Baaghi TV

Author: +9251

  • ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایت پرانٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایت پرانٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔

    اسلام اباد :ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایت پرانٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔،اطلاعات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی صاحب کی ہدایت پر انٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے آج بروز منگل 8 فروری 2022 کو سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی کا کہنا ہے کہ یہ دن عوام کو انٹرنیٹ کے محفوظ اور مثبت استعمال کے بارے میں شعور فراہم کرنے کے حوالے سے آگاہی کا دن ہے۔

    اس موقع پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محمد جعفر صاحب اور ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق پرویز صاحب کی ہدایات پر اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے سائبر کرائمز ونگ کے افسران نے بریفنگ دی۔

    اس موقع پر بچوں کے محفوظ اور مثبت انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے کچھ اہم پیرنٹل کنٹرول سوفٹ ویئرز کو بھی متعارف کروایا گیا۔ جس کے استعمال سے والدین اپنے بچوں کی انٹرنیٹ سرگرمیوں کی نگرانی کر سکیں گے۔

    مزید برآں اینٹی چائیلڈ پورنو گرافی سیل کے انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمران حیدر صاحب نے چائیلڈ پورنو گرافی پر مبنی کیسز اور ان میں سائبر کرائم ونگ کے افسران کی کاوشوں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی اور سال 2021 میں ساٸبر مجرمان کی گرفتاریوں اور عدالتوں کی جانب سے دی گٸ سزاٶں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محمد جعفر صاحب نے افسران کی کارکردگی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں سراہا اور انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے حوالے سے سائبر کرائم ونگ کی آگاہی مہم کو جاری رکھنے کی ہدایات دیں۔ ڈاٸریکٹر ساٸبر کراٸم ونگ نے امید ظاہر کرتے ہوٸے کہا کہ سائبر کرائم ونگ کی مزکورہ مہم سے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور جراٸم کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔

    مزکورہ دن کی مناسبت سے آؤٹ ڈور ایکٹیویٹی کے طور پر آگاہی مہم کی انچارج اسٹنٹ ڈائریکٹر زونی اشفاق صاحبہ کی سربراہی میں فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں بھی آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں اساتذہ اور سٹوڈنٹس نے کرونا ایس او پیز کو مد نظر رکھتے ہوئے شرکت کی اور ادارے کے اس اقدام کو سراہتے ہوٸے اسے ملک گیر سطح پر جاری رکھنے کی درخواست کی۔

  • ایف آئی اے کا جعلی کرونا ٹیسٹ رپورٹ دینے والی  لیبارٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    ایف آئی اے کا جعلی کرونا ٹیسٹ رپورٹ دینے والی لیبارٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    اسلام آباد: ایف آئی اے کا جعلی کرونا ٹیسٹ رپورٹ دینے والی لیبارٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن ،اطلاعات ہیں کہ ایف آئی اےنے آج اسلام آباد میں موجود جعلی کرونا ٹیسٹ رپورٹ دینے والی لیبارٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے اور بڑے بڑےنام قانون کی گرفت میں آچکے ہیں‌

    اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر G8 اور Blue area میں قائم ٹیسٹنگ لیبز Biogene Lab and Diagnostic اور Nimra Diagnostic کے خلاف ایکشن لیا گیاہے

    یہ بھی بتایا گیاہے کہ دونوں لیبارٹریز کے مالکان اور ملوث ملازمین کے خلاف مقدمات درج کیئے گئے ہیں

    اسلام آباد سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ دونوں لیبارٹریز کی طرف سے جاری کردہ جعلی Negative رپورٹ کو ایف آئی اے امیگریشن حکام نے مشکوک جانتے ہوئے بغرض قانونی کارروائی FIA اسلام آباد زون بھجوایا.دوران انکوائری ایئرپورٹ سے بھجوائی گئی رپورٹس کا ریکارڈ لیبارٹریوں کے سسٹم اور مینول ریکارڈ میں نہ پایا گیا.

    یہ بھی حقائق سامنے آئے ہیں‌ کہ لیبارٹری ملازمان اور مالکان کے ٹریول ایجنٹس کےساتھ whatsapp پر رابطے تھے .یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ٹریول ایجنٹس دونوں لیبارٹریز میں تعینات عملے کو صرف پاسپورٹ کی کاپی اور ٹکٹ بھجواتے تھے.

    اسلام آباد سے آمدہ اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیاہے کہ جنکی بغیر سیمپل کے پانچ سے دس منٹ میں نیگیٹو کرونا رپورٹ تیار کر کے ٹریول ایجنٹ کو واپس بھجوائی جاتی تھی.جعلی رپورٹ صرف بیرون ملک سفر کرنے والے مسافران کو دی جاتی تھی.سکینڈل میں دیگر لیبارٹریز, ایئرلائنز اور سرکاری اہلکاران کے ملوث ہونے والے افراد گرفتار ہوچکے ہیں‌

    اس سلسلے میں ڈائریکٹر اسلام آباد زون وقار احمد چوہان کی ہدایات پر ڈپٹی ڈائریکٹر زبیر احمد شیخ کی سربراہی میں نے ریڈنگ ٹیم تشکیل دی گی.ٹیم نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئےNIH کے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی 2 labs کے نو ملازمین کو گرفتار کیا.ملزمان چند روپوں کی خاطر بغیر کسی sample کے جعلی covid رپورٹس بنانے میں ملوث پائے گئے.

    ملزمان نے نہ صرف جعلی رپورٹ جاری کی بلکہ قیمتی جانوں سے کھیلتے ہوئے ملک پاکستان کے صحت کی پالیسی کو انٹرنیشنل لیول پر بد نام کرنے کی کوشش کی.ملزمان کا مجاز عدالت سے ریمانڈ حاصل کرلیا گیا اور مزید تفتیش جاری ہے. ڈائریکٹر اسلام آباد زون وقار احمد چوہان کا کہنا ہے کہ ملک پاکستان کی بدنامی کا باعث بننے والے عناصر کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا.

  • قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے:ڈاکٹرشعیب پرویزکا کشمیرسیمنارسے خطاب

    قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے:ڈاکٹرشعیب پرویزکا کشمیرسیمنارسے خطاب

    لاہور:قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے، پھر بات آگے بڑھے گی ورنہ اگرسابقہ حکمرانوں کی طرح کشمیرپالیسی رہی توپھرکشمیری کبھی آزاد نہیں ہوسکیں گے،کچھ کرنا ہوگا:ڈاکٹرشعیب پرویز نے سیدھی اور سچی بات کرکے پالیسی سازوں کو ایک نہایت ہی مفید مشورہ دے کر ایک گائیڈ لائن دے دی ہے ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے کشمیریوں کی تحریک آزادی پر یہ محققانہ مشورہ یو نیورسٹی آ ف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں‌ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئےدیا ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے پاکستان کے ذمہ داروں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ براہ مہربانی قومی سلامتی پالیسی کیطرح قومی کشمیرپالیسی بھی بنانی چاہیے ، ایک ٹھوس پالیسی ہوگی تو معاملات آگے بڑھیں گے

    یو نیورسٹی آ ف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرشعیب پروز کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کے لیے جس طرح کوششیں جاری ہیں اس سے تو کبھی بھی کشمیریوں کو آزادی نہیں مل سکے گی ، اس کےلیے ایک فیصلہ کن راونڈ کھیلنا پڑے گا ،ڈاکٹرشعیب پرویز نے جھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ ایک وقت تھا جب جماعت الدعوۃ جیسی جماعتیں جہاد کشمیر کے لیے فنڈز اکھٹا کیا کرتی تھیں اور کشمیری مجاہدین کی مدد کو پہنچتے تھے آج اسی جماعت کو ایف اے ٹی ایف کی خواہش پرکالعدم قرارد ے کر کُھڈے لائن لگا دیا گیا ہے

     

     

     

