Baaghi TV

Author: +9251

  • ہندوستانOIC کےانعقادکامخالف:بلاول بھی دھمکیاں دے رہا ہے:ٹائمنگ ایک ہے:اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی

    ہندوستانOIC کےانعقادکامخالف:بلاول بھی دھمکیاں دے رہا ہے:ٹائمنگ ایک ہے:اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :ہندوستان او آئی سی کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈال رہا ہےاوربلاول بھی دھمکیاں دے رہےہیں،اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے خلاف سازش کا انکشاف کردیا ،اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بلاول کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میری نظر میں بلاول کا بیان انتہائی ناسمجھداری والا بیان ہے، پریشان ہمیں ہوناچاہیے جبکہ پریشان یہ خود ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد تو ابھی جمع کروائی گئی ہے، او آئی سی کے سنتالیسویں اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ پاکستان اڑتالیسویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ زبردستی نہیں کریں گے اپنامینڈیٹ اراکین کو یاد کرائیں گے اور کسی رکن اسمبلی کو ووٹ دینے سےنہیں روکیں گے جبکہ تحریک کا آئینی اور قانونی انداز میں مقابلہ کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ 27 او آئی سی کا اجلاس حکومت کا نہیں ریاست پاکستان کا ایونٹ ہے،ستمبر کو میرے خطوط او آئی سی وزرائے خارجہ کو بھجوائے جا چکے ہیں اور آج صبح سے مہمان آنا شروع ہو گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مصر کے وزیر خارجہ کل آ رہے ہیں جبکہ 21 تاریخ کو ایک اور اہم وزیر خارجہ پاکستان تشریف لا رہے ہیں، میں بطور وزیر خارجہ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اس کانفرنس کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، مجھے امید ہے بلاول ہندوستان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ بچہ گھبراہٹ کا شکار دکھائی دے رہا ہے، آپ کے پاس نمبرز پورے ہیں تو پھر آپ گھبراہٹ کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟

    وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی صفوں میں یکسوئی نہیں ہے کیونکہ یہ بنانے کیلئے نہیں گرانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں جبکہ یہ مثبت نہیں منفی اتحاد ہے، ان کے اندر یکسوئی نہیں ہے یہ مختلف مفادات والے لوگ عمران خان کو گرانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد ضرور کریں ہم اپنے ممبران کو منانے کی کوشش کریں گے لیکن زبردستی نہیں کریں گے جبکہ ہم تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ قانونی، جمہوری اور سیاسی انداز میں کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ ن لیگ کے اندر مسائل سامنے آ رہے ہیں جبکہ ن لیگ کے اندر دو سوچیں ہیں ، ایک سوچ تحریک عدم اعتماد کی پشت پناہی کر رہی ہے اور ایک اس کے برعکس بھی ہے۔ کیا عدم اعتماد کی تحریک انہوں نے سوچ سمجھ کے پیش نہیں کی تھی ؟

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اب ان کو گھبراہٹ کس بات کی ہے، یہ تو پچھلے اڑتالیس گھنٹوں میں 190/200 ووٹوں کی بات کر رہے تھے تو پھر آج بوکھلاہٹ کا شکار کیوں ہو گئے؟

    واضح رہے اس سے قبل اسلام آباد میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اگر پیر تک اجلاس نہ بلایا گیا تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے۔

    بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتےہیں، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے، کوشش کی جارہی ہے کہ ارکان اپنا ووٹ استعمال نہ کریں، تاثر دیا جارہا ہے وہ نہیں کھیلے گا تو کوئی نہیں کھیلے گا۔

    پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چاہتا ہے آئینی بحران پیدا ہو اور تیسری قوت کو موقع ملے، عمران خان نے شکست دیکھ کر غیرجمہوری عمل اختیار کیا، حکومت طاقت کے استعمال پر اتر آئی، پہلے پارلیمان پھر سندھ ہاؤس پر حملہ کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آئیں مقابلہ کریں، عمران نیازی زندگی بھر کھلاڑی رہے، آخرمیں بال ٹیمپرنگ نہ کریں، ہم ذمہ داری کے ساتھ آج تک چل رہے ہیں، حکومت چاہتی ہے آئینی بحران پیدا ہو۔

    بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اسپیکر نے غیر جمہوری سوچ اپنائی تو ساری اپوزیشن کو مناؤں گا، اسپیکر پیر تک عدم اعتماد نہ لائے تو ایوان میں دھرنا دیں گے، دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ عمران اکثریت کھو چکا ہے، عمران شکست دیکھ کر غیر جمہوریہ اپنا رہا ، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے۔

  • تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے،مہنگائی بھی بڑھی ہے:مفتاح اسماعیل

    تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے،مہنگائی بھی بڑھی ہے:مفتاح اسماعیل

