Baaghi TV

Author: +9251

  • وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل  طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کر لیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے 10 بجے وزیراعظم ہاوس میں ہو گا،ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں اہم سیاسی اور معاشی فیصلے لیے جائیں گے ،اجلاس میں ضمنی انتخابات اور دوست ممالک کے دوروں پر مشاورت ہو گی،پنجاب حکومت اور پی ٹی آئی فارن فنڈنگ تحقیقات پر بھی بات چیت ہو گی.

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کیلئے 7 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا ہے،سیلاب متاثرین کی بحالی اور نقصانات پر بریفنگ دی جائے گی ،کابینہ کے اجلاس میں نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان کی منظوری دی جائے گی .

    کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ہدایت
    قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایگری کلچر ٹاسک فورس کا ایک اہم اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں ایگری کلچر ٹاسک فورس کی جانب سے ملک میں زراعت خصوصاً گندم، خورنی تیل کے بیج اور کپاس کی کاشت کی استعداد ، مسائل اور ان مسائل کے حل کی تجاویز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ معیاری بیج کی عدم دستیابی ، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب عدم توجہی اور کسانوں کو آسان قرضوں کے حصول میں مشکلات زراعت کے شعبے کی ترقی میں حائل بڑی رکاوٹیں ہیں.

    اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ہمارے ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اسی لیے حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں زراعت جسے اہم شعبے کی نظر انداز کیا گیا یہی وجہ ہے کہ جن فصلوں میں ہم خود کفیل تھے انہیں آج درامد کرنا پڑ رہا ہے . وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت زراعت کے شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دیگی;اس سلسلے میں وزیرِاعظم نے ہدایت جاری کی کہ ایگریکلچر ریسرچ کے اداروں میں میریٹ پر ہیومن ریسورس کی بھرتی کے لیے اقدامات کیے جایئں. وزیرِ اعظم نے کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ہدایت کی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں ہم نے پنجاب کے کسانوں کو آسان قرضے دیے جن کا ریکووری ریٹ بہترین تھا .

    وزیرِ اعظم نے زراعت کے شعبے کے مسائل کے حل اور اسکی استعداد بڑھانے کے حوالے سے ٨ ورکنگ گروپس بنانے کی ہدایت بھی جاری کی. جن میں خورنی تیل ، گندم ، کپاس ، ایگریکلچر فنانسنگ ,harvesters and mechanization ، زرعی ریسرچ انسٹیٹوٹس کی بحالی اور زرعی شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ، کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر اور واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے ورکنگ گروپس شامل ہیں.اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید شاہ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ،وفاقی وزیرنیشنل فوڈ سیکورٹی طارق بشیر چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے بھی شرکت کی .

    قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرہ خاندانوں کو 3 دن کے اندر 50 ہزار روپے فی خاندان امداد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دیں.وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں پر قائم ریلیف کوارڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں تمام متاثرہ گھرانوں کو 30 ہزار کی بجائے 50 ہزار روپے فوری طور پر فراہم کئے جائیں.

    غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے. وزیراعظم

    وزیراعظم کی ہدایت کی کہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کو 50 ہزار کیش کی رقم NDMA کی سرپرستی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام فراہم کرے. ویرِاعظم کا کہنا تھا کہ متاثرین کو امداد کی فراہمی کے طریقہ کار کو شفاف رکھا جائے،کیش امداد کی فراہمی الیکٹرانک ٹرانسفر کے ذریعے کی جائے اور یقینی بنایا جائے کہ حق دار کو اسکا حق ملے،وزیرِ اعظم کی ہدایت کی کہ50 ہزار کیش امداد کی تقسیم کا لائحہ عمل فلڈ ریلیف کوارڈینیش کمیٹی آج شام تک طے کرکے رپورٹ پیش کرے.

