Baaghi TV

Author: +9251

  • سندھ: خواتین پر مبینہ ظلم و زیادتیاں جاری تودوسری طرف بلاول بھٹوکا وفاق کےخلاف تحریک چلانے کا اعلان

    سندھ: خواتین پر مبینہ ظلم و زیادتیاں جاری تودوسری طرف بلاول بھٹوکا وفاق کےخلاف تحریک چلانے کا اعلان

    سندھ: خواتین پر مبینہ ظلم و زیادتیاں جاری تودوسری طرف بلاول بھٹوکا وفاق کےخلاف تحریک چلانے کا اعلان ،اطلاعات ہیں کہ خواتین پر مبینہ ظلم و زیادتی کیخلاف احتجاجی خط وزیراعلیٰ ہاؤس پر چسپاں کردیا گیا ہے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان، خواتین اور طالبات سے ظلم و زیادتی کے خلاف خط لے کر وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر پہنچ گئے اور احتجاج کیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس سے خط وصول کرنے کوئی نہیں آیا جس پر ارکان نے خط وزیراعلیٰ ہاؤس کی دیوار پر چسپاں کردیا۔

    ارکان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کنٹینر اور پولیس لگا کر راستے بند کردیے، وہ احتجاج کرنے نہیں بلکہ یادداشت پیش کرنے آئے تھے۔دوسری طرف حکومت مخالف احتجاج کے سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 27 فروری کے لانگ مارچ کے شیڈول کا اعلان کر دیا۔

    ملکی سیاست میں ہلچل پیدا ہونے لگی، پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے لانگ مارچ کے شیڈول کا اعلان کر دیا، لانگ مارچ 27فروری دوپہر کو مزارِ قائد کراچی سے روانہ ہوگا، پہلی رات سکھر میں قیام کرے گا، اس قافلے کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ کریں گے۔ جہاں پر بڑا جلسہ ہوگا جس سے بلاول بھٹو خطاب کریں گے۔

    اس سے اگلے روز 28فروی کو لانگ مارچ رحیم یار خان پڑاؤ کرے گا جبکہ حکومت مخالف مارچ یکم مارچ کو ملتان پہنچے گا، ملتان میں سابق وزیراعظم اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی میزبانی کریں گے۔

    2 مارچ کو پیپلز پارٹی کا مارچ ساہیوال کی تحصیل چیچہ وطنی پہنچے گا جہاں پر ایک لاکھ لوگ اکٹھے کرنے کا پلان ہے۔

    اس سے اگلے روز 3 مارچ کو پیپلز پارٹی کا مارچ لاہور پہنچے گا، رات کو لاہور میں متعدد بڑے جلسے کا انعقاد ہو گا، 4 مارچ کو لانگ مارچ لاہور سے روانہ ہوگا اور وزیر آباد قیام کریگا۔5 مارچ کو لانگ مارچ وزیرآباد سے گجر خان پہنچے گا جبکہ چھ مارچ کو لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا۔

  • ملک میں صدارتی نظام آرہا ہے؟صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ کا دوسرانام ہے :مولانا فضل الرحمٰن

    ملک میں صدارتی نظام آرہا ہے؟صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ کا دوسرانام ہے :مولانا فضل الرحمٰن

    ملک میں صدارتی نظام آرہا ہے؟صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ سمجھیں گے:اطلاعات کےمطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے اب ملک میں صدارتی نطام آنے والا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اگرصدارتی نطام لایا گیا تو اسے ڈکٹیٹرشپ ہی سمجھیں گے

    سربراہ پی ڈی ایم کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کے وسائل پر صوبے کے بچوں کا حق ہے، اگر کل سرائیکی صوبہ بنتا ہے تو پھرسرائیکی بچوں کا حق ہوگا، پارلیمانی طرز حکومت کا مطلب کوئی صدارتی نظام نہیں چلے گا، صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ کی علامت ہے، ایوب خان اور ضیا الحق کے صدارتی نطام نے نقصان پہنچایا ، آج پھر صدارتی نظام کی باتیں میثاق ملی کے خاتمے کی باتیں ہیں، ایسی تجاویز پاکستان کوایک بار پھر دولخت کرنے کی سازش نظر آتی ہیں۔

    لیہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئےپی ڈی ایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آئین کو کہیں سے بھی چھیڑا گیا تو ان کو پاکستان توڑنے کا آج سے ذمہ دارقراردیتے ہیں، آئین کو چھیڑنا ملک کو توڑنے کے مترادف ہوگا، اس ملک کے ہم مالک ہیں اور مالک قبضہ چھڑوانا جانتے ہیں، تبدیلی کے امکانات روشن ہو رہے ہیں، جس کشتی کو انہوں نے ڈبویا اس کو ساحل پر لانا چیلنج ہے ،

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 23 مارچ کے لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے، آئین کا ایک بنیادی ڈھانچہ ہے، بنیادی ڈھانچے کے چار عناصر ہیں، اسلام آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے، دوسرا عنصرجمہوریت ہے، اس کا مطلب پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ نہیں آسکتی، کوئی طالع آزما پاکستان کے اقتدار پر قبضہ نہیں کرسکتا، آئین کا تیسرا عنصر ملک کا وفاقی نظام ہے جبکہ چوتھا عنصر پارلیمانی طرز حکومت ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پاس کی تھی، آئین کہتا ہے قرآن وسنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا، مسئلہ آئین نہیں، بڑی مشکل آئین پرعملدرآمد نہ کرنا ہے، پارلیمنٹ ایسے لوگوں سے بھر دی جاتی ہے جن کو قرآن وسنت سے دلچسپی نہیں اور ہماری اسٹیبشلمنٹ بھی پاور پالیٹیکس کرتی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ جعلی اسمبلی ہے اس کے اندر جمہوریت کی روح نہیں ہے، جعلی اسمبلی نے فیٹیف کے دباؤ پرقانون سازی کرکے پاکستان کوغلام بنا دیا، نا اہل حکومت سال میں چارمرتبہ بجٹ پیش کرتی ہے،

  • پاکستان میں ہرسال آٹھ سے دس ہزاربچے کینسرمیں مبتلاہورہےہیں:70 فیصد وفات پاجاتے ہیں:رپورٹ

    پاکستان میں ہرسال آٹھ سے دس ہزاربچے کینسرمیں مبتلاہورہےہیں:70 فیصد وفات پاجاتے ہیں:رپورٹ

    کراچی:پاکستان میں ہرسال آٹھ سے دس ہزاربچے کینسرمیں مبتلاہورہےہیں:70 فیصد وفات پاجاتے ہیں:رپورٹ نے رونگھٹے کھڑے کردیئے :اطلاعات کے مطابق پاکستان میں آٹھ ہزار سے دس ہزار بچے ہر سال کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں سے تقریبا 70 فیصد بچے مختلف وجوہات کی بنا پر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انڈس چلڈرن کینسر اسپتال سے وابستہ ماہرین نے منگل کے روز بچوں کے کینسر کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹروں نرسوں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور مریضوں کے اہلخانہ نے بچوں میں کینسر کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک واک میں بھی شرکت کی۔

    بچوں میں کینسر کا عالمی دن ہر سال 15 فروری کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد بچوں میں کینسر کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا، کینسر میں مبتلا بچوں کی جلد تشخیص اور انہیں علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    انڈس چلڈرن کینسر اسپتال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال تقریبا آٹھ سے دس ہزار بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جبکہ ہزاروں بچے کینسر میں مبتلا ہونے کے باوجود تشخیص نہ ہونے کے سبب علاج سے محروم رہ جاتے ہیں اور اور جلد ہی انتقال کر جاتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈس چلڈرن کینسر ہسپتال پاکستان کا سب سے بڑا اسپتال ہے جہاں پر بچوں کو کینسر کے علاج کی جدید ترین سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں اور اب ان کا ادارہ بچوں کے کینسر کے علاج کی سہولیات بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں مہیا کرنے جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈس چلڈرن کینسراسپتال میں پاکستان کے تمام علاقوں سمیت افغانستان ایران اور دیگر ممالک سے بھی بچے علاج کے لیے لائے جاتے ہیں، بچوں میں کینسر اگر جلد تشخیص کر لیا جائے تو ایسے بچوں کے صحت یاب ہونے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