    کراچی :تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے،مہنگائی بھی بڑھی ہے:اطلاعات کے مطابق مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ تجارتی خسارہ پچھلے سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج معیشت کے حوالے سے بات کرونگا، وزیراعظم اور اسد عمر نے آج معیشت کے حوالے سے ٹوئٹ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج ان کو معیشت یاد آگئی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہے، یہ وہ وزیراعظم ہے جس نے کہا تھا کہ میرے خلاف کوئی ہاتھ کھڑا کرے گا توخوش ہونگا، آج یہ ان ہی لوگوں پر پتھراؤ کررہے ہیں۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پچھلے سے پچھلے مہینے 260 ڈالر کا خسارہ ہوا، فروری میں 50 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا، امپورٹ بڑھنے کی باتیں ہورہی ہیں، امپورٹ 48 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ پچھلے سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ امپورٹ ہوئی ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ ایکسپورٹ 20 بلین ڈالر کی ہوئیں جو پچھلے مہینے سے 20 فیصد زیادہ ہیں، 27 سو کروڑ ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا، یہ تجارتی خسارہ پچھلے سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے، آٹھ مہینوں میں ابسیلوٹ اماؤنٹ میں 12 سو کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا ہے۔

  • آصف زرداری کی بچھائی سیاسی بساط پر پی ٹی آئی اپنے انجام کی جانب گامزن:تحریر:-نوید شیخ

    آصف زرداری کی بچھائی سیاسی بساط پر پی ٹی آئی اپنے انجام کی جانب گامزن:تحریر:-نوید شیخ

    پاکستانی سیاست کا پارہ گرم ہے، ہر گھنٹے بعد ہوا کا رخ تبدیل ہو رہا ہے۔ مگر سیاست کا المیہ یہ ہے کہ اس وقت ایک دوسرے کو ملک دشمن، غدار، را ، سی آئی اے اور موساد کے ایجنٹ، گھوڑا ، گدھا ، چور ، ڈاکو ، ہارس ٹریڈنگ کے طعنے، اسلام دشمن ، دہشت گرد اور پتہ نہیں کیا کیا کہا جا رہا ہے ۔

    تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو یا ناکام عوام کو کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو۔ سچ یہ ہے کہ پورے ملک کو بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔ تفصیل سے آگے چل کر اس پر بتاتا ہوں ۔

    اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سندھ ہاؤس سے کل جو منحرف ایم این ایز سامنے آئے ہیں اسکے بعد اتحادیوں نے بھی اپنے رنگ دیکھانا شروع کر دیے ہیں ۔ کیونکہ ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ ق نئی کہانی لے کر سامنے آگئ ہیں۔ دونوں جماعتوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم خود تو نہیں بچ سکتے۔ اب وہ پی ٹی آئی کی حکومت بچانے کی کوشش کریں۔ یعنی مائنس ون فارمولہ ۔۔۔ اس خواہش پر پی ٹی آئی کے اندر تو بہت سے لوگوں کے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوں گے کیا پتہ کچھ نے شیروانی سلوانے کے آرڈر بھی دے دیے ہوں۔

    دوسری جانب ترین گروپ نے حکومت کے لیے اپنے تمام نمبرز بند کر دیے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جانب سے جہانگیر ترین سے ٹیلی فون پر بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جہانگیر ترین سے بات نہیں ہوسکی۔

    پھر پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب کے بعد آج لاہور میں شہباز شریف وزیراعظم پاکستان کے بینرز لگ گئے ہیں ۔ مگر دوسری جانب آپ المیہ دیکھیں ۔ جن لوگوں کو عمران خان یا عثمان بزدار چارسال تک نوازتے رہے ۔ ان کو توفیق نہیں ہوئی کہ کپتان اور وسیم اکرم پلس کے حق میں ایک بینر ہی لگوا دیتے ۔ میں تو یہ حیران ہوں کہ کل جو لسٹ سامنے آئی ہے اس میں پی ٹی آئی کی خصوصی نشست پر منتخب خواتین بھی شامل ہیں ۔ اب کپتان کو ان لوگوں کو ضرور پوچھنا چاہیے جن کے کہنے پر اپنے لوگوں نذر انداز کرکے یہ ٹکٹ دیے گئے تھے ۔

    میری چڑیل کے مطابق لوگ صرف سندھ ہاؤس میں نہیں ہیں یہ اور جگہوں پر بھی موجود ہیں ۔ یہ پیسے لینے اور دینے میں کوئی صداقت نہیں ہاں البتہ انہوں نے پیسے کی بجائے بارگین کی ہے کہ وہ اگلے الیکشن میں ن لیگ، پیپلزپارٹی ، ق لیگ اور جے یو آئی ف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔ جی ہاں اس لسٹ میں ق لیگ بھی شامل ہے ۔

    ویسے اب تو بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے کہ ایم کیو ایم اور باپ کے رہنماؤں سے زرداری صاحب کی ملاقات کا اہتمام چودھریوں نے کیا ہے۔

