Baaghi TV

Author: +9251

  • اگر مجھے دیکھنا پسند نہیں کرتے تو میری فلمیں نہ دیکھیں عالیہ بھٹ

    اگر مجھے دیکھنا پسند نہیں کرتے تو میری فلمیں نہ دیکھیں عالیہ بھٹ

    عالیہ بھٹ کی بطور پرڈیوسر ریلیز ہونے والی فلم ڈارلنگز نے کامیابی حاصل کی ہے لہذا عالیہ اس پر ہیں کافی خوش. اس فلم کے بعد اب ان کی فلم براہمسٹرا ریلیز ہونے جا رہی ہے عالیہ اس فلم کی تشہیر کے لئے کافی مصروف ہیں. انہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اقربا پروری کی بحث اور ٹرولنگ کے بارے میں بات کی۔ان سے پوچھا گیا کہ آپ اقربا پروری اور ٹرولنگ سے کیسے نمٹتی ہیں؟ تو اداکارہ نے کہا کہ میں ناقدین کا منہ صرف اپنے کام سے ہی بند کر سکتی ہوں،اس لئے ایسی باتوں کا نہ برا مانیں اور نہ ہی جواب دیں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے ایسی باتیں بری لگتی ہیں لیکن میں اپنا کام بہت محنت سے کررہی ہوں اور یہ بھی کہہ ڈالا کہ ”اگر تم مجھے پسند نہیں کرتے تو مجھے مت دیکھو” .

    عالیہ بھٹ کے اس بیان کے بعد تو انکو بری طرح سے ٹرول کیا جا رہا ہے ان کے مداح ہیں کافی ناراض اس لئے ان کے آنے والی فلم براہمسٹرا کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ چل رہا ہے. عالیہ بھٹ نے بے شک یہ بات اپنے لئے کہی تھی لیکن براہمسٹرا کی پوری ٹیم کو اب اس کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے کیونکہ وہ بائیکاٹ کے ٹرینڈ سے کافی پریشان ہو گئے ہیں انہیں ڈر ہے کہ یہ فلم بھی لال سنگھ چڈھا اور رکشا بندھن کی طرح فلاپ نہ ہوجائے. فلم کی تشہیر اور ریلیز دونوں سر پہ ہیں اب پوری فلم کی ٹیم سر جوڑ بیٹھی ہے کہ عالیہ کے دئیے اس بیان سے فلم کو کس طرح سے الگ کیا جائے اسلئے تو بگ بی امیتابھ بچن نے بھی بچتے بچاتے ڈھکے چھپے لفظوں میں گزشتہ روز ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کیاتھا.

  • سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا حق ختم کرنا درست نہیں. جسٹس اعجاز الاحسن

    سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا حق ختم کرنا درست نہیں. جسٹس اعجاز الاحسن

    سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا حق ختم کرنا درست نہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے حکومت کی جانب سے الیکشن ایکٹ میں ترامیم کے خلاف پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی درخواست اور سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا حق ختم کرنے کیخلاف شیخ رشید کی درخواستوں پر سماعت کی۔

    شیخ رشید احمد سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ ان کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے خدشات کو بنیاد بناکر سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا حق ختم کیا گیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ دھاندلی تو یہاں بھی انتخابات میں ہوتی ہے، جعلی ووٹ تو یہاں بھی ڈالے جاتے ہیں، اس کیخلاف قانون موجود ہے، جس طرح حادثہ ہونے پر موٹروے بند نہیں کی جا سکتی؟ اس طرح کیا دھاندلی کے خدشات پر انتخابات کرانا ہی بند کروا دیے جائیں گے؟ الیکشن کمیشن دھاندلی روکنے کیلئے اپنے اختیارات استعمال کیوں نہیں کرتا؟ دھاندلی روکنے کیلئے کمیشن کے اقدامات کا عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے، الیکشن کمیشن کے خدشات کو دور کیا جانا ضروری ہے، مگر خدشات دور کرنے کے بجائے اوورسیز کے ووٹ کا حق ختم کرنا درست نہیں، سپریم کورٹ اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق سے متعلق کئی فیصلے دے چکی ہے۔

