Baaghi TV

Author: +9251

  • سرگودھا پولیس کی نفری میں کمی کے باعث اہلکاران کو مشکلات کا سامنا ۔

    سرگودھا پولیس کی نفری میں کمی کے باعث اہلکاران کو مشکلات کا سامنا ۔

    سرگودھا پولیس ڈی پی او ڈاکٹر رضوان احمد خان کی قیادت میں دن رات اپنے فراٸض ادا کر رہی ھے ۔ سرگودھا پولیس میں نفری کم ہونے کی وجہ پولیس اہلکاران نیند پوری کرنے سے بھی قاصر ۔ پولیس اہلکاران دن رات ڈیوٹی کے باعث نہ تو اپنی فیملیز کو ٹاٸم دے پاتے ھیں ۔ اور نہ ہی نیند پوری کر پاتے ھیں ۔ جس کی وجہ سے پولیس جوانوں کے لہجے سخت ہو رھے ھیں ۔ تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ آج کل گنا سیزن ، کرشنگ سیزن ، اعلیٰ حکام کے احکامات کی بدولت سرگودھا پولیس دن رات سروس کر رہی ھے ۔ اور زیادہ تر اہلکار ریٹاٸرڈ بھی ہو چکے ھیں ۔ نفری کی کمی ھے ۔ اور زیادہ تر سیٹیں بھی خالی پڑی ھیں ۔ ایک ایک اہلکار کو 18 اٹھارہ گھنٹے لگاتار ڈیوٹی دینی پڑتی ھے ۔ موجودہ انگریز کے قانون پہ عمل درآمد تو ہو رہا ھے ۔ لیکن پولیس نفری بڑھانے کے فارمولا پہ عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا ۔ ذراٸع کے مطابق اس وقت سرگودھا پولیس کو 14 ہزار 400 ملازمان کی ضرورت ھے ۔ جبکہ ڈیوٹی کیلیٸے پولیس کے پاس 2500 ملازم موجود ھیں ۔ اور ایکٹیو فیلڈ میں ایک ہزار کے قریب ملازم ڈیوٹی سرانجام دے رھے ھیں ۔ اس وقت سرگودھا میں کراٸم روکنے کیلیٸے 14 ہزار کی بجاٸے ایک ہزار پولیس اہلکار ایکٹیو ڈیوٹی سرانجام دے رھے ھیں ۔ اس طرح نہ تو کراٸم پہ کنٹرول ہو سکے گا ۔ نہ ہی انسدادی کارواٸیاں ہو پاٸیں گی ۔ اور نہ ہی پولیس کا ردعمل تبدیل ہو سکے گا ۔ اگر تمام ڈیوٹیاں احسن طریقہ سے پوری کرنی ھیں ۔ تو سرگودھا پولیس کی نفری کو بڑھایا جاٸے ۔ تاکہ سرگودھا پولیس کی نفری پوری ہو سکے ۔ اور صحیح معنوں میں تھانہ کلچر میں تبدیلی آ سکے ۔ عوامی سماجی حلقوں نے آٸی جی پنجاب پولیس ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان سے ازخود نوٹس لیتے ہوٸے سرگودھا پولیس کی نفری پوری کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔

  • پہلی قومی سلامتی پالیسی   ۔۔۔   دوست کون، دشمن کون ؟ تحریر: فیصل رانا

    پہلی قومی سلامتی پالیسی ۔۔۔ دوست کون، دشمن کون ؟ تحریر: فیصل رانا

    سیاسی ہلڑبازی اور معاشی افراتفری کی ہنگامی خیزیوں پر تو ہم روز بات کرتے ہیں ، آج پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے متعلق بات کریں گے جس کا اجرا کردیا گیا ہے۔ 100 صفحات پر مشتمل اس پالیسی ڈاکومنٹ کے آدھے حصے کو پبلک کیا گیا ہے جبکہ باقی آدھے حصے کو مخفی رکھا گیا ہےکیونکہ قومی سلامتی کے تمام امور کو عوام کے سامنے نہیں رکھا جاسکتا اور نہ ہی یہ عام معلومات کیلئے ہوتی ہے۔ یہ قومی سلامتی پالیسی ڈاکومنٹ سول اور ملٹر ی اتفاق رائے کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ کل چھ حصوں پر مشتمل اس دستاویز کو مرتب کرنے کیلئے 600 سے زائد ماہرین سے آراء لی گئیں اور مشاورت کی گئی ہے حتی کہ اس کی جامعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹز کے طلبا سے بھی اس پر آرا ء لی گئی ہیں۔

