Baaghi TV

Author: +9251

  • نوازشریف وطن واپس آکر شہباز شریف کو ہٹائیں. شیریں مزاری نے مطالبہ کردیا

    نوازشریف وطن واپس آکر شہباز شریف کو ہٹائیں. شیریں مزاری نے مطالبہ کردیا

    پاکستان تحریک انصافکی رہنماء اور وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سابق وزیر اعظم نوازشریف سے وطن واپسی اور اپنے بھائی کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ الیکشن کمیشن نےہمیں نوٹس نہیں دیا ہے، ہمارے بندے گئے تو کہا کہ نوٹس ویب سائٹ پر تھا جب کہ نوٹس وہاں بھی موجود نہیں تھا، اسکروٹنی کمیٹی پی ٹی آئی کے لیے 12 مارچ 2018 میں بنی تھی، الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ لوگ حقائق بھول جائیں گے۔ لیکن ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا.

    سابق انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ تمام سیاسی جماعتوں کے فنڈز دیکھے جائیں، لیکن ایسا نہیں کیا گیا لہذا اب اس سے واضح ہوتا جارہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک جانبدار ادارہ ہے، اور چیف الیکشن کمشنر سیکندر سلطان قانون کے دائرے سے باہر فیصلے کررہے ہیں، انہوں الزام عائد کیا کہ چیف الیکشن کمشنرسیاسی ایجنڈے پرکام کررہے ہیں۔

    تحریک انصاف کی رہنماء ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے ( فیڈرل انویسٹیگیٹیو اتھارٹی) ہماری ہی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کا تمام ریکارڈ کس حیثیت سے مانگ رہا ہے؟ ایف آئی اے کسی ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات نہیں کرسکتا ہے کہ کیونکہ یہ ایف آئی اے کے دائرہ اختیارات میں نہیں آتا ہے اور یہ سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    شہباز گل سے متعلق سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ شہبازگل نے ریمارکس لینڈ لائن پر دیے تو پھرفون کیوں چاہیے؟ اگر شہبازگل نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو ان پر کیس کریں، ایک شخص کو گرفتار کرکے آپ تشدد نہیں کرسکتے ہیں.

    شیریں مزاری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف وطن آئیں اور اپنے بھائی کو جلد از جلد ہٹائیں کیونکہ ان سے ملک نہیں چلا جارہا ہے.

  • ہماری مولا جٹ غریبانہ تھی دا لیجنڈ آف مولا جٹ بنی ہی امیرانہ ہے مصطفی قریشی

    ہماری مولا جٹ غریبانہ تھی دا لیجنڈ آف مولا جٹ بنی ہی امیرانہ ہے مصطفی قریشی

    80 کی دہائی میں بننے والی فلم مولا جٹ میں مصطفی قریشی نے نوری نت کا کردار ادا کیا تھا جبکہ سلطان راہی نے مولا کا کردار ادا کیا تھا اس فلم نے شائقین کے دل جیت لئے تھے خوبصورت مکالمے اور بہترین اداکاری کی وجہ سے یہ فلم آج تک لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہے. اس فلم میں نوری نت کا کردار کرنے والے مصطفی قریشی نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہاہے کہ میں نے فلم کا ٹریلر دیکھا ہے یہ فلم کافی امیرانہ بنی ہے بہت پیسہ لگا ہے دوسری طرف ہماری فلم کی طرف دیکھیں تو وہ غریبانہ بنی تھی لیکن لوگوں نے اسکو امیرانہ کر دیا تھا. میری دعا ہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ جتنی امیرانہ بنی ہے اس سے بھی زیادہ امیر ہوجائے اور لوگ اس کو بہت زیادہ پسند کریں. مصطفی

    قریشی نے مزید کہا کہ نوری نت اور مولا کا کردار کرنے والے فواد خان اور حمزہ علی عباسی اپنی ٹائپ کے بہترین اداکار ہیں مجھے یقین ہے کہ انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہوگا.اس فلم کو بنانے والے اور جنہوں نے اس میں‌کام کیا ہے وہ سب میرے دوسرے ہیں ساتھی ہیں میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں. دا لیجنڈ آف مولا جٹ ہے تو پاکستانی فلم ہی اور پاکستانی فنکاروں نے ہی اس میں کام کیا ہے لہذا ہم سب کو اس فلم کو سپورٹ کرنا چاہیے. ایک سوال کے جواب میں مصطفی قریشی نے یہ بھی کہا ہے کہ میں نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا جو ٹریلر دیکھا ہے اس کو دیکھ کر ہالی وڈ کی رومن ایمپائر کی فلموں کی یاد آجاتی ہے .

