Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان میں مبینہ طور پر ڈیڑھ لاکھ  بے گھر بچے پائے جاتے ہیں

    پاکستان میں مبینہ طور پر ڈیڑھ لاکھ بے گھر بچے پائے جاتے ہیں

    پاکستان کے اندر مبینہ طور پر ڈیڑھ لاکھ بےگھر بچے (سٹریٹ چلڈرن) پائے جاتے ہیں اور یونیسیف کے مطابق وہ کئی طرح کے استحصال، تشدد اور سمگلنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔

    انگریزی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق: دریائے راوی کے کنارے ایک عارضی پناہ گاہ میں رہنے والی 13 سالہ فاطمہ بتاتی ہیں، ’مجھے بہت فکر ہے کہ میرے چھوٹے بہن بھائیوں میں سے کوئی اغوا ہو جائے گا۔ بےگھر بچے بعض اوقات ریپ کا شکار بنتے ہیں، انہیں قتل کیا جاتا ہے اور ان کی لاشیں شہر میں کوڑے کے ڈھیروں پر پھینک دی جاتی ہیں۔‘

    10 افراد پر مشتمل اپنے خاندان کی کفالت میں معاونت کے لیے فاطمہ کو محض سات سال کی عمر میں سڑکوں پر آنا پڑا۔ وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں، ’میں شام چھ بجے سے سڑکوں پر پھول بیچنا شروع کرتی ہوں اور صبح تین بجے کے قریب گھر واپس آتی ہوں۔ کئی ایسے مواقع آئے جب مجھے اپنی زندگی خطرے میں محسوس ہوئی اور کئی مرتبہ مردوں نے مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔‘

    ایسے بے گھر بچوں کی مدد کے لیے ریاست کی طرف سے ایک ادارہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو موجود ہے جس کا مرکزی دفتر لاہور میں ہے۔ بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد کہتی ہیں، ’ہمارا مشن بے سہارا، نظر انداز، بدسلوکی کا شکار اور بھاگے ہوئے بچوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے کے مفید اور کارآمد ارکان میں تبدیل ہو سکیں۔

    ’کرونا کی وبائی کے دوران بہت سے خاندان اپنے ذرائع آمدن سے محروم ہو گئے اور ہم نے سڑکوں پر بھیک مانگنے پر مجبور بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا۔ ہماری اگست 2021 میں شروع کی گئی انسداد گداگری مہم نے ایک ہی دن میں سینکڑوں بچوں کو محفوظ بنایا۔‘

    دی انڈیپنڈنٹ میں شائع اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فاطمہ کے والد احمد بتاتے ہیں کہ ’ہمارا سب سے بڑا خوف خود چائلڈ پروٹیکشن ویلفیئر بیورو ہے۔ وہ ہمارے بچوں کو سڑکوں سے لے جا رہے ہیں جو ایسے ہے جیسے وہ بطور خاندان ہم سے ہماری روزی روٹی چھین رہے ہوں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سڑکوں پر بھیج کر اپنی گزر بسر کریں۔‘

    نیک نیتی کے باوجود بےگھر بچوں کی پکڑ دھکڑ نے کئی دیگر مسائل کا باب کھول دیا ہے جس میں ایک یہ ہے کہ وہ والدین جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی دستاویزات نہیں وہ اپنے بچوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اپنی جگہ ایسے رشتہ داروں، دوستوں یا یہاں تک کہ اجنبیوں کو بھیجنے پر مجبور ہیں جن کے پاس یہ دستاویزات ہوں۔

    واضح‌رہے کہ اس وقت متحرک معاون غیر سرکاری تنظیمیں پسماندہ افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں، تاہم پاکستان میں خیراتی ادارے کے طور پر کام کرنا کچھ وجوہات کے پیش نظر آسان نہیں ہے.