    مگر کپتان کو کچھ نہیں پتہ چل رہا ہے کہ کون اس وقت کیا گیم کر رہا ہے ۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ کپتان کو سیاست سیکھائی جا رہی ہے ۔ خالی ایک ٹپ دے سکتا ہوں کہ کپتان کو چاہئے ان لوگوں پر خاص نظر رکھے جنہوں نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اجلاس لیٹ کروانے کی ضد کی ۔ کیونکہ اس کا فائدہ اپوزیشن کو ہوا ہے ۔ اگر شروع میں ہی اجلاس بلایا لیا جاتا تو حکومت کی پوزیشن بہتر ہوتی ۔ یاد رکھیں اس وقت بہت سے وزرا اندر کچھ اور باہر کچھ کہہ رہے ہیں ۔ یہ رمیش کمار نے تین وفاقی وزراء کا ذکر کیا ہے یہ بلکل ٹھیک بات ہے ۔ کیونکہ وزراء نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے رابطے کیے ہیں ۔ کیا آپ نے غور کیا ہے کہ کپتان کی ہر چال بروقت اپوزیشن کو کیسے معلوم ہوجاتی ہے اور وہ پہلے سے ہی اقدامات اٹھا کر حکومتی ہر چال کا اثر زائل کردیتی ہے ۔ اس حوالے سے کپتان کو اپنی
    منجی تھلے ڈانگ پھیرنا پڑے گی ۔۔۔

    پھر حیرت کی بات ہے کہ وزیراعظم اور ان کے وزراء اسلام آباد میں دس لاکھ افراد کو لانے کے جتن تو کر رہے ہیں، مگر وہ ان دس ارکانِ اسمبلی کو نہیں روک سکے۔ جو بقول ان کے لوٹے ہو گئے ہیں۔ اپنی جماعت کو مضبوط رکھنے کی بجائے اِدھر اُدھر پر نظر رکھنے سے معاملات حکومت کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔ اتحادیوں کو منانے کی کوششیں اپنی جگہ مگر وہ جب یہ دیکھتے ہیں کہ خود تحریک انصاف کے اندر بغاوت ہو چکی ہے تو اپنا فیصلہ محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    یہ جو عمران خان صاحب ہر دوسرے جلسے میں تین چوہوں کا ذکر کررہے ہوتے ہیں یہ چوہے باہر نہیں ان کی اپنی صفوں میں موجود ہیں کاش اگر اپنی جماعت میں موجود چوہوں کا قلع قمع کیا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ ویسے اس ڈوبتے جہاز سے چوہوں نے گودنا شروع کردیا ہے ۔ ایم این ایز تو جا ہی رہے ہیں اعظم خان بھی کپتان کو اکیلا چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔

    اسی لیے مشیر اور وزیر حواس باختہ ہوگئے ہیں ۔ ان کی زبانیں وہ الفاظ اگل رہی ہیں کہ عوام کانوں میں روائیاں ڈالنے پر مجبور ہیں ۔ پیمرا تو خاموش ہے ہی ۔ مگر اخلاقیات کا درس دینے والے کپتان نے بھی آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔

    کیونکہ عمران خان کا اپنا مزاج بھی انتقام کے شعلے اگل رہا ہے۔ ڈاکو، چور، لٹیرے جیسے القابات کے بعد اب وہ اپوزیشن رہنماؤں کو مسخرے، گیدڑ اور چوہے جیسے غیر مہذب ناموں سے پکار رہے ہیں۔ یہاں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کپتان اور ان کی ٹیم اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کی دعویدار ہے ۔

    بہرحال تحریک عدم اعتماد ایک جمہوری عمل ہے۔ جو کر ہو کر رہنا ہے ۔ حکومت جتنے مرضی حیلے بہانے تراش لے ۔ اب سب کو معلوم ہوگیا ہے کہ عمران خان پارلیمنٹ میں اکثریت کھو چکے ہیں ۔ کل جس طرح ان کے اپنے ایم این ایز سامنے آئے ہیں اسکے بعد کوئی اخلاقی جواز نہیں رہ گیا ہے کہ وہ مزید کرسی پر براجمان رہیں ۔ اس وقت پوری کی پوری پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ مجھے تو ڈر ہے اب مزید لوگ پی ٹی آئی کو خیر آباد کہیں گے ۔ تعلق توڑیں گے کیونکہ جیتنے والے کے ساتھ سب ہوتے ہیں ۔ ہارنے والے کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہونا چاہتا ۔

    اپوزیشن اب اگلا حملہ پنجاب میں کرے ۔ مونس الہی اہم ملاقاتوں کے لندن پہنچ گئے ہیں عنقریب آپ دیکھیں گے وسیم اکرام پلس کو بھی گھر جانا پڑے گا ۔

    دیکھا جائے توغلطیاں عمران خان کی اپنی ہیں کہ اے ٹی ایم، ، لوٹے ، چینی،آٹا مافیا اور آئی ایم ایف ورلڈ بنک کے نامزد افراد کو بطور مشیر اپنے ساتھ قبول کیوں کیا تھا۔ کپتان کو چاہیے کہ تھوڑا حوصلہ کریں چاہے عوام کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف نہ کریں۔ مگر کام نہ کرنے کی وجہ تو بتا دیں۔

    تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی نوبت بس اب آنے ہی والی ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے سپیکر سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں کہ وہ زیر کو زبر کر دیں گے۔ تحریک انصاف کے منحرف ارکان کو ووٹ ہی نہیں ڈالنے دیں گے، مگر ایسا کرتے ہوئے انہیں قواعد و ضوابط کو سامنے رکھنا پڑے گا۔ پھر یہ بھی ہے کہ اگر حکومت کے اتحادی اس دن اسمبلی میں جاتے ہیں تو ان کے ووٹ کو تو مسترد نہیں کیا جا سکے گا، اس وقت حکومت کی حالت یہ ہے کہ چادر چھوٹی اور پاؤں بڑے ہیں۔ اتحادیوں کو مناتے ہیں تو تحریک انصاف کے ارکان کھسک جاتے ہیں، انہیں پکڑتے ہیں تو اتحادی آنکھیں دکھانے لگتے ہیں۔

    اس عمدم اعتماد کا سب سے زیادہ فائدہ چھوٹی جماعتوں کو ہوا ہے ۔ جیسے ایم کیو ایم کو دوبارہ قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع مل گیا ہے۔ اے این پی، باپ، جی ڈی اے بلوچ قومی پارٹی پر لگنے والے الزامات اور الزام لگانے والے خود ہی پاک صاف ہونے کے لئے ایک دوسرے کو کلین چٹ دے رہے ہیں۔

    دیکھا جائے تو عدم اعتماد تحریک کی ساری بساط بھی آصف علی زرداری نے بچھائی ہے۔ ہر درپہ گئے ہیں اور کہیں بھی اپنی انا کو خاطر میں نہیں لائے، حتیٰ کہ ایم کیو ایم سے ملاقاتوں میں بھی ہر شرط ماننے کا تاثر دے کر انہوں نے گیم کا پانسہ ہی پلٹ دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر آصف علی زرداری اس طرح میدان میں نہ نکلتے تو اپوزیشن کی اتنی بڑی اکثریت نہ بنتی اور حکومت کو خطرات بھی لاحق نہ ہوتے۔ اب تحریک انصاف کو اپنے بندے غائب ہونے کا کُھرا بھی سندھ ہاؤس سے مل رہا ہے، گویا اشارہ پھر آصف علی زرداری کی طرف ہے۔ یاد رہے کہ آصف علی زرداری بہت پہلے کہہ چکے ہیں یہ حکومت ہماری وجہ سے نہیں بلکہ خود اپنے وزن کی وجہ سے گرے گی۔

    پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ اور سندھ میں ایم کیو ایم کے بڑے مطالبات ایسی رکاوٹیں ہیں، جنہیں کپتان عبور نہیں کر پا رہے۔ دوسری طرف اپوزیشن ہے جو اتنی سخی بنی ہوئی ہے کہ انکار اس کی زبان پر آ ہی نہیں رہا۔ یہ سب کچھ آصف علی زرداری کے جوڑ توڑ کی وجہ سے ہے۔

  • مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے

    مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے

    راولپنڈی :مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے،اطلاعات کے مطابق واران ٹورز کی چیئر پرسن عظمیٰ گل کی طرف سے سنیئر صحافی پرلگائے گئے الزامات راولپنڈی کی ایک عدالت نے نہ صرف مسترد کردئیے ہیں بلکہ عظمیٰ گل کی درخواست خارج کرتےہوئے اسے بے بنیاد قراردیا ہے

    ذرائع کے مطابق راولپہنڈی کی ایک عدالت اس کیس کا فیصلہ سنایا،ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل ماجوکے نے اس کیس کا فیصلہ سنایا،عدالت نے عظمیٰ گل اور اس کے شوہر کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو انتقامی رویہ قراردیا

    عدالت نے ہتک عزت کے الزام کے اس کیس میں ہرجانے کا دعویٰ بھی مسترد کردیا ہے
    یاد رہے کہ عظمیٰ‌ گل نےمعروف اینکر پرسن مبشر لقمان کواپنے متعلق پروگرام کرنے پر لیگل نوٹس بھجوا یا تھا . عظمی گل نے اپنے شوہر ونگ کمانڈر ریٹائرڈ یوسف گل کی جانب سے مجموعی طور پر ایک ارب روپے کی مالیت کے لیگل نوٹس بھجوائے تھے. انہیں پچاس پچاس کروڑ‌کے الگ الگ نوٹس بھجوائے گئے تھے

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”474427″ /]

    واضح رہے کہ چند روز قبل سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے جنرل ریٹائرڈ حمید گل مرحوم کی ایک جائداد جو کہ بس اڈا ہے اس پر پروگرام کیاتھا .اس بس سٹینڈ پر جنرل حمید گل کےبیٹے عبداللہ گل اور بیٹی عظمیٰ گل کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے .حکومت نے اس اڈے کو خالی کرا کر اسے قرنطینہ سینٹرز بنا دیا تھا . جس پر عظمیٰ گل نے سٹے آرڈر لے رکھا تھا .

    حکومتی اہلکاروں نے زبردستی یہ اڈا خالی کرا کے اس پر قرنطینہ سینٹر بنایا . اس جائیداد پر پروگرام کرنے پر عظمیٰ گل نے مبشر لقمان پر یہ الزام لگایا کہ اس میں‌حقائق کے خلاف اور من گھڑت باتیں کی ہیں. اور حتک عزت کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے خلاف لیگل نوٹس بھیجا  .

