Baaghi TV

Author: +9251

  • جہانگیر خان ترین نے اپنی سیاسی جماعت عوامی تحریک انصاف بنانے کا عندیہ دے دیا

    جہانگیر خان ترین نے اپنی سیاسی جماعت عوامی تحریک انصاف بنانے کا عندیہ دے دیا

    جہانگیرخان ترین نے علیم خان، مخدوم خسرو بختیار، عون چوہدری اور چوہدری سرور کے ہمراہ پاکستان کی سیاست میں نئے انداز کے ساتھ اُبھرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے باوثوق ذرائع کے مطابق جہانگیر خان ترین نے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا عندیہ دے دیا ہے جبکہ نئی سیاسی جماعت کے منشور کی تیاری آخری مراحل میں ہے.

    ذرائع نے بتایا: جہانگیر ترین کی سیاسی جماعت کا نام "عوامی تحریکِ انصاف ” کثرتِ رائے سے تجویز کیا جا چُکا ہے.

    عوامی تحریکِ انصاف بنائے جانے میں جہانگیر خان ترین کے دیرینہ ساتھیوں علیم خان، مخدوم خسرو بختیار، عون چوہدری، اور چوھدری سرور کیساتھ اسحاق خاکوانی و دیگر نامور سیاسی شخصیات کا مکمل تعاون شامل ہے.

    اپنے قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ پارٹی پرچم تین رنگ کا ھو گا جس میں سُرخ، سفید اور سبز رنگ شامل ہے جبکہ انتخابی نشان ابھی زیرِ غور ہے.

    بہت سے دوستوں نے سوال اُٹھایا کہ جہانگیر ترین کی سیاسی جماعت اپنی جگہ بنانے میں کہاں تک کامیاب ہو گی ؟

    ان کے لیئے عرض ہے ق لیگ کے پرویز الہی 10 نشستوں کے ساتھ آج وزیرِ اعلٰی ہیں، ایم کیو ایم ہمیشہ سے اقتدار میں ہی نظر آئی ہے جے یو آئی ف نے صرف دو نشستوں کے ساتھ کنگ میکر کا کردار ادا کیا اور عمران خان کی حکومت گِرا دی.

    عوامی مسلم لیگ صرف ایک نشست کے ساتھ اہم وزارت پر براجمان رہی لہذا جہانگیر ترین کی جماعت ایک بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھرنے کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ ترین وہ شخص ھے جس نے 28 سالہ پُرانی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے مُردہ گھوڑے میں جان ڈال دی تھی اور اُسے زمین پر سے اُٹھا کر مسندِ اقتدار پر لا بٹھایا اور جہانگیر ترین بادشاہ گٙر کہلایا تھا.

    واضح رہے کہ: جہانگیر ترین گروپ کے تمام ممبران عوامی تحریکِ انصاف کا حصّہ ہوں گے اس کے علاوہ ملک بھر سے بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں نے جہانگیر ترین سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔

    2023ء کے الیکشن کا اعلان ہوتے ہی جہانگیر ترین باضابطہ طور پر ایک پُرہجوم پریس کانفرنس کے ذریعے اسلام آباد میں عوامی تحریکِ انصاف بنائے جانے کا اعلان کرینگے.

  • شہباز گل کے ساتھ یکجہتی کے لئے تحریک انصاف کا کوئی رہنماء عدالت نہیں آیا

    شہباز گل کے ساتھ یکجہتی کے لئے تحریک انصاف کا کوئی رہنماء عدالت نہیں آیا

    تحریک انصاف کے رہنماء کو آج اسلام آباد کی عدالت میں پیش کیا گیا تاہم ان سے اظہار یکہتی کیلئے تحریک انصاف کی طرف سے کوئی بھی رہنماء موجود نہ تھا.

    شہباز گل پر غداری کے مقدمے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل سے دور ہوگئے ہیں اور کوئی بھی رہنماء ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے عدالت نہیں پہنچا.

