Baaghi TV

Author: +9251

  • اُشنا شاہ اور عفان وحید نئی مختصر فلم "جنکشن” میں نظر آئیں گے

    اُشنا شاہ اور عفان وحید نئی مختصر فلم "جنکشن” میں نظر آئیں گے

    اُشنا شاہ اور عفان وحید نئی مختصر فلم "جنکشن” میں نظر آئیں گے، ڈیجیٹل پلیٹ فارم سی پرائم کی نئی مختصر یہ فلم ان کے یو ٹیوب چینل پر ریلیز کی جائے گئی.محسن طلعت کی ڈائریکشن میں تیار کی گئی. تقسیم کے ہند کے وقت 1947کے پس منظر میں بننے والی فلم "جنکشن” کی کہانی دو محبت کرنے والوں جاوید اور نگار کے گرد گھومتی ہے جن کی ملاقات ایک تاریک اور طوفانی رات میں ریلوے اسٹیشن پر ہوتی ہے جہاں وہ اپنی منزل کی ٹرین کا انتظار کررہے ہیں اور غیر منقسم انڈیا میں اپنے بچپن سے بڑے ہونے کے گزرے دنوں کی یاد

    تازہ کرتے ہیں۔ کہانی ردین شاہ کی لکھی ہوئی ہے اور مرکزی کردار اُشنا شاہ اور عفان وحید ادا کررہے ہیں.سی پرائم کی ایگزیکٹیو پروڈیوسرسیمیں نوید کہتی ہیں‌ کہ ہمارا مقصداور ارادہ ان فلموں کے ذریعے ایسا مواد پیش کرنا ہے جو انسان کو اپنے اند ر جھانکنے کی تحریک دے اور ہماری سوچ کے انداز کو مثبت رخ پر تبدیل کرے. یاد رہے کہ شارٹ فلم "جنکشن” جمعہ 29جولائی2022کو یوٹیوب پر ریلیز کی جائے گی.اشنا شاہ اور عفان وحید کا شمار آج کے ٹی وی کے اچھے اداکاروں میں ہوتا ہے دونوں کی اپنی اپنی فین فالونگ ہے. عفان وحیدعموما سنجیدہ کرداروں میں‌ ہی نظر آتے ہیں یقینا اس فلم میں بھی وہ ایک سنجیدہ کردار میں ہی دکھائی دیں گے.

  • کیا آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے پاکستان نے سخت شرائط پر اتفاق کرلیا؟

    کیا آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے پاکستان نے سخت شرائط پر اتفاق کرلیا؟

    پاکستان میں معیشت کی بحالی اہم ترین مسئلہ بن چکی ہے، آئی ایم ایف کے بورڈ کا اجلاس اگست کے تیسرے ہفتے میں ہوگا اور مقامی کرنسی پر دباؤ کی وجہ سے یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کا سامنا کر سکتا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے پاکستان نے سخت شرائط پر اتفاق کیا، پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کی، بجلی گیس کے ٹیرف اور ٹیکسوں میں اضافے کیے۔

    ایکسپریس کے مطابق: ان اقدامات نے عام آدمی کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن آئی ایم ایف کی جانب سے فنڈز کے اجرا میں تاخیر نے مالی اداروں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، روپے کی قدر تاریخ کی نچلی سطح پر جا پہنچی ہیں اور ایک ڈالر240 روپے کا ہو چکا ہے۔

    فہمیدہ حلقوں کی رائے کے مطابق معیشت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے بلکہ تمام جماعتوں کے درمیان میثاق معیشت کی ضرورت ہے، لیکن ملک میں کئی ماہ سے جاری سیاسی عدم استحکام نے ملکی معیشت کو مزید کمزور کیا ہے۔ چند روز قبل وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ملکی معیشت پر میڈیا بریفنگ میں بتایا تھا کہ پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے 129ارب ڈالر ہیں اور 2022-23 میں ان قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے 35 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہے جس میں دسمبر 2022 میں ایک ارب ڈالر کے حکومتی ڈالر بانڈز کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول پر رواں ماہ کے اوائل میں معاہدہ کیا تھا لیکن فنڈز کے اجرا میں تاخیر کی وجہ سے ملکی معیشت کو نقصان ہو رہا ہے، جب کہ سیاسی بحران بھی بڑھ رہا ہے۔