  • نوین وقار اور عدنان صدیقی کی کارما  دو ستمبر کو ریلیز ہوگی

    نوین وقار اور عدنان صدیقی کی کارما دو ستمبر کو ریلیز ہوگی

    پاکستان میں سسپنس، تھرل اور اغوا کی کہانیاں کم کم بنی ہیں رواں برس ایک سسپنس تھرلر فلم چکر ریلیز ہوئی تھی جسے یاسر نواز کی ڈائریکشن میں بنایا گیا تھا فلم کوئی خاص بزنس نہیں کر سکی. تاہم اب دو ستمبر کو سسپنس اور تھرلر ” کارما” ریلیز ہورہی ہے. فلم کی کاسٹ میں عدنان صدیقی، اسامہ طاہر، ژالے سرحدی، پارس مسرور، ارجمند راحم، نوین وقار، خالد انعم اور دیگر شامل ہیں۔فلم کا ٹیزر تو دھوم مچا چکا ہے. فلم کی ڈائریکشن کاشان اڈمانی نے کی ہےجبکہ کہانی فواد نے لکھی ہے. فلم میں چائلڈ لیبر، پیڈوفائل، دھوکا دہی، لالچ اور خواتین کو بااختیار کرنے جیسی چیزیں دکھانے کے ساتھ انتقامی تھرلر بھی دیکھنے کو ملے گا .فلم جذباتی مناظر سے بھری ہوئی دکھائی دیتی ہے جو محبت اور نقصان کی دنیا کو تلاش کرتی

    ہے۔ فلم کا عنوان ‘کار’ اور ‘کرما’ کے الفاظ پر مبنی ڈرامہ ہے۔پاکستان میں چونکہ اس طرح کی فلمیں بنتی نہیں‌ ہیں اس لئے اس کا ٹیزر دیکھ کر شائقین فلم کو دیکھنے کےلئے کافی پرجوش ہیں. شائقین اس میں پہلی بار اداکار و پرڈیوسر عدنان صدیقی اور نوین وقار کو ایک ساتھ دیکھیں گے. یاد رہے کہ نوین وقار نے سپر ہٹ ڈرامہ سیریل ہمسفر میں ماہرہ خان کے مقابلے میں کردار ادا کیا تھا ان کے کردار کو بہت پسند کیا گیا تھا لیکن ان کو ماہرہ خان اور فواد خان جیسا مقام نہ مل سکا لیکن یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ نوین وقار ایک باصلاحیت اداکارہ ہیں.

  • راولپنڈی: ٹریفک وارڈنز نے جعلی چالان کے ذریعے سرکاری خزانے کو لوٹ لیا

    راولپنڈی: ٹریفک وارڈنز نے جعلی چالان کے ذریعے سرکاری خزانے کو لوٹ لیا

    راولپنڈی میں ٹریفک وارڈنز نے جعلی چالان کے ذریعے سرکاری خزانے کو لوٹ لیا ہے

    سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی میں عجب کرپشن کی غضب کہانی سامنے آئی ہے نجی ٹی وی کے مطابق ، جعلی چالان بکس و بینک کی جعلی مہروں کے ذریعے چالانوں و جرمانوں کی مد میں سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، اور اس پویس اہلکار ملوث ہیں.

    جبکہ اینٹی کرپشن راولپنڈی نے چار ٹریفک وارڈنز کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے.

    واضح رہے کہ خفیہ اطلاع پر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن امجد شہزاد نے انکوائری کی تھی جس کے بعد جعلی چالان کے ذریعے سرکاری خزانے کو لوٹنے کا انکشاف ہوا تھا ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن امجد شہزاد نے دھوکہ دہی و خزانے کو نقصان پہنچانے و رشوت ستانی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے.
    مقدمے کے مطابق سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی میں وارڈنز نے سینئر ٹریفک وارڈنز کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی چالان بکس رکھی ہوئی تھی اور چالان کرکے موقع پر ڈرائیورز سے جرمانہ وصول کرکے جعلی رسید دے دی جاتی تھی.

