Baaghi TV

Author: +9251

  • شہبازکو معاف اور نواز شریف کی سزا کو کالعدم کرنا چاہیے،ریحام خان

    شہبازکو معاف اور نواز شریف کی سزا کو کالعدم کرنا چاہیے،ریحام خان

    عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو معاف اور نواز شریف کی سزا کو کالعدم کرنا چاہیے۔

    ٹوئٹر پرجاری پیغام میں ریحام خان نے کہا کہ ‘شہباز شریف کو معاف کر دینا چاہیے اور نواز شریف کی سزا کو کالعدم کرنا چاہیے،واضح طور پر کہوں تو یہ جنگ کا وقت ہے’۔

    ریحام نے لکھا ‘244 سیٹوں کے ساتھ سب سے بھاری مینڈیٹ رکھنے والے وزیراعظم کو اس بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی’۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان میں ریحام خان نے کہا کہ ‘میں پی ٹی آئی والوں کو دیکھتی ہوں جو مجھ سے ذاتی طور پر پارٹی چیئرمین کی اصل کہانی پر بات کرتے ہیں لیکن پھر وہ ہی مذہب کارڈ استعمال کرتے ہوئے اپنے لیڈر کی ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں’۔

    ریحام خان نے عمران خان سمیت ان افراد کو ‘منافقین’ کہا اور ٹوئٹ میں پی ٹی آئی کارکنان کے بارے میں مزید لکھا کہ ‘آپ لوگ صرف خود کو دھوکا دے رہے ہیں’۔ اس سے قبل نھی سابق وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان پاکستان تحریک انصاف کی پالیسیوں اور عمران خان پر تنقید کرتی رہتی ہیں ،حال ہی میں ریحام خان نے ے اپنی طلاق اور اس کے بعد پیش آنے والے مسائل سے متعلق ٹویٹ کر دیا۔

    ریحام خان نے امریکی شہر شکاگو میں سابق شوہر کی جانب سے قتل کی جانے والی پاکستانی فوٹوگرافر ثانیہ خان کی موت کی خبر پر ردعمل دیا اور اپنی طلاق کا وقت یاد کیا۔عمران خان کی سابق اہلیہ نے لکھا کہ ‘مجھے طلاق لینے میں کئی سال لگے اور اس وقت مجھے فیملی کی طرف سے کوئی تعاون حاصل نہیں تھا، نہ ہی میری کمیونٹی میں میرا کوئی دوست تھا،

    ریحام خان نے سماجی رابظے کی ویب سائٹ ٹوئتر پرلکھا کہ ‘اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے میری جدوجہد پی ٹی آئی کے ٹرولرز کے لیے میرے خلاف غلط باتیں بولنے کا بہانہ بن گئیں، میرے دوسرے شوہر (عمران خان) نے اسے میرے خلاف استعمال کیا، طلاق جرم نہیں بلکہ زندگی کا حق ہے۔‘

  • ضمنی الیکشن میں دھاندلی نہ ہوتی تو پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتے،بابر اعوان

    ضمنی الیکشن میں دھاندلی نہ ہوتی تو پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتے،بابر اعوان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی نہ ہوتی تو پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتے۔

    اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بابر اعوان نے کہا کہ اگر دھاندلی نہ ہوتی تو ضمنی الیکشن میں 20 سیٹیں ہماری ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ اگر17 جولائی کے ضمنی الیکشن میں دھاندلی نہ ہوتی تو پرویز الہٰی وزیر اعلی پنجاب ہوتے۔پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے آج سماعت کے دوران دوسرے فریق کو ایک اور موقع دیا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ دوسری سائیڈ کو موقع ملا ہے، وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہیں۔

    علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر قانون اور دیگر وزرا نے آج بدتمیزی کی۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) والے بچوں کی طرح رو رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت عدالت کے خلاف مہم چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش ہو رہی ہے، سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں اپنے فیصلے خود کرنے کی اہلیت ہونی چاہیے۔

  • عمر رض, ایوبی, جناح اور پاکستانی پاسپورٹ!!!  — بلال شوکت آزاد

    عمر رض, ایوبی, جناح اور پاکستانی پاسپورٹ!!! — بلال شوکت آزاد

    اچھا آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت اور عشق تو کسی تعارف اور تفصیل کا محتاج ہی نہیں پر آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد جن تین لوگوں سے مجھے اللہ واسطے کی محبت اور عقیدت ہے وہ حضرت عمر رض, حضرت یوسف صلاح الدین ایوبی رح اور حضرت محمد علی جناح رح ہیں۔

