Baaghi TV

Author: +9251

  • ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کا خیر مقدم

    ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کا خیر مقدم

    کوئٹہ:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کا خیر مقدم ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ‌ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے پہلی قومی سلامتی پالیسی بنانے والوں کوخراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ وقت کی ضرورت تھی

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے اس موقع پر کہا کہ قومی سلامتی پالیسی سیاسی و عسکری قیادت کے ملکی دفاع کے عزم کی عکاس ہے ۔وزیراعلئ بلوچستان نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی ملکی سلامتی اور مضبوط معیشت کی بنیاد ثابت ہو گی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پالیسی سے ملک کا دفاع اور معاشی مستقبل مزید مضبوط و محفوظ ہو گا ،قومی سلامتی پالیسی میں دفاع معیشت قومی تشخص سمیت ہر شعبہ کا احاطہ کیا گیا ہے

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ ایک جوہری صلاحیت کی حامل ریاست کو معاشی طور پر بھی مضبوط بنانے میں قومی سلامتی پالیسی اہم پیش رفت ہے،ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیۓ پاک افواج کا کردار ہمیشہ سے قابل فخر رہا ہے۔

    وزیراعلٰی نے کہا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی کی چھتری تلے اب ہم بحثیت ایک قوم اپنے ملک کو ہر شعبہ میں ترقی یافتہ بنائیں گے۔اپنی کمزوریوں پر قابو پا کر پاکستانی قوم جلد ایک عظیم قوم کے طور پر ابھرے کی

  • گزشتہ جمعرات بھائی نے شادی کی شیروانی پہنی اور آج کفن پہن لیا

    گزشتہ جمعرات بھائی نے شادی کی شیروانی پہنی اور آج کفن پہن لیا

    نہکراچی : بدھ کے روز کراچی کے علاقے کشمیر روڈ پر انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ڈکیتی کی واردات کے دوران ایک روز قبل شادی کرنے والے نوجوان کو قتل کر دیا گیا۔اچانک ہونے والے واقعے سے خوشیوں بھرا گھر ماتم میں تبدیل ہو گیا۔
    شاہ رخ نامی نوجوان کے بھائی کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت سامنے گارڈ بنکر بیٹھا تھا لیکن تماشہ دیکھتا رہا، اس کے پاس بندوق بھی موجود تھی،کوشش کرتا تو بھائی کی جان بچ سکتی تھی،وہ حملہ آوروں کو مار بھی سکتا تھا اور بھگا بھی سکتا تھا۔
    جب میرے بھائی کو گولی لگ گئی تب وہ سامنے آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے بھائی کی کسی سے دشمنی نہیں تھی،ہنستا کھیلتا بچہ تھا،گزشتہ جمعرات کو شادی کی شیروانی پہنی اور آج کفن پہن لیا
    خیال رہے کہ کشمیر روڈ پر واقع ایک گھر کے باہر موجود 2 خواتین کو ایک ڈاکو نے پستول دکھا کر لوٹنے کی کوشش کی۔
    اسی دوران گھر کے اندر سے ایک نوجوان باہر نکلا اور فوری ڈاکو پر جھپٹ پڑا۔

    اس دوران ڈکیت نے نوجوان پر گولیاں چلا دیں اور خواتین کو لوٹ کر فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق نوجوان کی ایک روز قبل ہی شادی ہوئی تھی، جبکہ جن خواتین کے سامنے اس کا قتل ہوا، وہ مقتول کی والدہ اور بہن ہیں۔ پولیس کے مطابق قاتل کی تلاش جاری ہے

  • والدین سے ناراض بیٹی نے راول ڈیم میں چھلانگ لگادی

    والدین سے ناراض بیٹی نے راول ڈیم میں چھلانگ لگادی

    اسلام آباد:والدین سے ناراض بیٹی نے راول ڈیم میں چھلانگ لگادی ،اطلاعات کے مطابق تھانہ سیکر ٹر یٹ کے علاقہ راول ڈیم میں نوجوان لڑکی بشری بی بی سکنہ پنجگراں اسلام آباد اپنے والدین سے ایسی ناراض ہوئی کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ناراض ہوگئی اور خودکشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا

    تھانہ سیکرٹریٹ پولیس کا کہا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی جو کہ والدین سے نا راض ہو کر اپنی ایک دوست شامینہ کے گھر واقع صادق آباد راولپنڈی میں 20 دن سے رہ رہی تھی گزشتہ روز شام کے وقت راول ڈیم میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی،

    مقامی پولیس اطلاع مو صول ہو تے ہی بر وقت مو قع پر پہنچ کر ڈیڈ باڈی کو ہسپتال شفٹ کر دی، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں‌ کہ لڑکی کے والدین کو اطلاع کردی گئی ہے اور اس وقت معاملہ پوسٹ مارٹم کی طرف چل پڑا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی کچھ حتمی رائے دے سکے گی

