Baaghi TV

Author: +9251

  • آباد:الیکشن کمیشن میں بڑے پیمانے پر واضح بے ضابطگیوں کے خلاف بلدیاتی انتخابات کے امیدواران کا احتجاجی مظاہرہ

    آباد:الیکشن کمیشن میں بڑے پیمانے پر واضح بے ضابطگیوں کے خلاف بلدیاتی انتخابات کے امیدواران کا احتجاجی مظاہرہ

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن میں بڑے پیمانے پر واضح بے ضابطگیوں کے خلاف بلدیاتی انتخابات کے امیدواران کا احتجاجی مظاہرہ، احتجاجی مظاہرے کی قیادت صدر اللہ اکبر تحریک اسلام آباد چوہدری شفیق الرحمان کر رہے تھے اس موقع پر ان کے ہمراہ بلدیاتی انتخابات کیلئے چیئرمین و کونسلرز کے امیدواران اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے،بڑے پیمانے پر ووٹ کو اِدھر اُدھر منتقل کیا گیا ہے،جن لوگوں نے ووٹ ٹرانسفر کیلئے درخواست دی ان کے ووٹ بھی ٹرانسفر نہیں کئے گئے اور ہمارے ووٹرز کے ووٹ ان کے علاقے سے میلوں دور شفٹ کر دئے گئے ہیں،8300 پر جو ایس ایم ایس والی معلومات ہے اور الیکشن کمیشن آفس جا کر جو معلومات لیتے ہیں دونوں میں فرق ہوتا ہے،یہ دھاندلی کا نیا طریقہ ہے کہ ووٹرز کو غلط فہمی میں مبتلا کر کے ووٹ سے محروم رکھا جائے۔

  • دانیہ شاہ کو گرفتار کیا جائے:وقار زکا کی اپیل

    دانیہ شاہ کو گرفتار کیا جائے:وقار زکا کی اپیل

    نامور شخصیت وقار ذکاءنے ایک وڈیو جاری کی ہے اس وڈیو میں ایک اہم پیغام دے رہے ہیں بلکہ اپنے دوستوں اور چاہنے والوں سے درخواست کررہے ہیں کہ میری اس وڈیو کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بھیجیں انہیں ٹیگ کریں سوشل میڈیا پر وائرل کریں ۔اپنے اس وڈیو پیغام میں وقار ذکاءکہہ رہے ہیں کہ ہمیں ہر اس انسان کو انصاف دلانا ہے جس کی پرائیویٹ تصاویر اور وڈیوز کو سوشل میڈیا پر شئیر کیا گیا اور ہم عامر لیاقت حسین کے علاوہ ہر کسی کے ساتھ ہیں اور اسکو انصاف دلانا چاہتے ہیں جن کے ساتھ ایسی زیادتی ہوئی ۔وقار ذکاءنے اپنے اس وڈیو پیغام میں ویب سائٹ کا ایڈریس بھی دیا اور کہا وہاں جا کر اپیلیکیشن فل کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں سے کہیں کہ وہ ایسا کریں ۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جو گزشتہ دنوں اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے وہ شدید پریشانی کی حالت میں تھے کسی سے نہ ملتے تھے نہ بات کرتے تھے اور وہ تب سے ایسی صورتحال میں تھے جب سے ان کی اہلیہ دانیہ شاہ نے ان کی پرائیویٹ وڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کر دی تھیں ان کی پرائیویٹ تصاویر اور وڈیوزکے بعد لوگ انہیں ہر لیول پر برا بھلا کہہ رہے تھے یہ چیز ڈاکٹر عامر لیاقت حسین برداشت نہیں کر پائے اور انہوں نے خود کو کمرے کی حد تک محدود کر لیا تھا ۔ دانیہ شاہ کو ان کی موت کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے دانیہ نے ان کے ساتھ اس حد تک برا کیا کہ عامر لیاقت نے موت کو گلے لگانا مناسب سمجھا