    عمران خان اپنی جماعت میں کسی کوضمنی انتخابات لڑنے کا اہل نہیں سمجھتے؟ شیری رحمان

     

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ سیلاب کے نقصانات کے تخمینے کیلئے صوبوں کے ساتھ مشترکہ سروے کو 5 کی بجائے 3 ہفتوں میں مکمل کیا جائے، صوبائی حکومتیں سیلاب متاثرین کی بروقت امداد کیلئے NDMA سے جلد از جلد مشترکہ سروے سے متعلق تعاون اور تاریخوں کے حوالے سے رابطہ یقینی بنائیں، یہ صوبائی حکومتوں کی صوابدید ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی سیلاب متاثرین کیلئے امدادی کوششوں کا حصہ بنیں، تاہم وفاقی حکومت اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کو یقینی بنائے گی.

    وزیرِ اعظم کی ہدایت وفاقی وزیرِ اطلاعات کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے آگاہی مہم کیلئے جامع پلان مرتب کریں.

     

    عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

     

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سیلاب زدہ علاقوں پر قائم ریلیف کوارڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء مفتاح اسماعیل، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، مرتضی جاوید عباسی، مولانا اسد محمود، مشیرِ وزیرِ اعظم قمر الزمان کائرہ، چیئرمین NDMA لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. وفاقی وزیرِ ہاؤسنگ مولانا عبدالواسع، وزیرِ اعلی بلوچستان عبدلالقدوس بازنجو، رکنِ بلوچستان اسمبلی ثناء اللہ بلوچ کی وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ بارشوں کے حالیہ سلسلے کی وجہ سے سیلاب سے ہوئے نقصانات کے تخمینے کیلئے صوبوں کے اشتراک سے سروے اس سلسلے کے بعد شروع کیا جائے گا. اجلاس کو بتایا گیا کہ سروے کی تکمیل تک حکومت BISP کے تحت متاثرہ خاندانوں کو 30 ہزار روپے کا فوری ایمرجنسی کیش ریلیف فراہم کرے گی. جس پر وزیرِ اعظم نے ریلیف کی رقم کو 30 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار کرنے اور NDMA کو اس آپریشن کی نگرانی کرنے کی ہدایات جاری کیں.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی حکومت بین الاقوامی ڈونرز اور دیگر فلاحی اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے. اس سلسلے میں ایشین ڈویلپمنٹ بنک ADP اور ورلڈ بنک نے حکومت کو ایمرجنسی ڈزاسٹر ریلیف فنڈ کے تحت سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو اور بحالی کیلئے ضروری فنڈز مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے. اسکے علاوہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کی ٹیمیں بھیجی جا چکی ہیں اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سیلاب سے متاثرہ تعلیمی اداروں میں نقصان کا تخمینہ لگا رہا ہے.

    اجلاس کو وزیرِ اعلی بلوچستان اور صوبائی چیف سیکٹری کی طرف سے بلوچستان میں جاری بارشوں کے حالیہ سلسلے کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان اور صوبائی حکومت کے متاثرین کیلئے ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا.

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس،حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس،حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس تین گھنٹے اٹھارہ منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اجلاس کی صدارت اسپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان نے کی.

    شہباز گل کیس: عدالت نے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 بجے تک ملتوی کردی

    ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وزارت داخلہ نے براہ راست کسی چینل کو بند کیا ہے ،اسی حکومت نے پنجاب کے ایوان میں پولیس کو بلا کر اراکین اسمبلی کو مارا پیٹا،میں زبانی قرار داد پیش کرتا ہوں کے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر پابندی ختم کی جائے.سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے باوجود این او سی پر پابندی ختم نہیں کی جا رہی.اس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان نے کہا کہ کل ایوان میں تحریری طور پر قرارداد پیش کی جائے.

     

    کیسے چیف آف اسٹاف نے آپ سے پوچھے بغیر بات کردی،عطا تارڑ کا عمران خان سے سوال

     

    پنجاب اسمبلی کےاجلاس میں محکمہ داخلہ کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دئیے گئے.جوابات صوبائی وزیر داکلہ کی بجائے محمد بشارت راجہ کی جانب سے دئیے گئے.راجہ بشارت نے کہا کہ جوابات کی تاخیر کے لیے کمیٹی کی تشکیل ہونی چاہیے،جوابات آ جاتے ہیں لیکن اسمبلی سیکرٹریٹ میں پڑے رہتے ہیں.

