Baaghi TV

Author: +9251

  • عمران خان کا  دورہ لاہور،پرویزالہیٰ سے ملاقات، پنجاب کابینہ کی تشکیل پر مشاورت

    عمران خان کا دورہ لاہور،پرویزالہیٰ سے ملاقات، پنجاب کابینہ کی تشکیل پر مشاورت

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان وزیر اعلیٰ آفس لاہور پہنچ گئے ،وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی نے چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کاخیرمقدم کیا.چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے وزیر اعلی چودھری پرویز الٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے ملاقات کی.ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورتحال اور پنجاب کے انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا.صوبے کے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی.

    عمران خان نے پنجاب سے غیر آئینی و غیر قانونی حکومت کے مکمل خاتمے پر چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کو مبارکباد دی ، چودھری پرویزالٰہی نے سیاسی وفاداریاں بدلنے والوں کے خلاف بھرپور موقف پر کھڑا رہنے پر عمران خان کی سیاسی بصیرت کو سراہا ،عمران خان نے پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام تر کاوشیں بروئے کار لانے کی ہدایت کی. وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کئے گئے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا

    عمران خان نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی،

    عمران خان نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کی جائے۔ چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے انتظامیہ اور متعلقہ ادارے متحرک ہیں، جاں بحق افراد کے لواحقین کو 8، 8 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔

    زرائع کے مطابق عمران کان نے چوہدری پرویزالہی کی ملاقات میں پنجاب کابینہ کی تشکیل، صوبے کی انتظامی صورتحال اور آئندہ ترجیحات پر مشاورتکی گئی.تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پنجاب کے تمام ڈویژن کے پی ٹی آئی اور ق لیگ کے ارکان اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

    چیئرمین تحریک انصاف سے نو منتخب سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان، نومنتخب ڈپٹی سپیکر واثق قیوم عباسی بھی ملاقات کریں گے،عمران خان مختلف انتظامی اجلاسوں کی صدارت کریں گے، پنجاب کابینہ کے لئے ناموں کو بھی حتمی شکل دی جائے گی۔

  • آج پاکستان کو بچایا ہے تو نواز شریف حکومت نے بچایا ہے،مفتاح اسماعیل

    آج پاکستان کو بچایا ہے تو نواز شریف حکومت نے بچایا ہے،مفتاح اسماعیل

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ روپے پر پریشر جلد ختم ہو گا، رواں ماہ 5 ملین ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔ درآمدات میں کمی خوش آئند ہے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے 150 یونٹ سے کم استعمال کرنیوالے دکانداروں کو ٹیکس چھوٹ کا اعلان کر دیا.

    حکومت محض ایک قومی فریضہ سمجھتے ہوئے سنبھالی،گورنر پنجاب

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت نے تاریخ کا سب سے زیادہ قرضہ لیا، سابق حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھا، 4 سال میں 20 ہزار ارب قرض لیا جس سے ملک کو معاشی نقصان ہوا۔ عمران حکومت نے بجلی منصوبوں میں سرمایہ کاری نہیں کی۔ ان کے دور میں ٹیکس کولیکشن میں کمی ہوئی، معیشت کے تمام شعبوں کو تباہ کیا گیا۔ عمران خان بتائیں انہوں نے کیا معاشی اصلاحات کیں۔

     

    عمران خان نے پاکستان دشمن لابی سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی،احسن اقبال

     

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ کوشش ہے کرنٹ اکاونٹ خسارہ ایک سال میں سرپلس کر دیں۔ مقامی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ درآمدات پر پابندیاں مرحلہ وار ختم کریں گے۔ شاہد خاقان عباسی نےایل این جی کے سستے ٹرمینل لگائے۔ الیکشن کمیشن سے اپیل ہے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے۔ آج پاکستان کو بچایا ہے تو نواز شریف حکومت نے بچایا ہے،آج تک یہ نہیں بتایا گیا نواز شریف نے کرپشن کہاں کی،آپ نےنواز شریف کو سیاست سے ہٹانے کی بہت کوشش کی.