    عدالت آمد پر شہباز گل کے خلاف عدالتی احاطے میں موجود کچھ لوگوں نے ان کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

    یہ بھی پڑھیں: شہباز گل دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
    فوج کے خلاف بیان عمران خان کے کہنے پر دیا،شہباز گل کا اعتراف
    صحافیوں کی جانب سے جب شہباز گل سے ان کے دیئے گئے بیان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بیان فوج سے محبت کرنے والے کا بیان تھا۔

    صحافیوں کی جانب سے شہباز گل سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو اپنے دیئے گئے بیان پر کوئی شرمندگی ہے؟

    کیا وہ بیان آپ کا تھا یا پارٹی یا عمران خان کا؟، جس پر شہباز گل نے کہا کہ میرے بیان میں ایسا کچھ غلط نہیں کہ جس پر مجھے شرمندگی ہو۔

    انہوں نے کہا: وہ ایک محب وطن کا بیان ہے.

    صحافیوں نے دوبارہ ان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے عوام کو فوج کے خلاف اکسانے کی کوشش نہیں کی؟

    جس پر شہباز گل نے اپنے بیان کے معنی تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ میں نے عوام کو فوج کے خلاف اکسانے کی کوشش نہیں کی ہے.

    واضح رہے کہ عدالت پیشی کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کا کوئی رہنما موجود نہ تھا اور نہ ہی کوئی کارکن موجود تھا۔

  • شہباز گل دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    شہباز گل دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما اور چیف آف اسٹاف شہباز گل کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کردیا گیا ہے، جہاں پولیس کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی جس عدالت نے انہیں دو روزہ ریمانڈ دےدیا۔

    شہباز گل کو تھانہ کوہسار کی پولیس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ عمر شبیر نے کیس کی سماعت کی۔

    اس موقع پر پولیس کی جانب سے شہباز گل کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، جس پر شہباز گل کے وکیل نے مخالفت کی۔


    عدالت کی جانب سے 14 روز جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔

    شہباز گل نے عدالت کے باہر کہا کہ: میرے بیان میں کچھ ایسا نہیں جس سے شرمندگی ہو کیونکہ یہ ایک محب الوطن کا بیان ہے۔

    انہوں نے مزید کہا: اپنی فوج سے پیار کرنے والا بیان ہے، کسی کو اکسانے کی کوشش نہیں کی بلکہ میں نے بیوروکریسی کے افسران جو غلط بات کررہے ان کے بارے میں بات کی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل دوران تفتیش شہباز گل نے انکشاف کیا کہ فوج کے خلاف بیان پارٹی سربراہ عمران خان کے کہنے پر دیا.

    اس بارے میں مزید پڑھیں: فوج کے خلاف بیان عمران خان کے کہنے پر دیا،شہباز گل کا اعتراف

    قبل ازیں شہباز گل کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت لایا گیا، جب کہ انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے اہلکاروں نے انہیں گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری عدالتی احاطے اور اطراف میں تعینات کی گئی، جس میں پولیس کمانڈوز بھی موجود رہے۔

    شہباز گل کو کمرہ عدالت میں پہنچانے کے بعد عدالت کے دروازے بند کردیئے گئے، جب کہ میڈیا نمائندوں کو بھی اندر آنے سے روک دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جج کے حکم پر میڈیا نمائندگان کو روکا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ شہباز گل کے خلاف تھانہ کوہسار میں مبینہ غداری کا مقدمہ درج ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل کے خلاف سٹی مجسٹریٹ کی مدعیت میں درج بغاوت کے مقدمے کی تفصیل سامنے آگئی۔

    ایف آئی آر میں درج ہے کہ شہباز گل نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ایجنڈے کی تکمیل کے لیے نجی ٹی وی چینل پر الفاظ کہے۔

    مقدمے میں کہا گیا کہ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کی انتظامیہ اس معاملے میں شریک جرم ہے، جس نے ملزم کو دانستہ طور پر پورا موقع دیا۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ ٹی وی پر شہباز گل کا بیان اور تقریر کا مقصد فوج میں بغاوت پھیلانا اور سازش کرنا تھا، اُن کی کوشش تھی کہ فوج کے مختلف گروہ بن جائیں۔

    مقدمے میں کہا گیا کہ شہباز گل کے بیان اور تقریر کا مقصد تھا کہ عوام میں پاک فوج کے خلاف سازش کے تحت نفرت پھیلائی جائے۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ پی ٹی آئی رہنما کے مقصد کا فوجی جوانوں کو اپنے افسران کا حکم نہ ماننے کی ترغیب دینا تھا۔

    مقدمے میں کہا گیا کہ شہباز گل نے ملک میں انتشار پھیلانے اور فوج کو کمزور اور تقسیم کرنے کے لیے بیان دیا۔