    ان تینوں میں کچھ باتیں قدرے مشترک ہیں۔

    —اصول پرست تھے۔

    —انصاف پسند تھے۔

    —اپنے عقائد میں مستحکم اور متشدد تھے۔

    —اسلام کو ہی دنیا و آخرت کی ہر کامیابی کا ذریعہ سمجھتے اور مانتے تھے۔

    —مسلمانوں کو ایک مرکز پر, ایک نظریہ پر اور ایک فکر پر مجتمع کرنے کے لیئے فکرمند تھے۔

    —آزادی اور حریت کے پاسبان تھے۔

    —کرپشن اور کرپٹ ذمہ افراد سے سخت متنفر تھے۔

    —جھوٹ اور جھوٹے سے متنفر تھے۔

    —غیر مسلموں کی ناک پر لڑے ہوئے تھے۔

    —بہترین منتظم تھے۔

    —امن پسند مگر جنگجو طبیعت کے حامل تھے۔

    —دشمنوں کے دشمن اور دوستوں کے دوست تھے۔

    —اللہ, رسول اللہ ص اور خود سے کمیٹڈ تھے۔

    —اسلام کے محافظ اور پشتیبان تھے۔

    —اللہ نے ان تینوں سے امت مسلمہ کے حق میں خیر کے کام لیئے اور ان کو امت کی رہنمائی کا موقع دیا۔

    —ان تینوں کا نام دوست تو دوست دشمن بھی آج تک عزت اور احترام سے لیتے ہیں۔

    —مسلمانوں کی امیدوں کے چراغ تھے۔

    —اللہ کے مقرب تھے تبھی انہیں آج بھی ہم یاد کرتے ہیں۔

    اور سب سے بڑی بات کہ

    —فلسطین پر, ارض مقدس پر ان تینوں کا ایک ہی موقف تھا۔ جناح کو مہلت کم ملی ورنہ وہ فلسطین کو بھی آزاد کروانے کی اہلیت رکھتے تھے اور وہ ضرور نکل کھڑے ہوتے دیگر دو کی طرح پر شاید اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

    خیر عمر رض اور صلاح الدین ایوبی دونوں ہی فاتح بیت المقدس ہیں جبکہ جناح وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرکے ہمیشہ کے لیئے اسرائیلی کو لعنتی اور ناپسندیدہ رہنے دیا جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے۔

    عمر رض اور ایوبی کی فتح بیت المقدس کی یادیں تبھی زندہ و جاوید ہم تک پہنچ سکیں کے جناح نے پاکستان بنایا جہاں ہم آزادی سے اپنا آپ کھوج سکتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ جناح آنے والی نسلوں کو باور کروانے کے لیئے کہ فلسطین ہماری گمشدہ میراث ہے جو ہم نے واپس لینی ہے, وہ ہمارے پاسپورٹ پر لکھوا گئے کہ

    "یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے ہر ملک کے لیئے کارآمد ہے۔”

    عالم اسلام کو آج ان تینوں کی یا ان میں سے کسی ایک کی ہی ضرورت ہے۔

    اللہ ان تینوں ولیوں کی قبور کو منور اور ٹھنڈا رکھے اور کروٹ کروٹ جنت کے نظارے کروائے اور روز قیامت ہمیں انہی کے ساتھ اٹھائے۔

  • فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

    فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

    حکمران اتحاد اورپی ڈی ایم کے قائدین کا ہنا ہے کہ اگر فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے،پنجاب کے کیس کے حوالے سے اس بینچ کا بائیکاٹ کریں گے.

    حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین نے ممکنہ صورتحال میں متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے سے قبل حکومتی اتحاد اور پی ڈی ایم قائدین کا مشاورتی اجلاس ہوا۔

    مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا ،مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورت کے مطابق وزیراعظم ہاﺅس میں حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین کا مشاورتی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری ، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق)، اے این پی کے قائدین بھی اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی، بی این پی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ مریم نواز اور پارٹی کے دیگر قائدین نے بھی اجلاس میں شرکت کی.

    اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پنجاب سے متعلق کیس فل کورٹ سنے، موجودہ بینچ کا فیصلہ جانبدارانہ فیصلہ تصور کیا جائے گا،انصاف کی بالادستی کیلئے فل کورٹ کی تجویز دی تھی، اب فیصلہ تین بینج پر مشتمل یہی ججز کریں گے،اگر فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،انہوں نے بتایا کہ حکمران اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے،پنجاب کے کیس کے حوالے سے اس بینچ کا بائیکاٹ کریں گے.