  • فہد مصطفی شاہ رخ کی طرح ڈانس سٹیپس اٹھاتے ہیں :ماہرہ خان

    فہد مصطفی شاہ رخ کی طرح ڈانس سٹیپس اٹھاتے ہیں :ماہرہ خان

    فہد مصطفی شاہ رخ کی طرح ڈانس سٹیپس اٹھاتے ہیں :ماہرہ خان
    پاکستان اور بھارت میں یکساں مقبول لاکھوں دلوں کی دھڑکن ماہرہ خان نے حال ہی میںایک تقریب میں کسی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے شاہ رخ خان کیساتھ کام کیا اور دیکھا کہ وہ ڈانس کی ریہرسل کے بغیر ڈانس کے سٹیپس ا س طر ح اٹھاتے ہیں کہ کوئی بھی حیران رہ جائے اور میں بھی حیران رہ جاتی تھی اور سوچتی تھی کہ بھئی ہم پانچ دن سے ریہرسل کررہے ہیں اور یہ آتے ہی ڈانس کرنا شروع ہو گئے ہیں اور بغیر ریہرسل کے اتنا زبردست ڈانس کررہے ہیں ۔ماہرہ خان نے کہا کہ اس طرح کی پریکٹس میں نے یہاں کسی کی نہیں دیکھی لیکن فہد مصطفی میں یہ چیز دیکھی اوران کا اس طرح کرنا مجھے شاہ رخ خان کی یاد دلاتا تھا ۔ماہرہ خان اور فہد مصطفی کی فلم ”قائداعظم زندہ باز“ عید الاضحی پر ریلیز کی جا رہی ہے اس میں دونوں پہلی بار ایک ساتھ نظر آرہے ہیں فلم کا ٹریلر لانچ ہو چکا ہے جو کہ کافی دلچپسپ ہے فلم سے کافی امیدیں کی جا رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ ماہرہ خان نے شاہ رخ خان کی فلم رئیس میں کام کیا تھا،شاہ رخ خان نے ماہرہ خان کا کام دیکھتے ہوئے انہیں اپنی فلم کی آفر کی جسے ماہرہ نے قبول کر لیا ۔رئیس میں ماہرہ خان کو شاہ رخ خان کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ماہرہ اور شاہ رخ خان کی جوڑی کو کافی سراہا گیا تھا ۔

  • پولیس نے شکتی کپور کے بیٹے سدھاناتھ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

    پولیس نے شکتی کپور کے بیٹے سدھاناتھ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

    شکتی کپور کے بیٹے سدھاناتھ کپور جو کہ چند روزقبل ایک پارٹی میں شریک تھے اس پارٹی کے حوالے سے پولیس کو اطلاعات موصول ہوئی کہ اس میں ڈرگز کا استعمال کیا جا رہا ہے بینگلور پولیس جہاں پارٹی ہو رہی تھی وہاں پہنچی اور چھاپہ مارا اس چھاپے کے دوران انہوں نے پارٹی میں شریک کچھ لوگوں کو گرفتار کیا ۔ان میں لیجنڈ اداکار شکتی کپور کے بیٹے سدھانتھ کپور بھی موجود تھے ۔ان کے بارے میں پولیس کو شک گزرا کہ یہ بھی ڈرگز لے رہے تھے لہذا پولیس نے ا ن کے ساتھ ساتھ چھ دوسرے لوگوں کے ٹیسٹ کروائے اور ٹیسٹ کی رپورٹ جب سامنے آئیں تو شکتی کپور کے بیٹے سدھانتھ کپور ڈرقصور وار نکلے رپورٹ پازیٹیو نکلی ۔پولیس اس معاملے کی مزید تحقیقات کررہی ہیں اور سدھاناتھ کپور اس وقت کہاں ہیں اور پولیس مزید کیا کرنے والی ہے اس حوالے سے ابھی تفصیلات آنا باقی ہیں ۔

    یاد رہے کہ پچھلے برس کنگ آف بالی وڈ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کو بھی ایک پارٹی سے گرفتار کیا گیا تھا یہ کہہ کر یہ آریان ڈرگز لے رہے تھے تحقیقات ہوئیں آریان حراست میں رہا اس دوران ان کے گھر والوں کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہ تھی ،آریان خان کا فون بھی چیک ہوا ان کے تمام رابطوں کو دیکھا گیا ان کے ٹیسٹ کروائے گئے ہر سطح پر تحقیقات ہونے کے بعدآریان خان بے قصور ثابت ہوئے اور عدالت نے انہیں رہا کر دیا اب دیکھنا یہ ہے کہ شکتی کپور کے بیٹے سدھاناتھ کپور کے کیس میں کیا بنتا ہے ۔