    عدالت نے عمران خان کی درخواست کو رجسٹرڈ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ بنیادی آئینی حقوق اور عوام مفاد کا معاملہ ہے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے پوچھا کہ کیا موجودہ اسمبلی بنیادی حقوق کے حوالے سے ترامیم کرنے کی مجاز ہے؟ اسمبلی میں اس وقت ارکان کی تعداد بہت کم ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ذریعے ملک میں زرمبادلہ آ رہا ہے، انہیں تو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات دینی چاہیے، مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے ایک ایک ارب ڈالر مانگے جا رہے ہیں، ادھر اوورسیز پاکستانی سالانہ 30 ارب ڈالر بھیجتے ہیں ، لیکن انہیں کہا گیا آپ ووٹ نہیں دے سکتے اور اگر ووٹ ڈالنا ہے تو ٹکٹ لیکر پاکستان آؤ۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی تو بغیر کسی شرط کے 30 ارب ڈالر بھیجتے ہیں، پوری دنیا میں جدید ڈیوائسز استعمال ہوتی ہیں، ہر کام میں جدید آلات استعمال ہوتے ہیں تو ووٹنگ میں کیوں نہیں؟۔ سپریم کورٹ نے شیخ رشید کی درخواست پر بھی اعتراضات ختم کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کو درخواست جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیا۔

    سماعت کے بعد شیخ رشید احمد نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ بھی محسوس کرتی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنا چاہیے، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے سے آئندہ الیکشن کا نتیجہ اہم ہوگا۔

  • کرشمہ کپور نے سلمان خان کے ساتھ اپنے پہلے غیر ملکی شوٹ کو کیا یاد

    کرشمہ کپور نے سلمان خان کے ساتھ اپنے پہلے غیر ملکی شوٹ کو کیا یاد

    بالی وڈ اداکارہ کرشمہ کپور 90 کی دہائی کی کامیاب ترین اور مقبول اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک ہندی فلم انڈسٹری پر راج کیا۔ اداکارہ ایک فعال سوشل میڈیا صارف ہیں اور اکثر اپنے مداحوں اور فالوورز کے ساتھ ان دیکھی تصاویر شیئر کرتی رہتی ہیں۔ گزشت ہروز انہوں نے 1996 کی رومانوی ایکشن فلم جیت کے 26 سال مکمل ہونے پر اپنی اور سلمان خان کی ایک تصویر شئیر کی اور اپنے پہلے غیر ملکی شوٹ ٹور کو یاد کیا .فلم جیت میں کرشمہ کپور کے علاوہ سنی دیول ، امریش پوری، تبو، آلوک ناتھ، دلیپ تاہل، اور جانی لیور نے اہم کردار ادا کیے تھے۔کرشمہ کپور نے جو تصویر سوشل میڈیا پر شئیر کی ہے وہ فلم جیت کی شوٹنگ کے دوران لی گئی تھی اس تصویر کے پیچھے اداکارہ نے

    اسی فلم کا گانا سانسوں کا چلنا دل کا مچلنا گانا بھی شامل کیا۔ تصویر کا کیپشن یہ تھا ”جب ہم ڈریمر تھے”یاد رہے کہ فلم جیت 1996 کی چوتھی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بالی ووڈ فلم بنی تھی اسے راج کنور نے ڈائریکٹ کیا اور لکھاجبکہ ساجد ناڈیاڈوالا نے پروڈیوس کی،فلم کے گیت اور کرشمہ سلمان کا ڈانس بھی بہت مشہور ہوا۔کرشمہ کپور اور سلمان خان کی جوڑی کو بہت سراہا جاتا تھا انہوں نے ایک ساتھ متعدد فلموں میں کام کیا .یاد رہے کہ کرشمہ کپور بہت جلد برائون ویب سیریز میں نظر آئیں گی اس ویب سیریز کے ہدایتکار ابھینے دیو ہیں۔

