وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت رانا تنویر حسین نے سبکدوش ہونے والی سیکرٹری تعلیم ناہید درانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دور میں وزارت تعلیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، ان کی تعلیم کیلئے خدمات قابل ستائش ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سابق سیکرٹری ایجوکیشن ناہید درانی کے اعزاز میں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وزارت کے اعلیٰ افسران، چیئرمین پیرا، ڈی جی ایف ڈی ای، سیکرٹری آئی بی سی سی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی نے بھی شرکت کی۔
وفاقی وزیر تعلیم نے سابق سیکرٹری ایجوکیشن ناہید درانی کو اہم خدمات سرانجام دینے پر مبارکباد دی۔ وفاقی وزیر تعلیم نے ناہید درانی کی مستقبل کی ذمہ داریوں کے لئے نیک تمنا وں کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ وزارت کی کارکردگی پہلے سے بہت بہتر کر دی ہے جس پر ناہید درانی کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ناہید درانی کی ایجوکیشن سیکٹر میں بہت گہری انڈرسٹینڈنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کیلئے تعلیم کے شعبے کی ترقی اولین ترجیح ہے اور اس کی کامیابی میں ناہید درانی نےاہم کردار ادا کیا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے کہا کہ ایجوکیشن ایک اہم وزارت ہے،عوام کی فلاح کیلئے اس میں بہتری لیکر آئیں گے، وزارت کے ماتحت چلنے والے تمام پراجیکٹس کو جلد مکمل کیا جائے گا.
لاہور:اس وقت پاکستان کی سیاسی صورت حال بہت ہی عجیب ہوچکی ہے، جہاں ایک طرف عمران خان ضمنی الکیشن جیت چکے ہیں تو دوسری طرف سپریم کورٹ میں نیب کےحوالے سے ایک کیس زیربحث ہے، اس میں سابق وزیراعظم عمران خان کا موقف ٹھیک ہی مضبوط بھی ہے،
ان قانونی نقاط کوزیربحث لاتے ہوئے سینئر صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ قانون جب بھی بنتا ہے وہ آنے والے وقتوں کے لیے بنتا ہے ، ماضی کے لیے نہیں ، تو عمران خان کے دور میں ہونے والی قانون سازی کواب ہونے والی قانون سازی متاثر نہیں کرسکتی اوریہی سپریم کورٹ دیکھ رہی ہے ، مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم اتحاد نے نیب ترامیم میں 1985 سے لیکرابتک اپنی مرضی سے ترامیم کرلی ہیں جو کہ قابل قبول نہیں ہوں گی
سنیئرصحافی مبشرلقمان نے ایک اور نقطےکو واضح کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی ضمنی الیکشن جیت چکی ہیں اس کے لیے مشکلات ابھی باقی ہیں ،حمزہ شہباز استعفیٰ نہیں دے رہے تواس کا صاف مطلب ہے کہ وہ مقابلہ کریں گے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسی خبریں گردش کررہی ہیں کہ ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کے کچھ اراکین ووٹ ہی چوہدری پرویز الٰہی کو نہ دیں یا پھر وہ ووٹنگ کے لیے آئیں ہی ناں ، ان کا کہنا تھا کہ بہرکیف صورت حال بہت پچیدہ نظرآتی ہے ، کچھ بھی ہوسکتا ہے
ان کا کنا تھا کہ اگرپانچ چھ ووٹ آگے پیچھے ہوجاتے ہیں تو چوہدری پرویز الٰہی کے لیے خطرےکی گھنٹی بج سکتی ہے ، ان کا کہنا تھاکہ یہ مقابلہ حمزہ شہباز اور چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان ہے اور اس میں نیا امیدوار نہیں آسکتا ، الیکشن کے دن جواپنی اکثریت ثابت کرلے گا وہ وزیراعلیٰ پنجاب بن جائے گا، کا یہ بھی کہنا تھا کہ سلمان نعیم جوزین قریشی کے ہاتھوں شکست خوردہ ہوئے ان کا یہ دعویٰ ہے کہ 20 کے قریب لوگ ووٹ نہیں دیںگے ،
مبشرلقمان نے پاکستان کی معاشی صورت حال پر بھی سیر حاصل گفتگو کی اور کہا کہ ڈالربڑی تیزی سے اوپرجارہا ہے اورروپے نیچے گررہا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگرکوئی یہ کہے کہ ڈالرکی آڑان کے ذمہ دارعمران خان ہیں تو یہ غلط ہے ، ڈالرکا اوپرجانا یہ ملکی معاشی ترقی کے اشارے ظاہر کرتا ہے ، ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے جس کی وجہ سے لوگ ڈالر ملک سے باہر لے جارہے ہیں اوراسٹاک مارکیٹ نیچے جارہی ہے
