Baaghi TV

Author: +9251

  • عمران خان کی حراست کے دوران دوسرے کیس میں گرفتاری درست. وزیر داخلہ

    عمران خان کی حراست کے دوران دوسرے کیس میں گرفتاری درست. وزیر داخلہ

    نگران وزیر داخلہ سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی حراست کے دوران دوسرے کیس میں گرفتاری درست ہے جبکہ نجی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر داخلہ سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت جڑانوالہ واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، واقعے میں ملوث 150 سے زیادہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، واقعے کے ماسٹر مائنڈ کے قریب پہنچ چکے ہیں جلد گرفتار کریں گے، واقعے میں بیرونی سازش کا کہہ کر بری الزمہ نہیں ہو سکتے ہیں۔

    جبکہ نگران وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی ) کے اجتماع پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی، حملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں ، میرا خیال ہے کسی اور نے حملہ کیا، سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹی ٹی پی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے، ماضی میں ان کے ساتھ مذاکرات کے نام پر وقت ضائع کیا گیا، لڑائی لڑیں گے، آپریشن کریں گے، انہیں بلوں میں جا کر ماریں گے، پاکستان میں داعش کی کوئی آرگنائز موجودگی نہیں، افغانستان کے مختلف علاقوں میں داعش موجود ہے۔

    علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو دفاعی اداروں پر حملے کی پلاننگ چیئرمین پی ٹی آئی نے کی، 9 مئی پاکستان، فوج اور اداروں کیخلاف سازش اور تباہ کن منصوبہ تھا، دفاعی اداروں کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا گیا تھا، واقعات میں ملوث ملزم یا ملزمہ دونوں کو قانون کی نظرمیں ایک ہی طرح ڈیل کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت پر پابندی کے حوالے سے ہمارے سامنے کوئی چیزنہیں آئی، محسوس ہوتا ہے عدالتیں چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں کام کر رہی ہیں، لگتا ہے چیئرمین پی ٹی آئی عدالتوں کے پسندیدہ شخص ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کیخلاف مہم پر جےآئی ٹی بنادی ہے، مہم چلانے والوں کیخلاف تحقیقات کریں گے، موجودہ حالات سے نکلنے کا پلان موجودہے، انتخابات کرانے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، شفاف الیکشن کیلئے حلقہ بندیاں ضروری ہیں۔

  • پی ٹی آئی کےخلاف کوئی جعلی کیس نہیں بنایا گیا.عطاء تارڑ

    پی ٹی آئی کےخلاف کوئی جعلی کیس نہیں بنایا گیا.عطاء تارڑ

    مسلم لیگ ( نواز) کے رہنما عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ایمان مزاری ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ عمران خان پر سائفر، توشہ خانہ، فارن فنڈنگ کا ایک مقدمہ درج نہیں ہوسکتا، مقدمات الگ الگ ہی ہوسکتے ہیں جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے سائفر کیس میں عمران خان کی گرفتاری سے متعلق سوال پر کہا کہ کیا قتل کے مجرم کو گرفتار نہ کیا جائے، ایک کیس میں ملزم گرفتار ہو تو دوسرے میں کیوں نہیں ہوسکتا۔

    جبکہ لیگی رہنما نے مزید کہا کہ 10 قتل کے واقعات کے 10 مختلف مقدمات درج ہوں گے، سائفر، توشہ خانہ، فارن فنڈنگ کا ایک مقدمہ درج نہیں ہوسکتا، ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے جلسے میں سائفر لہرایا، انہوں نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات خراب کئے، عمران خان کا 16 اگست کو 30 اگست تک جوڈیشل ریمانڈ منظور ہوا۔