     

    عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

     

    رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے باغبان پورہ تھانے سے جو تفصیلات لی گئی کیا وہ ٹھیک ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں بتا سکتی ہوں کہ کہاں کہاں باغبان پورہ میں منشیات فروشی ہو رہی ہے.اس پر راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ محکمہ کی جانب سے جو بھی جواب آتا ہے منسٹر اس کو اون کرتا ہے ،پولیس جب کارروائی کرتی ہے کچھ دیر کے لیے منشیات فروشی رک جاتی ہے ،جب وہ منشیات فروش گرفتاری کے بعد رہا ہو کر آتے ہیں وہ پھر یہ کام شروع کر دیتے ہیں،معزز ممبر رہنمائی کریں ہم کارروائی کریں گے.

    رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے ایوان کو بتایا کہ باغبان پورہ حق نواز چوک پر منشیات فروشی ابھی بھی جاری ہے ،ساری ساری رات وہاں پر نوجوان نسل منشیات استعمال کر رہی ہے اس پر راجہ بشارت نت یقین دہانی کرائی کہ یہاں پر آپریشن کراتے ہیں جو بھی رپورٹ ہو گی راحیلہ خادم حسین کو آگاہ کریں گے.

    سپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں کوئٹہ کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی.اجلاس میں وفقہ سوالات میں محکمہ داخلہ سے متعلق سوالات کے جوابات وزیر داخلہ کے رخصت پر ہونے کی بنا پر وزیر کوآپریٹوز محمد بشارت راجہ نے دیئے.

    سپیکر محمد سبطین خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وقفہ سوالات اسمبلی کارروائی کی روح ہے ،تاخیر سے جواب آنے پر سوال کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ محکمہ جات سے سوالات کے بروقت جوابات دریافت کرنے کے لئے کمیٹی بنا دیتے ہیں۔

    اجلاس کے دوران بجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کی بندش کے خلاف پریس گیلری سے صحافیوں نے واک آؤٹ کیا.سپیکر نے اراکین اسمبلی، فیاض الحسن چوہان اور چودھری عدنان کو صحافیوں کو منانے کے لیے بھیجا ۔ فیاض الحسن چوہان اور چودھری عدنان کے صحافیوں سے کامیاب مذاکرات کے بعد صحافیوں نے بائیکاٹ ختم کردیا.

    مسل لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی سردار اویس لغاری نےپوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایجنڈے میں آئینی بحران ،مہنگائی اور امن امان پر بحث بھی رکھی گئی ہے ، امید ہے آنے والے دنوں میں اس پر بحث ہو گی تو دونوں طرف کا موقف سامنے آئے گا
    ،اس سے پنجاب کی عوام کے سامنے ہمارا موقف سامنے آئے گا،اس ہاؤس کی کارروائی بغیر کسی سینسر کے عوام تک پہنچنی چاہیے ،آج ہماری پارلیمانی پارٹی کی جانب سے کچھ لوگ اسپیکر چیمبر میں پیش ہوئے تھے،بیس جولائی کو جو الیکشن ہوا جس کے نتیجے میں آپ اس نشت پر موجود ہیں ،ایک انتظامی غلطی کی وجہ سے ہمارے پانچ ممبران کو اس وقت کے پریزائیڈنگ افسر نے پندرہ نشستوں کے لیے ایوان میں آنے سے روکا گیا ہے ،آپ سے گزارش ہے رولنگ دیں کے ان پانچ ممبران کو جب تک آپ کی موجودگی میں سنا نہیں جاتا اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے،ایک دن کا پریزائیڈنگ افسر پانچ ممبران کو پندرہ نشستوں کے لیے کیسے روک سکتا ہے.

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ سردار صاحب آپ نے الیکشن کو چیلنج کیا ہوا ہے، میں اس درخواست کو نکلواتا ہوں اور سیشن کے بعد فیصلہ کرتے ہیں ، تھوڑا سا صبر اور حوصلہ کریں ،اچھی روایت ڈالی جائے گی، اس کرسی سے کوئی غلط بات جائے وہ مناسب نہیں ہے، اس معاملے کو ابھی لیتے ہیں،میں جلد بازی میں کوئی رولنگ نہیں دینا چاہتا، جیسے ڈپٹی اسپیکر نے دس ووٹ اڑا دئیے تھے، جلد بازی والے آرڈرز غلط ہو جاتے ہیں تھوڑا انتظار کریں، پریزائیڈنگ افسر کو متنازع نہ بنائیں ،میں جلد بازی میں جیب سے خط نکال کر نہیں دیکھا سکتا، پانچ بندوں نے اگر کوئی خلاف ورزی نہیں کی تو وہ آ جائیں گے.