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت سیاسی عدم استحکام ہے ایک پارٹی دوسری کوشکست دینے کی کوشش کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بھی پاکستان کے حالات پر سوچ رہے ہوں گے کہ پاکستان میں وفاق میں حکومت اور ہے اور صوبوں میں اور حکومت ہے اس لیے وہ بھی اپنے فیصلوں پر غور کریں گے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان حالات میں عمران خان نے میں ناں مانوں کی رٹ لگائی ہوئی ہے ، الیکشن کمیشن کے فیصلے کا انتظار ہے ، اگریہ فیصلہ عمران خان کے خلاف آیا تو پھراور بھی بے چینی پھیلے گی پی ٹی آئی اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی اور پھرملک میں سول نافرمانی جیسا ماحول بن سکتا ہے ،
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ فیچ ایک معاشی مانیٹرنگ کرنے والی عالمی تنظیم ہے اس نے پاکستان کی معیشت کومنفی دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کمزور ہورہی ہے ، ان حالات میں اگرملک میں یہ سیاسی عدم استحکام ایسے ہی رہا تو پھرملک اور پریشانی کا شکار ہوگا
وفاقی وزیر ہاوسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے، عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد عوام کو مزید ریلیف فراہم کرینگے، عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر ہاوسنگ اینڈ ورکس وجمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے مختلف وفود سے ملاقات میں کہاکہ بدتمیزی‘بدکلامی‘جھوٹ اور فساد کی سیاست پی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے، عمران نیازی کا دور گزر گیا وہ کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکیں گے۔
مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ملک کی تباہی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں جنہوں نے ملک کے معاشی حالات کو تباہ کردیا۔وفاقی وزیر نے کہاکہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے پی ٹی آئی کو ہرایا، سابقہ کو حالیہ کھلاڑیوں نے شکست دی، پی ٹی آئی نے 20نشستوں میں سے پانچ ہاریں تو خوشی اور مبارکباد کس بات کی۔
انہوں نے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد کی کیونکہ آئین کے بغیر معاملات ٹھیک نہیں ہوسکتے ا س لئے ہماری کوشش ہے کہ تمام تر معاملات کو آئین و قانون کے مطابق چلائیں۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں تحریک انصاف کی ضمنی انتخابات کی کامیابی سے ملکی معاملات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہاکہ جن نشستوں پر مسلم لیگ (ن)کو شکست ہوئی تھی یہ 2018میں پی ٹی آئی جیتی تھی اب ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے پی ٹی آئی کو ہرایا۔بلوچستان کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ بلوچستان کے تمام متاثرہ علاقوں کو ریلیف فراہم کرینگے کسی بھی متاثرہ علاقے کو امدادی سرگرمیوں سے محروم نہیں کرینگے۔انہوںنے کہاکہ عمران نیازی نے ضمنی الیکشن کے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا ہے امید ہے کہ الیکشن کمیشن کے ممنوعہ فارنگ فنڈنگ کے فیصلے کو بھی قبول کرینگے۔
کراچی :دعا زہرا کیس کا تفتیشی افسر تبدیل،اطلاعات کے مطابق کراچی کی ماتحت عدالت نے دعا زہرا کیس کا تفتیشی افسر تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کراچی شرقی میں دعا زہرا کیس کے تفتیشی افسر کی تبدیلی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، دوران سماعت تفتیشی افسر پیش نہیں ہوئے۔
دعا زہرا کے والدین کے وکیل نے تفتیشی افسر کی تبدیلی کے لئے دلائل دیئے جب کہ استغاثہ نے موقف اختیار کیا کہ انہیں تفتیشی افسر کی تبدیلی پر کوئی اعتراض نہیں۔
عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد ڈی ایس پی شوکت شاہانی کی جگہ کسی دوسرے افسر کو تفتیشی افسر مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔
دعا زہرا کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ عدالت نے تفتیشی افسر کی تبدیلی کے احکامات جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کسی اہل افسر کو مقرر کیا جائے جسے اس نوعیت کے کیسز کی تفتیش کا تجربہ ہو۔
دعا زہرا کی دارالامان منتقلی پر جبران ناصر کا کہنا تھا کہ والدین نے اپنی بیٹی حکومتی تحویل میں آنے پر سکھ کا سانس لیا ہے۔
مدعی کے وکیل نے کہا کہ دعا زہرا کی دارالامان منتقلی کی 2 ہی وجوہات ہوسکتی ہیں، یا تو اغوا کار کے لیے دعا زہرا ایک بوجھ بن گئی تھی یا پھر یہ اقدام عدالت کو گمراہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال بھی ہوسکتی ہے۔
جبران ناصر نے حیرانی کا اظہار کیا کہ ایک 14 سے 15 سال کی لڑکی کو بھلا کیسے اس قدر عدالتی معاملات کی سوجھ بوجھ ہے کہ اسے کس عدالت میں کس وقت رجوع کرکے اپنے حق میں فیصلہ لینا ہے۔
لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت صوبائی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس میں تمام اراکین نے حمزہ شہباز کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
ایوان وزیراعلی ٰلاہور میں ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی اتحادی جماعتوں اور آزاد ارکان پنجاب اسمبلی نے بھرپور شرکت کی اور 22 جولائی کو ہونے والے اجلاس سے متعلق حکمت عملی طے کی گئی۔
تمام اراکین نے ہاتھ اٹھا کر حمزہ شہباز کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کا کہنا ہےکہ ہم چاہتے تو پی ٹی آئی کی طرح ریاست کو نقصان پہنچا کر سیاست کر سکتے تھے لیکن ہم نے ریاست کو مقدم رکھا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پاکستان کو پی ٹی آئی کی مچائی تباہی سے نکال لیا تو خود کو کامیاب سمجھیں گے۔ مشن پاکستان کو بچانا اور سنوارنا ہے جو جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ 17 جولائی کو ضمنی انتخابات کے نتائج نے پنجاب اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی نمبر گیم ہی بدل دی ہے اور اب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اکثریت کھو بیٹھے ہیں۔
گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں ہونے والے ضمنی انتخابات سے حکومتی اتحاد کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ انتخابی نتائج نے مسلم لیگ (ن) کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد 371 ہے کسی بھی جماعت کو حکومت بنانے کے لئے 186 ووٹوں کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔
ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف نے 15 نشستیں اپنے نام کرلی ہیں، جس کے بعد اب تحریک انصاف اور اتحادی جماعت مسلم ق کے ارکان کی تعداد بڑھ کر 188 ہوگئی ہے، اس طرح تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے امیدوار چوہدری پرویز الہیٰ کو صوبے میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔
پاکستان میں پولینڈ کے سفیر میسیج پیسارسکی نے پولش آئل اینڈ گیس کمپنی (پی او جی سی) کے وفد کے ہمراہ وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک سے منگل کو ملاقات کی اور تیل و گیس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
پولش وفد کی سربراہی رابرٹ پرکووسکی، نائب صدر و چیف آپریٹنگ آفیسر اور مینجمنٹ بورڈ کے نائب صدر مسٹر آرتھر کر رہے تھے۔وزیر مملکت نے تیل اور گیس کے شعبے میں پولینڈ کی تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھانے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہارکیا۔
پولینڈ کا شمار یورپ میں سب سے پہلے پیٹرولیم ذخائر کی دریافت کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ پولش سفیر نے تیل اور گیس کے شعبہ میں شراکت کو پاک پولش تعلقات کا اہم ستون قرار دیا اور پاکستان میں تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی میں پولینڈ کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔
وفد نے وزیر مملکت کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پی جی این آئی جی گروپ کی انتظامیہ حکومت پاکستان اور حکام کی جانب سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نےکہا کہ پی جی این آئی جی پرامید ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئے گی اور وہ پاکستان کی انرجی سیکیورٹی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے پرعزم ہے۔
پی جی این آئی جی جسے پولش آئل اینڈ گیس کمپنی (پی او جی سی) بھی کہا جاتا ہے پاکستان میں 1997 سے پی جی این آئی جی گروپ پولینڈکے برانچ آفس کے طور پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان کے پہلے ٹائٹ گیس کے ذخائر کی دریافتوں کا سہرا بھی اسی کمپنی کے سر ہے۔
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب کا سرکس ابھی تک چل رہا ہے ،نیب کا چیئرمین تو گھر چلا گیا، اس سے کوئی پوچھ گچھ کرے تو مختلف بہانے کر کے جان بچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن جان بچے گی نہیں ۔
احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جو ظلم ان لوگوں نے کیے ہیں ان کو جواب دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ آج ہم نے عدالت سے پوچھا کہ یہ بتائیں ہمارا جرم کیاہے، یہ پراسیکیوشن بھی بتانے سے قاصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر دوسرا لفظ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔شاہد قاخان عباسی نے کہا کہ میں نے عدالت سے پوچھا کہ کیا کسی جرم کے بغیر منی لانڈرنگ ہوسکتی ہے۔ جس پیسے پر ٹیکس دیا ہو کیااس پر منی لانڈرنگ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکا جواب نیب کے پاس نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی منی لانڈرنگ کاکیا ہوگا، وہ ثبوت بھی ابھی سامنے آئیں گے ،جو کرپشن اس نے کی ہے، جو منی لانڈرنگ اس نے کی ہے، جواس کے اثاثے ہیں،میرا چیلنج ہے کہ وہ اپنے اثاثے عوام کے سامنے رکھیں۔
نیویارک:چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا ہےکہ چین امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایک چین کے اصول اور چین امریکہ تین مشترکہ اعلامیوں کی پاسداری کرے اور امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے کا اہتمام نہ کرے۔ امریکہ اور تائیوان کے درمیان سرکاری تبادلے فوری طور پر بند کئے جائیں، اور آبنائے تائیوان میں کشیدگی پیدا کرنا بند کیا جائے۔
منگل کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ اطلاعات کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی اس سال اگست میں ایک وفد کے ہمراہ تائیوان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کچھ میڈیا کا کہنا ہے کہ 25 سالوں میں امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر کا تائیوان کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔
ادھر آج اقوام متحدہ کی 76 ویں جنرل اسمبلی نے اعلیٰ سطح کی خصوصی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس کا موضوع رہا “مشترکہ اقدامات: عالمی خوراک کے بحران پر مربوط ردعمل”۔اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب چانگ جون نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے” گروپ آف فرینڈز” کی ترجمانی کرتے ہوئے خطاب میں اپنا موقف بیان کیا۔
منگل کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ چانگ جون کے مطابق خوراک کے بحران کے شکار ایسے ممالک بالخصوص ترقی پزیر ممالک کو ہنگامی حمایت فراہم کی جائے ۔ مختلف شعبوں میں ترقی یافتہ ممالک کے تعاون کی مضبوطی پر زور دیا جائے۔ دنیا بھر میں خوراک اور زراعت سے متعلق سپلائی چین کے موثر آپریشن کو یقینی بنایا جائے۔