    پاک بحریہ کے غوطہ خور نے راول ڈیم میں ڈوبنے والی خاتون کی تلاش کیلئے نائٹ سرچ آپریشن کیا، ترجمان پاک بحریہ کے مطابق سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے دی جانے والی اطلاع پر پاک بحریہ کی جانب سے فوری سرچ آپریشن کیا گیا۔ پاک بحریہ کے غوطہ خور عبدالرحمان نے تن تنہا رات کے اندھیرے میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے لاش کو تلاش کر لیا۔تلاش کے بعد لاش کو لواحقین کے سپرد کر دیا گیا۔ راول ڈیم پر موجود پاک بحریہ کی یہ غوطہ خور ٹیم گزشتہ کئی برسوں سے اسلام آباد سمیت شمالی علاقہ جات میں متعدد کامیاب سرچ آپریشن سرانجام دے چکی ہے۔اسلام آباد میں موجود اپنی نوعیت کی اس واحد غوطہ خور ٹیم کا اولین مقصد کسی بھی حادثے کی صورت میں عوام کو فوری معاونت فراہم کرنا ہے۔پاک بحریہ کے حوصلہ مند جوان کسی بھی ناگہانی صورت حال میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

  • جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ، ان خیالات کا اظہار کشمیری رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کیا ہے ،

    یاد رہے کہ بپن راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

    چئیرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک نے کہاہے کہ بھارتی آرمی چیف کی حیثیت سے ان کے دور میں مقبوضہ کشمیر میں تشویشناک حد تک کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

    مشعال حسین ملک کاکہناتھا کہ بدنام زمانہ بپن راوت نے بھارت کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ جگہ بنانے کے آر ایس ایس کے تربیت یافتہ نریندر مودی کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وادی کشمیر کو جہنم میں تبدیل کر دیا۔مودی بھارت کو اقلیتوں سے پاک کرنے کے ظالمانہ مشن پر ہیں۔

    مشعال ملک نے کہا کہ دنیا کو بھارت میں جاری مسلمانوں مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر اقوام پر ہونیوالے مظالم کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ مودی دور حکومت میں ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔

     

     

    چئرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں انتہائی دائیں بازو کے ہندو رہنما کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر بلا روک ٹوک حملے عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔ عالمی برادری اور عالمی طاقتوں کو بھارت کو اقلیتوں کے خلاف اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔

  • پاکستان کے مختلف حصوں میں زلزلے کے جھٹکے:لوگ اپنی کوٹھیاں،بنگلے چھوڑ کربھاگ نکلے

    پاکستان کے مختلف حصوں میں زلزلے کے جھٹکے:لوگ اپنی کوٹھیاں،بنگلے چھوڑ کربھاگ نکلے

    مظفرآباد:پاکستان کے مختلف حصوں میں زلزلے کے جھٹکے:لوگ اپنی کوٹھیاں،بنگلے چھوڑ کربھاگ نکلے ،اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیراور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں 5 اعشاریہ 6 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    تفصیلات کےمطابق آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں ملاکنڈ ،وادی نیلم ، شادرہ، دودنیال، تہجیاں اور متعدد علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے جس کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    سوات،بونیر،چترال ،خیبر پختوانخواہ کے مختلف علاقوں ،گلگت بلتستان ،ملاکنڈ ،مردان اور باجوڑ،پشاور، صوابی، اسلام آباد ، نوشہرہ اور بالاکوٹ و گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 5 اعشاریہ 6 ریکارڈ کی گئی جبکہ گہرائی زیر زمین 100کلومیٹر ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کا مرکز افغانستان تاجکستان بارڈر ہے۔

    ادھر آج اطلاع کے مطابق انڈونیشیا میں 6.6 شدت کا زلزلہ رونما ہوا ہے۔امریکی جیولوجیکل ریسرچ سینٹر نے اعلان کیا ہے کہ 6.6 شدت کا زلزلہ 37 کلومیٹر کی گہرائی میں ریکارڈ کیا گیا۔

    بتایا گیا ہے کہ زلزلے کا مرکز لابوان کے علاقے سے 88 کلومیٹر جنوب میں تھا۔کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہ دیے جانے والے زلزلے کے بعد سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔

    یاد رہے کہ تین دن پہلے صوبۂ بلوچستان کے ضلع گوادر اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، جبکہ محکمۂ موسمیات کی جانب سے مکران سب ڈکشن زون میں شدید زلزلے اور سونامی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق گوادر میں آنے والے زلزلے کی شدت 5 تھی، جس کی گہرائی 25 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی تھی ۔زلزلہ پیما مرکز کا مزید کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز گوادر کے ساحل کے قریب زیرِ سمندر تھا۔

    زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلہ گزشتہ رات 2 بج کر 22 منٹ پر گوادر سے 50 کلو میٹر دور بحیرۂ عرب میں آیا تھا۔

