Baaghi TV

Author: +9251

  • تمام شعبوں میں جلد استحکام آنا شروع ہو جائے گا،گورنر پنجاب

    تمام شعبوں میں جلد استحکام آنا شروع ہو جائے گا،گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ 4 سال پہلے جب حکومت مسلم لیگ ن سے لی گئی تھی، آج بہت سارے مسائل کے ساتھ واپس ملی ہے۔ ہمارے سابق دور میں معیشت سمیت ترقی کے تمام اعشاریے بہتر تھے، معیشت بہتر تھی اور مہنگائی کی شرح کم تھی، تمام شعبوں میں جلد استحکام انا شروع ہو جائے گا۔

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان سے بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے ظہیر اقبال چنڑ کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ وفد کے شرکاء نے گورنر پنجاب کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے کہا کہ 4 سال پہلے جب حکومت پی ایم ایل سے لی گئی تھی آج بہت سارے مسائل کے ساتھ واپس ملی ہے.

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کے سابق دور ملک میں سارے شعبوں میں مسلسل ترقی ہو رہی تھی.معیشت سمیت ترقی کے تمام اعشاریے بہتر تھے اور مہنگائی کی شرح کم تھی۔ انشاء اللہ تمام شعبوں میں جلد بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔ اعلی سیاسی اقدار کو پروان چڑھائیں گے۔ اعلی تعلیم پہ فوکس ہمیشہ سے حکومت کی ترجیح ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ہائر ایجوکیشن کے فنڈَز میں اضافہ کیا، اکیڈیمیہ اور انڈسٹری کے درمیان روابط مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے جامعات کے وائس چانسلرز کو ہدایات دے دی ہیں۔

  • مہنگائی مارگئی:33 فیصد برطانوی شہری اگلے پانچ سالوں میں اپنے آپکوبے گھرہوتےدیکھ رہے ہیں

    مہنگائی مارگئی:33 فیصد برطانوی شہری اگلے پانچ سالوں میں اپنے آپکوبے گھرہوتےدیکھ رہے ہیں

    لندن :مہنگائی مارگئی:33 فیصد برطانوی شہری اگلے پانچ سالوں میں اپنے آپکوبے گھردیکھ رہے ہیں،اطلاعات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے کیے گئے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً تین میں سے ایک یعنی 33 فیصد بالغ برطانوی رہائشی اخراجات میں اضافے کے نتیجے میں اگلے پانچ سالوں میں بے گھر ہونے کی فکر میں ہے۔

    اسی چیز کو معروف برطانوی اخبار دی انڈپنڈینٹ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ محققین نے کہا کہ اکتیس فیصد سے زائد لوگ فکر مند ہیں کہ وہ مستقبل قریب میں صوفے پر سرفنگ یا عارضی رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔

     

     

    ملکہ برطانیہ کی تخت نشینی کی 70ویں سالگرہ کی شاندار تقریبات کا اختتام

    یاد رہے کہ یہ سروے 2,264 بالغوں پرایک حقوق کے خیراتی ادارے کی طرف سے بے گھر ہونے کی ایک نئی تحقیق کے ساتھ رپورٹ کیا گیا تھا۔دوسری طرف یہ ادارہ مستبقل کے خطرات کےپیش نظرحکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ عارضی رہائش تک رسائی کو آسان بنایا جائے اور امیگریشن کی پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

    اس ادارے کے چیف ایگزیکٹیو سچا دیشمکھ کہتے ہیں کہ "رہائش ایک انسانی حق ہے، عیش و آرام کی نہیں اور اسے قانون میں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انگلینڈ میں موجودہ ہاؤسنگ سسٹم مقصد کے لیے موزوں نہیں ہے۔ انصاف اور ہمدردی کو بحال کرنے کے لیے اسے تھوک میں اصلاحات کی ضرورت ہے،‘‘