چانگ جون نے مزید کہا کہ فوڈ سیکیورٹی ، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے اہم شعبوں میں سے ایک ہے۔مذکورہ گروپ خوراک کے عالمی بحران سے مشترکہ نمٹنے کے لیے کثیر فریقی تعاون کو مضوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
چینی مندوب کے مطابق رواں سال چین نے اقوام متحدہ کے نیویارک صدر دفتر میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کا” گروپ آف فرینڈز” قائم کیا تھا جس میں ساٹھ ممالک شامل ہو چکے ہیں۔ اُن کی جانب سے خطاب گروپ کا پہلا مشترکہ خطاب ہے، جسے گروپ تعاون کا اہم قدم بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
تہران :روس اور ایران کے درمیان توانائی تعاون کے بڑے منصوبے پرمعاہدہ ہوگیا ہے اور اس حوالے سے روسی اور ایرانی میڈیا اسے بڑی کامیابھی قرار دے رہے ہیں ، یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا جب یورپ اور نیٹو کے دیگرممالک کےساتھ امریکہ روس کو نیچا دکھانے کے چکروں میں ہیں
:ایران اور روس کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے تقریبا 40 ارب ڈالرز مالیت کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔
ایرانی وزارت تیل کی خبرایجنسی سے جاری بیان کےمطابق ایران کی نیشنل آئل کمپنی اور روسی کمپنی گیز پروم (Gazprom) کے سی ای اوز نے مفاہمتی یاداشت پر آن لائن تقریب کے دوران دستخط کیے.
ایرانی حکام کے مطابق روسی کمپنی, کیش آئی لینڈ، شمالی فارس سمیت 6 گیس فیلڈز کی ترقی میں مدد کرے گی، ایل این جی منصوبوں کی تکمیل اور گیس برآمد پائپ لائنوں کی تعمیر میں بھی شامل ہوگی.
خیال رہے کہ ایران کے پاس دنیا میں گیس دوسرے سے بڑے زخائر موجود ہیں لیکن امریکی پابندیاں ایران کے گیس نکالنے کی ٹیکنالاجی اور ایکسپورٹ میں سست روی کا سبب بنی ہوئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ روسی صدر شام کے امن عمل سے متعلق ایران، روس اور ترکی کے ساتویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے ایران کے دورے پر تہران پہنچے ہیں۔ تہران سربراہی اجلاس میں شام کے مسائل، دہشت گردی منجملہ داعش اور پی کے کے، کے خلاف مہم اور شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی جیسے مسائل پر گفتگو ہو گی۔
سینئر فیکلٹی ممبر کی قیادت میں 31ویں سینئر مینجمنٹ کورس (NIM) کے 12 رکنی وفد نے آج ریجنل انفارمیشن آفس پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران ڈائریکٹر جنرل، پی آئی ڈی، لاہور نے سب کو خوش آمدید کہا اور حکومتی پالیسیوں اور پروجیکشن کے حوالے سے وزارت اطلاعات کے متحرک کردار کے ساتھ لوگوں کی عام بیداری کے لیے بنیادی سطح پر کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔
ڈی جی نے بتایا کہ پی آئی ڈی لاہور تمام علاقائی دفاتر میں مصروف ترین ہے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ زیادہ تر میڈیا اداروں (پرنٹ اینڈ الیکٹرانک) کے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں ہیں۔
مزید برآں، اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ وزارت اطلاعات ونشریات واحد حکومتی وزارت ہے جسے قومی اور بین الاقوامی سطح پر حکومت کے وژن اور موقف کو فروغ دینے کے لیے حساس کام سونپا گیا ہے۔
بعد ازاں پی آئی ڈی لاہور کی گہرائی سے کام کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کے تحت اٹھائے گئے نئے اقدامات یعنی میڈیا کے ساتھ کام کے رابطے کو مضبوط بنانے کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی اس کے علاوہ مرکزی دھارے اور علاقائی دونوں تنظیمیں، سرکاری میڈیا کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے کے طریقہ کار کا تعارف وغیرہ کے متعلق بریفنگ دی گئی۔
ایک طویل سوال و جواب کے سیشن کے بعد شیلڈز کا تبادلہ ہوا – جس کے بعد آنے والے وفد کو یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