Baaghi TV

Author: +9251

  • خیبر یونین آف جرنلسٹس کا صحافیوں کے گرینڈ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    خیبر یونین آف جرنلسٹس کا صحافیوں کے گرینڈ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    پشاور:خیبر یونین آف جرنلسٹس کا صحافیوں کے گرینڈ اجلاس بلانے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق خیبر یونین آف جرنلسٹس نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے پشاور کے صحافیوں کے ساتھ نامناسب رویہ اپنانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے اپنے رویہ پر نظرثانی نہ کی تو جلد صحافیوں کے گرینڈ اجلاس میں لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔

    اس حوالے سے رفعت اللہ اورکزئی کہتے ہیں کہ جو پشاور میں صحافیوں کےساتھ ہوا وہ اچھا نہیں ہے ، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے رویے پر نظرثانی کرے تو بہتر ہے ورنہ پھر سخت لائحہ عمل تیار کیا جائے گا

    یاد رہےکہ پشاور میں اس وقت بدمزگی دیکھنے میں آئی جب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پشاور میں‌ پریس کانفرنس کررہے تھے تو ایک صحافی کی طرف سے سخت سوالات کے پوچھے جانے پر عمران خان پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کرچلے گئے

    اس پریس کانفرنس میں‌ سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز ، رانا ثناء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں سزا مل جاتی تو اتنا ظلم نہ کرتے، ہماری حکومت کیساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی، میری اگلی ساری زندگی قوم کی حقیقی آزادی کے لیے ہے۔خون خرابے سے بچنے کیلئے اسلام آباد سے واپس گئے۔حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، جون میں الیکشن کا اعلان ہوجائے تو باقی معاملات پر بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج پر امن تھا لیکن حکومت نے اسے پرتشدد بنادیا، لاہور میں پولیس نے وکلا کو بسوں سے نکال نکال کر مارا، حکومت نے پنجاب پولیس کو استعمال کیا، آئی جی سمیت چن چن کر ایسے افسران لائے جنہوں ںے ظلم کیا، کون سی ملک دشمن پولیس نے جو اپنے ملک کی خواتین اور بچوں پر تشدد کرے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہے کہ ہم انتشار پھیلانے جارہے تھے، کیا کوئی خواتین کو اور اہل خانہ لے کر انتشار پھیلانے جائے گا؟ یہ لوگ یزید کو ماننے والے ہیں، ماڈل ٹاؤن میں چودہ افراد کو قتل کے باوجود انہیں سزا نہیں ملی اگر مل جاتی تو یہ لوگ اس طرح کا ظلم نہ کرپاتے۔

    انہوں ںے کہا کہ میں وہ آدمی ہوں جو 126 دن دھرنے میں بیٹھا، میرے لیے ایک اور دھرنے میں بیٹھنا کوئی مشکل نہیں تھا، جب ہم دھرنے میں پہنچے تو اندازا ہوا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں، مجھے معلوم ہوا کہ خون خرابہ ہونے والا ہے، لوگ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے تھے، ہمارے لوگ پولیس کی مار کھاکر وہاں پہنچے وہ بہت مشتعل تھے، لوگ بہت غصے میں تھے، میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس دن خون خرابہ ہوتا اور پولیس کے ساتھ تصادم ہوتا۔

    پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ حکومت نے گلو بٹ بٹھائے ہوئے ہیں، پولیس کا قصور نہیں اسے استعمال کیا جارہا ہے، اگر ہمارا تصادم ہوتا تو ملک کا نقصان ہوتا کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہماری کمزوری تھی یا ہم نے کوئی ڈیل کرلی، میں نہیں چاہتا کہ ملک میں اداروں اور عوام کے درمیان خلیج بڑھے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم آرام سے بیٹھ جائیں گے اور اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے تو یہ لوگوں کی بھول ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہم چھ دن دے رہے ہیں، اگر انہوں ںے واضح طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا اور اسمبلیاں تحلیل نہ کیں تو ہم دوبارہ نکلیں گے اور اب کی بار تیاری کے ساتھ نکلیں گے کیوں کہ نہیں پتا تھا کہ ہمیں اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑجائے گا، سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہمارے جلسے کی راہ میں رکھی رکاوٹیں نہیں ہٹائیں گئیں انہیں کارکنان نے ہٹایا، میں اپنے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر سوالات کیے ہیں کہ اپنی پوزیشن کلیئر کریں، چھ دن میں پتا چل جائے گا کہ سپریم کورٹ ہمارے حقوق کا تحفظ کرتی ہے کہ نہیں۔

