Baaghi TV

Author: +9251

  • سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    گزشتہ روز مقامی مارکیٹ میں 10 گرام سونے کی قیمت ایک ہزار 714 روپے اضافے سے ایک لاکھ 27 ہزار 143 روپے جبکہ ایک تولہ سونے کی قیمت 2 ہزار روپے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 48 ہزار 300 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    آل سندھ صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن (اے ایس ایس جے اے) کی جانب سے جاری کردہ نرخوں میں صرف 2 ڈالر فی اونس اضافے سے ایک ہزار 730 ڈالر تک پہنچنے کا ذکر کیا گیا لیکن ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی کی وجہ سے مقامی نرخوں کو اوپر ایڈجسٹ کیا گیا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں گزشتہ روز ڈالر 229.88 روپے پر ٹریڈ ہوا۔

    یکم جنوری 2022 کو عالمی بلین ریٹ ایک ہزار 830 ڈالر فی اونس کی بنیاد پر 24 قیراط 10 گرام اور ایک تولہ سونے کی قیمتیں بالترتیب ایک لاکھ 8 ہزار 196 روپے اور ایک لاکھ 26 ہزار 200 روپے تھیں، اس وقت ایک ڈالر 177 روپے کے برابر تھا۔

    حکومت کی جانب سے ان خوردہ فروشوں پر کاروبار کے حجم اور بجلی کی کھپت سے قطع نظر 40 ہزار روپے کا فکسڈ انکم اور سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن کی دکانیں 300 مربع فٹ یا اس سے کم ہیں، اس فیصلے کے خلاف تاجروں نے اپنے کاروبار بند کرنے اور دھرنا دینے کی دھمکی دی ہے۔

    صدر اے ایس ایس جے اے حاجی ہارون رشید چند نے ڈان کو بتایا کہ حکوت کی جانب سے مقرر کردہ اس ٹیکس نے جیولرز کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عام خوردہ فروشوں کے لیے دکان کی ایک ہزار مربع فٹ جگہ کی حد برقرار رکھی گئی ہے، ٹیئر-1 سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ تمام عام خوردہ فروش اپنی بجلی کی کھپت کے مطابق 3 ہزار سے 10 ہزار تک فکسڈ چارجز ادا کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 300 مربع فٹ سے زیادہ بڑی دکان والے جیولرز کو ٹیئر-1 میں شمار کرنا امتیازی سلوک ہے جبکہ ایک ہزار مربع فٹ سے چھوٹی دکان والے عام تاجر ٹیئر-1 میں نہیں ہیں۔

  • پی آئی اے کے دو طیارے تصادم سے بچ گئے

    پی آئی اے کے دو طیارے تصادم سے بچ گئے

    پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے دو طیارے اتوار کو متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود کے قریب ایرانی علاقے میں فضا میں تصادم سے بال بال بچ گئے کیونکہ دونوں طیارے فضا میں ایک ہی راستے اور بلندی پر تھے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ایرانی ایئر ٹریفک کنٹرول کی مبینہ غفلت کی وجہ سے دونوں طیارے خطرناک حد تک ایک دوسرے کے قریب آگئے تھے.

    ذرائع کے مطابق پی آئی اے کا ایک بوئنگ 777 اسلام آباد سے دبئی جا رہا تھا جبکہ دوسرا طیارہ ایئربس اے۔320 دوحہ سے پشاور جا رہا تھا۔


    کیپٹن سمیع اللہ ایئربس اے-320 جبکہ کپتان اطہر ہارون بوئنگ 777 اڑارہے تھے۔

    تاہم جب دونوں طیارے قریب آئے تو ایک کو بلندی پر پرواز کرنے کا کہا گیا اور دوسرے کو معیاری طریقہ کار کے مطابق نیچے کی جانب پرواز کرنے کی ہدایت کی گئی۔

    تمام طیاروں میں ایک نظام ہوتا ہے جسے ٹریفک تصادم سے بچاؤ کا نظام کہا جاتا ہے، یہ خود بخود دوسرے ہوائی جہاز کے مذکورہ نظام کے ساتھ رابطہ کر کے ہوائی جہاز کی رہنمائی کرتا ہے۔

    پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ پی آئی اے ایرانی ایئر ٹریفک کنٹرول کو تحقیقات کے لیے لکھ رہی ہے کیونکہ ایرانی اے ٹی سی نے طیارے کو ہدایت کی تھی لیکن وہ غلط تھی۔

    انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی پرواز (پی کے-211)، بوئنگ 777 اسلام آباد سے دبئی، 35,000 فٹ کی بلندی پر پرواز کررہی تھی جب وہ دوحہ سے پشاور جانے والی پی آئی اے کی پرواز (پی کے-268) کی ایئربس اے۔320 کے قریب پہنچی، انہوں نے کہا کہ پی کے-268 36ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہی تھی اور اسے 20ہزار فٹ تک نیچے پرواز کرنے کے لیے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ مذکورہ پرواز کے نیچے پروز کرنے کی وجہ سے یہ پی آئی اے پی کے-211 کے طیارے بوئنگ 777 کے راستے میں آئی ہو گی۔

    تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ہوائی جہاز کے ٹریفک تصادم سے بچاؤ کے نظام نے دونوں طیاروں کے لیے راستے کو درست کیا اور خود بخود ان کی رہنمائی کی۔

  • آج کہاں کہاں بارش ہوگی؟

    آج کہاں کہاں بارش ہوگی؟

    ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ ابھی جاری رہے گا۔پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر ،گلگت بلتستان ،سندھ اور بلوچستان میں مزید بارش کا امکان ہے۔

    کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بادل ابھی اور رنگ جمائیں گے۔کراچی،حیدرآباد،میرپورخاص، سانگھڑ،مٹھی، ٹھٹھہ، بدین، عمرکوٹ میں بارش کا امکان ہے۔

    تھرپارکر، دادو، سکھر، کشمور، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز میں بارش متوقع ہے۔شہداد پور،لاڑکانہ،جیکب آباد، پڈعیدن، بینظیرآباد اورجام شورو میں بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی بلوچستان میں چند مقامات پر موسلادھار بارش متوقع ہے۔ژوب، زیارت، بارکھان، لورالائی، بولان کوہلو، قلات اور خضدار میں بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات نے لسبیلہ ، نصیر آباد، جعفر آباد،سبی،مستونگ،کوئٹہ،چمن اورپشین میں بارش کی پیشگوئی کی ہے۔آواران، خاران، دالبندین، پنجگور، تربت، اورماڑا، پسنی اور جیوانی میں بھی بادل برسیں گے۔

    اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا امکان ہے۔راولپنڈی، مری ، اٹک، چکوال، جہلم، سیالکوٹ، نارووال اور لاہور میں بھی بارش متوقع ہے۔

    اوکاڑہ ، گوجرانوالہ،گجرات، فیصل آباد ، منڈی بہاؤالدین ، جھنگ اورخوشاب میں بارش متوقع ہے۔میانوالی ، حافظ آباد،بھکر، لیہ، ملتان، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی بارش کا امکان ہے۔رحیم یار خان اورسرگودھا میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش ہو گی۔

  • مسلم لیگ نواز الیکشن سے بھاگ رہی ہے. شیخ رشید

    مسلم لیگ نواز الیکشن سے بھاگ رہی ہے. شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ دو ووٹوں کے سازشی وزیراعظم پربھی عدم اعتماد لانا ہوگی۔

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بیان میں کہا کہ چیف جسٹس کے بینچ کو فکسڈ بینچ کہنا افسوس ناک ہے۔ دو ووٹوں کے سازشی وزیراعظم پر بھی عدم اعتماد لانا ہوگی۔


    شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ: سپریم کورٹ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اتحادی بتائیں ان کے پسندیدہ جج کون سے ہیں۔ یہ اثاثے بیچ کر معیشت کو مزید تباہ کررہے ہیں۔

    شیخ کے مطابق: اب مسلم لیگ نواز الیکشن سے بھاگ رہی ہے۔ حکومت اپنے پسندیدہ ججز کے نام بتائے، شیخ رشید

  • درآمدی شعبے کے لیے گیس کے نرخوں میں 82فیصد تک اضافہ

    درآمدی شعبے کے لیے گیس کے نرخوں میں 82فیصد تک اضافہ

    کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے برآمدی صنعت کے لیے درآمدی اور گھریلو گیس کی قیمتوں میں بالترتیب 38 فیصد اور 82 فیصد سے زائد کا اضافہ کیا اور 11 ماہ کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت 9 سینٹ مقرر کردیے ہیں جس کا اطلاق یکم اگست سے ہو گا۔

