Baaghi TV

Author: +9251

  • سرجانی ٹاؤن میں دوران ڈکیتی مسلح ملزمان کی ض17 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی

    سرجانی ٹاؤن میں دوران ڈکیتی مسلح ملزمان کی ض17 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی

    کراچی : شہرقائد کے علاقے سرجانی میں ڈکیتی کے دوران مسلح ملزمان نے لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور گھر سے سامان لوٹ کر فرار ہوگئے۔
    تفصیلات کے مطابق کراچی میں ڈکیتی کے دوران اجتماعی زیادتی کا ایک اور ہولناک واقعہ پیش آیا، سرجانی ٹائون میں مسلح ملزمان نے گھر میں گھس کر قیمتی سامان لوٹا اور لڑکی کو زبردستی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر فرارہوگئے۔

    پولیس حکام کے مطابق سرجانی سیکٹر 7 اے میں رات گئے 3ملزمان گھرمیں داخل ہوئے، ملزمان نے اسلحے کے زور پر گھر کے افراد کو یرغمال بنایا، لوٹ مار کی اور سترہ سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔اطلاع ملنے پرپولیس موقع پر پہنچی اورلڑکی کومیڈیکل کے لئے اسپتال منتقل کیا تاہم عباسی شہید اسپتال میں لیڈی ایم ایل اونہ ہونے کے باعث میڈیکل نہ ہوسکا۔

  • حکومت کے چار سال.تحریر و تحقیق ،ارم شہزادی

    حکومت کے چار سال.تحریر و تحقیق ،ارم شہزادی

    جولائی 2022 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو چار سال ہوجائیں گے ان چار سالوں میں تحریک انصاف کی حکومت عام لوگوں کے لیے کیا کرپائی یا کتنی زندگی آسان کر پائی اس کا جائزہ ضروری ہے۔ چالیس سال نواز، زرداری کی حکومت نے کیا اقدامات کیے اور اس حکومت نے کیا اقدامات کیے یہ جاننے کے لیے ان اقدامات کا گزشتہ حکومتوں کے اقدامات سے موازنہ ضروری ہے۔ ہم لوگوں نے عام طور پر یہی دیکھا اور سنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے، ترقی رک گئی ہے اور پاکستانی پاسپورٹ کی عزت نہیں رہی۔پاکستان کی تاریخ کا پہلا وزیراعظم ہےعمران خان جس نے ہالینڈ کی حکومت سے احتجاج کیا کہ گستاخانہ خاکوں کی نماٸش کو روکا جائے اور رکوایا اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔احتجاج صرف اپنے ملک کی توڑ پھوڑ تک محدود تھا۔عمران خان پہلا وزیر اعظم ہے جس نے دنیا کو بتایا کہ خودکش دھماکے سب سے پہلے مسلمانوں نے نہیں ہندووں نے شروع کیے ‏اور دہشتگردی کو اسلام سے جوڑنا غلط ہے۔

    عمران خان واحد لیڈر ہے جس نے دنیا کو بتایا کہ اسلام شدت پسند یا لبرل نہیں ایک ہی ہے جو ہمارے نبی محمد ﷺ کا ہے۔
    عمران خان نے دنیا بھر کے فورمز پر جا کے اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھاٸی۔ اور اس کا مؤثر فائدہ بھی ہوا ہے۔ کہ ان ممالک نے آزادی رائے کے نام پر مسلمانوں کے جذبات جو مجروح ہوئے ہیں اسکے پیش نظر آئندہ اس قسم کے اظہار رائے کی ممانعت کی ہے۔

    کرونا کی وجہ سے سری لنکا میں مرنے والے لوگوں کی لاشیں جلائی جارہی تھیں لیکن عمران خان نے جا کر سری لنکا حکومت سے ناصرف بات کی بلکہ مسلمانوں کو دفنانے کی اجازت بھی لے کر دی۔عمران خان واحد حکمران ہے جس نے پوری دنیا کو سمجھانے کی کوشش کی کہ آذادی اظہار کے پیچھے چھپ کے آپ ہمارے نبی کی گستاخی نہیں کر سکتے۔ آزادی رائے کے نام پر مقدس ہستیوں کی توہین نہیں کی جاسکتی۔ عمران خان نے سب مسلمانوں کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کی۔۔ ‏سعودیہ اور ایران جو کہ عرصہ دراز سے ایک دوسرے سے دور اور مخالف تھے ان کی صلح کرانے کی کوشش کی۔انکو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ عمران خان نے فحاشی کے خلاف آواز بلند کی۔

    عمران خان نے ختم نبوت کو بچوں کے سلیبس میں شامل کروایا۔ جس ختم نبوت سے ن لیگ نے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی وہ اب بچوں کے سلیبس میں واضح الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔عمران خان نے رحمت العالمین کانفرنس شروع کرواٸی۔ اس سے پہلے سرکاری سطح پر ایسی تقریبات نہیں ہوتی تھیں۔مدرسے کے بچوں کو بلکل معاشرے سے کٹ کر رکھا جاتا تھا جسکی وجہ سے انکے اندر احساس محرومی تھی عمران خان نے پہلی بار مدرسے کے بچوں کے لیے آواز اٹھاٸی کہ انہیں بھی دنیاوی تعلیم دی جاٸے تاکہ وہ بھی دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ عمران خان نے کہا کہ ترقی کرنی ہے تو سیرت نبوی صلی الله عليه والہ وسلم پر عمل کرو اور اس مقصد کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر Phd کرانا شروع کی۔

