Baaghi TV

Author: +9251

  • یورپ نے روس سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا

    یورپ نے روس سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا

    برسلز:یورپ نے روس سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا ،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے ادارے کے سربراہ نے اپنے روس مخالف رویے کو جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ روس کی جانب سے پابندیوں کو بائی پاس کرنے کو روکنے کی کوشش جاری رہے گی۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے دعوی کیا ہے کہ ماسکو پر عائد یورپی یونین کی پابندیوں کو بے اثر بنانے والے راستوں کو بند کرنے کے لئے برسلز ایک نئے منصوبے کی پلاننگ کرچکا ہے۔

    پیر کی شام یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے کونسل کی نشست کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت ان راستوں کو بند اور اس خلا کو پر کیا جائے گا جس کو استعمال کرکے روس پابندیوں کو بائی پاس کر رہا ہے۔ اس موقع پر جوزف بورل نے یوکرین کو پچاس کروڑ یورو پر مشتمل فوجی امداد کا عندیہ بھی دیا۔انہوں نے یورپ میں گیس کے بحران پر پریشانی ظاہر کرتے ہوئے اس موضوع کو یورپی حکام کے لئے سب سے زیادہ تشویش کا باعث قرار دیا۔

    قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل یورپی کونسل کے سربراہ چارلز میشل نے بھی جنگ کے بہانے یوکرین کو مزید فوجی امداد فراہم کرنے کی بات کی تھی۔

    یاد رہے کہ یوکرین کی جنگ پانچویں مہینے میں داخل ہوچکی ہے جس کے تمام سیاسی، فوجی، معاشی، سماجی حتی کہ ثقافتی اثرات کے باوجود، مغربی ممالک نے اس ملک کی جانب ہتھیاروں کے بہاؤ کو کم کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔

    واضح رہے کہ یوکرین میں روس کی فوجی کارروائی کے بعد، امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف مغربی ممالک نے ایک جانب کھل کر کیف کی حمایت کی تو دوسری جانب ماسکو پر شدید پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ تیل اور گیس سمیت روس کے مختلف اقتصادی شعبوں پر عائد پابندیوں کے بعد، مغربی ممالک کو اس بات کی بھی تشویش لاحق ہے کہ یورپ سمیت عالمی توانائی کی منڈیاں مزید عدم توازن کا شکار نہ ہوجائیں۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ برسلز کی روس مخالف پالیسیوں نے یورپی ممالک کے اندرونی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ روسی ایوان صدر کریملن نے بارہا اعلان کیا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی ترسیل نے اس بحران کو مزید پیچیدہ اور اس کے انجام کو نامعلوم بنا دیا ہے۔

  • دستاویز پیش نہ کرنے پر آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہوگی. چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی

    دستاویز پیش نہ کرنے پر آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہوگی. چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دستاویزات فراہم نہ کرنے والے افسران کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا عندیہ دے دیا۔

    چیئرمین نور عالم خان نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ میں بار بار نیب سے بند کیے گئے کیسز کی تفصیلات مانگ رہا ہوں۔ جو افسر دستاویز پیش کرنے سے انکار کرے گا، اس کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جا سکتی۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نے ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی جانب سے خط بھجوانے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون کی پٹیشن پر پی اے سی میں کارروائی کی گئی۔ اس خاتون نے سابق چیئرمین نیب سمیت افسران کے نام لیے ہیں۔ نیب افسران احتساب سے بھاگ رہے ہیں۔ پھر حکومت اور ججز کہہ دیں کہ پی اے سی کی ضرورت نہیں ہے۔

    نور عالم خان نے کہا کہ آج کل پی اے سی کو بہت افسران چیلنج کر رہے ہیں۔ ایک صاحب ہے ڈی جی نیب شہزاد سلیم، وہ عدالت جارہے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ افسران اپنا حساب کتاب دینے سے کیوں ڈرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی اے سی با اختیار کمیٹی ہے ۔ نیب کے افسران کے اثاثوں کی تفصیلات نہیں ملیں۔ اثاثے چھپانے والوں پر سخت قوانین لاگو ہونے چاہییں۔