    ڈان کے مطابق: وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو ہوا جس میں اس کے اراکین وزیر تجارت نوید قمر اور وزیر صنعت و پیداوار سید مرتضیٰ محمود کے علاوہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر توانائی خرم دستگیر خان، وزیر مملکت برائے خزانہ اور پیٹرولیم بالترتیب ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا اور مصدق ملک اور دیگر نے شرکت کی۔

    ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آر ایل این جی کی شرح 9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی منظوری دے دی جس میں موجودہ گیس کنکشنز کے لیے پاکستان بھر میں پانچ برآمدی شعبوں کو شامل کیا گیا ہے، کمیٹی نے وفاقی کاینہ کو برآمدی شعبے کے لیے گیس نرخوں میں 1350 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اور عام صنعت 1550 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی تجویز دی ہے، یہ زیادہ تر سندھ میں لاگو ہوگا جہاں برآمدات اور عام صنعت کی موجودہ قیمت بالترتیب 820 روپے اور 853 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، جو تقریباً 65 فیصد اور 82 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

    آر ایل این جی پانچ برآمدی شعبوں ستلی، چمڑے، قالین، جراحی اور کھیلوں کے سامان کو فی ایم ایم بی ٹی یو 6.5ڈالر کے حساب سے فراہم کی جارہی ہے، اس طرح یہ تقریباً 38.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے، وفاقی بجٹ 23-2022 کے تحت آر ایل این جی کے لیے 40 ارب روپے کا سبسڈی کور مختص کیا گیا ہے جس کا سہ ماہی جائزہ لیا جائے گا۔

    اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یکم اگست سے پانچ برآمدی شعبوں کے لیے 9 امریکی سینٹس فی کلو واٹ فی گھنٹہ کے حساب سے بجلی کی شرح کی منظوری کا انحصار بجٹ میں فنانس ڈویژن کی جانب سے 20 ارب روپے کی سبسڈی کی فراہمی پر ہو گا، سبسڈی کا سہ ماہی جائزہ لیا جائے گا اور پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے فہرست فراہم کی جائے گی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ تجارت، توانائی اور خزانہ کی وزارتوں اور برآمدی شعبوں کی مشاورت سے علاقائی سطح پر مسابقتی توانائی کے نرخوں کو حتمی شکل دی گئی ہے تاکہ پانچ برآمدی شعبوں کو 9 امریکی سینٹ فی یونٹ کی حتمی شرح سے بجلی کی فراہمی جاری رکھی جا سکے۔

    دوسری جانب درآمد شدہ اور ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس ان شعبوں کو فی الحال 6.5 ڈالر فی یونٹ کے بجائے 9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے پاکستان بھر میں یکم جولائی سے 30 جون 2023 تک بغیر کسی تفاوت کے فراہم کی جائے گی، اس طرح آر ایل این جی کراچی میں واقع سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹیڈ کے صارفین کو بھی اسی رعایتی ٹیرف پر فراہم کی جائے گی جو لاہور میں قائم سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹیڈ کے پانچ برآمدی شعبوں کے صارفین کو فراہم کی گئی ہے،۔ اس وقت قدرتی گیس کی قلت کے باعث نئے صنعتی گیس کنکشن پر پابندی ہے۔

    اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 75ویں یوم آزادی کی تقریبات کے لیے وزارت اطلاعات و نشریات کے لیے 75 کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی، اجلاس میں وزارت داخلہ کے بجٹ سے معاوضے/ خیر سگالی پیکج کی ادائیگی کی تجویز کی بھی منظوری دی گئی۔

  • 2021-22 میں 19.7 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کئے گئے

    2021-22 میں 19.7 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کئے گئے

    مالی سال 2021-22ء میں پاکستان نے تقریباً20 ارب ڈالر کے ریکارڈ غیرملکی قرضے لیے جبکہ حاصل کردہ غیرملکی قرضوں کا حجم مالی سال 2020-21ء کے مقابلے میں 27 فیصد زائد رہا۔

    شہباز رانا کی رپورٹ کے مطابق: وزارت اقتصادی امور اور اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق عمران خان اور شہباز شریف کی حکومتوں نے گذشتہ مالی سال میں مجموعی طور پر 19.7 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کی۔ بیرونی قرضوں کا حجم مالی سال 2020-21ء میں حاصل کردہ قرضوں سے 4.2 ارب ڈالر یا 27 فیصد زائد رہا۔