    ان کا کہنا تھا کہ آج سے 100 ڈیڑھ سو یونٹس کم استعمال کر رہے ہیں ان کے ٹیکس کم کر دیں گے،نواز شریف نے جب لندن میں اپارٹمنٹ لیے تھے، اس سال ان کی کمپنی نے 4 سو کروڑ کمائے تھے،جج ارشد ملک نے تو غلط فیصلہ کیا ،حیرت ہے سپریم کورٹ نے فیصلہ واپس نہیں کیا، آپ نے پچاس لاکھ گھروں میں سے کتنے گھر بنائے، مجھے دکھائیں،آپ کے پاس 9 ارب ڈالر ہیں،آپ نے 21 ارب ڈالر دنیا کے دینے ہیں،ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں 10لاکھ کو بھی دی،پھر بھی ہمیں چور اور غدار کہتے ہیں، شرم نہیں آتی جھوٹ بولتے ہوئے،ہم نے وقت ضائع نہیں کیا، چلے سوچا جو بھی ہو بات کریں گے، تھوڑی سی ایمنسٹی دے دی کہا کیا فرق پڑتا ہے، فرق پڑتا ہے خان صاحب، کہتے ہیں تھوڑا سا معاہدہ توڑ دیا تو کیا فرق پڑتا ہے، عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے وعدے توڑے،20فیصد گیس چوری ہوتی تھی یا ہوا میں اڑادی گئی کسی کو پتا ہی نہیں چلا.

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملکی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا،پی ٹی آئی نے 70 سال کے قرضے کے مقابلے میں 80 فیصد قرضہ لے لیا،جولائی میں ادائیگی کرنی تھی اس لیے رواں ماہ زیادہ دباو تھا،جون میں 3.8 بلین کی پیٹرولیم مصنوعات خریدی تھیں،ہم نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے،جولائی میں درآمدات بہت کم ہے، اگست سے یہ دباو ختم ہوجائے گا،اس ماہ ہمیں اسٹیٹ بنک کو 800 ملین ڈالر زیادہ دینے پڑے جو خسارہ ہوا،خان صاحب نے آئی ایم ایف سے وعدہ توڑا تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھا،اگلے ماہ سے برآمدات کو بڑھانے کی کوشش کریں گے.انہوں نے کہا کہ اس مہینے 5 ملین ڈالرز کی درآمدات ہوئی ہیں، جون میں 3.8 بلین کی پیٹرولیم مصنوعات خریدیں، درآمدات میں کمی کے باعث روپے کی قدر مستحکم ہو رہی ہے۔

  • بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی جبکہ سیکڑوں مکانات بھی تباہ ہوگئے۔ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچنے سے پاک ایران مال بردار ٹرین سروس معطل کر دی گئی جبکہ قومی شاہراہ کو نقصان پہنچنے سے بلوچستان سے کراچی جانے والے پھل اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہوگئی۔

    متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اٹک، تربیلا، چشمہ اور گڈو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ سندھ کے علاوہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    آئی ایس پی آر مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    جھل مگسی گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا ہے۔گندھاوا اور گردونواح میں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ خضدار ایم-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے جبکہ حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔ گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے۔ نوشکی پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔پکا ہوا کھانا 1000 سے زیادہ لوگوں کو دیا گیا ہے۔ 3 مقامات پر تباہ ہونے والے این-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ لسبیلہ علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے.گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا۔ قراقرم ہائی وے میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی تودے گرنے کی اطلاع تھی۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان کے اکثر علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔

    صوبے بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے پیش آنے والے حادثات میں ساڑھے 13 ہزار مکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ بجلی کے 140 کھمبے گر چکے ہیں۔ کوئٹہ میں انگوروں کے باغات تباہ ہو گئے، ضلع واشک میں سیلابی ریلہ پیاز سے بھری بوریاں بہا کر لے گیا۔