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے ہر طرف چرچے

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے ہر طرف چرچے

    دا لیجنڈآف مولا جٹ کا ٹریلر نہ صرف پاکستانیوں بلکہ بھارتیوں کو بھی بھاہ گیا. بھارتی شوبز ستارے بھی ٹریلر کی تعریف کئے بنا نہیں رہے. فلم میکر انوراگ کشیپ نے ٹوئٹ میں فلم کے ٹریلر کا لنک شئیر کرتے ہوئے کیپشن لکھا کہ بالآخر وہ فلم جو مجھے کافی پسند ہے اور جسے آپ سب واقعی دیکھنا چاہیں گے، اس کا ٹریلر ریلیز کردیا گیا ہے۔بھارتی مشہور ناقد عمیر سندھو نے بھی ٹوئٹ میں لکھا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی پہلی 100 کروڑ کمانے والی فلم آرہی ہے۔ ایک اور مشہور بھارتی فلم ناقد توتیجا جگندر نے بھی دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے ٹریلر کی تعریف کی اور کہا کہ یہ اب تک کی سب سے

    کامیاب ترین فلم ہوسکتی ہے، فواد خان ،ماہرہ خان اور بلال لاشاری نے یقینا کچھ بہترین بنایا ہے۔ سدھارتھ ملہوترا نے بھی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں فلم کے ٹریلر کی بے انتہا تعریف کی. یاد رہے کہ مولا جٹ پاکستان کی ابھی تک کی سب سے بڑے بجٹ کی فلم ہے. عمارہ حکمت کی بطور پرڈیوسر یہ پہلی فلم ہے جبکہ بلال لاشاری ایک اسٹیبلش ڈائریکٹر ہیں.اس فلم کی ریلیز کورونا اور کاپی رائٹس کےایشو کی وجہ سے تاخیر کا شکار رہی ہے.فلم کے ٹریلر نے سوشل میڈیا پا دھوم مچا رکھی ہے. یہ فلم روایتی فلموں سے یقینا ہٹ کر ثابت ہو گی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ پرانی مولا جٹ کے سحر سے شائقین کو نکالنے میں کتنی کامیابی حاصل کرپاتی ہے.

  • پاکستانی سیاست دانوں اور فیصلہ سازوں کے نام کھلا خط

    پاکستانی سیاست دانوں اور فیصلہ سازوں کے نام کھلا خط

    پاکستانی سیاست دانوں اور فیصلہ سازوں کے نام کھلا خط

    توانائی اصلاحات کے حوالے ایک مشترکہ خط میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی اصلاحات ہی اقتصادی خودمختاری کا واحد اور پائیدار حل ہے۔

    چونکہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے جس میں مہنگائی عروج پر ہے جبکہ گھٹتے ہوئے ذخائر اور تیزی سے کمزور ہوتی کرنسی جیسے معاملات قابل افسوس ہیں۔

    پاکستان بیرونی مالیاتی توانائی کی لاگت کے بھاری بوجھ تلے دب رہا ہے۔ جو کہ مالی سال 2020 میں توانائی کی کل بنیادی فراہمی کا 43 فیصد تھی، اور 26 بلین ڈالر سے زیادہ، توانائی کی درآمدات (تیل، ایل این جی اور کوئلہ) پاکستان کی موجودہ ترقی میں واحد سب سے بڑا حصہ لیکن مالی سال 2022 میں 17.4 بلین ڈالر کا کھاتہ خسارہ ہونا افسوسناک ہے۔

    اس خظ میں کہا گیا ہے کہ: ایک ایسا ملک جس میں ایندھن کے بڑے بڑے ذخائر موجود ہیں،لیکن پالیسی سازوں کی کئی دہائیوں کی گمراہ کن پالیسیوں نے توانائی کی خرابیوں کو جنم دیا ہے۔

