Baaghi TV

Author: +9251

  • پرویز الہی کے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹ کی ٹویٹس وائرل

    پرویز الہی کے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹ کی ٹویٹس وائرل

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹ کی ٹویٹس وائرل،جعلی ٹویٹراکاونٹ سے من گھڑت بیانات،سوشل میڈیا صارفین پریشان،اطلاعات کےمطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹ پروزیراعلیٰ‌ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے نام سے ایک ٹویٹراکاونٹ متحرک ہے ،جس کے اکاونٹ سے بہت زیادہ پیغامات شیئر کیے جارہے ہیں

    چوہدری پرویز الٰہی کے نام سے یہ اکاونٹ جس کےہزاروں فالوورز بھی ہیں ،کوئی نامعلوم شخص آپریٹ کررہا ہےاور چوہدری پرویز الٰہی کے نام سے ایسے پیغامات پبلش کررہا ہے کہ دیکھنے والے بھی حیران وپریشان ہیں

     

    https://twitter.com/CMParvzElahi/status/1551980604237004802

    اس اکاونٹ سے ایسی ٹویٹس کی گئی ہیں کہ جن کو دیکھنے سے بظاہرجن کے بارے میں ٹویٹ کی گئی ہےکویقینا دُکھ پہنچتا ہے،اس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہور اور چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقاتوں کو بھی بنیاد بنایاگیا ہے

    https://twitter.com/CMParvzElahi/status/1553802731860672519

    دوسری طرف وزیراعلیٰ ہاوس کی جانب سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ مذکورہ ٹویٹر اکاونٹ چوہدری پرویز الٰہی کا نہیں ہے اور کوئی من گھڑت اورجھوٹے بیانات ان سےمنسوب کرکے لوگوں کو گمراہ کررہا ہے ، اس لیے سوشل میڈیا صارفین اس جعلی اکاونٹ سے دور رہیں اور اس کے ذریعے ہونے والی پیغام رسانی کو مسترد کردیں‌، ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی طرف سے جوبیانات دیئے گئے ہیں انہوں نےنہیں‌دیے

     

    یاد رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی جو کہ وزیراعلیٰ پنجاب بھی ہیں انکا اصل ٹویٹراکاونٹ کچھ اس طرح ہے

    https://twitter.com/chparvezelahi

    https://parvezelahi.com/

     

  • مالی سال 2023ء کے لیے پاکستان کی حکمت عملی، پانچ اہم حقائق

    مالی سال 2023ء کے لیے پاکستان کی حکمت عملی، پانچ اہم حقائق

    مالی سال 2023ء کے لیے پاکستان کی حکمت عملی، پانچ اہم حقائق
    وزارت خزانہ اور بینک دولت پاکستان کا مشترکہ بیان
    1۔ پاکستان کے مسائل عارضی نوعیت کے ہیں جن کے حل کے لیے پوری قوت صرف کی جارہی ہے۔• فروری کے مہنیے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کم ہونا شروع ہوئے، جس کی وجہ آمدِ زر کی نسبت انخلائے زر کا زیادہ ہونا ہے۔ آمدِ زر بنیادی طور پر آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک سے کثیر فریقی قرضوں، چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک سے ڈپازٹس اور قرضوں کی صورت میں دوطرفہ مالی اعانت، یورو بانڈز اور صکوک کے ذریعے غیرملکی بینکوں سے کمرشل قرضوں پر مشتمل ہے۔ آمدِ زر میں بیشتر کمی آئی ایم ایف کے آئندہ جائزے میں تاخیر کی سبب آئی، جو پالیسی میں سقم کے باعث ہوئی۔ دریں اثنا، انخلائے زر کے حوالے سے غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رہا کیونکہ اس عرصے میں یہ رقوم واجب الادا ہوگئی تھیں۔

    اسی موقع پر شرح مبادلہ شدید دباؤ میں آگئی، بالخصوص وسط جون کے بعد سے۔ ایسا ڈالر کے عمومی کساؤ کے باعث ہوا، جو جاری کھاتے کے خسارے میں اضافے (جو جون میں توانائی کے بھاری بل کی سبب شدت اختیار کرگیا)، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور آئی ایم ایف پروگرام اور ملکی سیاست میں غیریقینی صورتحال کی وجہ سے احساسات مجروح ہونے کی بنا پر سامنے آیا۔