    علاوہ ازیں عطا تارڑ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کےخلاف کوئی جعلی کیس نہیں بنایا گیا حالانکہ انھوں نے رانا ثنا پر منشیات کا جھوٹا کیس بنایا تھا جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان لوگوں کو ایمانداری کے لیکچر دیا کرتے تھے، ان کی اپنی توشہ خانہ کی چوری پکڑی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    تاہم خیال رہے کہ شیریں مزاری کی صاحبزادی سے متعلق عطا تارڑ نے کہا کہ ”ایمان مزاری اداروں کےخلاف نعرے لگاتی ہیں، ایمان مزاری ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، انھیں جلسوں کیلئے فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے“۔

  • الیکشن کمیشن کی چیف سیکرٹری کے پی کو عہدے سے فوری ہٹانے کی ہدایت

    الیکشن کمیشن کی چیف سیکرٹری کے پی کو عہدے سے فوری ہٹانے کی ہدایت

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چودھری کو عہدے سے فوری ہٹانے کی ہدایت کردی ہے جبکہ سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی جانب سے سیکرٹری اسٹبلشمنٹ کو ارسال خط میں کہا گیا ہے کہ آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کیلئے غیر جانبدار افسر کاہونا ضروری ہے.

    جبکہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا الیکشن کمیشن کو مطلوبہ مدد فراہم کرنے اور اپنے فرائض غیرجانبداری سے انجام دینے سے قاصر ہیں، خط میں کہا گیا کہ ندیم سلم چودھری کو فوری طورپر کسی موزوں اورتجربہ کار افسر سے تبدیل کیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو غیرجانبداری اور مطلوبہ کارکردگی کے ساتھ چلانے کے اہل افسر کو چیف سیکرٹری تعینات کیا جائے۔ اور ہمیں رپورٹ کیا جائے،

  • قمر زمان کائرہ نے سستی بجلی فراہم کرنے کا آسان حل بتا دیا

    قمر زمان کائرہ نے سستی بجلی فراہم کرنے کا آسان حل بتا دیا

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کا آسان حل بتا دیا ہے جبکہ انہوں نے کہا ہے کہ آج سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کے پاس سرپلس ہے نئے نوٹ چھاپیں گے تو مہنگائی مزید بڑھ جائے گی، اگر ملک میں آئی پی پیز نہ لگے ہوتے تو کیسے بجلی پیدا ہوتی ہے۔

    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تو اس وقت کہا تھا کہ پاکستان کے اندر تیل سے نہیں کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا ہونی چاہئے ہماری پالیسی کی مخالفت کی گئی، کوئلے کے ذریعے بجلی سستی بن سکتی، ضیا اور مشرف کے دور کے بعد ملک میں بجلی کے کوئی کارخانے نہیں لگے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    تاہم رہنما پیپلز پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ سی سی آئی میں تو صرف مردم شماری کی منظوری تھی الیکشن کے التوا کا مسئلہ نہیں تھا، نوے روز میں الیکشن ہونے چاہئیں جبکہ خیال رہے کہ آئے روز بڑھتی مہنگائی کے علاوہ پاکستانی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کے بلوں میں شدید اضافہ ہے۔ ’آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ‘ کی عملی تفسیر بنے عوام یہ تو جانتے ہیں کہ ان کے زیر استعمال بجلی کے فی یونٹ کی قیمت کیا ہے لیکن خال خال کو ہی اس بات کا علم ہوگا کہ اس ’بل‘ کی مد میں ان سے کون کون سے ٹیکس لیے جارہے ہیں۔

    بجلی کے بل کا تعین صارف کے استعمال شدہ یونٹس کی بنیاد پرکیا جاتا ہے یعنی جتنے یونٹ استعمال کریں گے اتنا ہی لمبا چوڑا بل آئے گا جبکہ اس کے علاوہ بجلی کے بل کا ایک حصہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کو وجب الادا رقم ہوتی ہے ، دوسرا براہ راست حکومتی محصولات ہیں جوصارف سے وصول کیے جاتے ہیں۔