    ڈاکٹرشعیب پرویز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں‌ پر کشمیر کی آزادی کا بوجھ ہے ، پوری قوم پاک افواج کے ساتھ ہیں ،اس لیے قومی مقتدر ادارے کو کشمیرپالیسی کے حوالے سے دلیرانہ اقدامات اٹھانے ہوں گے ، اسٹیبلشمنٹ کو سابقہ حکومتوں کی کوتاہوں پر قابو پاتے ہوئے اب فیصلہ کن مرحلے کی طرف آگے بڑھنا چاہے ،

    ڈاکٹر شعیب پروز کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بھی عجیب رویے اور منتشرالمزاج افراد اور جماعتیں ہیں جو کشمیریوں کی تحریک آزادی کےلیے کوشاں اداروں اور افراد کے خلاف دشمن کی خواہشات کے مطابق اپنی توبوں کا رُخ کیے ہوئے ہیں جبکہ ہمارا پاکستانیوں اور کشمیریوں کا ازلی دشمن اپنی افواج کے پیچھے اس قدر مضبوط کھڑا ہے کہ پاکستان میں‌ بھارتی افواج کی ناک کٹوانے والے ابھی نندن کو پھر بھی ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے ،

    ڈاکٹرشعیب پروز کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام بین الاقوامی ادارے بھارتی نواز ہیں، وہ نہ تو کشمیریوں کے قتل عام پر دُکھ کا اظہار کرتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کی کوششوں کوخاطرمیں لاتے ہیں بلکہ حالات تو یہ ہیں کہ ہم کشمیریوں کے لیے آوازبلند کرتے ہیں تو اقوام متحدہ کی طرف سے جواب ناں میں ملتا ہے ، ہم کشمیریوں‌ کے قتل عام پر دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرواتے ہیں تو ایف اے ٹی ایف اور دیگربھارتی نوازادارے ہماری سُنتے ہی نہیں اور ہماری کوششوں‌ پر نو کمنٹس کہہ کرپانی پھیر دیتے ہیں‌

    ڈاکٹرشعیب پرویز کا کہنا تھا کہ ہمیں‌ اپنی پاک افواج پر بھروسہ ہے اور ہماری دعائیں بھی ان کے ساتھ ہیں جب ساری دنیا ایک طرف ہے تو پھر کشمیریوں پرمظالم روکنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا اور پھر ہی کشمیر آزاد ہوگا اور یہ صرف پاک افواج اور کشمیری مجاہدین ہی کریں‌گے ، ان کا بار بار یہ کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کوعالمی برادری کی بھارتی نوازی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی کشمیری پالیسی پر نظرثانی کرکے کشمیری مجاہدین کی کھُل کر مدد کرنی چاہیے ، پھر حالات بھی بدلتے دیکھیں گے اور اس کی برکت سے پاکستان میں‌ دہشت گردی کو ختم ہوتا بھی دیکھیں گے

    ان کا یہ کہنا تھا کہ ہم کئی سالوں سے ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں۔ یہ سلسلہ ایسے کب تک منائیں گے ، انہوں نے اپنی گفتگو میں سینیئر صحافی مبشرلقمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں وہ شخصیت بھی موجود ہے جو کشمیریوں کی تحریک آزادی کے لیے ایک مجاہد کی طرح ہر وقت زبان اور قلم سے اپنے حصے کا جہاد کررہی ہے ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے مبشرلقمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیریوں کے لیے کوشاں نوجوانوں‌ کاتعارف بھی کروایا اور اس مسئلے کو ہرفورم پراٹھانے کا عہد بھی کیا ، ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی مبشرلقمان کی طرح کشمیریوں کی آزادی کے لیے ہر فورم پرآوازاٹھاتے رہیں گے اور ضرورت پڑی تو عملی طور بھی جدوجہد میں شامل ہوں گے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب پچھلی کوتاہیوں ناکامیوں‌ کو دھو کر نئے سرے سے کشمیرکی آزادی کےلیے فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہوں

    یاد رہے کہ و ایم ٹی میں ” پاکستان کشمیر پالیسی، آبجیکٹوز اینڈ اپروچز پر سیمینار کا انعقاد “سیمینار میں وفاقی وزیر و چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی، سینئر صحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان، ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر آصف رضا، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی چیئر مین کشمیر یوتھ ایسوسی ایشن، پروفیسر ڈاکٹر شعیب پرویز نے شرکت فرمائیں اور ایک پالیسی ساز گفتگو کی

  • ٹیکنالوجی باعث رحمت ہے یازحمت:تحریر .ارم شہزادی

    جدید ٹیکنالوجی سے پہلے رہن سہن کتنا سادہ تھا، کتنا خوبصورت تھا، لوگ کیسے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔ کیسے کھانا، پینا، اوڑھنا، سادہ تھا کوئی بناوٹ نہیں تھی۔کوئی جلن حسد جیسی خرافات عام نہیں تھیں۔رشتوں کا کیسے احترام تھا۔ صبح کا آغاز موبائل فون اور ٹی وی کے بجائے نماز، تلاوت قرآن سے ہوتا تھا۔ناشتہ بریڈ جام، جیسے غیر معیاری اور غیر صحت بخش غذا سے نہیں بلکہ روٹی، دیسی انڈے، مکھن، لسی، دودھ سے ہوتا تھا۔ سارا دن موبائل پر نظر جمانے کے بجائے جسمانی کھیل کود ہوتا تھا۔زمینوں پر کام کرنا پینڈو ہونا باعث شرمندگی نہیں بلکہ باعث فخر ہوتا تھا۔ بھینسیں پالنا قابل فخر تھا کتا پالنا نہیں۔ دودھ، دہی، مکھن گھر کی خوراک تھی۔سبزیاں اپنی زمینوں پر اگائی یجاتی تھیں۔سادہ بیج بغیر کھاد کے بغیر سپرے کے صاف پانی سے بڑھنے والی سبزیاں زائقے میں تو اچھی ہوتی ہی تھیں ساتھ صحت مند بھی ہوتی تھیں۔ ایک گھر اگر سبزی اگاتا تھا تو سارا گاؤں یا تو بغیر پیسوں کے یا بہت تھوڑے سے پیسوں کے عوض خرید لیتا تھا۔ ایک گھر میں اگر کوئی حادثہ ہوجاتا تھا تو سارا گاؤں اکٹھا ہوجاتا تھا۔ جیسے دیوار اینٹ سے جڑی اینٹ کی طرح ہوتی ہے بلکل ویسے جڑے ہوئے تھے۔

