Baaghi TV

Author: +9251

  • واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

    واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

    واشنگٹن :واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ،اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں قائم ’ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس‘ کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے یوم یکجہتی کشمیرکے موقع پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے وسیع پیمانے پر حمایت کو سراہاہے۔

    یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے جمع ہونے والے شرکاءنے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کی طرف مبذول کرائی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاکہ وہ اس دیرینہ تنازعے کے حل میں مدد دینے کا اپنا وعدہ پورا کرے۔شرکاءنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ” سب کی آزادی: کشمیر کی آزادی“، ”ہم انسانی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں“ ،”جاگوجاگو اقوام متحدہ جاگو“ ،”بھارتی فوج کوکشمیر سے نکال دو“اور ”بھارت: کشمیر کو آزاد کرو“جیسے نعرے درج تھے۔

    اس احتجاج کا اہتمام ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم اورکونسل فار سوشل جسٹس نے کیا تھا۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن کشمیر میں اس کے اقدامات اس کے برعکس ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو درست کرنے کے بجائے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والی اپنی دہشت گردی کو قانونی شکل دے دی ہے۔انہوں نے کہاکہ کہ بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموںو کشمیر میں نافذ کیے گئے کالے قوانین سے ایک ایسی صورتحال بن گئی ہے جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے بھارتی فورسز کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔

    ڈاکٹر فائی نے کہا کہ یہ قوانین بھارتی فوج کو مکمل استثنیٰ کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گھناونے جرائم کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے شعور کے باوجود بھارت کشمیر میں بے گناہ شہریوں کو قتل اور تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور انسانی حقوق کے نگران ادارے بھارت کو اس طرح کشمیر کے لوگوں کو قتل، تشدد اور معذور بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

    انہوں نے کہاکہ آزاد دنیا کے رہنما کی حیثیت سے امریکہ پر یہ فرض ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں قائدانہ کردار ادا کرے۔کونسل فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرڈاکٹر زاہد بخاری نے کہا کہ ان کی تنظیم نے ہمیشہ بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہارکرنے کے لیے یہاں موجود ہیں جو دنیاکی سب سے بڑی کھلی جیل میں زندگی گزار رہے ہیں۔

    ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم کے پروفیسر امتیاز خان نے کہا کہ بھارتی فوج نے ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہریوں کا قتل عام کیا جو بھارتی قبضے کے خلاف پرامن مظاہرے کررہے تھے۔ ہزاروں کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی، 10ہزر سے زائد لاپتہ افراد اور اجتماعی قبروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ مظالم 5 اگست 2019 کے بعد کئی گنا بڑھ گئے جب دفعہ 370اور A 35کو منسوخ کیاگیا جن کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ پروفیسر خان نے کہا کہ بھارتی فوج کشمیریوں کوخوفزدہ کرنے کے لیے ان پرمظالم ڈھا رہی ہے تاکہ وہ حق خودارادیت کے بارے میں بات بھی نہ کریں۔

  • روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    ماسکو:روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی،اطلاعات کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر آئندہ چند ہفتوں میں حملہ کرسکتا ہے جس کے لیے اس نے 70 فیصد تک تیاری مکمل کرلی ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے انہیں بتایا کہ یوکرین تنازع پر روس حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، وہ جنگی تیاریوں کے لیے فروری کے وسط تک مزید بھاری ہتھیار اور سامان یوکرین کی سرحد تک منتقل کرسکتا ہے۔

    اس حوالے سے دو امریکی حکام نے عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 15 فروری سے مارچ کے اختتام تک کا موسم روس کو بھاری جنگی سازو سامان سرحدوں تک منتقلی کے لیے پیک ٹائم ہوگا۔
    امریکی حکام نے اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے اور کہا کہ یہ معلومات خفیہ اطلاعات کے سبب حاصل ہوئی ہیں، معاملہ حساس ہونے کے سبب وہ امریکی میڈیا کو اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے۔

    واضح رہے کہ روس نے یوکرین کی سرحد کے نزدیک ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کررکھے ہیں تاہم روس نے یوکرین پر حملے کے خدشے کو مسترد کردیا ہے۔

    ادھر امریکا نے بھی اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کرلیا ہے،یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • مر کہ بھی چین نہ پاپا تو کدھر جائیں