    اس کے علاوہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بھی ہے جو بجلی پیدا کرنے کے ذرائع مثلاً کوئلہ، فرنس آئل یا گیس کی لاگت پرمنحصرہوتی ہے۔ اس کا تخمینہ ہرماہ لگائے جانے کے بعد رقم صارف سے وصول کی جاتی ہے، اس ایڈجسٹمنٹ میں روپے کی قدربھی بڑی اہمیت رکھتی ہے جو دن بدن گھٹتی چلی جارہی ہے جبکہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے علاوہ گردشی قرضہ کم کرنے کیلئے ’فنانسنگ کاسٹ سرچارج‘ کی مد میں فی یونٹ 43 پیسے صارفین وصول کیے جاتے ہیں۔

    علاوہ ازیں کراچی کے صارفین کو بتاتے چلیں کہ کے الیکٹرک یہ رقم ’پی ایچ ایل ہولڈنگ‘ کے نام پروصول کرتی ہے، اس طرح سے کوارٹرلی (ہر3 ماہ بعد )ٹیرف ایڈجسٹمنٹ یا ڈی ایم سی کی مد میں صارفین کی جیب پر مزید ڈاکا اس وقت ڈالا جاتا ہے جب حکومت بجلی کی قیمت میں رد و بدل کرے۔

    مزید چند اخراجات یا ٹیکس براہ راست حکومت عائد کرتی ہے جن کا بجلی فراہم کرنے والی کمپنی سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا۔ مثلاً بجلی بل میں سب سے زیادہ ٹیکس 18 فیصد ٹیکس جنرل سیلزٹیکس(جی ایس ٹی) کی مد میں وصول کیاجاتا ہے، یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر صارف ٹیکس فائلرنہیں ہے تو پھربجلی بل میں انکم پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے گا جبکہ واضح رہے کہ انکم ٹیکس 25 ہزار روپے سے زائد بل پرعائد کیا جاتا ہے جو مجموعی بل کا ساڑھے سات فیصد ہوتا ہے۔

  • عمران خان کیخلاف سائفر کیس کی عدالت کل اٹک جیل میں لگے گی

    عمران خان کیخلاف سائفر کیس کی عدالت کل اٹک جیل میں لگے گی

    عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی عدالت کل اسلام آباد کچہری کے بجائے اٹک جیل میں لگے گی جس میں آفیشل سیکرٹ عدالت کے جج کو اٹک جیل لے جایا جائے گا اور نگران وزارت قانون و انصاف نے این او سی جاری کردیا گیا ہے. جبکہ خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی تین سال قید کی سزا اور جرمانے کو معطل کر دیا تھا، لیکن رہائی کیلئے انہیں ابھی بھی انتظار کرنا ہوگا کیونکہ سابق وزیر اعظم کے خلاف متعدد دیگر مقدمات بھی موجود ہیں۔

    عدالتی فیصلہ آنے کے فوری بعد یہ بحث چھڑ گئی کہ عمران خان مضبوط دلائل کی وجہ سے اس جج سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جسے ان کی اپنی جماعت نے بدنام کیا یا عدالتوں نے انہیں بچایا لیکن وجہ ان میں سے کوئی بھی نہیں، اصل وجہ یہ ہے کہ عمران کی سزا بہت مختصر تھی اور عمران خان کی سزا معطلی پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری کا تحریری حکم نامہ نو صفحات پر مشتمل ہے اور کارروائی میں جو کچھ ہوا اس کا خلاصہ ہے۔

    جبکہ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے ٹرائل کورٹ کے توشہ خانہ فیصلے میں کئی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرانے کے 120 دنوں کے اندر شکایات درج کی جا سکتی ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن نے ایسا کرنے میں بہت تاخیر کی۔

    جبکہ اس میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ درخواست منتخب شخص کے ذریعے فائل نہیں کی گئی تھی اور لطیف کھوسہ نے استدلال کیا کہ دائرہ اختیار کے مسائل کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کو مقدمے کے فوائد پر بات کرنے سے پہلے کرنا چاہیے تھا اور آخر میں لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ عمران کو اپنے دفاع کا مناسب موقع نہیں دیا گیا کیونکہ ان کے گواہوں پر ’غیر متعلقہ‘ لیبل لگا دیا گیا تھا۔

    انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو یہ بھی بتایا کہ اس معاملے کا فیصلہ ’غیر ضروری‘ جلد بازی میں کیا گیا تھا، جواب میں الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے بھی تکنیکی نکات پر بحث کی اور انہوں نے کہا کہ جب سے عمران خان کو قید کیا گیا ہے، انہیں ریاست کے حوالے کر دیا گیا ہے لیکن ریاست کو کیس میں فریق نہیں بنایا گیا تاہم امجد پرویز نے یہ بھی دلیل دی کہ اس معاملے میں اپیل کو سیدھا اسلام آباد ہائیکورٹ جانے کے بجائے سیشن کورٹ کے سامنے دائر کیا جانا چاہیے تھا۔

    علاوہ ازیں انہوں نے دفاع کے حق کے بارے میں لطیف کھوسہ کے نکتہ کے خلاف بھی دلیل دی اور کہا کہ عمران نے متعدد مواقع ملنے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے کا انتخاب کیا جبکہ انہوں نے کہا کہ عمران نے کارروائی کو ’ناکام‘ بنانے کی کوشش کی، تاہم وکلاء کے تمام دلائل کے بعد معاملہ ایک نقطہ پر آگیا کہ کیا عمران خان کی سزا کو معطل کیا جا سکتا ہے، یا ضمانت دی جاسکتی ہے؟ کیونکہ یہ سزا ’مختصر‘ تھی۔

    جبکہ لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ سزا معطلی کی اپیل دراصل ضمانت کے لیے اپیل کرنے کے مترادف ہے اور عمران ضمانت کے حقدار ہیں کیونکہ تین سال کی سزا مختصر ہے جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے جس کیس کا حوالہ دیا ان میں سے ایک نواز شریف بمقابلہ چیئرمین نیب (2019) تھا، امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ ہر سزا معطل کی جائے اس کے جواب میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے معطلی یا ضمانت کے معاملات میں طویل دلائل کو نظر انداز کیا ہے۔

    علاوہ ازیں عدالت نے لطیف کھوسہ سے بھی اتفاق کیا کہ اس معاملے کے لیے تین سال، یا یہاں تک کہ پانچ سال، ایک مختصر سزا ہے اور عام طور پر معطل کی جاتی ہے جبکہ عدالت نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر کیس کے میرٹ پر دلائل کی ضرورت نہیں ہے اور تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ دائرہ اختیار اور دیگر مسائل کے بارے میں دونوں فریقوں کی طرف سے اٹھائے گئے دلائل میں اس معاملے کی گہری تعریف شامل ہے جس کی معطلی کے مرحلے پر کوئی جواز نہیں ہے، خاص طور پر جہاں سزا مختصر ہو، بالآخر عمران خان کو دی گئی سزا کی مختصر طوالت ان کی رہائی کے احکامات کی وجہ بن گئی۔

  • 29 اگست یوم وفات؛ قاضی نذر الاسلام

    29 اگست یوم وفات؛ قاضی نذر الاسلام

    قاضی نذر الاسلام ایک بنگالی شاعر، مصنف، موسیقی کار اور تحریک پسند تھے۔ انہیں بنگلہ دیش کا قومی شاعر قرار دیا گیا ہے وہ 24 مئی 1899 میں پیدا ہوئے

    جبکہ نذر کے نام سے شہرہ یافتہ نذرالاسلام، بھارتی اسلامی نشاة ثانیہ کے لیے اپنی تحریک چلائی، اور فاشزم اور اپریشن کے خلاف کام کیا۔ سماجی مساوات کے لیے دم بھرنے والے نذر کو باغی شاعر کے خطاب عوام سے نوازا گیا۔ چونکہ نذر موسیقی کے بھی دلدادہ تھے، انہوں نے اس پر بھی کام کیا اور شہرت یہاں تک ہوئی کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے انہیں اپنا قومی شاعر کا اعلان کیا۔