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے کورم کی نشاندھی کر دی .حکومت پنجاب اسمبلی کے ایوان میں کورم پورا کرنے میں ناکام ہو گئی جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16 اگست بروز منگل دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دیا.

  • عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

    عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

    پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں ہیں، جس میں انہوں ںے 30 کروڑ کے اثاثے اور اپنی موجودہ اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام 698 کنال اراضی ظاہر کر رکھی ہے۔

    نجی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخاب این اے 108 فیصل آباد کے لیے چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کے کاغذات نامزدگی کی ایک نقل سامنے آگئی ہے جس کے ساتھ ہی سابق وزیر اعظم عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں ہیں کاغذات میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 30 کروڑ 42 لاکھ 78 ہزار 495 روپے کے اثاثے ظاہر کیے ہیں، سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی موجودہ زوجہ بشری بی بی کے نام پاکپتن اور اوکاڑہ میں 698 کنال اراضی ڈکلئیر کی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی زوجہ بشری بی بی کے نام پر تین کنال پر بنا ہوا بنی گالا کا گھر، وراثت میں ملنے والے دو گھر، بھکر میں 228 کنال زمین بھی ڈیکلئیر کی ہے، زمان پارک کے گھر کی تعمیر پر 4 کروڑ 86 لاکھ 60 ہزار روپے خرچ کیے تھے، 2020ء میں بنی گالا میں اضافی تعمیرات پر 39 لاکھ 54 ہزار اناسی روپے لگائے تھے۔

    کاغذات کے مطابق: سابق وزیر اعظم عمران خان کا اسلام آباد میں کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر ایک فلیٹ اور ایک کمرشل پلاٹ موجود ہے جہاں سے 14 لاکھ روپے کرایہ ماہانہ وصول کیا جارہا ہے، عمران خان کے پاس چار بکریاں جن کی مالیت دو لاکھ ہے، ان کے اور ان کی زوجہ کے پاس کوئی زیور نہیں ہے، عمران خان کی کسی بھی کمپنی میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہے۔

    کاغذات نامزدگی کے مطابق: عمران خان کے پاس ایک کروڑ 12 لاکھ 29 ہزار 398 روپے ہیں، انہوں نے چار بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی ظاہر کی ہیں، عمران خان کے ایک اکاؤنٹ میں 3 لاکھ 23 ہزار 587 ڈالرز موجود ہیں۔

  • عمران خان لوگوں کو استعمال کرتے ہیں. رہنماء مسلم لیگ ن طلال چوہدری

    عمران خان لوگوں کو استعمال کرتے ہیں. رہنماء مسلم لیگ ن طلال چوہدری

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان لوگوں کو استعمال کرتے ہیں اور بعد میں پھینک دیتے ہیں۔

    طلال چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کس نے میر جعفر کہا تھا کس نے جانور کہا تھا یہ زیادہ پرانی بات نہیں، عمران خان واحد لیڈر ہیں جو چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو میرے پیچھے کھڑے ہونا چاہیے۔ ن لیگ کے رہنما کا کہنا ہے کہ عمران خان پہلے گریبان پر ہاتھ ڈالتے ہیں جب بات نہیں بنی تو اب پیر پڑ رہے ہیں، یہ اب تک وہی مدد چاہتے ہیں جو کچھ سال پہلے دی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ایف آئی اے کا نوٹس گیا ہے، وہ تمام اکاؤنٹس کی تفصیلات لے کر جائیں، اگر قانون کا اطلاق ہوا تو عمران خان 62،63 میں تاحیات نااہل ہوں گے، جتنے نوٹس گئے ہیں تحریک انصاف کے لوگوں نے اس پر اسٹے لیے ہیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کو پتا ہے ایک بندہ بھی پیش ہو گیا تو ساری بات کھل جائے گی، اگر آپ کا دامن صاف ہے تو اسٹے آڈر کیوں لیتے ہیں،عمران خان لوگوں کو استعمال کرتے ہیں اور بعد میں پھینک دیتے ہیں۔

