Baaghi TV

Author: +9251

  • سیف علی خان نے ہرتیک روشن کے ساتھ کام کرنے کے سوال پر کیا کہا؟

    سیف علی خان نے ہرتیک روشن کے ساتھ کام کرنے کے سوال پر کیا کہا؟

    چھوٹے نواب سیف علی خان کا شمار بالی ووڈ کےباصلاحیت اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کاک ٹیل، گو گوا گون، دل چاہتا ہے جیسی دیگر فلموں میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا ہے۔سیف علی خان جتنا مرضی اپنے کام میں‌مصروف رہیں لیکن اپنی فیملی کو پورا وقت دیتے ہیں وہ اکثر اپنے بچوں‌کے ساتھ وقت گزارتے ہیں. سیف علی خان نے ہمیشہ جو بھی کیا ہے وہ اس کے بارے میں‌بہت کلئیر رہے انہوں نے بڑے بڑے فنکاروں‌کے ساتھ کام کیا وہ اتنا کام کر چکے ہیں اور ان کا کام کا اتنا تجربہ ہے کہ وہ آج بہت سارے معاملات پر کھل کر بات کر سکتے ہیں.سیف علی خان مانتے ہیں‌کہ وہ جب انڈسٹری میں آئے تھے تو ان کا جو رویہ

    یا طرز عمل تھا اس کے نتیجے میں ان کو ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑا. سیف کا خیال تھا کہ سیٹ پر بس اچھا وقت گزارنا ہے اسکے علاوہ انکو کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی. اداکار کو جب ہرتیک روشن کے ساتھ فلم ”نہ تم جانو نہ ہم” میں کرنے کی آفر ہوئی تو انہوں نے 2001 کے ایک انٹرویو میں کچھ یہ باتیں کہیں تھیں.انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ ہرتیک بہت بڑے سٹار ہیں جو کامیابی اور رتبہ ان کو ملا ہے وہ اتنا آسان نہیں ہوتا اور سٹار بننا ویسے بھی آسان نہیں ہوتا .اداکار نے یہ بھی کہا تھا کہ لاکھوں لوگوں کو متاثر کرنا بھی ایک بات ہوتی ہے. اداکار نے اُس وقت یہ بھی کہا کہ میں جانتا ہو‌ں کہ میک اپ وین میں مجھ سے بڑے اداکار بیٹھے ہیں اور مجھے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے. میں ہرتیک کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے اوکے ہوں میرا اس حوالے سے کوئی انا کا مسئلہ نہیں ہے. اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہرتیک آج ایک بہترین سٹار ہیں اور میں اس بہترین سٹار کے ساتھ کام کرنا چاہوں گا. یاد رہے کہ سیف علی خان آخری بار فلم بھوت پولیس میں نظر آئے تھے.اداکاراب وکرم ویدھا میں ہریتک روشن اور رادھیکا آپٹے کے ساتھ نظر آئیں گے۔ یہ فلم 30 ستمبر 2022 کو ریلیز ہو رہی ہے۔

  • بڑی بہن کاجول کے ساتھ ہونے والے موازنے پر تنیشا بول پڑیں

    بڑی بہن کاجول کے ساتھ ہونے والے موازنے پر تنیشا بول پڑیں

    تنیشا مکھرجی نے 2003 میں ڈینو موریا اور کرن ناتھ کے ساتھ فلم Sssshhh سے بالی ووڈ میں اپنے کیرئیر کی شروعات کی۔ اس کے بعد انہوں‌نے نیل اینڈ نکی، پاپ کارن کھاؤ ودیگرفلمیں کیں. تنیشا نے بگ باس 7 اور فیئر فیکٹر،خطروں کے کھلاڑی 7 جیسے ریئلٹی شوز میں بھی حصہ لیا ہے۔ تنیشا اداکارہ کاجول کی چھوٹی بہن اور سینئر اداکارہ تنوجا کی بیٹی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے بالی وڈ ہنگامہ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بڑی بہن کاجول کا سفر ان سے بالکل مختلف تھا لیکن ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ کیا گیا جو کہ بنتا نہیں‌. انہوں‌نے کہا کہ پتہ نہیں‌کیوں لوگوں‌کے ذہنوں میں ہم دونوں کو لیکر موازنہ رہا.تنیشا نے