    قصور: مر کہ بھی چین نہ پاپا تو کدھر جائیں کھڈیاں خاص کے محلہ پرانا امام بارگاہ میں میونسپل کارپوریشن کی بے حسی کی انتہالوگ سیوریج کے گندے پانی سے اپنے پیاروں کا جنازہ لیجانے پر مجبورپرانا محلہ امام بارگاہ کے علاقہ مکینوں کی گندے پانی سے لیجانے کی ویڈیو ایس ایم نیوزکو موصول: سیوریج کا گندہ پانی ایک ماہ سے سڑک پر کھڑا ہے مگر انتظامیہ کی نااہلی سے نکالا نہ جا سکاایک ہفتہ قبل بھی علاقہ مکینوں نے کارپوریشن کی نااہلی کے خلاف احتجاج بھی کیا
    سیوریج کا گندہ پانی نکالے نہ جانے کی وجہ سے لوگ جنازہ بھی پانی سے لیجانے پر مجبور

  • شہر میں ڈکیتوں نے ایک اور قیمتی جان ضائع کردی

    شہر میں ڈکیتوں نے ایک اور قیمتی جان ضائع کردی

    کراچی : شہر میں ڈکیتوں نے ایک اور قیمتی جان ضائع کردی ۔

    تفصیلات کے مطابق سچل گوٹھ کا رہائشی سعید سولنگی گزشتہ ماہ 17جنوری کو ڈکیتی مزاحمت پر زخمی ہوا تھا ۔ مقتول سعید گزشتہ روز سول اسپتال میں دوران علاج انتقال کرگیا ۔

    مقتول سعید نجی لیبارٹری میں کام کرتا تھا ۔ خرچہ پورا کرنے کے لئے مقتول پارٹ ٹائم آن لائن موٹرسائیکل بھی چلاتا تھا ۔ مقتول سعید 5 بچوں کا باپ تھا ۔
    پولیس ذرائع کے مطابق ڈکیتی میں ملوث ملزمان کو واردات کے بعد گرفتار کرلیا تھا ۔

  • ماہرہ خان اور مہوش حیات اداکاری کی کوئین ہیں : مانی

    ماہرہ خان اور مہوش حیات اداکاری کی کوئین ہیں : مانی

    کراچی: اداکار و میزبان سلمان ثاقب عرف مانی نے ماہرہ خان اور مہوش حیات کو اداکاری کی کوئین قرار دے دیا۔

    مانی اپنی اہلیہ اداکارہ حرا کے ہمراہ حال ہی میں ’’جشن کرکٹ‘‘ نامی شو میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے میزبان کے سوالوں کے دلچسپ جواب دئیے۔

    شوکے ایک سیگمنٹ کے دوران میزبان کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں حرا نے کہا مانی خوش قسمت ہے کہ اسے میرے جیسی بیوی ملی۔
    میزبان نے حرا سے پوچھا کیا مہوش حیات کے بعد اب آپ کو تمغہ امتیاز ملنا چاہئے؟ جس پر حرا نے کہا نہیں انڈسٹری میں اور بہت سی اداکارائیں ہیں جو تمغہ امتیاز کی حقدار ہیں۔ اس موقع پر ان کے شوہر مانی نے کہا کہ اس بار تمغہ امتیاز ماہرہ خان کو ملنا چاہئے۔

    اداکارہ حرا نے مصطفیٰ کمال کی سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) میں شمولیت کے بارے میں کہا کہ مانی کرے نا کرے لیکن میں پی ایس پی ضرور جوائن کرلوں گی۔

    اپنی باری پر مانی نے بھی میزبان کے سوالوں کے کئی دلچسپ جوابات دئیے۔ میزبان نے مانی سے پوچھا کیا نواز شریف آصف زرداری سے زیادہ کرپٹ ہیں؟ اس سوال کے جواب میں مانی نے کہا آصف زرداری زیادہ کرپٹ ہیں۔

    مانی نے وزیراعظم کے بارے میں کہا کہ عمران خان عوام پر رحم کریں اور عوام کو گھبرانے کی اجازت دے دیں۔ کیونکہ اب تو پانی سر کے اوپر سے گزر گیا ہے۔ جب میزبان نے مانی سے پوچھا کہ عمران خان نے یوٹرن لینے کے سارے ریکارڈز توڑ دئیے ہیں، اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ تو مانی نے کہا ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آنا چاہئے۔ کراچی کنگز اور مصطفیٰ کمال کے بارے میں مانی نے کہا کہ دونوں کا وقت بدلنے والا ہے۔ مصطفیٰ کمال کی پارٹی اگلے الیکشن میں کمال کرے گی کیونکہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