    عمران خان نے مدینہ کی ریاست بنانے کی بات کی۔ جسکا سب سے زیادہ مذاق بنایا گیا اور بنایا جارہا ہے۔ جبکہ بقاء اسی میں ہے کہ وہ تمام اقدامات کیے جائیں جو اسلامی معاشرے کے لیے ضروری ہیں جس کے لیے یہ وطن حاصل کیا گیا ہے۔ اور وہ اقدامات یا راہنما اصول صرف مدینہ کی ریاست سے ہی مل سکتے تھے۔‏پاکستان کو سپر پاور نہیں بلکہ فلاحی ریاست بنانے کی بات کی۔ کیونکہ فلاح ریاست ہی سپر پاور ہوتی ہے۔ مغرب میں سلمان رشدی گستاخ کے بعد ہر کچھ وقت کے بعد گستاخی ہوتی رہی۔ اس کو ہمیشہ کیلیے بند کروانے کیلیے عمران خان نے تمام مسلمان سربراہان کو خط بھیجے کہ آو ملکر یہ معاملہ اٹھائیں۔ ‏تاکہ حل ہو سکے اور ہمیشہ کیلیے یہ گستاخی کا سلسلہ بند ہو سکے۔ 47 سال بعد کامیاب سفارتکاری کے باعث OIC کا کامیاب اجلاس پاکستان میں منعقد کروا دیا جس سے پر دنیا اور عالم اسلام میں پاکستان پر اعتماد مزید بہتر ہوا بھارت کو 27 فروری 2020 کو اپنی پاور دیکھائی اور اس کی غلط فہمی دور کی کہ پاکستان کمزور نہیں ہے بلکہ پرامن ہے لیکن اگر کسی نے آمن خراب کرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‏عمران حکومت نے بھارت کو کشمیر پر بھرپور طریقے سے ننگا بھی کیا گیا اور عالمی فورمز پر بھارت کے خلاف لابنگ بھی کروا گئی۔ اس سے پہلے صرف آم کی ٹوکریاں دی جاتی تھیں اور ساڑھیوں کا تبادلہ ہوتا تھا۔ لیکن عمران خان نے بتایا کہ مسلہ کشمیر حل۔کیے بغیر نا تو خطہ میں امن ممکن ہے اور ناہی دوستی۔کئی دہائیوں بعد امریکا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر امریکا کو کسی نے ذلیل بھی کیا اور مزید اڈے دینے سے انکار بھی کیاہے تو وہ عمران خان ہے ورنہ اس سے پہلے امریکہ کے لیے پاکستان بلکل امریکہ کی کالونی نظر آتا تھا۔ جب چاہا ڈرون پھینک دیا جب چاہا اندرونی انتشار پھیلا دیا۔ زبانی مذمتی بیان جاری ہوجاتا تھا لیکن عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔وہ صرف عمران خان نے اٹھایا۔‏مزید امریکی جنگ کا حصہ بننے سے بھی انکار کیا اور اسکی سخت مخالفت بھی کی۔امریکا کو اس خطے سے اوٹ بھی کر دیا اور نقصان بھی نہیں ہوا۔بھارت نے اپنے اڈے بنارکھے تھے افغانستان میں جہاں سے براہ راست پاکستان میں دہشتگردی بھی کرواتا تھا اور دہشت گردوں کو کنٹرول بھی کرتا تھا امریکہ کےبعد یہ بھی بھاگ نکلا کیونکہ افغانستان میں زمین تنگ ہو گئی اور اربوں۔ ڈالرز کی انویسٹمنٹ بھی ڈوب گئی۔

    اب بات کرتے ہیں کہ پہلے کون کونسے ادارے خسارے میں تھے جو اب اللہ کے فضل اور عمران خان کی انتھک محنت سے منافع میں آئے ہیں۔تین سال پہلے 20 ارب ڈالر خسارہ تھا آج 1.8 ارب ڈالر سرپلس فارن کرنسی ریزروز کی بات کریں تو تین سال پہلے کل 7 ارب ڈالرز ، جوکہ آج 27.40 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ٹیکس کلیکشن کی بات کریں تو تین سال پہلے 3400 ارب روپے، پچھلے سال 4700 ارب تھی جو 2022 کے لئے ہدف 6400 ارب روپےرکھا گیا ہے اور ان شاء اللہ پورا ہوگا یہ حدف بھی۔تین سال پہلے 19.9 ارب ڈالر، آج 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا بدقسمتی دیکھیں بھارت نے ہمارے تمام سندھ طاس معاہدوں میں لیے گئے دریاؤں پر ڈیم بنائے لیکن ہم 51 سال تک اک بھی ڈیم نا بنا سکے ہمارے ڈیم ایوب دور کے ہیں اسکے بعد کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔اب ما شاء اللہ عمران خان کے دور میں 12 ڈیم پر کام شروع ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی مکمل فوکس تھا اس لیے سارے پاکستان کے لیے یکساں نصاب کے اطلاق پر کام کیا۔ پانچویں جماعت تک بطور سبجیکٹ قرآن پاک کا ناظرہ لازمی قرار دیا چھٹی کلاس سے بارہویں تک بطور سبجیکٹ قرآن پاک کا ترجمہ لازمی قرار ورنہ امتحانات میں کامیابی ناممکن پرائیویٹ سکولز کو بھی اسکا پابند کیا گیا۔ کرونا وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا جہاں ترقی یافتہ ممالک اس کی تباہ کاریوں سے نا بچ سکے وہیں ترقی پذیر ممالک کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔لیکن پاکستان نے جس طرح کرونا وبا کا مقابلہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔جہاں دنیا کی معیشیتیں سکڑ گیں وہیں پاکستان کی معیشیت اقوام متحدہ اور موڈیز کے مطابق 2022 میں ‏پاکستان کی جی ڈی پی 4•4 ہوگی عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستانی معیشیت پر اعتماد کا اظہار ہے۔ حکومت سمبھالتے ہی خزانہ خالی ہونے اور بیرونی قرضوں اور انکے سود کی ادائیگیوں کی وجہ سے 3 سال میں مختلف عالمی مالیاتی اداروں اور ملکوں سے 36 ارب ڈالرز قرضہ لیا گیا‏جس میں س 29.75 ارب ڈالر قرضہ واپس بھی کیا گیا ہے۔یعنی پچھلی حکومتوں کے لئے ہوئے قرضوں اور انکے سود کو واپس کرنے کے لئے خزانے میں کچھ نہ ہونے کی وجہ سے مزید قرض لینے پڑے ورنہ ملک کا دیوالیہ نکل جاتا اس وجہ سے ہمارے ایٹم بم اور سی پیک اور ریکوڈک ذخائر کو ‏شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے انڈسٹری کی وجہ سے معشیت میں 18 فیصد اضافہ جوکہ دس سال بعد ممکن ہوا۔ سیمنٹ کی سیل میں 242 فیصد اضافہ ہوا۔گاڑیوں کی سیل میں 100 فیصد اضافہ ہوا۔موٹر سائیکل کی سیل میں 3 گنا ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ٹریکٹر کی سیل میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب پیسہ پاس ہو۔ کسانوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ چاہے منڈیوں تک رسائی ہو یا اجناس کی پوری قیمت لیکن اس حکومت کی وجہ سے کسان کو 1100 ارب روپے اضافی ملے۔( گنے کی قیمت جو 70 سالوں سے 150 سے بڑھ نہ سکی تھی اسے بڑھا کر 280 روپے من کر دیا اور گندم جو 1300 سے اپر نہ جا سکی تھی آج وہ 2000 روپے من سے تجاوز کر چکی ہے یہ قیمتیں غریب کسان کو فائدہ دینے کے لئے بڑھائی گئیں ‏جس سے 1100 ارب روپیہ کسان زمیندار طبقہ کو زیادہ ملا۔