    مزید کہا کہ جب آپ ایسے بیک گرائونڈ سے آتے ہیں کہ جب آپ کے پاس بہت سارے مواقع اور مراعات ہوتی ہیں تو پھر آپ کے پاس غلطیاں‌کرنے کے زیادہ مواقع نہیں ہوتے. ایسی صورتحال میں زیادہ سیکھنے کا موقع بھی میسر نہیں آتا. انہوں نے مزید کہا ہےکہ آپ کی والدہ اگر ایک کامیاب عورت ہوں تو آپ کی زندگی خاصی سہل ہوجاتی ہے.آپ کے پاس وہ سارے مواقع ہوتے ہیں جو کسی دوسرے نیو کمر کے پاس نہیں‌ہوتے ، پھر آپ کی بہن بھی ایک کامیاب سٹار ہو تو پھر چیزیں آپ کے لئے مشکل ہوجاتی ہیں. میں خوش قسمت ہوں کہ ایک ایسی جگہ سے آئی جہاں میرے لئے زیادہ مشکلات نہیں تھیں. تنیشا نے کہا کہ جو بھی اس انڈسٹری میں آتا ہے اس کے لئے نیا سفر اور اس سفر کی مشکلات بھی نئی ہوتی ہیں کچھ بیرئیرز ایسے ہوتے ہیں جو انہیں‌ہر حال میں عبور کرنے پڑتے ہیں.اداکارہ نے مزید کہا کہ اس انٍڈسٹری میں رہنے کےلئے ذہنی طور پر آپ کو مضبوط ہونا چاہیے.

  • کورونا سے اموات میں اضافہ، مزید 9 مریض انتقال کرگئے

    کورونا سے اموات میں اضافہ، مزید 9 مریض انتقال کرگئے

    ملک میں کورونا سے اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مزید 9 مریض انتقال کرگئے۔

    قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ ) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مزید 9مریض انتقال کر گئے جبکہ 160 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔


    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 20 ہزار949 ٹیسٹ کئےگئے جس میں 806 افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔ این آئی ایچ کا مزید کہنا ہے کہ کورونا کے 160 مریضوں کی حالت نازک ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 3.85 ریکارڈ کی گئی۔

  • فارن فنڈنگ کیس:عمران خان کی نااہلی کے لیے ایک چارچ شیٹ ہے:ریما عمر

    فارن فنڈنگ کیس:عمران خان کی نااہلی کے لیے ایک چارچ شیٹ ہے:ریما عمر

    لاہور:عمران خان کوکیا واقعی نااہل کردیا جائے گا:ریما عمر نے وجوہات بیان کردیں ،دوسری طرف قانونی ماہر ریما عمر نے اس حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ” دوہزار سولہ میں حنیف عباسی نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن جمع کرائی، جس میں کئی گزارشات میں ایک عمران خان کی ناہلی کی بھی درخواست تھی اور یہ دلیل دی گئی تھی کہ عمران خان نے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کے حوالے سے جھوٹے سرٹیفیکیٹس جمع کرائے ہیں۔ عدالت نے جواب دیا تھا کہ عدالت اس سوال کا فیصلہ صرف اس وقت کر سکتی ہے جب الیکشن کمیشن کو اس بات کا ثبوت مل جائے کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی ہے۔‘‘

    کئی ناقدین کا خیال ہے کہ اگر حنیف عباسی کی درخواست میں اٹھائے گئے سوال کو عدالت میں لے جایا جائے تو اس سے عمران خان کی نااہلی کا سوال اٹھ سکتا ہے۔

     

    ریما عمر کہتی ہیں کہ کے مطابق ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد الیکشن کمیشن میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے ، درخواست گزار محمد فائق شاہ نے درخواست میں استدعاکی ہے کہ جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر عمران خان کو 62ون ایف کے تحت نااہل کیا جائے ۔

    ریما عمر کہتی ہیں کہ چونکہ سپریم کورٹ کےسامنے اس حوالے سے کئی بار توجہ مبذول کروائی گئی ہے کہ پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ لی ہے توسپریم کورٹ نے یہ واضح کردیاتھاکہ جب تک الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ نہیں سناتا اس وقت تک اس پر کارروائی نہیں کرسکتے ، ریما عمرکا کہنا ہے کہ اب الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا ہے اوراب یہی امکان ہےکہ عمران خان کو شاید سپریم کورٹ سےبھی ریلیف نہ ملے

    ٰیہ بھی یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں دائر کی گئی درخواست میں الزام عائد کیا کہ 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے لاکھوں ڈالرز پی ٹی آئی کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے اور تحریک انصاف نے یہ بینک اکاؤنٹس الیکشن کمیشن سے خفیہ رکھے۔

  • پاکستان آسیان اقتصادی رابطہ فورم کا اجلاس،تجارتی تعلقات بہتر بنانے کیلئے مشاورت