    بچوں کے کینسر کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بچوں کے کینسر اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد رفیع رضا کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں میں کینسر میں مبتلا بچوں کی صحت یابی کی شرح 80 فیصد سے زائد ہے جس کی سب سے بڑی وجہ وہاں پر علاج کی جدید ترین سہولیات کا ہونا، بچوں کے کینسر کے ماہرین کی موجودگی اور اور کینسر میں مبتلا بچوں اور ان کے والدین کے لیے سپورٹ سروسز کا ہونا شامل ہے۔

    ڈاکٹر رفیع رضا کا مزید کہنا تھا کہ کم ترقی یافتہ ممالک بشمول پاکستان میں سہولیات کی عدم فراہمی اور دیر سے تشخیص کے سبب بچوں میں صحت یابی کی شرح محض 25 سے 30 فیصد ہے لیکن عالمی ادارہ صحت کے طے شدہ اہداف کے مطابق پاکستان میں کینسر میں مبتلا بچوں کی صحت یابی کی شرح 2030 تک 60 فیصد کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    انڈس چلڈرن کینسراسپتال سے وابستہ معروف ماہر امراض اطفال اور کینسر اسپیشلسٹ سید احمر حامد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کینسر میں مبتلا 40 فیصد بچے اس وقت اسپتالوں میں لائے جاتے ہیں جب ان کا کینسر ناقابل علاج ہو چکا ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ کینسر ایک قابل علاج مرض ہے لیکن اس کے لیے عوام الناس میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اگر بچوں کے جسم میں غیر معمولی تبدیلیاں جن میں وزن کا کم ہونا، جلد کی رنگت تبدیل ہونا، شدید درد، جسم کے کسی حصے میں ابھار، گلٹی یا رسولی سامنے آنے کی صورت میں بچوں کو فوری طور پر کسی بڑے اسپتال میں ماہر امراض اطفال سے معائنہ کروانا چاہیے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں کینسر کی وجوہات کے حوالے سے کوئی واضح بات نہیں کہی جا سکتی لیکن تقریبا پانچ سے دس فیصد بچوں میں کینسر موروثی وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کینسر سے بچاؤ کے لیے بچوں کو صحت مند غذا، صحت مند طرز زندگی کی فراہمی اور اور کھیل کود سمیت ورزش کی سہولیات فراہم کرنا شامل ہیں۔

    انڈس اسپتال سے وابستہ نرسنگ سپروائزر محمد یونس بھٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اتائیوں کی بھرمار ہے جو کہ والدین کو گمراہ کرتے ہیں اور علاج کروانے والے بچوں کو اسپتالوں میں جانے سے روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے کینسر میں مبتلا بچوں میں شرح اموات بہت زیادہ ہے۔

    اس موقع پر معروف کینسر اسپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر شیمول اشرف، آغا خان اسپتال کے ماہر ڈاکٹر عاصم بیلگامی، ڈاکٹر واصفہ فاروق اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

  • وجیہہ سواتی قتل کیس، پہلےشوہرکی بند فائل 7سال بعد دوبارہ کھل گئی

    وجیہہ سواتی قتل کیس، پہلےشوہرکی بند فائل 7سال بعد دوبارہ کھل گئی

    راولپنڈی: وجیہہ سواتی قتل کیس، پہلےشوہرکی بند فائل 7سال بعد دوبارہ کھل گئی ،اطلاعات کے مطابق پاکستانی نژاد امریکی خاتون وجیہہ سواتی کے اغوا اور قتل کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے، ان کے پہلے شوہر کے قتل کے کیس کی فائل 7 برس بعد دوبارہ کھول دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق وجہیہ سواتی کے 7 سال قبل قتل ہونے والے پہلے شوہر کی بند فائل دوبارہ کھل گئی، ڈاکٹر مہدی علی کو چنیوٹ کے علاقے چناب نگر میں 2014 میں قتل کیا گیا تھا۔