    یاد رہے کہ سینیئر صحافی مبشرلقمان نے اس کیس کے حوالے سے کافی تحقیق کے بعد کہا تھا کہ عظمیٰ گل کے شوہر یوسف صاحب جو جنرل حمید گل کے داماد اور ائیرفورس میں ہوتے تھے وہ ایک زمانے میں نواز شریف کے آئی ڈی سی بھی تھے ایک اے ڈی سی کیپٹن صفدر تھے اور دوسرے ایئر فورس کی طرف سے یوسف صاحب ۔پھر کسی وجہ سے یوسف نے ائیرفورس چھوڑ دیں یا ان سے ایئر فورس چھڑوا دی گئی

    مبشرلقمان نے اس وقت پروگرام میں حقائق پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ میاں صاحب نے خوش ہو کر راولپنڈی کا جنرل بس اسٹینڈ ان کو غیرمعینہ مدت کے لیے لیز پر دے دیا ، مبشرلقمان نے یہ بھی کہا تھا کہ ظاہر ہیں نوازشریف بادشاہ سلامت تھے جو دل کرتا تھا وہی کرتے تھے اس زمین پر ایک بس سروس شروع کی گئی قرضے بھی لیے گئے لیکن 2005 میں وہ بس سروس بند ہو گئی لیکن لیس پر 35 کنال اراضی لی گئی تھی وہاں پر قبضہ نہیں چھوڑا گیا بس سروس بند ہونے کے بعد وہاں غیر قانونی طور پر پٹرول پمپ اور جیولری شاپ پر دفاتر کھول دیے گئے سینئر صحافی افتخار احمد جیو پروگرام جواب دے کیا کرتے تھے اپنے پروگرام میں انہوں نے جنرل حمیدگل سے واران بس سروس کے بارے میں پوچھا جنرل حمید گل نے کہا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ویسے بھی جو کام کرنے لے کر سود پر کیا جائے میں اسے پسند نہیں کرتا مجھ سے اس بارے میں بات نہ کریں ۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں اب ہوا کچھ یوں کہ غیرقانونی کام زمین پر ہو رہے تھے کرونا وائرس پھیلنے کے بعد راولپنڈی میں حکومت کو کر قرنطینہ سینٹر بنانے کے لیے جگہ درکار تھی حکومت نے عازمین کو خالی کرانے کا فیصلہ کیا اس دوران حمیدگل کی بیٹی نے کوئی اسٹے آرڈر لے رکھا تھا لیکن قانونی طور پر یہ زمین حکومت کی ملکیت ہے جب یہاں بس سروس نہیں چل رہی تھی دوسرے کام ہو رہے تھے تو وہ غلط تھا اب یہ لوگ جنرل حمید گل کا نام استعمال کر رہے تھے

    مبشرلقمان نے کہا تھا کہ دکھ اس بات کا ہے کہ داماد اور بیٹی نے جنرل حمید گل کا نام لے لیا حالانکہ جنرل حمید گل نے کبھی کسی کی زمینوں پر قبضہ نہیں کیا تھا باعزت طریقے سے زندگی گزاری ان کے مخالفین بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔

    مبشر لقمان نے یہ بھی انکشاف کیاتھا کہ جو صاحب کو یاد کرنا چاہیے جب نوازشریف نے زمین دی تھی اگر ان کی کیپٹن صفدر سے دوستی تھی اور آپ کی بیگم بھی مریم نواز کی اسسٹنٹ بن جانے کی وجہ سے دوستی تھی آپ کے خاندان کی نواز شریف سے کافی پربت رہی ہے اگر اس وجہ سے عمران خان کو برا کہہ رہے ہیں تو اور بات ہے ورنہ آپ کو مرحومین کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے مبشر لقمان اس وقت کہا تھا کہ کہا میرے لحاظ سے تو حکومت کو چاہیے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرے اور اتنے سال جو انہوں نے سرکاری زمین غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھیں اور کام کرتے رہے اس پر ٹیکس بھی لینا چاہیے

    اس پروگرام کے پیش ہونے کے بعد عظمٰی گل نے سنیئر صحافی کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کیا تھا جسے آج عدالت نے مسترد کرتے ہوئے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے

    ادھر اس کیس میں‌کامیابی پر مبشرلقمان کے چاہنے والوں کی طرف سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے

  • ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا

    ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا

    راولپنڈی: ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں سندھ ہاؤس میں موجود زیادہ پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ رنگ روڈ لندن کی ایم 25 کی طرح ہے، نالہ لئی کا پراجیکٹ اگلے تین ہفتے میں لانچ کریں گے، راولپنڈی شہر پھیل گیا پلاننگ نہیں ہوئی، راولپنڈی کوماڈرن سٹی بنائیں گے، نالہ لئی کے ساتھ ہم نے ایک نیا پنڈی بنانا ہے۔ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، شہرپھیلتے جا رہے ہیں، پچھلے سال چاربڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، کسانوں کوپہلی دفعہ پوری قیمت ملی اور ان کی پیداواربڑھی، ہم نے اپنی زرعی زمینوں کوبھی بچانا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خریدوفروخت کی سیاست پر کسی کو شرم نہیں آرہی، اس کوجمہوریت نہیں کہتے، سب کچھ کھلے عام ہورہا ہے، برطانیہ میں کوئی سیاست دان تصوربھی نہیں کرسکتا پیسے لیکر پارٹی بدل لے، اگر کوئی برطانیہ میں پیسے لے بھی لے تو اسے معاشرہ برداشت نہیں کرے گا، عوام کے خوف کی وجہ سے برطانیہ کا سیاست دان سندھ ہاؤس والی حرکت نہیں کرسکتا، ہمارے کارکن جذبات میں آکرایسا کیا، کارکنوں سے کہتا ہوں پرامن احتجاج آپ کا حق ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ضمیر خریدنے کے لیے چوری کے پیسوں کی منڈی لگی ہوئی ہے، سندھ کی عوام کا چوری کے پیسے کو استعمال کیا جا رہا ہے، سندھ ہاؤس میں کونسا ایسا کام ہو رہا تھا اس وجہ سے سندھ پولیس کو بلایا گیا، اگرہمارے لوگ تنگ ہیں تو ان کو چھپانے کی کیا ضرورت تھی؟ خریدوفروخت پوری قوم کے سامنے ہو رہی ہے، پاکستان کے لوگوں نے اس طرح کی سیاست کودیکھ لیا، خریدوفروخت کی سیاست کی وجہ سے پاکستان پیچھے چلا گیا۔

  • حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    لندن:لاہور::حکومت کے کسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت،پاکستان کے ایک بڑے نام معروف صحافی جن کی خبرکوہرکوئی مصدقہ اور معتبر جانتا ہے کا کہنا ہےکہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کرنے والی سب سے بڑی جماعت ن لیگ لندن کے سربراہ نوازشریف نے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اس کے بعد ضمیرفروشوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے

    سینیئر صحافی عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے والی سب سے بڑی جماعت کو اپنے ساتھیوں‌ پر اعتماد نہیں ، خصوصا ان پر جواپنی عزت ، شہرت اور اپنی نسلوں کا مستقبل نوازشریف کی خاطرقربان کرچکے ہیں

    عارف حمید بھٹی کہتے ہیں کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ نوازشریف نے مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد میں ساتھ دینے والے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو کسی قسم کا عہدہ نہ دیا جائے کیوں کہ وہ قابل اعتبار نہیں ہیں جو عمران خان کو دھوکہ دے سکتے ہیں وہ ہمیں بھینقصان پہنچا سکتے ہیں‌

     

     

    عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہےکہ نوازشریف کی طرف سے یہ رویہ پہلی مرتبہ نہیں اپنایا بلکہ نوازشریف اپنے ساتھیوں پر بھی اعتبار نہیں کرتے ،

    عدم اعتماد میں کامیابی کی صورت میں نئی بننے والی حکومت میں عمران خان کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کوعہدے نہ دینے کے نوازشریف کے حکم کے بعد سوشل میڈیا پرضمیرفروش ارکان اسمبلی کے خلاف ایک نیا محاذ کھل گیا ہے ،اہل پاکستان کا کہنا ہے کہ اپنے بے ضمیر ہونے کی قدرنوازشریف کے بیان سے تلاش کریں‌ کہ جس نے ایک ٹشوکی طرح استعمال کرکے پھراسے پھینکنے کا حکم دیا ہے

    یاد رہے کہ نوازشریف کی طرف سے یہ بھی حکم دیاگیا ہے کہ چوہدری برادران پربھی اعتبار نہ کرنا یہ بھی کسی سے وفا نہیں‌ کرتے اور یہ اپنے مفاد کی خاطر ن لیگ کو پھرسبق سکھا سکتے ہیں

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ پارٹی رہنماوں‌ نے ان سے درخواست کی ہے کہ منحرف ہونے والے پی ٹی آئی ممبران سے درگزر کریں وہ اپوزیش کے ہاتھوں ڈی ٹریک ہوگئے ہیں اور اگر وہ اپنے گھرکو لوٹ آتے ہیں تو ان کو باور نہ کرانا یہی ایک بہادر انسان کی خوبی ہے

  • عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں: چیف جسٹس

    عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں: چیف جسٹس

    اسلام آباد:عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں:اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہےکہ تحریک عدم اعتماد پرآئین کے تحت عمل ہونا چاہیے اور اس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدم اعتماد کے روز تصادم کے خطرے کے پیش نظر آئینی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں وزیر اعظم، وزارت داخلہ، دفاع، آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور اسپیکر قومی اسمبلی کو فریق بنایا تھا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدم اعتماد کا عمل پرامن انداز سے مکمل ہو، عدم اعتماد آرٹیکل 95 کے تحت کسی بھی وزیراعظم کو ہٹانے کا آئینی راستہ ہے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ سیاسی بیانات سے عدم اعتماد کے روز فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے، سپریم کورٹ تمام اسٹیک ہولڈرز کو عدم اعتماد کا عمل پرامن انداز سے کرنے کا حکم دے۔