    انہوں نے کہا کہ افسران احتساب سے بھاگ رہے ہیں جب کہ آئین کے تحت ہمارے پاس سزا دینے کا بھی اختیار موجود ہے۔ ہمارے کسی کے ساتھ ذاتی معاملات نہیں، جس نے بھی کرپشن کی ہو ہم ان کے خلاف ہیں۔ آرٹیکل 207 کے تحت میں پی اے سی میں پبلک پٹیشن بھی سن سکتا ہوں۔

    چیئرمین پی اے سی کا کہنا تھا کہ ایک عورت نے ویڈیو ثبوت پیش کیے ہیں۔ جن لوگوں کا نام اس عورت نے لیے، میں سب کو بلاوں گا۔ اگر عدالت احتساب نہیں چاہتی تو ہمیں بول دیں ہم کمیٹیاں ختم کر کے گھر چلے جائیں۔ عورت کی ہراسانی کا معاملہ بھی کرپشن سے منسلک ہے، اس لیے پی اے سی میں سنا جا سکتا ہے۔

  • بھارت: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 25 افراد ہلاک

    بھارت: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 25 افراد ہلاک

    بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 25 افراد ہلاک ہوگئے۔

    بھارتی وزارت صحت کی جانب سے جاری عداد وشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھارت میں کورونا کے 15 ہزار 528 نئے کیسز کی تشخیص ہوئی جس کے بعد بھارت میں اب تک کورونا کیسز کی تعداد 4 کروڑ 27 لاکھ 83 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    وزارت صحت کے مطابق بھارت میں روزانہ کی بنیاد پر مثبت کیسز کی شرح 3.32 فیصد ریکارڈ کی جارہی ہے جب کہ عوام کو کورونا کی ڈوز بھی لگائی جارہی ہے۔

    وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 25 ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 5 لاکھ 25 ہزار 785 ہوگئی۔

    یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے نئے اعدادو شمار جاری کرتے ہوئے بھارت میں کورونا سے ہونے والی تباہی کے اعدادوشمار شائع کیئے تھے

    عالمی ادارہ صحت کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے نتیجے میں اندراج کردہ اموات سے 3 گنا زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے نے جمعرات کو کہا کہ 2021 کے آخر تک کورونا سے ایک کروڑ 49 لاکھ سے زائد اموات ہوئیں جبکہ جنوری 2020 سے دسمبر 2021 کے آخر تک اس عرصے میں کورونا سے ڈبلیو ایچ او کو رپورٹ کی جانے والی اموات کی سرکاری تعداد تقریباً 54 لاکھ تھی۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ کچھ ممالک میں اموات کا صحیح طریقے سے اندراج نہیں کیا گیا۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک جن اموات کو شمار نہیں کیا گیا ان میں سے تقریباً نصف بھارت میں تھیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وبائی امراض کے نتیجے میں بھارت میں 47 لاکھ افراد کی موت ہوئی۔رپورٹ کے مطابق اموات کے اصل اعداد و شمار بھارتی حکومت کے بتائے ہوئے اعداد و شمار سے دس گنا زائد ہے۔

  • اداکار ندیم بیگ کی 71 ویں سالگرہ

    اداکار ندیم بیگ کی 71 ویں سالگرہ

    پاکستا فلم انڈسٹری کے نامور اداکار ندیم بیگ آج اکہتر برس کے ہو گئے ہیں .فلم چکوری سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیااور دیکھتے ہی دیکھتے انڈسٹری کے صف اول کے اداکاروں کی فہرست میں شامل ہو گئے. ویسے تو ندیم بیگ نے اپنے دور کی تمام بڑی ہیروئینز کے ساتھ کام کیا لیکن اداکارہ شبنم کے ساتھ ان کی جوڑی کو بے حد سراہا گیا. ان دونوں کی کئی فلموں‌کا چربہ بھارت میں کیا گیا.ان دونوں کی فلم آئینہ پانچ ہفتے چلی.شبنم اور ندیم کی جوڑی نے شائقین کو اپنے سحر میں کئی سال تک جکڑے رکھا. ندیم بیگ نے دو سو سے زائد فلموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا. ان کی سپر ہٹ فلموں میں دہلیز، سہرا کے پھول، جب جب پھول کھلے،