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ شہباز گل نے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے بیان دیا، وہ ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل کی مجرمانہ سازش کے مرتکب ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پارٹی کی سینیر قیادت کا اجلاس آج بروز بدھ 10 اگست کو بنی گالا میں طلب کرلیا ہے۔

    مرکزی قیادت کے ساتھ پنجاب کے اہم رہنماؤں کو بھی اجلاس میں بلایا گیا ہے۔

    اجلاس میں شہباز گِل کی گرفتاری سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر غور کیا جائے گا، جب کہ 13 اگست کے لاہور جلسہ سمیت مجموعی سیاسی صورت حال اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کئے جانے کا امکان ہے۔

  • شہباز گل کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج، تحریک انصاف کے جھوٹ بے نقاب

    شہباز گل کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج، تحریک انصاف کے جھوٹ بے نقاب

    عمران خان کے چیف آف سٹاف ڈاکٹر شہباز گل کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آ گئی

    سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں اور شہباز گل کے ڈرائیور کے جھوٹ بھی بے نقاب ہو گئے۔ شہباز گل کی گرفتاری ہوئی تو پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور تشدد بھی کیا ۔

    شہباز گل کے ڈرائیور کا ڈرامہ بھی سامنے آیا تھا ۔ پہلے وہ صحیح تھا بعد میں ہاتھ پر پٹی کروا لی حالانکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا یے کہ شہباز گل کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا اغوا نہیں کیا گیا تھا ۔ اسلام آباد پولیس کے اہلکار نیلی وردی میں واضح نظر آ رہے ہیں اسلام آباد پولیس کی گاڑی بھی موجود ہے دوسری جانب شہباز گل کی گرفتاری کے وقت ان پر اور ڈرائیور پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا گیا ۔

    شہباز گل کو جب گرفتار کر کے دوسری گاڑی میں بٹھایا گیا تو انکا ڈرائیور گاڑی لے کر چلا گیا ڈرائیور گاڑی سے نیچے ہی نہیں اترا اور نہ ہی کسی قسم کا تشدد کسی نے کیا ،تحریک انصاف نے شہباز گل کے اغوا اور ڈرائیور پر تشدد کا جو ڈرامہ رچایا سی سی ٹی وی فوڑیج نے سب بھانڈا پھوڑ دیا ۔

    واضح رہے کہ عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو گرفتار کر لیا گیا ہے،، شہباز گل کے خلاف اداروں کیخلاف بیان بازی اور عوام کو اداروں کیخلاف اکسانے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، پولیس نے شہباز گل کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کیا ہے.

    شہباز گل کی گرفتاری کی ویڈیو دیکھئے کہ کیسے شہباز گل کو گرفتار کر کے لے جایا گیا،نا تو اس ویڈیو میں بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑی نظر آٸی اور نا ہی سادہ کپڑوں میں لوگ ہیں.باوردی اہلکار تھے اور آرام سے شہباز گل کو لے کر گٸے .

    شہباز گل کے ڈراٸیور کو تو کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا.ڈرائیور پر تشدد کب ہوا؟ وہ تو گاڑی سے اترا ہی نہیں، اسکی قمیض کس نے پھاڑی؟ اس کی گردن پر خراشوں کے نشانات کس نے ڈالے؟ کہیں یہ ڈرائیور چوہدری پرویز الٰہی کا سابقہ ڈرائیور تو نہیں تھا؟.

    ڈراٸیور بھی جھوٹا ،عمران خان بھی جھوٹا ،فواد چوہدری بھی جھوٹا، مراد سعید بھی جھوٹا ،پی ٹی آٸی والوں کا کام ہے اداروں پر الزام لگانا اور جھوٹ بولنا ، مولانا طارق جمیل صاحب ان کےلٸے کیا کیا فرما رہے تھے،افسوس ہی کیا جاسکتا ہے.