  • اسلام آباد میں میٹرو اسٹیشن جلائے جانے کا دعویٰ جھوٹا نکلا

    اسلام آباد میں میٹرو اسٹیشن جلائے جانے کا دعویٰ جھوٹا نکلا

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میٹرو اسٹیشن جلائے جانے کا دعویٰ جھوٹا نکلا ہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران اسلام آباد میں میٹرو بس اسٹیشن جلائے جانے کا دعویٰ جھوٹا نکلا ہے لیگی رہنماؤں نے بھی اسٹیشن جلائے جانے کا پروپیگنڈہ کیا تھا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ میٹرو اسٹیشن کا شیشہ تک نہیں ٹوٹا اور بس سروس معمول کے مطابق بحال ہے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران افواہیں پھیلائی گئی تھیں کہ میٹرو اسٹیشن کو جلا دیا گیا ہے۔

    لانگ مارچ کے دوران جس میٹرو اسٹیشن کو جلائے جانے کے گمراہ کن دعوے کئے گئے اس کا شیشہ تک نہیں ٹوٹا، سروس مکمل بحال ہے، آگ لگائے جانے کا دعوی جھوٹا نکلا۔۔

    اس سے قبل انتظامیہ میٹرو بس سروس کا کہنا تھا کہ میٹرو بس سروس دو روز قبل پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث بند کی گئی تھی اور اسے آج بحال کر دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے آزادی مارچ کے سبب سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جڑواں شہروں میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا تھا۔سیکیورٹی حکام کی جانب سے اسلام آباد کے داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا تھا جبکہ میٹرو بس سروس کو بھی معطل کیا گیا تھا۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف کا 28 ارب کے ریلیف پیکج کا اعلان

    وزیر اعظم شہباز شریف کا 28 ارب کے ریلیف پیکج کا اعلان

    اسلام آباد:شہباز شریف نے کہا کہ قوم کو پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بوجھ سے بچانے کیلئے 28 ارب روپے کے فنڈ سے پیکج کا آغاز کر رہے ہیں۔ غریب گھرانوں کو 2 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔ یہ ریلیف اس کے علاوہ ہے جو پہلے ہی ان خاندانوں کو دی جارہی ہے۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کو کہا ہے کہ آٹے کا 10کلو کا تھیلا 400 روپے کا دیا جائے۔

    اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف قوم سے میں کہا ہے کہ پاکستان آئین کے مطابق چلے گا، کسی ایک شخص کی ضد پر نہیں۔

    اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جس ذمہ داری کیلئے قوم نے مجھے منتخب کیا وہ میرے لیے اعزاز ہے، وزیراعظم کا منصب سنبھالنا کسی کڑے امتحان سے کم نہیں، میں اپنے قائد نوازشریف اور اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اعتماد کیا۔

    شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے مطالبہ کیا کہ اس نااہل اور کرپٹ حکومت سے ان کی فوری جان چھڑائی جائے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے عوام کی آواز پر لبیک کہا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سنبھالی تو ہر شعبہ تباہی کی داستان سنا رہا تھا، ایسی تباہی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی جو چار سال میں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو بچانے کا چیلنج قبول کیا،ملک کو بہتری کے راستے پر گامزن کرنے کیلئے انتھک محنت درکار ہوگی، ہماری سیاست کے ریشوں میں نفرت کا زہر بھر دیا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ’ایک شخص نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے سازش کی کہانی گڑھی، امریکا میں ہمارے سفیر نے بھی سازش کی کہانی کو یکسر مسترد کردیا، قومی سلامتی کمیٹی نے بھی دو مرتبہ سازش کی کہانی کو مسترد کیا، پاکستان آئین کے مطابق چلے گا کسی ایک کی ضد سے نہیں۔’