    برطانیہ نے یوکرین کو راکٹ لانچرز فراہم کرنے کی رضامندی ظاہر کردی

    اس خیراتی ادارے نے سروے کے دوران یہ پایا کہ پانچ میں سے مزید دو بالغوں نے کہا کہ وہ فکر مند ہیں کہ جس کو وہ جانتے ہیں وہ بغیر گھر کے ختم ہو جائے گا۔رپورٹ میں دلیل دی گئی کہ ہزاروں افراد کو برطانیہ میں پناہ کے حقوق تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔اس نے یہ بھی پایا کہ وسیع پیمانے پر اور طویل عرصے تک بے گھر ہونے کی ایک اہم وجہ سستی رہائش کی کمی تھی۔اس میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2020 سے ستمبر 2021 کے درمیان انگلینڈ میں 283,440 گھرانوں نے بے گھر ہونے کی امداد کے لیے درخواست دی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکام کا کوئی فرض نہیں ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کو بے گھر پناہ گاہ فراہم کریں جو امیگریشن کنٹرول کے تابع ہیں۔ جن لوگوں کے پاس "عوامی فنڈز کا کوئی سہارا نہیں ہے” اور غیر دستاویزی تارکین وطن ان گروہوں میں سے دو ہیں۔

    اس ادارے کے چیف ایگزیکٹیو سچا دیشمکھ کہتے ہیں کہ "بہت سے لوگ جن کو امیگریشن پابندیوں کا سامنا ہے انہیں عوامی فنڈز اور کام کرنے کی اجازت دونوں سے خارج کر دیا جاتا ہے،” انہوں نے مزید کہا، "اپنی کفالت کرنے سے قاصر ہو کر اور رہائش سے متعلق مدد سے انکار کر دیا گیا، وہ لامحالہ نیند کی نیند سوتے ہیں۔ ان کے خلاف نظام دھاندلی کا شکار ہے۔کونسلوں کا یہ فرض بھی نہیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو فراہم کریں جنہیں رہائش کے لیے "ترجیحی ضرورت” کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے، یا ان لوگوں کے لیے جنہیں "جان بوجھ کر بے گھر” سمجھا جاتا ہے۔

    روس کی برطانیہ پر 4 منٹ سے بھی کم وقت میں جوہری حملے کی دھمکی

    خیراتی ادارے نے خدشات کا اظہار کیا کہ لوگ دراڑوں سے گر رہے ہیں۔ چونکہ کونسلیں ایسے بے گھر لوگوں کی مدد کرتی ہیں جنہیں "ترجیحی ضرورت” سمجھا جاتا ہے، جیسے کہ حاملہ خواتین یا وہ بچے جن پر انحصار کیا جاتا ہے، ان میں سے بہت سے لوگ جنہیں "سنگل بے گھر” کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے، بغیر کسی مدد کے چھوڑ دیا جا سکتا ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اس نے کم از کم چھ خواتین کا انٹرویو کیا ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو سماجی خدمات کے ذریعے سنبھالا تھا اور اس لیے انہیں "سنگل بے گھر” سمجھا جاتا تھا اور یہ ترجیح نہیں تھی۔

    دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق یوجین نے، جو اس کا اصل نام نہیں ہےکہتے ہیں‌کہ 2021 کے وسط میں اس کے اور اس کے بچوں کو عارضی رہائش سے بے دخل کیے جانے کے بعد ان کے لیے کوئی انتظامات نہ کیے جانے کے بعد اسے بے گھر کر دیا گیا۔”میں سڑک پر اپنے چھ سال کے بچے اور اپنے تمام سامان کے ساتھ کھڑی تھی،”

    ایک خیراتی ادارے سے مدد حاصل کرنے کے بعد، وہ مقامی اتھارٹی سے تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی جنہوں نے اسے ایک ہوٹل اور پھر عارضی رہائش میں رکھا۔محققین نے رپورٹ کے لیے بے گھر ہونے کے تجربات والے 82 افراد سے بات کی۔