  • ہائر ایجوکیشن کا ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 110 ارب روپے کر دیا،رانا تنویز

    ہائر ایجوکیشن کا ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 110 ارب روپے کر دیا،رانا تنویز

    وفاقی وزیر تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن )کی زیرقیادت مخلوط حکومت نے 23-2022 کے بجٹ میں ہائر ایجوکیشن کا ترقیاتی بجٹ 91 ارب سے بڑھا کر 110 ارب روپے کر دیا ہے۔

    نیشنل کالج آف آرٹس(این سی اے) میں آرٹ اینڈ کرافٹ کی نمائش کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کی سابقہ حکومت نے گزشتہ سال کے دوران اعلی تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی تھی، مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ تعلیم کے شعبے کو ترجیح دی ہے اور ہائر ایجوکیشن کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔

    ا نہوں نے کہا کہ این سی اے آرٹس کے اداروں میں ایشیا کا نامور اورایک سو پچاس سال پرانا تعلیمی ادارہ ہے جو اعلی تعلیم کی فراہمی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے’ اور آئندہ بھی طلبا کو معیاری تعلیم فراہم کرے گا اور ملک میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

    رانا تنویر نے این سی اے کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مرتضی جعفری سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ یونیورسٹی کی بہتری کے لیے کچھ قلیل مدتی اور طویل مدتی منصوبے بنائیں، انہوں نے مزید کہا کہ کالج کو یونیورسٹی میں اپ گریڈ کرنے کے بعد بطور وائس چانسلر ان کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ گئی ہیں’ وفاقی وزیر نے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر مرتضی جعفری کی جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اورمعیاری گریجویٹس تیار کرنے کی کوششوں کو سراہا۔

    وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)اسلام آباد میں وائس چانسلرز کمیٹی کے اجلاس میں زور دیا کہ وہ اعلی تعلیم میں کمرشل ازم کی بجائے معیار پر توجہ دیں’ پچھلی حکومت نے اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے بجائے یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھانے پر زور دیا۔

    وفاقی وزیر نے نے کہاکہ حکومت یونیورسٹیوں کو مزید مالی فوائد دے گی تاکہ مستقبل میں معیار کے نتائج پیدا کریں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سنگل نیشنل کریکولم (SNC) کا مطلب تعلیمی معیار کو کم کرنا نہیں ہے تاہم ایس این سی رہنما اصولوں پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے’ ایس این سی بینچ مارک کے طور پر رائج رہے گا لیکن ادارے کو تدریس میں آزادی دی جائے گی’اسلامک اسٹڈیز جیسے مضامین کو ایس این سی کی سفارشات کے مطابق پڑھایا جائے گا۔

    انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ایس این سی کو رول بیک کیا جا رہا ہے’ تعلیم کو عالمی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اس کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر مرتضی جعفری نے وفاقی وزیر تعلیم کو بریفنگ دی اوراین سی اے فیکلٹی کا تعارف کروایا.

  • فرحان اختر کی جی لے زرا تاخیر کا شکار

    فرحان اختر کی جی لے زرا تاخیر کا شکار

    جاوید اختر کے بیٹے معروف ڈائریکٹر فرحان اختر کی فلم ” جی لے زرا“ تاخیر کا شکار ہو گئی ہے ۔فرحان اختر اس فلم کو ڈائریکٹ کررہے ہیں۔زویا اختر کی لکھی اس فلم میں فرحان اختر نے بالی وڈ کی تین خوبصورت اور جانی مانی اداکاراﺅں کترینہ کیف ،پریانکا چوپڑا اور عالیہ بھٹ کو اکٹھا کیا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ تینوں اداکاراﺅں کی مصروفیت کے باعث فرحان اختر کو ڈیٹس لینے میں دشواری کا سامنا ہے ۔ عالیہ بھٹ جو کہ اپنی پہلی ہالی وڈ فلم ہارٹ آف تھرونز کی شوٹنگ میں بیرون ملک میں مصروف ہیں،انڈیا آتے ہی ان کا ایک اور پراجیکٹ ریڈی ہے جس کی شوٹنگ شروع ہو نی ہے دوسری طرف کترینہ کیف میری کرسمس میں مصروف ہیں