    جیسے حدیث مبارکہ ہے کا مفہوم ہے کہ” مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جسم میں کسی ایک حصہ کی تکلیف سارا بدن محسوس کرتا ہے” گاؤں گنجان آباد تھے۔ شہروں کی آبادی بہت کم تھی دیہاتوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی بہت ہی کم تھی۔ ٹی وی کی نشریات سے پہلے ریڈیو پر پروگرام پورا پورا گاؤں مل کرسنتا تھا کیونکہ ہرگھر میں ریڈیو موجود نہیں تھا۔ پھر وقت میں تھوڑی تبدیلی ہوئی اور ریڈیو کے ساتھ ٹیپ ریکارڈر اور ٹی وی کی آمد نے جہاں شہروں کی زندگی میں تبدیلی رونما کی وہاں دیہات میں بھی یہ چیز عام ہونے لگی۔ لوگوں کا ویژن بدلا تو جو علاج دیسی جڑی بوٹیوں-سے ہوتا تھا وہ شہروں سے جا کر کروانا شروع کیا۔ دیہاتوں میں ڈسپنسری تو نا تھی لیکن بیماریوں سے لڑنے کی قوت مدافعت ضرور تھی۔ سکول کالج بھی دیہاتوں میں نا تھے لیکن مدارس تھے قران کی تعلیم ہر بچے کے پاس تھی۔ وقت کی تبدیلی نے دیہاتوں میں رہنے والوں کو سوچنے پر مجبور کیا اور وہ بچے پڑھانے کے لیے شہروں کا رخ کرنے لگے کسی حد تک تو یہ درست تھی اور تعلیم ہر بچے کا حق تھا لیکن بدقسمتی سے اس ایک حق نے باقی بہت سے حقوق چھین لیے۔ اگر کوشش، کر کے تمام سہولیات دیہاتوں میں لی جاتیں تو آج دیہات ویران اور شہر گنجان آباد نا ہوتے۔ آبادی کا تناسب قائم رہتا، لمبی چوڑی گھریلو بلڈنگز نا بنتیں تو شہروں کے صفائی کے معاملات اتنے خراب نا ہوتے جتنے ہیں۔ ریڈیو ٹی وی کو ترقی جاننے والی قوم جب لیب ٹاپ اور سمارٹ فونز تک پہنچی تو بلکل ہی بدل چکی تھی یہ نسل ترقی کا یہ سفر انکی پہنچ میں سائنس تو لے آیا لیکن خالق سے دور کردیا۔رزق کے پیچھے دوڑتے دوڑتے صحت تو گنوا بیٹھے لیکن زمینیں بنجر کررہے ہیں۔ رشتے داریاں اب وٹس ایپ سٹیٹس تک رہ گیئں ہیں رشتے نام کے رہ گئے۔باپ کی بہن پھپھو گھر کی رانی سے ڈاکو رانی بنا دی گئی۔ اماں مم بن گئی ابا جی ڈیڈ بن گیا۔ فیشن کے نام پے کپڑے پہلے چھوٹے ہوئے اب پھٹنے لگ گئے۔ سردیوں کی شامیں جو سارا خاندان ایکساتھ مناتا تھا اب الگ الگ کمروں میں بظاہر تنہا گزار دیتا ہے۔ بہت ساری چیزوں کو خود پر حاوی کرکے مہنگائی کا ازھاد اپنے گلے ڈالا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو سمارٹ فونز لے کر دیے ہیں اور انہیں انکی اصل سے الگ کردیا ہے۔

    ترقی یہ نہیں ہوتی کہ آپ اپنا اصل بھول جائیں غیر کا کلچر اپنائیں بلکہ ترقی یہ ہوتی ہے کہ اپنے اصل کو پروموٹ کریں انہیں اگے بڑھائیں۔ دنیا کے اگے لگ جانے کے بجائے اپنی چیزوں کو اگے لائیں۔اپنے دیہات، کھلیان سجائیں، آپنی زمینوں پر نئے نئے تجربات کریں فصلیں اگائیں کسی دفتر میں چند ہزار کی ملازمت سے بہتر اپنے باغات اگائیں ملازم بننے کے بجائے ملازم رکھیں۔ صحت مند سبزیاں اگائیں۔ صحت بخش فروٹس اگائیں۔ دیہاتوں میں صحت کی سہولیات پہنچائیں، سکول کالج بنائیں، اچھےاچھے رروڈز اور سڑکیں بنائیں۔ دیہات آباد کریں۔زمینوں پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی نئی فصلیں اگائیں۔ موجودہ فصلوں کی مقدار بڑھانے کے لیے استعمال کریں۔ تاکہ آبادی کی آباد کاری اور ضروریات کو متناسب کیا جاسکے۔ شہروں پر بڑھتے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ رشتوں میں خود غرضی جو گھل چکی ہے اسے کم کیا جاسکے۔ دلوں کو شہری گھروں اور سڑکوں کی طرح تنگ بنانے کی بجائے دیہاتوں اور کھلیانوں کی طرح کھلا اور کشادہ کریں۔ ٹیکنالوجی کو رحمت بنائیں زحمت نہیں۔۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • عید الفطر پرکتنی چھُٹیاں ہوں گی؟تفصیلات آگئیں‌

    عید الفطر پرکتنی چھُٹیاں ہوں گی؟تفصیلات آگئیں‌

    دبئی :عید الفطر پرکتنی چھُٹیاں ہوں گی؟تفصیلات آگئیں‌ا،طلاعات کے مطابق امارات کے سرکاری کلینڈر کے مطابق امارات میں عیدالفطر کی چھٹیاں 29 رمضان سے 3 شوال تک دی جائیں گی

    اس سال متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو عید الفطر کے موقع پر چار یا پانچ چھٹیاں یقینی طور پر میسر آئیں گی۔ اماراتی اخبار ’خلیج ٹائمز‘ کا ایک رپورٹ میں کہنا ہے کہ فلکیاتی اندازوں کے مطابق امارات میں اس بار رمضان کا ا?غاز متوقع طور پر 2 اپریل سے ہوگا۔

    اسلامی مہینے 29 یا 30 دنوں کے ہوتے ہیں۔ فلکیاتی اندازے کے مطابق اس سال رمضان متوقع طور پر 30 دن کا ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ امارات میں 2 مئی کو عید الفطر کا پہلا دن ہوگا۔ اب امارات کے سرکاری کلینڈر کے مطابق امارات میں عیدالفطر کی چھٹیاں 29 رمضان سے 3 شوال تک دی جائیں گی۔

    اگر اس سال رمضان 29 دنوں کا ہوتا ہے تو اماراتی باشندوں کو چار دنوں کی چھٹیاں ملیں گی اور اگر رمضان کا مہینہ 30 روزوں پر محیط ہوتا ہے تو انہیں پانچ دنوں کی چھٹیاں ملیں گی۔اگر رمضان کا مہینہ واقعی 30 دنوں کا ہوا تو امارات میں ہفتہ 30 اپریل سے بدھ 4 مئی تک عیدالفطر کی چھٹیاں دی جائیں گی۔

    دوسری طرف پاکستان میں رمضان المبارک کی آمد کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں اور حکومت کی طرف سے غریب عوم الناس کے لیے رمضان پیکج کی تیاریاں بھی جاری ہیں ، یہ بھی امکان ہے کہ بہت جلد اس حوالے سے اعلان کردیا جائے گا ، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اس سلسلے میں احساس راش پروگرام کو ہی اپ ڈیٹ کیا جائے گا اور اس کی ابتدا رمضان المبارک کےمقدس مہینے میں کی جائے گی

  • طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ

    طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ

    طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ
    معاشرے میں بڑھتے ہوئے طلاق کے واقعات نے لکھنے پے مجبور کیا.
    پاکستان میں طلاق کی شرح بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ طلاق کے لیے آنے والے زیادہ تر کیس میں معاملات خراب ہونے کی وجہ جوڑوں کے سسرال والے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے جوڑے جو جوائنٹ فیملی/ مشترکہ خاندانوں میں رہتے ہیں رازداری کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ خاندان کے افراد سے کچھ فاصلہ برقرار نہ رکھنے یا اس کی کوئی گنجائش نہ ہونے کے باعث، گھریلو تشدد لڑائی جھگڑے کے بہت سے واقعات اور پارٹنر پر تشدد کے واقعات کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔اسی طرح پولیس رپورٹس کے مطابق صرف 2020 کی پہلی سہ ماہی میں کراچی میں طلاق کے تین ہزار آٹھ سو مقدمات درج ہوئے۔ ابھی حال ہی میں، جنوری سے نومبر 2021 کے درمیان، راولپنڈی کی ضلعی عدلیہ نے طلاق، خلع، سرپرستی اور نفقہ سے متعلق دس ہزار تین سو بارہ کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ اسی ضلع میں فیملی کورٹس میں مزید تیرا ہزار کیس فیصلے کے منتظر پائے گئے۔ طلاق کے لیے گئے ایک ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں طلاق کے کیسز خاص طور پر بڑھ چکے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ طلاق کے زیادہ واقعات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نام نہاد ‘خاندانی عزت’ کے دباؤ میں جبری شادیاں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہیں،
    اگر ایک ماہ میں تیرا ہزار طلاق کے لیے رابطہ کر رہے ہیں تو سوچیں وہ کیس جو رپورٹ نہں ہوتے انکو ملا کر یہ گنتی کہاں جائے گی.
    آئیں اب ذرا نظر ڈالتے ہیں طلاق سے ہونے والے نقصانات پر
    طلاق لینا بہت ہی آسان ہوگیا ہے ایک بار جب آپ نے سوچ لیا ہے اور اپنی زندگی میں اس فیصلہ پر قدم اٹھانے تیار ہیں تو پھر بھی ایک بار آپ اپنا خود سے محاسبہ کر لیں اور ایک بار خود سے کریں اور کچھ اچھے دوستوں سے بھی مشورہ ضرور کریں اس کام کو انجام دینے سے پہلے.
    شادی دو لوگوں کا نہں دو خاندانوں کا میل ہے اور شادی کے اگر آپ کے بچے بھی ہیں تو آپکے اس طلاق کے فیصلے کا سب سے زیادہ نقصان آپکے خاندان میں آپ کے بچوں کو ہوگا کیوں کے جب آپ الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو بچوں کے لیے ی سب سے زیادہ مشکل فیصلہ ہے کے ماں باپ کی الگ ہونے کے بعد وہ کس کے ساتھ رہیں کیوں ان کے لیے دونوں رشتوں کی اہمیت برابر ہی ہے ماں ہو یا باپ بچہ دونوں کو توجہ چاہتا ہے اور اس کی پرورش اور تربیت میں دونوں کا ہے ایک اہم کردار ہے تو اگر آپ اپنی اولاد کو اس معاشرے میں ایک ایک اچھا فرد بنانا چاہتی ہیں یا چاہتے ہیں تو آپ کا الگ ہونے کا فیصلہ یا طلاق کا فیصلہ آپ کے بچے کے کردار کو معاشرے میں خراب کر سکتا ہے کیوں کے جب ماں باپ الگ ہوجائیں تو الگ گھروں میں رہنے کی وجہ سے بچے کبھی ماں کے پاس اور کبھی باپ کے پاس ہوتے ہیں اور ماں باپ دونوں اپنی زندگی کی مصروفیات کی وجہ سے ان پر صحیح طرح سے توجہ نہں دے پاتے ہیں.اس طرح آپ کا اپنے بچوں کو معاشرے کے لیے بہتر بنانے اور انکا مستقبلِ بہتر بنانے کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے یہ تھی سب سے اہم بات اس بعد اگر آپ خود اپنی زندگی میں اس فیصلے کو لیے جانے کی وجہ سے آنے والی تبدیلی کے بعد دیکھیں تو یہ بھی ایک مشکل اور کٹھن راستہ ہے چاہے آپ دوبارہ شادی کرنا چاہتے ہیں یہ بھلے اکیلے زندگی گزارتے ہیں دونوں صورتوں میں ایک بار پھر نئی زندگی کو شروع کرنے کی مشکلات سے گزرنا ہوگا تو اس بات کو سوچتے ہوئے آپ دوبارہ اپنے فیصلے پے نظر ڈالیں کے جب اس طلاق جیسے فیصلے کے بعد بھی آپ کو دوبارہ زندگی میں جدوجھد کرنا ہے تو کیوں نہ اسی رشتے پر توجہ دے کر ایک بار دوبارہ حالت کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے اور اپنے رشتے کو سہی طرح چلانے کی کوشش کی جائے اس طرح آپ زندگی کچھ بہتر طریقے سے گزر جائے گا نا صرف آپکی بلکے آپ کے ساتھ جُڑے رشتوں کو خصوصاََ آپ کے بچوں کی زندگی جو کے والدین کا اولین مقصد ہوتا ہے اپنے بچوں کا مستقبلِ بہتر بنانا.

    طلاق لینا ہی مسئلے کا حل نہں اگر ہم سوچیں اور اپنے اِرد گرد کے اس طلاق جیسے فیصلے سے ہونے والے نقصانات پے نظر ڈالیں تو یقناً آپ بھی کسی صورت یہ قدم نہں اٹھانا چاہئیں گے زندگی کو بہتر بنانے کے لیے رشتوں کا ختم کرنا ضروری نہں ان کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔

    Twitter handle
    @umesalma_

  • پتنگ بازوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    پتنگ بازوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    ۔ ڈی پی او قصور محمد صہیب اشرف کی خصوصی ہدایات پر تھاںہ مصطفی آباد پولیس کی کاروائی۔ پتنگیں بنانے والے کارخانے سے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کے قبضہ سے ہزاروں کی تعداد میں پتنگیں اور آلات پتنگ سازی برآمدملزمان پتنگیں تیار کر کے قصور اور لاہور کے مختلف علاقوں میں سپلائی کرتے تھے اس موقع پر ڈی پی او قصور کا کہنا تھا کہ۔ پتنگ بازی خونی کھیل ہے کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ۔ گڈی و ڈور بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن ضلع بھر میں جاری ہے۔

  • پہلی ملاقات کے لیے 10 لباس ، پہلی ملاقات  پر لڑکی کو کیا پہننا ہے؟؟

    پہلی ملاقات کے لیے 10 لباس ، پہلی ملاقات پر لڑکی کو کیا پہننا ہے؟؟

    اپنی پہلی ملاقات پر باہر جانا ہمیشہ ایک خاص موقع ہوتا ہے۔ آپ ہمیشہ اپنی بہترین نظر آنا چاہیں گے، چاہے وہ آپ کے کپڑوں میں ہو، آپ کے میک اپ یا لوازمات میں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے پہلی تاریخ کے لیے کچھ پیارے کپڑے درج کیے ہیں جو آپ کو مکمل طور پر ہیڈ ٹرنر بنا دیں گے۔

    پینے کے لئے پہلی تاریخ پر کیا پہننا ہے؟ پلس سائز کیزول ڈیٹ کا لباس یا کافی ڈیٹ کا لباس کیا ہونا چاہئے؟ گرمیوں کے لیے پہلی تاریخ کے بہترین لباس کون سے ہیں؟ آپ کی کتنی خواہش تھی، آپ کے پاس کوئی تھا جو آپ کو ان تمام چیزوں پر مشورہ دے… ٹھیک ہے، میں آپ کو بہترین نظر آنے میں مدد کرنے کے لیے حاضر ہوں۔ میرے پاس آپ تمام خواتین کے لیے 10 لباسوں کے لیے آئیڈیاز ہیں اور اس بارے میں بھی آئیڈیاز ہیں کہ آپ انہیں لوازمات، میک اپ کے ساتھ ساتھ کیسے رکھ سکتے ہیں اور شاندار شکلیں بنا سکتے ہیں۔
    آرام دہ اور پرسکون لباس سے لے کر موسم سرما کی پہلی تاریخ تک، جینز کے جوڑے میں ڈیٹ نائٹ لباس کو کیسے روکنا ہے، میں نے یہ سب ایک ساتھ رکھا ہے۔ آئیے کچھ پہلی تاریخ کے لباس پر ایک نظر ڈالیں جن کی خواتین قسم کھاتی ہیں۔
    پہلی تاریخ کے لباس کا پتہ لگانا ہمیشہ دلچسپ ہوتا ہے۔ آپ موسم، دن کے وقت وغیرہ کی بنیاد پر ان تمام امکانات اور تمام شکلوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو آپ ایک ساتھ رکھ سکتے ہیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آپ کیا پہننا چاہتے ہیں۔ کچھ ایسا پہنیں جس سے آپ کو اچھا لگے۔ اگر آپ کو اپنا لباس یا اپنے جوتے یا اپنے بال پسند نہیں ہیں تو آپ کا وقت اچھا نہیں گزرے گا۔
    آخری چیز جو آپ پہلی تاریخ پر چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ واضح ہو کہ آپ بے چین ہیں۔ پہلی ملاقات کے لیے ایک اچھا لباس کسی کو یہ دکھانے کا ایک چھوٹا سا طریقہ ہے کہ آپ ان کی پرواہ کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ ساتھ ان کے وقت میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں۔
    یہ آپ کی بڑی رات ہے! آپ مہینوں سے اس لمحے کا خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن اب جب کہ تاریخ آ گئی ہے، آپ کو یقین نہیں ہے کہ کیا پہننا ہے۔ کیا آپ کو تیار ہونا چاہئے؟ عام کپڑے پہننا؟ جینز پہنو؟ تاریخ کامیاب ہونے یا نہ ہونے میں صحیح لباس اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مجھے پہلی تاریخ کے لیے بہترین لباس تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرنے دیں۔