  • انوشکا شرما نے بتا دیا کہ ویرات کوہلی کب زیادہ خوش ہوتے ہیں ؟

    انوشکا شرما نے بتا دیا کہ ویرات کوہلی کب زیادہ خوش ہوتے ہیں ؟

    بالی وڈ کی اداکارہ انوشکا شرما اور کرکٹر ویرات کوہلی کی جوڑی بالی وڈ کی خوبصورت جوڑیوں میں سے ایک ہے. ھال ہی میں انوشکا شرما نے ایک انٹرویو دیا اس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ ویرات کے کپڑے پہننا پسند کرتی ہیں، انہوں نے کہا کہ "میں اصل میں ویرات کی الماری سے بہت کچھ ادھار لیتی ہوں، زیادہ تر ٹی شرٹس، جینز لیتی ہوں کبھی کبھی تو جیکٹس بھی لے لیتی ہوں. کبھی کبھی تو میں ویرات کے کپڑے اسلئے بھی پہنتی ہوں کیونکہ وہ بہت خوش ہوتے ہیں. وہ جب دیکھتے ہیں کہ میں نے ان کے کپڑے پہنے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور انہیں میں ان کے کپڑوں میں اچھی بھی لگتی ہوں. اداکارہ نے مزید کہا کہ اسی سال دسمبر میں ہماری شادی کو پانچ برس پورے ہو جائیں گے اور ہم ان پانچ برسوں

    کو منائیں گے. یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اس خوبصورت جوڑے نے انسٹاگرام پر خوبصورت پیغامات کا تبادلہ کیا۔ ویرات کوہلی نے انوشکا شرما کے لئے لکھا کہ ”’آپ نے ان چار برسوں میں میرے احمقانہ لطیفوں اور میری کاہلی کو سنبھالا۔ میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں اور فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں نے ایک ایماندار، محبت کرنے والی، بہادر خاتون سے شادی کی آ پ نے مجھے صحیح چیز کے ساتھ کھڑا ہونے کی ترغیب دی.” انوشکا نے بھی جوابآ محبت کا اظہار کیا.یاد رہے کہ انوشکا شرما بے بی کی پیدائش کے بعد بالی وڈ میں واپسی کرکٹر جھولن گوسوامی پر بننے والی بائیوپک سے کررہی ہیں، فلم کا نام چکدا ‘ایکسپریس ہے.

  • بجلی کے بل ناقابلِ برداشت تھے، جن پر سب سے پہلا احتجاج نواز شریف نے کیا. طلال چودھری

    بجلی کے بل ناقابلِ برداشت تھے، جن پر سب سے پہلا احتجاج نواز شریف نے کیا. طلال چودھری

    مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بجلی کے بل ناقابلِ برداشت تھے، جن پر سب سے پہلا احتجاج نواز شریف نے کیا۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماء طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اتحادیوں کی حکومت چاہتی ہے کہ لوگوں کو ریلیف ملے، دنیا بھر میں توانائی کا بحران یوکرین جنگ اور دیگر وجوہات کے باعث ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے اور نالائقی کے باعث ہاتھ باندھ گئی، جس کی قیمت لوگ بھی دے رہے ہیں اور ہم بھی بھگت رہے ہیں۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے سب سے زیادہ وقت سیلاب زدگان کے ساتھ گزارا ہے، جبکہ ان کے بوٹ پہن کر پانی میں اترنے کا مذاق اڑایا جاتا ہے جو سراسر بے بنیاد ہے.