    عمران خان نے مخالفین کو ٹف ٹائم دینے کی خواہش میں ملک میں موجود سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام کو بہت بڑھا دیا۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے موجودہ حکومت بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ پاکستان کو اس وقت معاشی بحران کا سامنا ہے، ذرائع آمدن محدود اور اخراجات میں اضافے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان پر کوئی مشکل آتی ہے تو اس سے صرف حکومت نہیں بلکہ عوام بھی شدید متاثر ہوں گے۔ یہ مشکلات کتنی خطرناک ہوسکتی ہیں یہ جاننے کے لیے صرف سری لنکا کی مثال کافی ہے جہاں معیشت دیوالیہ ہونے کے بعد ہر چیز کی قیمت اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہوچکی ہے۔

    یہ بات سب کے علم میں ہے کہ ہماری مجموعی صنعتی پیداوار میں کمی ہو رہی ہے، برآمدات کے مقابلے میں درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اسمگلنگ میں اضافے کی وجہ سے ہماری اپنی صنعتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ توانائی کے بحران اور توانائی کی قیمتوں میں آئے روز ہونے والے اضافے اور ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے ہمارے پیداواری اخراجات ریکارڈ حد تک بڑھ چکے ہیں جس کی وجہ سے ہم اب عالمی منڈیوں میں مقابلے کے قابل ہی نہیں رہے ہیں۔

    پاکستان غیر ملکی مصنوعات کی منڈی بن چکا ہے سابقہ حکومت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے 1.24کھرب روپے کا مالی بحالی پیکیج دے کر معیشت کو مثبت سمت پر گامزن کر دیا تھا۔ شاید اْن کے دل فریب دعوؤں کا کمال تھا کہ اسٹاک ایکسچینج کے گراف نیچے گر گئے تھے اور ڈالر اْڑان بھرنے لگا، بجٹ خسارہ بھی بڑھنے لگا توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگیں اور ملک میں مہنگائی کے سونامی نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا اور حقیقتاً ملکی معیشت غیر ملکی قرضوں کے سہارے ہی سِسک سِسک کر چل رہی تھی۔

    معیشت کا ہر شعبہ زوال پذیر تھا لیکن تحریک انصاف کے حکمران اصلاح احوال کے بجائے ہر خرابی اور تباہی کی ذمے داری سابقہ حکومتوں پر ڈال کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے میں لگے ہوئے تھے اور پھر چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ آخری بال تک کھیلنے کا دعویٰ کرنے والے ’’پچ خراب کر کے اور وکٹیں اکھاڑ‘‘ کر چل دیے۔

    افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ سابقہ حکومت کے 44 ماہ کے دوران زراعت سمیت پیداواری شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا اور اہم برآمدی شعبہ ٹیکسٹائل کپاس کی پیداوار میں تقریباً 60 فیصد کمی ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ ہمیں اپنی کپاس کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر کے اسے درآمد کرنا پڑا جس سے ہماری معیشت مزید دباؤ میں آگئی دوسرے گندم اور چینی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ان کی درآمد پر بھی بھاری زرمبادلہ خرچ کرنا پڑا۔ پاکستان میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی کوشش کرنا شروع کریں تو اپنے ملک کو مشکل صورتحال سے بچا سکتے ہیں۔

    پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ پر سالانہ 17 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے لیکن ہم تھوڑی سی کوشش سے گاڑی کا استعمال کم کر کے حکومت کو سالانہ 300 ڈالر تک یعنی گاڑی استعمال کرنے والا ہر شہری تقریباً 60 ہزار روپے کا فائدہ پہنچا سکتا ہے جس سے ہمارا امپورٹ بل کم ہوگا اور پاکستان کو ادائیگی کے لیے درپیش مشکلات میں بھی کمی ہوگی۔ پاکستان میں مہنگے موبائل فونز رکھنا ایک فیشن بن چکا ہے اور لوگ نئے نئے ماڈلز کے موبائل فونز خریدنا پسند کرتے ہیں۔

    بیرون ممالک سے موبائل فونز امپورٹ کرنا بھی پاکستان کی معیشت پر بہت بھاری پڑتا ہے۔ ملک میں گزشتہ سال تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کے موبائل فونز درآمد کیے گئے۔ عوام مہنگے فونز کی خریداری کا سلسلہ کچھ عرصہ کے لیے روک کر پاکستان کو بھاری بلز کی ادائیگی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