    وزارت اقتصادی امور کے مطابق 30جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں 16.7 ارب ڈالر کے غیرملکی قرضے لیے گئے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق گذشتہ مالی سال میں انتہائی مہنگے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے عوض 2 ارب ڈالر آئے جب کہ آئی ایم ایف سے 1 ارب ڈالر کا قرض موصول ہوا۔

    ایکسپریس کے مطابق: مالی سال 2021-22ء میں پاکستان نے تقریباً20 ارب ڈالر کے ریکارڈ غیرملکی قرضے لیے جبکہ حاصل کردہ غیرملکی قرضوں کا حجم مالی سال 2020-21ء کے مقابلے میں 27 فیصد زائد رہا۔

    وزارت اقتصادی امور اور اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق عمران خان اور شہباز شریف کی حکومتوں نے گذشتہ مالی سال میں مجموعی طور پر 19.7 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کی۔ بیرونی قرضوں کا حجم مالی سال 2020-21ء میں حاصل کردہ قرضوں سے 4.2 ارب ڈالر یا 27 فیصد زائد رہا۔

    وزارت اقتصادی امور کے مطابق 30جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں 16.7 ارب ڈالر کے غیرملکی قرضے لیے گئے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق گذشتہ مالی سال میں انتہائی مہنگے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے عوض 2 ارب ڈالر آئے جب کہ آئی ایم ایف سے 1 ارب ڈالر کا قرض موصول ہوا۔

  • سپرٹیکس 15 کروڑ سے زائد کی سالانہ آمدنی پر لگے گا. ایف بی آر

    سپرٹیکس 15 کروڑ سے زائد کی سالانہ آمدنی پر لگے گا. ایف بی آر

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جاری سرکلر کے مطابق سپرٹیکس 15کروڑ سے زائد کی سالانہ آمدنی پر لگے گا۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے فنانس ایکٹ 2022-23 میں کی جانیوالی ٹیکسوں میں رد وبدل بارے 25 صفحات پر مشتمل وضاحتی سرکلر جاری کردیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چار سیٹوں سے دس سیٹوں تک کی نان ایئر کنڈیشنرمسافر گاڑیوں پر پانچ سو روپے فی سیٹ سالانہ کے حساب سے قابل ایڈجسٹ ایڈوانس ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

    ایئر کنڈیشنرمسافر گاڑیوں پر ایک ہزار روپے فی سیٹ سالانہ،دس سے 20سیٹوں تک کی نان ایئر کنڈیشنرمسافر گاڑیوں 1500روپے فی سیٹ جبکہ ایئرکنڈیشنرمسافر گاڑیوں پردو ہزار روپے فی سیٹ سالانہ اور بیس سیٹوں سے زائد کی نان ایئرکنڈیشنرمسافر گاڑیوں پر ڈھائی ہزار روپے جبکہ ایئر کنڈیشنرمسافر گاڑیوں پرچار ہزار روپے فی سیٹ سالانہ کے حساب سے قابل ایڈجسٹ ایڈوانس ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

    پندرہ کروڑ روپے سے زائد آمدنی والے امیر لوگوں پر چار فیصد تک سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، پندرہ کروڑ روپے سالانہ تک صفر سپر ٹیکس پندرہ سے بیس کروڑ روپے سالانہ پرایک فیصد،بیس سے پچیس کروڑ روپے سالانہ پردو فیصد،پچیس سے تیس کروڑ روپے پرتین فیصد جبکہ تیس کروڑ سے زائد کی آمدنی والوں پرچار فیصد سپر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔

    ایک سے زائد غیر منقولہ اثاثے رکھنے والے ریذیڈنٹ پاکستانیوں کے کیپیٹل اثاثہ جات کی مارکیٹ ویلیو کے پانچ فیصد کے برابر آمدنی پر بیس فیصد ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔

    ایک ذاتی ملکیتی کاروباری جگہ رکھنے والوں کو اور ذاتی زرعی زمین پر خود کاشت کرنے والوں کو بھی اس ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہوگی البتہ فارم ہاوسز پر اس چھوٹ کا اطلاق نہیں ہوگا پاکستان مسلح افواج کے شہداء اور انکے ورثا پر بھی اس ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