    پاکستان آسیان اقتصادی رابطہ فورم کا اجلاس،تجارتی تعلقات بہتر بنانے کیلئے مشاورت

    اسلام آباد:پاکستان آسیان اقتصادی رابطہ فورم کے مقررین نے پاکستان -آسیان آزاد تجارت کے منصوبے کو حتمی شکل دینے پر زور دیا ہے،منگل کو چیئر مین ایشین انسٹیٹیوٹ آف ایکو سیولائزیشن ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ زاہد لطیف خان نے پاکستان آسیان اقتصادی راوابط کے موضو ع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور آسیان کو آزاد تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے فوری ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے،پاکستان مواقوں کی سرزمین ہے،اقتصادی شعبوں ،جعرافیے ،اور رابطوں کا ذریعہ بننے کے حوالے سے پاکستان کو کلیدی حیثیت حاصل ہے،آسیان کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے،

    اجلاس میں انڈونیشیائ،ویت نام،ملائشیائ،برونائی دارالسلام اور فلپائین کے سفیروں کے علاوہ آر سی سی آئی کے صدر ندیم روئف نے بھی شرکت کی۔انڈونیشیاء کے سفیر ایڈم ملومن نے اپنے خطاب میں تجویز پیش کی کہ راولپنڈی چیمبر میں پاکستان آسیان کے در میان اقتصادی اور تجارتی روابط کو فروغ دینے کیلئے فوکل ڈیسک قائم ہونا چاہیے،جس پر آر سی سی آئی کے صدر ندیم روئف نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے شرکاء کو یقین دلایا کہ وہ ڈیسک کے قیام کے حوالے سے پاکستان آسیان اقتصادی روابط فورم کے ساتھ ملک کر کام کریں گے،

    اجلاس میں ویتنام کے سفیر نے اقتصادی اور تجارتی روابط کے فروغ کیلئے پالیسوں میں استحکام ،تسلسل اور مستقل مزاجی کی ضرورت پر زور دیا،برونائی کے سفیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ برونائی ایل این جی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دے رہا ہے،ملائشیاء کے ناظم الامور فیصل احمد صالح نے کہا کہ ملائشیا دو طرفہ روابط بڑھانے کیلئے پاکستان سے براہ راست پروزاوں کا آغاز کر رہاہے،اجلاس کے دوران تجویز پیش کی گئی کہ آسیان کو پاکستان میں خصوصی اقتصادی زون کے قیام کیلئے کام کرنا چاہیے،جس کے نتیجے میں اقتصادی شعبے میں بہترین مواقع پیدا ہوں گے۔

     

  • فارن فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی مرکزی قیادت کے نام ای سی ایل میں ڈالے جانےکا امکان

    فارن فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی مرکزی قیادت کے نام ای سی ایل میں ڈالے جانےکا امکان

    ممنوعہ فنڈنگ کے معاملے پر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالے جانے کا امکان ہے۔

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سربراہی اجلاس ختم ہوگیا جس میں الیکشن کمیشن کے پاکستان تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے پر مشاورت کی گئی۔ وفاقی وزیر قانون نے اجلاس کے شرکاء کو الیکشن کمیشن کے فیصلے پر بریفنگ دی۔

    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے عمران خان کے جھوٹوں کو بے نقاب کیا جب کہ پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت نے جلد بازی میں نہیں سمجھداری کے ساتھ اس معاملے پر آگے بڑھنا ہے،بعد ازاں حکومت نے الیکشن کمیشن فیصلے پر قانونی ٹیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے ، وزیر قانون کی سربراہی میں قانون ٹیم فیصلے پر سفارشات مرتب کرے گی ، فارق ایچ نائیک، کامران مرتضی بھی قانونی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے نام ای سی ایل میں ڈالے جانےکا امکان ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کے معاملے کو مثال بنایا جائے گا اور اس حوالے سے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔پی ڈی ایم نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ میں بحث کے بعد قانونی کاروائی کا فیصلہ کیا جائے گا ۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزراء کو الیکشن کمیشن فیصلے کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے پی ڈی ایم اجلاس میں سیاسی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔سیاسی کمیٹی خورشید شاہ ، سردار ایاز صادق، خواجہ آصف اور دیگر رہنماؤں پر مشتمل ہے ، سیاسی کمیٹی الیکشن کمیشن فیصلے پر اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔

    خیال رہےکہ الیکشن کمیشن نے 8 سال بعد پاکستان تحریک انصاف کی ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنادیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ لی، ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے پر پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہےکہ کیوں نہ ان کے ممنوعہ فنڈز ضبط کیے جائیں، الیکشن کمیشن دفتر قانون کے مطابق باقی کارروائی بھی شروع کرے۔

  • مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ  ہیں:چین:

    مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ ہیں:چین:

    اسلام آباد: پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ اور اکیڈمی آف کنٹمپریری چائنا اینڈ ورلڈ اسٹڈیز نے پاکستان اور چین کے مقررین کے ساتھ ‘گلوبل ڈویلپمنٹ اینڈ گورننس’ کے موضوع پر ‘پاکستان اور چین کے درمیان گورننس ایکسپیرینس ایکسچینج’ کے موضوع پر ایک مکالمے کا اہتمام کیا۔ افتتاحی کلمات پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے دیے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹ آف پاکستان کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین اور پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین، اور چائنا انٹرنیشنل کمیونیکیشن گروپ (CICG) کے نائب صدر اور چیف ایڈیٹر گاؤ اینمنگ۔ اس مکالمے کو پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید اور اکیڈمی آف کنٹیمپریری چائنا اینڈ ورلڈ سٹڈیز کے نائب صدر لن کن نے ماڈریٹ کیا۔

    پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ، جنہوں نے پاکستان واپسی کے بعد اپنی پہلی عوامی مصروفیت کی تھی، نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ چین زمینی حالات کے مطابق اس کے ترقیاتی ماڈل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کی حمایت کرنے کا خواہاں ہے کیونکہ دونوں ممالک ہر موسم کے دوست CPEC کے ذریعے، چین گورننس کے شعبے میں اپنے تبادلے کو بڑھانے کے لیے بھی بے چین ہے، جیسے کہ غربت کی سطح کو کم کرنا اور لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنا۔ انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) کی بھی تعریف کی، جس کے اقدامات نے چین کو بہت زیادہ تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پی سی کی آئندہ 20ویں کانگریس مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرے گی اور نئے مقاصد طے کرے گی جو تمام لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے مل کر کام کرنے سے حاصل کیے جائیں گے۔ چین اور پاکستان سٹریٹجک اتحادی ہیں جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

    پاکستان کی سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین اور پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے شروع میں چین کو پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے قیام کی 95ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کی جو کہ خصوصی طور پر منائی گئی۔ جی ایچ کیو نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر، اور سینیٹر مشاہد حسین نے پاک فوج اور پی ایل اے کے درمیان قریبی تعاون کی تعریف کی، جس میں پاکستان کے سی او ایس، جنرل باجوہ کے تبصرے بھی شامل ہیں، کہ دونوں فوجیں ‘بھائی بھائی’ ہیں۔

    امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ ایشیا اور تائیوان کے سفر کے عارضی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر مشاہد نے کہا کہ یہ ایک غیر ضروری اور غیر ضروری اشتعال انگیزی ہوگی، انہوں نے مزید کہا کہ ایک امریکی عہدیدار کا اس طرح کا اعلیٰ سطح کا دورہ ون چائنا پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ شنگھائی کمیونیک میں امریکہ اور عوامی جمہوریہ چین کی طرف سے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اشتعال انگیزی ایشیا کو غیر مستحکم کرنے اور ایک نئی قسم کے تصادم کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کا ایشیا اس مشکل وقت میں متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ون چائنا پالیسی اور چین کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کے تحفظ، فروغ اور تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو پر بھی تبادلہ خیال کیا جسے انہوں نے اکیسویں صدی کی سب سے اہم ترقی اور سفارتی اقدام قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ سی پی ای سی، بی آر آئی کا فلیگ شپ انڈرٹیکنگ، قابل تعریف طور پر ترقی کر رہا ہے کیونکہ اس نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنایا ہے اور اس کے شہریوں کی سماجی اقتصادی حیثیت کو بلند کیا ہے۔ آخر میں، اس نے ہارورڈ یونیورسٹی کے دو مطالعات کا حوالہ دیا۔ پہلی تحقیق جس کا عنوان تھا ‘انڈرسٹینڈنگ سی سی پی ریزیلینس: سروےنگ چائنیز پبلک اوپینین تھرو ٹائم، ایش سینٹر فار ڈیموکریٹک گورننس اینڈ انوویشن آف ہارورڈ یونیورسٹی نے جولائی 2020 میں شائع کیا۔ . ہارورڈ یونیورسٹی کے گراہم ایلیسن کی دوسری تحقیق کا عنوان تھا "The Great Tech Rivalry: China vs. the U.S.” مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے 2020 میں 250 ملین کمپیوٹرز، 25 ملین آٹوموبائلز اور 1.5 بلین اسمارٹ فونز تیار کرتے ہوئے دنیا کے اعلیٰ ترین ہائی ٹیک مینوفیکچرر کے طور پر امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مزید یہ کہ اس میں کہا گیا ہے کہ مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بننے کے علاوہ، چین ایک سنجیدہ ملک بن گیا ہے۔ 21ویں صدی کی بنیادی ٹیکنالوجیز میں مدمقابل: مصنوعی ذہانت (AI)، 5G، کوانٹم انفارمیشن سائنس (QIS)، سیمی کنڈکٹرز، بائیو ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور سبز توانائی۔

