Baaghi TV

Author: +9251

  • شفالی شاہ بھی بائیکاٹ ٹرینڈ پر بول پڑیں

    شفالی شاہ بھی بائیکاٹ ٹرینڈ پر بول پڑیں

    شیفالی شاہ بالی ووڈ کی باصلاحیت اداکاروں میں سے ایک ہیں۔انہوں نے مانسون ویڈنگ، وقت: دی ریس اگینسٹ ٹائم، دل دھڑکنے دو، اور حال ہی میں ریلیز ہونے والی ڈارلنگزجیسی فلموں‌میں یادگار پرفارمنس دی ہیں۔انہوں نے شائقین اور ناقدین دونوں سے داد سمیٹی. اب وہ اپنی انتہائی کامیاب سیریز دہلی کرائم کے دوسرے سیزن کی تیاری کر رہی ہین۔شفالی نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں ان سے بالی ووڈ میں جاری بائیکاٹ کلچر پر سوال پوچھا گیا تو اداکارہ نے کہا کہ بائیکاٹ کلچر زیادہ دیر نہیں چلے گا،یہ ایک رجحان ہے جو جلد ہی ختم ہوجائیگا،مجھے نہیں لگتا کہ یہ دیرپا ہے۔ جب ان

    سے اس تاثر کے بارے میں پوچھا گیا کہ بالی ووڈ اپنے خاتمے کے قریب ہے، تو انہوں نے کہا مجھے نہیں لگتا کہ یہ ممکن ہے یا ایسا ہو سکتا ہے۔ جس طرح کرکٹ کے دیوانے ہیں لوگ اسی طرح سے فلموں کے بھی دیوانے ہیں فلموں کا کلچر ختم نہیں‌ہو سکتا.باقی لوگوں کا اپنا نقطہ نظر ہے، ان کی اپنی رائے ہے ہم اس رائے کو چیلنج نہیں کر سکتے لیکن زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے بات ضرور کر سکتے ہیں.ٹھیک ہے ایک طبقہ ایسی بات کررہا ہو گا لیکن دوسری طرف یہ بھی تو دیکھیں کہ ایک بہت بڑے طبقے کی طرف سے ہمیں پیار محبت اور پذیرائی مل رہی ہے لہذا اسی چیز پر فوکس کریں اور نفرت آمیز ٹرینڈز کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھیں.

  • اسلام آباد: خاتون کو کرائے کا مکان دکھانے کیلئے بلاکر زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا

    اسلام آباد: خاتون کو کرائے کا مکان دکھانے کیلئے بلاکر زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا

    اسلام آباد میں خاتون کو کرائے کا مکان دکھانے کیلئے بلاکر زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔

    باغی ٹی وی اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سعد عباسی نامی ملزم نے خاتون کو کرائے کا مکان دکھانے کیلئے بلایا تھا لیکن جب خاتون کمسن بیٹے کے ساتھ مکان دیکھنے پہنچی تو ملزم نے اسی گھر میں 12 گھنٹوں تک اپنے دو دوستوں کے ساتھ مل کر خاتون کو تیرہ مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ خاتون سے سونے کا لاکٹ بھی چھین لیا گیا.

    خاتون نے پولیس کو ایک بیان میں بتایا کہ مجھے کرایہ کیلئے مکان چاہئے تھا اور ملزم نے جب مکان دیکھنے کے لیئے بلایا لیکن جب میں وہاں پہنچی تو انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مجھے تیرہ مرتبہ بارہ گھنٹوں کے دوران زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر دھمکی دی کہ اگر پولیس یا کسی اور کچھ کو بتایا تو کمسن بیٹے سمیت آپ کو قتل کر دیں گے۔

    خاتون کی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہو نے کے بعد خاتون کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے دو ملزمان سعد عباسی اور عبداللہ عباسی کو گرفتار کر لیا ہے. پولیس کے مطابق دونوں ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا ہے دونوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا ہے جبکہ تیسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔

    پولیس نے مزید کہا: زیادتی کے مرتکب ملزمان کیخلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور فرار ملزم کوبھی جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا تاکہ اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے.

    دوسری جاب باغی ٹی وی اسلام آباد کے نمائندہ خصوصی ملک رمضان اسراء نے متاثرہ خاتون اور ان کے اہل خانہ کا موقف جاننے اور مزید معلومات کیلئے رابط کیا تاہم ان سے فلحال رابطہ ممکن نہ ہوسکا ہے.

  • کورونا وائرس سے  ملک بھر میں مزید 2 اموات جبکہ 278 نئے  کیسز رپورٹ

    کورونا وائرس سے  ملک بھر میں مزید 2 اموات جبکہ 278 نئے  کیسز رپورٹ

    کورونا وائرس سے  ملک بھر میں مزید 2 اموات جبکہ 278 نئے  کیسز رپورٹ ہوئے ہیں.

