین ہے کہ چائے پینے سے رنگ روپ خراب ہوتا ہے لیکن اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے. یاد رہے کہ سائرہ یوسف اپنی زاتی زندگی کو لیکر

    کچھ عرصہ پہلے کافی زیادہ خبروں میں رہیں لیکن انہوں نے اپنی ذاتی زندگی پر ایک لفظ نہ کہا یہاں تک کہ ان کی شہروز سے علیحدگی بھی ہو گئی لوگوں نے کئی موقعوں پر ان سے بہت کچھ پوچھنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کبھی بھی کسی بات کا جواب نہیں دیا اور اسے ذاتی مسئلہ کہہ کر اس پر خاموشی اخیتار کئے رکھی.سائرہ کے اپنے نجی معاملے پر خاموشی کو ان کے مداحوں نے سراہا. سائرہ کی ایک بیٹی ہے جو ان کے ساتھ ہی رہتی ہے.

  • ٹونکل کھنہ کو پہلی فلم کا پہلا چیک ملا تو انہوں نے کیا خریدا؟

    ٹونکل کھنہ کو پہلی فلم کا پہلا چیک ملا تو انہوں نے کیا خریدا؟

    بالی وڈ کی اداکارہ اور اکشے کمار کی اہلیہ ٹونکل کھنہ نے اپنے یوٹیوب چینل پر بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے اپنے بچوں کو پالنے کے لئے بھرپور ماں کا کردار ادا کیاہے. میں نے ہمیشہ پیسے جوڑے بجائے ان کو خرج کرنے کے ، میں جو پیسے جوڑتی تھی اس سے بچوں کی فیسوں کی ادائیگی کرتی تھی، میرا شروع سے ہی دل رہا ہے کہ میرے بچے بڑے ہو کر یہ نہ کہیں کہ ان کی ماں نے انکو صرف آلو پراٹھے کھلائے بلکہ یہ کہیں کہ ہمارے تعلیمی اخراجات بھی پورے کئے. ٹونکل کھنہ نے مزید کہا کہ میں‌نے بچوں کو پڑھانے لکھانے کے ساتھ ساتھ خود بھی مختم قسم کے کورسسز کئے. انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب انہیں ان کی پہلی فلم کا پہلا چیک ملا تو انہوں نے اس چیک سے اپنے لئے گاڑی خریدی تھی. ٹونکل ایک ذمہ دار ماں ہیں یہ

    تو سب جانتے ہیں لیکن وہ ایک بھرپور گھرداری کرنے والی خاتون ہیں یہ شاید کم لوگ جانتے ہیں. اکشے کمار کا کہنا ہے کہ میرا گھر ٹونکل نے شروع سے ہی بہت اچھے سے سنبھالا ہوا ہے. یاد رہے کہ اداکارہ ٹونکل کھنہ نے بوبی دیول کے ساتھ 1995 میں فلم برسات سے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا اس کے بعد متعدد فلموں میں کام کیا لیکن ٹونکل بہت بڑی اداکارہ نہ بن سکیں. ان کی فلموں نے اچھا بزنس کیا لیکن غیر معمولی بزنس کسی بھی فلم نے نہ کیا جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ایک ایورج اداکارہ ہی مانی گئیں. انہوں نے 2001 میں آخری فلم لو کے لئے کچھ بھی کرے گا میں کام کیا اس کے بعد وہ آج تک کسی فلم میں نظر نہیں آئیں.