    یہ پالیسی معاشی، عسکری اورانسانی سکیورٹی کے 3 بنیادی نکات پرمشتمل ہےجبکہ معاشی سلامتی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی اور نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا کیونکہ سالانہ نظرثانی کا مقصد ہی یہ ہے کہ آنے والے وقت کے تقاضوں کے مطابق پالیسی کو پرکھا اور ماحول کے مطابق ڈھالا جاسکے۔ اس پالیسی کا محور پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے دنیا میں پاکستان کے مقام کو نمایاں کرنا ہے اور اس کے لئے جیو-اسٹریٹیجک اور جیو-پولیٹیکل امور کلیدی جز ہیں اور اس میں معاشی سلامتی اور تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

    قو می سلامتی کے چھ بنیادی حصے ہیں۔ 1۔ قومی ہم آہنگی، 2۔معاشی مستقبل کاتحفظ، 3۔دفاع اور جغرافیائی سالمیت، 4۔داخلی سلامتی، 5۔ بدلتی دنیا میں خارجہ پالیسی ، 6۔ اور انسانی سلامتی

    اب ان حصوں پر بھی فردا فردا بات کرلیتے ہیں کہ ان کی الگ الگ اہمیت کیا ہے اور ان کو کیوں انفرادی طور پر زور دیکر بیان کیا گیا ہے ۔

    قومی ہم آہنگی : اس حصے کا پہلا جز ہے کہ اسلامی جمہوریہ اور آئین کے مطابق ہمارے کرداراور وسیع ثقافت کےتحفظ کویقینی بنانے کا تعین کیا گیا ہے یعنی ہمارے ملک میں اسلامی تشخص کے مطابق فردی آزادیوں کا پاس رکھا جائے گا لیکن مادر پدر آزاد معاشرت ہماری قومی سلامتی کے منافی ہے۔

    اس حصے کا دوسرا جز ہے کہ سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کا خاتمہ کیا جائے گا یعنی ملک میں امیر اور غریب میں بڑھتی ہوئی تفریق چاہے وہ معاشی لحاظ سے ہے کہ جہاں امیر تو امیر تر ہوتا جارہا ہے اور غریب مزید غریب ہورہا ہے تو اس کی وجہ سے بھی معاشرے میں ایک تقسیم پیدا ہوتی ہے جسے ختم کرنا اب قومی سلامتی کے اہم پہلو کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ مضبوط وفاق کے قیام کیلئے اتحاد اور اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے جمہوریت کی مضبوطی اور سیاسی استحکام کے ذریعے ان اہداف کا حصول ممکن ہوسکتا ہے۔
    قومی ہم آہنگی کا تیسرا جز بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں زور دیا گیا ہے کہ حکومت اور ادارہ جاتی استعداد یا صلاحیت کو بڑھانا اب ہماری قومی سلامتی ذمہ داری بن چکی ہے۔ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ، ای گورننس کے ذریعے لوگوں تک سہولیات کی فراہمی اور رسائی کو آسان بناتے ہوئے عوامی خدمت کو مؤثر بنایا جائے گا۔ اب اسکا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کے ذریعے ایک حکومت سے دوسری حکومت کے قیام کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں عوام کو کچھ ڈلیور کرنا بھی ہوتا ہے اور اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو اس سے عدم مساوات اور بدانتظامی پھیلے گی ، لوگوں کا اپنی ریاست پرسے یقین کمزور ہوگا اور ہم ان حالات کا سامنا ایک طویل عرصے سے کررہے ہیں لیکن اب اگر مقتدرہ میں یہ سوچ پیدا ہوئی ہے تو یقینا نیک شگون ہے۔

    قومی سلامتی پالیسی کے مرکزی نکتے پر اب بات کریں تو وہ ہےمعاشی مستقبل کا تحفظ اور یہ نکتہ زیادہ توجہ طلب ہے کیونکہ یہی وہ مدعا جس پر موجودہ قومی سلامتی پالیسی کا دارومدار ہے۔معاشی مستقبل کا تحفظ کیسے ممکن ہے۔ معاشی تحفظ اور خودمختاری کا حصول پائیدار ، مجموعی اورجامع مالی ترقی کےذریعے یقینی بنانا ہے۔ یعنی اگر ہم مسلسل گروتھ کو یقینی بنائیں اور تمام طبقات کی مشترکہ ترقی اور مالی بہتری کریں تو ہماری قومی سلامتی کا تحفظ یقینی ہوگا۔ پالیسی کے اس حصے کو مزید ذیلی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

    1۔بیرونی عدم توازن:( یعنی روپوں میں کمانے اور ڈالر میں خرچ کرنے کے درمیان عدم توازن ہے جس کے سبب قرضے لینے پڑتے ہیں، اسکو ختم کرنے کیلئے ڈالر کمانے کے ذرائع بڑھانے ہوں گے اور یہ ایکسپورٹ اور ترسیلات زر کے ذریعے ممکن ہے۔ چنانچہ ان پہلوؤں پر سب سےزیادہ توجہ دینا ہوگی۔