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا مطالبہ فل کورٹ کا ہے،یہ مطالبہ آئین، جمہوریت اور عدلیہ کے وقار کیلئے کیا تھا،جب تک ہمارا مطالبہ نہیں ما ناجاتا ہم سپریم کورٹ میں سماعت کا بائیکاٹ کریں گے، سپریم کورٹ کو پارلیمان سے متعلق بار بار فیصلے دینے پڑ رہے ہیں،جب تک ہمارا مطالبہ نہیں ما ناجاتا ہم سماعت کا بائیکاٹ کریں گے،ہم سمجھتے ہیں عدالت کا بھی فل بینچ بیٹھے اور فیصلہ دے،حکومتی اتحادی جماعتوں نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے.

     

    فل بینچ تشکیل نہیں دیا تو عدالتی کارروائی کابائیکاٹ کریں گے،رانا ثناء اللہ

     

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اب امتحان سپریم کورٹ کا ہے،قانون کا تقاضا ہے کہ کسی جج یا بینچ پر انگلی اٹھ جائے تو وہ خود کو وہاں سے ہٹا دے، ہم نے صرف فل کورٹ کی استدعا کی تھی، مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر احسن اقباک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باعث 20 اراکین اسمبلی کے ووٹ نہیں گنے گئے، اس کیس پر نظرثانی کی درخواست اب بھی سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے،نظرثانی درخواست کا فیصلہ آئے بغیر یہ معاملہ غلط سمت میں جا رہا ہے،عمران نیازی کی ہدایت محترم تھی تو چودھری شجاعت کی ہدایت بھی اتنی ہی محترم ہونی چاہئے، ایک سربراہ کی ہدایت پر 20 اراکین کو نااہل کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کی ہدایت کو تسلیم نہیں کیا جاتا،ہیں چاہتے کہ کسی سیاسی تنازع پر سپریم کورٹ پر لوگ انگلیاں اٹھائیں،عام تاثر ہے کہ عمران خان عدلیہ کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں،ہم نے صرف سپریم کورٹ کا فل بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی،سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنی تیزی اس مقدمے کی سماعت کیوں کی جا رہی ہے،فل کورٹ اپوزیشن کا متفقہ فیصلہ تھا.

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) رہنما میاں افتخار حسین نے سپریم کورٹ کے فل کورٹ کی استدعا مسترد کرنے کے فیصلے کو سمجھ سے بالاتر قرار دے دیا۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنتا تو تمام سیاسی جماعتیں مطمئن ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی سربراہ کا فیصلہ نہ مان کر پارلیمانی پارٹی کو جواز بنانا سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ 25 ارکان کی نااہلی کے پیچھے پارٹی سربراہ کے احکامات تھے۔اے این پی رہنما نے مزید کہا کہ سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کے مسترد شدہ ووٹوں کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے، مرحوم حاصل بزنجو کے ووٹ مسترد ہوئے تو اس پر بھی عدالت خاموش رہی۔ان کا کہنا تھا کہ سابق ڈپٹی اسپیکر کے 52 ہزار ووٹ جعلی نکلے، اس معاملے پر بھی عدالت 3 سال تک فیصلہ نہ دے سکی۔

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں مستقبل کی حکمت عملی طے کی گئی، تمام قائدین نے ممکنہ صورتحال میں متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کو آج کی سپریم کورٹ کی کارروائی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

     

    فل
    کورٹ بنانے کی درخواستیں مسترد ،کیس 3 رکنی بینچ ہی سنےگا

  • گرمی کی شدت،لوٹن ائیر پورٹ کا رن وے پگھل گیا،گئی پروازیں منسوخ،مسافر خوار

    گرمی کی شدت،لوٹن ائیر پورٹ کا رن وے پگھل گیا،گئی پروازیں منسوخ،مسافر خوار

    یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں گزشتہ ہفتے پڑنے والی شدید گرمی نے جہاں انسانوں کو بدحال کر دیا وہیں ان ممالک کا بہترین انفرا اسٹرکچر بھی بری طرح متاثر ہوا۔ شدید گرمی کی وجہ سے ناصرف سڑکیں،چھتیں اور ٹرین کی پٹریاں پگھل گئیں بلکہ بڑھتی حدت نے مختلف یورپی ممالک میں انفرا اسٹرکچر کو بھی کمزور بنا دیا۔