    کچھ سینئر ٹریفک وارڈنز نے بینک کی جعلی مہریں بھی بنوا رکھی تھی اور اصل چالانوں پر بھی جعلی مہریں لگا کر سرکاری خزانے کو لاکھوں کا نقصان پہنچایا جارہا تھا۔
    سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی کے وارڈنز نعمان سلطان،عامر علی،کامران صدیق،کاشف جاوید کو نامزد کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔ مزید تفتیش میں اسکینڈل میں ملوث سٹی ٹریفک پولیس کے دیگر افسران و عناصر کا تعین کیا جائے گا۔

    حکام کے مطابق ان ملزامن کے خلاف سخت کاروئی کی جائے گی اور جعلی مہریں بنانے والوں کو بھی گرفتار کیا جائے گا، حکام نے مزید کہا کہ ایسی کسی قسم کی چیز برداشت نہیں کی جائے گی اور انہوں نے ریاست کا شہری اور اہلکار ہوتے ہوئے ریاست کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے لہذا مجرمان کو سخت سزا دی جائے گی.

  • سوشل میڈیا پر پابندی کا وقت گزر گیا، اب صرف الیکشن کا وقت آنے والا ہے۔ شیخ رشید

    سوشل میڈیا پر پابندی کا وقت گزر گیا، اب صرف الیکشن کا وقت آنے والا ہے۔ شیخ رشید

    سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سوشل اورڈیجیٹل میڈیا پرپابندی کا وقت گزر گیا،اب صرف الیکشن کا وقت آنے والا ہے۔

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ‏ملک کا معاشی اور پی ڈی ایم کا سیاسی دیوالیہ ہوگیا ہے، بجلی کے بل غریب کی جیب پر ڈاکہ ہے جو پہلے ہی خالی تھی۔
    ان کا کہنا ہے کہ 20 کلومیٹر کی حکومت چاروں طرف سے محاصرے میں ہے، پی ڈی ایم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ، اور ن اور ش آمنے سامنے آنے والی ہیں۔

    انہوں نے کہا ہے کہ نعروں سےخوفزدہ وزرا باہر نہیں نکل رہے اوراسٹیٹ گیسٹ ہاؤس استعمال کر رہے ہیں، ‏ایک طرف سیلاب اور دوسری طرف حکمران کا عذاب ہے۔ ان کا کہناہے کہ ملک کو اب باہر سے خطرہ نہین بلکہ اندر سے خطرہ ہے کیوں کرپٹ لوگ حکمران ہیں.

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ تباہی دروازے پردستک دے رہی ہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے ، سوشل اورڈیجیٹل میڈیا پرپابندی کا وقت گزر گیا،اب صرف الیکشن کا وقت آنے والا ہے۔ واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی ماضی میں کی جانے والی تمام پیشگوئیوں کے غلط ثابت ہونے کے باوجود بھی انکا حوصلہ ہے کہ وہ آج بھی یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور آئے روز کوئی نہ کوئی جھوٹی پیشن گوئی کرتے رہتے ہیں.

    اس حوالے سے بلاگر رجب علی فیصل کا خیال ہے کہ سابق وزیر داخلہ ایسا اس لیئے کرتے ہیں تاکہ ان کی جگہ میڈیا می بنی رہے کیوںکہ میڈیا بھی ایسی چٹ پٹی مسالے دار چیزیں دکھاتا رہتا ہے.
    رجب علی فیصل کے مطابق: اس میں اول میڈیا کا قصور نہیں کیونکہ ہم لوگ بھی تو ایسی چیزیں دیکھتے ہیں کیونکہ ہم بنیادی طور پر مہذب نہیں ہیں. لہذا اگر عوام ایسی جھوٹی پیشن گوئیاں نہ دیکھیں اور سنیں تو میڈیا ایک منٹ بھی ایسی کوئی چیز نہیں دکھائے گا کیوںکہ انہیں ریٹنگ نہیں ملے گی.