    2۔ عمودی عدم مساوات: ( یعنی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کے قبضہ کو ختم کرنا ہوگا جس میں ایک طبقہ پالیسی اور معیشت پر قابض ہے اوردوسرے کا استحصال کررہا ہے۔ مافیاز کاراج ، چینی، تیل، پیٹرول ، کھاد وغیرہ وغیرہ جس سے معاشرے میں عدم مساوات ہے ۔ اب یہ سلسلہ ختم کرنا ہوگا ورنہ یہ قومی سلامتی کیلئے ایک خطرے کے طور پر موجود رہے گا۔

    3۔افقی عدم مساوات: اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں علاقائی سطح پر ترقی یافتہ اور پسماندہ کے لحاظ سے جو تقسیم ہے اس کو ختم کیا جائے، بلوچستان، سابقہ فاٹا ، گلگت بلتستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے بہت سے علاقے ہیں جن کو مواقع ، وسائل فراہم کیے جائیں اور انہیں ترقی دی جائے تاکہ لوگوں کو بڑے شہروں کی طرف ہجرت نہ کرنی پڑے یوں معاشی اورمعاشرتی ترقی کا حصول یکساں طور پر ممکن ہوسکے گا۔

    4۔گروتھ اینڈ ڈویلپمنٹ: (عام طور پر اردو میں ہم ان دونو ں کو ایک ہی لفظ کے طور پر لیتے ہیں لیکن گروتھ کا مطلب بڑھوتری یا نشوونما ہے اور ڈویلپمنٹ کا مطلب ترقی ہے۔ جب ہماری انڈسٹری اور سروسز سیکٹر میں نشوونما ہوگی تو اسکا ایک مجموعی مثبت اثر آئے گا، ٹیکس جمع ہوگا اور زیادہ پیسہ ہوگا تاکہ ترقیاتی کاموں میں لگے اور اس طرح ہم ترقی کر سکیں گے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ہماری گروتھ مستحکم ہو ، کم از کم 6 فیصد کے حساب سے ہم ہر سال اپنی معیشت میں اضافہ کریں تو 20 لاکھ نوجوان جو ہر سال جاب کے مارکیٹ میں آتے ہیں انہیں کھپایا جا سکے گا ، اس لئے یہ ایک مسلسل عمل ہے جسے یقینی بنانا ہوگا۔

    تجارت ، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری: ہم نے اگر ڈالر کمانے ہیں تو اس کیلئے ہماری انڈسٹر ی کا مضبوط ہونا ضروری ہے ، ٹیکسٹائل ہو یا کوئی اور شعبہ اس کی استعداد ِ کار بڑھانا ہوگی تبھی ہم درآمد ات بڑھا سکیں گے اور صرف یہی نہیں مزید نئی مارکیٹس ڈھونڈنا ہوں گی اور دوسروں کو اپنے ملک میں پیسہ لگانے کیلئے آمادہ کرنا ہوگا ، ایز آف ڈوئنگ بزنس کے ذریعے ، پھر پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو استعمال اور بروئے کا ر لاتے ہوئے علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دیکر ہم قوم سلامتی کیلئے معاشی تحفظ کو حاصل کرسکتے ہیں۔
    5۔مالیاتی مینجمنٹ: ہم ہمیشہ ایک ہی مسئلے کا شکار رہتے ہیں کہ گروتھ بڑھانے کیلئے ڈالر خرچ کریں توہمارا مالیاتی خسارہ بڑھنے لگ جاتا ہے ، اب یہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن رہا ہے کیونکہ اسکی وجہ سے ہمیں قرضے لینے پڑتے ہیں اور پھر قرض داروں جیساکہ آئی ایم ایف وغیرہ کی شرائط ماننا پڑتی ہیں، اس کی مینجمنٹ بہتر کرنا ناگزیر ہے اگر ہم قومی سلامتی اور معاشی تحفظ چاہتے ہیں۔