    ایک طرف کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کنٹرول سے باہر جارہی ہیں تو دوسری طرف پٹرول کی قیمت بھی قابو میں آنا مشکل ہے ایسے میں ملک میں مہنگی گاڑیاں منگوانا کسی بھی طرح دانشمندانہ اقدام نہیں ہوسکتا۔ پاکستان نے گزشتہ سال ڈھائی ارب ڈالر سے زائد کی گاڑیاں امپورٹ کیں، اگر پاکستانی عوام بحران کے دوران غیر ضروری گاڑیاں منگوانا بند کر دیں تو ملک پر معاشی دباؤ کم ہوسکتا ہے۔

    پاکستانی عوام چائے کے بہت زیادہ شوقین ہیں اور یہاں چائے کے بغیر ہر محفل ادھوری سمجھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان پوری دنیا میں چائے کی پتی درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے اور پاکستانیوں کے چائے کے اس شوق کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو سالانہ تقریباً 600 ملین ڈالر تک خرچ کرنا پڑتے ہیں لیکن اگر عوام چائے کا استعمال کم کر دیتے ہیں تو پاکستان کا درد سر کم ہوسکتا ہے۔

    ہمارے ملک میں اور کچھ ہو یا نہ ہو دکھاؤے کے لیے برانڈڈ اشیا کا استعمال ضرور کیا جاتا ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان اشیاء کے لیے حکومت کو بھاری زرمبادلہ بیرون ممالک کو ادا کرنا پڑتا ہے جس کے اثرات ہماری روزمرہ زندگیوں پر بھی ہوتے ہیں، اگر ہم برانڈڈ اشیاء کے بجائے نسبتاً سستی اور مقامی اشیا کو ترجیح دیں تو ہماری معاشی مشکلات کافی حد تک کم ہوسکتی ہیں۔

    پاکستان میں خوردنی تیل بھی پٹرول کی طرح معیشت پر بہت بھاری پڑتا ہے، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ملکی ضرورت کا صرف 10 فیصد مقامی جب کہ 90 فیصد خوردنی تیل بیرون ممالک سے امپورٹ کرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے حکومت کو تقریباً 4ارب ڈالر تک ادا کرنا پڑتے ہیں، لیکن مہنگے اور امپورٹڈ تیل کا استعمال کم کرکے ڈالرز کو ملک سے باہر جانے سے روکا جاسکتا ہے۔

    پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے لیے بھی تیل اور گیس کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان تیل اور گیس دونوں چیزوں کے لیے خود کفیل نہیں ہے بلکہ تیل اور گیس در آمد کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہمارا امپورٹ بل بہت بڑھ جاتا ہے لیکن اگر عوام بتدریج بجلی کا استعمال کم کرکے سولر سسٹم کی طرف جاتے ہیں تو بجلی کی پیداوار کے لیے تیل اور گیس کا استعمال کم ہوسکتا ہے جو معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔ ہمارے ملک میں چیزوں کا ضیاع بہت زیادہ عام ہے۔

    جہاں کسی کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں وہیں کچھ لوگ آدھا کھانا کھاکر باقی ضایع کردیتے ہیں ، اگر ہم اسراف کی یہ عادت تبدیل کر لیں تو ہمیں اپنے بجٹ کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے اور اشیا کی طلب میں بھی بہتری آسکتی ہے کیونکہ جب آپ ضرورت سے زیادہ کوئی چیز خرید کر ذخیرہ کرلیتے ہیں تو مارکیٹ میں اس کی کھپت بڑھ جاتی ہے اور اس کا خمیازہ قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔

    پاکستان میں معاشی بحران کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر کم سے کم ہوتے جارہے ہیں ایسے میں اگر شہری بڑی تعداد میں بیرون ممالک کا سفر کرتے ہیں تو اس کے لیے بھی ڈالرز میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے جس سے ملک کو مزید معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن اگر سفر ناگزیر نہیں ہے تو کچھ وقت کے لیے ہم اپنا ارادہ ملتوی کرکے ملک کو مشکل سے بچاسکتے ہیں۔ خصوصاً سیر و تفریح کے لیے جانے والے باہر سے زیادہ پاکستان میں سیر و تفریح کو ترجیح دیں تو اس سے نا صرف ملک میں سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ ڈالرز کو بیرون ملک جانے سے روکا سکتا ہے۔