    باغی ٹی وی اسلام آباد: ملک میں کورونا وائرس کے وار جاری ، گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران  مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے. قومی ادارہ صحت  کے مطابق ملک میں  کورونا   وائرس ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ، ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے    2 افراد انتقال کر گئے جبکہ  278 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں.


    ملک میں گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا کے  15 ہزار803  ٹیسٹ کیے گئے ہیں ۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں کوروناکےمثبت کیسزکی شرح 1.76 فیصد رہی جبکہ کوروناکے118  مریضوں کی حالت تشویشناک ہے.

    پاکستان میں کورونا وبا کے کیسز میں ایک بار پھر اضافہ ہونے کے سبب ہوائی سفر، پبلک ٹرانسپورٹ میں  ماسک لگانے کی پابندی دوبارہ عائد کی گئی ہے. پاکستان میں گزشتہ چند ماہ میں کووڈ کیسز کی شرح انتہائی کم رہی، جس کی وجہ سے کورونا وبا کے دوران لگائی گئی تمام پابندیاں بھی ہٹا دی گئی تھیں

    ملک  میں ایک بار پھر کورونا کیسز کی شرح میں اضافے کے بعد قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ) نے شہریوں کو ماسک کا استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے.  قومی ادارہ صحت  کے مطابق ملک میں ویکسینیشن کے اہل عوام  کو کووڈ 19 کے خلاف مکمل ویکسین بھی لگا دی گئی ہے ۔ جبکہ اس بارے میں لوگوں میں آگاہی بھی پھیلائی جارہی کہ احتیاطی تدابیر اپنا کر کورونا وائرس جیسے موذی مرض سے محفوظ رہیں.

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز کے مطابق 2020ء میں اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کے بعد سے رواں سال مارچ میں کیسز کی تعداد کم  ترین سطح پر تھی لیکن اب ان کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

     واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سامنے آیا تھا۔

  • وزیراعظم شہبازشریف کی امیر قطر شیخ  تمیم  بن حمد  الثانی سے ملاقات

    وزیراعظم شہبازشریف کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات

    وزیراعظم شہبازشریف کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات ہوئی ہے
    وزیراعظم شہبازشریف کی امیر قطر سے ملاقات امیری دیوان میں ہوئی وزیراعظم کا امیر قطر شیخ تمیم بن حمد ال ثانی نے استقبال کیا۔ امیری دیوان میں وزیراعظم شہباز شریف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا

    قبل ازیں وزیراعظم محمد شہبازشریف نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ شیخ خالد بن خلیفہ بن عبدالعزیز الثانی سے ملاقات کی۔وزیراعظم کابینہ کے سینئر ارکان کے ہمرا سرکاری دورے پر دوحہ پہنچے ہیں۔ جہاں وزیراعظم محمد شہبازشریف نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ شیخ خالد بن خلیفہ بن عبدالعزیز الثانی سے ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں نے بات چیت کے دوران اپنے اپنے فریقین کی قیادت کی اور دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جبکہ مشترکہ دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان روابط میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعاون ,خاص طور پر تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے بشمول قابل تجدید ذرائع، انفراسٹریکچر، نقل و حمل، زراعت اور لائیو اسٹاک اور سیاحت میں قطر کے ساتھ تعلقات کو گہرا اور متنوع بنانے میں حکومت پاکستان کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

    وزیر اعظم نے قطر کو فیفا ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی پر مبارکباد دی اور دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد میں قطر کے عوام اور حکومت کی کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے قطر میں مقیم پاکستانیوں کی دیکھ بھال پر قطری قیادت کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے انسانی وسائل کی بھرپور صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستانیوں کے لیے مزید مواقع تلاش کرنے کے لیے قطری قیادت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں جو اپنی مہارت اور کاروبار کے ذریعے قطر کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

    افغانستان کی تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نے تعمیری مشغولیت کی اہمیت اور عالمی برادری کو انسانی اور اقتصادی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے افغان عوام کے لیے اپنی حمایت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے لیے قطر کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے اس کی انسانی امداد کو سراہا۔

    دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جن کی جڑیں مشترکہ عقیدے اور اقدار کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں قریبی دوطرفہ تعاون پر مشتمل ہیں۔ دونوں ممالک علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی قریبی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔

  • چار قانونی کیسز عمران خان کے سیاسی کیریئر کیلئے تباہی کا باعث بن سکتے

    چار قانونی کیسز عمران خان کے سیاسی کیریئر کیلئے تباہی کا باعث بن سکتے

    پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو چار مختلف قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے اور ان سب سے ان کے سیاسی کیریئر کو خطرہ ہے۔ عمران خان اگر خود کو ان مقدمات سے بچانے میں ناکام ہوئے تو اس کا مطلب ان کیلئے سیاست سے نااہلی ہوگا۔

    سینئر صحافی انصار عباسی لکھتے ہیں کہ: یہ جس وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ (عمران خان) مقبولیت کی بلندیوں پر ہیں، اس وقت قانونی نوعیت کے یہ خطرات توہین عدالت کی دو کارروائیوں، توشہ خانہ کیس میں اسپیکر قومی اسمبلی کے دو ریفرنسز اور فارن فنڈنگ کیس میں اثاثہ جات کے غلط گوشوارے جمع کرانے کے کیس کی صورت میں اُن کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔

    توہین عدالت کے دو کیسز میں سے ایک اسلام آباد ہائی کورٹ کا توہین عدالت کا کیس ہے جس میں عدالت نے عمران خان کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 31؍ اگست کو طلب کر لیا ہے۔

    انصار عباسی مزید لکھتے ہیں: عدالت نے عمران خان کیخلاف از خود نوٹس لیا ہے کیونکہ گزشتہ ہفتے ریلی میں عمران خان نے شہباز گِل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہباز گل کو پولیس کی درخواست پر ریمانڈ پر بھیجنے پر ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کو خبردار کیا تھا کہ خاتون جج نتائج کیلئے تیار ہو جائیں۔

    انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس جج کیخلاف ایکشن لیں گے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق، یہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کا سنگین کیس ہے۔ خاتون جج کو دھمکی کوئی معمولی معاملہ نہیں لیکن یہ پوری عدلیہ کی توہین اور قانون کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا معاملہ ہے۔ اس کیس میں سزا پانچ سال تک سیاست سے نااہلی ہے۔

    الیکشن کمیشن (ای سی پی) کا توہین کا کیس بھی عمران خان کیخلاف ہے۔ ای سی پی نے ملک کے انتخابی ادارے پر مختلف تقاریر کے دوران غیر پارلیمانی اور ناشائستہ زبان کے استعمال اور چیف الیکشن کمشنر پر الزامات عائد کرنے پر گزشتہ ہفتے عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو توہین کا نوٹس بھیجا تھا۔

    ای سی پی نے ان رہنماؤں کو نجی حیثیت میں یا پھر وکیل کے توسط سے 31؍ اگست تک جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ ای سی پی کا کہنا تھا کہ ادارے نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی مختلف تقاریر کا جائزہ لینے کے بعد نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ تقاریر پیمرا نے ای سی پی کو فراہم کی تھیں۔

    اگر ای سی پی نے ان رہنمائوں میں سے کسی کو بھی قصور وار قرار دیا تو اس کی سزا پانچ سال تک سیاست سے نااہلی ہے۔ عمران خان کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس قومی اسمبلی کے اسپیکر نے الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا جس میں الزام یہ ہے کہ عمران خان نے ای سی پی میں جمع کرائی گئی اثاثہ جات کی تفصیلات میں کچھ چیزیں چھپائی تھیں۔

    سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عہدے سے ہٹا کر انہیں تاحیات نا اہل قرار دیا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں ’’غیر حاصل شدہ قابل وصول‘‘ اثاثہ جات کو چھپایا تھا۔ عمران خان کے معاملے میں انہوں نے مبینہ طور پر توشہ خان کے تحائف کو گوشواروں میں چھپایا۔

    عمران خان نے یہ تحائف ایک یا دو سال بعد اُس وقت گوشواروں میں ان تحائف کا ذکر کیا جب میڈیا نے توشہ خانہ اسکینڈل پر توجہ مبذول کرائی تھی اور بتایا تھا کہ عمران خان نے ان میں سے کچھ تحائف فروخت کردیے ہیں۔

    نواز شریف اور عمران خان کے کیس میں کسی قدر مماثلت یوں ہے کہ دونوں رہنمائوں نے اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے۔ نواز شریف کے معاملے میں دیکھیں تو انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ قابل وصول اثاثہ جات انہوں نے وصول نہیں کیے۔ عمران خان کے کیس میں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ توشہ خانہ کے تحائف فروخت کرکے انہیں کتنی رقم ملی۔

    عمران خان نے اس حوالے سے ایک سال بعد کے گوشواروں میں معلومات فراہم کیں۔ نواز شریف نے 2013ء کے الیکشن کیلئے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی میں معلومات فراہم کیں۔ یہ الیکشن ان کی جماعت جیت گئی اور وہ تیسری بار وزیراعظم پاکستان بن گئے۔