    تاہم حال ہی میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جس سے یہ عارضی مسائل حل ہوجائیں گے۔ 13 جولائی کو آئی ایم ایف کے آئندہ جائزے کی تکمیل ہونے پر اسٹاف کی سطح کے معاہدے کا اہم سنگ میل عبور کرلیا گیا۔ آج تک اس جائزے کی تکمیل کے لیے تمام پیشگی اقدامات کرلیے گئے ہیں، اور 1.2 ارب ڈالر کی آئندہ قسط کے اجرا کے لیے باضابطہ بورڈ اجلاس آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے۔ اسی موقع پر طلبی دباؤ اور جاری کھاتے کا خسارہ کم کرنے کے لیے معاشی پالیسیاں – مالیاتی پالیسی اور زری پالیسی دونوں – مناسب انداز سے سخت کردی گئی ہیں۔ بالآخر حکومت نے یہ واضح طور پر اعلان کردیا گیا ہے کہ وہ اکتوبر 2023ء تک آپنی باقی ماندہ مدت پوری کرنے کی خواہاں ہیں اور آئی ایم ایف پروگرام کے بقیہ آئندہ 12 مہینوں میں ادارے کے ساتھ طے شدہ تمام شرائط پر عمل پیرا ہونے کے لیے تیار ہے۔

    2۔ مالی سال 23ء میں آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو درکار خالص قرضوں کی ضرورت مکمل طور پر پوری ہوجائے گی۔ قرضوں کی ضروریات جاری کھاتے کے خسارے تقریباً 10 ارب ڈالر ہونے اور تقریباً 24 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی کے سبب پیدا ہوئیں۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی حالت کو تقویت دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پاکستان ان ضروریات کی نسبت تھوڑے سے زیادہ قرضے حاصل کرے۔ نتیجتاً، آئندہ 12 مہینوں کے لیے 4 ارب ڈالر کے اضافی قرضوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اِن رقوم کا انتظام مختلف ذرائع سے کیا جارہا ہے جس میں وہ دوست ممالک بھی شامل ہیں جنہوں نے جون 2019ء میں آئی ایم ایف پروگرام کے آغاز کے وقت پاکستان کی مدد کی تھی۔ ۔ جاری کھاتے کے خسارے کو قابو میں کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔

    اجناس کی بلند عالمی قیمتوں کے علاوہ مالی سال 22ء میں بھاری جاری کھاتے کے خسارے کا سبب بلند ملکی طلب (مسلسل دو سال تک نمو تقریباً 6 فیصد تک پہنچ گئی جس کے نتیجے میں معیشت کی اوورہیٹنگ ہوئی)، فروری میں سبسڈی پیکیج کے باعث مصنوعی طور پر پست توانائی کی ملکی قیمتیں بحٹ میں غیر شامل شدہ اور موافق گردشی (procyclical) مالیاتی توسیع اور لوڈ شیڈنگ کم کرنے اور انونٹریز بڑھانے کے لیے جون میں توانائی کی بھاری درآمدات تھیں۔آئندہ اس خسارے کو قابو میں کرنے کے لیے پالیسی ریٹ 800 بیسس پوائنٹس بڑھایا گیا، توانائی کی سبسڈی کی پیکیج ختم کردیا گیا اور مالی سال 23ء کے بجٹ میں جی ڈی پی کے تقریباً 2.5 فیصد کے برابر یکجائی (consolidation) کا ہدف رکھا گیا ہے جس میں ٹیکس اضافے جبکہ غریب ترین طبقے کا تحفظ شامل ہے۔ اس سے ملکی طلب بشمول ایندھن اور بجلی کی ملکی طلب کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ درآمدی بل کو قابو میں کرنے کے لیے عارضی انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں جس میں گاڑیاں، موبائل فون اور مشینری درآمد کرنے سے پہلے پیشگی منظوری کی شرط شامل ہے۔ جب جاری کھاتے کا خسارہ آئندہ مہینوں میں کم ہوگا تو یہ اقدامات نرم کردیے جائیں گے۔۔ یہ اقدامات موثر ثابت ہو رہے ہیں: جولائی میں درآمدی بل میں نمایاں کمی واقع ہوئی، کیونکہ توانائی کی درآمدات میں کمی آئی ہے اور غیر توانائی کی درآمدات میں کمی جاری ہے۔