  • سائرہ نسیم نے لیا انکو آڑھے ہاتھوں جو کہتے ہیں ہم غزل گائیک ہیں

    سائرہ نسیم نے لیا انکو آڑھے ہاتھوں جو کہتے ہیں ہم غزل گائیک ہیں

    پاکستانی گلوکارہ سائرہ نسیم نے لیا آڑھے ہاتھوں ان کو جو کہتے ہیں کہ ہم غزل سنگر ہیں،. گلوکارہ نے کہا کہ بہت سارے گلوکار کہہ دیتے ہیں کہ ہم غزل سنگر ہیں لیکن وہ ہوتے نہیں ہیں گاتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ ان کو تو غزل گائیکی کی اے بی سی بھی نہیں پتا. سائرہ نسیم نے کہا کہ غزل گانا نہایت ہی مشکل کام ہے اس کے لئے یا کسی بھی قسم کی گلوکاری کے لئے ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے. انہوں نے کہا کہ غزل گانے کےلئے کئی سال چاہیں، کئی سال کی ریاضت چاہیے یہ اتنا آسان کام نہیں ہے جتنا سمجھ لیا گیا ہے.گلوکارہ نے مزید کہ اچھی بات ہے فلمیں بن رہی ہیں فلمیں بنیں گی تو فلم انڈسٹری میںکام ہو گا کام ہو گا تو اس سے جڑے ہر فرد کو بھی روزگار ملے گا.

    سائرہ نسیم نے کہا کہ میں فخر محسوس کرتی ہوں جب مجھے میڈم نورجہاں کو خرج عقیدت دینے کے لئے کسی پروگرام میں بلایا جاتا ہے. میڈم نور جہاں نے جتنے بھی گانے گائے وہ نہایت ہی مشکل تھے ان کو گا کر دل کو سکون ملتا ہے اور روح خوش ہوتی ہے کہ اپنی پسندیدہ گلوکارہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع میسر آیا ہے. یاد رہے کہ گلوکارہ سائرہ نسیم نے نوے کی دہائی میں بننے والی فلموں میں اپنی گائیکی کے سر بکھیرے ان کے بہت سارے گیت سپر ہٹ ہوئے.

  • جمشید انصاری کی 17 ویں برسی

    جمشید انصاری کی 17 ویں برسی

    پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ کے باکمال آرٹسٹ جمشید انصاری کی فنی صلاحیتوں سے کون واقف نہیں ہے. اپنے کرداروں کے زریعے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے جمشید انصاری ذاتی زندگی میں کافی سنجیدہ انسان تھے. ہنستے مسکراتے چہرے والے جمشید انصاری کو ہم سے بچھڑے 17 برس بیت گئے ہیں. ساری زندگی فن کی خدمت کرنےوالا یہ فنکار برین ٹیومر کا مریض تھا جب اس مرض کی تشخیص ہوئی تو بات ہاتھوں سے نکل چکی تھی.ریڈیو پاکستان پر جمشید انصاری کی پہچان ان کا کردار صفدر میاں تھا جبکہ ٹی وی پر ڈرامہ سیریل انکل عرفی کے لئے ان کا کردار حسنات نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا. جمشید انصاری نے لندن سے اداکاری کے کورسسز کئے تھے پھر وہیں پر کچھ عرصہ بی بی سی کے ساتھ بھی کام کیا اور وہیں کے سٹیج پلیز میں بھی کام کیا . ریڈیو پر میاں صفدر کا کردار کئی سال تک کیا وہیں سے ان کو پی ٹی وی کے ڈراموں میں کاسٹ کیا

    گیا ٹی وی پر ان کا پہلا ڈرامہ جھروکے تھا ، پھر انہوں نے گھوڑا گھاس کھاتا ہے میں کام کیا. لیکن انکل عرفی جو کہ 26 اقساط ہر مشتمل تھا حسینہ معین کے لکھے ہوئے اس ڈرامے نے جمشید انصاری کو صف اول کے اداکاروں میں شامل کر دیا. اس کے بعد انہوں نے زیر زبر پیش ، تنہائیاں اور ان کہی جیسے ڈراموں میں کام کیا. انہوں نے اطہر شاہ جیدی کے لکھے بہت سارے سٹیج پلیز میں کام کیا . معروف کامیڈی پلے بکرا قسطوں پر میں بھی جمشید انصاری نے کام کیا . انہوں نے کرن کہانی شوشہ، دوسری عورت، منزلیں ، ہاف پلیٹ میں بھی کام کیا انہوں نے فلموں میں بھی کام کیا .