    مقامی توانائی کے وسائل غلط حکمرانی اور پالیسی کی ناکامیوں نے سرکلر کی شکل میں ایک عفریت پیدا کرگئے جبکہ قرضوں نے کھربوں کے بجٹ کے وسائل ہڑپ کر لیے ہیں اور پھر بھی سرکلر ڈیٹ کے بقایاجات ہیں۔

    خط میں تحریر کیا گیا کہ: قومی وقار اور سلامتی پر ہر اقتصادی بیل آؤٹ کے ساتھ سمجھوتہ کیا جاتا ہے جوکہ نہیں ہونا چاہئے.
    بین الاقوامی عطیہ دہندگان، اور کثیر جہتی قرض دہندگان، جیسا کہ قوم اپنی ڈائمنڈ جوبلی منا رہی ہے، یہاں پر ہمیں اس آزادی کے موقع پر ہمیں ایک لمحے کے لیے خود کا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ ہمارا ملک اقتصادی طور پر اتنا مضبوط کیوں نہیں ہے اور اب تک پیچھے کیوں ہے؟

    خط میں گزشتی 75 سالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ: اب تک ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا پنی غلط پالیسیوں کے سبب لہذا معیشت کو اقتصادی سلامتی اور خوشحالی کی طرف لے جانے کے لیے ہمیں اس کورس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی اور ناگزیر حالات کے پیش نظر توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے ہمارے رہنماؤں اور فیصلہ سازوں کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا.

    خط میں کہا گیا: قومی سلامتی کیلئے سیاست سے بالاتر ہو کر توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی کوشش میں غیر جانبدارانہ عزم اور حمایت کی اشد ضرورت ہے۔

    اس خط میں اصلاحات کے حوالے مکمل تفصیلات بتائی گئیں ہیں اور ایک خاکہ بھی پیش کیا گیا کہ کس طرح ہمیں اسے ٹھیک کرنا ہے. مزید کہا گیا کہ ہم توانائی کے شعبے کو ایک متحرک شعبہ میں تبدیل کرنے کے لیے اہم اصلاحات کے لیے اعلیٰ سطح کی دلچسپی چاہتے ہیں تاکہ ہماری قوم کے معاشی اور سماجی ترقی کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کیلئے ہماری یہ کوشش معاون ثابت ہوسکے.

    اس خط کو لکھنے والوں میں سیکورٹی ایکسپرٹ عامر خٹک سمیت متعدد نام شامل ہیں جن میں محمد شاہد، عبدالرحمن وڑائچ اور مقتدر قریشی سرفہرست ہیں.

    Open Letter on Energy Reforms

  • ڈالرکی قدر13ویں روزبھی زوال کا شکار

    ڈالرکی قدر13ویں روزبھی زوال کا شکار

    امریکی ڈالرکی قدر13ویں روزبھی زوال کا شکار ہے۔

    منگل کوانٹربینک میں ڈالر1روپے48 پیسے سستا ہوگیا۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر212 روپے 50 پیسے پر آگیا۔ پیر کوانٹربینک میں دن کے اختتام پرامریکی ڈالر 213 روپے 98 پیسے پربند ہوا جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 210 روپے کی سطح پرتھا۔

    فارن ایکس چینج آپریشنز کی نگرانی

    اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیز اور بینکوں کے فارن ایکس چینج آپریشنز کی نگرانی سخت کردی ہےاور مرکزی بینک نے ضوابط کی خلاف ورزی پر2 ایکسچینج کمپنیز کی4 برانچوں کے آپریشن معطل کردیئے گئے جبکہ ڈالرکی قیمت خریداور فروخت میں زیادہ فرق کا بھی نوٹس لیا گیا تھا۔

    فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے سماء ٹی وی سے گفتگو میں کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے امریکی حکام سے رابطے کے بعد امید ہے کہ آئی ایم ایف کی قسط جلد جاری ہوجائے گی ۔انہوں نے کہا تھا کہ ڈالر کی قدر مصنوعی انداز میں بڑھائی گئی تھی،ڈالر کی اصل ویلیو 180روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

    ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق اسٹیٹ بینک اور دیگر حکومتی اداروں کی عدم توجہی کے باعث انٹر بینک میں بڑے پیمانے پر سٹہ بازی کی وجہ سے ڈالر اس قدر بلندی پر پہنچ گیا تھا تاہم حکومتی ادارے اب متحرک ہوگئے ہیں جس کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی شروع ہوگئی۔

    واضح رہے کہ بلوم برگ کے اعداد و شمار کے مطابق یکم تا 15 اگست عالمی سطح پر پاکستانی روپے کی کارکردگی (قدر بڑھنے کے لحاظ سے) 11.12 فیصد رہی جو دنیا کے کسی بھی ملک کی کرنسی کی بہتر کارکردگی میں سب سے زیادہ ہے، دوسرے نمبر پر مڈغاسکر کی کرنسی ہے جس کی کارکردگی کی شرح 5.42 فیصد اور تیسرے نمبر پر اسرائیلی کرنسی ہے جس کی کارکردگی 3.79 فیصد ہے۔
    اعداد و شمار کے مطابق دوسرے اور تیسرے نمبر کے ممالک کی کرنسی کی کارکردگی کو جمع بھی کیا جائے تو پاکستانی کرنسی کی قدر بڑھنے کے لحاظ سے کارکردگی دونوں ممالک سے زیادہ ہے۔

  • ٹیکس چوری روکنے کیلیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نافذ

    ٹیکس چوری روکنے کیلیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نافذ

    ایف بی آر نے بڑی صنعتوں میں ٹیکس چوری کی روک تھام کیلیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نافذ کردیا ہے، اب ٹیکس اسٹامپس کے بغیر سگریٹ بیچنے والوں اور مینوفیکچررز کو قید اور جرمانہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے.

    یکم جولائی سے سگریٹ کی ہر ڈبی پر ٹیکس اسٹامپس کا چسپاں ہونا لازمی ہوگا، ایک مرتبہ پیکنگ کھلنے کے بعد ٹیکس اسٹامپ بھی پھٹ جائے گا جبکہ وہ ڈبی دوبارہ فروخت نہیں ہوسکے گی۔

    ذرائع کے مطابق سگریٹ کی غیرقانونی تجارت سے قومی خزانے کو سالانہ اسی (80) ارب روپے نقصان ہو رہا ہے، نئے نظام سے اس میں کمی ہو گی، علاوہ ازیں دکاندار یا تیار کنندگان جو ٹیکس اسٹامپس کے بغیر سگریٹ کی فروخت میں ملوث پائے گئے، انھیں بھاری جرمانہ اور 3 سال قید ہو گی جبکہ ٹیکس اسٹامپس کے بغیر برآمد ہونے والا تمام ذخیرہ بھی ضبط کر لیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق اب تک صرف تین بڑی کمپنیوں نے ٹریک اینڈ ٹریس نافذ کیا ہے جبکہ متعدد کمپنیوں نے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے دستاویزی معیشت کو فروغ دینے کیلئے تمام کمپنیوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لایا جائے۔

    یاد رہے ک سوشل میڈیا پر پی او ایس انٹیگریشن سے متعلق غلط معلومات پھیلائے جانے پر ایف بی آر نے وضاخت کی تھی کہ ایف بی آر سے منسلک شدہ بڑے ریٹیلرز کی طرف سے جاری کردہ رسید پر مجوزہ 1 روپیہ فی انوائس سروس چارج سے متعلق سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سروس چارج 1 روپیہ فی انوائس نہیں لیا جائے گا بلکہ رسیدی رقم کے 1 فیصد کے حساب سے وصول کیا جائے گا جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ بے بنیاد پراپیگینڈا مخصوص عناصر کی طرف سے پھیلایاجا رہا ہے جو کہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