    جولائی میں زرمبادلہ کی ادائیگیاں جون کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھیں۔ یہ آئل اور نان آئل دونوں کی ادائیگی کے مطابق ہے۔ مجموعی طور پر، جولائی میں ادائیگیاں 6.1 ارب ڈالر پر مستحکم تھیں جبکہ جون میں یہ 7.9 ارب ڈالر تھیں ۔ تازہ ترین تجارتی اعداد و شمار کے مطابق نان آئل مصنوعات کی درآمدات مسلسل کم ہو رہی ہیں۔ بالخصوص، مالی سال 22ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران نان آئل کی درآمدات میں سہ ماہی بہ سہ ماہی بنیاد پر 5.7 فیصد کمی ہوئی۔ آگے چل کر ان میں مزید کمی متوقع ہے ۔مستقبل میں، ایک بار پھر آئل کے ساتھ ساتھ نان آئل مصنوعات دونوں کے لیے حالیہ ہفتوں کے دوران ایل سی کھولنے میں کافی سست روی دیکھی گئی ہے ۔ مارکیٹ رپورٹس کی بنیاد پر، جون میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت کے حجم میں ماہ بہ ماہ 11 فیصد کمی واقع ہوئی۔

    جون میں توانائی کی درآمدات میں اضافے کے بعد، اب ملک میں ڈیزل اور فرنس آئل کا ذخیرہ دستیاب ہے جو بالترتیب 5 اور 8 ہفتوں کے لیے کافی ہے، جو کہ ماضی کے 2 تا 4 ہفتوں کی معمول کی حد سے بہت زیادہ ہے یعنی کہ مستقبل میں پیٹرولیم درآمدات کی کم ضرورت پڑے گی۔ حالیہ بارشوں اور ڈیموں میں پانی کے ذخیرے سے، پن بجلی میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے اور توقع ہے کہ مستقبل میں درآمدی ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کی ضرورت کم ہوجائے گی۔ان رجحانات کے نتیجے میں، مستقبل میں درآمدی بل میں تخفیف کا امکان ہے اور اگلے ایک سےدو مہینوں میں زرِمبادلہ کی پست ادائیگیوں میں اس کا اور مضبوطی سے اظہار شروع ہوجانا چاہیے۔ مجموعی طور پر، آئندہ مہینوں میں درآمدات میں کمی متوقع ہے جس کی وجہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں کمی، تیل کا زیادہ ذخیرہ، پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی ملکی قیمتوں کے ظاہر ہونے والے اثرات، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ردوبدل، مالی سال 23ء کے بجٹ کے تحت ٹیکس چھوٹ کے خاتمے ، درآمدات کو کم کرنے کے لیے کیے گئے انتظامی اقدامات، اور کی جانے والی زری اور مالیاتی سختی کے تاخیری اثرات ہیں۔

    روپیہ وقتی طر پر قدر میں کم ہوا ہے لیکن توقع ہے کہ اگلے چند ماہ کے دوران معاشی مبادیات کی مطابقت سے اس کی قدر بڑھ جائے گیدسمبر 2021ء سے روپے کی قدر میں تقریباً نصف کمی امریکی ڈالر کی عالمی قیمت میں اضافے سے منسوب کی جاسکتی ہے جو فیڈرل ریزرو کی جانب سے تاریخی سختی اور خطرے سے گریز میں اضافے کے بعد ہوئی۔بقیہ نصف میں سے کچھ کمی ملکی معاشی مبادیات کی بنا پر ہوئی۔ خاص طور پر جاری کھاتے کے خسارے کے بڑھنے کی وجہ سے، خصوصاً گذشتہ چند ماہ میں۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا یہ خسارہ متوقع طور پر آگے چل کر کم ہوگا جب درآمدی بل میں عارضی تیزی قابو میں آئے گی۔ جب یہ ہوگا تو روپیہ متوقع طور پر بتدریج قدر میں مضبوط ہوگا۔ قدر میں باقی کمی کا محرک احساسات ہیں۔ روپے کی قدر ملکی سیاست اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے بارے میں تشویش کی بنا پر کم ہوئی ہے۔ اس بے یقینی کا تصفیہ کیا جارہا ہے، اس طرح کہ روپے کی قدر میں کمی کا وہ حصہ جو احساسات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے وہ آنے والی مدت میں درست ہوجائے گا۔