    آئینہ، اناڑی، پہچان، لاجواب، قربانی،چھوٹے صاحب کے نام قابل زکر ہیں. ندیم بیگ نے فلم مکھڑا میں میڈم نور جہاں کے ساتھ ایک گیت گایا جسے اُس دور میں کافی پسند کیا گیا. ندیم بیگ نے 1968 میں ڈائریکٹر احتشام کی بیٹی فرزانہ سے شادی کی لیکن ان کا نام بہت ساری ہیروئنز کے ساتھ جڑتا رہا۔اداکار ندیم بیگ نے بڑی سکرین کے ساتھ ساتھ چھوٹی سکرین پر بھی کام کیا. بہت عرصے کے بعد ندیم بیگ ماہرہ خان کی فلم سپر سٹار میں‌نظر آئے. ندیم بیگ ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کررہے ہیں لیکن فلموں‌سے زرا دوری اختیار کئے ہوئے ہیں یا ان کے پاس کوئی اچھے سکرپٹس نہیں آرہے.

  • بیماریوں کا مذاق بنانا پی ٹی ائی کی گندی سیاسی تربیت ہے. عظمیٰ بخاری

    بیماریوں کا مذاق بنانا پی ٹی ائی کی گندی سیاسی تربیت ہے. عظمیٰ بخاری

    مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار کو اپنی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مزاق اڑانے پر کہا کہ بیماریوں اور تکلیف کا مذاق بنانا پی ٹی ائی اور آپ کی گندی سیاسی اور شاید خاندانی تربیت ہے.


    ان کا کہنا تھا: ڈسکہ کے الیکشن کی اس تصویر کی بجائے جب میں سیڑھیوں سے گری تم پہلے اپنا بتاو نا جب تم لوگوں کی نظروں سے گرے اور سارے سیاسی دانت بازو توڑ کر الحمدللہ ہم واپس آئے.

    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عظمیٰ بخاری شدید علیل نظر آرہی ہیں اور ان سے خود سے چلا بھی نہیں جارہا، ایک خاتون نے انہیں تھاما ہوا ہے اور بعدازاں انہیں وہیل چیئر پر بٹھایا جاتاہے۔

    عثمان ڈار نے ٹوئٹر پر گزشتہ روز عظمیٰ بخاری کی اسپتال کی ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ ’برائے مہربانی ان کے لیے ایک لفظ کہیں‘۔

  • حنا شاہن کی 10 سال کے بعد سٹیج پر واپسی، نامناسب لباس پہن کر رقص

    حنا شاہن کی 10 سال کے بعد سٹیج پر واپسی، نامناسب لباس پہن کر رقص

    سٹیج کا زکر کرتے ہی چند ایک ایسی اداکارائیں ہیں جن کا نام ذہن میں ابھرتا ہے ان میں حنا شاہن کا نام قابل زکر ہے .حنا شاہین نے دس سال پہلے تھیٹر کو خیرباد کہہ دیا تھا لیکن اب پھر اچانک سے انہوں نے تھیڑ پر اپنی واپسی کر لی ہے. وہ دس سال پہلے تک جب تھیٹر کر رہی تھیں تو تب بھی ان پر نامناسب لباس پہن کر رقص کرنے کا الزام تھا انہوں نے سٹیج پر واپسی کرتے ساتھ ہی وہی کچھ دوبارہ شروع کر دیا ہے.یعنی نامناسب لباس زیب تن کرکے رقص کررہی ہیں. رپورٹس کے مطابق حنا

