Baaghi TV

Author: +9251

  • جمیل احمد بطور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان تعینات

    جمیل احمد بطور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان تعینات

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جمیل احمد کی بطور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان تعیناتی کی منظوری دے دی ہے.

    صدر مملکت نے یہ منظوری آئین کے آرٹیکل 48 ایک، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ کے سیکشن 11، اے، ایک کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر دی۔ جمیل احمد اس سے قبل ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کے فرائض انجام دے چکے ہیں جب کہ وہ سعودی سینٹرل بینک میں بھی اہم عہدے پر رہ چکے ہیں۔

    جمیل احمد 1991 سے اسٹیٹ بینک سے وابستہ ہیں اور وہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کےعہدے پر بھی رہ چکے ہیں۔
    صدر پاکستان کے دفتر کے اعلامیہ کے مطابق: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جمیل احمد کی بطور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان تعیناتی کی منظوری دے دی ہے.


    انہوں نے مزید اعلامیہ میں لکھا: صدر مملکت نے یہ منظوری آئین کے آرٹیکل 48، ایک، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ کے سیکشن 11،اے،ایک، کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر دی.

    واضح رہے کہ رضا باقر کی مئی 2022 میں مدت ملازمت ختم ہوگئی تھی جس کے بعد مرتضیٰ سید نے قائم مقام گورنر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں رکھی تھی. پاکستان کی حکومت نے گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کی تین سالہ مدت ملازمت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا.

    یاد رہے کہ وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک ٹویٹ میں بتایا تھا کہ اب نئے گورنر کی تعیناتی تک ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید ہوں گے جو ’ایک تجربہ کار ماہرِ اقتصادیات ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔‘
    مفتاح اسماعیل نے اپنی ٹویٹ میں ڈاکٹر رضا باقر کی تعریف کرتے ہوئے ان کی ’پاکستان کے لیے خدمات‘ پر شکریہ ادا کیا تھا اور انھیں ’انتہائی اہل‘ قرار دیا تھا.

    تاہم اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ڈاکٹر رضا باقر پر ماضی میں خاصی تنقید کی جاتی رہی اور انھیں ’آئی ایم ایف کا فرنٹ مین‘ قرار دیا جاتا رہا۔

  • وزیر اعظم نے پولیو مہم کا افتتاح کردیا

    وزیر اعظم نے پولیو مہم کا افتتاح کردیا

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے انسداد پولیو مہم کا آغاز کردیا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئندہ نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا۔

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں جمعہ 19 اگست کو انسداد پولیو مہم کا افتتاح کیا۔ ایوان وزیراعظم میں منعقدہ تقریب میں وزیراعظم نے بچوں کو قطرے پلائے۔
    افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر پولیو کا خاتمہ کر رہی ہیں، ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں۔

    وزیر اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے تمام وسائل استعمال میں لا رہے ہیں، پولیو جان لیوا مرض ہے بدقسمتی سے پاکستان کے بعض حصوں میں دوبارہ پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
    انہوں نے بچوں کے والدین سے اپیل کی کہ ورکرز جب آپ کے گھر آئیں تو بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں ، صرف دو بوندیں بچوں کو پولیو سے بچا سکتی ہیں۔

    وفاقی وزیر صحت قادر پٹیل اور وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ بھی تقریب میں موجود تھے۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر صحت اور وزیراعلیٰ سندھ کا تقریب میں شرکت پر خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، جب کہ سیکیورٹی اہل کاروں اور پولیو ورکرز کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

    واضح رہے کہ پولیو کے مہلک ہونے اور اس کے خطرات کے حوالے سے حکومت ایک طویل عرصے سے آگاہی مہم چلا رہی ہے۔ ساتھ ہی پولیو ویکسین کے مؤثر، محفوظ اور ’حلال‘ ہونے کے حوالے سے بھی حکومت لوگوں کو بار بار آگاہ کرتی رہتی ہے.


    پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی جدوجہد

    1994 سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے مصروفِ عمل ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 339,521 پولیو ورکرز پولیو کے خاتمے کے ان اقدامات میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کو دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظام کی خدمات حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کو معلومات کے حصول اور تجزیے کا معیاری نیٹ ورک، جدید ترین لیبارٹریز، وبائی امراض کے بہترین ماہرین اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پبلک ہیلتھ کے نمایاں ماہرین کی خدمات بھی حاصل ہیں۔

  • ایف آئی اے نے عمران خان کا موقف مسترد کردیا

    ایف آئی اے نے عمران خان کا موقف مسترد کردیا

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے چیئرمین پی ٹی آئی کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے دوبارہ نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے 1996 سے لیکر اب تک کا ریکارڈ مانگنے کے لئے نوٹس جاری کیا تھا، تاہم عمران خان نے دو روز قبل ایف آئی اے کے نوٹس کا جواب دینے سے انکار کردیا تھا، اور کہا تھا کہ میں آپ کو جوابدہ نہیں ہوں، اور نہ ہی معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوں۔

    دوسری جانب ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے نے عمران خان کا مؤقف مسترد کردیا ہے، اور عمران خان کو سوالات کے جواب کے لئے دوبارہ نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ عمران خان کو 3 بار نوٹس بھیجیں جائیں گے، اور 3 نوٹسز کرنے کے بعد ان کے وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔

    ايف آئی اے ذرائع نے بتایا ہے کہ تحریک انصاف کی مزید 5 کمپنیوں کا سراغ لگا لیا گيا ہے، اور ان کمپنيوں کا تحريک انصاف کے گوشواروں میں ذکر نہیں ہے۔
    ذرائع ايف آئی اے کے مطابق یہ کمپنیاں امریکا، برطانيہ، آسٹریلیا، بیلجیئم اور کینیڈا میں ہیں، ان میں سے کچھ کمپنياں بند ہو چکی ہیں، اور کچھ اب بھی فعال ہیں،

    ذرائع ايف آئی اے کا کہنا ہے کہ بند ہونے والی کمپنیوں کی آڈٹ رپورٹس طلب کر لی گئی ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے 1996 سے لیکر اب تک کا ریکارڈ مانگنے کے لئے نوٹس جاری کیا تھا، تاہم عمران خان ایف آئی اے کے نوٹس کا جواب دینے سے انکار کردیا تھا۔
    رپورٹ کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے انور منصور خان نے ایف آئی اے کو جواب بھجوا دیا ہے، جس میں انہوں نے ایف آئی اے کے نوٹس کا جواب دینے سے انکار کیا۔

    عمران خان نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ میں آپ کو جوابدہ ہوں نہ ہی معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوں، بلکہ دو دن میں نوٹس واپس نہ لیا تو آپ کے خلاف قانونی کارروائی کروں گا۔
    عمران خان نے نوٹس بھجوانے کو ایف آئی اے کی بدنیتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے تفصیلات اور دستاویزات طلب کرنا ایف آئی اے کے زیراثر ہونے کا مظہر ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن نے فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں دیا بلکہ اس حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے، الیکشن کمیشن کسی ادارے کو اس رپورٹ کی بنیاد پر حکم جاری نہیں کرسکتا۔
    عمران خان نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کے پاس پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت کارروائی کا اختیار نہیں، جاری کیا گیا نوٹس ایف آئی اے ایکٹ سے بھی متصادم ہے، سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں الیکشن کمیشن کو انتظامی ادارہ قرار دے چکی ہے۔

    عمران خان کی جانب سے تحریری جواب ایف آئی اے کمرشل بینک سرکل، اسلام آباد کی ڈپٹی ڈائریکٹر آمنہ بیگ کو بھجوایا گیا ہے۔

    عمران خان سے 1996 سے لیکر اب تک کا پارٹی ریکارڈ طلب

    ایف آئی اے کمرشل بینک سرکل نے عمران خان سے بینک اکاﺅنٹس سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں، اورعمران خان کو لکھے گئے خط میں تمام نیشنل اور انٹرنیشنل رجسٹرڈ تنظیموں کا 1996سے ریکارڈ مہیا کرنے کا کہا گیا ہے۔
    ایف آئی اے کے خط کے متن کے مطابق پارٹی کو ملنے والے فنڈز اور اکاؤنٹس کاریکارڈ فراہم کیا جائے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

    تحقیقاتی ادارے نے پارٹی کے قیام سے اب تک پارٹی فنڈ کی مد میں جمع ہونے والی ممبر شپ فیس کا ریکارڈ بھی مانگا ہے۔