    جہاں مارکیٹ غیرمنظم ہوئی ہے اسٹیٹ بینک نے امریکی ڈالر کی فروخت کے ذریعے کارروائی جاری رکھی ہے تاکہ مارکیٹوں میں سکون آئے، اور مستقبل میں جب ضرورت ہوگی وہ ایسا کرتا رہے گا۔ سٹے سے مقابلہ کرنے ک لیے مضبوط اقدامات بھی کیے گئے ہیں جن میں بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کی بغور نگرانی اور معائنے شامل ہیں۔ صورت حال کے مطابق مزید اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔یہ افواہیں قطعی بے بنیاد ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایکسچینج ریٹ کی ایک خاص سطح طے پائی ہے۔ ایکسچینج ریٹ لچکدار اور مارکیٹ کے مطابق تعین پاتا ہے اور ایسا ہی رہے گا لیکن غیرمنظم اتار چڑھاؤ سے نمٹا جارہا ہے۔آگے چل کر جب جاری کھاتے کا خسارہ کم ہوگا اور احساسات بہتر ہوں گے تو ہمیں پوری طرح توقع ہے کہ روپے کی قیمت بڑھے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ 2019ء میں آئی ایم ایف پروگرام کے آغاز میں یہی تجربہ ہوا تھا جب پروگرام سے پہلے کے کچھ عرصے میں روپیہ کمزور ہونے کے بعد کافی مضبوط ہوا تھا۔

    یہ امر واضح ہے کہ روپیہ عارضی طور پر قدر میں کم ہوسکتا ہے جیسا کہ حال میں ہوا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ دونوں طرف حرکت کرتا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ آنے والے دور میں یہ سلسلہ پھر ہوگا۔ نتیجے کے طور پر جاری کھاتے کے کم خسارے نیز مضبوط احساسات کی شکل میں بہتر معاشی مبادیات سے ہم آہنگ ہوکر روپیہ مضبوط ہوگا۔

  • سیلابی ریلا چھوڑنے کا خدشہ: انڈس کمشنر کی بھارتی ہم منصب کو خط

    سیلابی ریلا چھوڑنے کا خدشہ: انڈس کمشنر کی بھارتی ہم منصب کو خط

    اسلام آباد:بھارت کی جانب سے دریائے راوی میں دو لاکھ کیوسک تک کا بڑا سیلابی ریلا چھوڑنے کے خدشے کے پیش نظر انڈس کمشنر مہر علی شاہ نے بھارتی ہم منصب کو فوری طور پر خط لکھ دیا۔

    انڈس کمشنر مہر علی شاہ نے ہنگامی خط میں کہا ہے کہ دریائے راوی کے نزدیک بھارتی علاقے گورداسپور میں علاقے خالی کرانے کی اطلاعات ہیں، بھارتی کمشنر معاملے کی سنگینی کے پیش نظرفوری جواب دیں۔

    بھارت کی آبی جارحیت جاری ؛ سیلابی پانی چھوڑ کرپاکستان کی مشکلات میں اضافہ کردیا

    بھارت کی جانب سے دریائے راوی میں 2لاکھ کیوسک پانی چھوڑنے کا خدشہ ہے۔ سیلابی ریلے کے اگلے 24گھنٹوں کے دوران پاکستان میں داخل ہونے کا امکان ہے جس سے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں، لائیواسٹاک اور بیراجوں کوخطرہ ہوگا۔

    واضح رہے کہ 3 دن قبل سیلابی صورتحال کے باعث دریا کے ملحقہ علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے پاکستان آبی جارحیت کرنے کا فیصلہ کرلیا

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح میں اضافے کے بعد ملحقہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کردیے گئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سےدریا کے کنارے رہنے والے مکینوں کو مال مویشی سمیت محفوظ مقامات منتقل ہونے کی ہدایات جاری کردی گئی۔