    لیگی رہنما کا مزید کہنا ہے کہ آپ شہباز گل کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں؟ ان کو پتا ہے دو دن کا ریمانڈ ملا تو شہباز گل طوطے کی طرح بولنے لگے گا، یہ کسی جماعت کا نہیں پاکستان کا معاملہ ہے، 2 دن کے ریمانڈ کے بعد عمران خان کی چیخیں نکل رہی تھیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان ذہن میں رکھیں شہباز گل نے جو انکشافات کیے ہیں وہ کسی وقت سنا دیے جائیں گے،اب اپنے کیسز سے بچنے کے لیے اب کوشش کی جارہی ہے۔


    ایک انٹرویو میں طلال چودھری کا کہنا تھا کہ: آج یہ معصوم بن رہے ہیں کل فرعون بنے ہوئے تھے۔ مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑا گیا،نواز شریف کے سامنے گرفتار کیا گیا۔ نواز شریف کو بستر مرگ پہ پڑی بیوی سے بات تک نہ کرنے دی گئی۔ تب کسی کو خیال نہیں آیا۔ ہم زیادتی نہیں کریں گے، ہم اللہ کو جوابدہ ہیں۔

  • فوج میں بغاوت اکسانے کا بیان شہبازگل کا نہیں بلکہ پارٹی کا تھا. ترجمان پی ڈی ایم

    فوج میں بغاوت اکسانے کا بیان شہبازگل کا نہیں بلکہ پارٹی کا تھا. ترجمان پی ڈی ایم

    ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمداللہ کا کہنا ہے کہ: فوج میں بغاوت پیدا کرنے کا بیان رہنماء تحریک انصاف شہبازگل کا ذاتی نہیں بلکہ انکی جماعت تحریک انصاف کا تھا.

    ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمداللہ نے کہا کہ فوج کو فوج کے خلاف بغاوت پر اکسانےکا بیان شہبازگل کا ذاتی نہیں اور اس کا اعتراف آج فوادچوہدری نے کرتے ہوئے کہا کہ پوری پارٹی”شہبازگل”کےساتھ ہے. انہوں نے مزید کہا: امریکی شہری شہبازگل جب پروفیسر ہے تو پروفیسر ہی رہے مائی باپ بننےکی کوشش نہ کرے، ان کا کہنا تھا کہ: جواب دےکہ بغاوت پر مبنی بیان کیوں اور کس کےکہنے پر دیا ؟


    حافظ حمد اللّٰہ نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم فضل الرحمٰن کی قیادت میں آپ کو جہاد کے نام پر فساد کی اجازت نہیں دے گی۔، کیا غیرملکی شہریوں اور سینکڑوں غیرملکی کمپنیوں سے اربوں روپے لینے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کیا جائے اور فوج کو فوج کے خلاف بغاوت پر اکسائے، جو کام بھارت نریندر مودی بی جے پی اور آر ایس اسی کا تھا وہ عمران نیازی اور پی ٹی آئی کررہے ہیں.

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل سے جیل میں ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے تین وفود الگ الگ شہبازگِل سے جیل میں ملاقات کریں گے جس میں پارٹی کا پہلا وفد اسلام آباد کے صدر علی نواز اعوان کی قیادت میں اڈیالہ جیل جائے گا۔
    دوسرا وفد قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے سابق چیف وہپ عامرڈوگر کی سربراہی میں ملاقات کرے گا جب کہ سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف شہزاد وسیم تیسرے وفد کی قیادت کریں گے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے دعوی کیا ہے کہ شہباز گِل پر پہلے بھی تشدد کیا گیا اور اب بھی حکومت وقت ان پر دوبارہ تشدد کرنا چاہتی ہے۔ مزید دعوی کیا گیا کہ شہباز گِل اوورسیز پاکستانی ہیں، وہ کمزور ہیں اس لیے پکڑے گئے، آپ صرف تشدد کرنے کے لیے شہباز گِل کا ریمانڈ چاہتے ہیں تاہم صحافیوں کی ایک محفل میں سابق وزیر اعظم عمران‌ نے شہباز گل کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کردیا تھا.