    کسان کو کسان کارڈ جس کے ذریعے سبسیڈیز براہ راست کسان تک پہنچ جائیں گی۔290 ارب روبے 18 سال میں 534 ارب روپے 3 سال میںپہلے صرف 110 ارب روپے، اب 260 ارب روپے۔احساس پروگرام میں 70 لاکھ خاندانوں کو 12000 روپے دئے گئے اور مزید یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ غریب غرباء مزدوروں کے لئے لنگر خانے بناۓ گئے۔ جنکا مذاق بنایا گیا حالانکہ پوچھیں کسی مزدور سے کہ روٹی پر کتنا خرچہ ہوجاتا تھا اسکی بچت کی گئی۔کھانے کے ساتھ ساتھ سڑکوں فٹ پاتھوں پر شدید سردی اور شدید گرمی میں سونے والے دور دراز سے شہروں سے آئے غریب ‏مزدوروں بچوں اور عورتوں کو تمام تر سہولیات سے آراستہ پناہ گاہیں بنا کر دیں۔تعلیم پر توجہ دی سکول کالجز پر توجہ دی لڑکیوں کے لیے لڑکوں سے زیادہ توجہ دی گئی۔لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لیے برابر (انڈر گریجوایٹس کیلئے)‏ جانشینی سرٹیفیکٹ حاصل کرنا گویا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا سالہا سال لگتے تھے اور عدالتوں کے دھکے کھانے پڑتے تھے اب نادرہ سے 15 دن میں حاصل کرسکتے ہیں۔کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت تقریباً40 لاکھ غریب خاندانوں میں، ایک فرد کو بلا سود قرضہ، ایک فرد کو ٹیکنیکل ٹریننگ کی سہولت دی جائے گی۔ انقلابی صحت کارڈ جو کہ متوسط طبقے اور غریب کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اپنا گھر اسکیم میں کرائے کے برابر بنک کو قسط دے کر اپنا گھر بنا سکتے ہیں جس سے کرائے سے بھی بچ جائیں گے اور اضافی بوجھ بھی نہیں پڑےگا۔ سندھ کی 14 ڈسٹرکٹس کیلئے، کراچی میں گرین لائن بس اسٹاپ پروجیکٹ مکمل کئی دہائیوں بعد کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا کام تقریبا مکمل ہوچکا ہے۔ کراچی ٹرانسمیشن لائن پروجیکٹ کی ‏تکمیل 50 سال بعد کراچی کے بند نالوں کو قبضہ مافیا سے بازیاب کروا کر انھیں چلا دیا گیا جس سے کراچی میں سیلاب کے خطرات بہت کم ہوگئےبلوچستان کی 9 ڈسٹرکٹس کے لئے،اور گلگت بلتستان کیلئے، 1300 ارب روپیہ مختص کیا ہے۔ایز آف بزنس میں پاکستان دنیا میں 28 درجے اوپر چلا گیا۔اوور سیز پاکستانیوں کے سروے کے مطابق پاکستان پر بزنس کنفیڈنس 108 فیصد بڑھا۔ جلالپور نہر منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں۔ چکوال سے میانوالی موٹروے سیالکوٹ سے جہلم موٹروے ‏لاہور تا ملتان تا سکھر موٹروے کی تکمیل آگے سے ملحقہ حیدرآباد موٹروے پر کام جاری۔ یہ وہ تمام اقدامات ہیں جن کو میڈیا نہیں دیکھاتا کیونکہ اس میں کہیں بھی میڈیا کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے یہ عوام کا پیسہ عوام پر ہی خرچ ہورہا ہے۔ امید ہے کہ 2023 کے الیکشن میں ان میں سے بہت سے منصوبے مکمل ہوچکے ہونگے اور باقی آخری مراحل میں ہونگے۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • ویلنٹائن ڈے: اس رومانوی دن کی تاریخ اور حقیقت کیا ہے؟؟