    شاہین کی واپسی اور اسی انداز میں واپسی جس میں وہ پہلے کام کررہی تھیں اسکو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے. سنجیدہ تھیٹر دیکھنے والے لوگ حنا شاہین سے نالاں نظر آرہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سٹیج کو بہتر کرنے کی بجائے پھر وہی کچھ کیا جا رہاہے جس کی وجہ سے لوگ اور فیملیاں سٹیج سے ناراض ہو کر گھر بیٹھ گئیں تھیں اگر یہی کچھ ہوتا رہا تو یقینا سٹیج مزید پستی میں جائیگااور ویسے بھی اداکارہ کی عمر کافی ہو گئی ہے ان کو یہ سب کرنا ویسے ہی زیب نہیں دیتا. لوگوں کے اعتراض کے حوالے سے حنا شاہن تاحال خاموشی ہی اختیار کئے ہوئے ہیں، انہوں‌نے اپنے لباس اور رقص پر تنقید کرنے والوں کو جواب نہیں دیا.

  • جب نیب قانون پاس ہورہا تھا اس وقت پی ٹی آئی کہاں تھی؟ سپریم کورٹ

    جب نیب قانون پاس ہورہا تھا اس وقت پی ٹی آئی کہاں تھی؟ سپریم کورٹ

    چیف جسٹس نے نیب ترامیم کیس میں ریمارکس دیے کہ جب نیب قانون پاس ہورہا تھا پی ٹی آئی کہاں تھی؟ پی ٹی آئی نے اسمبلی کو ترک کر دیا۔ ملک و آئین کی خاطر سوچیں ، پی ٹی آئی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کرے۔ چاہتے ہیں نیب ترامیم کا معاملہ واپس پارلیمنٹ جائے۔

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو روسٹرم پر بلا لیا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ قریشی صاحب جب پارلیمنٹ میں حساس معاملات پر قانون سازی ہوئی آپکی جماعت کیوں نہیں تھی؟کیا پارلیمنٹ اور عدلیہ کو اپنا اپنا کام نہیں کرنا چاہیئے؟جب نیب قانون پاس ہورہا تھا پی ٹی آئی کہاں تھی؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی نے اسمبلی کو ترک کر دیا۔ملک و آئین کی خاطر سوچیں۔اتنی بڑی جماعت اسمبلی میں نہیں تھی پھر کہتے ہیں قانون خلاف قانون بن گئے۔پارلیمنٹ کے اجلاس میں پی ٹی آئی شرکت کرے۔پارلیمنٹ کے اندر معاملات پر بحث ہونی چاہیے۔جمہوریت کی خاطر پارلیمنٹ کو کام کرتے رہنا چاہیے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پارلیمان کے اختیارات میں مداخلت بہت سوچ سمجھ کر ہی کی جا سکتی ہے۔اگر پارلیمان میں بحث ہوتی تو عدالت کو کئی گھنٹے سماعت نہ کرنا پڑتی۔پاکستان میں پارلیمان سپریم ہے۔مناسب ہوتا ان سوالات پر پہلے پارلیمان میں بحث ہوتی۔پارلیمان میں ان ترامیم پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کوئی بدل نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ڈالر کا ریٹ بڑھ رہا ہے۔ملکی معیشت کی حالت خراب ہے۔سب کو مل کر ملک کیلئے کام کرنا ہوگا۔آئی ایم ایف سے سٹاف لیول پر معاہدہ تو ہوگیا ہے لیکن اسے پبلک میں تسلیم نہیں کیا جا رہا۔کرنسی روز بروز ڈگمگا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر قریشی صاحب آپ بھی آئیں دوسرے طرف سے بھی لوگ بلائیں گے۔کبھی کبھی مفاد عامہ اور ملک کی خاطر ذاتی ترجیحات پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔کیا آپ کی جماعت نے کوئی ایسا لائحہ عمل بنایا ہے کہ ملک کو مشکل حالات سے نکالا جا سکا۔آپ کے پاس لوگوں کا اعتماد ہے۔اس ملک ،قوم اور آئین کے بارے میں سوچیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نےشاہ محمود قریشی سے مکالمے میں کہا کہ عوام نے بطور ممبر اسمبلی آپ پر جو اعتماد کیا تھا وہ پورا نہیں ہو رہا۔ جب آپکو پتا تھا اتنی حساس قانون سازی ہورہی تو پارلیمنٹ کیوں نہیں گئے۔شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ کئی گھنٹے تک پارلیمان کی کمیٹی میں نیب ترامیم پر بات ہوئی۔ہم پارلیمنٹ میں مختلف وجوہات کیوجہ سے نہیں تھے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں اپنی آواز اٹھانی چاہیے۔ صرف صدر نے قانون سازی کیخلاف مزاحمت کی۔ شاہ محمود قریشی نے عدالت کو بتایا کہ تحریک انصاف نے پارلیمنٹ میں قانون سازی پر مشاورت کی کوشش کی۔ہماری نظر میں نیب کی موجودہ ترامیم خلاف آئین ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا میرا بھی سوال ہے کیا درخواست گزار کا حق دعوی ہے؟درخواست گزار پارلیمنٹ سے واک آوٹ کر گئے۔درخواست گزار کے پاس عوام کا ایک ٹرسٹ ہے۔پارلیمنٹ میں اتنی سیریس ترامیم ہوئیں۔کیا اس صورتحال میں درخواست گزار کاحق دعوی بنتا ہے؟