    6۔توانائی کا تحفظ: پہلی بار پاکستان میں حکومتی سطح پر انرجی سیکیورٹی پر زور دیا گیا ہے کیونکہ موجودہ توانائی کے حصول کا نظام ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ بجلی ، گیس اور پیٹرول تینوں توانائی کے حصول کے ذرائع ہیں ۔ بجلی اور گیس میں گردشی قرضہ ہمارے لئے قومی سلامتی خطرہ بن چکا ہے اور پیٹرول چونکہ باہر سے لینا ہماری مجبوری ہے تو اس کے لئے ڈالر خرچ ہوتے ہیں، چنانچہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب اپنے گھریلو ذرائع یعنی ہائیڈرو الیکٹرک انرجی اور ونڈملز وغیرہ سے توانائی کا حصول کیا جائے گا ۔ جو ڈیم زیر تعمیر ہیں ان سے ہم 2030تک اپنی 60 فیصد ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ اس کیلئے توانائی کے حصول کے مقامی ذرائع، اسٹوریج کپیسٹی کو بڑھانا ہوگا تاکہ آئے روز کی عالمی قیمتوں کے اضافےسے زرمبادلہ پر دباؤ کم آئے، اس کے علاوہ ہمیں توانائی ذرائع کیلئے مقامی سطح پر مزید وسائل کی تلاش پر بھی کام کرنا ہوگا جوکہ معاشی مستقبل کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہے۔

    7:تعلیم، تکنیک اور جدت: سستی معیاری تعلیم کا حصول اور اس کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی اور جدت یا ایجادات کی اہلیت سے لیس کرنا ہوگا، موجودہ حالات میں اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو آئندہ 30 سال میں ہمارے تعلیم یافتہ لوگ عالمی جاب مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق کارآمد نہیں رہیں گے اور فرسودہ ہونے کی وجہ سے ورک فورس سے باہر نکل جائیں گے، اس لئے اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ جدید علم سے روشناس کرانا ہوگا بصورت دیگر ہم اس ریس سے نکل جائیں گے۔ اب گوگل ، فیس بک، وٹس ایپ سے بات آگے نکل چکی ہے ، ربوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہیومن ریسورس کی تعریف بدل چکے ہیں، اب مشین پیزا تیار اور ڈرونز ڈلیور کرتے ہیں تو اس لحاظ سے ہمیں اپنی تیاری کرنی ہوگی ۔ مجھے خوشی ہے کہ بالاخر ہم اس بارے میں سوچنا شروع کررہے ہیں، اس لئے آج کے دور کے اعتبار سے معاشی تحفظ قومی سلامتی کا لازمی جز ہے ۔

    گلوبل ہیومن ریسورس(عالمی افرادی قوت): معاشی مستقبل کے تحفظ کے حصول کیلئے قومی سلامتی تناظر میں یہ اہم بات ہے جو اس ڈٖاکومنٹ میں سامنے رکھی گئی ہے، دنیا بھر میں لیبر یا ورک فورس کا 30 فیصد جنوبی ایشاء سے مہیا کیا جاتا ہے، اس لئے اب وقت کی ضرورت ہے کہ آپکی ورک فورس یا لیبر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، اسکلڈ یا سیمی اسکلڈ لیبر کی ہی اب گلوبل مارکیٹ میں جگہ ہے ، ووکیشنل ٹریننگ سے بات اب آگے نکل چکی ہے ، اس لئے آپ کو جدید تعلیم و تربیت سے لیس کر کے ہنر مند افراد کو بیرون ملک بھیجنا ہوگا ۔ لوگوں کا باہر جانا اور وہاں سے زرمبادلہ کماکرملک میں بھیجنا معاشی تحفظ کیلئے چونکہ ضروری ہے اس لئے اس شعبے پر توجہ دینی ہوگی۔ جب پوری دنیا انفراسٹرکچر کی بہتری کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ ایک ان-پڑھ کو کرین آپریٹر کے طور پر بھیج دیں، 70 کی دہائی والی اپروچ اب نہیں چلے گی، اپنی ورک فورس کے ذریعے بہترین افرادی قوت ہمیں عالمی منڈیوں کیلئے تیار کرنا ہوگی۔

    معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے قومی سلامتی کے جن امور کو پالیسی فریم ورک کا حصہ بنایا گیا ہے ابھی میں نے صرف ان پر بات کی ہے ، مضمون کے دوسرے حصے میں سیکیورٹی اور دیگر پالیسی ایشوز پر بات کریں گے۔

    پہلی قومی سلامتی پالیسی ۔۔۔ دوست کون، دشمن کون ؟

    تحریر: فیصل رانا

  • شریف فیملی چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ

    شریف فیملی چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ

    فیصل آباد :شریف فیملی حکومت سے چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق جن چارافراد کی ڈیل مانگی گئی ہے، ان میں شہبازشریف، ان کا بیٹا، نوازشریف اوران کی بیٹی شامل ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے دعویٰ کیا ہے کہ شریف فیملی حکومت سے چار لوگوں کی ڈیل مانگ رہی ہے تاکہ یہ لوگ ملک سے باہر جا سکیں۔

    فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو میں شہباز گل کا کہنا تھاکہ ڈیل مانگی جارہی ہے کہ شہبازشریف،مریم کوبھی باہرجانے دیا جائے، شاہد خاقان یہاں رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ جن چارافراد کی ڈیل مانگی گئی ہے، ان میں شہبازشریف، ان کا بیٹا، نوازشریف اوران کی بیٹی شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ آپ کو ڈیل اور ڈھیل جتنی میسرآنی تھی آگئی، شریف فیملی کو ڈیل نہیں ملے گی، آپ کے سامنے عمران خان کھڑا ہے، ہم آپ کوابلا ہوا آلونہیں دیں گے، آپ چکن برگرمانگ رہے ہیں، آپ کوڈیل ملنے والی نہیں آپ کے مقدر میں گالیاں دینا اورکھانا لکھا ہوا ہے۔

    معاون خصوصی کا کہنا تھاکہ احتساب ہوگا اور جلد ہی شہباز شریف سلاخوں کے پیچھے ہوں گے، چپراسیوں کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے کہاں سے آئے اس کا جواب دینا پڑے گا۔

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ چاروں شریف سیاست سے مائنس ہیں، اپوزیشن شکست کھائے گی، عمران خان 5 سال پورے کریں گے۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں چلے گی، پہلے شاید ڈھیل کی بات تھی اب ڈھیل بھی نہیں ہو گی۔ اپوزیشن اندھی وہیل مچھلیوں کی طرح ان ہاؤس تبدیلی کے خواب دیکھ رہی ہے، ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا، عدم اعتماد لائے تو اپوزیشن کے 12 کے بجائے 25 ارکان کم ہوں گے۔ جو لوگ بیمار ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں، حقیقت میں بیمار ہو جاتے ہیں۔ شہبازشریف عمران خان کیلئے ڈراونا نہیں سہانا خواب ہیں۔

    شیخ رشید نے کہا کہ دنیا کورونا کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے ، کم وسائل کے باوجود الحمد للہ بہتر انداز سے کورونا اور دیگر وائرسوں سے نبرد آزما ہیں ،

    شیخ رشید نے کہا کہ یہ عمران خان کے دشمن بھی کہتے ہیں کہ عمران خان اپنی ذات کےلیے نہیں بلکہ ملک وقوم کے لیے سارے طعنے ، بغض اور مخالفتیں برداشت کررہا ہے ، یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ایک مخلص لیڈر ہے اس لیے امید ہے کہ وہ یہ پانچ آرام سے پورے کریں گے اور پھر انشااللہ آگے ایک نئے انداز سے حکومت کےلیے میدان میں اتریں‌ گے

  • بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی

    بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی

    نئی دہلی: بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق مسلسل چار دنوں سے کووڈ19 کی تیسری لہر سے گزر رہے ملک میں کورونا وائرس کے دو لاکھ سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے ایکٹیو کیسز کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے

    اسی دوران ملک میں ہفتہ کے روز 66 لاکھ 21 ہزار 395 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی ی ،اتوار کی صبح 7 بجے تک موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک ارب 56 کروڑ 76 لاکھ 15 ہزار 454 افراد کو کووڈ ویکسین دی جا چکی ہے

    اتوار کی صبح مرکزی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 16 لاکھ 65 ہزار 404 کووڈ ٹسٹ کیے گئے جن میں دو لاکھ 71 ہزار 202 افراد کی رپورٹ مثبت آئی ہے جس سے متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 71 لاکھ 22 ہزار 164 ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل جمعرات کو دو لاکھ 47 ہزار 417، جمعہ کو دو لاکھ 64 ہزار 202 اور ہفتہ کو دو لاکھ 68 ہزار 833 کیسز درج کیے گئے تھے۔

    اس کے ساتھ ہی ایکٹیو کیسز کی تعداد بڑھ کر 15 لاکھ 50 ہزار 377 ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں مزید 314 مریضوں کی موت کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 4,86,066 ہو گئی ہے۔

    دنیا بھر میں کرونا سے متاثرین کی تعداد326,885,054ہو چکی ہے اور اس سے اموات کی تعداد 55 لاکھ چون ہزار سے تجاوز کرچکی ہے

    دنیا بھر میں پھیلی وبا کورونا کے دو نئے علاج کی منظوری دے دی گئی ہے۔برٹش میڈیکل جرنل کے ماہرین کہتے ہیں جوڑوں کے درد کی دوا باریسیٹی نیب (baricitinib) کورٹیکو اسٹیرائیڈز (corticosteroids) کے ساتھ کورونا سے شدید متاثر مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے جس سے زندہ رہنے کے امکانات میں اضافہ اور وینٹی لیٹر کی ضرورت کم ہوتی ہے۔

    ماہرین نے کم مدافعت رکھنے والےافراد کے لیے مصنوعی اینٹی باڈی ٹریٹمنٹ سوٹرو ویمیب (Sotrovimab) کی بھی سفارش کی ہے۔