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کے دور میں پاکستان نمایاں ترقی کررہا تھا، اس شخص کی ہٹ دھرمی اور دھرنے سے چین سے معاہدہ تاخیر کا شکار ہوا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’آئی ایم ایف سے معاہدہ آپ نے کیا ہم نے نہیں، عوام کو مہنگائی کی چکی میں آپ نے پیسا ہم نے نہیں، ملک کو تاریخ کے بدترین قرض کے نیچے دفن کردیا،سب سے زیادہ کرپشن آپ کے دور میں ہوئی۔’

    انہوں نے مزید کہا کہ ’ملک میں لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے آپ کے دور میں ہوئے، میری خدمات عوام کے سامنے ہیں، ہمارے سامنے صرف اور صرف ایک مقصد ہے، ہم مشکل فیصلہ کرنے کو تیار ہیں، ہر وہ کام کریں گے جس سے ملکی ترقی تیزی سے ہوسکے۔‘

    شہبازشریف نے کہا کہ ہم نے حکومت نے سنبھالی تو مہنگائی عروج پر تھی، ڈالر 2018 میں 115 پر چھوڑ کرکے گئے تھے، سابق حکومت کے پونے چارسال میں ڈالر189 تک پہنچ گیا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز دل پر پتھر رکھ کر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا لیکن یہ فیصلہ کیوں کیا یہ آپ کے سامنے لانا ضروری ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کو معاشی دیوالیہ پن سے بچانے کیلئے ناگزیر تھا، اس نہج پر پاکستان کو گزشتہ حکومت نے پہنچایا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ قوم کو پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بوجھ سے بچانے کیلئے 28 ارب روپے کے فنڈ سے پیکج کا آغاز کر رہے ہیں۔ غریب گھرانوں کو 2 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ملکی معاشی صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لیں گے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حقائق پرگفتگو کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف قوم کو آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کرینگے جبکہ وزیر اعظم کی طرف سے ریلیف پیکج کا اعلان بھی متوقع ہے۔

  • پاک فوج کی شکایت پر ایمان مزاری کے خلاف مقدمہ درج:ناقابل ضمانت،مگرپھربھی ضمانت ہوگئی

    پاک فوج کی شکایت پر ایمان مزاری کے خلاف مقدمہ درج:ناقابل ضمانت،مگرپھربھی ضمانت ہوگئی

    اسلام آباد: پاک فوج کی شکایت پر پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔دوسری طرف ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ جودفعات اس ایف آئی آر میں لگائی گئی ہیں وہ ناقابل ضمانت ہیں پھر بھی اگر ضمانت ہوگئی ہے تو قابل غور ہے

    ان ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری کے خلاف جو مقدمہ درج ہے اس کے مطابق اس کی ضمانت نہیں ہوسکتی مگرپھر بھی اگرضمانت ہوگئی ہے تو یہ سرا سرقانون کے خلاف ہے ، جس کا جائزہ لینا چاہیے

     

     

    ذرائع کے مطابق ایمان مزاری کے خلاف مقدمہ لیفٹیننٹ کرنل سید ہمایوں افتخار نے اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں درج کروایا۔مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 21 مئی کی شام ایمان مزاری نے آرمی قیادت کے خلاف بے بنیاد الزام لگائے ان کے ریمارکس کا مقصد فوج کے رینکس اور فائل میں اشتعال دلانا تھا۔

    مقدمے کے متن کے مطابق ایمان مزاری کا ایسا اقدام پاک فوج کے اندر نفرت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا تھا اور یہ سنگین جرم ہے، پاک فوج اور سربراہ کی کردار کشی سے عوام میں خوف پیدا کرنا ریاست کے خلاف جرم ہے۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری کی 9 جون تک عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔

  • اسلامی تعاون تنظیم کی یاسین ملک کوعمرقید کی سزاسنائےجانے پرگہری تشویش،فوری رہائی کا مطالبہ

    اسلامی تعاون تنظیم کی یاسین ملک کوعمرقید کی سزاسنائےجانے پرگہری تشویش،فوری رہائی کا مطالبہ

    اسلام آباد:اسلامی تعاون تنظیم سیکرٹریٹ کی طرف کئی دہائیوں سے پرامن آزادی کی جدوجہد کی قیادت کرنے والے کشمیری رہنماؤں میں سے یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا

    اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے جموں اور کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کا جنرل سیکریٹریٹ عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کشمیریوں کی ان کے حقوق کے حصول کے لیے جائز جدوجہد کو دہشت گردی کے مترادف نہ کیا جائے۔

    جنرل سیکریٹریٹ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر منصفانہ طور پر قید تمام کشمیری رہنماؤں کو رہا کرے، بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں اور کشمیر میں کشمیریوں پر ہونے والے سنگین اور منظم ظلم و ستم کو فوری طور پر روکے اور کشمیر کے لوگوں کے حق کا احترام کریں کہ وہ آزادانہ اور غیر جانبدار جدوجہد کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کریں جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان نے بھارت سے کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بھارت کی جانب سے حریت رہنما یاسین ملک کو جعلی اور مشکوک کیس میں سنائی گئی سزا کی شدید مذمت کی۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ اس معاملے پر بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا جبکہ وزیر خارجہ نے یاسین ملک کی جلد اور فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    کورونا وبا کے بعد چینی جامعات میں پاکستانی طلبہ کی واپسی کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ چینی جامعات میں کلاسوں کا دوبارہ آغاز ہو رہا ہے، 251 پاکستانی طلبہ کو ویزا پراسس کے بعد چین واپس بھیجا جائے گا، اس حوالے سے چارٹرڈ طیارے پر بھی غور جاری ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سری نگر اور پلوامہ میں آج 4 معصوم کشمیری نوجوانوں کو بھارتی افواج کی جانب سے شہید کیا گیا جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف آئندہ ہفتے ترکی کا دورہ کریں گے۔

  • عازمین حج کو مکمل اور پوری سہولیات دیں گے، ڈائریکٹر آف حج

    عازمین حج کو مکمل اور پوری سہولیات دیں گے، ڈائریکٹر آف حج

    عازمین حج کے لیے ٹریننگ ورکشاپ دوسرے روزکے لیے بھی جاری رہی۔ وزارت مذہبی امور وبین المذہب ہم آہنگی اور ڈائریکٹوریٹ آف حج لاہور کی جانب سے عازمین حج کو انتظامی امور کی تربیت کے حوالے سے دوسرے روز جمعہ کو ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد الحمراء آرٹس کونسل لاہور میں کیا گیا۔

    تقریب میں سابق ڈائریکٹر جنرل حج جدہ ساجد یوسفانی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی جبکہ ڈائریکٹر حج پنجاب ریحان عباس کھوکھر‘ سابق ڈائریکٹر حج محمدفروغ آفتاب‘علامہ عمران بشیر اور ماسڑ ٹرینر حاجی محمد یونس مغل بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر آف حج پنجاب ریحان عباس کھوکھر نے تقریب میں موجود شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف حج پنجاب کی پوری کوشش رہی ہے کہ عازمین حج کو مکمل تربیت دی جائے تاکہ ان کو حج کے دوران کوئی مشکل پیش نہ آئے،دعا ہے کہ تمام عازمین حج خیروعافیت سے حج کے فریضہ کو سر انجام دیں.

    انہوں نے کہا کہ عازمین حج کو مکمل اور پوری سہولیات دیں گے تاکہ وہ فریضہ حج خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکیں۔سابق ڈائریکٹر جنرل حج جدہ ساجد یوسفانی نے کہا کہ عازمین حج ہمارے ملک کے سفیر بھی ہیں‘دوران حج ان کا ہر قول وفعل ہمارے ملک کے امیج کی ترجمانی کرے گا‘ حجاز مقدس میں دنیا بھر مسلمان فریضہ حج کے لیے اکٹھے ہوں گے‘اس لیے تمام عازمین حج ملک پاکستان کی مثبت امیج کو دنیا بھر کے سامنے اجاگر کریں۔دیگر مقررین نے بھی تقریب سے خطاب کیا.