  • الیکشن کمیشن اب تک اوورسیز ووٹنگ اور ای وی ایم پر کام کر رہا ہے:ترجمان

    الیکشن کمیشن اب تک اوورسیز ووٹنگ اور ای وی ایم پر کام کر رہا ہے:ترجمان

    اسلام آباد:ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اس وقت بھی اوورسیز ووٹنگ اور ای وی ایم پر کام کر رہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ترجمان الیکشن کمیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن کے چند فیصلوں اور واقعات کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جبکہ حقائق مختلف ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے الیکشن میں سیکرٹ بیلٹنگ کے معاملہ پر الیکشن کمیشن کے خلاف پروپیگینڈا کیا۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 226 میں واضح درج ہے کہ کون سے الیکشن سیکریٹ بیلٹ پر ہوں گے جن میں سینیٹ کے الیکشن بھی شامل ہیں۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ کیا الیکشن کمیشن آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو سکتا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کا نوٹیفیکیشن روکنے سے انکار کے معاملے پر پروپیگینڈا کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ووٹنگ کے بعد جب نتائج آگئے تو یوسف رضا گیلانی کو نوٹیفائی کیوں نہ کیا جاتا؟

    ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ کسی بھی جیتنے والے امیدوار کا نوٹیفیکشن روکنے کا قانونی جواز بتایا جائے؟
    ترجمان کا کہنا تھا کہ علی حیدر گیلانی کے خلاف کارروائی پر پروپگینڈا کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے کہ علی حیدر گیلانی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے قانون کے مطابق علی حیدر گیلانی پر فوجداری کارروائی کا فیصلہ کیا جو اس وقت زیر التوا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ ڈسکہ الیکشن میں جو کھلی دھاندلی کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی، 2 اعلی سطح انکوائریاں یہ بات ثابت کر چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اغوا ہونے والے پریذائڈنگ افسران، پولیس اور انتظامیہ جو الیکشن کے عمل میں شامل تھے۔الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے اپنے بیانات میں دھاندلی کے حوالے سے حیران کن حقائق کا انکشاف کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کیا پھر بھی ڈسکہ ری پول کا آرڈر نہ کیا جاتا؟

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اس امر سے ثابت ہے جتنے بھی ضمنی انتخاب ہوئے ان میں 80 فیصد کامیاب امیدواران حکومتی پارٹی سے نہ تھے۔ترجمان نے کہا کہ یہ حقیقت ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ کمیشن نے کسی بھی حکومت وقت کو الیکشن پراسیس میں مداخلت نہ کرنے دی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ای وی ایم دنیا کے دو ہی ممالک میں ای وی ایم زیر استعمال ہے۔ ایک بھارت دوسرا برازیل۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک نے بالترتیب 22 سے 25 سال اس سسٹم کو اختیار کرنے میں صرف کئے۔ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ بھارتی ریاستوں میں الیکشن مختلف اوقات میں ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جب برازیلیں سفیر سے اس حوالے سے ملاقات کی تو انہوں نے ایک قابل غور جملہ کہا کہ ای وی ایم کا سسٹم اکتوبر 2023 کے الیکشن تک پاکستان میں استعمال ہونا ایک معجزہ ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اس وقت بھی اوورسیز ووٹنگ اور ای وی ایم پر کام کر رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ایک مختص پراجیکٹ منیجمنٹ یونٹ قائم کیا گیا جس میں اعلی سطح کے پروفیشنل اور ٹیکنیکل افراد کو بھرتی کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فیصل واڈا کیس معزز عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہے اس لئے اس حوالے سے کوئی بھی تبصرہ مناسب نہیں۔

    اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب 20 حلقوں کے ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے ان انتخابات میں حکومت وقت کو کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے دی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ای سی پی نے بہت واضح پیغام دیا کہ اگر کوئی مداخلت ہوئی تو سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔جاری کردہ پیغام میں انہوں نے کہا کہ نہ صرف یہ بلکہ بہتر حکمت عملی اختیار کرکے اسلحہ براداروں اور بیرونی مداخلت کاروں کو بھی احسن طریقے سے روکا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں نے انتخابات کے نتائج تسلیم کئے۔

    انہوں نے کہا کہ اوورسیز ووٹنگ کے لیے جو سسٹم نادرا نے بنایا تھا اس کی رپورٹ معزز سپریم کورٹ کے آرڈر کے تحت الیکشن کمیشن پارلیمان میں جمع کرا چکا ہے جس پر آج تک بحث نہ ہو سکی۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت کے سیکریڑی آئی ٹی اور بین الاقوامی فرم کے نمائندوں نے کمیشن کو بریفنگ میں بتایا کہ اگر نادرا کا بنایا گیا سسٹم استعمال کیا تو الیکشن مشکوک اور متنازعہ ہوجائے گا۔

