اداکار و ڈائریکٹر سرمد سلطان کھوسٹ جن کی پچھلی فلم ” زندگی تماشا” تنازعات کا شکار ہونے کے باعث نمائش سے روک دی گئی تھی لیکن ان کی حالیہ فلم کملی کو وفاق،سندھ اور پنجاب سنسر بورڈز کی جانب سے نمائش کے لئے سنسر سرٹیفیکیٹ جا ری کر دیا گیا ہے.تین جو کو سینما گھروں کی زینت بننے والی اس فلم میں نمرہ بُچہ،ثانیہ سعید ، خواجہ حمزہ، عمیر رانا اور صبا قمر اہم کرداروں میں نظر آئیں گے. فلم کا بہشتر حصہ چکوال کی سائیڈ پر شوٹ ہوا ہے کہانی جیسی لکھی گئی اس کے لئے پہاڑوں اورندیوں کی لوکیشن درکار تھی ، فلم میں چھ گانے ہیں جو عاطف اسلم ،زیب بنگش ریشماں ،سہیل شہزاد ،آمنہ راہی ،زینب فاطمہ سلطان اور نمرہ گیلانی نے گائے ہیں.صبا قمر کا دعوی ہے کہ انہوں نے پہلی بار ایسا کردار کیا ہے.صبا بتاتی ہیں کہ انہیں ایک شوٹ پانی اندر ایک منٹتک رہ کر کرنا تھا جیسے ہی وہ پانی میں گئیں تو ان کے گھٹنے کو لوہے کا سریا لگ گیا اور وہ شدید تکلیف میں آگئیں لیکن انہوں نے پانی اندر ہی وہ سریا پکڑے رکھا تاکہ ان کا سین مکمل ہوجائے لیکن سین اوکے ہونے کے بعد جب وہ باہر آئیں تو تب تک ان کی حالت بہت زیادہ خراب ہوچکی تھی.اسی طرحسے سے عمیر رانا بھی کہتے ہیں ان کا کردار ایسا ہے کہ جو گائوں سے شہر پڑھنے لکھنے کو جاتا ہے اور پڑھ لکھ کر گائوں کی واپسی کر لیتا ہے.سرمد کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے کام کی وضاحت کرنی نہیں آتی کہ انہوں نے کیسا کام کیا ہے.
Author: +9251
-

اسلام آباد وفاقی حکومت کے کنٹرول سے باہر:فوج طلب کرلی
اسلام آباد:اسلام آباد وفاقی حکومت کے کنٹرول سے باہر:فوج سے مدد کی درخواست کردی،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں اس وقت صورت حال وفاقی حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہی اور سارا دن اور ساری رات پولیس اور رینجرز کی مدد سے مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلنگ ، ربڑ کی گولیوں کی بوچھاڑیں بھی پی ٹی آئی ورکرز کا جزبہ کم نہ کرسکیں اور حالات اس وقت یہ صورت حال اختیار کرگئے ہیں کہ ڈی چوک پر پی ٹی آئی ورکز نے ڈیرے ڈال دیئے

دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وزارت داخلہ نے بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظرفوج طلب کرلی ہے اور فوج کو حکما کہا ہے کہ وہ حکومت کے احکامات کی روشنی میں اہم مقامات کی حفاظت کرے
گوجرانوالہ:پولیس حراست میں لیے گئے سابق وفاقی ویر حماد اظہر سے پولیس کے اعلی حکام کے مبینہ مذاکرات ہوچکے ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پولیس نے اسلام آباد پیش قدمی نہ کرنے کی شرط پر حماد اظہر اور کارکنوں کو چھوڑ دیا
دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حماد اظہر کو قافلے سمیت واپس لاہور کی طرف روانہ کردیا گیا،حماد اظہر اپنا قافلہ موٹروے سے اسلام آباد لے جانے کی کوشش کریں گے
وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے مظاہرین سپریم کورٹ کے فیصلے کو ڈھال بنا کراسلام آباد شہر میں داخل ہو رہے ہیں۔رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل اور ان کی ٹیم نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ پی ٹی آئی سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر حکومتی ٹیم نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کرنے تھے مگر اس سے پہلے ہی پی ٹی آئی نے ڈی چوک آنے کا اعلان کر دیا۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان ’حقیقی آزادی‘ لانگ مارچ کیلئے صوابی سے قافلے کی صورت میں اسلام آباد پہنچ گئے۔
عمران خان نے حسن ابدال میں کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ عوام کا سمندر لے کر ڈی چوک آرہے ہیں، میرے ساتھ عوام کا سمندر ڈی چوک آ رہا ہے ، حکومت جب تک الیکشن کی تاریخ نہیں دےگی وہاں سےنہیں جائیں گے۔
اسلام آباد:عمران خان سب رکاوٹیں روندتے ہوئے اسلام آباد میں داخل ہوگیاہے:سپریم کورٹ نوٹس لے:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیرمریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ عمران خان تمام وعدوں اور معاہدوں کو پامال کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچ چکا ہے ، عدالت عظمی اس بات کا نوٹس لے ،
مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے موثر انتظامی فیصلوں کے ذریعے آج تمام دن فتنہ اعظم عمران صاحب کی قیادت میں جس فسادی، مسلح جتھے کو قابو کئے رکھا، عوام کے جان واملاک کی حفاظت کی، وہ معزز سپریم کورٹ کے فیصلے کو ڈھال بناتے اور واضح عدالتی احکامات کو کھلم کھلا روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں
وفاقی حکومت نے موثر انتظامی فیصلوں کے ذریعے آج تمام دن فتنہ اعظم عمران صاحب کی قیادت میں جس فسادی، مسلح جتھے کو قابو کئے رکھا، عوام کے جان واملاک کی حفاظت کی، وہ معزز سپریم کورٹ کے فیصلے کو ڈھال بناتے اور واضح عدالتی احکامات کو کھلم کھلا روندتے ہوئ pic.twitter.com/tlDUfLI878
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) May 25, 2022
مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے سرکاری وسائل،مشینری، پولیس کے ساتھ وفاق پر حملہ آور ہے۔ عدالت عظمی اس توہین عدالت کا نوٹس لے کر اپنے حکم پر عمل درآمد کرائے تاکہ عوام کا جان ومال محفوظ یقینی ہوسکے۔ پُر امن فسادی جتھا پاکستان کو آزادی دلانے کیلئے چائینہ چوک پہ میٹرو بس کو آگ لگاتے ہوئے
پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کو وزیرآباد بائی پاس سے حراست میں لے لیا گیا، اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس نے وزیرآباد بائی پاس پرپاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کو گرفتار کرلیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ گوجرانوالہ سے قافلے میں شامل 50افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا،پپولیس کا کہنا ہے کہ ان تمام افراد کو تھانہ صدر وزیرآباد منتقل کر دیا گیا
لبرٹی چوک پر پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان پر شیلنگ شروع کردی،لاہور کے علاقے لبرٹی چوک پر پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے دوبارہ شیلنگ شروع کردی۔لاہور کے علاقے لبرٹی چوک پر پی ٹی آئی کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی جارہی ہے۔
لاہور کے علاقہ لبرٹی چوک میں پولیس مردوخواتین ، بچوں ، بوڑھوں سمیت پی ٹی آئی کے کارکنان پربہت زیادہ شیلنگ کررہی ہے #WhataCatch #AsadUmar #LongMarch #Faizabad #SheikhRasheed #DGISPR #Breaking #motorway #امپوڑٹڈ_حکومت_نامنظور #PictureoftheDay pic.twitter.com/ghAPBti8dE
— M@A@Tahir (@PakFirst_) May 25, 2022
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان کا پر امن احتجاج جاری تھا کہ اچانک پولیس نے شیلنگ شروع کی، لبرٹی چوک پر عوام کا جم غفیر موجود ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جو شیلنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے لبرٹی چوک پر لوگوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قیادت میں حکومت مخالف لانگ مارچ پنجاب کے شہر حسن ابدال پہنچ چکا ہے جس میں کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
حسن ابدال پہنچنے پر عمران خان نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا قافلہ ڈی چوک پہنچ رہا ہے، پولیس نےپُرامن احتجاج پر ظالمانہ شیلنگ کی ہے، عوام کا سمندر دیکھیں ہم ڈی چوک آ رہے ہیں۔
عمران خان نے کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ عوام کا سمندر ڈی چوک پہنچ رہا ہے، عوام کا سمندر دیکھ لیں، جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوگا تحریک جاری رہے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لانگ مارچ ڈی چوک نہ آنے کی ہدایت کر دی،وزیراعظم شہباز شریف کو عمران خان کے لانگ مارچ سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ہے۔پیش کردہ رپورٹ کے مطابق عمران خان کے لانگ مارچ میں کے پی اور جی بی پولیس بھی شامل ہے۔رپورٹ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اسلام آباد میں بھی سیکیورٹی مسلح ہے۔وزیر اعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کو آپس میں قریب نہ ہونے دیا جائے، لانگ مارچ میں شامل پولیس فورس اور سیکیورٹی اہلکاروں میں فاصلہ یقینی بنایا جائے۔
وزیر اعظم نے وزارت داخلہ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو کسی صورت ریڈ زون میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ’حقیقی آزادی مارچ‘ میں شرکت کے لئے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے عوام کی بڑی تعداد پارٹی قیادت کے ہمراہ قافلے کی صورت میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔
تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے لیے مختلف شہروں میں سڑکوں پر کنٹینرز اور ٹرک کھڑے کر دیے گئے ہیں جب کہ جی ٹی روڈ اور موٹر ویز پر رکاوٹیں لگا کر لاہور اور پشاور سے اسلام آباد جانے وا لے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت سے منسلک راولپنڈی میں میٹرو بس سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ، بس اڈے سمیت تعیلمی اداروں کو بند کر دیا گیا ہے اور جڑواں شہروں میں آج ہونے والے پرچے بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
حکومت نے اسلام آباد میں ریڈ زون کی سیکیورٹی کے لیے پولیس، رینجرز اور ایف سی طلب کر لی ہے، ریڈ زون جانے والے تمام علاقے سیل ہیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے بعد عمران خان اسلام آباد کی جانب مارچ کر رہے ہیں ۔ڈی چوک پر کارکنان پہنچ چکے ہیں سارا دن علاقوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس میں آنکھ مچولی جاری رہی ۔کارکںاں گرفتار ہوئے تو عدالتی حکم پر رہائی ہوئی۔ عمران خان پشاور سے صوابی آیے اور مارچ کی قیادت کرتے ہویے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں
عمران خان کی نجی ٹی وی سے گفتگو کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ مجھے جیسے ہی وہاں سے حکم ملا ۔مین وہاں سے رابطے میں ہوں ۔اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران خان کچھ کھا بھی رہے ہیں
عمران خان کو کون حکم دے رہا ہے عمران خان کس کے ساتھ رابطے میں ہیں ؟ اس پر چہ میگوئیاں جاری ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی نے دھرنے کے لیے محفوظ راستہ مانگا حکومت کی جانب سے انکار کر دیا گیا اور اسکے بعد پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کیا ہے ۔ بحرحال عمران خان کو کس کے حکم کا انتظار ہے وہ لانگ مارچ کس کے حکم پر کر رہے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا
پی ٹی آئی کا پہلا قافلہ ڈی چوک پہنچ گیا،اطلاعات کے مطابق آزادی مارچ کے سلسلے میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اعلان کردہ منزل ڈی چوک پر پی ٹی آئی کا پہلا قافلہ پہنچ گیا۔پولیس سے جھڑپوں، آنسوگیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور تمام رکاوٹیں عبور کر کے پی ٹی آئی کے کارکنان ڈی چوک پہنچ گئے۔ تحریک انصاف کی خواتین کارکنان کی بڑی تعداد بھی ڈی چوک پر عمران خان کے استقبال کے لیے موجود ہیں۔
راولپنڈی، اسلام آباد، آزادکشمیر اور ملک کے دیگر شہروں سے کپتان کی کال پر کارکنان کی ڈی چوک آمد کا سلسلہ جاری ہے جب کہ عمران خان کی زیر قیادت پی ٹی آئی کا بڑا قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔
آئی جی اسلام آباد اکبرناصرخان کا کہنا ہے کہ ریڈزون میں کسی کو آنےکی ہر گز اجازت نہیں کسی نے ریڈزون کےقریب آنےکی کوشش کی توسختی سے نمٹا جائےگا افسران کوہدایات کی گئی ہےکہ قوت کا استعمال نہ کریں مظاہرین سےبھی اپیل ہےکہ وہ پرامن رہیں۔
کراچی ایئرپورٹ کی حدود میں تاحال بھاری پولیس نفری تعینات ہے۔تفصیلات کے مطابق مرد پولیس اہلکاروں کے ساتھ خواتین پولیس اہلکاروں کی بھی بھاری نفری تاحال اسٹار گیٹ کے مقام پر موجود ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں یا کارکنان کو دیکھتے ہی فوری حراست کے پولیس کو احکامات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر بھی پولیس تعینات کردی گئی ہے، پولیس کے سادہ لباس اہلکار بھی تعینات ہیں، راجہ اظہر کو بھی پولیس کے سادہ لباس اہلکاروں نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے حراست میں لیا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے لیے مختلف شہروں میں سڑکوں پر کنٹینرز اور ٹرک کھڑے کر دیئے گئے ہیں جبکہ جی ٹی روڈ اور موٹر ویز پر رکاوٹیں لگا کر لاہور اور پشاور سے اسلام آباد جانے وا لے راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت سے منسلک راولپنڈی میں میٹرو بس سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ، بس اڈے سمیت تعیلمی اداروں کو بند کردیا گیا ہے اور جڑواں شہروں میں آج ہونے والے پرچے بھی ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔
کراچی میں ماں اپنے ایک ماہ کے بچے کو لے کر پی ٹی آئی کے احتجاج میں پہنچ گئی۔خاتون کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے نکلے ہیں آج گھر میں میں نہیں بیٹھ سکتے۔
واضح رہے کہ نمائش چورنگی پر پی ٹی آئی کے کارکنان نے دھرنا دے دیا ہے جبکہ پولیس کی جانب سے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں متعدد کارکنان زخمی ہوئے ہیں۔
https://twitter.com/abdulqa23811767/status/1529490560565772289
سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ کراچی میں ہمارے کارکنان پر پولیس نے براہ راست فائرنگ کررہی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے کارکنان زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس وردی میں پی پی کے جرائم پیشہ افراد نےاحتجاج پر حملہ کیا ہے ہمارے پرامن احتجاجی مظاہرے پر پولیس گردی جاری ہے۔
عمران اسماعیل نے کہا کہ سندھ کو فلسطین، کشمیرسمجھ کرپولیس حملہ آورہوئی ہے سندھ پولیس نے مغل بادشاہوں کےغلاموں کومات دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو جواب دیں آپ کے صوبے میں انسانی حقوق ہیں ہمارا ایک ایک کارکن اس فسطائیت حکومت کا مقابلہ کرے گا۔
لانگ مارچ میں پولیس کی دھکم پیل میں پاکستان تحریک انصاف کا کارکن جان کی بازی ہار گیا۔تفصیلات کے مطابق فیصل نامی کارکن کی موت مبینہ طور پر پولیس سے دھکم پیل میں راوی پل سے نیچے گرنے کے باعث ہوئی ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق کارکن کی شناخت فیصل کے نام سے ہوئی جو اقبال ٹاؤن کا رہائشیرہنما تحریک انصاف شفقت محمود کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیصل عباسی سابق کونسلر بھی تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ’حقیقی آزادی مارچ‘ میں شرکت کے لئے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے عوام کی بڑی تعداد پارٹی قیادت کے ہمراہ قافلے کی صورت میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔
ہم پنجاب میں داخل ہوچکے ہیں:بڑی تیزی سے منزل کی طرف بڑھ رہےہیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے سماجی راطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ہم پنجاب میں داخل ہوچکے ہیں اور انشاءاللہ اسلام آباد کی جانب بڑھیں گے۔
اپنے پیغام میں سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اس امپورٹڈ سرکار کی جانب سے جبر و فسطائیت کا کوئی بھی حربہ ہمیں ڈرا سکتا ہے اور نہ ہی ہمارے مارچ کا رستہ روک سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اٹک کے مقام پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جتنی بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں انکو ہٹا کر اپنی منزل پر پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کا دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک نئے انتخابات کا اعلان نہیں ہو جاتا، نئے انتخابات کے اعلان تک ہم ڈی چوک پر بیٹھیں رہیں گے۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت کسی
-

پاکستان میں پانی کی کمی ،سخت گرمی ،درجہ حرارت میں اضافہ خشک سالی کے خطرات منڈلانے لگے
لندن :پانی کی کمی پاکستان میں خشک سالی کے خطرات منڈلانے لگے،اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہیٹ ویو اب معمول بن جائے گی، گلوبل وارمنگ کی موجودہ سطح نے گرمی کی ان لہروں کے امکان کو 30 گنا بڑھا دیا ہے۔
بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان میں حالیہ عرصے میں شدید گرمی کی لہر ممکنہ طور پر موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے اور خطے کے مستقبل کی عکاس ہے۔
ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن گروپ نے تاریخی موسمیاتی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جس سے پتہ چلا کہ وقت سے قبل اور طویل گرمی کی لہریں جو بڑے جغرافیائی علاقے کو متاثر کرتی ہیں، پہلے صدی میں ایک بار ہونے والے واقعات تھے۔ لیکن گلوبل وارمنگ کی موجودہ سطح نے گرمی کی ان لہروں کے امکان کو 30 گنا بڑھا دیا ہے۔
اس تحقیق میں حصہ لینے والی ممبئی کی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے منسلک سائنسدان ارپیتا مونڈل نے کہا کہ اگر عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے دو ڈگری سیلسیس زیادہ بڑھ جاتا ہے، تو اس طرح کی گرمی کی لہریں ایک صدی میں دو بار اور ہر پانچ سال میں ایک بار ہو سکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ چیزیں اب معمول بن جائیں گی۔
دوسری جانب گزشتہ ہفتے برطانیہ کے موسمیاتی محکمے کی جانب سے شائع کی گئی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گرمی کی لہر یا ہیٹ ویو موسمیاتی تبدیلی کا ہی نتیجہ ہے اور یہ اسی شدت کے ساتھ ہر 3 سال بعد آئے گی۔
ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن گروپ کی تحقیق قدرے مختلف ہے جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ موسمیاتی تبدیلی سے گرمی کی لہر کا دورانیہ کتنا ہوگا اور کس خطے پر اثرات ہوں گے۔
موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے سائنسدان فریڈرک اوٹو جو تحقیق کا حصہ رہے، کا کہنا تھا کہ اصل نتائج ہماری تحقیق اور برطانوی محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے نتائج کے درمیان کہیں ہیں کہ گرمی کی اس لہر میں موسمیاتی تبدیلی کا کتنا کردار ہے۔
بھارت میں گزشتہ 120 برس میں مارچ کا مہینہ گرم ترین رہا جبکہ اپریل میں پاکستان اور انڈیا کے کئی حصوں میں گرمی کی شدت نے ریکارڈ قائم کیے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہیٹ ویو سے پاکستان کے شمال میں گلیشیئر پھٹ گیا جس سے دریا کے کنارے موجود بعض علاقے متاثر ہوئے جبکہ بھارت میں فصل متاثر ہوئی اور حکومت نے گندم کی برآمد پر پابندی عائد کردی۔
-

صبا قمر کیوں ڈرتی تھیں شادی سے
اداکارہ صبا قمر کا حال ہی میں ایک انٹرویو ہوا اس میں انہوں نے بتایا کہ وہ شادی سے ڈرتی تھیں جب اس ڈر کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ رشتے ٹوٹ جانے سے ڈر لگتا ہےزندگی میں عجیب قسم کے حادثات ہوتے ہیں بس اسی وجہ سے شادی سے ڈرتی تھی لیکن اب کی صبا کو ڈر نہیں لگتا،جیسے ہی اچھا انسان ملا اور اللہ کو منظور ہوا تو یقینا شادی کے بندھن میںبندھ جائوں گی. صبا قمر نے اس انٹرویو میں مزید کہا کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ میرا کسی سے تعلق خراب ہوجائیگا مجھے جو جہاں جب ٹھیک لگتا ہے بول دیتی ہوں دل میں کچھ نہیں رکھ سکتی اگر کچھ برا لگ رہا ہے تو کہے بغیر نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ نعمان اعجاز کیساتھ کام کرنا انہیں ہمیشہ ہی بہت اچھا لگتا ہے، انڈین اداکار عرفان خان کیساتھ کام کرنے کی خواہش تھی وہ بھی پوری ہو گئی۔ واضح رہے کہ صبا قمر کی ماضی قریب میں ویب سیریز مسز اینڈ مسٹر شمیم آئی جس میں وہ نعمان اعجاز کے ساتھ نظر آئیں، اس کے بعد عید پر ان کی فلم "گھبرانا نہیں ہے” میں سید جبران اور زاہد احد کے ساتھ نظر آئیں اور تین جون کو صبا ہمیں "کملی” کے روپ میں نظر آئیں گی.صبا کو ان کے پرستار ہر روپ میں بے حد پسند کرتے ہیں.