    محکمۂ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر دی۔
    کوئٹہ، ژوب، زیارت، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللّٰہ، پشین، بارکھان میں آج بادل برس سکتے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش ژوب میں 45 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔تاریخ رقم کرنے والا مون سون کا چوتھا اسپیل بلوچستان کے جنوب مشرق اور وسطی علاقوں میں تباہ کاریوں کا باعث بن رہا ہے۔

     

    سکھر بیراج سے مزید 12 لاشیں برآمد

     

     

    شمال میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے دور افتادہ علاقے اور بلوچستان کے بلند ترین مقام کان مہتر زئی میں نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔پہاڑوں پر زندگی گزارنے والے حالات سے مجبور ہو کر شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

     

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

     

     

    بلوچستان میں بارشوں اور ڈیموں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی، دشتگور انکی ندی سے تین بچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی.

    بارشوں اور مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 45 مرد، 32 خواتین جبکہ 38 سے زائد بچے شامل ہیں، جن میں سے بیشتر سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے، اس کے علاوہ ہزاروں مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوگئے۔وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہٰ اور انکی جلد از جلد بحالی کی جائے گی۔

    بلوچستان کے سابق وزیراعلی نواب اسلم رسانی نے موٹر سائیکل پراپنے حلقہ میں سیلاب اور بارشون سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے.

    علاوہ ازیں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 43 مرد، 7 خواتین اور گیارہ بچے شامل ہیں۔جھل مگسی، قلعہ عبداللہ، نوشکی، مستونگ سمیت دیگر علاقے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں سیلابی ریلوں کی تباہی سے سیکڑوں گھر ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور مقامی شہری بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

    دوسری جانب لک پاس کے قریب واقع ڈیم ٹوٹنے کے باعث کوئٹہ تفتان شاہراہ زیرآب گئیں، جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوگئی جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ 15 پُل متاثر ہوئے، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا متعلقہ اداروں کے ہمراہ ریسکیو آپریشن جاری جاری ہے جبکہ پانچ میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سیلابی ریلے میں دالبندین کے قریب ریلوے ٹریک بہہ گیا جس کے نتیجے میں پاک ایران ریلوے سروس کو بند کردیا گیا جبکہ باب دوستی سے پانی کی نکاسی کر کے اسے پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    مزید برآں ڈی جی پی ڈی ایم اے نےڈی جی خان ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے جان بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اورلواحقین سے اظہار تعزیت کیا،ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عثمان خالد اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی ڈی جی پی ڈی ایم اے کےہمراہ تھے.

    ڈی جی پی ڈی ایم اے فیصل فرید کا کہنا تھا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہوا،مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔سیلاب سے ڈی جی خان ڈویژن کو بہت نقصان ہوا،حکومت پنجاب کی جانب سے گھروں، فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی،میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہیں۔ سانپ کے کاٹنے سمیت دیگر ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب متاثرین میں خشک راشن،اور خیمہ جات کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کے پانی کا اخراج کافی حد ہو چکا،متاثرین کی گھروں میں شفٹنگ جاری ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور میانوالی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان انور نے تونسہ شریف کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار جعفر خان بزدار،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان،اے سی تونسہ اسد چانڈیہ اور دیگر دوران ہمراہ تھے ڈی جی خان نےسیلاب کی تباہی کاریوں کا جائزہ لیا۔ سیلاب متاثرین میں خیمے اور خشک راشن کے تھیلے تقسیم کئے۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر محمد عثمان انور نے کہا کہ مزید بارش نہ ہونے پر تین روز کے اندر ہر متاثرہ گھر تک امدادی سامان پہنچا دیں گے ۔امدادی سامان کی شفاف تقسیم کےلئے بستی سطح کی ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں۔سروے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔تخمینہ مکمل ہونے پر گھر اور فصلوں کا ازالہ کیا جائیگا
    سردار جعفر خان بزدار نے کہا کہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی جلد بحالی ممکن بنائی جائے ۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیلاب زدگان کے دکھ میں برابر کی شریک ہیں۔ہر متاثرہ فرد کی بحالی تک کام کرتے رہیں گے،کمشنر عثمان انور نے بستی چھتانی کا بھی دورہ کیا۔سیلابی ریلے میں جاں بحق افراد کےلئے فاتحہ خوانی اور لواحقین سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