    ہفتے کے روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی آئینی درخواست کی سماعت ہوئی۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ عدم اعتماد کی تحریک کا جہاں تک تعلق ہے یہ ایک سیاسی عمل ہے، تحریک عدم اعتماد پرآئین کے تحت عمل ہونا چاہیے اور اس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئندہ آئین اور قانون پر سختی سے عمل ہوگا۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم اپوزیشن جماعتوں کو کہیں گےکہ وہ بھی قانون کے مطابق عمل کریں، اٹارنی جنرل آپ 63 اےمیں ریفرنس دائر کررہے ہیں، اٹارنی جنرل ریفرنس صبح تک دائرکردیں تاکہ ہم اس کی سماعت کریں۔

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھاکہ عدالت یقنیی بنائے گی کہ قومی اداروں کو تحفظ فراہم کرے، اٹارنی جنرل آپ 63 اے کے حوالے سے عدالت کی رائے چاہتے ہیں، ہم وہ معاملہ بھی اس درخواست کے ساتھ سن لیتے ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ اورپارلیمنٹرینز کا احترام کرتے ہیں لیکن عدالت کا پلیٹ فارم کسی فریق کو صورت حال خراب کرنے کے لیے استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیں گے، عدالت قانونی سوالات کا آئین کے تحت جواب دے گی۔

    بعد ازاں عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر پیپلزپارٹی، (ن) لیگ ، پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کو نوٹس جاری کردیا۔سپریم کورٹ نے درخواست پر سماعت پیر دن ایک بجے تک ملتوی کردی۔

  • وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری محمد اعظم خان کی عالمی بینک میں تعیناتی:آخرمعاملہ کیا ہے؟حقائق سامنےآگئے

    وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری محمد اعظم خان کی عالمی بینک میں تعیناتی:آخرمعاملہ کیا ہے؟حقائق سامنےآگئے

    اسلام آ باد:وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری محمد اعظم خان کی عالمی بینک میں تعیناتی:آخرمعاملہ کیا ہے؟حقائق آگئے،اطلاعات کے مطابق پچھلے کئی دنوں‌ سے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری محمد اعظم خان کی عالمی بینک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعیناتی میں راز کیا ہے اور اس کے فوائد کون اٹھائے گا،

    اس حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں ہورہی تھیں‌ کہ اعظم خان نے وزیراعظم کا ساتھ چھوڑ دیا ہے تو کوئی کہہ رہا تھا کہ اعظم خان ہاتھ کرگئے،

    اس ساری گفتگو کے درمیان میں ایک چیز پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اعظم خان کواس عہدے پر لانے کے لیے اسٹیٹ بینک کا کوئی نہ کوئی کردار ضرور ہے ، اس حوالے سے سینیئر صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کسی کو کسی کی ترقی ،پروموشن اور کامیابی پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن سوال یہ ہےکہ ایک فرد کی خاطرآخرپاکستان کوورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ہاں گروی کیوں رکھا گیا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ انداز اچھا نہیں کہ لوگ کھائیں‌ پاکستان کا اور گیت گائیں اغیار کے

    ان کا کہنا تھا کہ دُکھ ہوتا ہےکہ بڑے بڑے افسران اپنے مستقبل کی خاطرپاکستان کا مستقبل تاریک کرنے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ اچھا شگون نہیں

     

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ ایک فرد کی خاطرملک کے بڑے ادارے اسٹیٹ بینک کوقربان کردیاگیا ہے جس کی قیمت قوم چکائے گی

    یاد رہے کہ چند دن پہلے وزیر اعظم کے سیکرٹری محمد اعظم خان کو عالمی بینک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی تھی ، ذ رائع کے مطا بق وزیر اعظم عمران خان نے تعیناتی کی سمری کی منظوری دی . رپورٹ کے مطابق وزارت اقتصادی امور نے سمری وزیر اعظم کو بھجوائی تھی .

     

     

    اعظم خان اگست2018 سے سیکریٹری ٹو وزیر اعظم کے طور پر کام کررہے ہیں . اس وقت نوید کامران بلوچ عالمی بینک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات ہیں . نوید کامران بلوچ کا بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعیناتی کا نوٹیفکیشن5اکتوبر2020کو جاری ہواتھا .

     

     

    بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعیناتی کا اطلاق 25دسمبر 2020 سے کیا گیا تھا . نوید کامران بلوچ کو31اکتوبر 2022 تک ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کیا گیا تھا . اعظم خان یکم نومبر 2022سے بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر عالمی بینک زمہ داریاں سنبھالیں گے . اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ ابھی تک سمری نو ٹیفیکیشن کیلئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو موصول نہیں ہوئی .