    1. کلاسیکی شکل
    موسم گرما کچھ ہلکا، ہوا دار اور رنگین پہننے کے بارے میں ہے۔ آئیے ایک بہت ہی بنیادی شکل کے ساتھ شروع کریں جو، تاہم، ایک مطلق کلاسک ہے۔ اور شاید پہلی تاریخ کے لیے بہترین لباس۔ انڈگو یا ہلکے نیلے ڈینم کے جوڑے کے ساتھ ایک سفید لینن کی قمیض/ٹاپ/ٹیونک۔ خاکستری/ٹین پمپ۔ ہلکے زیورات جیسے موتیوں کی جڑیں اور شاید ایک چیکنا انگوٹھی۔
    آنکھوں کا کم سے کم میک اپ استعمال کریں، شاید صرف ایک آئی لائنر۔ ایک بہت ہی عریاں نظر ایسی چیز ہے جس کے بارے میں میں بات کر رہا ہوں۔ گہرے خاکستری رنگ کے شیڈز میں لپ گلوس بہت اچھا لگے گا۔ کچھ پھولوں کے لہجوں کے ساتھ اچھی خوشبو چھڑکنا نہ بھولیں۔ اپنی ضرورت کی ہر چیز کو لے جانے کے لیے خاکستری یا ٹین ٹوٹ بیگ۔
    اگر آپ کے بال چھوٹے ہیں تو آپ اسے ڈھیلے چھوڑ سکتے ہیں، بصورت دیگر، آپ بیک کے بالوں کو بن میں بند کر سکتے ہیں۔ براؤن (فریم) کے شیڈز میں دھوپ کا چشمہ لازمی ہے۔ یہ پہلی تاریخ کے لباس میں سے ایک ہے جو لوگ پسند کرتے ہیں اور جس لمحے آپ چلتے ہیں وہ آپ کے آس پاس آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔ یہ کافی کی تاریخ کا ایک مثالی لباس ہے۔
    2. کچھ لباس والا آزمائیں۔
    اس نظر کے لیے، میں ڈریپ ڈریس تجویز کروں گا۔ ٹخنوں سے تھوڑا اوپر، تعصب سے کٹا ہوا، پیلے آڑو کے رنگوں میں اور پھولوں کے پرنٹس کے ساتھ گلابی یا شاید ایک کفتان لباس میں رومن سینڈل کے جوڑے کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا ہے۔
    یہ جوڑے آپ کو آزاد اور ہلکے ہونے کا احساس دلائیں گے، آپ کے پیروں کو جھکا ہوا محسوس نہیں ہوگا۔ یہ موسم گرما کے لیے پہلی تاریخ کے بہترین لباس ہیں اور موسم بہار کی تاریخ کے لباس کی طرح واقعی خوبصورت نظر آتے ہیں۔ صرف مکس میں صحیح پہلی تاریخ کی گفتگو کو پھینک دیں، آپ اپنی تاریخ کو ان کے پیروں سے صاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔
    پہلی تاریخ کے لیے اس جدید لباس کو مکمل کرنے کے لیے ایک ٹین ٹوٹ لے کر جائیں۔ جہاں تک آپ کے بالوں کا تعلق ہے، اسے ڈھیلے ہونے دیں – لفظی اور علامتی دونوں طرح۔ آپ فانوس کے ایئر پیس پہن کر اس شکل کو بڑھا سکتے ہیں۔ میک اپ کے لیے، میں ایک بار پھر ہلکی چیز کی سفارش کروں گا کیونکہ میرے خیال میں عریاں میک اپ پتھروں کو روکتا ہے اور آپ کے لباس سے اہمیت کو دور نہیں کرتا ہے۔ اپنے ہونٹوں کے لیے میٹ ڈیپ بیج استعمال کریں۔
    3. رات کے کھانے کے لیے پہلی تاریخ کا لباس
    اس نظر کے لیے – میں نے اسے یہ سمجھا کہ یہ شام کا نظر آئے گا – میں کلریٹ یا وائن ریڈ گھٹنے کی لمبائی، گردن اور آرم ہول کے گرد سیاہ لہجے کے ساتھ لیلن میں بغیر آستین کا لباس تجویز کرنا چاہتا ہوں۔ کالی دھات میں سیاہ پتھر کے سیٹ میں چوکر کے ساتھ ملبوسات بنائیں۔ یہ پہلی تاریخ کو رات کے کھانے پر پہننے کے لئے مثالی ہے یا رات کے باہر جانے کا ایک عمدہ لباس ہے۔
    اپنے بالوں کو کھلا رکھیں، اپنی آنکھوں اور مارسالہ ہونٹوں کے لیے دھواں دار شکل بنائیں۔ سیاہ نوک دار اسٹیلٹو اور ایک سیاہ کلچ آپ کے جوڑ کو مکمل کریں۔ اگرچہ اس طرح کی پہلی تاریخ کے لباس کے خیالات اس سازگار پہلا تاثر بنانے میں ایک طویل سفر طے کریں گے، لیکن اس کے بعد چیزیں کیسے ترقی کرتی ہیں یہ آپ پر منحصر ہے۔ لہذا، ان چیزوں کو ذہن میں رکھیں جو آپ کو پہلی تاریخ پر کبھی نہیں کرنا چاہئے.
    4. آرام دہ اور پرسکون موسم بہار کی تاریخ نظر
    ایک سیاہ فرش کی لمبائی والا جارجٹ لباس جس میں کم پلنگنگ ڈریپ نیک لائن اور اونچی سائیڈ سلِٹس پہلی تاریخ پر پہننے کے لیے خوبصورت لباس بنا سکتی ہیں۔ بالوں کو میس اسٹائل بن میں کیا جا سکتا ہے۔ زیورات کے ٹکڑوں کے لیے، بیان بنانے والے قدیم لمبے ایئر پیس کا ایک جوڑا استعمال کریں۔
    گلے میں کچھ نہیں۔ ایک آکسائڈائزڈ بریسلٹ جس میں کچھ سیاہ کرسٹل/پتھر لگے ہوئے ہیں۔ یقینی طور پر Stilettos اور ایک قدیم دھاتی کلچ۔ کوہل کے ساتھ آنکھوں پر کام کریں اور سرخ لپ اسٹک استعمال کریں۔ گلاب کے لطیف اشارے کے ساتھ ایک خوشبو شام کا آغاز صحیح نوٹ پر کرے گی۔
    5. بارش میں چمکدار رنگ پہنیں۔
    مون سون ہمیشہ تاریک، مدھم اور گیلے ہوتے ہیں، اور کسی حد تک سٹائل ڈیمپنر ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ اس موسم میں متاثر کرنے کے لیے لباس نہیں پہن سکتے تو آپ غلط ہیں۔ چال یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز پہنیں جو عملی ہونے کے ساتھ ساتھ جمالیاتی لحاظ سے بھی خوبصورت ہو۔ ہلکے کپڑے، ڈرامائی میک اپ، اور بھاری لوازمات تمام اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔
    مجھے لگتا ہے کہ زنگ جیسی رنگت اداسی کو روشن کر دے گی۔ آف شوڈر جمپ سوٹ مطلوبہ مقدار میں ڈرامہ بنائے گا۔ پچروں کے آرام دہ نسوار کے جوڑے کے ساتھ مل کر پوری شکل میں مناسب مقدار میں آرام دہ اور پرسکون اضافہ کرے گا۔