  • شہباز گل کے بعد عمران خان بھی گرفتار ہوں گے، محسن شاہنوازرانجھا

    شہباز گل کے بعد عمران خان بھی گرفتار ہوں گے، محسن شاہنوازرانجھا

    مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا ہے کہ شہباز گل کے بعد عمران خان بھی گرفتار ہوں گے۔

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ‘کیپیٹل ٹاک’ میں اینکر پرسن اور سینئر صحافی حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کئی غیر قانونی کام کیےہیں ، وہ گرفتارتو ہوں گے، جیسے نواز شریف گرفتار ہوئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ اسی عدالتی فیصلے کی روشنی میں عمران خان بھی گرفتارہوں گے، انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی نااہلی کا ریفرنس بھی ہم نے الیکشن کمیشن میں دائرکیا ہوا ہے۔

    محسن شاہنواز رانجھا نے وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کے صاحبزادے مونس الہیٰ کو بھی آڑھے ہاتھوں لیا کہتے ہیں کہ مونس الٰہی نے پنجاب پولیس اسلام آباد بھیجنےکی بات اپنے قد سے بڑی کی ہے۔

    محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ کہ شہباز گل کابیان سنا، بنیادی طور پر وہ بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔ جبکہ پروگرام میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شعیب شاہین نے شہباز گل کی گرفتاری کی مذمت کی۔ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل کو جس طرح گرفتار کیا گیا ایسا فسطائی حکومت ہی کرسکتی ہے، خلاف قانون اقدامات سے معاشی عدم استحکام اور جمہوریت کو نقصان ہوگا۔

  • نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع۔ مریم کو ذمہ داری دے دی گئی

    نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع۔ مریم کو ذمہ داری دے دی گئی

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع ہو گئیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع ہو گئیں نواز شریف نے پاکستان واپسی کے حوالہ سے پارٹی کو آگاہ کر دیا ہے نواز شریف کی واپسی پر استقبال کی تیاریاں کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے نواز شریف کی واپسی پر انکا بھر پور استقبال کیا جائے گا اس ضمن میں مریم نواز کو ذمہ داری سونپی گئی ہے مریم نواز اپنے والد نواز شریف کے استقبال کے لئے ٹیمیں تشکیل دیں گی اور تمام تر انتظامات کی خود نگرانی کریں گی

    سابق وزیراعظم نواز شریف بیمار ہوئے تھے تو علاج کے لیے لندن گئے تھے شہباز شریف نے نواز شریف کی واپسی کی ضمانت دی تھی نواز شریف کے لندن جانے کے بعد کرونا شروع ہو گیا جس کی وجہ سے انکا علاج نہ ہو سکا اب کرونا کی شرح کم ہونے کے بعد ہسپتال کھلے ۔

    نواز شریف کی اسلام آباد متوقع ہے اسلام آباد میں نواذ شریف کا پارٹی قائدین اور کارکنان استقبال کریں گے۔ بعد ازاں نواز شریف ایک کارواں کی صورت میں لاہور آئیں گے۔ نواز شریف کی واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان بھی جلد ہو جائے گا ۔

    موجودہ سیاسی صورتحال میں عمران خان کا مقابلہ کرنے کے لئے ن لیگی رہنماؤں کی جانب سے کہا گیا تھا کہ نواز شریف ہی مقابلہ کر سکتے ہیں اور انکو پاکستان میں پارٹی کی قیادت کرنی چاہئے ۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کی مضبوطی کے لیے نواز شریف نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا

  • شہباز گل کا بیان ،تحریک انصاف تقسیم ہو گئی،کارروائی کا مطالبہ

    شہباز گل کا بیان ،تحریک انصاف تقسیم ہو گئی،کارروائی کا مطالبہ

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کیے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں. چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے بیان پر تحریک انصاف تقسیم ہو گئی ہے.

    پی ٹی آئی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی امین خان کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نےکہا تھا کہ پاکستان کو ان سے زیادہ پاک فوج کی ضرورت ہے۔ یہ ایک حقیقی لیڈر کا بیان ہے.

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں علی امین خان نے کہا کہ ملکی دفاع کے لئے پوری قوم اپنی فوج کیساتھ ہے۔ اب شہباز گل نے اگر کوئی بیان دیا بھی ہے جس پہ اعتراض ہےتو ان کے خلاف پرتشدد گرفتاری کی بجائےقانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیئے تھی۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ شہباز گل کی گرفتاری حکومت کی بڑھتی پریشانی کی عکاس ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں اسد عمر نے کہا کہ ایک جھوٹا بیانیہ بنا کر پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور دفاعی اداروں کے درمیان خلیج پیدا نہیں کی جاسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کے فسطائی ہتھکنڈے انشاءاللّٰہ ناکام ہوں گے۔ایک اور پیغام میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے خفیہ فیصلے جن کی قیمت عوام کو دینی پڑتی ہے، وہ کسی صورت قبول نہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ایسے فیصلوں کی بحیثیت قوم بہت بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔

  • عطاءاللہ تارڑ کا مونس الہیٰ کو کرارا جواب

    عطاءاللہ تارڑ کا مونس الہیٰ کو کرارا جواب

    وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء اللّٰہ تارڑ نے وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی مونس الہیٰ کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئےکہا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ چیف منسٹر کا بگڑا ہوا بیٹا ہونا کوئی سرکاری عہدہ ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ وزیراعلیٰ کا بیٹا کس حیثیت میں بات کر رہا ہے؟عطا اللّٰہ تارڑ کا کہنا تھا کہ زیادہ ردعمل نہ دکھائیں، آپ صرف اس پر معذرت خواہانہ ہو رہے ہیں جو گل نے کہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ق) کی طرف سے ابھی تک شہباز گل کے بیانات کی کوئی مذمت نہیں آئی۔


    اس سے قبل جب شہباز گل کو گرفتار کیا گیا تو وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویزالہیٰ کے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی چوہدری مونس الہیٰ نے ٹویٹ کیا کہ بنی گالا کی طرف پیش قدمی کی جارہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ ہم بنی گالا کی حفاظت کیلئے پنجاب پولیس بھجوا رہے ہیں.

  • فوج کے خلاف بیان عمران خان کے کہنے پر دیا،شہباز گل کا اعتراف

    فوج کے خلاف بیان عمران خان کے کہنے پر دیا،شہباز گل کا اعتراف

    تحریک انصاف کے چیئرمین ، سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو گرفتار کر لیا گیا ہے دوران تفتیش شہباز گل نے انکشاف کیا کہ فوج کے خلاف بیان پارٹی سربراہ عمران خان کے کہنے پر دیا.

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے پولیس تفتیش میں اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فوج میں بغاوت کے حوالے سے بیان پارٹی سربراہ یعنی عمران خان نے دینے کو کہا تھا۔

    سینئر صحافی و اینکرپرسن طلعت حسین نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شہباز گل نے تفتیشی افسران کو بتایا ہے کہ مجھے پارٹی سربراہ نے کہا تھا کہ آپ نےیہ بیان دینا ہے۔

    شہباز گل نے دوران تفتیش مزید بتایا کہ مجھے کہا گیا تھا کہ آپ اپنا بیان مکمل کرنا آپ کو چینل کی طرف سے کوئی نہیں روکے گا۔

    وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ افواج پاکستان سرحدوں کی حفاظت کی ضامن ہے اور ہمارا فخر ہے، فوج کے خلاف پراپیگنڈا ملک دشمن ہی کر سکتا ہے،جو کوئی بھی فوج کے خلاف بات کرتا ہے اس کو ڈکلیئر کیا جائے کہ وہ پاکستان اور دین اسلام کا دشمن ہے،کسی بھی شکل میں افواج پاکستان کے خلاف بات نہیں کر سکتے.

    چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ ن لیگ والے غلط اور بے بنیاد پراپیگنڈا کر رہے ہیں،عمران خان، تحریک انصاف ،ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں،کسی کو بھی فوج کا نام بد نام کرکے سیاسی مقاصد حاصل کرنے نہیں دیں گے،ن لیگ کے میڈیا سیل سے جھوٹا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے.

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ترجمان حافظ حمداللّٰہ نے کہا ہے کہ نجی ٹی وی پر شہباز گل کے بیان سے واضح ہوا کہ وہ فوج کو ادارے کے سربراہ کے خلاف بغاوت پر اُکسا رہے ہیں۔ حافظ حمداللّٰہ نے کہا کہ یہ شہباز گل کا ذاتی بیان نہیں بلکہ عمران نیازی اور پی ٹی آئی کا بیانیہ ہے۔

    ایک بیان میں حافظ حمد اللّٰہ نے کہا کہ عمران خان نے ہاتھ سے اقتدار جانے کے بعد ہمیشہ اداروں کی نیوٹریلٹی کو نشانے پر رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے بیان کے بعد عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے کسی ذمہ دار نے مذمت تک نہیں کی۔حافظ حمداللّٰہ نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم ملک، آئین اور اداروں کے خلاف ہونے والی ہر قسم کی سازش اور نفرت انگیز بیانیہ کے مقابلے میں کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔

    پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ فوج کیخلاف مہم کی کسی سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں انکوائری کرائیں پتا چل جائے گا.