    ویلنٹائن ڈے: اس رومانوی دن کی تاریخ اور حقیقت کیا ہے؟؟

    ویلنٹائن ڈے ہمیشہ اتنا پیارا نہیں تھا۔ اس کی جنگلی ابتداء اور ارتقاء کے بارے میں جانیں۔
    ویلنٹائن ڈے پر، 14 فروری، دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اپنے پیاروں کو پھول، چاکلیٹ اور نرم محبت کے نوٹ پیش کرتے ہیں۔ جب کہ یہ چھٹی واقعی 19ویں صدی میں سیمنٹ کی گئی تھی، مورخین اس کی جڑیں جنگلی کافروں کی خوشیوں سے جوڑتے ہیں جو خود سینٹ ویلنٹائن کی پیدائش سے پہلے ہیں۔
    ویلنٹائن ڈے کی انوکھی ابتداء، ایک مسیحی تعطیل کے طور پر اس کا عروج اور اب مانوس وی ڈے روایات کے ظہور کے لیے پڑھیں۔
    اپنے ویلنٹائن ڈے کے لیے حکمت عملی بنانے میں آپ کی مدد کرنے کے لیے، یہاں بہترین ویلنٹائن ڈے چاکلیٹ کے لیے کچھ تجاویز ہیں، تحفے کے خیالات جو بینک کو نہیں توڑیں گے اور ویلنٹائن ڈے پر سنگل رہنے کے لیے ایک رہنما۔
    ویلنٹائن ڈے کی ابتدا
    چھٹی کے بیج جس کو ہم ویلنٹائن ڈے کے نام سے جانتے ہیں، وہ لوپرکالیا میں بوئے گئے تھے، جو ایک قدیم رومن تہوار جونو، شادی کی رومی دیوی کا احترام کرتا ہے۔
    15 فروری کو منعقد ہونے والے، لوپرکالیا نے کیپٹولین وولف کو بھی اعزاز بخشا، جو کہ ایک افسانوی مخلوق ہے جس نے روم کے جڑواں بانی رومولس اور ریمس کو قیاس کے طور پر دودھ پلایا تھا، جب وہ شیر خوار ہو کر چھوڑے گئے تھے۔ (بھیڑیا کے لیے لاطینی لفظ lupus ہے۔)
    کم از کم چھٹی صدی قبل مسیح میں، لوپرکالیا ایک جنسی طور پر چارج شدہ اور پرتشدد رسم تھی، جس میں کتے اور نر بکروں کی قربانی مردانگی کی علامت کے طور پر شامل تھی۔
    لوپرسی کے نام سے مشہور پادریوں نے قربانی کے چاقو کے خون سے اپنی پیشانیوں کو مسح کیا تھا، اور پھر دودھ میں بھیگی ہوئی اون سے صاف کیا جاتا تھا۔ لوپرسی بعد میں بکرے کی کھال کی پٹیاں کاٹ کر شہر میں برہنہ ہو کر بھاگتے تھے، قریبی خواتین کو خونی کھال سے کوڑے مارتے تھے۔
    پلوٹارک نے اپنی لائف آف سیزر میں لکھا، "بہت سے عہدے کی خواتین بھی جان بوجھ کر ان کی راہ میں حائل ہوتی ہیں اور، اسکول کے بچوں کی طرح، اپنے ہاتھ مارنے کے لیے پیش کرتی ہیں۔” "عقیدہ یہ ہے کہ اس طرح حاملہ کو پیدائش میں مدد ملے گی اور حمل تک بانجھ ہو جائے گی۔”
    Lupercalia کے دوران، مرد ایک جار سے ایک عورت کا نام منتخب کریں گے اور اسے تہوار میں لے جائیں گے۔ کچھ معاملات میں، جوڑے ایک رومانوی بانڈ قائم کریں گے.
    یہ رسم صدیوں تک جاری رہی، یہاں تک کہ روم میں عیسائیت کے عروج کے بعد، پوپ ہلیریئس نے مبینہ طور پر شہنشاہ انتھیمیئس سے 467 عیسوی میں اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
    تقریباً 30 سال بعد، پوپ گیلیسیئس نے 14 فروری کو سینٹ ویلنٹائن کی دعوت کے ذریعے کافر رسم کو بدلنے کی کوشش کی۔
    ویلنٹائن نامی عیسائیوں سے متعلق کئی کہانیاں ہیں جنہیں رومی شہنشاہ کلاڈیئس دوم نے پھانسی دی تھی، لیکن سب سے مشہور تیسری صدی کے ایک شہید کی تھی جو خفیہ طور پر عیسائی جوڑوں سے شادی کرنے اور ستائے ہوئے مومنوں کی مدد کرنے کے جرم میں قید تھی۔
    اس ویلنٹائن کو مبینہ طور پر 14 فروری 289 کو پھانسی دی گئی تھی۔
    ایک ابتدائی بیان میں، مستقبل کے سنت نے اپنے جیلر کی نابینا بیٹی کی بینائی بحال کر دی۔ بعد میں، لیجنڈ نے ایک خط شامل کیا جو اس نے لڑکی کو پھانسی سے پہلے دیا تھا، جس پر مبینہ طور پر "آپ کا ویلنٹائن” پر دستخط کیے گئے تھے۔
    ویلنٹائن ڈے کا ارتقاء
    شادی، محبت اور رومانس کے عناصر جو پہلے ہی Lupercalia کے ساتھ وابستہ ہیں نے اسے سینٹ ویلنٹائن فیسٹ ڈے کے لیے موزوں بنا دیا۔ قرون وسطیٰ کے یورپ میں، لوگوں کا خیال تھا کہ پرندے 14 فروری کو اپنے ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں۔ اپنی کتاب پارلیمنٹ آف فولز میں، چوسر نے تصور کیا کہ فطرت کی دیوی نے "سینٹ ویلنٹائنز” کے دن تمام پرندوں کو جوڑ دیا تھا۔
    15ویں صدی تک، یہ دن عدالتی محبت کے ضابطے سے منسلک ہو گیا جو یورپ میں رائج ہو گیا۔
    1400 میں، فرانس کے بادشاہ چارلس VI نے "طاعون کے خاص طور پر گندے مقابلے سے خلفشار کے طور پر” محبت کی عدالت کا چارٹر قائم کیا، آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ کے مطابق۔ اراکین 14 فروری کو پیرس میں عشائیہ کے لیے ملاقات کریں گے — مرد مہمانوں سے ایک حقیقی محبت کا گانا پیش کرنے کی توقع تھی، جس کا فیصلہ نوجوان خواتین کا ایک پینل کرے گا۔
    1600 کی دہائی میں پھولوں، کینڈی اور دلکش نوٹوں (جسے "ویلنٹائن” کہا جاتا ہے) کی اب مانی جانے والی روایات سامنے آئیں۔