    ایڈورڈ، ایک 55 سالہ فوجی تجربہ کار، جس کا نام اس کی شناخت کے تحفظ کے لیے تبدیل کیا گیا ہے، جب اس کا انٹرویو لیا گیا تو وہ ایک اونچی گلی کے دروازوں میں کھردرے سو رہے تھے۔ اس نے ایمنسٹی کو بتایا کہ اسے دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری اور فائبرومیالجیا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ’’میں خیمے میں نہیں سونا چاہتا، میرا سلیپنگ بیگ اور کمبل کافی ہے،‘‘ اس نے کہا۔

    اس نے مزید کہا کہ اس نے بے گھر ہوسٹل "طاعون کی طرح” سے گریز کیا کیونکہ اس نے سنا تھا کہ یہ "بہت زیادہ منشیات استعمال کرنے والوں کے ساتھ” چلا گیا تھا۔فلپ، جس کا نام بھی تبدیل کیا گیا تھا، نے بتایا کہ ہاسٹلز میں منشیات اور شراب کا استعمال عام ہے۔انہوں نے ایمنسٹی کو بتایا، "یہ کسی کو ناکام ہونے کے لیے ترتیب دے رہا ہے،” انہوں نے مزید کہا، "یہ پھنسے ہوئے محسوس ہو رہا ہے، یہ سب سے بری چیز ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کے پاس منشیات کی طرف واپس نہ جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔”

    2021 میں، کچے سوتے یا بے گھر رہنے والے لوگوں کی موت کی اوسط عمر مردوں کے لیے 45.9 سال اور خواتین کے لیے 41.6 سال تھی۔

    سروے میں آدھے سے زیادہ بالغوں، 54 فیصد نے کہا کہ انہوں نے فرض کیا تھا کہ انفرادی حالات کی وجہ سے کوئی شخص بے گھر ہے۔ صرف 36 فیصد نے کہا کہ وہ حکومت کو مناسب رہائش فراہم کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

    لیولنگ اپ، ہاؤسنگ اور کمیونٹیز کے محکمے کے ترجمان نے اس رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا، "اگلے تین سالوں میں، ہم کونسلوں کو بے گھر ہونے اور سخت نیند سے نمٹنے کے لیے £2 بلین دے رہے ہیں جو کسی کی بھی مدد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں۔ محدود اہلیت، جب تک کونسل ایسا کرنے میں قانون کے اندر کام کر رہی ہے۔”

    ترجمان نے مزید کہا کہ "کمزور تارکین وطن کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جو کہ بے سہارا ہیں اور ان کو دیگر ضروریات ہیں، جیسے بچوں کی مدد کرنا، مدد حاصل کر سکتے ہیں اور عوامی فنڈز کی شرائط کو ختم کرنے کے لیے بھی درخواست دے سکتے ہیں۔”

  • آصف زرداری سے حمزہ شہباز کی اہم ملاقات،ضمنی انتخابات مشترکہ طور پر لڑنے پر اتفاق

    آصف زرداری سے حمزہ شہباز کی اہم ملاقات،ضمنی انتخابات مشترکہ طور پر لڑنے پر اتفاق

    پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اوع سابق صدر آصف علی زرداری کی دعوت پروزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز بلاول ہاؤس پہنچ گئے.پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کا خیرمقدم کیا اور انہیں وزارت اعلی کا منصب سمنھالے پر مبارکباد دی.

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز اور سابق صدرآصف علی زرداری کے درمیان ملاقات ہوئی ،ملاقات میں میں باہمی دلچسپی کے امور ، سیاسی صورتحال اور ورکنگ ریلیشن شپ پر تبادلہ خیال کیا گیا.

    حمزہ شہباز اور آصف علی زرداری کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا،عمران نیازی کے غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا مل کر مقابلہ کرنے کے عزم کااعادہ بی کیا گیا جبکہ دونوں رہنماوں نے ضمنی انتخابات مشترکہ طور پر لڑنے پر اتفاق بھی کیا.