    عمران خان نے گوشوارے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران جمع کرائے کیونکہ ارکان پارلیمنٹ کیلئے یہ لازمی شرط ہے کہ وہ ہر سال اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے حوالے سے گوشوارے جمع کرائیں گے۔ چوتھا کیس فارن فنڈنگ کیس کا ہے جس میں ای سی پی کے حالیہ فیصلے کے مطابق عمران خان کی پی ٹی آئی فنڈنگ کے حوالے سے سند (سرٹیفکیشن) پر سوالات اٹھ گئے ہیں اور یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ فنڈز کی نوعیت کے حوالے سے غلط حقائق جمع کرانے پر سزا کے مستحق ہیں یا نہیں۔

    تاہم، جو بات زیادہ سنگین ہے وہ عمران خان کی جانب سے کھولے گئے دو بینک اکائونٹس ہیں اور اس حوالے سے دستاویزات پر اُن کے اپنے دستخط ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے فارن فنڈنگ کیس میں یہ بات الیکشن کمیشن کو نہیں بتائی۔

    اس کیس پر عمران خان کیخلاف آئین کے آرٹیکل (f) (1) 62 کے تحت کارروائی ہوگی جس کے نتیجے میں وہ تاحیات سیاست سے نا اہل ہو سکتے ہیں۔ مذکورہ بالا تمام کیسز میں عمران خان کو اگر سزا ہوئی تو وہ صرف سپریم کورٹ میں ہی اپیل دائر کر سکیں گے۔

  • عمران خان نے 2013 میں بھی توہین عدالت کی،نوٹس پر معافی مانگی

    عمران خان نے 2013 میں بھی توہین عدالت کی،نوٹس پر معافی مانگی

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ملک کے اداروں کے بارے میں توہین آمیز بیانات کا سلسلہ نیا نہیں ہے،عمران خان وزیراعظم بننے سے پہلے بھی ملک کے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں ، ریاستی اداروں پر تنقید عمران خان کیلئے نئی بات نہیں . عمران خان پہلے” جوش ” سے خطاب کرتے ہیں اور بعد میں معافی بھی مانگ لیتے ہیں.

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے 26 جولائی 2013 میں بھی ملک کے اداروں پر تنقید کی ایک پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکسن کمیشن اور عدلیہ کا گزشتہ الیکشن میں جو کردار تھا وہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے شرمناک تھا ،عمران خان نے اداروں سے متعلق کہا کہ اداروں نے پاکستان کی تاریخ کا وہ الیکشن کروایا ہے کہ جس میں اتنی دھاندلی ہوئی جتنی پاکستان کی تاریخ میں کھبی نہیں ہوئی.

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کے میزبان اور سینئر صحافی،اینکر حامد میر نے اپنے پروگرام میں عمران خان کی 26 جولائی 2013 کی پریس کانفرنس بھی دکھائی جس میں عمران خان نے الیکشن کمیشن اور ملک کی عدلیہ پر الزامات عائد کئے.

    سابق وزیراعظم عمران خان کو 2013 کی پریس کانفرنس اور اداروں پر الزامات لگانے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا تھا مگر عمران خان نے عدالت سے معافی مانگ لی تھی.اب بھی عمران خان کو عدالت کی جانب سے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ اس بار بھی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان "دلیری” کا مظاہرہ کرتے ہوئے معافی مانگ کر اپنی جان بچا لیں گے.

  • چودھری پرویز الٰہی اور مونس الہیٰ سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات

    چودھری پرویز الٰہی اور مونس الہیٰ سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم سلیم الزیبی (Mr. Hamad Obaid Ibrahim Salem Al-zabi) نے ملاقات کی، پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی بھی موجود تھے.ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور،پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کے فروغ اورمختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا.

    متحدہ عرب امارات کے سفیر نے وزارت اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہونے پر چودھری پرویز الٰہی کو مبارکباد دی،یو اے ای کے سفیر نے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کو متحدہ عرب امارات کے دورے کی دعوت دی،وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی اورمتحدہ عرب امارات کے سفیرکا فیروز پور روڈ لاہور پر مبارک سینٹر پر کام شروع کرنے پر اتفاق کیا.ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ معاشی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے مستقبل میں قریبی رابطوں کو مزید بڑھایا جائے گا۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ Dhabi گروپ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر شیخ نہیان بن مبارک النہیان کے تہہ دل سے مشکور ہیں،پنجاب حکومت مبارک سینٹر کی تعمیر کے حوالے سے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ سٹیٹ آف دی آرٹ مبارک سینٹرمیں کاروباری مراکز اورسیون سٹارہوٹل تعمیر ہوگا۔ مبارک سینٹر لاہور کی بلند ترین عمارت ہوگی۔