    مانی نے اپنی بیوی حرا کو خود سے بہتر آرٹسٹ قرار دیا۔ میزبان نے مانی سے سوال پوچھا کیا آپ سمجھتے ہیں مہوش حیات اور ماہرہ خان اداکاری میں حرا سے بہت پیچھے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں مانی نے کہا نہیں ایسا بالکل نہیں ہے۔ ماہرہ اور مہوش حرا سے بہت آگے ہیں دونوں بہت بڑی اسٹارز ہیں، دونوں اداکاری کوئین ہیں۔ میرے خیال میں دونوں کو اداکاری کا انسٹی ٹیوٹ کھولنا چاہیے۔

  • سروں کی ملکہ لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں چل بسیں

    سروں کی ملکہ لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں چل بسیں

    کراچی : سروں کی ملکہ لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں چل بسیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات کئی جسمانی اعضا کی خرابی کے باعث گلوکارہ لتا منگیشکر اتوار کی صبح ممبئی کے اسپتال میں چل بسیں۔ بریچ کینڈی اسپتال کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر این سنتھانم نے گلوکارہ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لتامنگیشکر ان کے اسپتال میں کووڈ 19 کے مریض کے طور پر داخل ہوئی تھیں۔ ان کا کورونا کا علاج کیا گیا تھا لیکن بعد میں وہ کووڈ پیچیدگیوں کی وجہ سے انتقال کرگئیں۔

    واضح رہے کہ لتا منگیشکر کو 8 جنوری کو ہلکی علامات کے ساتھ کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہیں ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں نمونیا کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) کے وارڈ میں داخل کیا گیا تھا اور وہ تقریباً 20 روز تک وینٹی لیٹر پر رہی تھیں۔
    گزشتہ روز لتا منگیشکر کی حالت ایک بارپھر بگڑنے پر انہیں دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔ بریچ کینڈی اسپتال کے ڈاکٹر پرتت صمدانی نے لتا منگیشکر کی حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ گلوکارہ اب بھی آئی سی یو میں ہیں اور ڈاکٹرز کی زیر نگرانی رہیں گی۔

    لتا منگیشکر کی بگڑتی حالت کا سن کر اداکارہ شردھا کپور سمیت متعدد بالی ووڈ فنکار ان سے ملنے اسپتال پہنچے تھے۔ جب کہ مادھوری ڈکشٹ، روینہ ٹنڈن سمیت متعدد فنکاروں نے گلوکارہ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی تھی۔

    لتا منگیشکر کی بہن گلوکارہ آشاہ بھوسلے بھی اپنی بہن سے ملنے گزشتہ روز اسپتال پہنچیں تھیں اور ان کی صحت کے بارے میں میڈیا کو بتایا تھا کہ اب لتا دیدی کی حالت مستحکم ہے۔ تاہم لتامنگیشکر جانبر نہ ہوسکیں۔

  • یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک  کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

     

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ  مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    یوکرائن بحران پر نیٹو اور روس کے درمیان کشیدگی کے خلاف یورپی جنگ مخالف اتحاد کی جانب سے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

    مظاہرین نے ممکنہ یوکرائن جنگ اور نیٹو کے خلاف جبکہ ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نعروں پر مبنی بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔مظاہرے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ یوکرائن کے مسئلے پر متوقع جنگ امریکی، یورپی اور روسی سامراج کی سازش ہے۔

    احتجاج میں شریک ایک شخص نے کہا کہ یہ جنگ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے عوام دشمن معاشی مفادات کو بے نقاب کر رہی ہے۔ اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ دراصل یہ اسلحے کی فروخت کے لیے کی جانے والی جنگ ہے۔

    مظاہرے میں شامل ایک خاتون نے کہا کہ اربوں ڈالرز جنگ کی بجائے اسکولوں، ہسپتالوں اور ویکسینیشن کی تحقیق پر خرچ کرنے چاہئیں اور یوکرائن تنازع بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔

    روس کی تقریباً ایک لاکھ فوج بھاری فوجی ساز و سامان کے ساتھ یوکرائن کی مشرقی سرحد کے گرد جمع ہے۔ یوکرائن کے مشرقی سرحدی علاقوں میں روسی بولنے والوں کی اکثریت آباد ہے اور وہاں یوکرائن حکومت کے خلاف 2014ء سے شورش جاری ہے۔

    دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے مشرقی یورپ میں نیٹو افواج کو متحرک کرنا شروع کر دیا ہے اور اسٹونیا میں آرٹلری اور جدید جنگی طیارے پہنچا دیے ہیں تاکہ روس کے خلاف کسی ردعمل کے لیے تیار رہا جائے۔

    اِسی تناظر میں مظاہرین کو خدشہ ہے کہ یورپ میں ایک بڑی جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے۔

    یورپی جنگ مخالف محاذ کے مظاہرے میں شامل دوسری جنگ عظیم سے متاثرہ ایک شخص کا کہنا تھا کہ مظاہرے میں شرکت کا مقصد یورپی رہنماؤں کو یہ باور کرانا ہے کہ جنگ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں لاتی۔

    مظاہرے میں بچوں سمیت شریک ایک خاندان کا کہنا تھا یورپ دو بڑی جنگوں کا خمیازہ بھگت چکا ہے اور اب مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

  • پاک سر زمین اور پیپلز پارٹی کے درمیان چھ صفحات پر مشتمل معاہدہ طے پایا گیا  : مصطفیٰ کمال

    پاک سر زمین اور پیپلز پارٹی کے درمیان چھ صفحات پر مشتمل معاہدہ طے پایا گیا : مصطفیٰ کمال

    کراچی : پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ پاک سر زمین پارٹی اور پیپلز پارٹی کے درمیان چھ صفحات پر مشتمل معاہدہ طے پایا گیا۔ اس معاہدے کا فائدہ کراچی سے کشمور تک کی عوام کیساتھ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو پہنچے گا۔ جب عوام تک اختیارات اور وسائل منتقل ہوتے ہیں تو حکمرانوں کی نیک نامی ہوتی ہے۔
    ہمارے مطالبات کسی رنگ، نسل یا زبان کی بنیاد پر نہیں بلکہ بلخصوص کراچی سے کشمور اور بالعموم پاکستان کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیئے گئے تھے۔اٹھارویں ترمیم کے پھل اگر عوام تک نہیں پہنچے تو پھر صوبائی حکمرانوں سے یہ پھل چھن جائے گا، پھر اٹھارویں ترمیم چھیننے پر پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔
    اگر پی ایف سی سے زریعے وسائل عوام تک پہنچانے میں تاخیر ہورہی ہے تو ڈیوڑنل پول کے زریعے وسائل گلیوں محلوں تک منتقل کیے جائیں گے، 18 فروری تک ان تمام چیزوں کو دیکھیں گے، ہمیں امید ہے کہ سندھ حکومت معاہدے کا پاس رکھے گی، اگر سندھ حکومت نے کچھ آنا کانی کی تو ہم پھر آزاد ہیں۔