    اس موقع پر وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ عوام کی خدمت کے سفر میں ایک ہیں اورایک رہیں گے،پاکستان پیپلز پارٹی ہماری اتحادی جماعت ہے، ساتھ لیکر چلیں گے،ورکنگ ریلیشن شپ کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔

    حمزہ شہباز نے کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا اتحاد عوام کی خدمت کے لیے ہے ،سیاست کو عبادت سمجھتا ہوں اور اجتماعی فیصلوں کا قائل ہوں.

    صوبائی وزراء عطا تارڑ ،ملک محمد احمد علی، خواجہ سلمان رفیق، عمران گورایہ، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، شرجیل میمن ،ڈاکٹر عاصم حسین،صوبائی وزراء سید علی حیدر گیلانی اور سید حسن مرتضی بھی ملاقات میں موجود تھے

    آصف علی زرداری نے وزیر اعلی حمزہ شہباز کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا

    حمزہ شہباز مسلم لیگ ن کے وفد کے ہمراہ بلاول ہاوس لاہور پہنچے، مسلم لیگ ن کے وفد میں صوبائی وزراء عطا تارڑ ، ملک احمد علی، خواجہ سلمان رفیق اورعمران گورایہ بھی شامل تھے.

    ملاقات میں پیپلزپارٹی کے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، شرجیل میمن ،ڈاکٹر عاصم حسین، سید علی حیدر گیلانی اور سید حسن مرتضی بھی موجود تھے.
    آصف علی زرداری نے وزیر اعلی حمزہ شہباز کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا.

  • امریکا میں بچے نے کھلونا سمجھ کر باپ پر گولی چلا دی ۔

    امریکا میں بچے نے کھلونا سمجھ کر باپ پر گولی چلا دی ۔

    امریکا میں بچے نے کھلونا سمجھ کر باپ پر گولی چلا دی ۔
    باغی ٹی وی : امریکا میں صرف 2 سال کے بچے نے پستول کو ہاتھ میں پکڑا بچے کے خیال میں یہ پستول کھلونا تھی بچے نے کھلونا سمجھ کر پستول باپ پر چلا دی۔اس صورت حال میں باپ گولی لگنے کے بعد وہاں پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔اور ماں کو اس حوالے سے غفلت برتتے پر گرفتار کر لیا گیا۔

    مزید یہ کہ اس 2سال کے بچے نے زمین پر موجود بستے سے پستول نکالی اور اس کو کھلونا سمجھتے ہوۓ باپ پر چلا دی جو کے سامنے بیٹھے کمپیوٹر استعمال کر رہے تھے۔اس واقعے کے بعد فوری طور پر باپ کو ہسپتال لے کر جایا گیا لیکن وه دم توڑ چکے تھے۔
    جب بچے کی ماں سے پولیس نے تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ میرے شوہر نے خود گولی ماری ہے۔اور خود کشی کی ہے۔
    لیکن پولیس نے تفتیش جاری رکھی جب پولیس نے دیکھا کے گولی کمر پر لگی ہوئی ہے تو ان کا شک مزید زیادہ ہو گیا تو بڑے بھائی نے اعتراف کر لیا کہ گولی کس طرح باپ کو لگی ہے۔
    تفتیش کاروں سے پتا چلا کہ بچے سے گولی چلنے سے اور ہلاک ہونے والا نوجوان اور اہلیہ بچوں کو نظرانداز کرتے تھے اور منشیات کے استعمال کے متعدد جرائم کے بعد پیرول پر تھے۔ اور اس کیس میں بھی پستول کو محفوظ جگہ پر رکھنے میں شدید غفلت کا مظاہرہ کیا گیا تھا ۔
    اس واقعے پر غفلت برتنے کی وجہ سے ماں کو حراست میں لے لیا گیا اور بچے کو شیلٹر ہاؤس بھجوا دیا گیا .

  • پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 587 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 587 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    پنجاب کے آئندہ مالی سال 2022-23 کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق پہلا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 587 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب کیلئے 35 فیصد بجٹ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال پنجاب میں 13 میگا ترقیاتی پراجیکٹ شروع کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

    مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے ہر رکن کے لیے 50 کروڑ روپے ترقیاتی اسکیم کی تجویز پر غور ہو رہا ہے،غیر ملکی قرضوں سے منصوبوں کے لیے 28 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ضلعوں کے جاری اور نئے منصوبوں کے لیے 114 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، میگا منصوبوں کی تکمیل کے لیے 237 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔

    ترجیحی منصوبوں کے لیے 20 ارب روپے کا بلاک ایلوکیشن فنڈ جبکہ پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت 15 ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز پر بھی کام ہو رہا ہے۔

    دوسری طرف و زیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ عوام کو مشکل وقت میں ریلیف دینے کیلئے آٹے پر 200 ارب روپے سبسڈی دے رہے ہیں ۔چینی اورگھی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے جلد خوشخبری دیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے لاہور کے سابق چیئرمینوں اوروائس چیئرمینوں نے ملاقات کی جس میں وزیر اعلی نے مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے ہدایات دیں۔

    ملاقات میں میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن، توصیف شاہ، کبیر تاج، صبغت اللہ، دستگیر شاہ، احمد بٹ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ عوام کو مشکل وقت میں ریلیف دینے کیلئے آٹے پر 200 ارب روپے سبسڈی دے رہے ہیں، چینی اورگھی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے جلد خوشخبری دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اگلے ماہ سے منتخب ہسپتالوں میں کینسر اوردیگر ادویات مفت ملیں گی، اندرون لاہور میں بجلی کے لٹکتے ہوئے تار اورگیس کی عدم فراہمی کے مسائل حل کریں گے، پارکنگ کے مسائل کرنے کیلئے پارکنگ پلازے بنانے کا جائزہ لیں گے۔

    وزیراعلی نے مزید کہا کہ کوٹ خواجہ سعید،سید مٹھا اوریکی گیٹ ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے گا، عوام کے دکھوں کے مداواے اور مسائل کے حل کیلئے ہر چھوٹے بڑے شہر جاؤں گا، سیاست نہیں خدمت پر یقین رکھتا ہوں، واسا کو پانی کی فراہمی کیلئے ہدایات جاری کردی ہیں، لاہور بھر کے فلٹریشن پلانٹس کو بحال کیا جارہا ہے، طویل سیاسی جدوجہد کرنے والے اور ظلم برداشت کرنے والے پارٹی کارکنوں کوسلام پیش کرتا ہوں

  • دنیا کے ساتھ اچھے روابط چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

    دنیا کے ساتھ اچھے روابط چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت میں بڑھتے اسلامو فوبیا واقعات پر تشویش ہے،گستاخانہ بیان سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے، ہماری ترجیح دنیا کے ساتھ اچھے روابط ہیں۔

    جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ جرمنی کی وزیر خارجہ کو دورۂ پاکستان پر خوش آمدید کہتے ہیں، جرمنی پاکستان کا یورپی یونین میں سب سے بڑا شراکت دار ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اور خود میں دہشت گردی کا شکار ہوا ہوں، امید ہے افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے گی، ہمیں افغانستان سے مزید مہاجرین کی آمد کا خطرہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 97 فیصد لوگ خط غربت کے نیچے جا رہے ہیں، افغان حکومت کو عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا، افغانستان سے انہیں نکالنے کی کوشش کررہے ہیں جن کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ میری ترجیح پاکستان کی معاشی سفارتکاری کا فروغ ہے، ہماری توجہ ٹریڈ، ناٹ ایڈ پر مرکوز ہے۔