  • آٹوموبائل انڈسٹری کوقومی معشیت میں کلیدی حیثیت حاصل ہے،سیکرٹری صنعت

    آٹوموبائل انڈسٹری کوقومی معشیت میں کلیدی حیثیت حاصل ہے،سیکرٹری صنعت

    سیکرٹری صنعت و تجارت ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا ہے کہ آٹوموبائل انڈسٹری کوقومی معشیت میں کلیدی حیثیت حاصل ہے تاہم جی ڈی پی میں اس کاشیئر بڑھانے اور گلوبل مارکیٹ میں اپنا مناسب حصہ حاصل کرنے کیلئے حائل مشکلات اور چیلنجز کودور کرنا ہوگا، یہ سیکٹر ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹس کے شاندار مواقع فراہم کررہا ہے اس لئے پنجاب حکومت آٹوموبائل انڈسٹری کے فروغ کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کررہی ہے.

    سیکرٹری صنعت و تجارت نے یہ بات پاپام کے زیر اہتمام ایکسپو سینٹر جوہر ٹاؤن میں صنعتی سیمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہی، ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ حکومت صنعتوں کے فروغ کیلئے پرعزم ہے، پنجاب میں سرمایہ کاری دوست ماحول موجود ہے،آٹوموٹواور انجینئرنگ سیکٹر سمیت انڈسٹری کے فروغ کیلئے سازگار فضا موجود ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے میں 10 سپیشل اکنامک زونزز فنکشنل ہیں اور تین نئے اکنامک زونزز کیلئے وفاقی حکومت کو سفارشات بھجوائی گئی ہیں، ان خصوصی اقتصادی زونز میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے وسیع مواقع موجود ہیں.

    انہون نے کہا کہ صوبے میں سرمایہ کاروں کیلئے 24سمال انڈسٹریل اسٹیٹس بھی موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور آٹوموبائل اور انجینئرنگ سیکٹر کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے اسی طرح تیانجن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، میر چاکر خان یونیورسٹی ڈی جی جی خان اور رسول یونیورسٹی منڈی بہاؤ الدین اعلیٰ معیار کے ٹیکنالوجسٹس پیدا کررہی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ اکیڈمیا اور صنعت کے مابین روابط بڑھائے جائیں، سیکرٹری صنعت و تجارت نے سیمنار کے انعقاد پرپاپام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے سیمنار پالیسی سازی کے عمل میں معاون ثابت ہوتے ہیں، اس سیمپوزیم میں سامنے آنے والی سفارشات سے استفادہ کیا جائے گا.

    سیکرٹری صنعت و تجارت ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے تین روزہ پاکستان آٹوشو کے انعقاد کو بھی خوش آئند قرار دیا، اس ایونٹ میں مقامی اور عالمی 153سے زائد نمائش کنندگان شریک ہیں، کاریں، ٹریکٹر اور موٹر سائیکل بنانے والی فیکٹریوں کے علاوہ آٹوپرزہ جات بنانے والے کارخانوں نے سٹالز لگا رکھے ہیں. چئیرمین پاپام عبدالرزاق گوہر، چیف آرگنائزر سیمپوزیم افتخار احمد اور دیگر نے بھی سیمنار سے خطاب کیا جبکہ صنعتکاروں کی بڑی تعداد نے سیمنار میں شرکت کی.

  • چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان

    چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا.اجلاس میں وزیراعلی نے ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان کر دیا.

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ پنجاب حکومت سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو 8،8لا کھ روپے مالی امداد دے گی، گھروں، فصلوں او رمویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی، سیلاب متاثرہ علاقوں میں سب سے پہلے ریسکیو 1122کا عملہ پہنچا۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی جلد تعمیر ومرمت کاحکم دیا.ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیاجائے- وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس لگانے کی ہدایت بھی کی.