    خیال رہے کہ اسلام آباد پولیس نے9 اگست کے روز شہباز گل کو بنی گالا کے علاقے سے گرفتار کیا تھا اور ان پر غداری کی دفعات کے تحت تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

  • ضمنی الیکشن: حکومت کا عمران خان کے خلاف اعتراضات دائر کرنے کا فیصلہ

    ضمنی الیکشن: حکومت کا عمران خان کے خلاف اعتراضات دائر کرنے کا فیصلہ

    حکومت نے ضمنی انتخابات میں عمران خان کی جانب سے 9 حلقوں سے الیکشن لڑنے کے اعلان پر اعتراضات دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کے بعد خالی ہونے والی 9 نشستوں پر 25 ستمبر 2022 کو ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کر رکھا ہے، جب کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ان تمام 9 حلقوں میں خود الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    دوسری جانب حکومت نے عمران خان کے اس فیصلے کے خلاف اعتراضات دائرکرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اور اس حوالے سے مسلم لیگ ن اور حکومتی اتحادیوں کے قانونی مشیروں نے کام مکمل کرلیا ہے۔ حکومت کی جانب سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر الیکشن کمیشن میں حکومتی امیدواراعتراض اٹھائیں گے، یہ اعتراضات 17 سے 20 اگست کے درمیان الیکشن کمیشن میں دائر ہوں گے۔

    حکومتی امیدواروں کی جانب سے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ، اثاثے چھپانے اور صادق و امین نہ ہونے کا بھی اعتراض کیا جائے گا، جب کہ اعتراضات کے ساتھ ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ بھی منسلک کیا جائے گا۔

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 لیاری میں ضمنی انتخاب

    پیپلزپارٹی کے امیدوار نبیل گبول کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں جبکہ نبیل گبول نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض جمع کرواتے ہوئے اپنی درخواست میں کہا کہ عمران خان کا نام فارن فنڈنگ کیس میں آیا ہے لہذا عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض ہے.

    قومی اسمبلی کے 9 حلقوں میں ضمنی الیکشن کا شیڈول

    الیکشن کمیشن کی جانب سے 5 اگست کو تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کی منظوری کے بعد خالی ہونے والے قومی اسمبلی کے 9 حلقوں میں ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان حلقوں کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 10 سے 13 اگست تک جمع کرائے جاسکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات کی جانچ پڑتال 17 اگست کو کی جائے گی، اور ضمنی انتخاب کےلیے پولنگ 25 ستمبر کو ہوگی۔
    الیکشن کی جانب سے جاری کئے گئے شیڈول کے مطابق ضمنی انتخابات قومی اسمبلی کے حلقہ 22 مردان، حلقہ 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 45 کرم، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب، این اے 237 ملیر کراچی، این اے 239 کورنگی اور این اے 246 کراچی ساؤتھ میں ہوں گے۔ یہ نشستیں تحریک انصاف کےارکان کےاستعفوں کے باعث خالی ہوئی تھیں۔

    عمران خان کا 9 حلقوں میں خود الیکشن لڑنے کا اعلان

    5 اگست کو ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری ہونے کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کے تمام 9 حلقوں سے خود الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔ سینئر صحافیوں سے ملاقات میں عمران خان کا کہنا تھا کہ مخالفین کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑوں گا۔ مخالفین مجھے سنگل آؤٹ کرنا چاہتے ہیں مگر میں ہر میدان میں اُن کا مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عام انتخابات اسی سال ہوں گے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اُن سے دو بڑی غلطیاں ہوئی ہیں۔ سکندر سلطان راجہ کا بطور چیف الیکشن کمشنر تقرر میرا بلنڈر تھا۔ بولے دوسری بڑی غلطی کیا تھی یہ ابھی نہیں بتا سکتا۔

  • جنہوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی، اب وہ سرٹیفکیٹ دیں گے کہ یوم آزادی کیسے منایا جائے

    جنہوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی، اب وہ سرٹیفکیٹ دیں گے کہ یوم آزادی کیسے منایا جائے