    برطانیہ میں پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو گیا جبکہ 18 جولائی کو پڑنے والی گرمی سے لوٹن ائیر پورٹ کے رن وے کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا لیکن خوش قسمتی سے ائیرپورٹ پر ایک طیارہ باحفاظت لینڈ کر گیا۔

    برطانیہ کے لوٹن ائیر پورٹ کا رن وے پگھلنے کی وجہ سے فلائٹ آپریشن بھی عارضی طور پر متاثر ہوا۔ جس کی وجی سے مسافروں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ،اکثر مسافروں کو ایئرپورٹ آ کر پتا چلا کہ ان کی فلائیٹس منسوخ کر دی گئی ہیں.

    برطانیہ کے شہر لندن میں قائم 134 سال پرانا ہیمرسمتھ پل کو گرمی سے بچانے کے لیے چاندی کے طرز کی فوائل سے ڈھانپ دیا گیا، ایسا کرنے کا مقصد سورج کی تیز شعاعوں کا رخ موڑنا ہے تاکہ برج میں کہیں دراڑ نا آئے یا لوہے کی دھات گرمی سے پگھل نہ جائے۔اس کے علاوہ لندن کے الیگزینڈرا پیلس پر ٹرین کی پٹریوں کو گرمی کی شدت سے محفوظ رکھنے کے لیے سفید رنگ کر دیا گیا ہے۔

    ویسے تو پاکستان میں پروازوں میں تاخیر یا منسوخ ہونا غیرمعمولی بات نہیں مگر اس سال دنیا کے دیگر حصوں سے موازنہ کیا جائے تو پاکستانی فضائی کمپنیاں کافی اچھا کام کررہی ہیں۔

    درحقیقت 2022 کے موسم گرما میں دنیا کے متعدد ائیرپورٹس اور فضائی کمپنیوں کی جانب سے متعدد پروازوں کو منسوخ کیا گیا ہے جبکہ پروازوں میں تاخیر بھی معمول بنتی جارہی ہے۔

    دنیا میں سب سے زیادہ پروازوں کو منسوخ کرنے یا تاخیر کا باعث بننے والے ائیر پورٹس کی الگ الگ فہرستیں سامنے آئی ہیں۔موسم گرما کے دوران دنیا میں جس ائیرپورٹ پر سب سے زیادہ پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں وہ کینیڈا کا ٹورنٹو انٹرنیشنل ائیرپورٹ ہے۔

    اس ائیرپورٹ پر 26 مئی سے 19 جولائی کے دوران 52.2 فیصد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔اس کے بعد 45.4 فیصد پروازوں کی تاخیر کے ساتھ جرمنی کا فرینکفرٹ ائیرپورٹ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ فرانس کا پیرس چارلس ڈیگال ائیرپورٹ 43.2 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

    نیدرلینڈز کے ایمسٹرڈیم ائیرپورٹ میں 41.5 فیصد جبکہ لندن کے گیٹ وک ائیرپورٹ میں 41.1 فیصد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں اور یہ بالترتیب چوتھے اور 5 ویں نمبر پر رہے۔لندن کے ہی ہیتھرو ائیرپورٹ میں 40.5 فیصد پروازوں کو اڑان بھرنے میں تاخیر ہوئی اور وہ چھٹے نمبر پر رہا۔

    اس حوالے سے جرمنی کا میونخ ائیرپورٹ 7 ویں، یونان کا ایتھنز انٹرنیشنل ائیرپورٹ 8 ویں، آسٹریلیا کا سڈنی کنگز فورڈ اسمتھ ائیرپورٹ 9 ویں اور امریکا کا اورلینڈو انٹرنیشنل ائیرپورٹ 10 ویں نمبر پر رہا۔

  • فل کورٹ بنانے کی درخواستیں مسترد ،کیس 3 رکنی بینچ ہی سنےگا

    فل کورٹ بنانے کی درخواستیں مسترد ،کیس 3 رکنی بینچ ہی سنےگا

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد کردیا ۔ عدالت نے سماعت کل صبح تک کیلئے ملتوی کر دی گئی.
    سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وکلاء نے فل کورٹ بنانے اور میرٹ پر دلال دیئے، معاملے کی بنیادی قانونی سوال ہے، ارکان کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں، وکلاء کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، سماعت کل صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کی جاتی ہے۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ وکلاء کو موقع دیتے ہیں کل عدالت کو مطمئن کریں۔ عدالت کے سامنے سوال آرٹیکل 63 اے کے تحت ہدایات کا ہے، معاملہ کی بنیاد قانونی سوال ہے ارکان اسمبلی کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں، وکلاء نے اپنے دلائل کے حق میں عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔ پرویز الہی کے وکیل نے کہا رولنگ آئین قانون کے بر خلاف ہے۔ فل کورٹ تشکیل نہ دینے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

    اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ پر حکومتی اتحادیوں کی فل کورٹ بنچ بنانے کی درخواست مسترد کر دی جبکہ حمزہ شہباز کے وکیل کی بھی مزید وقت دینے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے کیس کی آج دوبارہ سماعت کی۔ دن بھر دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر ڈپٹی سپیکر کے رولنگ کیخلاف فل کورٹ بنانے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا۔

    ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے کیس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی جانب سے فوری فل کورٹ کی تشکیل کے حوالے سے محفوظ فیصلہ ساڑھے پانچ بجے کے بعد سنایا گیا۔ عدالت نے حکومتی اتحاد کی فور فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد کردی اور قرار دیا کہ موجودہ تین رکنی بینچ ہی کیس کی سماعت کرے گا۔

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ کیلئے مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، فل کورٹ بنانے کے معاملے پر فیصلہ آج ہوگا یا نہیں ، اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ دلائل سن کر فیصلہ کریں گے کہ فل کورٹ بنانا ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ نے وکلا کو میرٹ پر دلائل دینے کی ہدایت کی۔ عدالت نے چوہدری شجاعت اور پیپلز پارٹی کے کیس میں فریق بننے کی درخواست منطور کرلی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چوہدری شجاعت اور پیپلز پارٹی کے وکیل میرٹ پر دلائل دیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے،یہ دیکھیں اکیسویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا؟آپ اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دے رہے ہیں،آپ 8 ججز کے فیصلے کا حوالہ دے رہے تو 9 ججز بھی سماعت کرسکتے ہیں، جسٹس منیب اختر کااستفسار کیا کہ بار بار فل کورٹ کا ذکر کیوں کر رہے ہیں؟چیف جسٹس کے ریمارکس دیئے کہ جمہوریت میں اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے،اگر اپوزیشن بائیکاٹ کرتی ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ نظام چلنا چاہئے،ایسے ایشوز کو حل ہونا چاہئے تا کہ حکومتیں اپنا کام کرتی رہیں،ایک پہلو جو اہم ہے وہ پولورائیز سیاسی ماحول بن جانا ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہوتے ہیں،سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان بھی فیصلوں میں الگ رائے ہوتی ہے ،وکیل چودھری شجاعت صلاح الدین نے کہا کہ ووٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہوتا ہے،اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے قائد کوئی بھی ہو، جسٹس منیب اختر کے ریمارکس دیئے کہ پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں،پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہئے،

    اس سے قبل آج سماعت کے آغاز پر سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی روسٹرم پر آگئے اور مؤقف اپنایا کہ موجودہ صورتحال میں تمام بار کونسلز کی جانب سے فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    لطیف آفریدی نے کہا کہ کرائسس بہت زیادہ ہیں، سسٹم کو خطرہ ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح پر نظرثانی درخواست مقرر کی جائے اور آئینی بحران سے نمٹنے کے لیے فل کورٹ بنایا جائے۔

  • مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا ،مریم نواز

    مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا ،مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا اور انصاف نہیں ملے گا اور یہی میں قوم کو بتانا چاہتی تھی!

    مریم نواز نے کہا کہ جب فیصلے آئین،قانون اور انصاف کے مطابق نا ہوں تو فُل کورٹ سے خطرہ رہتا ہے۔کیونکہ ایماندار ججز کے شامل ہونے سے فیصلے کی خامیاں منظرِ عام پر آ جاتی ہیں اور لوگ جان جاتے ہیں کہ فیصلہ آئین و قانون نہیں، ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
    مگر اب کچھ بھی کر لیں،لوگ تو جان گئے!


    ‏ہمارے ۲۰ ووٹ بھی آپ نے ہم سے چھین لیےاور ق۔لیگ کے ۱۰ ووٹ بھی آپ نے PTI کو عطا کر دیے تو پرویز الہی صاحب کی majority تو آپ کی دین ہے می لارڈ !

    اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں آج جب پریس کانفرنس کیلئے آرہی تھی تو مجھے بہت لوگوں نے روکا کہ میں یہ پریس کانفرنس نہ کروں، لیکن مجھے بہت سے حقائق آج قوم کے سامنے رکھنے ہیں،خالد مقبول صدیقی کی فلائٹ منسوخ ہوچکی ہے ،نہیں پہنچ پائے جماعت کی طرف سے پریس کانفرنس کی ذمہ داری تھی، اتحادی جماعتوں کی آمد پر شکریہ ادا کرتی ہوں،چرچل نے سوال کیاتھا کہ کیا عدالتیں انصاف دیں گی عوامی نمائندوں کو خود سے بڑھ کر سوچنا پڑتاہے، گزشتہ چند سال سے آج تک کےحقائق سامنے رکھنا چاہتی ہوں،فیصلوں کے اثرات آنے والے وقتوں پر بھی ہوتے ہیں ،اداروں کی توہین اداروں کے اندر سے ہوتی ہے عدلیہ کی توہین متنازعہ فیصلے کرتے ہیں، عوام نہیں،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ایک غلط فیصلہ سارے مقدمے کواڑا کررکھ دیتا ہے،ناانصافیوں کی فہرست بہت طویل ہے فیصلہ ٹھیک کیا جائے توتنقید کوئی معنی نہیں رکھتی، جب سے حمزہ شہباز وزیرِ اعلیٰ بنا ہے اسے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ حمزہ کا الیکشن ہوا، جیت گئے، پی ٹی آئی سپریم کورٹ درخواست لے گئی،قوم نے دیکھا چھٹی کے دن رات کو سپریم کورٹ رجسٹری کھلی رجسٹرار خود گھر سے آیا اور کہا کہاں ہے پٹیشن،پی ٹی آئی نے رجسٹرار سے کہا ابھی پٹیشن تیار نہیں ہوئی ،جب پٹیشن آتی ہے، پہلے سے علم ہوتا ہے کہ بینچ کونسا ہوتا ہے،جب بنچ بنتا ہے تو لوگوں کو پتہ ہوتا ہے فیصلہ کیا ہو گا، یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں6 ووٹ مسترد قرار دیئے گئے،چودھری شجاعت کے کہنے پر بھی انہیں کورٹ بلا لیا گیا، یہ بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ تھی،سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو کیوں نہیں بلایا گیا؟ ٹرسٹی وزیراعلیٰ ،یہ کیاہے ،بلیک لاڈکشنری اور منفرد آئیڈیاز کہاں سے لے آتے ہیں ؟کبھی سنا ہے آپ نے کہ کوئی ٹرسٹی وزیراعلیٰ ہو ؟25 ارکان کو پارٹی ہیڈ کے خلاف ہونے پر ڈی سیٹ کیا گیا،ہمارے خلاف ہر مقدمے میں ایک ہی جج کو مونیٹرنگ جج لگایا گیا ہے واٹس آپ کال پر نوازشریف کے مقدمات کو لڑا گیا، کل کا مانیٹرنگ جج آج بھی تاحیات مانیٹرنگ جج ہے پارٹی ہیڈ اگر نوازشریف ہیں، پانامہ فیصلہ توردی کی ٹوکری میں جائے گا،پانامہ پر نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹا دیا گیا پارٹی ہیڈ سے سب کچھ چلتا ہے، ان سے صدارت لے لی گئی ، چودھری شجاعت کوبلایا جاتا ہے اور عمران خان پر آئین کی تشریح ہی بدل جاتی ہے

  • معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا،مفتاح اسماعیل

    معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا،مفتاح اسماعیل

    وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا اور اور آئندہ چند ہفتوں میں قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر قابو پالیا جائے گا، اگلے ہفتے روپیہ پر دبائو کم ہو جائے گا ۔انہوں نے یہ بات ریڈیوپاکستان سے خصوصی گفتگو میں ہی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ بہتر فیصلہ سازی کے نتیجے میں رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ معاشی اہداف حاصل کر لیے جائیں گے۔

    شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات،مکمل تعاون کی یقین دہانی

    وزیر خزانہ نے کہاکہ مغرب میں بڑھتی ہوئی کساد بازاری کے پیش نظر برآمدات میں اضافہ ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے اوراسی تناظرمیں ہمیں اپنی برآمدات کو بڑھانے کے لیے مزید کوششیں کرنا ہوں گی ، معیشت کے اہم برآمدی شعبے کو سہارا دینے کے لیے صنعتی فیڈرز پر کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی ہے۔