    ایف بی آر نے کہا تھا کہ 1روپیہ سروس چارج فی رسید سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 76 کے تحت وصول کیا جا ئے گا۔ انوائس پر چاہے جتنی بھی کل رقم درج ہو، سروس چارج 1 روپیہ ہی وصول کیا جائے گا۔ سروس چارج کے تحت اکھٹی ہونے والی رقم بڑے ریٹیلرز کو ایف بی آر سے منسلک کرنے ، میڈیا کیمپین چلانے اور کسٹمرز کے لئے متعارف کردہ پرائز سکیم پر خرچ ہو گی جو کہ اس سکیم میں شامل ہونے کے لئے بڑے ریٹیلرز کی طرف سے جاری کی گئی اصل رسید کی تصدیق کریں گے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر نے اس حوالے سے بہت ہی موثر اشتہاری مہم کا آغاز کر دیا تھا جو کہ سوشل میڈیا، اخبارات، نیوز چینلز اور ریڈیو پر جاری رہا تھا. اس اشتہاری مہم کے ذریعے عوام الناس کو پرائز سکیم اور ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں ماہانہ بنیادوں پر 5 کروڑ 30 لاکھ کے انعامات کے لئے قرعہ اندازی کے انعقاد کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا. اس سلسلے میں پہلی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی 15 جنوری 2022 کو کی گئی جس میں 1007 قرعہ اندازی جیتنے والوں کا اعلان کیا گیا تھا۔

    ایف بی آر نے کہا تھا کہ: سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گمراہ کن معلومات ان عناصر کی طرف سے پھیلائی گئی تھی جو پی اوایس انٹیگریشن کے خلاف ہیں اور جنرل پبلک سے سیلز ٹیکس تو وصو ل کر لیتے ہیں لیکن حکومتی خزانے میں ٹیکس جمع نہیں کراتے۔ ایف بی آر ملک بھر میں بڑے ریٹیلرز کو سسٹم کے ساتھ منسلک کرنے کے اقدام کو جاری رکھنے میں پر عزم ہے۔

  • شہباز گل کو ایسا غلط بیان نہیں دینا چاہئے تھا. چیئرمین تحریک انصاف عمران خان

    شہباز گل کو ایسا غلط بیان نہیں دینا چاہئے تھا. چیئرمین تحریک انصاف عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اینکرپرسن فریحہ ادریس کو انٹرویو دیتے ہوئے شہباز گل کے معاملے پر کہا کہ شہبازگل نے جو بات کی وہ غلط تھی اور انہيں نہیں کرنی چاہيے تھی کیونکہ شہبازگل کے بيان سے تاثر ملتاہے کہ جيسے ہم فوج کو اُکسا رہے ہيں۔

    نجی ٹی وی چينل جی این این کو انٹرويو دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کيا کہ شہبازگل کو برہنہ کرکے تشدد کيا گيا ہے جبکہ دوسرے سياستدانوں کے بيانات پر تو انہيں کچھ نہیں کہا گیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ: شہباز گل نے غلط بیان دیا لیکن اس پر جو ظلم ہوا یا ہورہا ہے وہ درست نہیں، شہباز گل کو کہا جا رہا ہے کہ آپ عمران خان کے خلاف بیان دو، یہ شرمناک ہے، شہباز گل سے سوال کیا جاتا ہے کہ عمران خان کھاتا کیا ہے۔ اور میرے کھانے سے متعلق سوال اس لئے تشویشناک ہیں کیونکہ دو ماہ میں 5 لوگوں کی موت ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوئی ہے جو کہ مبینہ طور پر مصنوعی ہارٹ اٹیک تھا.


    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے نا اہل کرا کر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو واپس لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، میں کسی صورت ایسی کسی ڈیل کو قبول نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ اور الیکشن کمیشن بچگانہ کیس ہیں، چیف الیکشن کمشنر اخلاقی طور پر کرپٹ آدمی ہے، الیکشن کمیشن نے ہمارے خلاف آٹھ فیصلے دیے ہیں.

    عمران خان نے دعوی کیا کہ: لوگ جسطرح ہمارے جلسوں میں آرہے ہیں ایسی مثال نہیں ملتی، ایک اور لانگ مارچ بھی ہوسکتا ہے.

    عمران خان کے اس انٹرویو پر ایک سوشل میڈیا صارف نے ایک تصویر شیئر کی جس میں لکھا تھا کہ ایف آئی اے جب 2018 نواز شریف کیخلاف تحقیقات کررہی تھی تو وہ نواز شریف کرپٹ تھا مگر اب عمران خان کی جماعت کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تو خود ایف آئی اے کرپٹ ہے.