  • مہوش حیات کے نزدیک سوشل میڈیا کی کیا اہمیت ہے؟

    مہوش حیات کے نزدیک سوشل میڈیا کی کیا اہمیت ہے؟

    ایک وقت تھا جب اخبار میں چھپنے والی ایک کالم یا تین سطروں کی خبر بھی طوفان بپا کر دیتی تھی یہ وہ دور تھا جب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نہیں تھا.لیکن اب اخبار میں خبر بعد میں اتی ہے لیکن سوشل میڈیا پر پہلے ہی اس حوالے سے طوفان بپا ہوتا ہے. یہاں چلنے والی مثبت یا منفی کمپین کسی کے بھی کیرئیر کو بنا اور ختم کر سکتی ہے. کچھ اسی طرح کے خیالات ہیں اداکارہ مہوش حیات کے انہوں نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا آج بہت پاور فل ہے یہاں چلنے والی مہم کسی کوبھی کہاں سے کہاں‌پہنچا سکتی ہے. اداکارہ نے کہا کہ ہمیں سوشل میڈیا کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے. ویسے تو پوری

    دنیا میں ہی اس کا استعمال ہو رہا ہےلیکن اس میڈیم کا مثبت استعمال کم ہی دیکھنے کو مل رہا ہے. اس میڈیم کا مثبت استعمال کیا جائے تو بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں.اس پلیٹ فارم کو شعور اور آگاہی دینے کےلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے. انہوں نے کہا کہ ہم اس پلیٹ فارم سے اپنے ملک کے لئے لڑ سکتے ہیں اپنے ملک کا اچھا اور بہترین امیج اجاگر کر سکتے ہیں اور ان تمام پراپگینڈا کو جواب دیا جا سکتا ہے جو پاکستان یا ہمارے ملک کی کسی شخصیت کے خلاف ہو رہا ہو. اداکارہ نے اس انٹرویو میں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال پر خاصا زور دیا .

  • اشنا شاہ کو آخر فخر ہے کس بات کا؟

    اشنا شاہ کو آخر فخر ہے کس بات کا؟

    ادکاارہ اشنا شاہ جنہوں نے وقت کے ساتھ ثابت کیا کہ وہ ایک بہترین اداکارہ ہیں ڈرامہ سیریل لشکارہ میںان کی اداکاری نے ناقدین کے منہ بند کر دئیے تھے. اشنا شاہ نے فلموں میں آئٹم سانگ بھی کئے. اداکارہ منفی اور مثبت ہر طرح کے کردار کرتی ہیں اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میرا تعلق ایک ایسی فیملی سے ہے جن کے لوگ پہلے سے ہی اس فیلڈ میں موجود ہیں لیکن میں نے ان کے ناموں کا، ان کے مقام و مرتبے کا سہارا نہیں لیا. مجھے فخر ہے کہ میں نے ان کے نام کو کیش نہیں‌کروایا. میں نے جب اس فیلڈ میں آنے کا فیصلہ کیا تو یہ مکمل طور پر میری چوائس تھے اور میں نے اس حوالے سے جدوجہد کی. میرے آڈیشنز ہوئے فیل بھی ہوئی پاس بھی ہوئی لیکن آخر کار مجھے آڈیشنز کی بنیاد پر ہی کام ملا.میں نے کام حاصل کرنے کے لئے کسی سے بھی سفارش

    نہیں‌کروائی. اشنا شاہ نے کہا کہ شوبز ہو یا کوئی بھی فیلڈ اس میں لاکھ آپکے جاننے والے ہوں یا قریبی رشتہ دار ہوں لیکن آپ کو کا م آٔپ کی قابلیت پر ہی ملتا ہے.سفارش ویسے بھی ایک بار کام آتی ہے شاید پہلا موقع مل جاتا ہے لیکن اس موقع کے بعد آپ کی اپنی صلاحیتوں کی بنا پر ہی کوئی آپکو کام دیتا ہے کوئی بھی ایسے انسان پر رسک نہیں لے سکتا جسکو کام نہیں آتا چاہے وہ کتنی ہی بڑی شخصیت کا قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو. یادرہے کہ اشنا شاہ سینئر اداکارہ ارسہ غزل کی سوتیلی بہن ہیں.