    الیکشن کمیشن کے ترجمان نے مزید کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو ایسا سسٹم اختیار کرنا چاہیے جس کے بارے میں بین القوامی ماہرین اور خود حکومتی نمائندے کی یہ رائے ہو کہ وہ الیکشن متنازعہ کر دے گا؟

  • حکومت کا پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے فی لٹر کمی کا اعلان

    حکومت کا پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے فی لٹر کمی کا اعلان

    اسلام آباد: حکومت نے پٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا اعلان کردیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے نئی قیمتوں کا اعلان کیا۔

     

    نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے فی لٹر کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 95 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاع رات 12 بجے سے ہوگا۔

     

    پٹرول کی نئی قیمت 227 روپے 19 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 95 پیسے اضافے کے ساتھ 244 روپے 95 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے۔

    مٹی کا تیل 4 روپے 62 پیسے مہنگا ہوا جس کے بعد نئی قیمت 201 روپے 7 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے۔

  • پی ایس او کودیوالیہ ہونے سے بچانے کےلیے ہنگامی فنڈز منظور

    پی ایس او کودیوالیہ ہونے سے بچانے کےلیے ہنگامی فنڈز منظور

    وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے 30 ارب روپے کے ہنگامی فنڈز کی منظوری دیدی گئی۔

    ای سی سی فیصلے کے تحت پاورڈویژن یکم اگست کو 20 ارب روپے اور 4 اگست تک 12 اعشاریہ 8 ارب روپے ادا کرے گی۔

    شرکاء نے ایک ہفتے کے اندر ٹیکسز کی مد میں 30 ارب روپے حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اس سلسلے میں وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو تجویز تیار کرنے کی ہدایت کردی۔

    ای سی سی اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کیلئے ڈالر اوسط ریٹ فارمولا اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتیں ریگولیٹ کرنے کیلئے مشاورت کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    ہم کسی صورت دوبارہ عمران خان کووزیراعظم نہیں بننے دیں‌ گے :فضل الرحمن

    اجلاس میں حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں کہا گیا کہ روپے کی قدر میں کمی سے پٹرولیم مصنوعات کی لاگت میں اضافہ ہوا جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں کمی آگئی ہے۔

    وزارت توانائی حکام کے مطابق پی ایس او پر ہائی اسپیڈڈیزل کی فروخت میں 28 فیصد جبکہ پٹرول کی سیل میں بھی 32 فیصد کمی آئی ہے۔

    عمران خان کا دورہ لاہور،پرویزالہیٰ سے ملاقات، پنجاب کابینہ کی تشکیل پر مشاورت

    ادھر دوسری طرف پٹرول کی قیمت میں 11 روپے فی لٹر تک کمی کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی، حکومت نے عوام کو مکمل ریلیف فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت میں 11 روپے فی لٹر تک کمی جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے فی لٹر تک اضافے کا امکان ہے، پٹرولیم لیوی اور ڈیلرز مارجن میں اضافے سے عوام کو کم ریلیف ملے گا۔

    ذرائع کے مطابق پٹرول پر لیوی میں 5 روپے، ڈیزل، مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں 10 روپے فی لٹر اضافے کا امکان ہے۔

    وزارت خزانہ آج نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی، نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اگست سے پندرہ روز کے لئے ہوگا۔

  • مفتاح  بھائی بجلی کے بِل پر ٹیکس واپس لیں :مریم نواز کا مطالبہ

    مفتاح بھائی بجلی کے بِل پر ٹیکس واپس لیں :مریم نواز کا مطالبہ

    لاہور:مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ٹویٹر پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو درخواست کی کہ بجلی کے بِل پر ٹیکس واپس لیں، تاجر بھائی پریشان ہیں اور شکوہ کر رہے ہیں۔ امید ہے آپ کوئی حل نکالیں گے۔

    مریم نواز کے ٹوئیٹ پر مفتاح اسماعیل نے جوابی ٹوئیٹ میں لکھا کہ وزیراعظم نے بھی ہدایت کی ہے کہ چھوٹے تاجر نئے ٹیکس قانون سے مکمل طور پر مطمئن ہوں۔

     