    حاجی محمد یونس مغل نے عازمین حج کو انتظامی امور اور ٹرینگ پروگرام کے حوالے سے آگاہ کیا۔واضح رہے کہ 26 مئی سے شروع ہونے والی عازمین حج کے لیے ٹریننگ ورکشاپ مختلف دنوں میں منعقد ہو کر یکم جون تک 5روزکے لیے جاری رہے گی۔

  • پشاور:صحافی کے سوال پر عمران خان پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    پشاور:صحافی کے سوال پر عمران خان پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    پشاور:صحافی کے سوال پر عمران خان پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے ہمراہ پشاور میں پریس کانفرنس کی۔

    صحافی نے سوال کیا کہ لوگ آپ کو ووٹ دیتے ہیں، آپ کے ساتھ جاتے بھی ہیں لیکن نہ لوگوں نے وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں گرتی دیکھیں، نہ لوگوں نے گورنر ہاؤس کی دیواریں گرتے دیکھیں، نہ لوگوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں یونیورسٹیاں دیکھیں، نہ لوگوں نے چوروں کو لٹکتے ہوئے دیکھا، آپ لوگوں کو دوبارہ انگیج کرکے اسلام آباد چڑھائی کرنے جائیں گے تو کون سا نیا نعرہ ہے؟

    انہوں نے مزید سوال کیا کہ آپ کی ٹیموں نے یوٹیوبرز اور کی بورڈ وارئیر سے پاکستان فتح کرنے کی کوشش کی ماضی میں، پختونخوا کے صحافیوں کو آپ لوگ بھلا چکے تھے، اب یوٹیوبرز اور کی بورڈ وارئیرز سے امریکا اور یورپ اور نیٹو کے ممالک افغانستان نہیں فتح کرسکے آپ اسلام آباد کیا فتح کریں گے؟

    صحافی کا مزید سوال تھاکہ گلی گلی اور کوچے کوچے میں آرمی جنرلز کو گالیاں دے رہے ہیں، اب یہ تربیت کس نے دی؟ ٹوئٹر پر یہ کون لوگ ہیں؟ پی ٹی آئی کے لوگ ہیں؟ آپ اپنے ورکرز کو پاکستان کے اداروں بالخصوص آرمی اور عدلیہ کے حوالے سے کیا پیغام دیں گے؟ آپ نے کہا تھا کہ یہ پیغام کان میں پہنچا دیں میرے خیال سے کان میں پہنچ چکا ہے اور گالیاں پڑ رہی ہیں، اب عوام توقع کر رہے ہیں آپ اپنے ورکر کی تھوڑی سی تربیت کرلیں، آپ تحریک چلائیں پاکستان کو فتح کریں اور دوبارہ عوام کی خدمت کریں لیکن جو نفرت اور گالم گلوچ کی سیاست ہے اس حوالے سےورکرز کو کوئی پیغام دیں گے؟

    صحافی کے سوال پر عمران خان کا کہنا تھاکہ اس کا بڑا سخت جواب دے سکتا ہوں لیکن وہ نہیں دوں گا۔ ان کا کہناتھاکہ ہم نے چیف جسٹس کو مراسلہ بھیجا ہے جس میں سازش واضح ہے، ہم امپورٹڈ حکومت کو نہیں دیکھ سکتے، جو بھی قوم جس کو ووٹ دینا چاہتی ہے بسم اللہ۔

    انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو کوئی کنٹرول نہیں کرسکا، کوئی ٹرینڈ چلاتے ہیں لوگ فالو نہیں کرتے تو کل ختم ہوجاتے ہیں، سوشل میڈیا سے عوام کو آواز آگئی ہے جس کے پاس فون ہے اس کے پاس آواز ہے اور وہ اپنی آواز سامنے رکھ لیتا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھاکہ میں نفرتیں پھیلانا چاہتا تو کل جو حالات تھے تو وہاں نفرتیں تب دیکھنی تھیں کیسے پھیلنی ہیں، ہم ملک کو متحد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے صحافی کو کہا کہ آپ نے باتیں غلط کی ہیں بالکل غلط کی ہیں اور ایک غلط قسم کی تقریر کردی ہے، یہ پریس کانفرنس ہو رہی ہے۔اس دوران عمران خان غصے میں آگئے اور پریس کانفرنس سے اٹھ کر چلے گئے اور صحافی کو بھی کچھ کہتے رہے۔

  • پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافے کےلیے پاکستانی تیار رہیں : مصطفیٰ نواز

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافے کےلیے پاکستانی تیار رہیں : مصطفیٰ نواز

    اسلام آباد:پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافے کےلیے پاکستانی تیار رہیں،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافہ متوقع ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے لکھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافہ متوقع ہے، آئی ایم ایف شاید کئے گئے اضافہ سے مطمئن نہ ہو، سخت بجٹ بھی دینا پڑے گا۔

     

    اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ سوال تو یہ ہے کہ عمران خان کی ناکامیوں اور ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا بوجھ اپنے سر لینے میں کیا حکمت ہے؟۔

     

     

    دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی شکل میں عوام پر ایک نہیں دو بم گرائے گئے، پہلے مہنگائی کیا کم تھی کہ اب ٹرانسپورٹ کی وجہ سے مہنگائی میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوگیا ہے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ نا اہل حکمرانوں نے عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنے کیلئے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے، حکمران سستا تیل روس سے کیوں نہیں لیتے،عمران خان نے روس سے سستے تیل کی ڈیل مکمل کر لی تھی، بھارت نے روس سے سستا تیل لے کر اپنی عوام کو ریلیف فراہم کیا۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے لانگ مارچ ختم نہیں کیا صرف 6 روز کیلئے حکومت کو مزید مہلت دی ہے، گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے، اعلیٰ عدلیہ نے بھی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔

  • پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس کل پشاورمیں طلب کرلیاگیا

    پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس کل پشاورمیں طلب کرلیاگیا

    پشاور:پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس کل پشاورمیں طلب کرلیا گیا۔،تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کور کمیٹی اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں سیاسی صورتحال پر مشاورت اور اہم فیصلے ہوں گے۔

     

     

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں لانگ مارچ کی بعد کی صورتحال پر غور ہو گا اور لانگ مارچ سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس میں حکومت کو دیے گئے الٹی میٹم پر غور بھی کیا جائے گا۔

     

     

    ادھر آج پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہےکہ شہباز،رانا ثناء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں سزا مل جاتی تو اتنا ظلم نہ کرتے، ہماری حکومت کیساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی، میری اگلی ساری زندگی قوم کی حقیقی آزادی کے لیے ہے۔خون خرابے سے بچنے کیلئے اسلام آباد سے واپس گئے۔حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، جون میں الیکشن کا اعلان ہوجائے تو باقی معاملات پر بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔

     

     

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج پر امن تھا لیکن حکومت نے اسے پرتشدد بنادیا، لاہور میں پولیس نے وکلا کو بسوں سے نکال نکال کر مارا، حکومت نے پنجاب پولیس کو استعمال کیا، آئی جی سمیت چن چن کر ایسے افسران لائے جنہوں ںے ظلم کیا، کون سی ملک دشمن پولیس نے جو اپنے ملک کی خواتین اور بچوں پر تشدد کرے۔

     

     

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہے کہ ہم انتشار پھیلانے جارہے تھے، کیا کوئی خواتین کو اور اہل خانہ لے کر انتشار پھیلانے جائے گا؟ یہ لوگ یزید کو ماننے والے ہیں، ماڈل ٹاؤن میں چودہ افراد کو قتل کے باوجود انہیں سزا نہیں ملی اگر مل جاتی تو یہ لوگ اس طرح کا ظلم نہ کرپاتے۔

     

     

    انہوں ںے کہا کہ میں وہ آدمی ہوں جو 126 دن دھرنے میں بیٹھا، میرے لیے ایک اور دھرنے میں بیٹھنا کوئی مشکل نہیں تھا، جب ہم دھرنے میں پہنچے تو اندازا ہوا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں، مجھے معلوم ہوا کہ خون خرابہ ہونے والا ہے، لوگ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے تھے، ہمارے لوگ پولیس کی مار کھاکر وہاں پہنچے وہ بہت مشتعل تھے، لوگ بہت غصے میں تھے، میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس دن خون خرابہ ہوتا اور پولیس کے ساتھ تصادم ہوتا۔

     

     

    پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ حکومت نے گلو بٹ بٹھائے ہوئے ہیں، پولیس کا قصور نہیں اسے استعمال کیا جارہا ہے، اگر ہمارا تصادم ہوتا تو ملک کا نقصان ہوتا کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہماری کمزوری تھی یا ہم نے کوئی ڈیل کرلی، میں نہیں چاہتا کہ ملک میں اداروں اور عوام کے درمیان خلیج بڑھے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم آرام سے بیٹھ جائیں گے اور اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے تو یہ لوگوں کی بھول ہے۔

     

     

    عمران خان نے کہا کہ ہم چھ دن دے رہے ہیں، اگر انہوں ںے واضح طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا اور اسمبلیاں تحلیل نہ کیں تو ہم دوبارہ نکلیں گے اور اب کی بار تیاری کے ساتھ نکلیں گے کیوں کہ نہیں پتا تھا کہ ہمیں اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑجائے گا، سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہمارے جلسے کی راہ میں رکھی رکاوٹیں نہیں ہٹائیں گئیں انہیں کارکنان نے ہٹایا، میں اپنے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر سوالات کیے ہیں کہ اپنی پوزیشن کلیئر کریں، چھ دن میں پتا چل جائے گا کہ سپریم کورٹ ہمارے حقوق کا تحفظ کرتی ہے کہ نہیں۔

  • موٹرسائيکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو پٹرول پرسبسڈی دینے کا فیصلہ

    موٹرسائيکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو پٹرول پرسبسڈی دینے کا فیصلہ

    وزیرا‏عظم شہباز شریف نے عوام کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔

    وزیراعظم کی ریر صدارت اتحادی جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا ،اجلاس میں وزیراعطم نے آئی ایم ایف سے مذاکرات، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر امور پر اعتماد میں لیا، وزیراعظم نے اتحادیوں سے آج کے قوم سے خطاب کے نکات پر بھی مشاورت کی۔

    اجلاس میں موٹرسائيکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹارگٹڈ سبسڈی پر اتحادیوں کواعتماد میں لیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹارگٹڈ سبسڈی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے دی جائے گی۔
    وزیراعظم نے غریب طبقے پر بوجھ نہ ڈالنے سے متعلق ریلیف پیکیج پر مشاورت کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے سوا کروڑ لوگ مستفید ہوں گے۔

    وزیراعظم قوم کو ملک کی معاشی صورتحال سمیت اہم معاملات پراعتماد میں لیں گے،،شہباز شریف اپنے خطاب میں سابق حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی تفسیل سے بھی قوم کو آگاہ کریں گے.

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف قوم سے خطاب کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے محرکات بھی قوم کے سامنے رکھیں گے.وزیراعظم اپنے خطاب میں حکومت کی جانب سے لئے گئے سخت فیصلوں کے بارے میں بھی اعتماد میں لیں گے.

    وزیراعظم کی اتحادی جماعتوں کے ارکان سے ملاقات ہوئی ہے جس میں ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، بی اے بی کے خالد مگسی اور محسن داوڑ شامل تھے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اضافے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا۔

    اتحادیوں کے ملاقات میں بڑے فیصلے کر لیے گئے، حکومت نے اگست 2023ء تک مدت مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے باعث موٹر سائیکل اور رکشہ والوں کے لئے بڑے ریلیف پیکیج دینے کا فیصلہ کیا ہے، پیکیج بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سکیم کے زریعے دیا جائے گا۔ پیکیج سے سوا کروڑ افراد مستفید ہوں گے۔

    اتحادیو ں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ غیر یقینی صورتحال سے ملک کو نکالا جائے، جس پر وزیراعظم نے کہا کہ سب کو بتا دیں کوئی غیریقینی صورتحال نہیں مدت مکمل کریں گے، دباؤ میں اکر کوئی انتخابات نہیں ہوں گے، ڈی چوک کسی کو دھرنا نہیں کرنے دیں گے، عمران چھ دن بعد ائیں، مختص جگہ پر احتجاج کا شوق پورا کر لیں۔ دسمبر جنوری تک حکومتی پالیسیوں کے ثمرات سامنے آئیں گے، ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے، وقت اگیا تصادم کی بجائے ملک کے لئے کام کریں۔