    چائنا انٹرنیشنل کمیونیکیشنز گروپ (CICG) کے نائب صدر اور چیف ایڈیٹر گاؤ این منگ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت اعلیٰ معیار کے تعاون کو گہرا کرنے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کو فعال طور پر فروغ دینے پر زور دیا۔ عالمی ترقی رابطے اور کھلے تعاون سے الگ نہیں ہے۔ "بیلٹ اینڈ روڈ” کی مشترکہ تعمیر ترقی کو آگے بڑھاتی ہے، جیت کے نتائج کی حمایت کرتی ہے، اور امید کا اظہار کرتی ہے۔ "بیلٹ اینڈ روڈ” کی مشترکہ تعمیر میں ایک تاریخی منصوبے کے طور پر، چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر دونوں ممالک کے درمیان جیت کے تعاون کی ایک عملی مثال ہے۔ 2015 میں تعمیر کے آغاز سے لے کر اب تک چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان میں 25.4 بلین امریکی ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری لے کر آئی ہے جس کے 22 ترجیحی منصوبے مکمل ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں 70,000 سے زائد ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں جس سے لوگوں کی روزی روٹی میں بہتری آئی ہے۔ ہونے کی وجہ سے.

    افتتاحی کلمات کے بعد، ایک مشترکہ تحقیقی اشاعت بعنوان "پاکستان کا نقطہ نظر چین کے نئے دور میں گورننس (2012-2022): پرسیپشن اینڈ انسپیریشن” سفیر ®️ اعزاز احمد چوہدری، سابق سیکرٹری خارجہ اور موجودہ ڈی جی، انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک نے جاری کیا۔ مطالعہ. مقالہ پیش کرتے ہوئے اعزاز چوہدری نے کہا کہ چین دیگر ممالک کی نسبت بہت تیزی سے ترقی کی سیڑھی چڑھ چکا ہے۔ ماو زے تنگ کے تحت، چین نے تین اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی: عالمی تعلیم، افرادی قوت میں خواتین کو متحرک کرنا، اور افرادی قوت میں لوگوں کو متحرک کرنا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ انہوں نے چینی حکمرانی کی دو نمایاں خصوصیات کا مشاہدہ کیا: پہلا، چین ایک واضح وژن اور مقصد کے ساتھ حکمرانی پر قائم ہے۔ چین اس کے ذریعے 2049 تک چین کو ایک معتدل خوشحال معاشرہ بنانے کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دوسرا، ایسا لگتا ہے کہ چینی حکمرانی کا نظام شروع میں ہی مرکزیت کا شکار ہے۔ درحقیقت، یہ انتہائی غیر مرکزیت یافتہ ہے کیونکہ تمام کاؤنٹیوں اور ٹاؤن شپس میں مقامی کانگریس اعلیٰ سے رہنمائی کے ساتھ جمہوری طریقے سے منتخب کی جاتی ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک کو چین کے پرامن عروج سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

    اکیڈمی آف کنٹیمپریری چائنا اینڈ ورلڈ سٹڈیز کے صدر یو یون کوان نے کہا کہ رپورٹ میں بہت سے پاکستانی ماہرین کا خیال ہے کہ چین کے نئے دور میں "گڈ گورننس” حاصل کرنے کی دو وجوہات ہیں: ایک صدر شی جن پنگ کی دانشمندانہ قیادت۔ جن کے ملک پر حکمرانی کے خیالات کو پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سمیت عالمی برادری نے بہت زیادہ تسلیم کیا ہے اور دوسرا جمہوری مشاورتی طرز حکمرانی عوامی طاقت کی وسیع نمائندگی کو اکٹھا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، چین میں 1 بلین سے زیادہ ووٹروں نے کاؤنٹی اور ٹاؤن شپ کی سطح پر ہونے والی عوامی کانگریسوں کے لیے براہ راست 20 لاکھ سے زیادہ نائبین کا انتخاب کیا، جو شاید دنیا کا سب سے بڑا گراس روٹس الیکشن ہے۔

    پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے کہا کہ اصلاحات اور کھلے پن کا دور ایک ایسا موڑ تھا جس نے چین کو تبدیل کیا۔

    چائنا انٹرنیٹ انفارمیشن سینٹر کے چیف ایڈیٹر وانگ شیاؤہوئی نے صدر شی جن پنگ کے حوالے سے کہا کہ ‘صرف جوتے پہننے والا ہی بتا سکتا ہے کہ یہ فٹ ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کا ترقیاتی ماڈل عوام پر مبنی ہے اور اس نے اس عرصے کے دوران نمایاں منافع حاصل کیا ہے۔ CPEC پر تبصرہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے اس کے پہلے مرحلے کے دوران تعاون کو گہرا کیا، جس کے نتیجے میں توانائی کے بحران میں کمی اور بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری ہوئی۔

    چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے بیورو آف انٹرنیشنل کوآپریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر یی ہیلن نے کہا کہ آنے والے دنوں میں دنیا یوکرین کے بحران سے پیدا ہونے والے عالمی سپلائی چین میں خلل کی وجہ سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا مشاہدہ کرے گی۔ مزید یہ کہ نینسی پیلوسی کا تائیوان کا عارضی دورہ خطے کی صورتحال کو مزید کشیدہ کر دے گا۔ عالمی برادری کو ان مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کی کشیدگی سے کسی بھی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے CPEC میں تیسرے فریق کی شرکت پر بھی زور دیا۔

    سلطان ایم حالی نے نپولین بوناپارٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘چین کو سونے دو۔ کیونکہ جب وہ بیدار ہو گی تو دنیا کو ہلا کر رکھ دے گی۔‘‘ انہوں نے اپنے پیشرووں کی طرف سے جاری خوشحالی کی رفتار کو برقرار رکھنے پر صدر شی جن پنگ کی تعریف کی۔ نئے دور (2012-2022) میں چین کی حکمرانی عوام کی خوشحالی کے لیے پالیسی کی مستقل مزاجی اور عزم کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے چین کے اندرون ملک کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے اور ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کو طبی امداد کی صورت میں فراہم کی جانے والی امداد کی بھی تعریف کی۔

    ڈاکٹر ژانگ جڈونگ، ریسرچ فیلو، ڈویژن ڈائریکٹر برائے بین الاقوامی تعاون، قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن نے صدر شی جن پنگ کے حوالے سے کہا کہ چین اور پاکستان ہمہ موسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت دار ہیں اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلق مسائل پر مضبوطی سے ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ اور اہم خدشات۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور دوستی 70 سال کے بین الاقوامی اتار چڑھاؤ کے امتحان پر کھڑی رہی ہے اور ہمیشہ ہی مضبوط رہی ہے۔

    نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی، لاہور کے ڈین ڈاکٹر صفدر سہیل نے کہا کہ CPEC پاکستان اور چین کے درمیان گہرے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کا روڈ میپ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اس تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور یہ دونوں فریقین کی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہو گا۔

    سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد نے کہا کہ ہم نے چین سے کمیونٹی لیول گورننس کی اہمیت سیکھی جس نے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف معاشی ترقی غربت کو ختم نہیں کر سکتی جب تک کہ معاشی سرگرمی روزگار پیدا نہیں کرتی۔ مزید یہ کہ انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے میں خدمات کے شعبے کو شامل کرنے کی تجویز دی۔

    ویبنار ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہا اور اس میں 50 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔ طلباء، اسکالرز اور میڈیا کے متنوع سامعین نے اس ویبینار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

  • بلوچستان:24 گھنٹوں کے دوران سیلاب سے مزید 15 افراد جاں بحق

    بلوچستان:24 گھنٹوں کے دوران سیلاب سے مزید 15 افراد جاں بحق

    کوئٹہ :گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں بارش و سیلاب سے مزید 15 افراد لقمہ اجل بن گئےتفصیلات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بلوچستان میں 15 مزید ہلاکتوں کی بعد صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 165 تک پہنچ گئی ہے جب کہ جاں بحق ہونیوالوں میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے اب تک کے نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 67 مرد 43 خواتین اور 54 بچے شامل ہیں، یہ اموات بولان، کوئٹہ، ژوب، دکی، خضدار ، کوہلو، کیچ، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ اور سبی میں ہوئی۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بارشوں کے دوران حادثات کا شکار ہوکر 74 افراد زخمی ہوئے، زخمیوں میں 47 مرد 11 خواتین اور 16 بچے شامل ہیں جب کہ مجموعی طور پر صوبے بھر میں 13 ہزار 975 مکانات منہدم اور جزوی نقصان پہنچا ہے۔