  • ممنوع فنڈنگ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست پر لارجر بینچ  تشکیل دے دیا

    ممنوع فنڈنگ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے.

    ‏فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف لارجر بنچ تشکیل، لارجر بنچ میں قائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابرستار شامل، سماعت 18 اگست کو ہوگی

    تحریک انصاف کے وکیل انور منصورنے عدالت سے استدعا کی کہ: الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روکا جائے، جسٹس عامر فاروق نے جواب دیا میں نے اسی لیے لارجر بینچ بنا دیا ہے، کل کیس کی سماعت کرینگے.

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے ممنوعہ فنڈنگ کیس فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی درخواست پر سماعت کی، پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل انور منصور عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ وکیل انور منصور نے استدعا کی شوکاز نوٹس کی حد تک کوئی ایکشن نا لیا جائے، قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ بھی لارجر بینچ ہی دیکھےگا۔

    تحریک انصاف کے وکیل انور منصور نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے جن اکاؤنٹس کی معلومات فراہم کیں وہ فیصلے میں موجود ہی نہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کو بتایا ہے کہ کچھ اکاؤنٹس کی معلومات کچھ وجوہات کی بنا پر ضروری نہیں ہے، مرکزی اکاؤنٹس سے کچھ رقوم صوبائی سربراہان کو بھیجے گئے ہیں.

    جسٹس عامر فاروق نتے کہا: جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ ولی خان کیس کے بعد اس نوعیت کا پہلا کیس ہے،
    کیس لارجر بینچ کو بھیج دیتا ہوں، جب آپ کہیں سماعت کے لیے مقرر کر دیتے ہیں. معزز جج نے مزید کہا: اُس کیس میں ریفرنس بھیج دیا گیا تھا اس میں ابھی ریفرنس نہیں بھیجا گیا، میں نے اسی لیے لارجر بینچ بنا دیا ہے، کل کیس کی سماعت کرینگے.

    پی ٹی آئی نے جن اکاؤنٹس کی معلومات فراہم کیں وہ فیصلے میں موجود ہی نہیں، الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روکا جائے، انور منصور کی استدعا

    تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی جبکہ عدالت نے کیس لارجر بینچ کے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 18 اگست تک ملتوی کر دی۔

  • پٹرولیم مصنوعات پر ایک روپیہ بھی نیا ٹیکس نہیں لگایا. مفتاح اسماعیل

    پٹرولیم مصنوعات پر ایک روپیہ بھی نیا ٹیکس نہیں لگایا. مفتاح اسماعیل

    ملک میں پیٹرول کی قیمت سے متعلق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا دعویٰ غلط نکلا کی خبر پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر ایک روپیہ بھی نیا ٹیکس نہیں لگایا ہے.

    سینئر صحافی حامد میر نے ایک خبر شیئر کرتے ہوئے لکھا: "مفتاح صاحب آپ ہمیشہ غلط کیوں نکلتے ہیں ؟” جو خبر شیئر کی گئی اس میں لکھا تھا کہ: "وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل نے گزشتہ روز جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان ‘ میں کہا تھا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ جبکہ حکومت نے پیٹرول 6 روپے72 پیسے مہنگا کردیا.


    دوران پروگرام میزبان نے وزیر خزانہ سے استفسار کیا کہ کیا کل پیٹرول کی قیمت کم ہونے جارہی ہے؟ دراصل عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوئی ہیں اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ بھی مضبوط ہوا ہے۔ اس پر جواب دیتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ ہماری طرف سے پیٹرول پر ایک روپے کا ٹیکس لگے گا اور نہ ہی لیوی لگے گی، وزارت خزانہ کی جانب سے کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

    اس کے مقابلے میں آج وزارت خزانہ نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 72 پیسے کا اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد فی لیٹر قیمت 233 روپے ہوگئی ہے۔ وفاقی حکومت نے اس دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے، جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی مارکیٹ میں آج بھی خام تیل کی قیمت میں 4 ڈالر فی بیرل سے زائد کی کمی سامنے آئی ہے اور برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ آئل93 اعشاریہ 80 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔”حامد میر کے جواب میں وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل نے لکھا: میر صاحب! ہم نے پٹرولیم مصنوعات پر ایک روپیہ بھی نیا ٹیکس نہیں لگایا ہے ۔ جو قیمتیں بڑی ہیں یا کم ہوئی ہیں صرف پی ایس او کی خرید کے مطابق کم ہوئی ہیں یا بڑی ہیں.