  • جولائی میں تیل کی یومیہ پیداوار میں اضافہ، گیس میں کمی ریکارڈ

    جولائی میں تیل کی یومیہ پیداوار میں اضافہ، گیس میں کمی ریکارڈ

    ملک میں جولائی کے مہینے میں تیل کی یومیہ پیداوارمیں اضافہ جبکہ گیس کی پیداوارمیں کمی ریکارڈکی گئی ہے۔

    پی پی آئی ایس اور انڈسٹری کے اعدادوشمارکے مطابق ملک میں تیل کی یومیہ پیداوار 72637 بیرل اورگیس کی اوسط یومیہ پیداوار 3286 ایم ایف سی ایف ڈی ریکارڈکی گئی جو جون کے مقابلہ میں بالترتیب 3 فیصد زیادہ اور 4 فیصدکم ہے۔

    جون کے مہینہ میں ملک میں خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 70591 بیرل جبکہ گیس کی اوسط یومیہ پیداوار3438 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈکی گئی تھی۔ جولائی میں اوجی ڈی سی کی خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 34226 بیرل ریکارڈکی گئی جو جون میں 30383 بیرل یومیہ تھی۔

    جولائی میں اوسط یومیہ گیس کی پیداوار 790 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈکی گئی جو جون کے 657 ایم ایم سی ایف ڈی کے مقابلہ میں 20 فیصد زیادہ ہے، جولائی میں پی اوایل کی اوسط یومیہ خام تیل کی پیداوار5432 بیرل، پی پی ایل 13257 بیرل اورماڑی گیس کی اوسط خام تیل کی پیداوار812 بیرل ریکارڈکی۔

    علاوہ ازیں بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق: دنیا میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والے ممالک نے ستمبر میں اپنی پیداوار میں قدرے اضافہ کرنے پر اتفاق کیا تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔
    تیل پیدا کرنے والے گروپ ’اوپیک پلس‘ کے اراکین، جس میں روس بھی شامل ہے، مشترکہ طور پر پیداوار میں 100,000 (ایک لاکھ) بیرل یومیہ اضافہ کریں گے۔ یاد رہے کہ جولائی اور اگست کے دوران یومیہ 600,000 بیرل کا اضافہ کیا گیا تھا۔ مگر تیل درآمد کرنے والے ممالک تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے اس سے بھی بڑا اضافہ چاہتے تھے۔

    خیال رہے کہ سنہ 2020 کے موسم بہار میں، جیسے ہی کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیل گیا تھا اور بیشتر ممالک لاک ڈاؤن میں چلے گئے، خریداروں کی کمی کی وجہ سے خام تیل کی قیمت گِر گئی۔
    کیٹ ڈوریئن کے مطابق تیل پیدا کرنے والے یہ ممالک لوگوں کو تیل کی کھپت کے لیے پیسے دے رہے تھے کہ وہ یہ خرید لیں کیونکہ ان کے پاس اتنی جگہ نہیں تھی کہ وہ تیل ذخیرہ کر سکتے۔

    اس کے بعد اوپیک پلس میں شامل ممالک نے قیمت کو واپس لانے میں مدد کے لیے پیداوار میں دس ملین بیرل یومیہ کمی کرنے پر اتفاق کیا۔ جون 2021 میں خام تیل کی مانگ بحال ہونے کے ساتھ، اوپیک پلس نے بتدریج سپلائی میں اضافہ کرنا شروع کیا، جس سے عالمی منڈیوں میں روزانہ 400,000 بیرل اضافی ڈالے گئے۔ جولائی اور اگست میں، اس میں 600,000 کا اضافہ ہوا۔ ستمبر میں اس میں مزید 100,000 کا اضافہ ہو گا۔

  • کورونا وائرس کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ

    کورونا وائرس کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ

    ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس  کے مثبت کیسز کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

    قومی ادارہ صحت  کے مطابق ملک میں  کورونا   وائرس ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ، ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے    2 افراد انتقال کر گئےتھے جبکہ  217 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 


    ملک میں گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا کے  11 ہزار285  ٹیسٹ کیے گئے ہیں، قومی ادارہ صحت  کے مطابق ملک میں کوروناکےمثبت کیسزکی شرح 1.92 فیصد رہی جبکہ کورونا کے116 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    پاکستان میں کورونا وبا کے کیسز میں ایک بار پھر اضافہ ہونے کے سبب ہوائی سفر، پبلک ٹرانسپورٹ میں  ماسک لگانے کی پابندی دوبارہ عائد کی گئی ہے ۔پاکستان میں گزشتہ چند ماہ میں کووڈ کیسز کی شرح انتہائی کم رہی، جس کی وجہ سے کورونا وبا کے دوران لگائی گئی تمام پابندیاں بھی ہٹا دی گئی تھیں۔