-

فساد مارچ کا حصہ نہ بننے پر پنجاب کے عوام کا مشکور ہوں،رانا ثناءاللہ
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور مریم اورنگزیب پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اس وقت مکمل طور پر پرامن اور پر سکون ہے۔انہوں نے کہا کہ بتی چوک پر دو، ڈھائی سو افراد پولیس سے آنکھ مچولی کے بعد واپس چلے گئے، فتنہ فساد مارچ کا حصہ نہ بننے پر پنجاب کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ یاسمین راشد اور پی ٹی آئی کی دیگر خواتین کو کسی نے گرفتار نہیں کیا۔لانگ مارچ کے نام پر فتنہ اور فساد مارچ کیا جا رہا ہے ، یہ قوم کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں لاہور میں پی ٹی آئی کارکنوں نے خود کو خود ساختہ طور پر گرفتار کروایا ، خیبر پختونخوا کے لانگ مارچ میں شامل لوگ اسلحہ سے لیس ہیں ، عمران خان قوم کا گمراہ کرنا چاہتے ہیں،عمران خان خودہیلی کاپٹر میں وہاں پہنچے ، عمران خان کو کوئی شرم ہے تو مارچ کو واپس لے جانا چاہئے ، مران خان قوم کو گمراہ اور تقسیم کرنا چاہتےہیں ، آج 3 بجے اسلام آباد میں جلسے کا عمران نے اعلان کیا تھا.
وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ علی امین گنڈاپور سرکاری سرپرستی میں وفاق پر چڑھائی کرنے آرہےہیں، صوبائی وسائل کے ساتھ وفاق پر چڑھائی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔اُن کا کہنا تھاکہ عمران خان نے صوابی میں خطاب کیا تو10 سے 11 ہزار لوگ موجود تھے، پی ٹی آئی چیئرمین چلے تو 5 سے 6ہزار ساتھ تھے۔رانا ثنا ء اللہ نے یہ بھی کہا کہ کوئی احساس شرمندگی ہے تو وہیں عمران خان مارچ ختم کردیتے، اپنے اوپر بھی افسوس ہے کہ جھوٹ پر یقین کرکے انتظامات کیے۔انہوں نے کہا کہ یہی کچھ تھا تو ہمیں بھی اتنے انتظامات کی ضرورت نہیں تھی،تکلیف اٹھانے والے عوام سے معذرت خواہ ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عوامی سیلاب، لاکھوں کے آنے کے دعوے کیے جارہے تھے، 20لاکھ تو کیا 20 کارکن بھی سری نگر ہائی وے نہیں پہنچ سکے۔
سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے ملک کی کشیدہ صورتحال پرکہا ہے کہ ملک کے اندر جو موجودہ حالات ہیں اس طرح کے حالات پہلے کبھی نہیں دیکھے،حکومتی طاقتیں اور سیاسی جماعتیں جس طرف جا رہی ہیں اس سے ملک میں افراتفری اور لاقانونیت بڑھے گی، ایسی سنگین صورتحال میں پاکستان کے دو بڑے سلامتی کے ضامن ادارے عدلیہ اور فوج کو مل بیٹھ کران مسائل کا مستقل حل نکالنا چاہئے
چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی حالات انتہائی سنگین ہو گئے ہیں ،بڑھتی قیمتوں سے عام آدمی کا جینا تو پہلے ہی مشکل ہے یہ نہ ہو خدانخواستہ مرنا بھی مشکل ہو جائے.سارا ملک بند ہونے کی وجہ سے اشیاء خورونوش کی شدید کمی کا خدشہ ہے،آمدورفت کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہے، ایمبولینس تک کو راستہ میسر نہیں ،لوگ جنازوں کو لے کر پیدل جانے پر مجبور ہیں
چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی صورتحال کو غور سے دیکھا جا رہا ہے،سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تاریخ دوبارہ نہ دہرائی جائے ،پولیس کو چاہئے کہ وہ شیلنگ بند کرے،شیلنگ کی وجہ سے گلیوں، محلوں میں رہنے والے بھی اذیت کا شکار ہیں ،پولیس عام آدمی کو تحفظ اور رکاوٹوں کی وجہ سے ایمبولینس اور جنازوں کو نکالنے کا راستہ فراہم کرے ، جو بھی قافلے گزریں یا جائیں گجرات کے پارٹی رہنما ان کیلئے پانی اور کھانے کا انتظام کریں.
دوسر طرف مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری اور سینئر رہنما طلال چوہدری نے ماڈل ٹائون لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب سے شرپسند فسادی حکومت کا خاتمہ ہوا تب سے فاشسٹ ذہنی مریض لیڈر کا غرور پاکستان سے بڑا ہے.
عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ فساد مارچ کےاعلان کے بعد فسادی گروپ کا تماشا صبح سے جاری ہے، بتی چوک سمیت ارد گرد علاقوں کے علاوہ پورا لاہور امن سکون سے اپنا کام کررہاہے، تمام پیٹرول پمپس کھلے ہیں زندگی جاری ہے،عمران خان کو پنجاب نے مسترد کر دیاہے،عمران خان سرکاری ہیلی کاپٹر کااستعمال کررہے ہیں، کیا اس پر امن جماعت عصمت جونیجو کو عصمت کی دہلیز پر نہیں پہنچایا پی ٹی ؤی پر حملہ نہیں کیا،سول نافرمانی کے پی سے یلغار وفاق کو لڑوانے کی گندی سیاست عمران خان پہلے بھی کر چکا ہے.
عظمی بخاری کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت و پارٹی قیادت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان عمران خان کے اقدامات کو آئین شکنی قرار دے چکی ہے اس کے باوجود آئین شکنی کے مقدمات کیوں درج نہ ہوئے۔ میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں تحریک انتشار پر پابندی لگائی جائے کیونکہ یہ آئین شکن جماعت ہے، پارلیمنٹ جیسے مقدس ادارے پر حملہ کرنے والے کو صدر پاکستان بنا دیا گیا اگر ان کے خلاف کارروائی ہوئی تو صدر نہ ہوتے، مطالبہ کرتی ہوں عمران خان کی آئین شکنی کو نہ بھولا جائے .
عظمی بخاری نے کہا کہ کیا ملک میں آئین عمرانیات چلے گی کیسے سکھایاجائے گا مرضی کے فیصلے کیسے لینے ہیں ،چیف جسٹس اور ملک کا وزیر اعظم نہیں بنائیں اسے سکون نہیں ملے گا ملک کو آگ لگا دے گا،عمران خان جیسے فسادی کب تک ملک کو نقصان پہنچائے گا، جب آئی ایم ایف سے بات ہورہی ہے تو پھر فسادئ گروپ ہڑتال پر نکلا ہوا ہے، اگر خونی و فسادی مارچ ہوگا تو وفاق سے مطالبہ ہے کہ کیا اس جنونیوں کے سر پر ملک کو چھوڑ دینا چاہئیے، عمران خان نے جہاد کا لفظ اسےعمال کیا ہے کوئی جماعت یا گروہ جہاد کا اعلان نہیں کرسکتی ،ٹی ایل پی باہر نکلی تو آج عمران خان کی فاشسزم کیوں برداشت کیاجارہاہے.
عظمی بخاری نے کہا کہ ذہنی جنونیوں کی جماعت پر پابندی کیوں نہیں لگنی چاہئیے،عمران خان نے تمام اداروں کو دھمکیاں دیں میری لائن پر چلو ، ملک کو تاقیامت رہنا ہے اس ملک ہی حفاظت کرنی ہے،آئین پاکستان کی پاسداری کا حلف لیا ہے حکومت کے پیچھے سب اداروں کو کھڑا ہونا ہوگا،ہمیں ترقی و خوشحالی چاہئیے مقدر عمران خان جیسے لیڈر نہیں نوازشریف اور شہباز شریف جیسے لوگ اور ترقی ہے۔
سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے سماجی راطے کی ویب سائیٹ پر ٹویٹ کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کو شریف گینگ نے میدان جنگ بنا دیا،شریف گینگ عوام پر پولیس کریک ڈاؤن،اندھا دھند آنسو گیس شیلنگ، ظالمانہ تشدد، راستوں، انٹرنیٹ اور موبائل فون کی بندش سے وہ ہاری جنگ جیت نہیں سکتا، جیت عوام کا مقدر اور شکست شریفوں کا نصیب ہے.
پنجاب کو شریف گینگ نے میدان جنگ بنا دیا۔ مگر عوام پر پولیس کریک ڈاؤن،اندھا دھند آنسو گیس شیلنگ، ظالمانہ تشدد، راستوں، انٹرنیٹ اور موبائل فون کی بندش سے وہ ہاری جنگ جیت نہیں سکتا۔
جیت عوام کا مقدر۔۔شکست شریفوں کا نصیب
#حقیقی_آزادی_مارچ— Moonis Elahi (@MoonisElahi6) May 25, 2022
-

لانگ مارچ ، پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کہیں نظرنہیں آ رہی:مبشرلقمان
لاہور:لانگ مارچ کے لیے کارکنان اسلام آباد پہنچنا چاہتے ہیں لیکن پی ٹی آئی مقامی قیادت کہیں نظرنہیں آرہی:اطلاعات کے مطابق سینییئر صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پچھلی بار ہم نے پاکستان پیپلزپارٹی کو لانگ مارچ کرتے دیکھا۔ پارٹی کی پوری قیادت کارکنوں کے ساتھ چلتی پھرتی دیکھ سکتی تھی اور ہر شہر میں جلسے ہوتے تھے کبھی کبھی ایک سے زیادہ۔ بلاول بھٹو خود کنٹینر پر موجود تھے اور ریلی میں نہیں گئے۔
Last time we saw #PPP carry out a long march. One could see the entire leadership of the party on the move with workers and there were Jalsas in each city sometimes even more than one. Bilawal Bhutto himself was present on container and not flying in to the rally
— Mubasher Lucman (@mubasherlucman) May 25, 2022
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پچھلے لانگ مارچ اور اس میں فرق یہ ہے کہ اس وقت پوری قیادت ہجوم کے ساتھ تھی اور اس بار وہ صرف سوشل میڈیا پر اپنا قد بڑھا رہے تھے۔ سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے لیے اچھا ہے لیکن دھرنا یا مارچ نہیں۔
Difference between the last long march of #PTI and this one is that entire leadership was with the crowds then and this time they were simply gaining stature over social media. Social media is good for propaganda but not a Dharna or March.