  • وہ ممالک جہاں ویلنٹائن ڈے پر پابندی ہے۔

    وہ ممالک جہاں ویلنٹائن ڈے پر پابندی ہے۔

    ویلنٹائن ڈے سال کا ایک ایسا دن ہے جہاں ہمیں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ ہم اپنے پیاروں کو یہ بتائیں کہ ہم خوبصورت پھولوں اور تحائف کے ذریعے کیسا محسوس کرتے ہیں – جو یقیناً صرف 14 فروری تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
    مختلف مذہبی عقائد کے ساتھ، ان 7 ممالک نے ویلنٹائن ڈے پر پابندی لگا دی ہے۔
    ملائیشیا
    ملائیشیا کی 61 فیصد آبادی مسلمانوں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ویلنٹائن ڈے کا تصور اسلامی قانون کے خلاف ہے۔ 2005 کے بعد سے، اسلامی حکام نے فتویٰ کا مذہبی حکم تشکیل دیا، ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگا دی۔
    2011 میں، اسلامی اخلاقی پولیس (JAIS) نے 80 مسلم جوڑوں کو چھٹی منانے پر گرفتار کیا۔ افسران نے سیلنگور اور کوالالمپور میں متعدد ہوٹلوں پر چھاپے مارے، اینٹی ویلنٹائن ڈے مہم شروع کی اور چھاپے مارے۔
    انڈونیشیا
    اگرچہ ویلنٹائن ڈے بہت سے انڈونیشی باشندے مناتے ہیں، مذہبی حکام اور علما کا مقصد تعطیل پر پابندی لگانا ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد مظاہرے ہوئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ویلنٹائن ڈے شادی سے پہلے جنسی تعلقات اور شراب نوشی کو فروغ دیتا ہے، یہ دونوں ہی اسلامی قانون کے سخت خلاف ہیں۔
    اس کے باوجود، ویلنٹائنز دراصل جکارتہ میں مقبول ہے، جہاں کمپنیاں تقریبات کو کمانے کے لیے کوشاں ہیں۔
    ایران
    حالیہ برسوں میں، ایرانی حکام کا مقصد ویلنٹائن کی تقریبات کو روکنا ہے، اس چھٹی کو "زوال پذیر مغربی رواج” قرار دیتے ہیں اور دکانوں اور ریستورانوں کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر وہ ویلنٹائن ڈے کے تحفے فروخت کرتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    اس کے باوجود تہران میں متعدد ریستوراں مکمل بک ہو چکے ہیں اور کئی دکانوں پر ٹیڈی بیئر اور چاکلیٹ فروخت ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ اس حقیقت کی وجہ سے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ادارے یہ دیکھنے کے لیے تلاشی کا استعمال کرتے ہیں کہ آیا انسپکٹر ویلنٹائن ڈے گشت پر ہیں۔
    ایران
    حالیہ برسوں میں، ایرانی حکام کا مقصد ویلنٹائن کی تقریبات کو روکنا ہے، اس چھٹی کو "زوال پذیر مغربی رواج” قرار دیتے ہیں اور دکانوں اور ریستورانوں کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر وہ ویلنٹائن ڈے کے تحفے فروخت کرتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    اس کے باوجود تہران میں متعدد ریستوراں مکمل بک ہو چکے ہیں اور کئی دکانوں پر ٹیڈی بیئر اور چاکلیٹ فروخت ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ اس حقیقت کی وجہ سے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ادارے یہ دیکھنے کے لیے تلاشی کا استعمال کرتے ہیں کہ آیا انسپکٹر ویلنٹائن ڈے گشت پر ہیں
    پاکستان
    یہ ملک ویلنٹائن ڈے منانے کے حوالے سے متعدد فسادات کا شکار رہا ہے۔ 2014 میں، پشاور اور پاکستان کی دو یونیورسٹیاں اسلامی قانون کی نظر میں ویلنٹائن ڈے کے نظریے پر ایک دوسرے کے عقائد سے ٹکرا گئیں۔
    طلباء نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں دونوں طرف سے گولیاں چلائی گئیں جس سے تین طلباء زخمی ہوگئے۔
    7 فروری 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ویلنٹائن ڈے پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس دن کو مغرب سے ثقافتی درآمد اور "اسلام کی تعلیمات کے خلاف” ہونے کا دعویٰ کیا۔
    سعودی عرب
    سعودی عرب میں عوامی محبت کا مظاہرہ کرنا ممنوع ہے اس لیے ویلنٹائن ڈے کا تصور اس ملک کے نظریات سے میل نہیں کھاتا۔
    اس چھٹی کو منانا سخت سزا کا باعث بن سکتا ہے۔ 2014 میں پانچ سعودی شہریوں کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر چھ خواتین کے ساتھ رقص کرتے ہوئے پائے جانے پر 39 سال جیل کی سلاخوں اور ان کے درمیان چھڑی کے 4500 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔
    جب کہ آپ کسی بھی دوسرے دن محبت کی تھیم والے تحائف خرید سکتے ہیں، سرخ گلاب اور محبت سے متعلق دیگر اشیا پر ویلنٹائن ڈے پر سختی سے پابندی ہے، بشمول سرخ لباس۔
    روس
    تکنیکی طور پر، روس ایک قسم کا ویلنٹائن ڈے مناتا ہے، لیکن یہ روایتی تہوار سے بہت مختلف ہے۔ 8 مارچ کو، روسی خواتین کا عالمی دن اسی طرح مناتے ہیں جس طرح مغربی ثقافتیں ویلنٹائن ڈے مناتی ہیں۔
    اس دن ایک دوسرے کو پھول اور چاکلیٹ تحفے میں دینا بہت عام ہے، جیسا کہ شوہروں اور بوائے فرینڈز سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کھانا پکانے اور صفائی ستھرائی کا سارا کام کریں، خواتین کو پورا دن آرام کرنے دیں۔
    ایک سنت کی وجہ سے ویلنٹائن ڈے منانے کے بجائے، روس دنیا بھر کی خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اور مساوی حقوق کے لیے اپنی خواتین کے لیے محبت کا جشن منانے کا انتخاب کرتا ہے۔