    وزیر خارجہ نے بتایا کہ یوکرین پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ہم یوکرین میں جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں، تمام تنازعات کو بالآخر بات چیت سے ہی حل ہونا ہوتا ہے، ہم روس یوکرین جنگ کے مذاکراتی حل پر زور دیتے رہیں گے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے چین اور دنیا کے درمیان سفارتی تعلقات شروع کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ بھارت کے یک طرفہ اقدامات کے باعث دو طرفہ بات چیت کا عمل متاثر ہوا ہے، بھارت اب ایک ہندوتوا انڈیا ہے، بھارت کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات بات چیت کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔

    نیوز بریفنگ میں جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا کہ افغان صورت حال سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا، خواتین کی حقوق معاشرے میں اہمیت کے حامل ہیں، افغانستان کو انسانی بحران کا سامنا ہے۔

    جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے باہمی تجارت کے فروغ پر بات چیت کی ہے، مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کرتے ہیں، مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت کے ذریعے ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک پاکستان آئی ہیں، انہیں وزیر خارجہ نے دفتر خارجہ آمد پر خوش آمدید کہا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے ساتھ جرمن وزیر خارجہ نے وزارت خارجہ کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔

  • ایلون مسک نے ٹویٹرخریدنے کی ڈیل ختم کرنے کی دھمکی دے دی

    ایلون مسک نے ٹویٹرخریدنے کی ڈیل ختم کرنے کی دھمکی دے دی

    واشنگٹن :ایلون مسک نے ٹویٹرخریدنے کی ڈیل ختم کرنے کی دھمکی دے دی اطلاعات کے مطابق ٹیسلا کے بانی ایلون مسک، جنہوں نے حال ہی میں ٹویٹر کو خریدنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا، اب دھمکی دی ہے کہ اگر مؤخر الذکر پارٹی غلط اور جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ اس سے الگ ہو جائیں گے۔

    اس حوالے سے ایلون مسک نے کہا کہ ٹویٹر ان کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور پھرالٹآ غلط بیانی بھی کررہا ہے اور ان کے معلوماتی حقوق کو ناکام بنا رہا ہے۔”اطلاعات ہیں‌کہ ایلون مسک نے سپیم اکاؤنٹس کے بارے میں مزید معلومات کے لیے معاہدے کو روک دیا ہے۔

    ایلون مسک نے اس سال اپریل میں ٹویٹر کو 44 بلین ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا اور پھر ٹویٹ کیا تھا کہ ان کی ترجیحات میں سے ایک پلیٹ فارم سے "اسپام بوٹس” کو ہٹانا ہوگا۔

    ایلون مسک نے ٹویٹر کو خریدنے کے لیے اپنے 44 بلین ڈالر کے معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے سوشل میڈیا نیٹ ورک کو ایک خط میں کہا کہ اگر اس نے اسپام اور جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں خاطر خواہ ڈیٹا فراہم نہیں کیا تو یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا

    ٹویٹر کارپوریشن نے مارچ میں انکشاف کیا تھا کہ پہلی سہ ماہی کے دوران غلط یا سپیم اکاؤنٹس اس کے مونی ٹائز کیے جانے والے یومیہ فعال صارفین میں سے 5 فیصد سے بھی کم کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    جبکہ مسک کا اصرار ہے کہ یو ایس سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے پاس دائر کردہ خط کے مطابق، بوٹس 20٪ یا اس سے زیادہ ٹویٹر صارفین کے لئے اکاؤنٹ بن سکتے ہیں۔ اس معاملے پر ٹویٹر اور مسک کے درمیان مئی کے اوائل سے بحث جاری ہے۔ تاہم ٹوئٹر نے فیک اکاؤنٹس کے بارے میں اپنے اندازے کا دفاع کیا ہے۔

    "ٹوئٹر کے آج تک کے رویے اور خاص طور پر کمپنی کے تازہ ترین خط و کتابت کی بنیاد پر، ایلون مسک کا خیال ہے کہ کمپنی جان بوجھ کر اپنے غلط دعووں سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے اور ان کے معلوماتی حقوق کو ناکام بنا رہی ہے،