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جائے، سانپ کاٹنےاور ہیضہ سے بچاؤ کی ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہونی چاہئیں، سیلاب متاثرین میں خشک راشن تقسیم کیاجائے، ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے سیلابی پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے-

     

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

     

    چودھری پرویز الہٰی نے ہدایت کی کہ کمشنر،ڈپٹی کمشنرز،آر پی او اور ڈی پی اوزمنتخب نمائندوں کے سا تھ ملکر متاثرین کی دادرسی کے لیے کوئی کسراٹھا نہ رکھیں ، ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی جائے اور باقاعدگی سے رپورٹ پیش کی جائے، تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں کو مزید تیز کریں –

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ میں خود بھی جلد سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کروں گا، سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-چودھری پرویز الٰہی

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت اجلاس میں ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیاگیا. اجلاس میں سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سردار محمد خان لغاری، سیف الدین کھوسہ،جاوید اخترلنڈ، محی الدین کھوسہ، عامر نواز چانڈیہ،ثناءاللہ خان مستی خیل، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمدخان بھٹی،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ، سیکرٹری صحت،ڈی جی پنجاب ایمرجنسی سروسزاور متعلقہ حکام نے شرکت کی.

  • سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق خصوصی دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے جہاں آج بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے.سراج الحق بلوچستان میں جاری کارکنان اور الخدمت کی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے .

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ عوام مصیبت کی اس گھڑی میں بڑھ چڑھ کرامدادی کاموں میں حصہ لیں، میڈیکل کیمپ بھی لگائے جائیں تاکہ زخمیوں اور بیماروں کو بروقت طبی امدا د مہیا کی جاسکے،
    جماعت اسلامی اور الخدمت فاﺅنڈیشن کے کارکنان کی سیلاب متاثرین کے لیے ملک بھر میں سرگرمیاں قابل تحسین ہیں.

     

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

     

     

    انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار پھر حکومت کی نا اہلی کھل کر سامنے آ گئی ہے ،حکومت کے ساتھ ساتھ فلاحی تنظیمیں اور رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں ،عوام اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مددکیلئے دل کھول کر عطیات دیں .

     

    سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

     

    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثرہ عوام کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے لئے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ متاثرہ بہنوں، بھائیوں اور بچوں کی مکمل بحالی اور نقصانات کے ازالے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہیں تنہاءنہیں چھوڑیں گے۔ بلوچستان سمیت صوبائی حکومتوں سے مل کر متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان کے سیلاب اور طوفانی بارشوں سے تباہی کا شکار جھل مگسی کے علاقوں اور ا س کے مضافاتی دیہات کے جائزے کے دوران متاثرہ عوام اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ وزیراعظم گاﺅں شمبانی میں رکے اور سیلاب متاثرین عوام سے ملے اور ان کی شکایات سنیں۔ وزیراعظم کو اپنے درمیان موجود پاکر اور ان کے تسلی دینے پر متاثرین نے وزیراعظم زندہ باد کے نعرے لگائے اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں آج آپ کو یہ یقین دہانی کرانے آیا ہوں کہ وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو اوران کی صوبائی حکومت کے ساتھ ہم مل کر وفاقی حکومت آپ کی پوری مدد کریں گے۔ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں متاثرین کی مدد کریں گے۔ جہاں جہاں جہاں نقصان ہوا ہے، وہاں ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ ان شاءاللہ آپ کے ساتھ پوری پوری مدد کریں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ بارشوں سے پچھلے تیس سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ ماضی نسبت اس مرتبہ کئی گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ تقریبا پورے پاکستان میں تقریبا 300 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں 124 لوگ وفات پاگئے ہیں جن میں خواتین، مرد اور بچے شامل ہیںجبکہ بے شمار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ مالی معاوضہ جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ زندگی بھر لوگ اپنے پیاروں کو ہمیشہ یاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ غم بھلایانہیں جاسکتا اور نہ ہی اس کی کوئی تلافی ہوسکتی ہے۔ لیکن بحرحال زندگی گزارنی ہے ۔ حکومت نے متاثرین کی امداد کے لئے حتی المقدورکوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کیلئے 10 لاکھ امداد فراہم کی جارہی ہے، زخمیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ گھروں میں کچے اور پکے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات پر امداد کو یکساں اور بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کردیا ہے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کردی گئی ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ فوری طور پر میڈیکل کیمپ قائم کیاجائے۔ ادویات اور ویکسین فراہم کی جائے۔ انہوں نے جانوروں کے علاج معالجے کے لئے ویٹنری ڈاکٹروں کی ٹیم بھی فوری بھجوانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے علاقے میں مزید کشتیاں اور راشن کے تھیلے فراہم کرنے کابھی حکم دیا۔ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے متاثرہ گاﺅں اور اس کے مضافات میں متاثرین کی مدد کے لئے ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔

  • حکومت محض ایک قومی فریضہ سمجھتے ہوئے سنبھالی،گورنر پنجاب

    حکومت محض ایک قومی فریضہ سمجھتے ہوئے سنبھالی،گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صد سالہ گولڈ میڈلز ایوارڈ کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی.تقریب گورنر ہاوس لاہور میں منعقد ہوئی،تقریب میں چائنیز قونصل جنرل ژائو شیریں( Zhao shireen)، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار، سید مرتضی محمود، لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر، سینئر نائب صدر میاں رحمن عزیز چن، نائب صدر حارث عتیق نےشرکت کی،تقریب میں لاہور چیمبر کے سابق صدور اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران بھی موجود تھے۔

    عمران خان نے پاکستان دشمن لابی سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی،احسن اقبال

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ کاروباری برادری ملک کی معیشت میں اہم کردار اد کررہی ہے، فلاحی کاموں میں بھی کاروباری برادری کی خدمات قابل ذکر ہیں، اتحادی حکومت اقتدار کی خواہش پر قائم نہیں ہوئی. پاکستان کی معیشت کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لئے وجود میں آئی.

    گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ حکومت محض ایک قومی فریضہ سمجھتے ہوئے سنبھالی۔ پاکستان کی معاشی خود انحصاری ہماری اصل منزل ہے. ہمیں معیشت کے بنیادی نکات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا.حکومتیں بدلنے سے معاشی پالیسیوں کا تسلسل نہیں رکنا چاہتے . تاجر برادری نےجس غیر معمولی مشکل معاشی حالات میں کئے گئے حکومت کے غیر معمولی اور مشکل فیصلوں کی تائید و حمایت کی ہے جو قابل فخرہے.

     

    ایسی بدتہذیبی کےخلاف اگراکیلا رہ گیا توبھی لڑوں گا:مولانا فضل الرحمان

     

     

    بلیغ الرحمان نے کہا کہ موجود حکومت نے ذمہ داری سنبھالتے ہی کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لئے اقدامات اٹھائے، حکومت نے سولر پینلز پر ہر طرح کے ٹیکس کو بھی ختم کردیا ہے تاکہ سولر پینلز امپورٹ ہوسکیں اور تاجر برادری اور عوام کو سہولت مل سکے، حکومت نے مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود عوام کے لئے آٹا ، چینی، گھی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کا پیکج دیا.

    گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ معاشی صورتحال میں بہتری کے ساتھ عوام کو مزیدریلیف فراہم کیا جائے گا، جس کے لئے حکومت مسلسل جدوجہد کررہی ہے.

    صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نعمان کبیر نے کہا کہ 100 سالہ گولڈ میڈل ایوارڈ تقریب میں سابق صدور کو گولڈ میڈل دینے کا مقصد ان کی صنعت و تجارت کی خدمات کو سراہنا ہے، تااجر برادری نے پاکستان میں صنعت کے بنیادی انفراسٹرکچر کے قیام میں اہم کردار ادا کیا.

    تقریب کے اختتام پرگورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر، سینئر نائب صدر میاں رحمن عزیز چن، نائب صدر حارث عتیق اور سابق صدور کو صنعت و تجارت کے لیے خدمات کے اعتراف میں گولڈ میڈلز دئیے.