  • چودھری برادران کی شہبازشریف کوپاکستان مسلم لیگ شامل ہونےکی دعوت:شہبازشریف نےغورشروع کردیا

    چودھری برادران کی شہبازشریف کوپاکستان مسلم لیگ شامل ہونےکی دعوت:شہبازشریف نےغورشروع کردیا

    اسلام آباد:چودھری برادران نے شہباز کو (ق) لیگ جوائن کرنیکی دعوت دےدی :اہم شخصیت کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی اہم شخصیت نے دعویٰ کیا ہے کہ اطلاعات ہیں کہ چوہدری برادران نے شہبازشریف کو پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے ،ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شہبازشریف نے اس پیشکش پر غورشروع کردیا ہے

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق چودھری برادران نے شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ جوائن کرنے کی دعوت دی ہے۔

     

     

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی چودھری برداران سے ملاقات پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرطنزیہ پیغام میں کہا کہ شہباز شریف نے بھی (ق) لیگ جوائن کرنے بارے سنجیدگی سے سوچنے کا کہا ہے۔

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ ویسے (ق) میں کم از کم (ن) سے زیادہ عزت ملے گی، یہاں تو بیچارے صرف پاؤں پڑنے کے لئے رکھے گئے ہیں، کبھی سیاسی مخالفوں کے اور کبھی اپنوں کے۔

     

     

    دوسری طرف اپوزیشن لیڈر شہباشریف کی 22 سال بعد چوہدری برادران سے ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

    حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سیاسی مخالفین کو قریب لے آئی، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان 22 سال بعد سیاسی ملاقات ہوئی۔

    ملاقات کے لئے شہباز شریف چوہدری برادران کی رہائشگاہ پہنچے جہاں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے شہباز شریف کا استقبال کیا۔

     

    مسلم لیگ کے وفد میں خواجہ سعد رفیق ،رانا تنویر اور عطا تارڑ شامل ہیں جبکہ اہم ترین ملاقات میں مسلم لیگ (ق) کے وفد میں چوہدری شجاعت ،چوہدری پرویز الٰہی ،سالک حسین اور شافع حسین شامل تھے۔

     

    ذرائع کے مطابق ایک گھنٹہ 20 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں شہبازشریف نے عدم اعتماد کی بات نہیں چھیڑی اس لیے سعدرفیق اور ایازصادق بھی پی ڈی ایم فیصلے پر چپ رہے۔

    ق لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیال تھا شہبازشریف عدم اعتمادکی بات چھیڑیں گے شاید ن لیگ والوں کوہمارےجواب کاعلم تھا۔

  • میاں چنوں: ‘بھائی ذہنی طور پر مفلوج تھا اوراس کا علاج جاری تھا’بے گناہ قتل کیا گیا:مقتول کے بھائی کا انکشاف

    میاں چنوں: ‘بھائی ذہنی طور پر مفلوج تھا اوراس کا علاج جاری تھا’بے گناہ قتل کیا گیا:مقتول کے بھائی کا انکشاف

    میاں چنوں‌ :میاں چنوں: ‘بھائی ذہنی طور پر مفلوج تھا اوراس کا علاج جاری تھا’بے گناہ قتل کیا گیا:مقتول کے بھائی کا انکشاف،اطلاعات کے مطابق خانیوال کے علاقے میاں چنوں میں توہینِ مذہب کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے ذہنی معذور شخص مشتاق کے بھائی کا کہنا ہےکہ ان کا بھائی16،17 سال سے ذہنی طور پر مفلوج تھا اور ملتان کے ایک ڈاکٹر سے اس کا علاج ہو رہا تھا۔

    میڈیا ذرائع کے مطابق ایک نجی ٹی وی میں اپنی اور پانے بھائی کی بے بسی پر بات چیت کرتے ہوئے مقتول مشتاق احمد کے بھائی رانا ذوالفقار کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کو رسیوں سے باندھ کر تشدد کیا گیا، اس کے ہاتھوں کی انگلیاں کاٹی گئیں، اس کے مرنے کے بعد بھی لاش کو مارتے رہے۔