    ادارے کی جانب سے پی ٹی آئی سے تمام ملکی اور غیر ملکی ڈونرز کے نام بھی طلب کیے گئے ہیں، جب کہ پارٹی اور متعلقہ کمپنیوں اور ٹرسٹیز کے اثاثوں اور واجبات کے سال وار سالانہ گوشوارے پارٹی کے قیام سے لیکر اب تک ہر سال کی الگ الگ پارٹی اور متعلقہ کمپنیوں اور ٹرسٹیز کے اثاثوں اور واجبات کے گوشواروں کی تفصیلات بھی ادارے کو فراہم کی جائیں۔

    پارٹی کے فاننشل معاملات کو آڈٹ کرنے والے آڈیٹرز اور آڈٹ فرمز کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
    پی ٹی آئی کو ملنے والی کیش ڈونیشن کے وہ کس کس ذرائع سے حاصل ہوئی اور کہاں کہاں خرچ ہوئی، اس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
    پارٹی کے آفس بیریر کے نام، ان کے عہدے اور قومی شناختی کارڈ نمبر بھی مہیا کیا جائے۔

  • پی ٹی آئی کو کہا تھا اسمبلی جاکر کردار ادا کریں، لیکن انہوں نے بائیکاٹ کر رکھا ہے. چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو کہا تھا اسمبلی جاکر کردار ادا کریں، لیکن انہوں نے بائیکاٹ کر رکھا ہے. چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو کہا تھا اسمبلی جا کر کردار ادا کریں، لیکن انہوں نے بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے تحریری دلائل جمع کرانے کیلئے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ کورونا ہوگیا تھا اس وجہ سے تحریری دلائل جمع نہیں کروا سکا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی، صرف بنیادی حقوق کیخلاف ترامیم ہونے کے نکتے کا جائزہ لینگے، ترامیم احتساب کے عمل سے مذاق ہوئیں تو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، اکثر ترامیم میں ملزمان کو رعایتیں بھی گئی ہیں، پلی بارگین کرنے والے کے شواہد کو ہی ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے، فوجداری نظام میں گرفتاری کی ممانعت نہیں ہے، گرفتاری جرم کی نوعیت کے حساب سے ہوتی ہے۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ملزمان بری ہوجاتے ہیں لیکن پھر بھی ان کے داغ نہیں دھلتے، اعلی عدلیہ نیب عدالت کی سزائیں برقرار نہیں رکھتی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ملک غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے، سابقہ حکومتی جماعت کے 150 ارکان اسمبلی کا بائیکاٹ کرکے بیٹھے ہیں، پی ٹی آئی کو کہا تھا اسمبلی جا کر اپنا کردار ادا کریں، آدھے ارکان نے اسمبلی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے، اسمبلی میں موجود ارکان اپنے ذاتی فائدے کیلئے قانون سازی کر رہے ہیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی، تحقیقات میں مداخلت پر ازخودنوٹس لیا تھا، ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ لیکر صرف دیکھ رہے ہیں کہ کیسز چلتے ہیں یا نہیں، آئین کے تحت چلنے والے تمام اداروں کو مکمل سپورٹ کرینگے، عدالت غیر معمولی حالات میں کیس سن کر مزے نہیں لے رہی۔

    وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ ہمیشہ منتخب حکومت کیساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ان سے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ کی مثال اس حوالے سے درست نہیں لگتی۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ اعلی عدلیہ اپنے فیصلوں میں نیب قانون پر تنقید کرتی رہی ہے، 90 دن کا ریمانڈ کہیں نہیں ہوتا، فوجداری کیسز میں 14 دن سے زیادہ کا ریمانڈ نہیں ہوتا، کرپشن پر سزا کی شرح جاپان میں ۹۹ فیصد ہے۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کر دی۔

  • شہباز گل کو آسکر ایوارڈ دینا چاہئے. طلال چودھری

    شہباز گل کو آسکر ایوارڈ دینا چاہئے. طلال چودھری

    پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے شہباز گل کو آسکر ایوارڈ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز گل کو گندی ایکٹنگ کا آسکر ایوارڈ ملنا چاہیے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما نے کہا ہے کہ دوسروں کی بیماری پر تماشے لگانے والا آج خود تماشے کر رہا ہے، شہباز گل میڈیکل رپورٹس کا مذاق اڑا رہا ہے۔
    طلال چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اصلی میڈیکل رپورٹ آگئی ہے، ایکٹنگ نہ کریں جیل جائیں، اصل ڈاکٹرز کی رپورٹ بتا رہی ہے کہ وہ گندی گفتگو کا ڈاکٹر ڈرامے کر رہا ہے۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق شہباز گل بالکل ٹھیک ہیں۔

    واضح رہے کہ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو وہیل چیئر پر عدالت پیش کیا گیا