  • تمام مجالس،عزاداری جلوسوں کو بھرپور سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں،غلام محمود ڈوگر

    تمام مجالس،عزاداری جلوسوں کو بھرپور سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں،غلام محمود ڈوگر

    یکم محرم الحرام پرمجالس اور عزاداری جلوسوں کی سیکیورٹی کیلئے لاہور پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا.

    سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کا کہنا ہے کہ تمام مجالس،عزاداری جلوسوں کو بھرپور سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں،محرم الحرام میں عزاداری جلوسوں،مجالس کی سکیورٹی پر 10 ہزار سے زائد افسران اور اہلکار تعینات کئے ہیں،محرم الحرام میں 5235مجالس منعقد،650سے زائد عزاداری جلوس برآمد ہونگے.

    سی سی پی او کے مطابق یکم سے دس محرم کے دوران مجموعی طور پر 3868 مجالس منعقد ہوں گی جبکہ 460 عزاداری جلوس برآمد ہوں گے،آج شہر میں 400سے زائد مجالس منعقد اور 10عزاداری جلوس برآمد ہونگے،تعینات افسران اور اہلکار انتہائی الرٹ رہیں،عزاداروں کے مکمل انخلا تک ڈیوٹی پوائنٹس نہ چھوڑیں، علما کرام محرم میں بین المسالک ہم آہنگی،بھائی چارے اور برداشت کے رویوں کو فروغ دیں.

    غلام محمود ڈوگر نے ہدایت کی کہ پولیس افسران عزاداری جلوسوں کے روٹس اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی کا بار بار جائزہ لیں،بلند عمارات کی چھتوں پر سنائپرز تعینات،امام بارگاہوں پر وینٹیج پوائنٹس تشکیل دیئے ہیں،شرکا کو تین درجاتی سکیورٹی حصار سے گزرنے کے بعد ہی جلوسوں،مجالس میں شرکت کی اجازت دی جائے،مجالس کے انٹری پوائنٹس پر تعینات کمیونٹی رضا کاروں کو چیکنگ کی خصوصی تربیت دی گئی ہے.

    فلیش و ٹرابل پوائنٹس پر تنازعات کےحل کے لئے سنٹرل و ذیلی امن کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کئے گئے،نویں اور دسویں محرم الحرام کے موقع پر ڈبل سواری پر مکمل پابندی ہوگی، مرکزی عزاداری جلوسوں کے راستوں پر موبائل سروس بھی مخصوص اوقات میں معطل رہے گی، ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش پر کسی قسم کی کوئی رعائت نہیں برتی جائے گی،سیف سٹی کیمروں کی مدد سے عزداری جلوسوں کے روٹس کی مکمل سرویلنس کی جائے گی،مانیٹرنگ کےلئے عزاداری جلوسوں کے روٹس،مجالس عزا گاہوں میں اضافی کیمرے نصب کئے ہیں،

    غلام محمود ڈوگرنے بتایا کہ جلوس و مجالس کی مانیٹرنگ کے لئے مختلف مقامات پر کنٹرول رومزبھی قائم کئے گئے ہیں،سوشل میڈیا پر دل آزاری کرنے والے شر پسند اور اشتعال انگیز عناصر کو آڑے ہاتھوں لیا جائے گا،
    مرکزی عزاداری جلوسوں کے راستوں کو کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کر محفوظ بنایا جائے گا،یکم محرم سے سرچ اینڈ سویپ آپریشنز میں بھی تیزی لائی گئی ہے،فیلڈ میں جا کر اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مددسے جلوس کے روٹس کی مانیٹرنگ کروں گا.

  • پنجاب میں کورونا کے 353 نئے کیس سامنے آگئے،ایک ہلاکت

    پنجاب میں کورونا کے 353 نئے کیس سامنے آگئے،ایک ہلاکت

    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرپنجاب نے کوروناوائرس کے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے اعدادوشمارجاری کردیئے.