    دوسری جانب نائب صدرن لیگ مریم نواز اور وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کے درمیان رابطہ ہوا ہے جس میں مفتاح اسماعیل نے کل تاجروں سےملاقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    عمران خان کا دورہ لاہور،پرویزالہیٰ سے ملاقات، پنجاب کابینہ کی تشکیل پر مشاورت

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ چھوٹے تاجروں کو مطمئن کرنے کے لیے کل ملاقات کروں گا۔

     

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ 150 یونٹس سے کم کے بل والی دکانوں کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے گا جبکہ ان دکانداروں سے بھی 3 ہزار روپے وصول کریںگے جو ایف بی آر میں رجسٹرڈ نہیں۔

    عمران خان عدالت میں پیش، دس مقدمات میں ضمانت منظور

    انہوں نے مزید لکھا کہ دکانوں کوکوئی ٹیکس نوٹس جاری نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ایف بی آر افسران ان کی دکانوں پر جائیں گے۔

    ہم کسی صورت دوبارہ عمران خان کووزیراعظم نہیں بننے دیں‌ گے :فضل الرحمن

  • عمران خان کی وزیراعلیٰ پنجاب،پارٹی رہنماوں سمیت اہم شخصیات سےاہم ملاقاتیں

    عمران خان کی وزیراعلیٰ پنجاب،پارٹی رہنماوں سمیت اہم شخصیات سےاہم ملاقاتیں

    لاہور:عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب ،ارکان پنجاب اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنماوں سے ملاقاتیں کی۔

    سابق وزیراعظم نے پنجاب کابینہ کےلیے ناموں پر مشاورت کی اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو اہم ذمہ داری سونپ دی۔

    عمران خان کا دورہ لاہور،پرویزالہیٰ سے ملاقات، پنجاب کابینہ کی تشکیل پر مشاورت

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں استحکام صاف وشفاف الیکشن سے ہی ممکن ہے، قوم کی توقعات اب پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ لوگ سیاست میں پیسہ بنانے آتے ہیں،لیکن اب عوامی شعور بیدار ہوچکا ہے، بچوں میں ملکی مسائل کے شعور کی بیداری خوش آئند ہے۔

     

    عمران خان عدالت میں پیش، دس مقدمات میں ضمانت منظور

    اس سے قبل عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی ملاقات ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورتحال اور پنجاب کے انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں صوبے کے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی، اور عمران خان نے پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام تر کاوشیں بروئے کار لانے کی ہدایت دی۔

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ہدایات دی گئی ہیں، ریلیف سرگرمیوں پر عمران خان کو بریفنگ دی گئی ہے

    ہم کسی صورت دوبارہ عمران خان کووزیراعظم نہیں بننے دیں‌ گے :فضل الرحمن

    رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ریلیف سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، احساس پروگرام کے حوالے سے بھی میٹنگ ہوئی، عمران خان 6 ڈویژن کے ایم پی ایز سے آج مل رہے ہیں

     

     

    چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن کے ارکان اسمبلی،اقلیتی اور مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان نے شرکت کی ، اس موقع پر عمران خان نے الیکشن میں عمدہ کارکردگی پر ارکان اسمبلی کی کاوشوں کو سراہا
     

    اجلاس میں لاہور اور گوجرانوالہ کے ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا،اجلاس میں سابق وزیر شفقت محمود، شہباز گل ،حافظ فرحت عباس،ڈاکٹریاسمین راشد،مراد راس، میان اسلم اقبال ،چیف وہیپ عباس علی شاہ اور دیگر متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے

     

     

    اس کے ساتھ ساتھ ملتان اور بہاولپور ڈویژن کے ارکان اسمبلی نے عمران خان سے ملاقاتیں کیں اور اپنی اپنی تجاویز پیش کیں
    اس موقع پر مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو نظر انداز کرنے والوں کا وقت گزر چکا ، جنوبی پنجاب پی ٹی آئی کا گڑھ تھا، ہے اور رہے گا۔

     

  • کامن ویلتھ گیمز: نیوزی لینڈ نے پاکستان ہاکی ٹیم کو 1-4 سے ہرادیا

    کامن ویلتھ گیمز: نیوزی لینڈ نے پاکستان ہاکی ٹیم کو 1-4 سے ہرادیا

    لندن:کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان ہاکی ٹیم کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست ہوگئی۔اطلاعات کے مطابق برمنگھم میں ایونٹ کے دوسرے میچ میں ٹیم پاکستان، نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا کوارٹر اچھا کھیلی اور مقابلہ بغیر گول کے برابر رہا لیکن دوسرا کوارٹر شروع ہوا تو کیوی ٹیم حاوی آگئی۔