    نذر مغربی بنگال کے شہر کلکتہ میں ایک عالم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ عالم گھرانہ قاضی گھرانہ تھا۔ نذر دینی علوم سے فارغ ہوکر، موذن کے کام سے وابستہ ہوگئے۔ شاعری سیکھی، ڈراما، ادب اور ٹھئیٹر آرٹ سیکھے۔ مشرق وسطیٰ میں پہلی عالمی جنگ کے دوران میں برطانوی افواج کے لیے بھی کام کیا۔ بعد اذیں، بھارت میں مقیم ہوئے۔ شہر کلکتہ میں اخبار کے لیے صحافت کا کام کیا، باغی شاعر یا بدروہ کوی کہلائے۔ بدروہ کوی، بھانگر دان، دھوم کیتو جیسے فنی تخلیقات کیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    تحریک آزادی میں حصہ لیا، جیل بھی گئے۔ ان کی شاعری اور ادبی کارنامے جنگ آزادی بنگلہ دیش تحریک میں ماثر رہے. 29 اگست 1976 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج جبکہ یہ مقدمہ توہین پنجاب پولیس اور آئی جی کیخلاف پراپیگنڈا کرنے کے الزام میں درج کیا گیا ہے اور حماد اظہر، مسرت چیمہ، قاسم سوری، عمر سرفراز چیمہ، علی زیدی، فواد چوہدری، اعظم سواتی بھی شامل ہیں.

    جبکہ ایک وکیل کے مطابق ایف آئی اے لاھور کی طرف سے عمران ریاض خان کے خلاف پنجاب پولیس کی مدعیت میں 17-8-2023 کو ایک اور مقدمہ درج کرنے کیا گیا جبکہ وکیل نے مزید کہا کہ ایف آئی اے لاھور سے میری مودبانہ گزارش ہے کہ ھم پر احسان کریں اور اسی مقدمہ میں عمران ریاض خان برآمد کریں اور گرفتار کرکے ھم پر احسان کریں.


    تاہم خیال رہے کہ 16 مئی 2023 کو ولاگر عمران ریاض خان کی گمشدگی پر ان کے والد کی مدعیت میں اغواء کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اس حوالے سے ڈی پی او سیالکوٹ حسن اقبال نے کا تھا کہ اینکر عمران ریاض کے اغوا کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں درج کیا گیا جبکہ انہوں نے مزید بتایا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر مقدمہ مغوی کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی
    جبکہ ڈی پی او سیالکوٹ کے مطابق اغواء کی دفعہ کے تحت مقدے میں نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا، مغوی کی بازیابی کے لئے آئی ٹی ماہرین سمیت ماہر پولیس افسران کی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں، تاہم ابھی تک عمران ریاض کا کوئی بھی پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں پر ہیں.

  • چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف مہم کی تحقیقات کیلئےجے آئی ٹی تشکیل

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف مہم کی تحقیقات کیلئےجے آئی ٹی تشکیل

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کے خلاف سوشل میڈیا مہم کی تحقیقات کے لیے خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

    جبکہ نوٹیفکیشن کے مطابق خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بدنیتی پر مبنی مہم کے پس پردہ حقائق کا تعین کرےگی اور ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے کنوینر ہوں گے، آئی ایس آئی اور آئی بی کےگریڈ 19 کے افسر بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان ہوں گے، اسلام آباد پولیس کے گریڈ 19 کے افسر بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی
    علاوہ ازیں‌نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کرے گی۔ تاہم خیال رہے کہ اس سے قبل وزارت قانون نے پی ٹی آئی کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کے خلاف مہم کی مذمت کی تھی۔

    ایک بیان میں وزارتِ قانون و انصاف نے کہا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو ملکی اداروں پر حملے سے پرہیز کرنا چاہیے جبکہ وزارت قانون نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذموم مقاصد پر مبنی مہم چیف جسٹس عامر فاروق کی ساکھ کو داغ دار کرنے کی کوشش ہے۔