    اس وقت پوری دنیا آن لائن کام کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے اور بھارت آن لائن خدمات کی فراہمی کے عوض کروڑوں ڈالرز کما رہا ہے جب کہ ہمارے نوجوان بھی درست رہنمائی نہ ہونے کے باوجود ہزاروں ڈالرز کما رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کو ڈالرز کی بہت زیادہ ضرورت ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈالرز پاکستان کے سسٹم میں شامل ہوں اور ہمارا ملک معاشی مسائل سے چھٹکارا حاصل کرسکے یہ ملک ہمارا ہے، اسے ہم نے بچانا ہے

  • عامر خان کی ٹام ہینکس کو چٹھی

    عامر خان کی ٹام ہینکس کو چٹھی

    رواں برس گیاراں اگست کو ریلیز ہونے والی فلم لال سنگھ چڈھا کے بارے میں‌کہا جا رہا کہ اس کی کہانی ہالی وڈ‌ کی فلم فارسٹ کمپ سے متاثر ہے فارسٹ گمپ میں ٹام ہینکس کے مرکزی کردار کیا تھا. تازہ اطلاعات کے مابق عامر خان نے لال سنگھ چڈھا دیکھنے کےلئے ٹام ہینکس کو ایک خط لکھا ہے اس میں ان کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کی فلم دیکھیں. عامر خان کا کہنا ہےکہ ٹام ہینکس کی ٹیم کی جانب سے انہیں‌ ریسپانس ملا ہے ٹیم نے کہا ہے کہ وہ اداکار کی مصروفیت کو دیکھ رہے ہیں. عامر خان کی ٹام ہینکس کے ساتھ ایک بار پہلے بھی ملاقات ہو

    چکی ہے یہ ملاقات اسٹیون سپیلبرگ سے ملاقات کے دوران ہوئی یہ وہ وقت تھا جب اسپیلبرگ جرمنی میں ٹام ہینکس کے ساتھ ایک فلم کی شوٹنگ کر رہے تھے۔ اسپیل برگ نے عامر خان کو ٹام ہینکس سے متعارف کرایا اور انہیں "جیمز کیمرون آف انڈیا” کہا۔ ٹام ہینکس نے س موقع یہ بھی کہا تھا کہ وہ عامر خان کو جانتے ہیں اور ان کے کام سے واقف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ انہوں نے انکی ‘3 ایڈیٹس’ متعدد بار دیکھی ہے۔یاد رہے کہ عامر خآن کی فلم لال سنگھ چڈھا کے ٹریلر کو شائقین کی جانب سے بہت اچھا ریسپانس مل رہاہے. عامر خان نے اس فلم کی شوٹنگ کےلئے داڑھی کے بال بھی بڑھائے ہیں اور عامر خان ایک مختلف روپ میں نظر آرہے ہیں.

  • غیر ملکی فنڈنگ لینے والی سیاسی جماعت کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا،الیکشن ایکٹ

    غیر ملکی فنڈنگ لینے والی سیاسی جماعت کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا،الیکشن ایکٹ

    الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق فیصلہ آج سنائے گا۔تاہم فارن فنڈنگ کیس کے فیصلہ تین ججمنٹس کی بنیاد پر ہو سکتاہے، جن میں پہلے نمبر پر بھاعت اور اسرائیل وغیرہ کے افراد اور کمپینیوں کی جانب سے کی گئی غیر قانونی فنڈنگ کی تفصیلات.نبر2، الیکشن کمیشن کی جانب سے غیر قانونی اور ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے فائیندنگز جبکہ تیسرے نمبر پر وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق ایکشن بھی لے سکتی ہے.