  • ہر دلعزیز گلوکار سجاد علی کی 56 ویں سالگرہ

    ہر دلعزیز گلوکار سجاد علی کی 56 ویں سالگرہ

    پاکستانی گلوکار سجاد علی کا شمار بہترین گلوکاروں میں ہوتا ہے، ان کے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جہاں جہاں اردو پنجابی بولی اور سمھی جاتی ہے وہاں مداح موجود ہیں. سجاد علی نے سیمی کلاسیکل میوزک سے شروعات کی اس کے بعد انہوں نے پاپ اور راک میں دھوم مچا دی .سجاد علی صرف گلوکار نہیں ہیں بلکہ سانگ رائٹر اور اداکار بھی ہیں. انہوں نے نہایت ہی کم عمری میں گانا شروع کر دیا تھا انہوں نے کم عمری میں ہی شعیب منصور کا پروگرام راگ رنگ میں بھی گایا .محض 13 برس کی عمر میں ان کی پہلی البم 1989 ریلیز ہوئی اس البم کا نام ماسٹر سجاد علی تھا .سجاد علی نے میڈم نور جہاں کے سامنے بانوری چکوری گایا انہوں نے ننھے سجاد علی کی بہت تعریف کی بس یہیں سے ان کی کامیابیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا. انکے دو بھائی وقار علی اور لکی بھی میوزک سے وابستہ ہیں لیکن جو شہرت اور عزت سجاد علی کے حصے میں آئی وہ ان

    کے بھائیوں کے حصے میں نہیں آئی. سجاد علی نے پی ٹی وی کے بہت سارے پروگراموں میں بھی گایا اور کافی سال تک گاتے رہے. سجاد علی نے 1989 میں ایک ٹیلی فلم ڈائریکٹ کی.نوے کی دہائی میں‌ ان کے سپر ہٹ میوزک البمز ریلیز ہوئےانہوں نے تین فلموں میں بھی کام کیا. سجاد علی نے بہت ساری پاکستانی فلموں کا بھی میوزک دیا . گلوکار کے 26 سے زائد البمز ریلیز ہو چکے ہیں ان کے متعدد گانے زبان زد عام ہیں اور سدا بہار ہیں.سجاد علی کو ہمسایہ ملک بھارت میں بھی بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہاں بڑے بڑے گلوکار اور میوزیشنز ان کے فن کے مداح ہیں. سجاد علی کی بیٹی زوق علی کو سجاد علی نے کوک سٹوڈیو 10 میں اپنے ساتھ گوایا بھی تھا.

  • آصفہ بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے اپیل کردی

    آصفہ بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے اپیل کردی

    شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی بیٹی وہ موجودہ وزیر خارجہ کی بہن آصف بھٹو زرداری نے مخیر حضرات اور رضاکاروں سے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جتنا ممکن ہوسکے سیلاب متاثرین کی مدد کریں.

    آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں لکھا کہ: سیلاب سے ہونے والی تباہی کی شدت دل دہلا دینے والی ہے۔ اور لوگوں کی ساری زندگیاں برباد ہو چکی ہیں۔
    انہوں نے مزید لکھا کہ: سیلاب متاثرین کے زندہ رہنے اور ان کے گھر دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہوگی۔


    آصفہ نے کہا کہ: میں سب سے اپیل کرتی ہوں کہ رضاکارانہ طور پر چندہ اکٹھا کریں، عطیات جمع کریں، اور متاثرین کی مدد کے لیے جو کچھ بھی کر سکتے ہیں ضرور کریں کیونکہ انہیں ہماری ضرورت ہے.

    واضح رہے کہ پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث تباہ کاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جون کے وسط سے جاری مون سون بارشوں کے سلسلے کے نتیجے میں 9000 سے زائد گھر تباہ، 700 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباﹰ 1300 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
    دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان اور چترال کو آفت زدہ علاقہ قرار دے دیا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ ریلیف کو فوری طور پر ضروری کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    صوبائی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں تیز کرنے کا کہا ہے جبکہ سیلاب متاثرین کو کھانے پینے سمیت تمام اشیائے ضرورت کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ متاثرہ افراد کو خوراک کے علاوہ خیمے فراہم کیے گئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پرووا اور چترال میں کیمپ لگا دیے گئے ہیں۔