    شہباز گل کو دو روز قبل عدالت نے جسمانی ریمانڈ دیا تو شہباز گل کی اچانک سے طبیعت خراب ہو گئی اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، شہباز گل دو روز ہسپتال میں رہے، گزشتہ شب میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو فٹ قرار دیا، آج انہیں صبح وہیل چیئر پر عدالت پیش کیا گیا اس موقع پر تحریک انصاف کے کارکنان بھی موجود تھے

    شہباز گل کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،شہباز گل کی ایک ویڈیو عدالت پیشی کے موقع پر کی سامنے آئی ہے جس میں وہ رو پڑے ہیں اور بار بار ماسک مانگ رہے ہیں.

    یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس نے نو اگست بروز منگل سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گِل کو مبینہ بغاوت پر اُکسانے کے کیس میں گرفتار کر لیا تھا.
    شہباز گِل نے بروز 8 اگست پیر کی شام نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی‘ کے ایک پروگرام میں متنازع گفتگو کی تھی جس کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ دوسری جانب یہ پروگرام نشر ہونے کے بعد پیمرا نے چینل کی نشریات معطل کر دی تھی اور ٹی وی انتظامیہ کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

    سرکار کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اپنے بیان کے ذریعے شہباز گل نے ملک میں انتشار پھیلانے، فوج کو تقسیم کرنے، فوجی جوانوں کو اپنے افسران کا حکم نہ ماننے کی ترغیب دینے، فوج کے خلاف عوام کو نفرت پر اکسانے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

  • کاجول کبھی خوشی کبھی غم سپر ہٹ ہونے پر خوش کیوں نہ تھیں؟

    کاجول کبھی خوشی کبھی غم سپر ہٹ ہونے پر خوش کیوں نہ تھیں؟

    کاجول نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ اجے کو وہ کس طرح سے ملیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری پہلی ملاقات فلم ہلچل کے سیٹ پر ہوئی اس وقت ہم دونوں کسی اور کو ڈیٹ کررہے تھے جلد ہی ہم دونوں کا ان سے سلسلہ ختم ہو گیا ۔ اسی فلم کے سیٹ پر ہماری دوستی ہو گئی ایک دوسرے سے باتیں کرتے ساتھ آتے جاتے لانگ ڈرائیو پر جاتے۔ چار سال تک ہم ایک دوسرے کو ڈیٹ کرتے رہے پھر ہم نے شادی کا فیصلہ کیا۔ میرے والد چاہتے تھے میں اپنے کیرئیر پر توجہ دوں لیکن میں طے کر چکی تھی شادی کرنی ہے سو ہماری فیملیاں آپس میں ملیں اور ہماری شادی ہوگئی۔

    شادی کے بعد ہم فیملی کو بڑھانا چاہتے تھے۔ سال 2001 میں میری فلم کبھی خوشی کبھی غم ریلیز ہوئی وہ فلم سپر ہٹ ہوئی مجھے اس کی خبر دی گئی لیکن میں خوش نہ ہو سکی کیونکہ میرا س وقت مس کیرج ہوا تھا اس فلم کے بعد بھی میرے ساتھ ایسا ہوا میں بہت پریشان اور مایوس ہو گئی۔یاد رہے کہ کاجول کی سکرین پر جوڑی شاہ رخ خان کے ساتھ پسند کی جاتی تھی ان دونوں نے جب جب ایک ساتھ کام کیا فلم سپر ہٹ ہوئی.کاجول نے اپنے شوہر اجے کے ساتھ بھی سکرین شئیر کی شائقین ان کو بھی ایک ساتھ کافی پسند کرتے تھے ان دونوں نے ایک ساتھ جن فلموں میں کام کیا ان میں عشق، پیار تو ہونا ہی تھا، اور تم میں اور ہم قابل زکر ہیں.