    2017 میں ہم وزیر اعلیٰ ہاؤس جارہے تھے۔ ہم پر شیلنگ ہوئی تشدد ہوا تھا، جو اس وقت مذاق اڑا رہے تھے وہ کریڈٹ لینا چاہتے ہیں۔ہم نے آج تک کوئی جھوٹ نہیں بولا ہے۔میئر کا آفس کراچی کے لوگوں کا ہے۔ میں اس آفس کے لیے اختیار مانگ رہا ہوں۔یہ ایک تحریک ہے یہ پورے پاکستان میں پھیلے گی ہمیں تمام چیزوں کا اختیار دو،پیپلز پارٹی کے کارکنان اپنے وزراء سے اختیار خود لیں۔
    وزراء اور ایم این اے نالوں کی صفائی میں لگے ہیں نالوں کی صفائی وزرا کا کام نہیں ہے۔حکمرانوں کو اختیارات بانٹنے پڑیں گے کیونکہ یہ مقامی معاملہ نہیں ہے یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔اللہ نے ہماری آواز سب کے دلوں میں اتار دی ہے۔ہمارے پنڈال میں تمام زبانیں بولنے والے موجود تھے اور پی ایس پی عوام کے لئے امید کی ایک کرن ہے، اب کوئی بھی یہاں لاشوں کا کاروبار نہیں کرسکے گا، اس سے بڑی کامیابی کوئی اور ہو نہیں سکتی۔
    آج یوم کشمیر ہے، کشمیریوں کو بتانا چاہتا ہوں بھارت نے پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی میں لوگوں کو تیار کر رکھا تھا۔ بھارت کراچی میں لاشیں گرا کر کشمیر کی آواز دباتا تھا، جب جب تحریک آزادی کشمیر زور پکڑتی تھی تب تب کراچی آگ اور خون میں نہلایا جاتا تھا، ہم نے کراچی میں بیٹھ کر کشمیر کی جنگ لڑی ہے، ریاست نے کبھی آواز لگائی تو ہم کشمیریوں کے ساتھ جسمانی طور پر شانہ بشانہ کھڑے ہوکر لڑیں گے اور کشمیر کو آزادی دلوائیں گے۔
    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صدر پی ایس پی انیس قائم خانی، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور نیشل کونسل کے اراکین بھی موجود تھے۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا کیسے شکر ادا کروں کہ میرے رب نے مجھے ایسے لوگ دئیے ہیں جن کی پارٹی کے پاس نہ کوئی عہدہ ہے، نہ کوئی مراعات ہے، وہ اپنی قربانیاں دے رہے ہیں۔
    حکومت کو ہماری جائز بات ماننا پڑی، ہم نے یہ کام عبادت سمجھ کر کیا ہے، ہمیں اختیارات کراچی اور کشمور کی گلیوں میں لیکر آنا ہے۔ اگر اسکول میں تعلیم اور ٹرانسپورٹ نہ دیں تو محلے والوں کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ خود ان احتساب کریں جب اختیارات آپ کے پاس ہوتے ہیں تو آپ اپنے نمائندے کو پکڑ سکتے ہیں۔ 18 ویں ترمیم کے بعد اختیار نیچے نہیں گیا۔

  • کالعدم تحریک طالبان مالاکنڈ ڈویژن کا سربراہ مفتی بور جان افغانستان میں ہلاک

    کالعدم تحریک طالبان مالاکنڈ ڈویژن کا سربراہ مفتی بور جان افغانستان میں ہلاک

    پشاور: کالعدم تحریک طالبان مالاکنڈ ڈویژن کا سربراہ مفتی بور جان افغانستان میں ہلاک ،اطلاعات کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کا مالا کنڈ ڈویژن کا سربراہ مفتی بور جان بم حملے میں ہلاک ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق 19 جنوری کی شب کنڑ میں مفتی بور جان کی گاڑی پر بم سے حملہ کیا گیا تھا، حملے میں وہ زخمی اور ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا تاہم اب مفتی بور جان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جلال آباد میں ہلاک ہوگیا۔ذرائع کے مطابق مفتی بور جان کی تدفین افغانستان میں نامعلوم مقام پر کردی گئی ہے۔

    ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ مفتی بور جان ٹی ٹی پی کے سابق امیر ملا فضل اللہ کا دست راست تھا، وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر میں سے سمجھا جاتا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے حلقے میں مفتی بور جان کی ہلاکت پر نئے گورنر پر مشاورت شروع کردی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ٹی ٹی پی کا مطلوب کمانڈر رفیع اللہ مارا گیا تھا، مطلوب کمانڈر دہشت گرد رفیع اللہ نے اپنے کئی کوڈ نام رکھے ہوئے تھے۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ رفیع اللہ این ڈی ایس، داعش اور مختلف بلوچ دہشت گرد تنظیموں کی معاونت بھی کر رہا تھا۔

    اس کے علاوہ کمانڈر رفیع اللہ سال2011سے ملک بھر میں ہونے والی متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی ملوث رہا تھا۔ تربیت یافتہ خود کش بمباروں کی ہرممکن معاونت اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا بھی رفیع اللہ کا کام تھا۔

    کمانڈر رفیع اللہ سول اسپتال کوئٹہ میں خودکش بمبار تیار کرنے کا سہولت کار تھا، اس کے علاوہ اسلام آباد میں سرینہ ہوٹل پرخود کش بمبار پہنچانے میں بھی اسی کی معاونت حاصل تھی۔

  • زرداری اور نوازشریف کی آل اولاد اورخاندان  نے وزیراعظم عمران خان کی طرف توپوں کے رُخ‌ کردیئے

    زرداری اور نوازشریف کی آل اولاد اورخاندان نے وزیراعظم عمران خان کی طرف توپوں کے رُخ‌ کردیئے