    لیگی رہنماء طلال چودھر کا یہ بھی کہنا تھا کہ: روزانہ کی بنیاد پر میٹنگز ہو رہی ہیں، پنجاب اور کے پی حکومتوں کو عمران خان کے جلسے کے سوا کوئی کام نہیں آتا ہے، انہوں نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ عمران خان اور ان جماعت آسکرایوارڈ یافتہ اداکار ہیں اور انہوں نے آئی ایم ایف کے سخت معاہدوں میں پھنسایا ہے جو انکی ملک دشمنی اور نالائقی ہے.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فکسڈ ٹیکس سے پریشان تاجروں اور بجلی کے بل پر فیول ایڈجسٹمنٹ سے پریشان عوام کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کیا تھا۔ قطر میں پاکستانی عوام سے گفتگو کے دوران شہباز شریف نے تاجروں پر عائد فکسڈ ٹیکس اور 1 کروڑ 71 لاکھ بجلی کے صارفین پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے اس بارے کہا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے بجلی کے بلوں میں صارفین کو ریلیف دینے کے اقدام پر وہ وزیراعظم شہباز شریف کےغریب دوست اقدام کا خیر مقدم کرتی ہیں۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ شہباز شریف عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب ہوں گے۔ مریم نواز نے مزید کہا تھا کہ راجن پور کے سیلاب متاثرین کی تصاویر دیکھ کر دل تڑپ گیا، وہ خود سیلاب متاثرین کے پاس جا رہی ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ تمام حکومتوں اور مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ مصیبت میں مبتلا اللّٰہ کی مخلوق کی خبر گیری کریں۔

  • بہت باتیں کرنے کو دل کرتا ہے پر کیا کریں ہر بات بات بن جاتی ہے امیتابھ بچن

    بہت باتیں کرنے کو دل کرتا ہے پر کیا کریں ہر بات بات بن جاتی ہے امیتابھ بچن

    بالی وڈ کی فلموں کے بائیکاٹ کا آج کل ٹرینڈ زوروں پر ہے. اداکاروں کو ان کے پرانے کئے ہوئے تبصرے اب پڑنے لگے ہیں مہنگے. اس کی تازہ مثال عامر خان اور اکشے کمار ہیں جن کے کوئی پرانے کلپس نکال کر ان کی کہی ہوئی باتوں بنیاد بنا کر انکی فلموں کا بائیکاٹ کیا گیا نتیجہ یہ نکلا کہ لال سنگھ چڈھا اور رکشا بندھن ناکامی سے دوچار ہو گئیں.ٹویٹر و سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور مبینہ طور پر اس کی وجہ سے باکس آفس پر فلموں کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، اب امیتابھ بچن کی فلم براہسمٹر کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے سوشل میڈیا پر اس فلم کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ چلنا شروع ہو چکا ہے. فلم سے جڑے لوگ کافی پریشان ہیں . اس ھوالے سے امیتابھ بچن نے گزشتہ روز ایک ٹویٹ کیا اس میں لکھا کہ” کچھ باتیں کرنے کا من کرتا ہے، پر کریں تو کسے کرین، ہر بات تو آجکل بات بنتی ہے‘‘۔ امیتابھ بچن نے بچنے بچاتے ٹویٹ تو کر دیا لیکن

    سمجھنے والے سمجھ گئے. یاد رہے کہ عالیہ بھٹ نے حال ہی میں‌نیپوٹیززم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ پسند نہیں کرتے تو ان کی فلمیں دیکھنا چھوڑ دیں عالیہ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان بپا ہو گیا اور براہمسٹرا کی کاسٹ اور ٹیم کو پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ عالیہ کے اس بیان کے بعد براہمسٹرا کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ چل رہا ہے. براہمسٹرا میں امیتابھ بچن کے ساتھ عالیہ بھٹ، رنبیر کپور، ناگارجن اور مونی رائے ہیں،یہ فلم 9 ستمبر 2022 کو ریلیز ہوگی۔ اس فلم کے علاوہ امیتابھ بچن وکاس بہل کی فلم الوداع کا بھی حصہ ہیں، اس میں وہ بھاسکر پرجاپتی کا کردار ادا کررہے ہیں فلم کی کاسٹ میں امیتابھ کے علاوہ رشمیکا منڈنا اور نینا گپتا ہیں۔

  • عمران خان کا بیان براہ راست توہین عدالت ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری

    عمران خان کا بیان براہ راست توہین عدالت ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاتون جج کے خلاف بیان پر توہین عدالت کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا بیان عدلیہ پر عوام کا اعتماد ختم کرنے کی کوشش ہے۔ براہ راست توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ‏بادی النظر میں عمران خان کا جج سے متعلق توہین آمیز بیان انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے۔عمران خان کا جج کو دھمکی دینےکا مقصد عوام کی نظر میں عدلیہ کے وقار اورساکھ کو مجروح کرنا ہے۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان 31 اگست کو پیش ہو کر بتائیں کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نا کی جائے؟ عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او عمران خان کو نوٹس کی تعمیل کرائے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل اور چیئرمین پیمرا کو بھی نوٹس جاری کر دیئے۔ جبکہ چیئرمین پیمرا سے عمران خان کی ایف نائن پارک میں تقریر کا ٹرانسکرپٹ طلب کرلیا۔ اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکانے کے معاملے پر توہین عدالت کیس میں عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا. ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکانے پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے کیس کی سماعت تین رکنی لارجر بینچ نے کی نے کی تھی.

    جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں بننے والے بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اور جسٹس بابر ستار بھی شامل تھے.

    عدالت نے رجسٹرار کے نوٹ پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا تو اس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے تھے

    کیس کی سماعت

    دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ خاتون ایڈیشنل سیشن جج کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کیے گئے، اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ وہ خاتون جج کون سا کیس سن رہی تھیں؟

    ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا تھا کہ خاتون جج شہبازگل کے ریمانڈ سے متعلق کیس سن رہی تھیں، عمران خان جوڈیشری اورالیکشن کمیشن کےخلاف مسلسل ایسی گفتگو کرتے رہے ہیں، عمران خان انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ: وزیراعظم رہنے والے لیڈر سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے.

    عدالت نے کہا تھا کہ انویسٹی گیشن میں تو کورٹس بھی مداخلت نہیں کرتیں، خاتون جج کو دھمکی دی گئی، اگریہ ماحول بنانا ہے تو کام تو ہوگا ہی نہیں، پورے پاکستان میں ججز کام کررہے ہیں، کورٹ فیصلہ دے گی تو اس کےخلاف تقریریں شروع کردیں گے؟ عام آدمی کوکس طرف لے جارہے ہیں،کہ وہ اٹھے اوراپنا انصاف خود شروع کردے؟

    عدالت نے استفسار کیا تھا کہ جس خاتون جج کودھمکی دی گئی اسے اضافی سکیورٹی دینے کو تیارہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جی ہاں، خاتون جج کو اضافی سکیورٹی دینے کو تیار ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ: سنجیدہ معاملہ ہے اور صرف اسلام آباد کی ماتحت عدالت کی جج تک محدود نہیں.

    عدالت نے مزید کہا تھا کہ: پہلے نوٹس دے کرعمران خان کو سنا جائے یا ڈائریکٹ شوکاز نوٹس دیں؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ بادی النظر میں یہ سیدھا شوکاز نوٹس کا کیس بنتا ہے۔

    جسٹس محسن اختر نے کہا کہ بہت سارے لوگ سامنے کھڑے ہوں تو ایسی باتیں کرنی چاہئیں؟ میڈیا کے ذریعے بہت سارے لوگ یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں، جس لمحے ہم یہ سماعت کررہے ہیں اس وقت بھی عدلیہ کو بدنام کیا جارہا ہوگا، سنجیدہ معاملہ ہے اور صرف اسلام آباد کی ماتحت عدالت کی جج تک محدود نہیں، سول بیوروکریسی اور پولیس کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، آج ایک حکومت ہے، وہ چلی جائے گی تو کیا دھمکیاں دے گی؟ یہاں تو مخصوص لوگوں نے پورے نظام کو جکڑا ہوا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین سے زائد ججز پر مشتمل لارجر بینچ تشکیل دینے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا جب کہ عدالت نے عمران خان کو 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا تھا، عدالت نے کہا تھا کہ عمران خان نیازی کو نوٹس پر ذاتی طور پر تعمیل کروائیں، اگر ریاستی ادارے کام نہیں کریں گے تو ملک کیسے چلے گا۔