  • مدینہ کی ریاست کے دعویدار عمران خان شاتم رسول کی حمایت میں بول پڑے

    مدینہ کی ریاست کے دعویدار عمران خان شاتم رسول کی حمایت میں بول پڑے

    عمران خان نے برطانوی جریدے گارڈین کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے سلمان رشدی پر حملہ افسوسناک قرار دے دیا، شاتم رسول سلمان رشدی نیویارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو کے حملے میں بری طرح زخمی ہوا ، گارڈین نے عمران خان سے سوال کیا کہ سلمان رشدی پر نیویارک میں حملہ ہوا، اس کو کیسے دیکھتے ہیں؟ جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ "میرے خیال میں یہ خوفناک اور افسوسناک ہے،””رشدی (مسلمانوں کی نبی کریم سے محبت) سمجھ گئے، رشدی ایک مسلمان گھرانے سے آئے تھے، عرشدی ہمارے دلوں میں بسنے والے نبی کی محبت، احترام، تعظیم کو جانتا ہے، "یہ غصہ میں عمل تو سمجھ گیا لیکن جو ہوا اس کا جواز آپ نہیں بتا سکتے،”

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "خوفناک” اور "افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں سلمان رشدی کی کتاب The Satanic Verses پر عالم اسلام کا غصہ قابل فہم تھا، بالکل ویسا ہی اس طرح کے حملے کا جواز بھی نہیں بن سکتا ہے کہ ان پر حملہ کیا جائے.

    معروف اخبار دی گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان یہ بھی کہا کہ: طالبان کی پابندیوں کے باوجود افغان خواتین سے "اپنے حقوق کا دعویٰ” کرنے کی توقع رکھتے ہیں جس میں انہوں نے ایک فائر برانڈ کے طور پر اپنی ساکھ کو معتدل کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ساتھیوں اور پیروکاروں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے جبکہ ایک آٹھ سال پرانے غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے ان پر سیاست میں پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

    عمران خان نے رشدی کے حوالے سے دی گارڈین کو مزید کہا کہ: "رشدی سمجھ گئے، کیونکہ وہ ایک مسلمان گھرانے سے آئے تھے۔ وہ ہمارے دلوں میں بسنے والے نبی کی محبت، احترام، تعظیم کو جانتا ہے۔ وہ یہ جانتا تھا،” خان نے کہا۔ "تو غصہ تو میں سمجھ گیا لیکن جو ہوا اس کا جواز آپ نہیں بتا سکتے۔”

    یاد رہے کہ ماضی میں تقریبا 2012 میں تحریک انصاف نے کہا تھا کہ وہ سلمان رشدی کے ساتھ کبھی بھی، کہیں بھی نہیں بیٹھیں گے، چاہے پاکستان کے لوگ انہیں ووٹ دیں یا نہ دیں۔ یہ بات اس وقت کی تحریک انصاف پاکستان کی بانی رکن اور شعبہ خواتین کی صدر فوزیہ قصوری نے نیویارک میں اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران کی تھی.

  • علی اصغر جھلک دکھلا جا کے سیزن 10میں نظر آئیں گے

    علی اصغر جھلک دکھلا جا کے سیزن 10میں نظر آئیں گے

    بھارتی معروف کامیڈین جو اکثر خواتین کا کردار کرتے ہی دکھائی دیتے ہیں وہ اب ہمیں سٹیج پر ناچتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ علی اصغر جھلک دکھلا جا کے سیزن دس میں نظر آئیں گے اور اس حوالے سے اداکار نے تصدیق بھی کر دی ہے انہوں نے کہا کہ ہاں جی میں اس سیزن میں نظر آﺅں گا لیکن میں کافی نروس ہوں۔ میں جھلک دکھلا جا جیسے نامور شو کا حصہ بننے کے لیے پرجوش ہوں۔ اپنے کیریئر کے دوران میں نے تقریباً ہر کام کرنے کی کوشش کی ہے ، اب ہندوستان کے سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے سلیبریٹی ڈانس شو کا حصہ بننے سے مجھے بطور فنکار اپنی صلاحیتیں مزید آزمانے میں مدد ملے گی۔علی

    اصغر نے مزید کہا کہ میں مادھوری ڈکشٹ کے سامنے پرفارم کرنے کےلئے جتنا پرجوش ہوں اتنا ہی نروس بھی ہوں۔ میں سامعین کو محظوظ کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کروں گا۔یاد رہے کہ جھلک دکھلا جا سیزن دس کو بطور جج مادھوری ڈکشٹ نینے، کرن جوہر، نورا فتیحی و دیگر کریں گے۔جھلک دکھلا جا 10 کا پریمیئر 3 ستمبر کو کلرز پر رات 8 بجے ہوگا۔علی اصغر نے 2017 میں کپل شرما شو سے علیحدگی اختیار کی اس کے بعد وہ کہیں نظر نہیں آئے اس شو میں ان کا دادی کا کردار بہت مشہور ہوا تھا، تاہم اب ان کے مداح ان کو جھلک دکھلا جا کے پلیٹ فارم پر دیکھنے کےلئے بے تاب ہیں.