    سونے اور موتی کے فانوس کی بالیوں کے ساتھ بالوں کو اوپر کی گرہ میں باندھ دیا گیا ہے۔ موتیوں سے جڑی ایک لمبی سونے کی زنجیر کو نیک پیس کی طرح ایک دو بار مڑا۔ خاکستری ہونٹوں کے ساتھ پھیکا گولڈ میک اپ تاریخ کو یادگار بنا دے گا۔ مجموعی طور پر، یہ پہلی تاریخ پر پہننے کے لیے واقعی چند خوبصورت لباسوں میں سے ہے۔
    6. ڈرامائی قمیض کا لباس
    مجھے قمیض کا لباس پسند ہے اور یہ پہلی تاریخ کے لباس کے خیالات میں اعلیٰ ہے۔ ڈرامہ شامل کرنے کی جگہ میں، اگلی شکل اومبری رنگی قمیض کا لباس ہوگا۔ ایک کتان کی قمیض کا لباس جس میں روشن سرسوں کے رنگوں میں رنگے ہوئے ہلکے بھوری رنگ کے لہجوں کے ساتھ سرخ رنگ کے لہجے ہیں۔
    زیورات کے ساتھ لباس کو سونے اور یاقوت کے چھوٹے کانوں کے جڑوں سے نمایاں کریں، تاکہ یاقوت سونے کی بنیاد سے بالکل صحیح مقدار میں چمکے۔ بالوں کو ڈھیلا رکھا جائے۔ میک اپ کو زیادہ قدرتی رکھنا بہتر ہے، صرف ہونٹوں کو روبی ریڈ میں نمایاں کیا جائے۔ سرخ چمڑے اور سرخ چمڑے کے اسٹیلیٹوس میں ایک چھوٹا کلچ اس سب کو ایک ساتھ لانے کے لیے۔
    7. سردیوں میں کچے ریشمی لباس اور بولیرو پہنیں۔
    موسم سرما رومانوی، یکجہتی کا موسم ہے اور اس وجہ سے، آپ کو حصہ تیار کرنا ہوگا. میں آپ کی شکل کو تیز کرنے کے لیے ایک شاندار بولیرو کے لیے ہوں۔ آدھی رات کے نیلے رنگ کی خام ریشمی قمیض کا لباس جس میں گردن کی لکیریں گرے بولیرو جیکٹ کے ساتھ بنائی گئی ہیں یا متضاد ریشم کے استر کے ساتھ کچے ریشم سے بنی ہوئی شرٹ حیرت انگیز کام کر سکتی ہے۔
    صرف چاندی کے زیورات ہی اس لباس کو نمایاں کریں گے۔ لہذا سلور بیس ایئر پیس کے ساتھ نیلم سٹڈز کا جوڑا بہت اچھا لگے گا۔ ایک چاندی کی گھڑی بھی بہت اچھی طرح سے نظر کو مکمل کرے گی۔ پونی ٹیل میں پیچھے سے بنے ہوئے بالوں کو ایک بہت ہی چیکنا اور خوبصورت نظر آئے گا۔ نیلے رنگ میں ہلکا آئی شیڈو اور نیلے آئی لائنر کے ذریعے نمایاں کردہ آنکھیں۔
    ہونٹوں کی چمک کے ساتھ ہونٹ۔ ایک سرمئی سلک کلچ اور سیاہ ہائی ہیل پمپ کا ایک جوڑا نظر کو مکمل کرے گا۔ پودینہ کے اشارے کے ساتھ ایک میٹھی خوشبو جو شام کو کچھ تازگی دے گی۔ آپ کا لباس سردیوں میں آپ کی پہلی تاریخ کے لیے مکمل لگتا ہے۔
    8. ایک پتلون میں جدید
    ہمارے پاس کافی کپڑے ہیں، اب ٹراؤزر اور ٹاپس کے ساتھ مزہ کریں۔ وہ بھی پہلی تاریخ کے لیے ایک بہترین لباس بناتے ہیں۔ چوڑی ٹانگوں والے ہلکے اونی پتلون کے جوڑے کے ساتھ مل کر پن اسٹریپ کی تفصیل والی سیاہ قمیض۔ اوپری ساٹن کے ساتھ نوکیلی ہیلس، دوسری صورت میں طاقتور ڈریسنگ میں نرم صفات شامل کرتی ہے۔
    دونوں کانوں پر چھوٹے ہیرے کی جڑیں، ایک ہلکے ہیرے کا نیک پیس، اور نظر کو مکمل کرنے کے لیے چھوٹے ہیروں سے جڑی ایک انگوٹھی۔ کوہل رمڈ آنکھیں، سرخ لپ اسٹک، اور ایک سرخ چمڑے کے چھوٹے کلچ کے ساتھ ہلکا میک اپ۔
    9. ایک کارسیٹ میں شاندار نظر آتے ہیں
    ایک کارسیٹ اس شکل کی خاص بات ہوگی، جس سے نظر میں اومف کی صحیح مقدار شامل ہوگی۔ بہت سے لوگ کارسیٹ کو پہلی تاریخ کے لئے ایک تنظیم کے طور پر نہیں سوچیں گے، لیکن مجھ پر بھروسہ کریں یہ ایک جرات مندانہ اور شاندار بیان ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اس شکل کے لیے میں ایک خام ریشمی کڑھائی والی کارسیٹ کا مشورہ دوں گا جو سیاہ بھڑکتے ہوئے پتلون کے جوڑے کے ساتھ تیار کیا گیا ہو۔
    جیکٹ کے بجائے، باہر کے دوران کور کے طور پر استعمال کرنے کے لیے سیاہ پشمینہ کا استعمال کریں اور پھر جب گھر کے اندر ہوں تو اسے ہٹا دیں اور شاندار طریقے سے تیار کردہ کارسیٹ کی نمائش کریں۔ نوکیلی ایڑیوں کے سرخ جوڑے کے ساتھ اس کی ٹیم بنائیں۔ گالوں پر ہلکا بلش آن، سرخ ہونٹ (چمکا) اور ہلکی کالی آنکھیں۔ بیضوی شکل میں ایک سیاہ کلچ، جو انداز اور کلاس کو ظاہر کرتا ہے۔ بال گندے پونی ٹیل میں ہونے چاہئیں۔ سونے اور موتیوں کے ایئر پیس کے جوڑے کے ساتھ پہلی تاریخ کے اس شاندار منظر کو ختم کریں۔
    10. پہلی تاریخ کے لیے مکمل طوالت والا سرسوں کا لباس
    ایک پوری لمبائی والا، بغیر آستین کا، A-لائن سرسوں کا لباس جو کمر پر چٹکی ہوئی ہے۔ سامنے اور پیچھے دونوں طرف ایک گہری U کے سائز کی گردن کی لکیر۔ ایک خوبصورت فال اور ڈریپ کے ساتھ بھاری ملاوٹ شدہ ریشم سے تیار کیا گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی کالی کراپ جیکٹ جس میں چائنیز کالر کے ساتھ سرسوں کے لہجے سامنے والے حصے کے ساتھ لباس کو مکمل طور پر مکمل کریں گے۔ کالر پر اور نیچے کے نیچے ہلکے سنہری دھاگے کا کام، کرسٹل کے ساتھ نمایاں کیا گیا ہے۔
    سنہری اور سیاہ فانوس سٹیٹمنٹ ایئر پیس کے ساتھ بالوں کو اوپر کی گرہ میں باندھنا رات کے کھانے کے لیے پہلی تاریخ کا ایک مثالی لباس ہے۔ سنہری اور سیاہ چوکر نیک پیس اور سنہری اسٹیلیٹوز۔ لباس کی تعریف کرتے ہوئے ہلکے سونے کے رنگوں میں میک اپ کرنا چاہیے۔ ہلکے سنہری گلابی ہونٹ۔ سنہری دھاگے کے کام والے کلچ کے ساتھ اس خصوصی شکل کو ختم کریں۔