  • PTIممبران کی خریداری :ن لیگ میں انتشار،نوازشریف کی سوچ پراظہارافسوس:شدیداختلافات:اجلاس ملتوی کرنا پڑگیا

    PTIممبران کی خریداری :ن لیگ میں انتشار،نوازشریف کی سوچ پراظہارافسوس:شدیداختلافات:اجلاس ملتوی کرنا پڑگیا

    اسلام آباد:پی ٹی آئی ممبران کی خریداری پر ن لیگ میں انتشار،نوجوان اورپڑھا لکھا طبقہ ن لیگ سے نفرت کرنے لگا ہے:شدیداختلافات اجلاس ملتوی ،اطلاعات کے مطابق ہارس ٹریڈنگ معاملے پر خود ن لیگ میں انتشار پیدا ہوگیا ، کارکنوں کے ردعمل بچنے کیلیے آج ہونیوالا مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ملتوی کردیا۔

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ضمیر فروشوں کو خریدنے کے معاملے پر مسلم لیگ ن اندرونی انتشار کا شکار ہوگئی ہے اورکئی سوالات اٹھنے لگے ہیں جسکے باعث ن لیگ کی مرکزی قیادت نے آج ہونیوالا پارٹی کا جنرل کونسل کا اجلاس ملتوی کردیا ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اجلاس میں یہ انکشاف ہوا ہےکہ ن لیگ قائدین کی اس گھٹیا حرکت کی وجہ سے نوجوانوں اور پڑھے لکھے طبقے میں شدید نفرت پائی جاتی ہے اور اس اجلاس میں یہ برملا کیا گیا ہےکہ اگراب عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے ارکان کی خریدوفروخت وقتی طور پر کام آسکتی ہے لیکن عمران خان کا بیانیہ اس قدر مضبوط اور کامیاب ہوگا کہ اگلے الیکشن میں ن لیگ کو تباہ کرکے رکھ دے گا ،

    ذرائع نے بتایا مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے وفاداروں کی جگہ ضمیر فروشوں کو سے ٹکٹ دینے کے وعدے پر ن لیگی اراکین میں تشویش پھیل گئی ہے اور لوگ اپنے ہم خیال لوگوں سے اس کا کھل کر اظہار کررہے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس جو کہ آج ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے فارم ہاؤس پر ہونا تھی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے ان ہی سوالوں اور کارکنوں کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کیلیے اجلاس کو ملتوی کردیا ہے اور اس کی اطلاع متعلقہ رہنماؤں کو بھی دے دی گئی ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کو یہ خوف ہے کہ اجلاس میں اس حوالے سے جو سوالات کیے جائیں گے ان کے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں ہوں گے، کیونکہ اس سے قبل بھی سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے ساتھیوں کو پارٹی میں لینے پر ن لیگ کے دیرینہ کارکنوں نے سوالات اٹھائے تھے تو اب کیسے ممکن تھا کہ اس پر کارکنوں کا کوئی ردعمل نہ آئے۔

    اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل نے تصدیق کی ہے کہ پارٹی نے جنرل کونسل اجلاس وکنونشن منسوخ کیاہے، جس کی اگلی تاریخ کااعلان بعدمیں کیاجائیگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل خبر آئی تھی کہ پی ٹی آئی ایم این اے ملک نواب شیر وسیر کو نواز شریف نے خود آئندہ الیکشن میں ٹکٹ کی گارنٹی دی۔

  • فوزیہ قصوری بھی میدان میں آگئیں‌

    لاہور:فوزیہ قصوری بھی میدان میں آگئیں‌،اطلاعات کے مطابق جہاں اس وقت وزیراعظم عمران خان کے خلاف مردوں نے ایک محاذ کھول رکھا ہے وہاں عورتیں بھی کسی سے کم نہیں ، تازہ نوک جھونک میں سابق وزیرخارجہ میاں خورشید محمود قصوری کی اہلیہ فوزیہ قصوری بھی شامل ہیں‌

    اطلاعات کے مطابق فوزیہ قصوری نے کہا ہے کہ وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو کہ یوٹرن لینے کے حوالے سے بہت مشہور ہیں اس وقت سخت مشکل یں ہیں اور یہ مشکل ان کی اپنی پیدا کردہ ہے

     

    فوزیہ قصوری کا کہنا ہےکہ وہ تو دیکھ رہی ہیں کہ بہت جلد ایک تبدیلی ملک میں آنے والی ہے اور ملک بہت جلد مسائل سے نکل کرترقی کی طرف چل پڑے گا

    ادھر وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف عالمی سازشوں کا شکار ہے۔

     

     

     

    میڈیا سے گفتگو غلام سرور خان کا کہنا تھاکہ بیرونی قوتیں تحریک انصاف کوغیرمستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، مولانا پاکستان کی نہیں بلکہ کسی اور کی جنگ لڑرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تینوں اپوزیشن لیڈران لوٹا ہوا مال بچانےکی کوشش کررہے ہیں۔

    غلام سرور خان کا کہنا تھاکہ مائنس عمران کے بارے میں سوچا ہی نہیں جا سکتا، عمران خان اور تحریک انصاف پاکستان کی سلامتی کے ضامن ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ تین بڑے خاندانوں کومائنس کردیں تو اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار ہیں۔