    تاہم ڈبلیو ایچ او کے حکام کا کہنا ہے کہ اومی کرون کے خلاف اس علاج کی تاثیر ابھی تک غیر یقینی ہے

  • کراچی: شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار

    کراچی: شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار

    کراچی:شارع فیصل پر جماعت اسلامی کا احتجاج،سندھ حکومت مشکلات کا شکار،اطلاعات کے مطابق شارع فیصل پر کارساز کے قریب جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے اور ریلی میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔اورمراد علی شاہ کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں

    پولیس حکام کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے نفری تعینات کردی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ریلی میں شرکت کے لیے شرکاء پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، ریلی شارع فیصل عوامی مرکز سے کراچی سندھ اسمبلی پہنچ کر اختتام پذیر ہوگی۔

    شارع فیصل پر کارساز روڈ، بلوچ کالونی پل، نرسری اور گورا قبرستان تک کے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ حفاظتی انتظامات میں معاون کے طور پر رینجرز کو بھی متحرک رکھا گیا ہے۔

    کارساز سے روانہ ہونے کے بعد شارہ فیصل کے دو مقامات پر قائدین ریلی کے شرکاء خطاب کریں گے۔

    صدر سے ائیرپورٹ جانے والے ٹریفک شارع فیصل پر بحال رکھا گیا ہے جبکہ کارساز پل سے پہلے ٹریفک کو کارساز روڈ پر موڑا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق جب ریلی بلوچ کالونی پل عبور کر جائے گی تو ٹریفک کو بلوچ کالونی پل تک کھول دیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے حکومت سندھ سخت دباو کا شکار ہے لیکن حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے دباو میں نہیں آئے گی

  • سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا

    سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا

    تہران : سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا.اطلاعات کے مطابق ایرانی کمیٹی برائے خارجہ پالیسی کے رکن جلیل رحیمی جہان آبادی کے مطابق ایران اور سعودی عرب اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں جنہیں 2016 میں سعودی ڈپلومیٹک مشن پر ہجوم کے حملے کے بعد سے بند کر دیا گیا تھا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے رکن اور قانون ساز جلیل رحیمی جہان آبادی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایران اور سعودی عرب سفارتی تعلقات بحال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو مذکورہ واقعے کے بعد منقطع ہو گئے تھے۔

    دو جنوری 2016 کو متشدد افراد کی قیادت میں مشتعل ہجوم نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں اس کے قونصل خانے پر حملہ کیا، توڑ پھوڑ کی اور املاک کو نذر آتش کر دیا تھا۔

    جلیل رحیمی جہان آبادی نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور عالم اسلام کے اتحاد کو فروغ دینے میں اہم اثر ڈالیں گے۔

    انہوں نے ایران کے سیکورٹی اور میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ ’شیطان اسرائیلیوں اور احمق بنیاد پرستوں‘ کی سرگرمیوں سے محتاط رہیں جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    حال ہی میں ایرانی حکام کی جانب سے اس امر پر اصرار دیکھا گیا کہ ایران سعودی مذاکرات کا نیا دور ہونا چاہیے لیکن سعودی عرب کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک لبنان میں حزب اللہ کے لیے ایران کی حمایت ہے۔

    سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات کی بحالی کے مقصد سے کشیدگی کم کرنے کے لیے گزشتہ سال مذاکرات کیے تھے لیکن سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔

  • جاپان کےسمندر میں آتش فشاں پھٹ گیا،امریکا میں سونامی کا خطرہ

    جاپان کےسمندر میں آتش فشاں پھٹ گیا،امریکا میں سونامی کا خطرہ

    واشنگٹن: جنوبی بحرالکاہل میں واقع ٹونگا جزائر کے قریب زیرِ سمندر آتش فشاں پھٹنے سے امریکا کے ویسٹ کوسٹ میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے اور کیلی فورنیا سمیت کئی ریاستوں میں ساحلی علاقوں کو بند کر دیا گیا ہے، سونامی کے باعث ٹونگا جزائر میں کئی عمارتیں ڈوب گئیں۔

    سونامی کی یہ لہریں بحر الکاہل میں زیرِ سمندر آتش فشاں پھٹنے سے پیدائی ہیں، جس سے آنے والے زلزلے کی شدت 7 اعشاریہ 4 نوٹ کی گئی۔

    آتش فشاں پھٹنے کا منظر خلاء سے بھی دیکھا جا سکتا تھا، سیٹیلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً 5 کلومیٹر چوڑے علاقے پر پھیلی راکھ کا غبار فضا میں 17 کلو میٹر تک بلند ہو رہا ہے جس کے بعد سونامی وارننگ جاری کر دی گئی۔