  • جب عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس کرتا ہے؟

    جب عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس کرتا ہے؟

    جب کوئی عورت اس سے دور ہو جائے تو مرد کیسا محسوس کرتا ہے؟ اگر اس سوال نے آپ کو یہاں تک پہنچایا، تو آپ شاید اس کے بہادر چہرے سے الجھن میں ہوں گے۔ اس کی مبہم سوشل میڈیا کہانیاں زیادہ مددگار نہیں ہیں اور اس کے دوست واقعی نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے۔

    یہ سمجھنا کہ جب آپ چلے جاتے ہیں تو وہ کیا سوچتا ہے ایک معمہ کی طرح لگتا ہے جسے آپ کو حل کرنے کی ضرورت ہے، لیکن، جیسا کہ پتہ چلتا ہے، یہ واقعی اتنا پیچیدہ نہیں ہے۔ سب کے بعد، مرد واقعی پیچیدہ نہیں ہیں، کیا وہ ہیں؟

    اس کے باوجود، وہ جو ملے جلے اشارے بھیج رہا ہے وہ شاید آپ کا کوئی فائدہ نہیں کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، "U UP؟” صبح 2 بجے کے نشے میں موجود متن نے آپ کے پاس جوابات سے زیادہ سوالات چھوڑے ہیں۔ آئیے آپ کے کسی بھی سوال کا جواب دے کر آپ کے ذہن کو آرام دیں۔
    سب سے پہلے سب سے پہلے، ایک عورت ایک مرد سے دور چلنا ہمیشہ ایک ہی نتیجہ نہیں ہو سکتا. وہ جس طرح سے ردعمل ظاہر کرتا ہے وہ آپ کی متحرک، آپ اور وہ جن واقعات سے گزرے ہیں، اور وہ کس قسم کے شخص سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
    اگر وہ اپنے آپ کو "آدمی” ہونے پر فخر کرتا ہے، تو آپ شاید اس کی انا کو لاکھوں ٹکڑوں میں پھٹتے ہوئے دیکھیں گے۔ اس کے بعد غصہ یا ان خطوط پر کچھ اور ہوسکتا ہے۔ اگر، تاہم، آپ نے ایک آدھے مہذب آدمی کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے، تو وہ دو طریقوں میں سے کسی ایک میں ردعمل ظاہر کر سکتا ہے۔ یا تو احترام کے ساتھ، یا اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے جدوجہد کر کے۔
    مزید یہ کہ، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ جب آپ چلے جاتے ہیں تو وہ کیا سوچتا ہے اس پر بھی عمل ہوتا ہے کہ آپ کب اور کیوں ایسا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر آپ زہریلے حرکیات سے باہر نکل گئے ہیں، تو امکانات ہیں، وہ آپ کے فیصلے پر زیادہ سوال نہیں کر سکے گا۔
    لیکن اگر آپ اپنی مرضی کے مطابق کچھ کرنے کے لیے اس سے جوڑ توڑ کرنے کی امید میں چلے گئے ہیں، تو اس کا ردعمل ہو سکتا ہے۔ فلموں کے برعکس، ہیرو عورت کے جانے کے بعد اس کا پیچھا کرنے کے بجائے صرف "اس کے ساتھ جہنم” کہہ سکتا ہے۔ فلموں میں محبت واقعی اس کی درست نمائندگی نہیں ہے کہ یہ حقیقی زندگی میں کیسی ہے۔
    یہ کہنے کے ساتھ، آئیے اس سوال کے تمام ممکنہ نتائج پر ایک نظر ڈالتے ہیں، "جب ایک عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” تاکہ آپ اپنے بالوں کو کھینچتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش نہ کریں کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔
    1. اس کی ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
    "میں کافی اچھا نہیں ہوں، وہ مجھے برداشت بھی نہیں کر سکتی تھی،” ہو سکتا ہے وہ وہی سوچتا ہو جب آپ چلے جاتے ہیں۔ اس طرح کے تناسب کو مسترد کرنا اس کی شخصیت کے رد کی طرح محسوس ہوتا ہے اور اس حقیقت کو قبول کرنا اس کی ذہنی صحت کو نیچے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
    خاص طور پر اگر آپ کی زندگی میں اس کی جگہ کسی اور آدمی نے لے لی ہے، تو یقینی طور پر عدم تحفظ کے مسائل جنم لیں گے۔ یہاں تک کہ اگر یہ یکطرفہ تعلقات کی طرح لگتا ہے، تو اس کی جگہ لینا تکلیف کا باعث ہے۔
    جب آدمی کسی رشتے سے دور ہو جاتا ہے تو اس کا غرور برقرار رہتا ہے اور اس کی عزت نفس کم نہیں ہوتی۔ لیکن جب ہم ایک عورت کو مرد سے دور ہوتے دیکھتے ہیں تو اس کا غرور متاثر ہوتا ہے اور دور ہونے سے ذلت ہوتی ہے۔
    2. غم کا خود کو کم کرنے والا مرحلہ: سودے بازی
    ہاں، یہ مکمل طور پر ممکن ہے کہ آدمی سے دور ہونے کی طاقت سودے بازی کی مایوس کن کوشش کو بھڑکا سکتی ہے۔ جو کچھ اس نے کھویا ہے اسے واپس کرنے کی کوشش کرنے کے لیے، وہ شاید وہ سب کچھ کہنے والا ہے جو آپ سننا چاہتے ہیں، کیونکہ یہ مردانہ نفسیات کے سب سے بڑے اجزاء میں سے ایک ہے۔
    چاہے وہ خالی وعدے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ آپ کے لیے ہے۔ مواصلات کی کمی جو اچانک واقع ہوئی ہے اسے مایوسی کے ہتھکنڈوں کا سہارا لے سکتا ہے۔ "میں ایک بدلا ہوا آدمی ہوں گا،” یا "میں بہتر کروں گا، براہ کرم واپس آجائیں،” شاید اس کی زبان آسانی سے نکل جائے، لیکن ان بیانات کے پیچھے عزم اہم ہے۔
    3. آپ کی اپنی دوا کا ذائقہ: غصہ
    سپیکٹرم کے دوسرے سرے پر، وہ رونما ہونے والے واقعات سے ناراض ہو سکتا ہے۔ چاہے یہ سودے بازی ہو یا غصہ جو اس پر زیادہ گرفت رکھتا ہے اس کا انحصار اس شخص پر ہے کہ وہ کس قسم کا ہے۔ اس کے باوجود، یہ کوئی دور کی حقیقت نہیں ہے کہ اسے آپ پر میزیں پھیرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھیں۔
    اگر یہ سوال، "کیا مرد کسی عورت کی عزت کرتا ہے جو چلی جاتی ہے؟” آپ کے ذہن میں رہا ہے، جس طرح سے وہ رد عمل ظاہر کرتا ہے وہ آپ کو وہ سب بتائے گا جو آپ کو جاننے کی ضرورت ہے۔ رد کو احسن طریقے سے قبول کرنے کے لیے جذباتی پختگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک، دماغ کی اس ہلچل کی حالت میں، عمل کا بہترین طریقہ انسٹاگرام پر آپ کے نام کے ساتھ والے "بلاک” بٹن کو مارنے جیسا نظر آتا ہے۔
    اس سوال کا ایک اور ناگوار جواب، "جب ایک عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” یہ ہے کہ وہ دقیانوسی تصورات قائم کرنا شروع کر سکتا ہے۔ اس کے کندھے پر لگی چپ مستقبل کے رومانوی مفادات کی طرف گہرے بد اعتمادی کے جذبات کو جنم دے سکتی ہے۔
    نتیجے کے طور پر، ایک آدمی سے دور چلنے کی "طاقت” ختم ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں اس کے لیے تعلقات کو نقصان پہنچانے کا ایک چکر بن سکتا ہے۔ وہ اعتماد کے مسائل پیدا کر سکتا ہے اور یہاں تک کہ اسے کھولنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، ان دقیانوسی تصورات سے بچنے اور ان پر قابو پانے کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔
    4. "مجھے اپنی محبت ثابت کرنے کی ضرورت ہے”
    "جب ایک عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” کا جواب وہ جس چیز سے متاثر ہوا ہے اس سے بھی تشکیل پا سکتا ہے۔ بڑی اسکرین نے اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لیے شراب نوشی اور غم کے دور سے گزرنے والے مردوں کو رومانٹک بنایا ہے۔ ان فلموں میں، دور چلنا پرکشش انتخاب ہے۔ اس کے بعد، ہم اس آدمی کو غم سے لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں جب کہ اس کی محبت کو "ثابت” کرنے کے لیے کچھ بڑا کام بھی کرتے ہیں۔
    یہ ممکن ہے کہ محبت کو کیا سمجھا جاتا ہے اس کا یہ ناقص خیال اسے اسی طرح کے مرحلے سے گزرنے پر مجبور کر دے۔ اسے اب اپنی محبت کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اشارہ کرنے کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔
    کیا مرد عورت کی عزت کرتا ہے جو چلی جاتی ہے؟ کچھ معاملات میں، فلموں سے متاثر ہو کر، اس طرح کا رد کرنا اس کے لیے اپنے کھیل کو تیز کرنے کی دعوت کی طرح لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ صورتحال کو قبول نہ کرنے اور آگے بڑھنے کے عمل میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔
    5. تنہا ہونے کے بارے میں گھبراہٹ
    جب کوئی آدمی کسی رشتے سے دور ہو جاتا ہے، تو اسے عام طور پر تنہا محسوس کرنے کی فکر نہیں ہوتی۔ تاہم، جب عورت مرد سے دور ہوتی ہے، تو گھبراہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اور جب گھبراہٹ ہو جاتی ہے، تو اس کے بعد کی جانے والی حرکتیں عام طور پر زیادہ منطقی نہیں ہوتیں۔
    جب کوئی شخص اپنی خواہش سے محروم ہوجاتا ہے، تو ایک کمیابی ذہنیت غلط فیصلہ سازی کا باعث بن سکتی ہے۔ "مجھے مسترد کر دیا گیا ہے، میں اکیلے مرنے جا رہا ہوں،” ہو سکتا ہے کہ آپ کے چلے جانے پر وہ کیا سوچتا ہے۔
    آپ کو زیادہ حیران نہیں ہونا چاہئے اگر وہ صحت مندی کے رشتے میں کودتا ہے یا اسراف خریداری کرنا شروع کردیتا ہے۔ آئیے صرف امید کرتے ہیں، سب کی خاطر، کہ یہ "آپ کے 50 کی دہائی میں لیمبوروگھینی خریدنے” کے مرحلے پر نہیں جائے گا۔
    6. وہ مجرم محسوس کرنے لگے
    اگر آپ نے رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس میں اس کی طرف سے زہریلا سلوک دکھایا گیا ہے، تو یہ ممکن ہے کہ آدمی سے دور جانے کی طاقت اسے احساس دلائے گی کہ اس نے کیا غلط کیا ہے۔
    رشتے میں رہتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ وہ اس نقصان سے اندھا ہو گیا ہو جو وہ پہنچا رہا تھا، لیکن اس کے حقیقی نتائج کو دیکھ کر، وہ اپنی غلطیوں کو قبول کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو قبول کرنے کے بعد وہ جو راستہ اختیار کرتا ہے اس کا انحصار اس شخص پر ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کا ہے۔
    وہ خلوص دل سے معافی مانگنے کا انتخاب کر سکتا ہے، یا ہو سکتا ہے کہ وہ مکمل طور پر ذمہ داری لینے سے گریز کرنا چاہے۔ جب تک آپ بندش کی تلاش میں نہیں ہیں اور صرف چیزوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا کرتا ہے۔
    7. وہ آگے بڑھنے کے موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
    کیا مرد اس عورت کی عزت کرتا ہے جو چلی گئی ہے؟ یہ مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کا شخص ہے، لیکن اگر وہ اس قسم کا شخص ہے جس کا احترام کیا جائے گا، تو وہ شاید اسے آگے بڑھنے کے موقع کے طور پر دیکھے گا۔
    اگر وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ شخص جو باہر چلا گیا ہے اسے ماضی میں چھوڑنا بہتر ہے، تو آگے بڑھنا ایک اچھا خیال لگے گا۔ یہ خاص طور پر اس صورت میں ہو سکتا ہے جب اسے بہت واضح طور پر جوڑ توڑ کی وجوہات کی بنا پر باہر کر دیا گیا ہو۔
    کوئی بھی ہٹائے جانے کی تعریف نہیں کرتا ہے اور اسے صرف یہ احساس ہوسکتا ہے کہ وہ دماغی کھیلوں کا مستحق نہیں ہے جس کا اسے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لہذا اس سے پہلے کہ آپ اپنی تمام امیدوں کو کسی قسم کا نقطہ نظر بنانے کے لئے دور چلنے کی طاقت پر لگائیں ، جان لیں کہ وہ نتیجہ کے طور پر آگے بڑھ سکتا ہے۔
    اب جب کہ آپ اس سوال کا جواب جان چکے ہیں، "جب عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” آپ شاید کچھ اور سوچ کے ساتھ حکمت عملی سے رجوع کریں گے۔ آپ کے تعلقات کی حرکیات اس کے اعمال اور رد عمل میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں، اور یہاں واقعی ایک ہی سائز کے فٹ ہونے والا طریقہ نہیں ہے۔ امید ہے کہ، اب جب کہ آپ کے پاس اس بات کا جواب ہے کہ ایک عورت مرد سے دور چلتی ہوئی اس کے ساتھ کیا کرتی ہے، تو آپ اپنے دماغ کو اس کے بارے میں سوچتے ہوئے نہیں چھوڑیں گے۔