    ایلون مسک کا کہنا ہے کہ "یہ انضمام کے معاہدے کے تحت ٹویٹر کی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی ہے اوروہ تمام حقوق محفوظ رکھتے ہیں، بشمول ان کے لین دین کو مکمل نہ کرنے کا حق اور انضمام کے معاہدے کو ختم کرنے کا حق،”

    دریں اثنا، ٹویٹر کارپوریشن کا کہنا ہے کہ اس وقت تو ایلون مسک نے ڈیل کو مکمل کرنے کی جلدی میں مخصوص حقوق سے دستبردار ہو گئے تھے اور مزید کہا کہ وہ طے شدہ قیمت اور شرائط پرٹویٹر کا لینا چاہتے تھے

    ماہرین کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ مسک اسپام اکاؤنٹ کے معاملے کے ذریعے قیمت پر دوبارہ گفت و شنید کرنے کی کوشش کر رہے ہوں یا اس معاہدے سے الگ ہو جائیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، اگر وہ معاہدے سے باہر نکلتے ہیں تو اسے 1 بلین ڈالر کی ضمانتی رقم اور ممکنہ قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • کترینہ کیف کے شوہر نے بیوی کے بارے میں ایک بڑا دعوی کر دیا

    کترینہ کیف کے شوہر نے بیوی کے بارے میں ایک بڑا دعوی کر دیا

    کترینہ کیف جن کی حال ہی میں اداکار وکی کوشل کے ساتھ شادی ہوئی ہے ان کے شوہر ان سے بہت خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ کترینہ کیف سے شادی کے بعد میری زندگی بہت اچھی گزر رہی ہے اور میں بہت خوش ہوں . وکی نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا اور اس میں اہلیہ کترینہ کیف کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے بولے میں ایک اچھی اور خوبصورت شادی شدہ زندگی بسر کر رہا ہوں دیکھا جائے تو ایسی بات کہہ کر انہوں نے کتریبہ کیف کی تعریف کی ہے.

    یاد رہے کہ کترینہ اور وکی کوشال کی محبت کی شادی ہے اور اس شادی کے انتظامات میں اداکار سلمان خان خود شامل تھے. کترینہ کیف کا بہت عرصہ تک نام سلمان خان کیساتھ آتا رہا ایک وقت میں تو خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا . وکی کوشال سے قبل کترینہ اداکار رنبیر کپور کے ساتھ دو سال تک ریلیشن میں رہیں دونوں ایک ہی گھر میں بھی شفٹ ہو چکے تھے لیکن پھر نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ دونوں نے اپنی راہیں جد کر لیں. رنیبر کپور کے بعد کترینہ کی زندگی میں وکی کوشال آئے اور دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا.شادی کے بعد دونوں کا فی خوش دکھائی دیتے ہیٰں. کتریبہ کا شمار بالی وڈی کی خوبصورت اور باصلاحیت اداکارائوں میں ہوتا ہے.

  • مہنگائی سے تنگ آئے مانی نے حکومت کو دیا ایسا مشورہ کہ سب ہوئے حیران

    مہنگائی سے تنگ آئے مانی نے حکومت کو دیا ایسا مشورہ کہ سب ہوئے حیران

    آج کل ہر کوئی مہنگائی پر بلبلا رہا ہے چاہے عام آدمی ہو یا سیلبرٹی. دن بہ دن بڑھتی مہنگائی نے سب کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ حکومت سے گلہ شکوہ کرے. اسی طرح‌ کا ایک شکوہ کیا مانی نے اور پھر حکومت کو مشورہ بھی دیدیا اور مشورہ یہ دیا کہ پاکستان کو بچانے کا اب ایک ہی طریقہ ہے کہ پاکستان سو ملکوں کے ساتھ ایک کمیٹی ڈال لے اور پہلی کمیٹی خود لے کر رکھ لے تاکہ ہمارے حالات بہتر ہو سکیں. مانی نے یہ دلچپسپ مشورہ حکومت کو انسٹاگرام پر اپنی سٹوری میں دیا. مانی کے اس مشورے کے بعد تحریک انصاف کے سپورٹرز نے ان کو سراہا اور مذاق کرتے رہے جبکہ حکومت کے سپورٹرز نے مانی کو کھری کھری سنا دیں اور کہتے رہے کہ مہنگائی عمران خان کا دیا تحفہ ہے نئی حکومت تو بس کوشش کررہی ہے کہ حالات کنٹرول میں آجائیں .