    پی ڈی ایم اے رپورٹ میں کہا گیا کہ بارشوں میں 670 کلو میٹر مشتمل مختلف 6 شاہرائیں شدید متاثر ہوئی ہیں، بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر 16 پل ٹوٹ چکے ہیں، بارشوں سے 23 ہزار 13 مال مویشی مارے گئے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 1 لاکھ 98 ہزار 461 ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں، سولر پلیٹس، ٹیوب ویلز اور بورنگ کو نقصانات پہنچا ہے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں سیلابی صورتحال کی نگرانی کرنے والا پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر گزشتہ روز لاپتہ ہوگیا تھا اور آج آئی ایس پی آر نے ہیلی کا ملبہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کورکمانڈر 12کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہو گئے، شہداء میں ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد بھی شامل ہیں۔

  • حکومت اور سیاسی جماعتیں عمران خان کے خلاف فوری ایکشن لیں ،نواز شریف

    حکومت اور سیاسی جماعتیں عمران خان کے خلاف فوری ایکشن لیں ،نواز شریف

    مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ثاقب نثار صاحب چاہے ریٹائر ہو گئے ہیں لیکن وقت آئے گا اور ان کو ان سب باتوں کا جواب دینا پڑے گا.

    لندن میں میڈیا کے نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ عظمت شیخ صاحب جو جج تھے ان کو اس بات کا جواب دینا پڑے گا،انہوں نے وٹس ایپ پر کس طرح سے جے آئی ٹی بنائی؟،اب کھوسہ صاحب کو بھی اس بات کا جواب دینا پڑے گا کہ انہوں نے عمران خان کو کہا تم کیوں سڑکوں پر پھرتے ہو ؟ اؤ ہمارے پاس اپنا کیس لے کر آؤ،ہم فیصلہ سنائیں گے.

    نواز شریف نے کہا کہ حد ہوتی ہے نا انصافیوں کی ،ظلم کی، ذیادتیوں کی، میرے خلاف ظلم ،ذیادتی ،ناانصافی کرتے کرتے پاکستان کو ڈبو دیا.پاکستان کو نعوزوبلا تباہ وبرباد کر دیا.آج پاکستان کو ایسی جگہ پر پہنچا دیا ہے جہان آج پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا مشکل ہو رہا ہے.پاکستان کی معیشت کا گزشتہ چار سال میں وہ حال کر دیا ہے کہ اس کو وینٹی لیٹر پر لے آئے ہیں،جس کی آج دوبارہ سانس بحال کرنا مشکل ہو رہا ہے.

    انہوں نے کہا کہ بے چارے لوگوں کی مہنگائی سے قمر ٹوٹ گئی ہے ، چار سال سے قمر توڑ مہنگائی کا تسلسل چل رہا ہے جو بند ہونے کا نام ہی نہیں لیتا.میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب چیزیں پاکستان کے ساتھ زیادتی ہیں. نواز شریف نے کہا کہ میں بڑے پر زور الفاظ میں حکومت سے کہوں گا اور پاکستان کے سیاسی پارٹیوں کو بھی کہوں گا کہ اس میں کردار ادا کریں اس فتنے کی فتنہ بازی اور شرانگیزی کو اب ہمیشہ کیلئے ختم کریں ،آئین اور قانوں کے مطابق اس کے خلاف فوری ایکشن لیں.

    نوازشریف نے عمران خان کا نام لئے بغیر کہا کہ اس بندے نے پاکستان کے معاشرے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے،ہمارے ملک کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے،ہماری قوم کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے،ہماری معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے. یہ کوئی خارجی ایجنڈا لے کر پاکستان میں آیا تھا جس کو یہ پاکستان میں امپلیمنٹ کر رہا تھا .انہوں نے کہا کہ صادق صاحب جو لندن کے میئر ہیں عمران خان الیکشن میں صادق صاحب کی مدد کرنے کی بجائے ان کے مخالف امیدوار زیک گولڈسمتھ کی مدد کر رہا ہے .