— Mubasher Lucman (@mubasherlucman) May 25, 2022
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ابھی تک پی ٹی آئی کی کوریج پر پابندی لگانے کے لیے پیمرا کو حکما نہیں کہا گیا اور نہ ہی PTA نے سوشل میڈیا کو بلیک آؤٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے برعکس جو سابق حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ کیا۔ پھر یہ پرامن احتجاج کو کنٹرول کرنے کا ایک مکمل ظالمانہ طریقہ تھا۔
Government has still not used #PEMRA to ban coverage of #PTI nor the PTA has directed a blackout of social media. Unlike what #PTI government did to #TLP (Tehreek E Labaik). Then it was a total draconian method of controlling the peaceful protest.
— Mubasher Lucman (@mubasherlucman) May 25, 2022
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پارٹی کی پوری قیادت روپوش ہے اور اپنے حامیوں کے ساتھ نہیں۔ صرف مٹھی بھر ہی ادھر ادھر بھاگتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ واضح طور پر انہوں نے فرض کیا کہ لوگ ہمیشہ کی طرح پہنچیں گے اور وہ اپنی ٹی وی اسکرینوں پر چپکے ہوئے ہیں یا کون جانتا ہے کہ کیا کر رہے ہیں لیکن وہ سڑکوں پر نہیں ہیں۔
Entire #PTI party leadership is in hiding and not with its supporters. Only a handful can be seen running around. Clearly they assumed people will reach as always and they are glued to their TV screens or who knows doing what but they are not on streets
— Mubasher Lucman (@mubasherlucman) May 25, 2022
پی ٹی آئی نے کراچی اور پنجاب کو یکسر نظر انداز کیا۔ ان کے لانگ مارچ کی امیدیں اب صرف اور صرف کے پی کے اور وہاں کے ہجوم پر ہیں۔ اس بار پارٹی محاذ پر منصوبہ بندی اور متحرک ہونے کا فقدان ہے۔ لوگ باہر آنا چاہتے ہیں لیکن پارٹی نے لانگ مارچ کے لیے مؤثر طریقے سے اپنے کارکنوں کو متحرک نہیں کیا۔
#PTI totally ignored Karachi and Punjab. Their long march hopes are now solely on KPk and crowds from there. This time around there is lack of planning and mobilisation on the party front. People want to come out but the party has not mobilised its cadres effectively
— Mubasher Lucman (@mubasherlucman) May 25, 2022
-

آزادی مارچ میں مسلح جتھے،باغی ٹی وی تصاویر منظر عام پر لے آیا
پاکستان تحریک انصاف کے مارچ میں مسلح جتھوں کی موجودگی کا انکشاف ہواہے،باغی ٹی وی پی ٹی آئی کے مارچ میں شامل مسلح کارکنوں کی تصاویر منظر عام پر لے آیا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصٍاف کے آزادی مارچ میں کئی کارکن جدید اسلحہ سے لیس ہیں. باغی ٹی وی کو موصول تصاویر میں واضع طور پر دیکھا جا سکتاہے کہ کارکنوں نے مختلف مقامات پر ہاتھوں میں اسلحہ اٹھا رکھا ہے.
معروف اینکرپرسن مبشر لقمان نے کزشتہ روز اپنے پروگرام کھرا سچ میں نشان دہی کی تھی کہ آزادی مارچ میں شرکت کرنے والوں میں مسلح جتھے بھی شامل کئے جا رہے ہیں. جس کے بعد لاہور میں پولیس نےپی ٹی آئی کے رہنماؤں بجاش نیازی اور زبیر نیازی کے گھروں پر چھاپے مارے، یہ دونوں رہنما تو پولیس کے ہتھے نہ چڑھے تاہم ان کے گھروں سے بھاری مقدار میں برآمد کر لیا گیا۔

سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کے مطابق چھاپوں کے دوران پی ٹی آئی رہنما بجاش نیازی اور زبیر نیازی گرفتار نہ ہو سکے تاہم ان کےگھروں اور ڈیروں سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا۔ڈی آئی جی آپریشنز سہیل چوہدری کے مطابق پکڑے گئے اسلحے میں 13 ایس ایم جی رائفل، 3پستول، 106 میگزین اور سیکڑوں گولیوں کے 50 ڈبے شامل ہیں۔

تحریک انصاف کا لانگ مارچ شریک ایک گاڑی سے پولیس نے داتا دربارکے قریب پسٹل اور گولیاں برآمد کر لیں اور گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتارکر لیا ہے .