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں انجمن کو کردار آفرہوا لیکن انہوں نے کیوں نہ کیا؟

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں انجمن کو کردار آفرہوا لیکن انہوں نے کیوں نہ کیا؟

    اداکارہ انجمن نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کو بلال لاشاری کی فلم ”دا لیجنڈ آف مولا جٹ“ آفر ہوئی تھی لیکن وہ نہ کر سکیں۔ انہوں نے تفصیلات شئیر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس فلم کے لئے اپروچ کیا گیا تھا لیکن اس وقت میں ملک سے باہر جا رہی تھی میرا انگلینڈ جانا ضروری تھا لہذا میں اس آفر کو قبول نہ کر سکی۔ کردار کیسا تھا اس ھوالے سے انہوں نے کہا کہ میرا کردار مجھے بتایا گیا تھا کہ کافی پاور فل ہے ،میرا کردارمولا جٹ ، نوری نت کے ساتھ تھا ۔جس وقت ان لوگوں کو شوٹنگ کے لئے میں چاہیے تھی میں دسیتاب نہیں تھی یوں اس فلم میں کام نہ کرسکی۔لیکن مجھے امید ہے کہ یہ فلم بہت

    اچھی ہوگی میں نے اس فلم کا ٹریلر دیکھا ہے بہت اچھا ہے سب ہی فنکار اچھا کام کرتے نظر آرہے ہیں چاہے وہ ماہرہ خان ہو ، فوا د خان یا حمزہ علی عباسی ۔جس طرح سے پنجابی فلم ہونی چاہیے یہ اسی طرح سے ہی لگ رہی ہے اور میں تو اس کا ٹریلر دیکھ کر کافی پرجوش ہوں امید ہے کہ بہت اچھا بزنس کرے گی ۔ انجمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں ہر فلم کی کامیابی کے لئے دعا کرتی ہوں ، خوشی ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں بہترین کام کررہے ہیں۔یاد رہے کہ فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ رواں برس 13 اکتوبر کو ریلیز ہو رہی ہے.

  • خودکشی کر کے موت کو گلے لگانے والی جیا خان کی والدہ کا نیا انکشاف

    خودکشی کر کے موت کو گلے لگانے والی جیا خان کی والدہ کا نیا انکشاف

    بالی وڈ اداکارہ جیا خان جنہوں نے سال 2013 میں خود کشی کرکے موت کو گلے لگا لیا تھا ان کی والدہ رابعہ خان نے انکشاف کیا ہے آدیتیہ پنچولی کے بیٹے سورج پنچولی نے ممبئی کی عدالت میں آنجہانی اداکارہ کو زبانی اور جسمانی طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔سورج پنچولی ایک بار پھر سے سرخیوں میں آگئے ہیں کیونکہ جیا خان کی والدہ نے عدالت کو بتایا ہے کہ ان کی بیٹی جسمانی اور ذہنی استحصال کی وجہ سے اداکار سورج پنچولی کے ساتھ اپنا رشتہ ختم کرنا چاہتی تھی۔ عدالت کی سماعت کے دوران رابعہ نے سورج کا ذکر کیا اور اس پر خودکشی کے لیے اکسانے کا الزام لگایا۔ جیا کی والدہ کے مطابق اداکارہ نے انہیں 2012 میں سورج کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بتایا تھا۔انڈیا ٹوڈے کی رپورٹس کے مطابق رابعہ خان نے ان تمام چیزوں

    کے بارے میں مزید تفصیل سے بتایا جو جیا خان انہیں سورج پنچولی کے بارے میں بتاتی تھیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں اکتوبر 2012 میں پتہ چلا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے گھر میں رہ رہے ہیں۔جیا بہت خوش تھی لیکن بعد میں سورج نے اس پر تشدد کرنا شروع کر دیا گالیاں دینی شروع کر دیں میری بیٹی نے اس ھوالے سے مجھے دسمبر 2012 میں بتایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیا نے سورج کو معاف کر دیا تھا لیکن وہ میری بیٹی کو مسلسل ٹارچر کرتا رہا اسکو دھوکہ دیتا رہا۔ میری بیٹی نے بتایا سورج اسے گندے ناموں سے بلاتا تھا اور ایک بار تو کار سے ہی باہر نکال کر پھینک دیا تھا۔عدالت نے رابعہ خان سے مزید بیان لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے سورج پنچولی کے وکیل کو ہدایات دیں۔