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ سیون سٹار ہوٹل کو فلائی اوور سے قذافی سٹیڈیم کے ساتھ لنک کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ بننے سے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو قذافی سٹیڈیم آنے جانے میں بے پناہ سہولت ہوگی۔ ٹورنامنٹس کے انعقاد کے دوران لاہور کی مصروف سڑکوں پر ٹریفک کی بندش کے عذاب سے نجات ملے گی۔ یہ منصوبہ میرے سابقہ دور میں شروع ہوا،بدقسمتی سے (ن) لیگ کی حکومت نے اسے بھی سیاست کی بھینٹ چڑھایا۔ اب اس منصوبے پر تیزی سے کام آگے بڑھائیں گے۔  مبارک سینٹربننے سے تجارتی و معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

    چودھری پرویز الہیٰ نے مذید کہا کہ پاکستان ا ور متحدہ عرب امارات کے مابین تاریخی برادرانہ تعلقات موجود ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو سٹریٹجک پارٹنرشپ میں بدلا جائے۔پنجاب میں سرمایہ کاری کے لئے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت دی.چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کار کمپنیوں کو پنجاب میں خوش آمدید کہیں گے۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں متحدہ عرب امارات کا تعاون لائق تحسین ہے۔تعلیم،صحت اوردیگر شعبوں کی بہتر ی کیلئے متحدہ عرب امارات کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔معاشی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے بزنس ٹو بزنس وفود کے تبادلے ضروری ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ  پہلی فرصت میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کروں گا۔

    سفیر متحدہ عرب امارات کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے و زیر اعلی چودھری پرویز الٰہی کی ذاتی دلچسپی قابل ستائش ہے – متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کار کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں، مبارک سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔

    سفیر متحدہ عرب امارات نے کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط سے مضبوط بنائیں گے۔متحدہ عرب امارات کی قیادت بھی پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ہم آپ کو متحدہ عرب امارات آمد پر خوش آمدید کہیں گے۔

  • قطر کے ساتھ تعلقات اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں،شہباز شریف

    قطر کے ساتھ تعلقات اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں،شہباز شریف

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دوحہ میں "پاکستان قطر تجارت اور سرمایہ کاری راؤنڈ ٹیبل 2022” کے موقع پر ممتاز قطری اور پاکستانی تاجر رہنماؤں سے بات چیت کی۔ قطر فنانشل سینٹر (QFC)، پاکستان بزنس کونسل قطر، اور دوحہ میں پاکستانی سفارت خانے نے مشترکہ طور پر گول میز کانفرنس کا اہتمام کیا۔ ایچ ای علی بن احمد الکواری، قطر کے وزیر خزانہ؛ ایچ ای سلطان بن راشد، انڈر سیکرٹری وزارت تجارت و صنعت قطر؛ اور یوسف الخطر جیدا، سی ای او، قطر فنانشل کنٹر نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

    کانفرنس میں قطر کے سرکردہ کاروباری اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز کے ساتھ ساتھ دوحہ, قطر میں مقیم پاکستانی تاجر برادری کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔


    اپنے خطاب میں وزیراعظم نے پاکستان اور قطر کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور حمایت پر مبنی تعلقات کی خصوصی نوعیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے قطر کو ایک قابل اعتماد پارٹنر قرار دیا جس کی حمایت کو انہوں نے خلوص دل سے سراہا. وزیر اعظم نے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنی حکومت کے پختہ عزم کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو بے پناہ قدرتی اور انسانی وسائل سے نوازا گیا ہے اور پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع نے اسے خطے کا اولین تجارتی، توانائی اور ٹرانسپورٹ کوریڈور بننے کے قابل بنایا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس منفرد فائدے نے پاکستان کو وعدوں اور مواقع سے بھرپور مارکیٹ بنا دیا ہے ۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک بڑی صارف منڈی ہونے کے باعث پاکستان میں غذائی تحفظ، توانائی سمیت قابل تجدید ذرائع، زراعت اور لائیو سٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مہمان نوازی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش کاروباری مواقع فراہم موجود ہیں۔
    وزیراعظم نے قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں اپنے قدم بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے پاکستانی اور قطری تاجروں کے ساتھ گول میز کانفرنس کے انعقاد میں منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔

    قبل ازیں قطر میں پاکستان کے سفیر نے اپنے خطاب میں اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وزیراعظم کا دورہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات میں خاطر خواہ اضافہ کا باعث بنے گا۔ گول میز کے دوران، ایک معزز پینل نے دو طرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ پینل ڈسکشن میں بنیادی طور پر تعاون کے نئے شعبوں کو تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ دونوں ممالک میں کاروباری روابط مزید مضبوط قائم ہوں۔ پینلسٹس میں سید نوید قمر، وزیر تجارت؛ محترمہ حنا ربانی کھر، وزیر مملکت برائے خارجہ امور؛ محترمہ الانود بن حمد الثانی، QFC کی چیف بزنس آفیسر؛ محسن مجتبیٰ، اعزازی سرمایہ کاری کونسلر؛ اور پاکستان بزنس کونسل کے صدر ڈاکٹر جاوید اقبال شامل تھے

    اس سے پہلے وزیراعظم محمد شہبازشریف سے دوحہ میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیو آئی اے) کے وفدنے ملاقات کی.
    قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی دنیا کے سب سے بڑے خو دمختار دولت فنڈز میں سے ایک ہے۔ H.E منصور بن ابراہیم المحمود، CEO، اور H.E. شیخ فیصل تھانی الثانی، چیف انویسٹمنٹ آفیسر آف افریقہ اور ایشیا پیسیفک ریجنز نے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کی نمائندگی کی۔ دو روزہ سرکاری دورے پر دوحہ پہنچنے کے فوراً بعد وزیراعظم کی یہ پہلی مصروفیت تھی۔

    وزیراعظم کے ہمراہ کابینہ کے اہم ارکان اور اعلیٰ حکام بھی تھے۔ عزت مآب امیر کی وژنری قیادت میں قطر کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر بہترین سیاسی تعلقات کو ایک جامع اقتصادی شراکت داری میں اپ گریڈ(upgrade) کرنا چاہتا ہے۔

    وزیراعظم نے دوطرفہ اقتصادی اور سرمایہ کاری کی مصروفیات خاص طور پر قابل تجدید توانائی بشمول شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار، ہوا بازی، سمندری، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مہمان نوازی کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا.

    وزیراعظم نے پاکستان کے منفرد جغرافیائی اور آبادیاتی فوائد کو اجاگر کیا۔ پاکستان کی لبرل اور کاروبار دوست سرمایہ کاری کی پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے قطرکو پاکستان کے توانائی، ہوا بازی، زراعت اور لائیو سٹاک، میری ٹائم، سیاحت اور hospitality کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے قطری سرمایہ کاروں پر بھی زور دیا کہ وہ علاقائی روابط اور باہمی خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے پیش کیے گئے مواقع تلاش کریں۔ وزیر اعظم نے شفاف اور تیز رفتار عمل کے ذریعے QIA کو مکمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    تقریب کے ایک حصے کے طور پر، متعلقہ وزارتوں کی جانب سے متعدد پریزنٹیشنز پیش کی گئیں جن میں غذائی تحفظ، توانائی، میری ٹائم، ہوا بازی، hospitality اورسیاحت کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کیا گیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں کیو آئی اے کی دلچسپی کو سراہا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں اطراف کے نامزد فوکل پرسنز سرمایہ کاری کے لیے اہم تجاویز پر قریبی مشاورت کریں گے۔ وزیراعظم نے H.E منصور بن ابراہیم المحمود اورH.E شیخ فیصل تھانوی الثانی کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی تاکہ دورہءِ قطرسے پیدا ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ پاکستان کو ایک ترجیحی ملک قرار دیتے ہوئے، کیو آئی اے کے وفد نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فعال طور پر تلاش کرنے کے لیے کیو آئی اے کی گہری دلچسپی اور تیاری کا اظہار کیا۔

  • وزیراعظم کا بڑا اعلان،فکس ٹیکس اور بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج ختم کر دیئے

    وزیراعظم کا بڑا اعلان،فکس ٹیکس اور بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج ختم کر دیئے