    رانا ذوالفقارکا کہنا تھا کہ ان کا بھائی 16،17 سال سے ذہنی طور پر مفلوج تھا اور اس کا علاج جاری تھا، میاں چنوں میں ان کا بھائی ہمشیرہ سے ملنے گیا تھا، وہاں کیا ہوا، اس حوالے سے ہمیں علم نہیں ہے۔انہوں نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہےکہ ہمیں انصاف دلوائیں اور ملزمان کو سزا دی جائے۔

    خیال رہےکہ گذشتہ روز خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں مبینہ طور پر توہینِ مذہب کا الزام لگا کر ہجوم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا۔

    پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف دہشت گردی اور سنگین جرائم کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، سی سی ٹی وی ویڈیوز کی مدد سے مزید ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں، اب تک 85 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

  • روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    واشنگٹن :روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے۔سی این این کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یوکرین کی سرحد کے قریب روس ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو اکٹھا کرچکا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے، روس یوکرین سرحد کے علاوہ یوکرین سے الگ ہونے والے علاقے کریمیا میں بھی روس کی افواج موجود ہیں جبکہ روس کا اتحادی ملک بیلاروس بھی روس کا لانچنگ پیڈ ہوسکتا ہے۔

    اُدھر پیسیفک جزائر کے قریب امریکی آبدوز کی جانب سے روسی سمندری حدود کی خلاف ورزی پر روس نے امریکی فوجی اتاشی کو طلب کرلیا ہے۔بگڑتے حالات کے باعث سوئیڈن اور اردن نے بھی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کردی جبکہ ہالینڈ کی ائیر لائن نے یوکرین کیلئے اپنی پروازیں روک دی ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز روس یوکرین کشیدگی کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے پیوٹن سے کہا ہے کہ روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا، روسی جارحیت سے بڑے پیمانے پر مشکلات ہوں گی، روس کا مؤقف کمزورپڑجائےگا۔

  • یاد رکھنا ! ایک دن باحجاب لڑکی ہی بھارت کی وزیراعظم بنے گی، اسد الدین اویسی

    یاد رکھنا ! ایک دن باحجاب لڑکی ہی بھارت کی وزیراعظم بنے گی، اسد الدین اویسی

    کانپور: بھارت میں مسلم سیاست دان اور رکن اسمبلی اسد الدین اویسی نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میری بات یاد رکھنا کہ ایک نہ ایک دن باحجاب لڑکی ہی بھارت کی وزیر اعظم بنے گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر حیدرآباد سے لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو ان شااللہ، اگر وہ یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ابا امی میں حجاب پہنوں گی، تو ابا امی پہلے بولیں گے بیٹا پہن، تجھے کون روکتا ہے، ہم دیکھیں گے۔

    اسد الدین اویسی نے مزید کہا کہ حجاب پہنیں گے، نقاب پہنیں گے، کالج بھی جائیں گے۔ ساتھ ہی کلکٹر بھی بنیں گے، ڈاکٹر بھی بنیں گے اور بزنس مین بھی کانپور کے عوام تم یاد رکھنا میں زندہ رہوں یا نہ رہوں، دیکھنا ایک دن اس ملک میں ایک بچی حجاب پہن کر وزیر اعظم بھی بنے گی۔

     

     

    حجاب پر پابندی کے معاملے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کی پاداش میں پولیس نے اسد الدین اویسی کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے کئی عہدیداران کو حراست میں لے لیا ہے۔

    پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے عہدیداران کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کی پابندی کے خلاف گجرات کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کی تیاری کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں کالج کی ایک باحجاب طلبہ نے ہندو انتہا پسند طلبا کے جتھوں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کیا تھا جس پر دنیا بھر میں مسکان کو سراہا جا رہا ہے۔

  • اپنےہی گھرمیں شکست‘فضل الرحمان پربنوں والوں نے     عدم اعتماد کردیا:11جماعتی پی ڈی ایم شکست سےدوچار

    اپنےہی گھرمیں شکست‘فضل الرحمان پربنوں والوں نے عدم اعتماد کردیا:11جماعتی پی ڈی ایم شکست سےدوچار

    ڈیرہ اسمٰعیل خان :اپنے ہی گھر میں عبرتناک شکست‘فضل الرحمان پربنوں والوں نےعدم اعتماد کردیا:11جماعتی پی ڈی ایم شکست سے دوچار ،اطلاعات ہیں کہ کے پی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مولانا فضل الرحمن کو اپنے ہی گھر اور اپنے ہی گڑھ سے عبرتناک شکست ہوئی ہے ،

    ڈیرہ اسماعیل خان میں میئر انتخابات کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے عمرامین گنڈاپور نے 11 جماعتی پی ڈی ایم اتحاد کو عبرتناک شکست دے کر مولانا فضل الرحمن کے اپنے ہی علاقے کے لوگوں کی طرف سے عدم اعتماد کردیا ہے ہے

    ابتدائی نتائج کچھ یوں ہیں کہ ؛بنوں سے اسرار وزیر جیت گئے ،کرک سے عنایت حٹک گئے ، باجوڑ سے ڈاکٹر خلیل جیت گئے اور مولانا فضل الرحمن کے گھر اور گڑھ ڈی آئی خان سے عمر امین جیت گئے

    خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلےمرحلے کی 13 اضلاع میں ہونے والی ری پولنگ کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں سٹی میئر کی نشست پر وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے بھائی تحریک انصاف کے امیدوار عمر امین گنڈا پور کوواضح برتری حاصل ہے۔