    ملک  میں ایک بار پھر کورونا کیسز کی شرح میں اضافے کے بعد قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ) نے شہریوں کو ماسک کا استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ قومی ادارہ صحت  کے مطابق ملک میں ویکسینیشن کے اہل عوام  کو کووڈ 19 کے خلاف مکمل ویکسین بھی لگا دی گئی ہے. اور مزید لوگوں کو بتایا جارہا ہے کہ آپ اس وائرس سے بچنے کیلئے صرف اور صرف احتیاطی تدابیر اپنا کر ہی محفوظ رہ سکتے ہیں.

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز کے مطابق: 2020ء میں اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کے بعد سے رواں سال مارچ میں کیسز کی تعداد کم  ترین سطح پر تھی لیکن اب ان کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اور یہ اضافہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے لیکن ہم پھر بھی اسے کنٹرول کرنے اور اس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہ کررہے ہیں.
     واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سامنے آیا تھا.

    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرپنجاب نے کوروناوائرس کے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے اعدادوشمارجاری کردیئے ہیں تمام شہری خاص طور پر کورونا کی مکمل احتیاط کو یقینی بنائیں۔ ہم صرف ویکسی نیشن اوراحتیاط کے ذریعے ہی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں

    سیکرٹری صحت کے مطابق: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر سے کورونا کیسز 101 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ صوبہ بھر میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد 519,958 ہو چکی ہے۔ اب تک صوبہ بھر میں 503,023 مریض علاج کے بعد مکمل صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ: گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں کورونا کے باعث فیصل آباد سے 2 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ صوبہ بھر میں کورونا کے باعث اموات کی کل تعداد 13,600 ہو چکی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 5123 تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ صوبہ بھر میں کورونا کےاب تک مجموعی طور پر 11,837,529 تشخیصی ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سے کورونا وائرس سے 82 جبکہ راولپنڈی سے 6 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    سیکرٹری صحت نے بتایا: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فیصل آباد سے 4، سیالکوٹ، منڈی بہاوالدین اور قصور سے 2دو کیسز رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بہاولپور، چینیوٹ اور لودھراں سے 1ایک کیس رپورٹ ہوا۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر کے تمام شہروں میں کورونا کے مثبت کیسز کی مجموعی شرح 2.0 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ: گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران لاہور میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 5.6 فیصد، فیصل آباد سے 0.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران قصور میں مثبت کیسز کی شرح 2.7 فیصد اور راولپنڈی سے 1.1 ریکارڈ کی گئی۔ شہری کورونا کے خلاف خصوصی حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔

    سیکرٹری صحت نے کہا سماجی فاصلے اور ماسک کے استعمال کوہرصورت یقینی بنائیں، 12 سال سے زائد عمر کے تمام شہری کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لازمی اور فوری لگوائیں، عوام کسی بھی قسم کی رہنمائی یا شکایات کے لئے1033 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

  • پاک فوج کے دستے تمام سیلاب زدہ صوبوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف عمل

    پاک فوج کے دستے تمام سیلاب زدہ صوبوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف عمل

    افواج پاکستان کے دستے ملک بھر کے صوبوں سندھ، بلوچستان، کے پی اور پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں مصروف عمل ہیں۔

    صوبہ سندھ
    پریس ریلیز کے مطابق: حیدرآباد، سانگھڑ، بدین، ٹھٹھہ، جامشورو، نوشہرو فیروز اور سندھ کے مختلف اضلاع میں ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کراچی سے فوج کے 2 خصوصی ہیلی کاپٹر اندرون سندھ کے متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے اور امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے روانہ کیے گئے ہیں۔
    جبکہ متاثرہ علاقوں میں راشن تقسیم کیا جا رہا ہے اور متاثرہ افراد کو طبی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