    اداکار و میزبان مانی کوئی اکیلے اداکار نہیں‌ ہیں جو سیاسی معاملات پر تبصرے کررہے ہیں بہت سارے دوسرے ایسے اداکار ہیں جو سیاست میں‌دلچپسی لیتے ہوئے سوشل میڈیا پر پوسٹیں شئیر کرتے ہیں جن میں شان شاہد ، ہارون شاہد ،منیب بٹ، ثمینہ پیرزادہ اور عفت عمر کے نام قابل ذکر ہیں. بلکہ اداکاروں نے تو سیاسی جماعتوں کے حق اور خلاف بات کرنے کے حوالے سے واضح پوزیشنز لے رکھی ہیں.آج کل شوبز شخصیات عام لوگوں سے زیاہ سیاسی معاملات میں‌ دلچسپی لیتی ہوئی نظر آرہی ہیں جسے کچھ لوگ سراہتے ہیں اور کچھ لوگوں‌کا کہنا ہے کہ سٹارز کو پارٹی نہیں بننا چاہیے.

  • عثمان مختار کی ہارر فلم گلابو رانی ریلیز کے لئے تیار

    عثمان مختار کی ہارر فلم گلابو رانی ریلیز کے لئے تیار

    ایسٹرن ٹیرسٹریل اسٹوڈیوزڈاوئون ٹائون فلمز اور چینل کے اشتراک سےاداکار عثمان مختار کی بطور ڈائریکٹر اور پرڈیوسر شارٹ فلم ” گلابو رانی؛؛ ریلیز کے لئے تیار ہے.اس پراجیکٹ میں ان کے ساتھ معراج حق بھی برابر کے حصہ دار ہیں.فلم کی کاسٹ میں اسامہ جاوید، حیدر معراج حق، دانیال افضل ، نتاشا اعجاز، عمر عبداللہ شامل ہیں جبکہ کوشال خٹک اس میں بطور مہمان اداکار نظر آئیں گے.عثمان مختار اور معراج حق کا دعوی ہے کہ گلابو رانی ایک الگ لیول کی فلم ہے.
    اس فلم کے حوالے سے عثمان مختار کہتے ہیں کہ میری اداکاری کو ہمیشہ بہت سراہا گیا ہے جس کے لئے میں اپنے پرستاروں‌کا شکر گزار ہوں لیکن کیمرے کے پیچھے جا کر کام کرنا اور نئے لوگوں کے ساتھ پھر یہ کام کرنا یہ میرے لئے بہت ہی خوبصورت تجربہ رہا ہے.اس فلم کو بناتے وقت بہت ہی خوفناک لمحے بھی آئے اور بہت ہی ہنسی مذاق والے لمحات بھی آئے ہم سب نے مل کر انجوائے کیا مجھے امید ہے کہ اس ہارر فلم کو دیکھ کر شائقین ضرور محظوظ ہوں گے .عثمان مختار نے مزید کہا کہ ایسٹرن ٹریسٹرئیل ایک نیا پروڈکشن پلیٹ فارم ہے جہاں نئے لوگوں‌ کو چانس دیا جاتا ہے گلابو رانی اس کی بڑی مثال ہے مزید بھی یہ کام جاری رہے گا اس پلیٹ فارم سے ان لوگوں‌کو بریک دیا جائے

    یاد رہے کہ ماضی قریب میں عثمان مختار کا ماہرہ خان کے ساتھ ڈرامہ سیریل ہم کہاں کے سچے تھے اختتام پذیر ہوا اس ڈرامے میں‌عثمان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا تھا.