    کہا جا رہا ہے کہ اس کے بعد انہیں فلم فون بند اور ٹائیگر میں کاسٹ کیا جا رہا ہے ،پریانکا چوپڑا جونز بھی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں ۔تینوں اداکاراﺅں کی مصروفیت کی وجہ سے لگ رہا ہے کہ جیسے اس کی شوٹنگ رواں برس ستمبر میںنہیں ہو سکے گی،اس کی شوٹنگ اگلے سال ہی شروع ہو گی ۔ کترینہ کیف ،پریانکا چوپڑا اور عالیہ بھٹ کے پرستار اپنی پسندیدہ اداکاراﺅں کو ایک ساتھ دیکھنے کےلئے کافی بےتاب ہیں۔
    عالیہ بھٹ ،کترینہ کیف اور پریانکا چوپڑا کی اپنی اپنی جگہ بہت زیادہ فین فالونگ ہے اور عالیہ بھٹ کا شمار تو اب بالی وڈکی بہترین اکاراﺅں میں ہونے لگا ہے جبکہ پریانکا چوپڑا اور کترینہ کیف اپنی صلاحیتوں کا لوہا پہلے ہی منوا چکی ہیںان کے کریڈیٹ پر بے شمار ہٹ فلمیں ہیں۔

  • انتظار ختم ریکھا ویب سیریز ” ہیرا منڈی“ میں نظر آئینگی

    بالی وڈ کی خوبصورت اداکارہ ریکھا جنہیں دیکھنے کےلئے ان کے پرستار ہر وقت بے تاب رہتے ہیں ۔ان کے لئے خوشخبری ہے کہ ریکھا بہت جلد بڑی سکرین پر نظر آئیں گی ۔ریکھا آخری بار اندر کمار کی فلم ”سپر نانی “ میں نظر آئیں تھیں۔اس فلم کے بعد انہیں کئی بار کئی آفرز آئیں لیکن انہوں نے ہاں نہیں کی۔لیکن رپورٹس ہیں کہ سنجے لیلا بھنسالی کی ویب سیریز ہیرا منڈی میں ریکھا نظر آئیں گے۔سنجے لیلا بھنسالی اس ویب سیریز کی کاسٹنگ میں مصروف تھے تقریبا کاسٹنگ مکمل ہو چکی ہے اور ریکھا کے ساتھ اس حوالے سے سنجے لیلا بھنسالی کی گفتگو ہو چکی ہے۔کہا جا رہا ہے کہ ویب سیریز”ہیرا منڈی“ میں ریکھا کے لئے خصوصی طور پر کردار لکھوایا گیا ہے۔سنجے لیلا بھنسالی اور ریکھا ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ایک عرصے سے رکھتے ہیں لیکن بعض وجوہات کی بناءپر ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔

    یاد رہے کہ ریکھا اپنے کرداروں کے حوالے سے کافی حساس رہتی ہیں وہ ایسے کردار ادا نہیں کرتیں جو ان کے مزاج اور مرضی کے مطابق نہ ہوں اسکے لئے چاہے ان کو کتنی ہی رقم کیوں نہ آفر کر دی جائے۔ریکھا کافی لمبے بریک کے بعد سنجے لیلا بھنسالی کی ویب سیریز” ہیرامنڈی“ سے بالی وڈ میں واپسی کررہی ہیں۔ریکھا کا جادو یقینا اس بار بھی چلے گا اور ان کے پرستار ان کو دیکھنے کےلئے سینما گھروں کا رخ ضرور کریں گے ۔ا’دھر سنجے لیلا بھنسالی کی حال ہی میں گنگو بھائی کاٹھیواڑی بھی ریکارڈ توڑ بزنس کررہی ہے۔

  • پنجاب بجٹ کے خدوخال اور تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    پنجاب بجٹ کے خدوخال اور تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    بجٹ تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی .بجٹ تقریر کل 25 صفحات پر مشتمل ہیں مزدور کی تنخواہ بیس سے بڑھا کر پچیس ہزار کرنے کی تجویز ،بجٹ کا حجم 3236 ارب روپے تجویز کیا جارہا ہے ،کل آمدنی کا تخمینہ 2521 ارب سے زائد لگایا گیا ہے

    وفاق سے 2020 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،صوبائی محصولات کی مد میں 24 فیصد اضافے کیساتھ پانچ سو ارب سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،آئندہ مالی سال سیلز ٹیکس آف سروسز پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا ،چھوٹے کاروبار کی سہولت کیلئے سیلز آن سروسز میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا ،اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرع ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے .

    پرتعیش گھروں کے اوپر فنانس ایکٹ 2014 میں تبدیلی کرکے نئے ریٹس متعارف کروائے جارہے ہیں ،بجٹ کے مجموعی حجم میں سے 1712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں مختص کئی گئی ہیں ،وزیر اعظم عوامی سہولیت پیکج کیلئے دو سو ارب روپے رکھے جارہے ہیں ،سستا آٹا سکیم میں دس کلو آٹے کا تھیلہ چار سو نوے روپے میں دستیات ہوگا،پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فیصد اضافے کے ساتھ 190 ارب روپے رکھا گیا ، بورڈ آف ریونیو کا ہدف 44فیصداضافے کے ساتھ 95ارب روپے رکھا گیا

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”505259″ /]

    محکمہ ایکسائز سے 2 فیصداضافے کے ساتھ 43ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ،نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 53 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیاہے۔آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں رکھے گئے ہیں ، 312 ارب روپے پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں،ترقیاتی بجٹ کا 40 فیصد سوشل سیکٹر، 24 فیصد انفراسٹرکچر، 6 فیصد پروڈکشن سیکٹر اور 2 فیصد سروسز سیکٹر پر مشتمل ہے۔ترقیاتی بجٹ میں دیگر پروگرامز اور خصوصی اقدامات کیلئے 28 فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

    ترقیاتی بجٹ میں پہلے سے جاری اسکیموں کیلئے 365 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نئی اسکیموں کیلئے 234 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں ،41 ارب روپے دیگر ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص کئے جا رہے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی مد میں 45 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مجموعی بجٹ میںشعبہ صحت پر 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجوےز دی جا رہی ہے،شعبہ صحت پر 10 فےصد زےادہ فنڈز رکھے جا رہے ہیں

    شعبہ تعلیم کے لئے مختص کردہ مجموعی بجٹ میں 428 ارب 56 کروڑ روپے تجویز کیا جا رہاہے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1,712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں تجویز کئے گئے ہیں جو پچھلے سال سے 20 فیصد زیادہ ہیں۔ حکومت نے وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکج کے تحت 200 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے

    10 کلو آٹے کاتھیلہ جو پہلے 650 روپے میں بیچا جا رہاتھا اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے ۔ اِس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے جس کے تحت عوام الناس کو اشیاءخورونوش کی قیمتوں میں کمی، رعایتی نرخوں پر سفری سہولیات کی فراہمی، غریب کاشتکاروں کو کھاد کی رعایتی نرخوں پر دستیابی اور دیگر زرعی ضروریات کی فراہمی شامل ہیں۔

    صحت کارڈ کے لئے 125 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے جو گزشتہ ساٹھ ارب روپے تھی ،نان ٹیکس ریونیوکی مد میں24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 51 کروڑ روپے کا تخمنہ لگایا گیا ہے، 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں میں مد رکھے گئے ہیں،312 ارب روپے پنشن کی مد رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔

    سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے اور نہ کسی سروس پر ٹیکس کی شرح میں کسی قسم کا کوئی اضافہ کیا جا رہا ہے،سیلز ٹیکس آن سروسز میں فراہم کردہ ٹیکس ریلیف کو آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔برقی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی مد میں 95% رعایت کو جاری رکھا جا رہا ہے۔

    موٹر گاڑیوں کے پر کشش نمبروں کی نیلامی کے لیے نظرثانی شدہ e-Auction پالیسی کا اجراءبھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لئے آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پراپرٹی ٹیکس اور ٹوکن ٹیکس کی یکمشت ادائیگی پر بالترتیب 5 فیصد اور 10 فیصد رعایت جاری رکھی جا رہی ہے۔