    عدالت نے قرار دیا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کی حیثیت سے یہ بات پارلیمنٹ میں اٹھائیں۔آئندہ سماعت پر سیاسی جماعتیں بتائیں کہ پارلیمنٹ میں معاملات حل کیوں نہیں ہوسکتے۔چاہتے ہیں یہ معاملہ واپس پارلیمنٹ جائے۔

  • شان شاہد ضمنی انتخابات میں ووٹ کاسٹ نہ کر سکنے پر برہم

    شان شاہد ضمنی انتخابات میں ووٹ کاسٹ نہ کر سکنے پر برہم

    سپر سٹار شان شاہد جو کہ عمرا ن خان کو اس ملک کی آخری امید قرار دیتے ہیں وہ عمران خان کی جیت پر جہاں بہت زیادہ خوش ہیں وہیں نالاں بھی ہیں کیوں کہ وہ اپنے پسندیدہ لیڈر عمران خان کے امیدواروں‌کو ووٹ نہیں‌کاسٹ کر سکے. رپورٹس کے مطابق شان شاہد اور ان کی اہلیہ آمنہ شان ووٹ ڈالنے کےلئے گئے لیکن انہیں‌پتہ چلا کہ ان کی اہلیہ کا تو ووٹ ہی اس حلقے میں‌نہیں‌ہے، شان کہتے ہیں‌کہ میں جب اپنی اہلیہ کو متعقلہ حلقے میں‌لیکر پہنچا تو صرف دس منٹ باقی تھے لیکن ان دس منٹوں میں بھی ہمیں باہر روک لیا گیا.شان شاہد کہتے ہیں کہ میں نے بہت ریکویسٹ کی لیکن ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت

    نہیں دی گئی.پولیس والوں نے کہا کہ ہمیں جو آڈرز ملے ہوئے ہیں ہمیں ان کے مطابق چلنا ہے. شان کہتے ہیں کہ میں نے ان سے درخواست کی لیکن جب وہ مسلسل انکار کرتے رہے تومیں‌ نے سوچا کہ واپس ہی جانا پڑے گا کہیں کوئی بد مذہبگی ہی نہ ہوجائے.شان جہاں عمران خان کی جیت پر بہت خوش ہیں وہیں نالاں ہیں کہ وہ ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے، شان کہتے ہیں کہ آئین مجھے ووٹ دینے کا حق دیتا ہے اور میں اس حق کو استعمال کرنے کے لئے آزاد ہوں، میرا حق ہے کہ میں جسکو مرضی ووٹ کروں یقینا میں اسی کو ووٹ‌کروں گا جو ملک کو ترقی کی راہوں پر لیجاناکے لئے سنجیدہ ہے.