    الیکشن ایکٹ کے مطابق غیر ملکی فنڈنگ لینے والی سیاسی جماعت کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا، اس کے تمام عطیات ضبط ہو جائیں گے، وفاقی حکومت کے ڈکلیئریشن اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارٹی تحلیل ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی اور مقامی حکومتوں سے بھی باقی مدت کے لیے نا اہل ہو جائے گی۔

    سیاسی جماعتوں کی تشکیل سے متعلق الیکشن ایکٹ کا سیکشن 200 کہتا ہے کہ سیاسی جماعت غیر ملکی امداد سے نہ تشکیل پائے گی، نہ ہی منظم ہو گی۔ سیکشن 2004 کے مطابق سیاسی جماعت کو براہ راست یا بالواسطہ کسی غیر ملکی ذرائع سے عطیہ لینا منع ہو گا۔

    ان میں غیر ملکی حکومت ، ملٹی نیشل کمپنی، فرم، تجارتی یا پیشہ ور ایسوسی ایشن یا افراد شامل ہیں، الیکشن ایکٹ کے مطابق ممنوعہ ذرائع سے ملنے والے عطیات حکومت ضبط کر لے گی، یہ عطیات کیش، اسٹاک، ٹرانسپورٹ، فیول یا دیگر سہولیات کی مد میں ہوسکتے ہیں۔غیر ملکی ذرائع میں ایسے سمندر پار پاکستانی شامل نہیں جو نادرا کا جاری کردہ نائیکوپ کارڈ رکھتے ہوں۔

    سیکشن 212 کے مطابق اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس یا کسی اور ذرائع سے حاصل معلومات سے وفاقی حکومت مطمئن ہو کہ کسی سیاسی جماعت کو غیر ملکی فنڈنگ حاصل ہے تو وہ نوٹیفکیشن کے ذریعے اس کا ڈکلیئریشن کرے گی۔ کوئی بھی سیاسی جماعت پاکستان کی خود مختاری یا سالمیت یا امن و عامہ کے برخلاف تشکیل دی گئی ہو تو وفاقی حکومت آرٹیکل 17 کے تحت ڈیکلیریشن کے15 دن کے اندر معاملہ سپریم کورٹ بھیجے گی اور عدالت عظمیٰ کا ایسے ریفرنس پر فیصلہ حتمی ہوگا، اگر فیصلہ خلاف آیا تو سیاسی جماعت تحلیل کر دی جائے۔

    سیکشن 213 کے تحت تحلیل ہونے والی سیاسی جماعت اگر پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کا حصہ ہو تو وہ باقی مدت کے لیےاس کا حصہ نہیں رہ سکے گی۔

    سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ فارن اور ممنوعہ فنڈنگ ایک ہی چیز ہے ، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں فارن فنڈنگ ثابت ہوچکی ہے، فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط ہوجائے گی ، سیکشن 215 کے تحت پارٹی کا نشان بھی واپس لیا جاسکتا ہے، ممنوعہ فنڈنگ پر پارٹی کی رجسٹریشن بھی منسوخ کی جاسکتی ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کنور دلشاد نے کہا تھا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے کیونکہ انہوں نے بطور چیئرمین لکھ کر الیکشن کمیشن کو دیا ہے کہ ان کی پارٹی میں کوئی ممنوعہ فنڈنگ نہیں ہے، اگر فنڈنگ ثابت ہوتی ہے تو عمران خان کے خلاف غلط بیانی پر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔

  • ہیلی کاپٹر تباہ ہونے پر ٹویٹس،عمران خان توجہ کریں ،ادارے ایکشن لیں،مطالبہ

    ہیلی کاپٹر تباہ ہونے پر ٹویٹس،عمران خان توجہ کریں ،ادارے ایکشن لیں،مطالبہ

    پاکستان تحریک انصاف کے کارکن آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے پر بھی قومی ادارے سے اپنی نفرت کا کھل کر اظہار کرتے رہے .سماجی رابطے کی ویب سائت ٹویٹر پر پی ٹی آئی کے رہنماوں اور کارکنوں کی جانب سے طرح طرح کے ٹویٹ کرتے رہے.ایک طرف قوم غم میں مبتلا ہے آرمی کے جوان شہید ہوئے ہیں تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اداروں پر کڑی تنقید کر رہے ہیں.ی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جانب سے اس تنقید پر صارفین نے سخت غم و غصہ کا اظہار کیا ہے

    https://twitter.com/PatrioticYuth/status/1554171257377198080/photo/1

    سنیئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم سافی کا پی ٹی آئی کی جانب سے قومی ادارے کے خلاف کئے جانے والے ٹویٹس پر کہنا ہے کہ بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی خدمت میں مصروف چار فوجی افسران کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کو عمران خان کے جو سپاہی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں ‘ وہ کم ظرفی اور بے حسی کی انتہا ہے۔ لعنت ہو ایسے لوگوں پر جو انسانی المیوں کو بھی سیاست کے لئے استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔

    سینئر صحافی انصار عباسی نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ عمران خان اور PTI رہمناوں کی توجہ کے لیے: فوجی ہیلی کاپٹر کے لاپتا ہونے پر کیسے کیسے ٹیوٹس کیے جا رہے ہیں 👇؟ اتنی نفرت؟ ایسی سنگدلی؟ FIA کو ان اکاؤنٹس کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔

  • آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر سسی پنوں کے قریب تباہ

    آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر سسی پنوں کے قریب تباہ

    آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر سسی پنوں کے قریب تباہ ہو گیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ سے کراچی آنے والا ہیلی کاپٹر سسی پنوں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے

    ہیلی کاپٹر موسم کی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا ہے مقامی پولیس نے رپورٹ دی ہے کہ کوئٹہ سے کراچی آنے والا ہیلی کاپٹر سسی پنوں کے قریب گر کر تباہ ہوا ہے ہیلی میں سوار پانچ افراد کی شہادت کی اطلاع ہے ۔پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ کو تلاش کر رہی ہیں .

    کوئٹہ سے دو ہیلی کاپٹر ایک ساتھ روانہ ہوئے تھے ایک ہیلی کاپٹر کراچی پہنچ چکا ہے جبکہ دوسرا لاپتہ ہو گیا تھا ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی تصدیق کی کہ آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہو گیا ہے ہیلی کاپٹر میں چھ افراد سوا ر تھے ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر کوئٹہ سمیت چھ افراد موجود تھے

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ٹویٹ کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ پاک فوج کا ایوی ایشن ہیلی کاپٹربلوچستان کے علاقہ لسبیلہ میں فلڈ ریلیف آپریشن کے دوران لاپتہ ہو گیا ہے.ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت 6 افسر سوار تھے،آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر ریلیف آپریشن کی نگرانی کر رہا تھا ،ہیلی کاپٹر کو تلاش کرنے کیلئے سرچ آپریشن جاری ہے ،پاک فوج کے 12 کور کے کور کمانڈر لیفٹنٹ جنرل سرفراز علی اپنے چار ہائی کمان رینک آفیسرز کے ساتھ تھے اوتھل لسبیلہ سے ہیلی نے پرواز بھری اسے فیصل بیس کراچی اترنا تھا


    کور کمانڈر کوئٹہ جنرل سرفراز علی کے علاوہ DG PCG بریگیڈیئر امجد، CC Engr 12 corps بریگیڈیئر خالد، پائیلٹس میجر سعید، میجر طلحہ اور نائیک مدثربھی ہیلی کاپٹرمیں سوار تھے.

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کی گمشدگی تشویشناک ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم نے کہا ہے کہ پوری قوم اللہ تعالیٰ کے حضور سیلاب متاثرین کی مدد پر نکلنے والے وطن کے ان بیٹوں کی سلامتی، حفاظت اور بخیریت واپسی کے لئے دعا گو ہے۔ ان شاءاللہ


    وزیراعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر میں سوار وطن کے بیٹوں کی سلامتی کے لیے دعا گو ہوں۔قوم بھی اللہ تعالٰی کے حضور سجدہ بسجود ہے.سابق وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کی گمشدگی تشویشناک ہے۔سیلاب متاثرین کی مدد کرنے والے کور کمانڈر سمیت وطن کے دیگر بیٹوں کی بحفاظت واپسی کی لئے پر امید ہیں۔


    پولیس اور ایف سی کا مشترکہ ریسکیو آپریشن پانچ گھنٹوں سے جاری،ڈی آئی جی پرویز عمرانی کے مطابق پولیس کی ٹیمیں بھی ہیلی کاپٹر تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہیں،علاقہ پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے ، تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے،پولیس ٹیمیں موٹر سائیکلوں پر بھی دشوار علاقوں میں تلاش میں مصروف ہیں

    قبل ازیں اطلاعات تھیں کہ ہیلی کاپٹر کا پچھلے پانچ بجے سے کوئی رابطہ نہیں۔ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لئے سرچ آپریشن جاری ہے