  • ہیپاٹائٹس ہر گھنٹے 4 پاکستانیوں کی زندگی چھین لیتا ہے:ماہرین صحت

    ہیپاٹائٹس ہر گھنٹے 4 پاکستانیوں کی زندگی چھین لیتا ہے:ماہرین صحت

    کراچی :ہیپاٹائٹس ہر گھنٹے 4 پاکستانیوں کی زندگی چھین لیتا ہے:اس حوالے سے ماہرین صحت کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر سولہویں منٹ میں ایک پاکستانی ہیپاٹائٹس اور 31ویں منٹ میں ایک عورت زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار جاتی ہے، ان زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ امراض قابل علاج ہیں، یہ قیمتی جانیں ریت کی طرح ہمارے ہاتھوں سے پھسل رہی ہیں، ہم بے بس ہیں۔

    ماہرین کا کہنا کہ ایک روز میں 50 عورتیں دوران زچگی مر جاتی ہیں لگ بھگ 96 افراد ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، نہ کوئی خبر بنتی ہے نہ سرکاری ادارے توجہ دیتے ہیں، یہ خاموشی ہمیں کن پستیوں میں دھکیل رہی ہے، ہم تو اپنے پڑوسی ممالک بھارت، ایران، بنگلہ دیش سے بھی پیچھے جارہے ہیں، اس پر ہمیں سوچنا اور کچھ کرنا ہوگا، ہمارا شمار افریقا کے پسماندہ ممالک کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق ہیپاٹائٹس اے سے ایک لاکھ اور ہیپاٹائٹس ای سے 60 ہزار افراد سالانہ لقمۂ اجل بن رہے ہیں جبکہ حاملہ خواتین میں شرح اموات اس سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ پاکستان میں بچوں میں ہونیوالے وائرل ہیپاٹائٹس کا 50 سے 60 فیصد ہیپاٹائٹس اے پر مشتمل ہوتا ہے، ابتدائی مراحل میں علامات ظاہر ہونے کی وجہ سے 96 فیصد افراد 5 سال کی عمر تک ہیپاٹائٹس اے کے سامنے مزاحمت رکھتے ہیں دوسری طرف بالغ افراد میں ہیپاٹائٹس اے 3.5 سے 4 فیصد پیچیدہ ہیپاٹائٹس کا باعث بنتا ہے اور تقریباً 98 سے 100 فیصد بالغ افراد کو جوانی میں ہیپاٹائٹس اے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ہیپاٹائٹس اے کی علامات میں بخار، ہاضمے کی خرابی، شدید زرد پیشاب، کمزوری، الٹی، پیٹ کے دائیں جانب درد ہونا، متلی اور چکر شامل ہیں۔ ہیپاٹائٹس سے بچنے کے لیے ویکسین کرانا، پھل اور سبزیاں دھو کر کھانا، اچھی طرح پکا کر کھانا، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوائیں استعمال کرنا، برتن دھو کر استعمال کرنا شامل ہیں۔

    بچوں کو 15 ماہ تک کی عمر تک 6 دفعہ ویکسین دینے سے انہیں 10 جان لیوا بیماریوں سے محفوظ کیا جا سکتا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس کے 2735 مریضوں میں سے 232 اسپتال میں داخل ہوتے ہیں جن میں سے 30 مریض جگر کی خرابی کا شکار ہوتے ہیں۔بالغوں میں 20 سے 22 فیصد اور بچوں میں 2.4 فیصد پیچیدہ ہیپاٹائٹس کی وجہ ہیپاٹائٹس ای ہے، ہیپاٹائٹس ای کے باعث اموات کی شرح 0.4 سے 4 فیصد تک ہے جبکہ دوران حمل یہ شرح کئی گنا 16 سے 33 فیصد تک بڑھ جاتی ہے، گندے پانی، گٹر والے پانی کے باعث ہیپاٹائٹس ای کا پھیلاؤ پاکستان میں شدت اختیار کررہا ہے۔

    ایک سروے کے مطابق سندھ میں خصوصاً کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، اور میرپورخاص گندے اور آلودہ پانی کی فراہمی کے باعث سب سے زیادہ ہیپاٹائٹس اے اور ای کے خطرے سے دوچار ہیں۔

    حالیہ سروے 2020ء کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی سے ایک لاکھ 64 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے، موجودہ رفتار کے ساتھ ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صوبوں کو پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کیلئے سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے، اسپتالوں میں تمام مریضوں کا ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے لیکن مثبت پائے جانے والوں کو علاج کے مقامات پر منتقل نہیں کیا جاتا، ہم ان مریضوں کا معالج سے رابطہ کرانے کا موقع گنوا رہے ہیں۔