    دوسری جانب پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے حالیہ اضافے کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ عدالت میں اضافے کے خلاف متفرق درخواستیں دائر کی گئیں۔ درخواست گزار کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ ( Lahore High Court ) میں درخواست دائر کی گئی۔ جوڈیشل ایکٹوزم پینل نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے متفرق درخواست دائر کیں۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں۔

    درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ متفرق درخواستوں میں حکومت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو کالعدم قرار دے۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیاہے۔ فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ جب کہ ڈیزل 51 پیسے سستا کردیا گیا ہے۔ نوٹی فیکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ردو بدل کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 233.91 روپے اور ڈیزل کے نئے نرخ 244.44 روپے ہوگئے۔

    واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 6 ماہ کی کم ترین سطح پر آچکی ہے، ایک ماہ کے دوران برینٹ کروڈ آئل کے نرخ 107.35 ڈالر سے 94.84 ڈالر پر آچکے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اپریل میں حکومت سنبھالنے کے بعد تقریباً ایک ماہ کے دوران بتدریج پیٹرول 84 روپے اور ڈیزل 119 روپے فی لیٹر مہنگا کردیا تھا۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے بیان پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ردعمل دیتے ہوئے حماد اظہر نے کہا: مفتاح اسماعیل عوام کو دھوکہ دینا بند کریں، عوام کو بتائیں کہ آپ نے پچھلے مہینوں میں زیادہ مارجن پر ضرورت سے زیادہ پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں.

    انہوں نے مزید کہا کہ: پھر ان کنسائنمنٹس کو نیشنل بینک نے 240 روپے ڈالر کے ریٹ پر آف لوڈ کیا، مسلط حکومت نے پڑرولیم مصنوعات کی امپورٹ میں بھی غفلت دکھائی، پچھلے دو ماہ میں مہنگے دام اور بلند مارجن پر ضرورت سے کہیں زیادہ تیل امپورٹ کیا گیا، پھر تیل کی قیمت بینکوں نے مہنگے ڈالر ریٹ پر روپے میں موصول کی.
    حماد نے کہا ذرائع کے مطابق اُس وقت کے کچھ کارگو میں مارکیٹ ریٹ سے بھی 8 روپے اضافی،

  • پی ٹی آئی حامیوں کی یوم آذادی کی تقریبات پر جعلی خبروں کی تشہیر

    پی ٹی آئی حامیوں کی یوم آذادی کی تقریبات پر جعلی خبروں کی تشہیر

    پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات پر بھی پی ٹی ائی کی جانب سے سوشل میڈیا پر حکومت مخالف پروپیگنڈا جاری رہا.

    یوم آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات پر پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر حکومت کے حوالے سے جعلی خبریں چلائی گئیں. ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے موقع پر پاکستانی فنکاروں کی جانب سے رقص کیا گیا جسے پی ٹی آئی کے حامیوں نے مجرے کا رنگ دیا اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر حکومت پر سخت تنقید کی.

    سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف چلائی جانے والی کمپین جعلی نکلی،سماجی حلقوں کی جانب سے پاکستان کے 75 ویں یوم اذادی کی تقریبات میں رقص کو مجرے کا رنگ دینے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، سماجی حلقوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اقتدار سے اترنے کا غم پی ٹی آئی کے دل پر گہرا اثر کر گیا ہے.

    یوم آزادی کی تقریبات کو تنقید کا نشانہ بنانا کسی بھی طور پر درست نہیں تھا،پاکستان تو سب کا ہے ،پاکستان پی تی آئی کا بھی اتنا ہی ہے جتنا ملک کے ایک عام پاکستانی اور دوسری جماعتوں کا ہے ،ایسے موقع پر آزادی کی تقریبات پر جعلی خبریں پھیلانا اور نے جا تنقید کسی طور پر بھی محب وطن ہونے کا ثبوت نہیں ہے.