    وزیر خزانہ نے بعض حلقوں کی جانب سے پیدا کیے گئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ حالیہ مہینوں میں ملک کی ترسیلات، برآمدات اور ٹیکس وصولی میں کمی ہوئی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ مئی اورجون میں میں ریکارڈ ترسیلات ہوئیں جب کہ ایف بی آر نے بھی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران محصولات میں 35 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے،

     

    گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کیلئے نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ارسال

     

    ایف بی آر 7500 ارب روپے جمع کرے گا جبکہ 800ارب روپے لیوی کے طور پر جمع ہوں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معیشت کو درست سمت میں لے جانے کے لیے معیشت کے پیداواری شعبوں بشمول زراعت، صنعتوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کومعاونت فراہم کررہی ہے ، بیجوں پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات پر ٹیکس ایک فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

    روپے کی قدر میں کمی بارے سوال پر وزیر خزانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اگلے ہفتے روپیہ پر دبائو کم ہو جائے گا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت درآمدات کو کم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے،پاکستان اس وقت اس پوزیشن میں کھڑا ہے جہاں اس کی نئی درآمدات برآمدات اور ترسیلات زر سے کم ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ مالی سال میں اسی ارب ڈالر کی درآمدات اور31ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ ایک سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 24 اگست کو آئی ایم ایف کے بورڈ اجلاس کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف کی اگلی قسط اگلے ماہ کے آخر تک ملنے کی امید ہے۔ دوست ممالک سے چار سے پانچ ارب ڈالر کی امداد بھی متوقع ہے،ایک دوست ملک ملک میں فوری سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے،وفاقی کابینہ نے سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

    تیل اور گیس کی موخر ادائیگی سے متعلق معاملات بھی دوست ممالک کے ساتھ ایک ہفتے میں طے کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کے شعبہ میں بہتری لانے کے لیے جامع اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پچھلی حکومت نے نہ تو بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی سرمایہ کاری کی اور نہ ہی بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو بروقت مکمل کیا،پی ٹی آئی کی حکومت نے سستے ایندھن کے طویل المعیادمعاہدے نہیں کیے جس کے نتیجے میں ہمیں ان پاور پلانٹس کو آپریشنل کرنا پڑا جو مہنگے فرنس آئل پر چلتے ہیں۔

    مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کو درپیش مشکلات کے بارے میں پوچھے سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ سستا پٹرول اور سستا ڈیزل اسکیم کے تحت مستحق خاندانوں کو دو ہزار روپے کی امداد دی جارہی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو نقد امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے صارفین کو اشیائے ضروریہ رعایتی نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہیں۔

  • شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات،مکمل تعاون کی یقین دہانی

    شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات،مکمل تعاون کی یقین دہانی

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سیکرٹری جنرل ژانگ منگ نے آج لاہور میں ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے سیکرٹری جنرل کو اہم ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور انہیں ان کی سرپرستی میں تنظیم کے مقاصد اور ان مقاصد کی تکمیل میں پاکستان کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ وزیراعظم نے ایس سی او چارٹر اور شنگھائی اسپرٹ کے اصولوں کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    وزیر اعظم نے ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی بلند قیمتوں اور اس کے نتیجے میں غذائی عدم تحفظ کے ساتھ ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبران سمیت بڑی تعداد میں ممالک کے لیے معاشی اور مالی مشکلات سے ظاہر ہونے والے موجودہ عالمی چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔

    وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایس سی او کے تمام ارکان امن کے قیام اور بین الاقوامی یکجہتی اور تعاون کو بڑھانے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے جامع ترقیاتی ایجنڈے کو سراہتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ SCO کا بنیادی مقصد SCO خطے کی ترقی اور خوشحالی ہے .

    وزیراعظم نے پاکستان کی ترجیحات اور قومی ترقی کے اہداف کے ساتھ ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک میں دلچسپی کے اہم شعبوں بشمول تجارت اور معیشت , رابطہ اور نقل و حمل؛ غربت کے خاتمے؛ توانائی زراعت اور خوراک کی حفاظت؛ موسمیاتی تبدیلی؛ سیکورٹی؛ انفارمیشن ٹیکنالوجی؛ ڈیجیٹلائزیشن؛ اور ثقافتی روابط کی اہمیت پر روشنی ڈالی .