  • حکومت لگژری اشیا کی درآمد پر عائد پابندی اٹھانے کیلیے تیار

    حکومت لگژری اشیا کی درآمد پر عائد پابندی اٹھانے کیلیے تیار

    حکومت 19 مئی کو غیر ضروری اور لگژری آئٹمز کی درآمد پر عائد کی گئی پابندیاں ہٹانے کے لیے تیار ہو گئی ہے۔

    ملک کی برآمدات کو مسابقتی بنانے کیلیے رواں مالی سال کے دوران بجلی پر فی یونٹ 9 سینٹ اور گیس پر فی یونٹ 9 ڈالر سبسڈی فراہم کرے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت کو رواں ہفتے کے دوران دوست ممالک سے تقریباً 3 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔

    حکومت 5 برآمدی شعبوں کی مدد کرنے کے ساتھ درآمدی ادائیگیوں کو کلیئر کر کے 85 میں سے زیادہ تر اشیا کی درآمدات پر عائد پابندیوں میں (موبائل فون اور آٹوموبائل کے علاوہ) عارضی مدت کے لیے نرمی کرکے مارکیٹ کو اعتماد اور مثبت احساس دلانا چاہتی ہے۔

    توانائی اور خزانہ کی وزارتوں اور برآمدی شعبوں کے ساتھ مشاورت کے ساتھ وزارت تجارت نے 5 برآمدی شعبوں یعنی بان، چمڑہ، قالین، آلات جراحی اور کھیلوں کے سامان پر یکم جولائی 2022 سے 30 جون 2023 تک بجلی پر 9 سینٹ فی یونٹ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس کے علاوہ، درآمد شدہ اور ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) بھی ان شعبوں کو 9 ڈالر فی یونٹ سبسڈی فراہم کی جائے گی ، اس وقت 6.5 فی یونٹ ملین برٹش تھرمل یونٹس (ایم ایم بی ٹی یو) فراہم کی جا رہی ہے اور یہ شرح ان تمام 5 شعبوں کے لیے ملک بھر کے تمام حصوں کے لیے بلا تفریق لاگی ہو گی۔

    حکومت پہلے ہی بجٹ میں رعایتی ٹیرف پر توانائی کی فراہمی کے لیے60 ارب روپے مختص کر چکی ہے ، ان 60 ارب روپے میں سے 20 ارب روپے بجلی اور 40 ارب روپے کیلئے پر سبسڈی کے لیے مختص ہیں۔

  • کورونا سے ایک ہلاکت، شرح ڈھائی فیصد سے زائد

    کورونا سے ایک ہلاکت، شرح ڈھائی فیصد سے زائد

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 2 اعشاریہ 76 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    قومی ادارہ برائے صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں 13ہزار 439کووڈ کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے371 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔


    این آئی ایچ کے مطابق اس دوران کورونا میں مبتلا1 مریض انتقال کرگیا جب کہ اب بھی 184 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کورونا مثبت کیسز کی شرح 3 فیصد تھی۔

  • آصف علی زرداری کی آج 67 ویں  سالگرہ

    آصف علی زرداری کی آج 67 ویں سالگرہ

    پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی آج 67 ویں سالگرہ ہے ، تاہم آصف زرداری اپنی سالگرہ منانے کیلئے دبئی گئے ہیں اور اس حوالے سے کئی چہ مگوئیاں بھی ہوتی رہی ہیں.صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے آصف زرداری کی اچانک دبئی روانگی سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری سالگرہ نواسے کے ساتھ منانے کے لیئے دبئی گئے ہیں۔

    شرجیل میمن نے بتایا کہ آصف علی زرداری کو بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اپنی نواسے کی سالگرہ میں شرکت کرنے دبئی گئے ہیں،بھاگنے کی ضرورت اب پی ٹی آئی کو ہے،انہوں نے کہا کہ زرداری اکیلے ان سب کے لیئے کافی ہیں وہ جلد واپس آئیں گے۔

    دوسری جانب ترجمان بلاول ہاوس کا کہنا ہے کہ آصف زرداری چاہتے تھے کہ وہ نانا کے طور پر اپنی پہلی سالگرہ کا دن اپنے اکلوتے نواسے کے ساتھ منائیں،آصف زرداری سےخوفزدہ اورعناد رکھنے والے عناصر موقع دیکھتے ہیں نہ محل، ہر بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں،آصف زرداری کے خلاف چہ میگوئیاں کرنے والے ٹھنڈا پانی پئیں،وہ مختصر دورِ دبئی مکمل کرکے جلد وطن لوٹ آئیں گے۔