  • سرگودھا : خاتون محتسب پنجاب کا معاون ٹیم کے ہمراہ سرگودھا کا دورہ ۔

    سرگودھا : خاتون محتسب پنجاب کا معاون ٹیم کے ہمراہ سرگودھا کا دورہ ۔

    سرگودھا میں خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم علی نے معاون ٹیم کے ہمراہ سرگودہا کا دورہ کیا اور ڈپٹی کمشنر آفس میں عدالت کے دوران خواتین سے متعلق سرگودہا ڈویژن کے 17 ریونیو کیسز کی سماعت کی. ان کیسز میں ضلع سرگودھا کے 05, میانوالی کے 10 اور بھکر کے 02 کیس شامل تھے۔کنسلٹنٹ عبدالرشید، انچارج پراپرٹی برانچ حافظ فاروق انور کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر عظیم شوکت اعوان موجود تھے۔خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم علی نے کہا کہ حکومت پنجاب نے خواتین کو وراثتی جائیداد دلانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے خاتون محتسب کا الگ ادارہ قائم کیا اور یہ عدالت حکم عدولی پر ہائی کورٹ کے اختیارات کی طرح توہین عدالت کی کارروائی کی مجاز ہے۔انہوں نے کہا کہ پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2021 کے تحت خواتین کو وراثتی جائیداد کا حق دلایا جائیگا۔خاتون محتسب کی عدالت فوری کارروائی کرتے ہوئے 60 روز کے اندر فیصلے کررہی ہے۔نبیلہ حاکم علی نے کہا کہ خاتون محتسب کی عدالت قبضہ شدہ جائیداد کا مارکیٹ ریٹ پر کرایہ ادا کرنے کا ملزمان کو حکم بھی دے سکتی ہے۔خاتون محتسب پنجاب نے مزید کہا کہ خواتین کی جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ سائلین کے گھروں کے نزدیک کیسز کی سماعت سے عوام کو آسانی ملتی ہے ہم صدقہ جاریہ سمجھ کر فرائض انجام دے رہے ہیں۔نبیلہ حاکم علی نے کہا کہ خواتین کو وراثتی جائیداد سے محروم کرنے کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے عوام میں شعور و آگاہی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین اپنے حقوق کے دفاع اور ہراسمنٹ سے متعلق فوری داد رسی کیلئے خاتون محتسب کے دفتر سے رجوع کریں۔