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہےکہ اقتدار کی محرومی نے عمران خان کو پاگل کردیا ہے، اداروں پر حملہ یا بغاوت کی ترغیب دینا صریحاً ملک دشمنی ہے۔ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اقتدار نا پائیدار چیز ہے، ہمیشہ کسی کے پاس نہیں رہتا۔

    وزیردفاع کا کہنا تھا کہ اختلاف کرناحق ہے، مگراداروں پر حملہ یا بغاوت کی ترغیب دینا صریحاً ملک دشمنی ہے، اقتدار کی محرومی نے عمران خان کو پاگل کردیا ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاک فوج کو ٹارگٹ کرکے عمران اور اس کے حواری ملک دشمن ایجنڈے پرکام کر رہےہیں۔

    اس سے پہلے شہباز گل کو گرفتار کیا گیا تھ ، شہباز گل کے خلاف اداروں کیخلاف بیان بازی اور عوام کو اداروں کیخلاف اکسانے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ، پولیس نے شہباز گل کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کر لیا، مقدمہ ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر 124 اے سمیت مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا۔

    مقدمے میں دفعہ 505،120،124 اے اور 196 شامل کی گئی ہیں ،درج مقدمے میں شہباز گل پر فوج کے خلاف اکسانے کا الزام عائد گیا گیا ایف آئی آر میں نجی ٹی وی چینل پر کی گئی گفتگو کا بھی ذکر کیا گیا،ایف آئی آر کے متن مین کہا گیا ہے کہ ملزم نےبیان سوچ سمجھ ملکی سالمیت کو نقصان پہچانے کیلئے دیا ملزم ایسا بیان دے کر ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل مجرمانہ سازش کا مرتکب ہوا مقدمہ غلام مرتضیٰ چانڈیو مجسٹریٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا.

  • بنی گالا کے باہر پی ٹی آئی کارکن نے کیمرہ مین کو تھپڑ مار دیا

    بنی گالا کے باہر پی ٹی آئی کارکن نے کیمرہ مین کو تھپڑ مار دیا

    پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالا کے باہر صحافیوں کے ساتھ بد تمیزی کی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

     

    شہباز گل گرفتار،بغاوت کا مقدمہ درج

     

    پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید کی میڈیا ٹاک کے دوران پی ٹی آئی کے تشدد پسند کارکن نے نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین کو تھپڑ مار دیا۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے کیمرہ مین حضرات سے دھکم پیل کی اورنا زیبا زبان استعمال کی۔ پی ٹی آئی کارکن نے نجی چینل کا کیمرہ گرا دیا جس سے کیمرے کو نقصان پہنچا.

    نعرے ریاست مدینہ کے اور غلامی امریکہ کی ،واہ شہباز گل

    راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرف سے صحافیوں کے ساتھ بد تمیزی اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے. آر آئی یو جے کے صدر عابد عباسی ،جنرل سیکرٹری طارق علی ورک ،فنانس سیکرٹری کاشان اکمل گل اور مجلس عاملہ کے اراکین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے ویڈیو جرنلسٹس واجد،ارسلان بلوچ،مدثر جاوید اور دیگر صحافیوں پر تشدد کیا گیا ہے جس کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا ،پی ٹی آئی اپنے کارکنان کی تربیت کرے اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ایسے عناصر کے خلاف کاروائی عمل میں لائیں جو ان کی پارٹی کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ صحافی اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں فرائض کی ادائیگی کے دوران اس طرح کے واقعات کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی صحافیوں پر تشدد نہ کرے اگر صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو آر آئی یو جے جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی

    علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا ہے کہ شہباز گل کو اغوا کیا گیا، ہمیں کچھ پتا نہیں وہ کہاں ہیں۔ایک بیان میں فیصل جاوید نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) جو زبان اداروں کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں حکمران 13 جماعتوں کو شکست دی تھی۔ پی ٹی آئی سینیٹر نے مزید کہا کہ 13 اگست کو لاہور میں تاریخی جلسہ ہوگا، جس میں عمران خان آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