    14 اگست کے حوالے سے جناح کونشن سنٹر میں پرچم کشائی کی تقریب کی گئی جس میں وزیر اعظم سمیت مختلف لوگوں نے شرکت کی اس دوران کچھ خواتین ڈانسر نے بھی اپنے فن کا مظاہر کیا تاہم اس طرح کچھ لوگ تنقید کر رہے جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ کیا خوشی کے موقع پر ایسی محفل کا اہتمام نہ ہو تو پھر کب ہو؟

    اینکر سلیم صافی نے ناچ گانے کا اہتمام کرنے والے انتظامیہ اہلکار پر تنقید کرتے ہوئ کہا کہ: ڈانس گانا قطعا پاکستانی ثقافت کی عکاسی نہیں بلکہ بیہودگی ہے. انہوں نے مزید کہا: جن لوگوں نے یوم آزادی کی تقریب میں اس بیہودگی کا انتظام کیا ان کے خلاف وزیراعظم شہباز شریف کو کاروائی کرنی چاہئے۔


    سلیم صافی نے کہا: مولانا فضل الرحمان سے بھی توقع ہے کہ وہ بھی پختونخوا کی گورنرشپ کی لڑائی کی بجائے اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

    سلیم صافی کو جواب دیتے ماہر تعلیم طاہر نعیم ملک نے سوال کیا کہ: یوم آزادی پر بھی موسیقی اور رقص کا اہتمام نہ ہو، کیا یہ خوشی کا موقع نہیں؟


    طاہر ملک نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ: جہاں تک مولانا فضل الرحمان کی بات ہے تو قیام پاکستان کی ملائیت اور اسلام کے نام پر مخالفت کی گئی اب وہ سرٹیفکیٹ دیں گے کہ یوم آزادی کیسے منایا جائے۔

    اس حوالے سے زیاد تر تنقید تحریک انصاف کے حامیوں نے کی ہے اور تحریک انصاف کی حامی سوشل میڈیا خاتون نے لکھا: مولانا فضل الرحمان اور ان کی پی ڈی ایم جماعتوں کی مشترکہ حکومت ملاحضہ ہو، انہوں نے مزید کہا کہ: یہ سب مل کر سابق وزیر اعظم عمران خان کی انصاف پسند اور مساوت پر قائم ریاست مدینہ کے نظریہ کا مزاق اڑا رہے ہیں.

    یہاں‌ پر ایک صارف نے انہیں یاد دلایا کہ بی بی جو کچھ عمران خان کے جلسوں میں ہوتا رہا وہ کس اسلام میں جائز ہے، جنہوں نے سیاست میں ناچ گانا کی بنیاد رکھی کیا وہ ریاست مدینہ کے دعوے دار ہیں، حالانکہ یہ لوگ جھوٹے ہیں.

    ایک اور صارف نے کہا: وزیراعلی خیبرپختونخوا تو افغانستان سے جوڑنا چاہتا ہے پر پاکستان کا جشن آزادی نہیں منانا چاہتا، آج14اگست کی تقریب میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت کسی عمرانی ٹولے نے شرکت ہی نہیں کی، پی ٹی آئی والے حقیقی آزادی شاید صرف اپنے اقتدار کی حواس کو ہی سمجھتے ہیں جبکہ ان کے سامنے ملک کی کوئی اہمیت نہیں.

  • غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے. وزیراعظم

    غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے. وزیراعظم

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت دی ہیں کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام تر رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔

    وزیرِ اعظم نے بیرونی سرمایہ کار کمپنیوں بالخصوص گوادر فری زون میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے مسائل کے حل کیلئے کمیٹی قائم کر دی، کمیٹی دس دن کے اندر وزیرِ اعظم کو تفصیلی رپورٹ اور سفارشات مرتب کرکے پیش کرے گی.

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام تر رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، خصوصاً چینی سرمایہ کار کمپنیوں کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جائیں، چینی ورکرز کے ویزے میں سی پیک اور دوسری کمپنیوں کے ورکرز کی تفریق ختم کی جائے۔

    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے بیرونی سرمایہ کار کمپنیوں کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا اعلان بھی کیا، کمیٹی گوادر فری زون میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے مسائل بھی دیکھے گی اور 10 دن کے اندر تفصیلی رپورٹ اور سفارشات مرتب کر کے وزیراعظم کو بھیجے گی۔