    دوسری جانب غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری اطلاعات کیمطابق کمانڈر XII کور؛ جنرل سرفراز علی (سابق DG MI) ہیلی کاپٹر میں سوار تھے۔ ہیلی کراچی سے کوئٹہ پرواز کے دوران حب کے نزدیک شام سے لاپتہ ہے۔ سرچ آپریشن جاری۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین کی جانب سے ہیلی کاپٹر میں سوار افراد کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالٰی سب کو محفوظ رکھے

    بلوچستان میں سیلاب کی وجہ سے پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ہیلی کاپٹر سامان کی ترسیل کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں

  • الیکشن کمیشن کے خلاف قراردادیں فارن فنڈنگ کیس پر اثر انداز ہونے کے لئے ہیں،فضل الرحمان

    الیکشن کمیشن کے خلاف قراردادیں فارن فنڈنگ کیس پر اثر انداز ہونے کے لئے ہیں،فضل الرحمان

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے خلاف قراردادیں فارن فنڈنگ کیس پر اثر انداز ہونے کے لئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کا فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کل سنانے کا اعلان

    چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد مقررہ وقت پر انتخابات ہونگے،عمران خان اس ملک کی ایک بڑی برائی ہے جس کو جڑ سے نکالنا چاہئے، عمران اداروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پی ٹی آئی چیئرمین نے پنجاب ضمنی الیکشن میں کامیابی پر الیکشن کمیشن کا شکریہ ادا کیا تھا، اسی الیکشن کمیشن کے خلاف پنجاب اور کے پی اسمبلی سے قراردادیں منظور کروائیں، الیکشن کمیشن کے خلاف قراردادیں فارن فنڈنگ کیس پر اثر انداز ہونے کے لئے ہیں۔

     

    اداروں کو برا بھلا کہنے والوں کے ساتھ چلنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،چودھری شجاعت حسین

     

    پی ڈی ایم کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ پر اعتراض نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر اعتراض ہے، اداروں کے سربراہان بھی انسان ہوتے ہیں جن سے غلطیاں ہوتی ہے، سپریم کورٹ سے بھی بعض فیصلوں میں غلطیاں ہوئی ہے، سپریم کورٹ کے ججز کی عدم دستیابی کی وجہ سے چیف جسٹس نے فل کورٹ بنانے سے انکار کیا، دو روز بعد سپریم کورٹ کے ججز کے انتخاب کے لئے چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن کا اجلا س بلا لیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ چار سال تک ملک پر مسلط ٹولے نے معیشت کو تباہ و برباد کردیا، پاکستان کی معاشی صورتحال ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا، عمران خان ٹولے کا صرف ایک کام باقی تھا اور وہ ریاست توڑنا تھی۔

  • مسلم لیگ ن  کے رہنما نذیر چوہان کو حراست میں لے لیا گیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما نذیر چوہان کو حراست میں لے لیا گیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما نذیر چوہان کو حراست میں لے لیا گیا.

    مسلم لیگ ن کے رہنما نذیر چوہان کو لاہور سے گرفتار کیا گیا ہے. ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق نذیر چوہان کو خالد گجر پر حملہ کرنے کے کیس میں گرفتار کیاگیا ہے، مسلم لیگ ن کے رہنما نزیر چوہان حالیہ ضمنی الیکشن مین مسلم لیگ ن کی ٹکت پرپی پی 167 سے امیدوار تھے تاہم اس حلقہ سے پی ٹی آئی کے امیدوار شنیر گجر نے کامیابی حاصل کی تھی ، متزکرہ حلقہ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار نزیر چوہان اور پی ٹی آئی کے امیدوار شبیرگجر کے درمیان ضمنی انتخانات کی الیکشن کمپین کے دوران ایک دوسرے پر حملے کرنے کے الزامات عائد کئے گئے تھے.