    صوبہ پنجاب
    پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے ڈیرہ غازی خان ضلع کے دور دراز اور ناقابل رسائی علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی سامان کی تقسیم میں سول انتظامیہ کی مدد کی ہے۔ جبکہ پاک آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں نے ڈی جی خان کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے چار پروازیں کی ہیں جن میں مبارکی، فضلہ کیچ، بستی بزدار شامل ہیں۔ علاوہ ازیں خیمے اور راشن سیلاب متاثرین تک پہنچا دیا گیا۔

    صوبہ بلوچستان
    فوج اور ایف سی بلوچستان، مختلف شہروں کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ژوب، لورالائی اور نوشکی میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔ نصیر آباد، دکی اور لسبیلہ کے علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کے میڈیکل کیمپ بھی قائم ہیں۔

    صوبہ خیبر پختونخواہ
    ایف سی کے پی کے دستے چترال اور دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں اور باقی مختف علاقوں میں بھی پاکستان آرمی سیلازدہ دیہاتوں تک پہنچ کر متاثرین کی امداد کررہی ہے.

    خیال رہے کہ دوسری طرف بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کا ریسکیو و ریلیف آپریشن بھی جارہی ہے اور قدرتی آفات کے دوران قوم کی خدمت کرنے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پاک فضائیہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے۔ آپریشن کے دوران سیلاب متاثرین کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے راشن، خیمے، ادویات، پینے کا صاف پانی اور کمبل سمیت امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ قلعہ سیف اللہ میں پی اے ایف میڈیکل کیمپ میں، جس کی قیادت پی اے ایف ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کررہے ہیں، سیلاب متاثرین کو چوبیس گھنٹے طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

     پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا واریئرز کوبھارت اور دیگر ممالک سے سپورٹ مل رہی تھی،

  • عمران خان کو جوڈیشل سسٹم کیخلاف بات کرنے پر6 ماہ کی قید ہوسکتی ہے۔ جسٹس (ر) شائق عثمانی

    عمران خان کو جوڈیشل سسٹم کیخلاف بات کرنے پر6 ماہ کی قید ہوسکتی ہے۔ جسٹس (ر) شائق عثمانی

    سپریم کورٹ کے سابق جج نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے دیا پے۔ جسٹس (ر) شائق عثمانی کہتے ہیں کہ عمران خان نے جوڈیشل سسٹم کیخلاف بات کی، معافی کے امکانات نہیں، انہیں 6 ماہ کی قید ہوسکتی ہے۔

    سابق جج جسٹس (ر) شائق عثمانی نے سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جج کے فیصلے پر تنقید کی جاسکتی ہے لیکن اسے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

    انہوں نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی معافی کے امکانات نہیں، عمران خان نے جوڈیشل سسٹم کیخلاف بات کی ہے، ٹرائل ہوگا جس میں پراسیکیوٹر ثبوت پیش کرے گا۔
    ان کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان پر توہین عدالت ثابت ہوئی تو 6 ماہ کی قید ہوسکتی ہے.

    خیال رہے کہ: سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اتوار (21 اپریل) کو پولیس اور عدلیہ کے خلاف تقریر کرنے پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس مقدمے کی بنیاد ایک روز قبل ان کی اسلام آباد میں کی گئی وہ تقریر تھی، جو انہوں نے بغاوت کے مقدمے میں گرفتار اپنے چیف آف سٹاف شہباز گل کی گرفتاری اور مبینہ تشدد کے خلاف اسلام آباد میں نکالی گئی ایک ریلی کے دوران کی تھی۔

    اپنی اس تقریر میں انہوں نے اسلام آباد پولیس اور جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری کے خلاف بیانات دیے تھے۔اس مقدمے میں عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے 25 اگست تک راہداری ضمانت لے رکھی ہے۔
    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف مقدمے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی خاتون جج کے خلاف بیان پر نوٹس لیتے ہوئے سابق وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تین رکنی لارجر بینچ آج اس پر سماعت کرے گا۔