    وزیراعظم شہباز شریف نے عوام اور تاجروں کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے تاجروں پر فکس ٹیکس اور بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج ختم کر دیئے، بجلی کے بلوں پر رعایت سے ایک کروڑ 71لاکھ صارفین مستفید ہوں گے جبکہ ملک بھر کے تین لاکھ ٹیوب ویل صارفین کو بھی فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج سے مستثنیٰ قرار دیدیا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو ہمارے سامنے دو بڑے اہداف تھے، سابق حکومت کی بدترین کارکردگی اور نااہلی کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا، ملکی معاملات کو بہتر بنانے کی ضرورت تھی، دوسرا ماضی کی حکومت کی نااہلی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا، دنیا میں بھی یہی صورتحال تھی، موجودہ حکومت مہنگائی کم کرنے کیلئے دن رات کوشش کر رہی ہے اور اس کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اگرچہ اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن دن رات کوشاں ہیں اور مہنگائی کے جن کو بھی بوتل میں بند کر دیا جائے گا، مہنگائی پر قابو پانے میں جلد کامیاب ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں، حالیہ بجٹ میں تاجروں پر فکس ٹیکس عائد کیا گیا اور تاجروں پر فکس ٹیکس بجٹ سے پہلے والی گفتگو کی روح کے خلاف ہے، فکس ٹیکس سے چھوٹے تاجروں کو بے پناہ مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ یہ ٹیکس عائد کرنا حکومت کی منشا تھی اور نہ ہی اس کی ہدایت کی گئی تھی، فکس ٹیکس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے کمیٹی بنا دی گئی ہے جو اس کی مکمل تحقیقات کرے گی، تاجروں پر 3 ہزار، 6 ہزار اور 10 ہزار کی شرح سے فکس ٹیکس عائد کیا گیا تھا، یہ اب ختم کر دیا گیا ہے اور اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، فکس ٹیکس کے خاتمہ سے 42 ارب روپے کا خسارہ ہو گا لیکن یہ دیگر وسائل سے پورا کیا جائے گا، چھوٹے تاجروں کو مشکلات میں ہم نہیں ڈالنا چاہتے تھے، فکس ٹیکس کا مقصد یہ تھا کہ تاجروں کو انکم ٹیکس کے اداروں کی چیرہ دستیوں سے بچایا جا سکے لیکن یہاں پر الٹی گنگا بہنا شروع ہو گئی، تاجروں کو فکس ٹیکس کے معاملہ پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ بیرون ملک سے اگر زیادہ قیمت پر تیل درآمد کیا جائے تو پھر اگلے ماہ کے بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی جاتی ہے اور اگر سستا تیل درآمد ہو تو پھر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں بجلی کے بلوں میں کمی ہو جاتی ہے چونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا تھا اس لئے جولائی اور اگست میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں خاصا اضافہ ہوا جو عام آدمی کیلئے ناقابل برداشت تھا اور اس سے کروڑوں صارفین پر بوجھ پڑا، اس معاملہ کا بھی فوری نوٹس لیا گیا اور چار، پانچ دن سے اس پر غور ہو رہا تھا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی یہ ہدایت تھی کہ کسی طور بھی یہ قابل قبول نہیں ہے، نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کی مشاورت سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وصولی ختم کر دی گئی ہے، آئی ایم ایف سے بھرپور مشاورت کے بعد عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے اور بجلی کے تین کروڑ صارفین میں سے ایک کروڑ 71 لاکھ صارفین کیلئے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ختم کر دیئے گئے ہیں، باقی ایک کروڑ 30 لاکھ صارفین جن میں صاحب ثروت لوگ شامل ہیں، ان کو بھی ریلیف دینے پر غور کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں، قطر ہمارا دوسرا گھر ہے، قطر کے ساتھ تجارت و سرمایہ کاری کے حوالہ سے گفتگو ہوئی ہے تاکہ پاکستان کے عوام کی خوشحالی کیلئے منصوبے شروع کئے جائیں اور ان پر عملدرآمد ہو، عوام کی خوشحالی کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں،عوامی فلاح کے منصوبوں پر سیاست کرنے پر یقین نہیں رکھتے لیکن 2019ء اور اس کے بعد کے منصوبوں پر عملدرآمد کے حوالہ سے ہم سے سوالات کئے گئے ہیں، پچھلی حکومت کے چار سال کی نااہلی کا چار ماہ میں جواب کیسے دے سکتے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ رونے دھونے سے کچھ نہیں ہو گا، عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں، خلوص اور استقامت سے محنت کرنا پڑے گی اور اپنا خون، پسینہ بہانا پڑے گا تو اﷲ تعالیٰ ہمارے دن پھیر دے گا اور اچھے دن آئیں گے، دن رات ایک کرکے پاکستان کی تقدید بدلیں گے۔ وفاقی وزیر بجلی خرم دستگیر بدھ کو پریس کانفرنس میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے حوالہ سے فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ تین لاکھ ٹیوب ویلوں کو بھی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے، انہیں بھی کوئی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی، حکومتی اقدامات سے پاکستان کے عوام کو احساس ہو گا کہ ان کی حکومت پوری تندہی کے ساتھ ان کے حالات بدلنے کیلئے کوشاں ہے۔

  • پاکستانی کرنسی پر دباؤ؛ ڈالر پھر 223 روپے کا ہوگیا

    پاکستانی کرنسی پر دباؤ؛ ڈالر پھر 223 روپے کا ہوگیا

    ملک کی کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی کرنسی پر دباؤ برقرار ہے اور ڈالر ایک مرتبہ پھر بڑھ 223 روپے کی سطح پر آگیا ہے۔