  • عمران خان کی سوچ ایڈولف ہٹلر والی ہے. وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب

    عمران خان کی سوچ ایڈولف ہٹلر والی ہے. وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اونگزیب کا کہنا ہے کہ عمران خان ملک کو سری لنکا بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا مائنڈ سیٹ ایڈولف ہٹلر والا ہے جو ملک کے ہر ادارے کو تباہ کردے گا۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان ریاستی اداروں پر منظمُ طریقے سے حملہ آور ہورہے ہیں، انکا مائنڈ سیٹ ہٹلر والا ہے جو ملک کے ہر ادارے کو تباہ کردے گا۔

    انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے سے قبل عمران خان چئیرمین نیب کی طرح چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں عوام کو بھوکا کیا معیشت کو تباہ کیا داخلہ و خارجہ پالیسی کو خراب کیا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے ریاستی طاقت استعمال کرکے سیاسی مخالفین پر جھوٹے کیسز بنائے، اداروں کو چاہئیے قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کریں۔ فارن فنڈنگ کیس 8 سالوں سے کیوں تاخیر کا شکار جلد فیصلہ سنایا جائے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے فواد چوہدرہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میرا وہ چہرہ نہیں جو پانچ پانچ پارٹیوں کا ترجمان ہو، انہیں کوئی شرم ہے نہ حیا۔ یہ اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ لوگ سچ سمجھنے لگ جائیں۔

  • قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    ملکی معیشت اور سیاست کے افق پر غیر یقینی کے بادل گہرے ہو گئے ۔ جاری سیاسی رسہ کشی اور اقتدار کی جنگ نے ایک خطرناک نہج اختیار کرلی۔ جس پر قومی سلامتی کے اداروں پر بہت بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے۔ سیاسی کشمکش کے زہریلے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ مقتدر حلقوں کی صفوں میں سرایت کرتے جا رہے ہیں۔

    وقت آن پڑا ہے کہ مقتدر حلقے اور سیاسی زعماء سرجوڑ کر بیٹھیں۔ ماضی کی غلطیوں، غلط فیصلوں، کوتاہیوں کو خلوص دل سے تسلیم کر کے اور کروا کے مستقبل میں اپنی حدود اور قیود کا نئے سرے سے تعین کریں اور فیصلہ کریں ملک میں معاشی استحکام ہو۔ ذاتی پسند ناپسند اپنی مرضی کے ججوں، جرنیلوں، دوسرے اہم اداروں میں تعیناتیوں کی دوڑ میں ہم آج اس مقام پر کھڑے ہیں۔ اگر اس وقت بھی اقتدار اور اقرباء کی حوس کو لگام نہ ڈالی گئی اور جج میرا جنرل میرا وزیراعظم میرا وزیراعلیٰ میرا چیئرمین۔ میرا میم ڈی میرا وزیر خارجہ میرا وروزیر خزانہ کی رٹ جاری رہی تو ملک اور عوام کو اس کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔

    اس وقت ایک اخلاص محبت الوطنی اور سچائی کے جذبے کی ضرورت ہے جو ذاتیات سے بلند ہو کر اعلیٰ ذہانت اور بے لوث قیادت کے ساتھ وطن عزیز کو سیاسی و معاشی منجدھار سے نکالے اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ملکی سیاسی گلیاروں میں افواہ پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ملکی قومی سلامتی کے اداروں کو اپنی اصلاح کرنے کا پیغام دینا ہرذی شعور پاکستانی کا حق ہے مگر تواتر کے ساتھ پاک فوج اور ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید ملک کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

    ملکی حالات کے پیش نظر سیاستدانوں کو قومی سلامتی کے اداروں پر الزام تراشی سے گریز کرنا چاہئے۔ عراق، لیبیا، شام، افغانستان ، آج اگر کھنڈرات کی شکل اختیار کر چکے ہیں ان ممالک میں قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنایا گیا عالمی طاقتوں نے کمزور قومی سلامتی کے اداروں کو دیکھ کر ان ممالک کا حشر نشر کر دیا آج یہ ممالک عبرت کا نشان ہیں ان ممالک کو دیکھ کر ہمارے سیاستدانوں کو اقتدار کی حوس میں اپنے قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ہم اپنے جن قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر کسی باہوش بھارتی سے پوچھیں تو وہ ڈرتا بھی انہی اداروں سے ہے۔