    سیکرٹری صحت کا کہنا ہے کہ تمام شہری خاص طور پر کورونا کی مکمل احتیاط کو یقینی بنائیں۔ ہم صرف ویکسی نیشن اوراحتیاط کے ذریعے ہی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں- گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر سے کورونا کیسز 353 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    سیکرٹری صحت کے مطابق صوبہ بھر میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد 513,528 ہو چکی ہے۔اب تک صوبہ بھر میں 497,134 مریض علاج کے بعد مکمل صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں کورونا کے باعث 1 ہلاکت لاہور سے رپورٹ ہوئی۔ صوبہ بھر میں کورونا کے باعث اموات کی کل تعداد 13,588 ہو چکی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 7823 تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔

    سیکرٹری صحت کے مطابق صوبہ بھر میں کورونا کےاب تک مجموعی طور پر 11,647,751 تشخیصی ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سے کورونا وائرس سے 254 جبکہ فیصل آباد سے 32 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ملتان سے 15 جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے 7 کیسز رپورٹ ہوئے۔ بہاولپور، گوجرانولہ اور راولپنڈی سے 6 چھے جبکہ سیالکوٹ سے 5 کیسز رپورٹ ہوئے۔ شیخوپورہ سے 4 جبکہ جھنگ سے 3 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ساہیوال، رحیم یار خان اور میانوالی سے 2 دوکیسز رپورٹ ہوئے۔ وہاڑی، سرگودھا، لیہ اور اوکاڑہ سے 1ایک کیس رپورٹ ہوا۔ خوشاب، گجرات، ڈیرہ غازی خان، چینیوٹ اور بہاولنگر سے 1ایک کیس رپورٹ ہوا۔ صوبہ بھر کے تمام شہروں میں کورونا کے مثبت کیسز کی مجموعی شرح 4.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    سیکرٹری صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران لاہور میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 13.8 فیصد، فیصل آباد سے 4.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملتان میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 4.8 فیصد ، ٹوبہ ٹیک سنگھ 4.2 ریکارڈ کی گئی ۔ سیالکوٹ میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 2.8 فیصد ، راولپنڈی 0.4 ریکارڈ کی گئی ۔

    سیکرٹری صحت کے مطابق شہری کورونا کے خلاف خصوصی حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔ سماجی فاصلے اور ماسک کے استعمال کوہرصورت یقینی بنائیں۔12 سال سے زائد عمر کے تمام شہری کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لازمی اور فوری لگوائیں۔ریچ ایوری ڈورویکسی نیشن مہم کے چوتھے مرحلے کا آغاز کردیا گیا ہے .عوام کسی بھی قسم کی رہنمائی یا شکایات کے لئے1033 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

  • رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید اور جماعت اسلامی کارکنان کیخلاف مقدمہ درج

    رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید اور جماعت اسلامی کارکنان کیخلاف مقدمہ درج

    کراچی :جماعت اسلامی کے قائدین کے خلاف مقدمے درج،اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید سمیت اور دیگر کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    کراچی کے علاقے لیاری میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے دوران ہنگامہ آرائی اور پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی کا مقدمہ چاکیواڑہ تھانے میں درج کرلیا گیا۔

     

     

    پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید اور دیگر کو نامزد کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

    اس سے قبل ایس ایس پی سٹی نے جماعت اسلامی کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالرشید پر پُرتشدد احتجاج کا الزام لگایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سٹی آفس کے سامنے دھرنا دينے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔

    ایس ایس پی نے مزید کہا کہ رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید چند روز سے پُرتشدد احتجاج کررہے ہیں جو ناقابل معافی ہے، ایم پی اے کے ہمراہ کارکنان سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔

    ترجمان سٹی پولیس نے الزام لگایا کہ رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید لیاری میں خونریزی کروانا چاہتے تھے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید کو کئی کارکنان سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

    جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان بھی لیاری دھرنے میں پہنچ گئے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہماری پُرامن جدوجہد کو پُرتشدد ميں تبديل کيا جارہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جھوٹی ايف آئی آر کی مذمت کرتا ہوں، ہمارے پُرامن کارکنوں پر پوليس نے تشدد کيا، پوليس کسی پارٹی کی ترجمان نہ بنے، عبدالرشيد اور کارکنان کے خلاف مقدمہ واپس ليا جائے۔