    منگل کے روز بھی انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا۔ انٹر بینک میں کاروباری اوقات کار کے اختتام پر امریکی ڈالر کی قدر ایک روپیہ بڑھ کر 216.66 روپے سے بڑھ کر 217.66 روپے ہوگئی۔
    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ایک دن کے دوران 3 روپے بڑھ کر 220 روپے سے 223 روپے ہوگئی ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی قسط کی منظوری اور وزیر اعظم کے دورہ قطر سے صورت حال بہتر ہوسکتی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز کاروباری ہفتے کے پہلے ہی روز ڈالر ایک مرتبہ پھر بڑھ 220 روپے سطح پر آگیا تھا۔

    پیر کو ملک کی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ دباؤ کا شکار نظر آیا۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 2 روپے پیسے کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد ایک امریکی ڈالر کی قیمت 216 روپے 66 پیسے ہوگئی۔
    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی خریداری کے رجحان کے باعث ڈالر کی قدر میں 2 روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ پیر کے روز کاروباری اوقات کے اختتام تک امریکی ڈالر 220 روپے کی سطح پر آگیا تھا۔

    گزشتہ روز ماہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے ہونے والی سیاسی بے یقینی روپے کی گراوٹ کی بنیادی وجہ ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کا کیلنڈر جاری کر دیا گیا۔ پاکستان کیلئے ایک ارب سترہ کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری پیر 29 اگست کو متوقع ہے، جس کے بعد ڈالر کی قدر میں خاطر خواہ کمی واقع ہوسکتی ہے۔

    واضح‌ رہے کہ گزشتہ دنوں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا تھا۔

    گزشتہ ہفتے جمعرات کو انٹربینک میں ڈالر12پیسےمہنگا ہوکر215روپے کا ہوگیا تھا۔ دن کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالرکی قیمت میں 7 پیسے کا اضافہ ہوا تھا اورانٹربینک میں ڈالر 214 روپے 95 پیسے پر بندہوا تھا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 217 روپے کا ہوکر بند ہوا تھا
    گزشتہ ہفتے بدھ کو 13 دن تک مسلسل گرنے کے بعد ڈالر کی قدرمیں اضافہ ہوا تھا۔ انٹربینک میں ڈالر دن کے اختتام پر 214 روپے 88 پیسے پر بند ہوا تھا۔
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 214.50 روپے پر ٹریڈنگ کررہا تھا اوردن کے اختتام پرڈالرکی قیمت 2 روپے بڑھ کر214 روپے ہوگئی تھی۔
    ڈالر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت ملنے کا ڈالر کی قدر بڑھنے سے کیا تعلق ہے؟
    اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں کو 15 اگست کو ڈالر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت د ی گئی، اس اجازت کے بعد اگلے ہی روز سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور صرف 2 روز میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 6 روپے بڑھ گئی۔

    ایک کرنسی ڈیلرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فیصلہ درست نہیں ہے، اس سے پہلے کرنسی ڈیلرز صرف انٹر بینک میں ڈالر فروخت کرسکتے تھے اب انہیں اگلے ماہ 30 ستمبر تک بیرون ملک ڈالر برآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس کی وجہ سے ان کے پاس آپشنز بڑھ گئے ہیں اور وہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔

    کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں بینک، ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کی ملی بھگت کے باعث گزشتہ ماہ ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس سے کچھ لوگوں نے چند روز میں بڑی کمائی کی اور اب کرنسی ڈیلرز کو بھی موقع مل گیا ہے کہ وہ ڈالر ایکسپورٹ کرنے اور واپس لانے کے عمل میں دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کمائی کرسکتے ہیں۔

    تاہم ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ایکسچینج کمپنیوں نے ڈالرایکسپورٹ شروع کردیا ہے لیکن اس کا ڈالرکی قدر بڑھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ڈالر کی قدر میں اضافہ مارکیٹ میکنزم کے تحت ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ بلوم برگ کے اعداد و شمار کے مطابق یکم تا 15 اگست عالمی سطح پر پاکستانی روپے کی کارکردگی (قدر بڑھنے کے لحاظ سے) 11.12 فیصد رہی جو دنیا کے کسی بھی ملک کی کرنسی کی بہتر کارکردگی میں سب سے زیادہ ہے، دوسرے نمبر پر مڈغاسکر کی کرنسی ہے جس کی کارکردگی کی شرح 5.42 فیصد اور تیسرے نمبر پر اسرائیلی کرنسی ہے جس کی کارکردگی 3.79 فیصد ہے.