    چنیوٹ پولیس نے وجیہہ سواتی کے قتل کیس میں گرفتار ان کے دوسرے شوہر رضوان حبیب سے تحقیقات کا فیصلہ کر لیا ہے، اس سلسلے میں چنیوٹ پولیس نے راولپنڈی پولیس سے رابطے کے بعد مقامی عدالت میں ملزم حوالگی و سفری ریمانڈ کی درخواست کی تھی۔

    چنیوٹ پولیس نے قانونی تقاضوں کے بعد سینٹرل جیل اڈیالہ سے ملزم رضوان حبیب، جو وجیہہ سواتی کے قتل کا اعتراف کر چکا ہے، کو اپنی تحویل میں لے لیا، اب اس سے ڈاکٹر مہدی علی کے قتل سے متعلق تفتیش کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق وجیہہ سواتی کے پہلے شوہر کے قتل کے الزام میں مرکزی ملزم رضوان حبیب کو باقاعدہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے، ملزم کو کل جسمانی ریمانڈ کے لیے چنیوٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    پاکستانی نژاد امریکی شہری وجیہہ سواتی اپنے سابق شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کا معاملہ حل کرنے پاکستان آئی تھیں۔ وجیہہ کے سابق شوہر نے انہیں قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس نے اپنی سابقہ اہلیہ کو پاکستان پہنچتے ہی اغوا کیا تھا اورقتل کرکے لاش ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے لکی مروت میں دفنائی تھی۔

  • لاہور شو کے لئے یوکرین سے لائی گئیں 4 نایاب ڈولفنزوفات پا گئیں

    لاہور شو کے لئے یوکرین سے لائی گئیں 4 نایاب ڈولفنزوفات پا گئیں

    لاہور:لاہور شو کے لئے یوکرین سے لائی گئیں 4 نایاب ڈولفنزوفات پا گئیں ،اطلاعات کے مطابق پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں ایک شو کے لیے یوکرین سے لائی گئیں 6 میں سے چار نایاب ڈولفن مر گئیں۔

    تفصیلات کے مطابق پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں ڈولفن شو کے للئے لائی گئیں 4 نایاب ڈولفن مچھلیاں مر گئیں ، شو کے لئے 6 مچھلیاں لائی گئی تھیں۔چار ڈولفنز کی موت کے بعد دو کیٹ فش کو یوکرین واپس بھیج دیا گیا ہے تاہم ڈولفنز کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

    یاد رہے سال 2019 میں ڈولفن شو کیلئے چار ڈولفن اور دو کیٹ فش یوکرائن سے لاہورلائی گئی تھیں، یہ شو صرف چند ماہ کے لیے منعقد کیا گیا تھا تاہم بعد میں کورونا کے باعث شو کو معطل کر دیا گیا تھا۔ڈولفنز کو وقت پر کھانا دیا جا رہا تھا اور ان کی دیکھ بھال کے لیے ایک غیر ملکی ڈاکٹر کو تعینات کیا گیا تھا۔

    یاد رہے گزشتہ ماہ محکمہ وائلڈ لائف نے دادو کنال سے ایک نابینا ڈولفن کو ریسکیو کرکے دریائے سندھ میں چھوڑ دیا تھا۔

    یاد رہے کہ سائنسدانوں کی ایک تحقیق کی مطابق ڈولفن مچھلیاں ایک دوسرے کو ’نام‘ سے پکارتی ہیں۔

    محققین نے انکشاف کیا ہے کہ بچے پیدا کرنے والی مچھلی کی یہ نسل ایک دوسرے کی شناخت کے لیے مخصوص سیٹی کا استعمال کرتی ہیں۔

    سکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کی ایک ٹیم کےمطابق تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب کسی ڈولفن کو اپنے لیے دی جانے والی آواز سنائی دیتی ہے تو وہ اس کا جواب دیتی ہیں۔یہ تحقیق ’پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

    یونیورسٹی کے سمندری ممالیہ ریسرچ کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر ونسنٹ جینک نے کہا: ’ڈولفنز ساحل سے دور کسی نشان کے بغیر سہ رخی ماحول میں رہتی ہیں اور ایسے میں انہیں ایک گروپ کی شکل میں ایک ساتھ رہنا ہوتا ہے۔‘