https://twitter.com/RanaRiz37776826/status/1529393836904132608
-

اگر اسلام آباد میں سڑکیں آپ نے بلاک کر دیں گے تو کس کا نقصان ہے:نصراللہ ملک
لاہور:اگر اسلام آباد میں سڑکیں آپ نے بلاک کر دیں گے تو کس کا نقصان ہے :پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال کے حوالے سے سینئر صحافیوں کا اس حوالے سے اہم تجزیے تبصرے جاری ہیں، نصراللہ ملک کہتے ہیں کہ اگرمارچ کی صورت میں اگر اسلام آباد میں سڑکیں آپ نے بلاک کر دیں گے تو کس کا نقصان ہے
نصراللہ ملک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگران سیاسی لیڈروں سے پروٹوکول واپس لے لیا جائے تو ان کا کیا حال ہوگا، یہ آج یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس احتجاج کو کرش کردیں گے تو یہ تو یاد رکھیں کہ ان کے دور میں کیا کچھ نہیں ہوا ، ان کا کہنا تھاکہ ان سیاسی لیڈروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں
اگر اسلام آباد میں سڑکیں آپ نے بلاک کر دیں گے تو کس کا نقصان ہے :نصراللہ ملک #PNN #NEWS @NasrullahMalik1 #INAYATULHAQSHAH@mubasherlucman #KHARASUCH #ISLAMABAD pic.twitter.com/DwDtk6uelf
— PNN News (@pnnnewspk) May 24, 2022
نصراللہ ملک نے کہا کہ آصف علی زرداری کے ساتھ ان حکمرانوں نے کیا بُرا سلوک نہیں کیا، فاروق ستار کے ساتھ قصور میں کیا سلوک ہوا ہرکوئی جانتاہے ، ان کا کہنا تھا کہ ا یسے نہیں ہونا چاہیے
نصراللہ ملک نے مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ اگریہ کشمیرہائی وے بلاک کرتے ہیں تو بلا شبہ ملک کا نقصان ہوگا اورہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے ، انہوں نے عمران خان کی پریس کانفرنس کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ رویے بدلنے چاہیں اور جمہوری انداز سے اپنا احتجاج کریں
-

وزیرخارجہ کی ڈیوس میں رومانیہ کے وزیرخارجہ سے ملاقات
وزیرخارجہ کی ڈیوس میں رومانیہ کے وزیرخارجہ سے ملاقات،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ڈیوس میں رومانیہ کے وزیرخارجہ سے ملاقات کی ہے
وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان ملک میں مالی شمولیت کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نیشنل ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سٹریٹیجی کے حصے کے طور پر راست نام کی فوری ڈیجیٹل مائیکرو پیمنٹ گیٹ وے کو کامیابی کے ساتھ فعال کیا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ملکی معیشت میں خواتین کی شرکت کو آسان بنانا ہے۔ وزیر خارجہ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ملک میں بینکنگ خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے روشن ڈیجیٹل اکائونٹ اقدام کے ذریعے پاکستان کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔
اس سے پہلے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر فن لینڈ کے وزیر خارجہ پیکا اولاوا ہاویستو سے منگل کو ڈیووس میں ملاقات کی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے فن لینڈ کے ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے فن لینڈ کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسلام آباد میں فن لینڈ کا سفارت خانہ دوبارہ جلد کھول دیا جائے گا
-

سپریم کورٹ بارسمیت ملک بھر کی بارکونسل حکومتی رویے کے خلاف میدان میں آگئیں
اسلام آباد :سپریم کورٹ بارسمیت ملک بھر کی بارکونسل حکومتی رویے کے خلاف میدان میں آگئیں ،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ بارسمیت پاکستان کی تمام بڑی بارکونسلوں نے حکومت کی طرف سے وکلا کے خلاف پکڑ دھکڑ اورپاکستان بھر میں غیرقانونی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے خلاف احتجاج کیا ہے،

پاکستان بارکونسل نے وکلاء کے گھروں میں پولیس چھاپوں کی مذمت کی۔ پاکستان بار کونسل نے خبردار کیا کہ اگر گرفتاریاں نہ رکیں تو وکلا کے شدید ردعمل کیلئے تیار رہیں۔
چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بار پیر مسعود چشتی نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ فوری طور پر گرفتار وکلاء کو رہا کریں۔ اگر وکلاء کی گرفتاریاں نہ رکیں تو پھر وکلاء برادری کا رد عمل آئے گا۔
پیر مسعود چشتی کا کہنا تھا کہ بابر اعوان کے گھر کے باہر پولیس کو فوری ہٹایا جائے۔ وکلاء نے عدالتوں میں پیش ہونا تھا مگر گرفتاریوں کی وجہ وہ عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔
چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بار کونسل پیرمسعود چشتی نے مزید کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا احتجاج کرنا اس کا آئینی حق ہے اسے اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن نے تحریک انصاف کالانگ مارچ روکنے کیلئے کی گئی راستوں کی بندش اور چھاپوں کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے وکلا کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ راستوں کی بندش سے عدالتوں، اسپتالوں اور دفاتر جانے والے شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس وکلا کے گھروں پر پولیس چھاپے مار رہی ہے جبکہ سیاسی ورکرز اور اراکین اسمبلی کو غیر قانونی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
درخواست گزاران نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ حکومت اور اداروں کو تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دے اور ریاستی اداروں کو کوئی بھی غیرآئینی قدم اٹھانے سے روکا جائے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی گرسرمیاں اور احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے، حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سینئر وکیل بابر اعوان، فواد چوہدری کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنے اور وکلا کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