    آتش فشاں پھٹنے کے بعد 20 فٹ بلند لہریں ٹونگا جزائر کی جانب بڑھنا شروع ہوئیں، جنہوں نے کئی عمارتوں اور رہائشی مکانات کو ڈبو دیا، سڑکوں پر اب بھی کئی فٹ تک پانی جمع ہے۔

     

     

    کیلی فورنیا میں سب سے زیادہ بلند لہریں پورٹ سین لوئی سے ٹکرائیں جو 4 فٹ 3 انچ تک بلند تھیں۔ اس صورتِ حال کے بعد ریاست کیلی فورنیا میں اورنج کاؤنٹی کے تمام ساحلی مقامات بند کر دیے گئے

    جبکہ بے ایریا تک کئی دیگر مقامات پر بھی لوگوں کو ساحل پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ 1 سے 4 فٹ تک بلند لہروں سے لوگوں کی جانوں کو خطرات کے سبب یہ اقدام احتیاطی طور پر اٹھایا گیا ہے، بعض مقامات سے لوگوں کو انخلاء کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

    ہوائی میں بھی ایسی ہی صورتِ حال پیش آئی ہے جہاں 3 فٹ تک کی لہریں ساحلی علاقوں سے ٹکرائی ہیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  • گجرات پولیس نے اغوا ہونے والا 2 سال کا بچہ بازیاب کروا لیا:اغوا کار کون؟سُن کرسب حیران

    گجرات پولیس نے اغوا ہونے والا 2 سال کا بچہ بازیاب کروا لیا:اغوا کار کون؟سُن کرسب حیران

    لاہور:گجرات پولیس نے اغوا ہونے والا 2 سال کا بچہ بازیاب کروا لیا:اغوا کار کون؟سُن کرسب حیران،اطلاعات کے مطابق گجرات پولیس نے ہسپتال سے اغواء ہونے والے نومولود بچے کو 2 گھنٹوں میں بازیاب کروا لیا سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے اغواء کار خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    گجرات پولیس کی کارکردگی کو پنجاب پولیس کے افسران نے سراہتےہوئے اس واقعہ کی خبر سنا کرجہاں والدین کو خوش کردیا وہاں معاشرے کا ہرفرد بھی خوش ہے اور پنجاب پولیس کی کارکردگی سے متاثر ہے

     

     

    پولیس کے مطابق گجرات کے ہسپتال سے نومولود بچہ اغواء ہو گیا تھا۔ جس کی رپورٹ بروقت تھانے میں درج کروائی گئی تھی ۔ ملزمان کی گرفتاری اور شناخت کے لئے وقوعہ کی CCTV فوٹیج سے مدد حاصل کی گئی

     

     

    ڈی پی او گجرات نے فوٹیج موصول ہونے پر تمام تھانہ جات کے ایس ایچ اوز کو ویڈیوکا بغور ملاخطہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے بڑی ذہانت سے اور بڑے ہی جدید انداز سے اس مجرم کو پکڑا

    اعلیٰ پولیس افسران نے بچے کو برآمد کرنے کے بعد اور اغوا کاروں کو گرفتارکرنے کے بعد جس پر نومولود بچے کو اٴْسکے اصل والدین کے حوالے کر دیا گیا۔جس پر بچے کے والدین نے ڈی پی او گجرات اور گجرات پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

  • چاروں شریف مائنس:عمران خان5سال پورے کریں گے   کیوںکہ وہ اپنےلیےنہیں قوم کےلیےلڑرہےہیں‌:شیخ رشید

    چاروں شریف مائنس:عمران خان5سال پورے کریں گے کیوںکہ وہ اپنےلیےنہیں قوم کےلیےلڑرہےہیں‌:شیخ رشید

    راولپنڈی:چاروں شریف مائنس:عمران خان 5 سال پورے کریں گےکیوں کہ وہ اپنے لیے نہیں قوم کے لیے لڑ رہےہیں‌،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ چاروں شریف سیاست سے مائنس ہیں، اپوزیشن شکست کھائے گی، عمران خان 5 سال پورے کریں گے۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، پہلے شاید ڈھیل کی بات تھی اب ڈھیل بھی نہیں ہو گی۔ اپوزیشن اندھی وہیل مچھلیوں کی طرح ان ہاؤس تبدیلی کے خواب دیکھ رہی ہے، ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا، عدم اعتماد لائے تو اپوزیشن کے 12 کے بجائے 25 ارکان کم ہوں گے۔ جو لوگ بیمار ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں، حقیقت میں بیمار ہو جاتے ہیں۔ شہبازشریف عمران خان کیلئے ڈراونا نہیں سہانا خواب ہیں۔