    وزیر اعظم نے انٹرا ایس سی او تجارت کے ساتھ ساتھ ترقیاتی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے مناسب فنڈنگ ​​میکانزم تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن روابط کو بڑھانے پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کنیکٹیویٹی ایجنڈے کی اہمیت پر زور دیا اور اس سلسلے میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سی پیک ایک مفید ماڈل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

    وزیر اعظم نے متعدد مخصوص علاقائی اور عالمی سلامتی کے امور کے ساتھ ساتھ خطے اور اس سے باہر استحکام کو فروغ دینے میں ایس سی او کے کردار پر بھی اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا۔ اس تناظر میں، انہوں نے SCO-RATS کے کام کو بھی سراہا جہاں پاکستان، دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ سیکورٹی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے ازبکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اور سربراہان مملکت کے اجلاس سے قبل اپنے دورے کا اہتمام کرنے پر حکومت پاکستان اور قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ سیکرٹری جنرل نے تمام شعبوں میں شنگھائی تعاون تنظیم کے کام اور سرگرمیوں میں پاکستان کی تعمیری شراکت کی تعریف کی اور مستقبل میں ایس سی او کی ترجیحات اور کوششوں کے حوالے سے فراہم کردہ رہنمائی پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

    سیکرٹری جنرل نے ستمبر 2022 میں سمرقند میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم کو دی گئی دعوت پر روشنی ڈالی۔ SCO ایک 8 رکنی بین علاقائی کثیر الجہتی تنظیم ہے، جس کی بنیاد "شنگھائی اسپرٹ” پر ہے جس کا مطلب باہمی اعتماد اور احترام، مساوات، متنوع تہذیبوں کے احترام اور مشترکہ ترقی کا حصول ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے دو دہائیوں میں، SCO ایک بڑا بین الاقوامی پلیٹ فارم بن گیا ہے جو عالمی جی ڈی پی میں 23 فیصد حصہ کے ساتھ دنیا کی 41 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے چار روزہ دورے نے اعلیٰ سطح پر مشاورت اور تنظیم سے پاکستان کی توقعات کو سمجھنے کا ایک اہم موقع فراہم کیا ہے۔

  • فل بینچ تشکیل نہیں دیا تو عدالتی کارروائی  کابائیکاٹ کریں گے،رانا ثناء اللہ

    فل بینچ تشکیل نہیں دیا تو عدالتی کارروائی کابائیکاٹ کریں گے،رانا ثناء اللہ

    وزراء رانا ثناء اللہ اور اعظم نزیر تارڑ نے پریس کانفرنس کی ہے وفاقی داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے فل کورٹ کی استدعا کی ہے، اتحادی جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ فل بینچ تشکیل نہیں دیا تو عدالتی کارروائی کابائیکاٹ کریں گے، پنجاب اسمبلی میں ق لیگ کے ممبران ووٹ کاسٹ کرنا نہیں چاہتے تھے،چودھری برادران کے خاندانی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتے، وزیراعلیٰ پنجاب کے کیس کا فیصلہ فل کورٹ کرے، فل کورٹ بنانے سے عدالت کی توقیر میں اضافہ ہو گا،ان بینچز سے نواز شریف کو بھی سزا دی گئی، تمام سیاسی جماعتوں نے فل کورٹ کی استدعا کی ہے،نظرثانی کی درخواست اور متعلقہ درخواستوں کو یکجا کر کے سنا جائے، الیکشن کمیشن نے پہلے 25 افراد کو پارٹی سربراہ کی ہدایت پر ڈی سیٹ کیا،اب بھی پارٹی سربراہ کی ہدایت پر ہی ووٹ نہیں گناگیا،

    وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ 5ججز کے بینچ نے کہا پارٹی میں سب سے مضبوط آواز پارٹی ہیڈ کی ہے،راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کا کیس فل کورٹ نے ہی سنا تھا،فل کورٹ نے 2015 میں کہا یہ پارٹی ہیڈ کا اختیار ہے،واز شریف کو سزا سنائی گئی تو اس فیصلے کے خلاف پٹیشن دائر کی گئی تھی،بینچ میں شامل 5 جج صاحبان نے کہا پارٹی میں سب سے مضبوط عہدہ پارٹی سربراہ کا ہوتا ہے،آئین کی ایسی تشریح کر دی گئی ہے جو سمجھ سے بالا تر ہے،موجودہ صورتحال کا حل صرف فل کورٹ بینچ کی تشکیل میں ہے،

    وزیر داخلہ پنجاب عظاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں جو 7 ووٹ مسترد ہوئے تھے ان پر بھی بات کرنا ہو گی،