    کیس کا پسِ منظر

    خیال رہےکہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد پرکیس کرنےکا اعلان کیا تھا اور دوران خطاب عمران خان نے شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو نام لےکر دھمکی بھی دی تھی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ آئی جی، ڈی آئی جی اسلام آباد ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے، تم پر کیس کریں گے اور مجسٹریٹ زیبا چوہدری آپ کو بھی ہم نے نہیں چھوڑنا، کیس کرنا ہے تم پر بھی، مجسٹریٹ کو پتہ تھا کہ شہباز پر تشدد ہوا پھر بھی ریمانڈ دے دیا۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا جب کہ پیمرا نے عمران خان کے براہ راست خطاب کر پابندی لگا دی تھی۔ گزشتہ دنوں عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران و عدلیہ کودھمکی دینے پر مقدمہ درج کیا گیا۔

  • شہباز گل کی اخراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی ہے

    شہباز گل کی اخراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی ہے

    تحریک انصاف کے رہنما اور بغاوت کے لئے اکسانے کے مقدمے میں زیر حراست شہباز گل کی اخراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی ہے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں زیرحراست تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل کی اخراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ وکیل شہباز گل فیصل چوہدری اور پراسیکیوٹر رضوان عباسی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ یہ اخراج مقدمہ کی درخواست ہے، اخراج مقدمہ سے متعلق 2012 کا سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ بھی ہے، آپ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو دیکھ لیجئے گا.
    شہبازگل کے وکیل شعیب شاہین نے شہباز گل کے ٹرانسکرپرپٹ کی کاپی فراہم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہائی کورٹ آرڈر کی مصدقہ نقول بھی فراہم کی جائیں۔
    جبکہ پراسیکیوشن نے بھی اضافی دستاویزات جمع کروانے کے لیے وقت مانگ لیا۔

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ میں اگلے دو ہفتے دستياب نہیں ہوں۔ عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

    دوسری جاب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار رہنما شہباز گِل کو بغاوت پر اکسانے کے کیس میں آج اسلام آباد کچہری میں پیش کیا جانے کا مکان ہے.
    پولیس شہباز گِل کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں آج پیش کرے گی۔ عدالتی حکم کے مطابق شہباز گِل کو آج 1 بجے سے پہلے عدالت میں پیش کرنا ہے۔ شہباز گل کے پارلیمنٹ لاجز کے کمرے سے اہم دستاویزات ملنے کا انکشاف ہوا تھا.

    واضح رہے کہ شہباز گِل کی آج اسلام آباد کچہری میں پانچویں پیشی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق شہباز گِل سے اہم دستاویزات برآمد کرلی گئی ہیں۔ اسلام آباد پولیس نے پارلیمنٹ لاجز میں شہباز گِل کے کمرے پر چھاپہ مارا تھا جہاں سے سیٹلائٹ فون اور پستول سمیت کئی اشیاء برآمد کی گئی تھیں۔

  • میئر صادق خان لندن میں پرتشدد واقعات کی روک تھام کیلئے ایکشن لیں. شبس احمد

    میئر صادق خان لندن میں پرتشدد واقعات کی روک تھام کیلئے ایکشن لیں. شبس احمد

    لندن میں بڑھتے پرتشدد اور چوری کے واقعات پر ٹی وی اسٹار نے مطالبہ کیا ہے کہ لندن کے میئر نے 24 گھنٹوں میں دو ویڈیوز کے بعد ایکشن لیا جس میں غنڈوں کو لندن کی سڑکوں پر بے بس متاثرین کو لوٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جبکہ انہیں اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایکشن لینا چاہئے تھا.

    ٹی وی اسٹار شبس احمد نے لندن کے مئیر صادق خان کو متنبہ کیا کہ اگر وہ لندن میں جاری پرتشدد جرائم کی لہر سے نمٹنے کے لیے سخت کاروائی عمل میں نہیں لائیں گے تو پھر وہ بھی اس کے زمہ دار ہوں گے.