    تاہم واضح رہے کہ تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر براہ راست الزام لگایا گیا تھا جس میں جسٹس عامر فاروق پر منافقت کا الزام لگایا گیا جبکہ اس حوالے سے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا تھا کہ ججز کو ایسی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کچھ دنوں سے ججز کے خلاف زور و شور سے منظم مہم چلائی جا رہی ہے، اُمید ہے کہ ججز تمام تر تنقید کے باوجود حلف کی پاسداری کریں گے۔

  • الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے پنجاب انتخابات 14 مئی کو کروانے کے فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی نظر ثانی اپیل سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہے جبکہ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت 31 اگست کو ہوگی اور چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ سماعت کرے گا۔

    علاوہ ازیں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہی اور الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیا گیا جبکہ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا، الیکشن کمیشن نے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی
    خیال رہے کہ اس سے قبل گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ 2018 سے 2022 کے درمیان پاکستان غیرمعمولی دور سے گزرا، اس تبدیلی کے اثرات بہت دیر سے جائیں گے۔ سوشل میڈیا کے زریعے پیالے میں طوفان کھڑا کیا گیا، 9 مئی کے اثرات بہت دور رس تھے، 9 مئی کو مختلف شہروں میں تنصیبات پر حملے ہوئے، گورنر پنجاب نے مزید کہا تھا کہ ہر جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا حق ہے، لیکن نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، گرفتار افراد کا ٹرائل کہاں چلایا جائے اس پر دو رائے ہیں، لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ حملے ہوئے۔

    محمد بلیغ الرحمان ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جو 30 مئی 2022 سے پنجاب کے 39ویں گورنر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے پر مقرر کیا تھا

  • کراچی؛ شارع فیصل پر شیر نے شہری پر حملہ کردیا

    کراچی؛ شارع فیصل پر شیر نے شہری پر حملہ کردیا

    کراچی کی شارع فیصل پر ایک شیر آگیا جسے دیکھ کر شہری حیران رہ گئے ہیں جبکہ شارع فیصل پر عائشہ باوانی کالج کے قریب شیر ٹہلتا ہوا ایک عمارت کی پارکنگ میں پہنچ گیا، پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں اور شیر کو دیکھنے کے لیے شہریوں کا بھی رش لگ گیا ہے.


    جبکہ شارع فیصل پر عائشہ باوانی کالج کے سامنے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور پولیس کے مطابق گاڑی کے ذریعے شیرکو منتقل کیا جا رہا تھاکہ شیرگاڑی سے باہر نکل آیا، پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے علاوہ ازیں پولیس کا کہنا ہےکہ وائلڈ لائف حکام سے بھی رابطہ کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    جبکہ کراچی میں شارع فیصل صدر تھانے کے قریب سڑک پر شیر نے ایک شہری پر حملہ کردیا جس پر پولیس حکام کے مطابق شیر کو ایک سے دوسری گاڑی میں منتقل کیا جا رہا تھا جس کے دوران وہ بھاگ نکلا اور شارع فیصل پر ایک عمارت میں گھس گیا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ شیر کے حملے میں شہری محفوظ رہا، شیر کے مالک سے رابطہ ہو گیا ہے، شیر کو پکڑ کر محکمہ وائلڈ لائف کےحوالے کیا جائے گا جبکہ محکمہ وائلڈ لائف کے حکام کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پولیس کی نفری موقع پرموجود ہے اور شہریوں کو دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہر جنگلی حیات کے مطابق شیر افریقن نسل کا ہے، جس کی عمر 3 سے 4 سال کے درمیان ہے، شیر کو پالنے کیلئے لائسنس درکار ہوتا ہے اور رہائشی آبادی میں رکھنےکی اجازت نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی ہے جس میں شہر کو سڑک پر ٹہلتے دیکھا جا سکتا ہے۔