    ’یہ جاندار ایک ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں انہیں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہنے کے لیے انتہائي مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔‘بہت پہلے سے یہ شک کیا جا رہا تھا کہ ڈولفن مخصوص قسم کی سیٹی کا استعمال کرتی ہیں جس طرح انسان ناموں کا استعمال کرتے ہیں۔

    اس سے پہلے کی جانے والی تحقیق میں یہ پایا گيا تھا کہ ڈولفنز اس طرح کی مخصوص آوازوں کا کثرت سے استعمال کرتی ہیں اور اپنے گروپ کی دوسری ڈولفن کو ان آوازوں کو پہچاننا اور ان کی نقل کرنا سیکھنا ہوتا ہے۔

    لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ان سگنلز کو ’نام‘ کے طور پر استعمال کرنے کے بارے میں پہلی بار تحقیق کی گئی ہے۔

  • امریکی اتحاد جیت گیا :روس کی ہوش ٹھکانے آگئی:فوجیوں کی یوکرین کی سرحد سے واپسی شروع

    امریکی اتحاد جیت گیا :روس کی ہوش ٹھکانے آگئی:فوجیوں کی یوکرین کی سرحد سے واپسی شروع

    ماسکو: روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یوکرین کی سرحد کے قریب فوجی مشقیں مکمل کرنے کے بعد بعض روسی فوجی واپس آ رہے ہیں جب کہ امریکی محکمہ خارجہ نے جنگ کے خدشے کے پیش نظر اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا سفارت خانہ کیف سے منتقل کر رہے ہیں۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ روس کی جانب ایسے اقدام سے موجودہ کشیدگی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔روسی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مغربی اور جنوبی ملٹری اضلاع کے بعض فوجی دستوں نے مشقیں مکمل کرنے کے بعد فوجی اڈوں کی جانب واپسی شروع کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ لز ٹروس نے منگل کی صبح کہا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے ’قوی امکان‘ ہیں اور یہ بہت جلد ہو سکتا ہے۔ ساتھ میں انہو ں نے خبردار کیا کہ یورپ ممکنہ طور پر ’جنگ کے دہانے‘ پر ہے۔

    انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے ’پیچھے ہٹنے‘ کا کہا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ روس، یوکرین اور یورپ کی سکیورٹی کے لیے جنگ کے ’شدید نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب مشرقی یوکرین کے رہائشی یوری فیڈینسکئی روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر اپنے دو بچوں اور حاملہ بیوی کے ہمراہ بذریعہ ہوائی جہاز ملک سے باہر جا رہے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ وہ روسی صدر ولادی میر پوتن کو ’اپنے خاندان کی قسمت کا فیصلہ‘ کرنے کا اختیار نہیں دیں گے۔

    ہوائی اڈے پر موجود یوری نے کہا: ’کسی بھی لمحے حملہ ہو سکتا ہے۔ کیا حملہ ہوگا؟ یہ تو پوتن ہی کو معلوم ہے، لیکن ہم پوتن کو اپنے خاندان کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرنے دیں گے۔ ہم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں گے۔‘یوری نے مزید بتایا: ’میں اپنے خاندان کو جہاز تک لے کر جا رہا ہوں۔ میرے پانچ اور چار سالہ بچے سمیت ایک بچہ جس کے آنے کی امید ہے اور میری بیوی ہوائی جہاز کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم مشرقی یوکرین میں رہتے ہیں۔‘

    یوکرین سے نکلنے کا بنیادی مقصد بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’ہم جا رہے ہیں تاکہ بچوں کو امریکی سکولوں میں انگریزی سکھا سکیں، تاکہ پوتن جو یوکرین میں کرنا چاہتے ہیں، اس کے مخالف دیکھ سکیں۔‘ دوسری جانب یوکرین نے روس اور درجنوں مزید یورپی ممالک کے ساتھ ہنگامی میٹنگ بلائی ہے، جس میں یوکرینی بارڈر پر روسی افواج کے جمع ہونے کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔

    یوکرینی وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا کے مطابق روس نے یوکرین کی باضابطہ درخواست کو نظر انداز کر دیا ہے، جس میں اس سے یوکرینی سرحد پر ایک لاکھ فوجی اور جدید ہتھیار جمع کرنے کے حوالے سے وضاحت طلب کی گئی تھی۔ 1990 کے ایک معاہدے کی رو سے تنظیم برائے سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (او ایس سی ای) کے 57 رکن ممالک ایک دوسرے کو اپنی بڑی فوجی نقل و حرکت سے متعلق آگاہی دینے کے پابند ہیں۔ ممکنہ روسی حملے کے تناظر میں یوکرین کے شہری اور غیر ملکی افراد دباؤ کا شکار ہیں۔

  • امریکی بحریہ کے سینیئرافسر نے ایٹمی راز فروخت کرنے کا اعتراف کر لیا

    امریکی بحریہ کے سینیئرافسر نے ایٹمی راز فروخت کرنے کا اعتراف کر لیا

    واشنگٹن : امریکی بحریہ کے سینیئرافسر نے ایٹمی راز فروخت کرنے کا اعتراف کر لیا،اطلاعات کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک انجنئیر نے عدالت میں اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا کہ انہوں نے جوہری آبدوز کے راز فروخت کرنے کی کوشش کی تھی۔

    انجنئیر جوناتھن ٹوب امریکہ بحریہ میں 2012 میں ورجینیا کلاس کی آبدوزوں کے ری ایکٹر کے ڈیزائن پر کام کر رہے تھے۔ یہ ڈیزائن امریکی بحریہ کی آبدوزوں کی نئی ٹیکنالوجی ہے جو کسی اور ملک کے پاس نہیں ہے۔

    درحقیقت امریکی خفیہ ایجنسی حساس قسم کے پروجیکٹ پر کام کرنے والوں کی وفاداری کی جانچ پڑتال کرتی ہے ، جوناتھن ٹوب بھی اسی جانچ پڑتال کے نتیجے میں شکنجے میں آ گئے۔انجنئیر ٹوب سے ایف بی آئی کے خفتیہ ایجنٹ نے جوہری آبدوز کے راز شئیر کرنے کے عیوض معقول رقم دینے کا جھانسا دیا، جس میں ٹوب پھنس گئے۔

    اپریل 2020 میں جوناتھن ٹوب نے ’نامعلوم‘ شخص سے پیٹسبرگ میں ملنے کے لئے ابتدائی نمونے کے طور پر چند دستاویزات بیرون ملک پارسل کی۔جوناتھن ٹوب نے اس کے بعد مختلف خفیہ معلومات مونگ پھلی کے پینٹ بٹر سینڈوچ میں میموری کارڈ کے ذریعے ارسال کیں اور ہزاروں ڈالرز کی رقم وصول بھی کی۔

    گرفتاری کے بعد جوناتھن ٹوب پر یہ راز کھلا کہ جس شخص کو وہ غیر ملکی سمجھ کر راز فروخت کرتا رہا وہ دراصل ایف بی آئی کا ایک ایجنٹ تھا۔اعتراف جرم کے بعد انجنئیر جوناتھن ٹوب کو 12 سے 17 سال تک کی سزا ہونے کی امید ہے۔

  • شیروں کے دن بُرے آگئے:لاہورکے شیربرائے فروخت

    شیروں کے دن بُرے آگئے:لاہورکے شیربرائے فروخت

    لاہور: شیروں کے دن بُرے آگئے:لاہورکے شیربرائے فروخت ،اطلاعات کے مطابق سفاری زو کے 12 شیر فروخت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ، فروخت کیے جانے والے شیروں میں 2 نر اور 10مادہ شیر شامل ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق پنجاب کے دارلحکومت میں لاہور سفاری زو کے 12 شیر فروخت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ، فروخت کیے جانے والے افریقی شیروں کی عمریں ایک سے 2سال کے درمیان ہیں، جس میں 2 نر اور 10مادہ شیر شامل ہیں۔

    صوبائی محکمہ جنگلی حیات نے شیروں کی فروخت کے لیے ٹینڈر کی درخواستیں طلب کرلیں ہیں تاہم ابھی تک شیروں کی قیمتوں کا تعین نہ کیا جا سکا۔وائلڈ لائف حکام کا کہنا تھا کہ شیروں کو فروخت کے لیے رکھنے کا فیصلہ ان کی تعداد میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔

    یاد رہے وائلڈ لائف پنجاب نے نے ناکافی وسائل کی وجہ سے افریقی شیروں کے سات جوڑے سستے داموں فروخت کر دیے تھے۔انتظامیہ نے بتایا تھا کہ لاہور کے سفاری زو میں 14شیر21لاکھ میں فروخت کردئیے گئے، ایک شیرکی قیمت صرف ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کی گئی۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ سفاری پارک میں4شیروں کو ڈیڑھ ،ڈیڑھ لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ایک شیر کی قیمت35سے40لاکھ روپے ہے۔اس سے قبل لاہور سفاری زو میں شیروں کا جوڑا تین لاکھ میں فروخت کیا گیا تھا۔

  • چیئرمین فرسٹ ڈیمو کریٹک فرنٹ کرنل (ر) جاوید مجتبیٰ کا دورہ کراچی

    چیئرمین فرسٹ ڈیمو کریٹک فرنٹ کرنل (ر) جاوید مجتبیٰ کا دورہ کراچی

    کراچی : فرسٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کی ترجمان مسز نازنین انور نے اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق چیئر مین کرنل (ر)جاوید مجتبیٰ مورخہ 17فروری 2022سے مورخہ 22 فروری 2022تک سندھ کادورہ کریں گے،اعلامیہ کے مطابق چیئرمین مورخہ 17فروری کا کراچی ایئر پورٹ پر اتریں گے جہاں صوبائی صدر سندھ سردار بابر عباسی،کراچی ڈویزن کے صدر محمد اسحاق عباسی اور دیگر عہدیداران و کارکنان ان کا پرتپاک استقبال کریں گے جبکہ ایک جلوس کی شکل میں شکل میں صوبائی دفتر لے جایا جائیگا،چیئرمین مورخہ 18فروری 2022صبح 11.00بجے مزار قائد پر فاتحہ خوانی کریں گے،بعد ازاں وہ حیدرآباد روانہ ہوجائیں گے 1.00بجے حیدرآباد پریس کلب میں صحافیوں سے خطاب کریں گے جبکہ 4.00بجے ایک حیدرآباد میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے،مورخہ 19فروری 2022کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کریں گے،مورخہ 20 فروری 2022سے اجلاس میں شرکت کریں گے،مورخہ 21فروری 2022کو کورنگی کراچی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گے مورخہ 22فروری 2022کو صوبہ سندھ کے کارکنوں کے اجلاس میں شریک ہونگے جبکہ رات 9.00بجے لاہور کے لئے روانہ ہوجائیں گے۔

  • اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب

    اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب

    چارسدہ ( ) اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب
    اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی اجتماع ارکان برائے انتخاب ناظم مقام گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں اراکین کے علاوہ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ کلیم اللہ نے حصوصی شرکت کی
    اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ نے اراکینِ چارسدہ جمعیت سے استصواب رائے کے بعد سیشن 2022-23 کے لیے چارسدہ کالج کے طالب علم نسیم الرحمٰن کو ناظم منتخب کیا اور ان سے اپنے ذمہ داری کا حلف لیا
    اسی طرح ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اراکین سے مشاورت کے بعد فیصل خان کو انچارج شعبہ تنظیم و ترتیب و اہتمام دفتر، محمد اشفاق کو ناظم علاقہ کالجز، ذاکر اللہ کو ناظم علاقہ وسطی، مصباح اللہ کو ناظم علاقہ شمالی، ملک عبید کو ناظم تنگی سرکل جبکہ وحید اللہ کو صدر بزم شاہین مقرر کرکے ان سے ان کی زمہ داریوں کا حلف لیا
    اس موقع پر محمد اشفاق، ذاکر اللہ اور مصباح اللہ پر مشتمل 3 رکنی پلاننگ کمیٹی بنائی گئی جو چارسدہ میں جمیعت کے کام کے وسعت کے حوالے سے احباب اور ماہرین سے ملاقات کریگی
    ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اس موقع پر کہا کہ ضلع چارسدہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کو حقیقی معنوں میں طلباء کا ہراول دستہ بنائیں گے