    شیخ رشید نے کہا کہ دنیا کورونا کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے ، کم وسائل کے باوجود الحمد للہ بہتر انداز سے کورونا اور دیگر وائرسوں سے نبرد آزما ہیں ،

    شیخ رشید نے کہا کہ یہ عمران خان کے دشمن بھی کہتے ہیں کہ عمران خان اپنی ذات کےلیے نہیں بلکہ ملک وقوم کے لیے سارے طعنے ، بغض اور مخالفتیں برداشت کررہا ہے ، یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ایک مخلص لیڈر ہے اس لیے امید ہے کہ وہ یہ پانچ آرام سے پورے کریں گے اور پھر انشااللہ آگے ایک نئے انداز سے حکومت کےلیے میدان میں اتریں‌ گے

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن دو کی بجائے 3 مارچ کر لے، کچھ نہیں ہو گا۔ پارٹیوں میں ہلکی پھلکی موسیقی ہوتی رہتی ہے۔ 23مارچ کو جے 10سی طیارے فلائی پاسٹ کریں گے۔

    شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ایک ہی مسئلہ مہنگائی ہے جو اپریل، مئی تک حل ہو جائے گا، بجٹ اچھا دیں گے۔ سانحہ مری پر نوجوان پولیس کے گلے پڑ رہے تھے اس لیے رینجرز بلانا پڑی۔

  • ماسٹرفوم والے توواقعی 2نمبری کے ماسٹرنکلے:عدالت کا سخت نوٹس:ماسٹرفوم کے ہاتھوں پامال

    ماسٹرفوم والے توواقعی 2نمبری کے ماسٹرنکلے:عدالت کا سخت نوٹس:ماسٹرفوم کے ہاتھوں پامال

    لاہور:ماسٹرفوم والے توواقعی 2نمبری کے ماسٹرنکلے:عدالت کا سخت نوٹس:ماسٹرفوم کے ہاتھوں پامال،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں‌ 2 نمبری کے ذریعے کاروبار کرنے والے ماسٹر فوم کی بار بار 2 نمبری پکڑی جانے کے باوجود گندی عادت ختم نہیں ہوئی ،ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ عدالت نے بھی ماسٹر فوم کو دونمبری کرنے سے منع کیا اور آئندہ ایسا کرنے پرسخت سزا کی وارننگ دی مگرماسٹر ہے کہ جسے قانون اورعدالت کی بھی پرواہ نہیں‌

     

      

    ویسے تو پچھلے کئی سالون سے ماسٹر کی دونمری میں‌ ماسٹری پکڑی گئی . لیکن تازہ واقعہ نے تو ماسٹر فوم کو دو نمبری کا حقیقی ماسٹر ثابت کردیا ہے ، عدالتی دستاویزات کے مطابق ماسٹر فوم نے "مرینہ ہوم”کا نام استعمال کرکے نقل مال کسی دوسری کمپنی کے اس برانڈ کا نام استعمال کرکے بیچنا شروع کررکھا ہے ، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عدالت نے ماسٹر والوں کو یہ نام استعمال کرنے سے روکا تھا مگرماسٹر فوم والے عدالت کو بھی چکر دے رہے ہیں‌، جس پرعدالت نے ماسٹر فوم والوں کوچکرباز اور دو نمبری کے ماہر قرار دیتے ہوئے مجرم قرار دیا تھا

    اطلاعات ہیں‌ کہ عدالت نے ماسٹر فوم کو MARINA HOME کا نام استعمال کرنے سے روک رکھا تھا ، عدالت نے ماسٹر فوم کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ MARINA کا M اور آخری A استعمال کرنے سے باز رہیں ، صرف ARIN کرنے کی اجازت دی تھی ، عدالت نے HOME کا لفظ استعمال کرنے سے روک رکھا تھا

     

    ادھر اس حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ماسٹر فوم والے ابھی بھی باز نہیں آرہے اور مختلف شوم رومز سے ملتنے والی اطلاعات میں انکشاف ہوا ہے کہ ماسٹر فوم والے ابھی بھی اس نام کو استعمال کرکے اپنے دو نمبر کاروبار کو مسلط کررہے ہیں‌

    اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ عدالت کی طرف سے قائم کیے گئے کمیشن نے ماسٹر فوم والوں کو دونمبری کے جرم میں اس مہینے یعنی جنوری کی اٹھائیس تاریخ کو طلب کیا ہے اور اس دونمبری سے باز نہ آنے کا سبب بھی پوچھا ہے ، یہ بھی امکان ہے کہ کمیشن ماسٹر فوم کو دونمبریوں سے باز رکھنے کے لیے سخت فیصلے کے ساتھ جرمانہ کردے