    لاہور:زرداری اور نوازشریف کی آل اولاد اورخاندان نے وزیراعظم عمران خان کی طرف توپوں کے رُخ‌ کردیئے،اطلاعات کے مطابق شہبازشریف اور حمزہ شہباز نے اپنی نااہلی سے بچنے کےلیے پرمارنے شروع کردیئے ہیں اور اپنے بچاوکی خاطر آصف علی زرداری کی بھی منتیں کرنی شروع کردی ہیں جن کا کبھی شہبازشریف پیٹ پھاڑنے کا دعوے کرتےتھے

    اس سلسلے کی پہلی منصوبہ بندی کا شرف بھی شریف فیملی کو ہی حاصل ہوا اور کھانے کے بہانے بھٹوزرداری فیملی کو بلا کریہ پیغآم دیا گیا ہےکہ اگرآج کچھ نہ کرسکے تو نہ نام ونشان ہوگا ہمارا زمانے میں

    شاید یہی وجہ ہےکہ اس اہم اجلاس کےبعد بھٹو زرداری اور شریف فیملی کی آل اولاد نے اپنی توپوں کے رُخ وزیراعظم عمران خان کی طرف کردیئے ہیں اس سلسلے جس اہم شخصیت سے خیر کی توقع نہیں تھی وہ تھیں مریم نوازصاحبہ ، اجلاس کے فوری بعد سب سے پہلے مریم نواز نے بیان داغا

    مریم نواز کہتی ہیں کہ جو سلیکٹڈ تھا وہ اب جانے والا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی نائب صدر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات ہوتے ہیں لیکن ہم کو عوام کی مشکلات اکٹھا رکھتی ہیں، عوام کے مسائل پر باہمی اختلافات بھلاکر ہم اکٹھے ہو جائیں گے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو سلیکٹڈ تھا وہ اب جانے والا ہے، جب ہم عوام کی امیدیں پوری کرنے جا رہے ہوتے ہیں تو اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ہوتی۔

    مریم نواز کے ہم پلہ بھٹو زرداری فیملی سے بلاول بھٹو نے وفا کرتے ہوئے مریم نواز کا بھرپورساتھ دیا اور کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت سے عوام کا اعتماد اٹھ گیااور اب پارلیمان کا اعتماد بھی اٹھنا چاہیے۔

    بلاول نے کہا کہ وزیراعظم کو ہر صورت جانا ہوگا، عمران خان کو ہٹانےکیلئے ہم سب اکٹھےہیں، حکومت کےخلاف احتجاج کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کے آپشن کھلے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنی مجلس عامہ کے اندر تفصیلی مشاورت کے بعد سیاسی فیصلے کیے تھے، میں نے اپنی جماعت کی سوچ شہباز شریف کے سامنے رکھی ہے، انہوں نے اپنے اور اتحادیوں کے پلان ہمارے سامنے رکھے ہیں

    آصف علی زرداری بے بلاول اور مریم نواز کے بیان کو کمک پہنچاتے ہوئے کہا کہ حکومت کے بہت سے لوگ ہمارے سے رابطے میں ہیں۔

    شہبازشریف جن کی نااہلی بہت جلد ہونے جارہی ہے وہ اپنی نااہلی سے بچنے کے ساتھ ساتھ نااہلی کی صورت میں‌ ہونے والی سزا سے بچنے کےلیے کہہ رہے ہیں کہ ملک میں کرپشن عروج پرہے اور ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے ، اگرعمران خان کو نہ ہٹایا گیا تو شاید کہیں بڑا نقصان نہ ہوجائے

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کا پارٹی قائد نواز شریف اور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    اس ساری صورت حال کے بعد جو منظرنامہ سامنےآیا ہے اس سے لگتا ہے کہ شہبازشریف اورحمزہ شہباز جعلی اکاونٹ اور کرپشن کے ٹھوس ثبوتوں کی وجہ سے نااہل ہورہےہیں‌اور وہ اپنی نااہلی کو بچانے کےلیے اب آخری کوششیں کررہےہیں ،

    لیکن ان کو یاد رہنا چاہیے کہ شہباز شریف نے جو نقصان پی پی قیادت کو پی پی کی حکومت کے دوران پہنچایا تھا اس کا ازالہ اگر شہبازشریف کی نااہلی ہوتی ہے تو پھر بھی ممکن نہیں‌آصف علی زرداری ایک منہجے ہوئے سیاستدان ہیں اور اپنے مبارک ہاتھوں سے شریف فیملی کی سیاست کو دفن کریں گے اور جمہوریت کا ساتھ بھی دیں گے