    ذرائع کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) میں میئر کی نشست پر ہونے والے الیکشن میںبریکنگ:- ڈی آئی خان:302 میں سے 214 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی نتیجہ آچکا ہے جس کے مطابق پی ٹی آئی کے عمر امین گنڈاپور 45 ہزار 414ووٹ لےکر آگےجبکہ جے یو آئی(ف)کے کفیل نظامی 25 ہزار 184 ووٹ لے کر پیچھے ہیں‌

     

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے گیارہ جماعتی اتحاد کو مولانا کے آبائی شہر میں بھاری شکست ہوئی ہے پی ڈی ایم کی عدم اعتماد کی پوری داستان کو شدید جھٹکا۔
    بنوں سے اسرار وزیر، کرک سے عنایت خٹک، باجوڑ سے ڈاکٹر خلیل اور ڈی آئی خان سے عمر آمین جیت گئے۔

     

    دوسری طرف تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے ٹوئٹر بیان میں کہا ہے کہ ماضی سےسیکھتےہوئےتحریک انصاف کا بھرپورکم بیک کیا ہے سٹی میئرکےانتخابات میں واضح برتری ،ویلڈن پی ٹی آئی۔

    انہوں نے کہا کہ عمرامین گنڈاپور بہت بڑےمارجن سے میدان مارتے ہوئے، ان کوان کےگڑھ میں شکست فاش، پی ڈی ایم پاش پاش۔

    معاون خصوصی ڈاکٹر شہبازگل نے کہا کہ فضل الرحمان کو اپنےگھر کی تحصیل سےعبرتناک شکست، مولانافضل الرحمان کے گھر سے ان پر عدم اعتماد ہے۔

    وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے ٹوئٹر پر ردعمل میں لکھا کہ مولانا پر 2018 کی طرح ڈی آئی خان کے عوام نے ایک بار پھر عدم اعتماد کر دیا، عمرامین گنڈا پور نے تحصیل مئیر کا الیکشن واضح اکثریت سے جیت لیا۔

  • کرپشن کے خلاف جنگ اولین ترجیح ہے: چیئرمین نیب

    کرپشن کے خلاف جنگ اولین ترجیح ہے: چیئرمین نیب

    اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بدعنوانی کے خلاف جنگ کو اولین ترجیح دیتا ہے، بدعنوانی کے ذریعے اربوں روپے لوٹنے والوں کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچا یا جاے گا۔انہوں نے کہا کہ نیب کا کسی فرد، جماعت یا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس کا تعلق صرف ملک سے ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے ’’احتساب سب کے لئے‘‘ کی پالیسی کے تحت آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی انسداد بدعنوانی کی جامع حکمت عملی وضع کی جس کو معتبر ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے سراہا ۔انہوں نے کہا کہ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتبار کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں نہ صرف بڑی مچھلیوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا ہے بلکہ 1405 ملزمان کو معزز احتساب عدالتوں نے نیب کی موثر پیروی کی بدولت اکتوبر 2017ء سے دسمبر 2021ء تک نہ صرف سزا سنائی بلکہ نیب نے موجودہ انتظامیہ کے دور میں 539 ارب روپے بلاواسطہ اور بلواسطہ طور پر برآمد کئے ایسی کارکردگی انسداد بدعنوانی کے کسی دوسرے ادارے نے نہیں دکھائی، نیب نے 1999ء میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک 821ارب روپےبلاواسطہ اور بلاواسطہ برآمد کئے اس وقت مختلف احتساب عدالتوں میں 1237بدعنوانی کیسز زیر سماعت ہے ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 1335 ارب روپے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب سارک ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، ان ممالک میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان شامل ہیں، نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے، نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کے کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے، نیب نے پاکستان میں جاری سی پیک منصوبوں کی نگرانی اور بدعنوانی کی روک تھام کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں، نیب نے نیب راولپنڈی میں جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے،نیب ہیڈ کوارٹرز میں پاکستان اینٹی کرپشن ٹریننگ اکیڈمی قائم کی گئی ہے، اس اکیڈمی کا مقصد انویسٹی گیشن افسران کو وائٹ کالر کرائمز کی تحقیقات کے لئے جدید تکنیک سے آگاہ کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیب نے مستقبل کی قیادت کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کے لئے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آگاہی پھیلانے کے لئے ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے ہیں جوکہ قابل تعریف اقدام ہے، اس تناظر میں ملک کے مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پچاس ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں، نیب میں شفافیت اور میرٹ یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، شکایت کی جانچ پڑتال سے لے کر بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے تک ہر مرحلے پر اس کی نگرانی کی جاتی ہے اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جائے، اس تناظر میں اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا گیا ہے تاکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق انویسٹی گیشن کے معیار میں بہتری لائی جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ نیب دوسروں کے احتساب کے ساتھ ساتھ خود احتسابی پر بھی یقین رکھتا ہے، نیب غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے مقدمات اور بدعنوانی کے میگاکرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے، غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں نے ہزاروں معصوم لوگوں کو ان کی محنت کی کمائی سے محروم کیا، نہ ہی انہیں پلاٹ دیئے اور نہ ہی انہیں ان کی محنت سے کمائی گئی رقم واپس کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیب بزنس کمیونٹی کا بہت احترام کرتا ہے جو کہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور انڈر انوائسنگ کے معاملات قانون کے مطابق ایف بی آر کو بھیجے جا چکےہیں، بزنس کمیونٹی کی شکایات کے ازالے کے لئے نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایک ڈائریکٹر کی سربراہی میں خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے، بزنس کمیونٹی کے رہنمائوں نے ان کے مسائل کے بروقت حل کے لئے ذاتی دلچسپی لینے پر نیب کی کوششوں کو سراہا ہے، نیب عوام دوست ادارہ ہے، نیب میں آنے والے تمام افراد کی عزت نفس کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