    مزیدبرآںe-Pay کے ذریعے آن لائن ادائیگی پر صارف کو 5 فیصد مزید رعایت جاری رکھی جائے گی۔مالی سال 2022-23میں 25ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سےPunjab Urban Land System Enhancement کا قیام عمل میں لیا جائے گا.23 ارب90کروڑ روپے کی لاگت سے مواصلاتی نظام میں بہتری کیلئے فیصل آباد سرکلر روڈ(جڑانوالہ ستیانہ سیکشن)، قصور- دیپالپور روڈ ، لاہور- جڑانوالہ روڈ اور ساہیوال سے پاکپتن تک 336 کلومیٹر طویل سڑکوں کی بحالی شامل ہے۔

    پنجاب حکومت آئندہ مالی سال میں 9 ارب روپے سے پنجاب بھر میں سڑکوں کی بحالی کے پروگرام کا بھی آغاز کر رہی ہے۔ دیگر اہم اسکیموں میں 13 ارب50کروڑ کی لاگت سے رنگ روڈ پروجیکٹ مزید دو فیز (ملتان اور سیالکوٹ) اور 3 ارب کی لاگت سے سے سٹی اتھارٹی پروگرام (سیالکوٹ اور مریدکے)کا اجراءبھی شامل ہیں۔ پنجاب حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود اور جیلوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے 6 ارب روپے مختص کر رہی ہے

    مسلم لیگ (ن) کا انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔اس مقصد کیلئے آئندہ مالی سال مےں 1ارب 50کڑوڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ رحمتہ اللعالمین پروگرام کے تحت مستحق طلبہ و طالبات کے لےے تعلےمی وظائف کے لے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ ضلعی سطح کے مسائل کے حل کیلئے 90 ارب روپے کی خطیر رقم سے پنجاب بھر میں Sustainable Development Programme متعارف کروایا جا رہا ہے۔

    جنوبی پنجاب کے لئے 31 ارب50کروڑ روپے خصوصی طور پر مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کیلئے 421 ارب 6 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ،محکمہ ہائیر ایجوکیشن کیلئے 59 ارب 7 کروڑ روپے کی تجویز ہے، محکمہ سپیشل ایجوکیشن کیلئے 1 ارب 52 کروڑ اور لٹریسی و غیر رسمی تعلیم کیلئے 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے.”زیور تعلیم” پروگرام کے تحت 5 ارب 53 کروڑ روپے 6 لاکھ سے زائد طالبات کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کیلئے رکھے گئے ہیں۔ اسکولوں میں مفت کُتب کی فراہمی کیلئے 3 ارب 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    اسکول کونسلز کے ذریعے تعلیمی سہولیات کی بہتری کیلئے 14 ارب 93 کروڑ روپے اور دانش اسکولز کے جاری تعلیمی اخراجات کیلئے 3 ارب75کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں.آئندہ مالی سال میں نئے دانش اسکولز کی تعمیر کیلئے 1ارب50کروڑ روپے مختص. پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام کے تحت Punjab Education Foundation (PEF) کیلئے 21 ارب50کروڑ روپے مختص
    Punjab Education Initiatives Management Authority (PEIMA) کیلئے 4 ارب80کروڑ روپے مختص،اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی بحالی کیلئے 1 ارب50کروڑ روپے اور صوبہ بھر کے مختلف سکولوں میں اضافی کمروں کے قیام کیلئے 1ارب روپے مختص کئی گئی. ضلع ملتان میں کیڈٹ کالج کے قیام کیلئے 70 کروڑ روپے مختص، میانوالی اور حسن ابدال کیڈٹ کالجز میں سہولیات کی فراہمی کیلئے 10کروڑ روپے مختص کئی گئے، بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 59 ارب 7 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے ،ہائیر ایجوکیشن میں 13 ارب50کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ شعبہ خصوصی تعلےم کےلئے 1 ارب 52 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے

    محکمہ لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن کیلئے آئندہ سال کے بجٹ میں 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،آئندہ مالی سال میں صحت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 470 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں .صحٹ بجٹ پچھلے سال سے 27 فیصد زیادہ ہیں.صحت کے بجٹ میں 296 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات اور 174 ارب 50 کروڑ روپے ترقیاتی فنڈز کے لئے مختص کئے گئے

    پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیلئے 21 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ چولستان کے باسیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 84 کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ بجٹ میں زراعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 53 ارب 19کروڑz روپے مختص کر ہی ہے.شعبہ زراعت میں 14 ارب 77 کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کے حصول پر خرچ کےے جائےں گے۔ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا،پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے پروگرام کے لئے 3 ارب 65 کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔زرعی شعبہ میں تحقیق کیلئے 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے 8 نئے منصوبوں کا آغاز کرنے جا رہی ہے .لائیو اسٹاک کے شعبہ میں تحقیق اور تدریس کے 2 ارب 85 کروڑ روپے کی لاگت سے University of Veterinary and Animal Sciences (UVAS) کے Sub-Campus کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے

    آب پاشی کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 53 ارب 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،آبپاشی کے بجٹ میں 25 ارب 69 کروڑ روپے جاری اخراجات جبکہ 27ارب 63کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کیلئے مختص کئے گئے .سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کیلئے 80 ارب77کروڑ روپے مختص
    صنعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 23 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ، 3ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے جدید، ماحول دوست، آرام دہ بسیں چلانے کے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے . Sports and Youth Affairs Department کیلئے مجموعی طور پر 8 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے
    گئے ہیں

    اقلیتوں کے تحفظ کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کر رہی ہے جس میں سے 1 ارب 35 کروڑ روپے Minority Development Fund کے لئے مختص کئے جا رہے ہیں۔ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ مےں مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاﺅنس تجویز کیا گیا .گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15فیصد اضافی دیا جائے گا ۔ کم از کم اجرات 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے

  • جائیداد کے تنازع پر پھر دو قتل

    جائیداد کے تنازع پر پھر دو قتل

    جائیداد کے تنازع پر پھر دو قتل :

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے علاقے شاہدرہ میں میں ایک سنگین جرم ہوا ۔شاہدرہ میں موجود عزیز کالونی میں دو قتل ایک ساتھ ہو گئے۔پھر اس واقعہ کا علم جب پولیس کو ہوا تو انہوں نے تفتیش کی تو پتا چلا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں ایک مرد اور ایک عورت تھی ۔مرد کا نام فضل اور عورت کا نام فوزیہ تھا۔

    مزید تفصیلات کے مطابق قتل کرنے والا سگا بھائی تھا جس نے اپنے بھائی اور اس کی بیوی کو جان سے مار ڈالا ۔اور اس کی وجہ جائیداد کا تنازع تھا ۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق جائیداد کا تنازع ابھی کا نہیں بلکے کچھ پرانا چل رہا تھا ۔پھر ایک دن اس بھائی نے دوسرے بھائی اور اپنی بھابی کو جان سے مار کر فرار ہو گیا ۔اس کا نام تنویر تھا اب اس ملزم تنویر کی تلاش جاری ہے ۔ملزم نے اپنے بھائی اور بھابی کو فائرنگ کے ذریعے قتل کیا تھا ۔
    مزید یہ کہ سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی سٹی سے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ سی سی پی او نے ملزم تنویر کی فوری گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت جاری کر دی ہے ۔ ملزم تنویر جہاں بھی ملے گا اس کو فوری طور پر گرفتار کرلیا جائے گا ۔

    خیال رہے کہ ابھی کچھ دن پہلے بھی لاہور ہی میں واقعہ شہر داتا دربار میں بھی جائیداد کے تنازع کی وجہ سے ہی چوٹھے بھائی نے اپنے دو بڑے بھائیوں کی جان لے لی تھی ۔جب اس تمام واقعے کا پولیس کو علم ہوا تو پولیس نے تفتیش کرنا شروع کر دی ۔پولیس نے اس حوالے سے بتایا کہ قتل ہونے والے دونوں بھائیوں کی عمر 60 اور 65 سال تھی ۔جن میں ایک بھائی کا نام الطاف تھا اور دوسرے بھائی کا نام سرفراز تھا ۔ملزم مختار جس نے جائیداد کے تنازع پر اپنے دو بڑے بھائیوں کو قتل کر دیا تھا ۔یہ ملزم ٹیکسالی کا رہائشی تھا ۔اس نے اپنے بھائیوں کو فائرنگ سے قتل کیا تھا ۔اس کی خود کی عمر 57 سال تھی اور اس کے دونوں بھائیوں کی عمر 60 اور 65 سال تھی جن کو اس نے اپنے ہاتھوں سے قتل کیا تھا ۔پولیس نے مکمل تفتیش کے بعد ملزم مختار کو گرفتار کر لیا تھا۔

  • خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،63 ہزار ملازمین مستقل کرنیکا فیصلہ

    خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،63 ہزار ملازمین مستقل کرنیکا فیصلہ

    خیبر پختونخوا مالی سال 23-2022 کا 1332 ارب مالیت حجم کا بجٹ پیش کر دیا۔ بجٹ وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے نے پیش کیا

    خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے سالانہ صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشتگردی کا شکار صوبہ تھا لیکن اب سرمایہ کاری کا مرکز بن چکا ہے، یہ وہ ترقی کا سفر ہے جو خیبرپختونخوا نے پی ٹی آئی حکومت میں کیا۔

    تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبے کا بجٹ 1 ہزار 332 ارب روپے رکھا گیا ہے، بندوبستی اضلاع کے اخراجات کا تخمینہ 1109 ارب روپے لگایا ہے جبکہ ضم اضلاع کے اخراجات 223 ارب ہوں گے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاق کی ٹیکس محصولات کا تخمینہ 570 ارب 90 کروڑ لگایا گیا ہے جبکہ وفاق سے آئل اور گیس رائلٹی کی مد میں 31 ارب روپے ملیں گے، بجلی کے خالص منافع اور بقایاجات کی مد میں 61 ارب 90 کروڑ ملنے کی توقع ہے جبکہ قبائلی اضلاع کے لیے 208 ارب روپے کی گرانٹس ملنے کی توقع ہے۔

    صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 68 ارب 60 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ صوبائی ٹیکسوں کی مد میں 85 ارب روپے وصول ہوں گے، اس کے علاوہ 93 ارب روپے کی غیر ملکی امداد بھی بجٹ میں شامل ہے، دیگر محاصل کا تخمینہ 212 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

    قبل ازیں خیبرپختونخوا کابینہ نے مالی سال 23-2022ء کے 1 ہزار 332 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی۔ صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دیدی۔ یہ اضافہ گریڈ 1 سے 19 تک کے ملازمین کے لیے ڈسپیریٹی الاؤنس (DRA) کے علاوہ ہے، جس میں پولیس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    کابینہ نے جنگلات میں لگی آگ بجھانے میں شہید ریسکیو اہلکاروں کیلئے شہدا پیکیج اور دس دس لاکھ روپے امداد کا اعلان بھی کیا۔
    کابینہ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ 63000 ملازمین کی مستقلی کی بھی منظوری دیدی۔ یکم جولائی سے مستقل ہونے والے ملازمین میں 675 ڈاکٹر،58 ہزار اساتذہ اورضم اضلاع کے128 منصوبوں کے4079 ملازمین شامل ہیں ۔

    صوبے کے دس لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے رعایتی نرخوں پر راشن مہیا کرنے کیلئے انصاف فوڈ کارڈ کے تحت 26 ارب روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دی۔

    حکومت نے ایگزیکٹو الاﺅنس کو پرفارمنس الاﺅنس میں تبدیل کردیا۔ حکومت نے گریڈ 7 سے16 تک پولیس اہلکاروں کے الاﺅنس میں ڈی آر اے کے برابر اضافہ کردیا۔

    جمعہ کے دن ورک فراہم ہوم کی پالیسی کی متعارف کرادی گئی ۔ کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم میں موجودہ ملازمین کو بھی شامل ہونے کا اختیار دے دیا گیا۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے گزشتہ سال کم کیے گئے ٹیکس نرخ اگلے مالی سال بھی برقراررکھنے کا فیصلہ کیا ۔ ابتدائی وثانوی تعلیم میں طلباءوطالبات سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ اگلے مالی سال لائبریری اینڈ آرکائیوز اور ہاسٹل فیس ختم کردی گئی۔