    معروف ٹی وی اسٹار شبس احمد نے بی بی سی کے ہٹ شو سپر کار سپر فیم میں اداکاری کی ہے نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ایک مرد اور عورت کو دن کی روشنی میں چھری کی نوک پر لندن میں لوٹ لیا گیا جب وہ وسطی لندن میں ایک بازار سے گزر رہے تھے۔

    گزشتہ پیر کو لی گئی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون پونڈ پلیس، چیلسی کے دروازے میں لیٹی ہوئی ہے اور اس کی ٹانگوں پر لات مار رہی ہے جیسا کہ حملہ آور اس کے اوپر کھڑا ہے۔

    انسٹاگرام پر شیئر کی گئی فوٹیج کا جواب دیتے ہوئے، بی بی سی کی دستاویزی فلم اسٹار نے سوشل میڈیا سائٹ پر ایک تبصرے میں میئر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ‘صادق خان کیا آپ اس کو دیکھ رہے ہیں؟ اور آپ بہت مصروف ہیں؟ ‘اسے سلجھائیں. جیسا کہ میں نے پہلے کہا، آپ کے ہاتھوں پر خون لگے گا.

    https://twitter.com/CrimeLdn/status/1561417717055627264
    دوسری ایک ویڈیو میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ چوروں نے اشارہ پر رکی کار پر ہتھوڑوں سے وار کیا تاہم کار آگے چل نکلی اور پھر انہوں نے موٹر سایکلز پر اس پر کا پیچھا کیا.

    یہ ویڈیو کرائم لندن اسٹریٹ نامی اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی.
    علاوہ ازیں اس کار کی ایک تصویر بھی سامنے آئی اور دیکھا جاسکتا ہے کہ کار کا شیشہ ہتھوڑے کے وار سے ٹوٹا ہوا ہے.

  • کافی ود کرن پر کرن جوہر کو نفرت اور تنقید کا سامنا

    کافی ود کرن پر کرن جوہر کو نفرت اور تنقید کا سامنا

    کرن جوہر کا شمار بالی وڈ کے نامور فلم سازوں میں ہوتا ہے، انہوں نے کچھ قابل ذکر فلموں کی ہدایت کاری کی ہے جس میں کچھ کچھ ہوتا ہے، مائی نیم از خان، اے دل ہے مشکل، کھی خوشی کبھی غم اور دیگر کے نام قابل زکر ہیں. کرن نے شاہ رخ خان کی فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گے میں ایک چھوٹا سا کردار بھی نبھایا تھا. حال ہی میں ان کی جگ جگ جیو ریلیز ہوئی .کرن جوہر کافی ود کرن کے میزبان بھی ہیں یہ شو پہلی بار 2005 میں آن ائیر ہوا تھا تب سے لیکر اب تک کامیابی سے جاری ہے. کافی ود کرن کے سیزن سیون پر کافی تنقید ہو رہی ہے. اس ھوالے سے کرن جوہر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ میرے شو کو محبت کے ساتھ ساتھ نفرت بھی مل رہی ہے اسکو سوشل میڈیا پر کافی ٹرول

    بھی کیا جاتا ہے. مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیوں ایسا کیا جا رہا ہے حالانکہ میرے شو کو دیکھا بھی جا رہا ہے اس کے باوجود اس شو کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کی جا رہی ہیں. کرن جوہر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی بات نہیں کبھی کبھی نفرت یا ٹرولنگ بھی اینٹرٹیننگ ہوتی ہے اور میں ہر چیز کو انجوائے کرتا ہوں. میں ٹویٹر اور دیگر پورٹلز پر اپنے شو کے بارے میں پڑھتا ہوں اس میں آئے مہمانوں کی گفتگو تک ڈسکس ہو رہی ہوتی ہے تو پھر اس شو کو اتنی نفرت دئیے جانے یا تنقید کرنے کی وجہ میری سمجھ سے باہر ہے لیکن کوئی بات نہیں میں انجوائے کررہا ہوں جیسا کہ میں نے کہا کہ کبھی کبھی نفرت یا ٹرولنگ بھی اینٹرٹیننگ ہوتی ہے.یاد رہے کہ کافی ود کرن کی آنے والی ایپی سوڈ میں شاہد کپور اور کائرہ ایڈوانی بطور مہمان شرکت کریں گے.