    باغی ٹی وی کے مطابق نذیر چوہان کو سی آئی اے پولیس نے لاہور کے تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔ نذیر چوہان پر پی ٹی آئی کے دفتر پر حملے اور تحریک انصاف کے کارکنان کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔

    رہنما مسلم لیگ ن پر پی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی شبیر گجر کے بھتیجے کو بھی زخمی کرنے کا الزام ہے۔
    نذیر چوہان کیخلاف مقدمہ ضمنی انتخابات کے دوران پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ دوسری جانب لاہور پولیس نے بھی نذیر چوہان کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے۔

  • پاک فوج نے اپنا 2 روز کا راشن سیلاب متاثرین کو عطیہ کرنیکا اعلان کر دیا

    پاک فوج نے اپنا 2 روز کا راشن سیلاب متاثرین کو عطیہ کرنیکا اعلان کر دیا

    پاک فوج نے ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین میں دو دن کا راشن بھی تقسیم کرنے کا اعلان کردیا۔

    پاک فوج کے تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج نے بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب، کے پی اور گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ آبادی کے لیے دو دن کا راشن دینے کا اعلان کردیا۔آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق راشن میں آٹا، چینی، چاول، چائے، کوکنگ آئل، دودھ پاؤڈر اور دالیں شامل ہیں۔

    سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم

    علاوہ ازیں پاک فوج کی جانب سے سیلسب اور بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے،آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اٹک، تربیلا، چشمہ اور گڈو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ سندھ کے علاوہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

     

    سیلاب،مکمل تباہ گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس امداد دی جائے گی،پرویزالہیٰ

     

    آئی ایس پی آر مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    جھل مگسی گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا ہے۔گندھاوا اور گردونواح میں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ خضدار ایم-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے جبکہ حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔ گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے۔ نوشکی پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔پکا ہوا کھانا 1000 سے زیادہ لوگوں کو دیا گیا ہے۔ 3 مقامات پر تباہ ہونے والے این-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ لسبیلہ علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے.گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا۔ قراقرم ہائی وے میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی تودے گرنے کی اطلاع تھی۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

  • سیلاب،مکمل تباہ  گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس امداد دی جائے گی،پرویزالہیٰ

    سیلاب،مکمل تباہ گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس امداد دی جائے گی،پرویزالہیٰ

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے جنوبی پنجاب میں سیلاب سے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لئے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مکمل تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس مالی امداد دی جائے گی جبکہ جزوی طورپرتباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو 4لاکھ روپے فی کس مالی امداد دیں گے۔سیلاب متاثرہ افراد کے لائیوسٹاک کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔

    مون سون سیزن ڈینگی کے پھیلاؤ کا خدشہ،وزیراعلیٰ نے بڑا حکم دے دیا

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے سروے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز اپنی نگرانی میں سروے کومکمل کرائیں۔سروے کا عمل آسان اورسادہ رکھا جائے اورسروے کے لئے مقامی نمائندوں کو بھی آن بورڈ لیا جائے۔متاثرہ افراد کو سروے کے عمل کے دوران کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اور مالی امداد متاثرہ افراد تک جلد از جلد پہنچ جانی چاہیے۔

     

    سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم

     

    وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اورمتاثرہ افراد کو خشک خوراک تسلسل کے ساتھ پہنچائی جائے۔دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو مسلسل مانیٹر کیا جائے اوردریاؤں کے پشتے مزید مضبوط بنانے کیلئے فی الفور اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی بحالی کیلئے ضروری وسائل اورمشینری بروئے کار لائی جائے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ میں کل راجن پور اورڈیرہ غازی خان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کررہا ہوں اورتمام صورتحال کا خود جائزہ لوں گا۔سیلاب متاثرہ افراد کی بحالی پہلی ترجیح ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت وزیراعلیٰ آفس میں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں جنوبی پنجاب کے شہروں راجن پور،ڈیرہ غازی خان خصوصاً تونسہ،مظفر گڑھ میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔

    عوامی نمائندوں واراکین اسمبلی امینہ جعفر لغاری،محسن لغاری،محمد سیف الدین خان کھوسہ، محمد اویس دریشک،فاروق امان اللہ دریشک، سردار احمد علی خان دریشک،محمد محی الدین خان کھوسہ،عبدالحی دستی،جاوید اختر،خواجہ محمد داؤد سلیمانی،محمد اشرف خان رند، نیاز حسین خان،میاں علمدارعباس قریشی، محمدعون حمید،محمد رضا حسین بخاری،محمد معظم علی خان،نوابزادہ منصوراحمد خان،چیف سیکرٹری کامران افضل،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر،متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اوراعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،تمام ڈویژنل کمشنرز،ڈی جی پی ڈی ایم اے اورمظفر گڑھ،راجن پور اورڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنرزویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