    اس موقع پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سمیت تمام وزرا اور معاونین نے وزیر اعظم شہباز شریف کو یقین دہانی کرائی کہ آپ کے ویژن اور ہدایت کے مطابق ہم سب عمل پیرہ اور سرمایہ کاری میں حائل تمام تر رکاوٹین ترجیح بنیادوں پر دور کی جائیں گی. وزیر شہباز شریف نے اپنی پوری ٹیم کو شاباش دی اسکے بعد انہیں وزرا اور معاونین اس حوالے سے مزید بریفنگ بھی دی،

    وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں سرمایہ کاری پر اعلی سطح اجلاس کا نقعاد کیا گیا، اس اجلاس میں وفاقی وزراء مفتاح اسماعیل، چوہدری سالک حسین، احسن اقبال معاونینِ خصوصی طارق فاطمی، ظفرالدین محمود اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

  • یومِ آزادی پر نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کا شوہر عصر ملک کے ہمراہ متاثر کُن پیغام 

    یومِ آزادی پر نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کا شوہر عصر ملک کے ہمراہ متاثر کُن پیغام 

    لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے والی وادیٔ سوات کی بیٹی، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کی جانب سے جشنِ آزادی کے موقع پر متاثر کُن پیغام شیئر کیا گیا ہے۔

    نوبل انعام حاصل کرنے والی کم عمر شخصیت ملالی یوسفزئی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شوہر کے ہمراہ تصویر شیئر کی ہے۔
    اس تصویر میں ملالہ کو سبز اور اُن کے شوہر کو نیلے رنگ میں ملبوس چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
    ملالہ یوسفزئی کا اپنے انسٹاگرام پر شیئر کیے گئے پیغام میں لکھنا ہے کہ 75 واں یومِ آزادی مبارک۔
    https://www.instagram.com/p/ChPhZ-COuJM/?igshid=MDJmNzVkMjY=
    ’آج اور ہر آنے والے دن  ہمیں اپنے پیارے ملک کے ہر فرد کی ذات، مذہب یا اس کی نسل کو نظر انداز کر کے خالصتاً اس کے وقار کے لیے کھڑا ہونا چاہیے،  ہمارے ملک کے بانی نے بھی ہمیں یہی کرنے کے لیے کہا ہے۔

    اس پوسٹ کی دوسری تصویر میں ملالہ یوسفزئی کی جانب سے قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ کا ایک قول شیئر کیا گیا ہے جس میں بانیٔ پاکستان کا قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ’آپ آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اس ریاست پاکستان میں اپنی مساجد یا کسی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ کا تعلق کس مذہب، ذات یا عقیدے سے ہے اس کا ریاست کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

  • عدالت نے  فارن فنڈنگ معاملے پر قانون سازی کی درخواست  ناقابل سماعت قرار دے دی

    عدالت نے فارن فنڈنگ معاملے پر قانون سازی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیاسی جماعتوں کے فارن فنڈنگ معاملے پر قانون سازی کے لیے درخواست پرسماعت کی گئی جس میں قانون سازی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا گیا.

    عدالت نے کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں لہذا یہ درخواست ناقابل سماعت ہے کیونکہ اس میں درخواست اس سے متاثرہ نہیں ہوا اس ہر درخواست گزار کے وکیل نے معزز عدالت میں کہا کہ: ایسے مفاد عامہ کے کیس میں کسی شخص کا متاثرہ ہونا ضروری نہیں ہے.

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کیخلاف فارن فنڈنگ فیصلہ آنے کے بعد سیاسی جماعتوں نے عدالت کو ایک درخواست گزار کی کہ اس حوالے سے قانون سازی کی جائے تاہم آج اسلام آباد ہائی کورٹ اس درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے.

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف پر بیرونِ ملک سے ممنوعہ فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوئے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس بھی جاری کیا تھا کہ کیوں نہ یہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجنے کا اعلان بھی کیا تھا.

    اس وقت تحریکِ انصاف نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا. ممنوعہ فنڈنگ کا یہ کیس سنہ 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ فیصلہ 21 جون کو محفوظ کیا گیا تھا تاہم بعدازاں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثار احمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا تھا۔ اس کیس کے فیصلے کے موقع پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر اہم مقامات پر پولیس، رینجرز اور ایف سی کے 1400 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