    کیوی کھلاڑی ہوگو نے دو منٹ میں دو گول داغ دیے لیکن 25 ویں منٹ میں غضنفر علی نے گول کرکے مقابلہ 1-2 کر دیا۔

    تیسرے کوارٹر میں بھی کیویز چھائے رہے اور تھامس نے اسکور 1-3 کر دیا جبکہ میچ کے آخری لمحات میں لین سیم نے ایک اور گول کردیا اور نیوزی لینڈ کو 1-4 فتح دلا دی۔

    ایونٹ میں پاکستان ٹیم دو میچز کے بعد صرف ایک پوائنٹ حاصل کر سکی ہے اور اس شکست کے بعد گرین شرٹس کی سیمی فائنل تک رسائی مشکل ہو گئی۔

    اس سے پہلے کامن ویلتھ گیمز میں بھارتی ویمنز ٹیم نے پاکستان ویمنز ٹیم کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان ویمنز نے بھارتی ویمنز کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کافیصلہ کیا جو درست ثابت نہ ہوسکا۔

    کامن ویلتھ گیمز کے ویمنز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ میں بارش کے سبب میچ 18 ، 18 اوورز تک محدود کردیا گیا تھا۔

    پاکستانی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے 18 اوورز میں 10 وکٹوں کے نقصان پر 99 رنز بنائے جواب میں بھارٹی ٹیم نے 100 رنز کا ہدف 2 وکٹوں کے نقصان پر 12 ویں اوورز میں باآسانی حاصل کرلیا۔

    پاکستان ٹیم کی اننگز کا آغاز ہی مایوس کن رہا اور اسے دوسرے ہی اوور میں نقصان اٹھاناپڑا، ارم جاوید صفر کے اسکور پر بغیر رن بنائے آؤٹ ہوئیں، پاکستانی ٹیم کی وکٹیں یکے بعد دیگرے گرتی رہیں، منیبہ علی 32 ، عالیہ ریاض 18 اور بسمہ معروف 17 رنزبنا کر نمایاں رہیں۔

    ان کے علاوہ عمیمہ سیہل اور عائشہ نسیم نے 10 ، 10، فاطمہ ثناء 8 ، کائنات امتیاز 2 اور طوبیٰ حسن ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئیں، ارم جاوید اور ڈیانا بیگ صفر پر آؤٹ ہوئیں۔ پاکستان کی پوری ٹیم 18 ویں اوورکی آخری گیند پر 99 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

    جواب میں بھارتی ٹیم نے 100 رنز کا ہدف 2 وکٹوں کے نقصان پر 38 گیندیں قبل حاصل کرلیا۔بھارتی بیٹر سمرتی مندھانہ نے 63 رنزکی ناقابل شکست اننگزکھیلی۔

    پاکستان کی جانب سے عمیمہ اور طوبیٰ نے ایک ، ایک وکٹ حاصل کی۔

  • شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    کوئٹہ:شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ آیا ہے ،سیلاب کے بعد بلوچستان کے ساحل سمندرکے قریب زلزلہ کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے ہیں۔لوگوں پرخوف کے سائے ہیں ،اطلاعات ہیں کہ اس زلزلے میں پانی میں گھرے ہوئے مکانات کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی جس کی گہرائی زیرزمین 60 کلومیٹرتھی، زلزلے کا مرکز پسنی کے قریب آف کوسٹل ایریا تھا، 10 منٹ کے وقفے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کی شدت 5.0 ریکارڈ کی گئی۔

    زلزلے کے جھٹکے گوادر اور بلوچستان کی دیگر ساحلی پٹی پر بھی محسوس کیے گئے، فوری طور پر زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع اس وقت سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

    بارشیں اور سیلاب سے بلوچستان میں حالات خراب، ہر طرف تباہی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہوگئے، متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے تباہی پھیل گئی، جاں بحق افراد کی تعداد 127 ہوگئی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہو گئے اور 565 کلومیٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا، گیارہ پل سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے، متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