    محکمۂ موسمیات کے ڈی جی محمد ریاض کے مطابق محکمۂ موسمیات مکران سب ڈکشن زون میں شدید زلزلے کے خدشے کا اظہار کئی دفعہ کر چکا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ مکران سب ڈکشن زون میں اتنی توانائی جمع ہو چکی ہے کہ کسی بھی وقت شدید زلزلہ آ سکتا ہے، مکران سب ڈکشن زون میں شدید زلزلے سے سونامی کا بھی خطرہ ہے۔

    ڈی جی میٹ محمد ریاض کا یہ بھی کہنا ہے کہ محکمۂ موسمیات نے کچھ عرصہ قبل گوادر میں سونامی سے نمٹنے کی مشقیں بھی کی ہیں۔

    ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ سندھ اور مکران کے ساحل پر سونامی کا خطرہ منڈلا رہا ہے، 1945ء میں مکران کے ساحل سے تباہی پھیلانے والا سونامی ٹکرایا تھا۔

    ماہرین کے مطابق یہ آفت اب اپنا قدرتی ٹائم اسکیل مکمل کر چکی ہے، مکران کے سمندر میں موجود سبڈکشن زون کافی سرگرم ہے اور شدت پکڑ رہا ہے جس کے باعث ایک اور طاقتور سونامی پیدا ہو سکتا ہے، لیکن ایسا کب تک متوقع ہے، یہ پیشگوئی ممکن نہیں۔محکمۂ موسمیات تمام متعلقہ اداروں کے ہمراہ اس قدرتی آفت سے نبرد آزما ہونے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • حکومتی منظوری کے بغیر پنکھوں کی فروخت پر پابندی کا فیصلہ

    حکومتی منظوری کے بغیر پنکھوں کی فروخت پر پابندی کا فیصلہ

    کراچی : حکومت نے کم بجلی خرچ کرنے والے پنکھوں کا ایس آر او جاری کردیا جس کے بعد حکومتی منظوری کے بغیر پنکھوں کی فروخت پر پابندی ہوگی۔‎
    وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری ایس آر او کے مطابق رواں سال صرف حکومت سے منظور شدہ پنکھے فروخت ہوں گے۔‎
    ایس آر او میں اس امر کا اظہار کیا گیا کہ آئندہ سیزن میں صرف وزارت سائنس کے منظور شدہ پنکھے بیچے جاسکیں گے جس کی وجہ سے دو عدد غازی بروتھا ڈیمز کے برابر بجلی بچت ہوگی۔‎

    وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق ملک میں اس وقت 10 کروڑ پنکھے زیر استعمال ہیں اور ناقص میٹریل کے استعمال کے باعث پنکھے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔‎
    انہوں نے کہا کہ معیاری پنکھوں کے استعمال سے 3400 میگاواٹ بجلی بچائی جاسکتی ہے اور کم بجلی خرچ کرنیوالے پنکھوں کے استعمال سے بجلی کے بل میں بھی کمی آئے گی۔‎
    وزارت کے مطابق بچت ہونیوالی بجلی کو انڈسٹری و دیگر شعبوں میں استعمال کیا جاسکے گا جبکہ ایس آر او جون 2022 سے نافذ العمل ہوگا ۔

  • پٹرول کی فی لٹر قیمت میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان

    پٹرول کی فی لٹر قیمت میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان

    کراچی : پٹرول کی فی لٹر قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا امکان

    ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کردی گئی جس میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔‎
    ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح مٹی کا تیل 6 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز بھی سمری میں شامل ہے۔‎

    فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کریں گے اور وزارت خزانہ کل نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی ۔

  • زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کااستعمال درست نہیں:حکمت عملی:پھرخلوص نیت سےعملداری ضروری:مبشرلقمان

    زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کااستعمال درست نہیں:حکمت عملی:پھرخلوص نیت سےعملداری ضروری:مبشرلقمان

    لاہور:زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کا استعمال درست نہیں : پہلے حکمت عملی اورپھرخلوص نیت سے عملداری ضروری ہے:اطلاعات کے مطابق ٹویٹر کے سپیس فورم پرجہاں اوپن ڈسکشن ہوتی ہے اس فورم پرآج پاکستان کے سینئر صحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے پاکستانی معیشت کودرپیش مسائل کے حوالے سے بہت اچھے جوابات دیئے ،

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میری اتنی عمر اور تجربہ ہے کہ کچھ باتوں کا پتہ ہے ۔ دو سیکٹرز ایسے ہیں پاکستان میں ایک بیک بون ہے دوسرا بچت پاکستان جب بنا تھا تو زراعت ہماری بہتر تھی ۔آج تک ہم نے کسی بھی حکومت نے یہ نہیں کوشش کی کہ اس کو ریسرچ کریں کہ 56 فیصد جو اسوقت تھی اسکو بہتر کریں ۔ہمارے پاس سرٹیفائیڈ بیج ہی نہیں ۔

    سپیس میں اس موضوع پر بھی بات ہوئی کہ زراعت پر ہم نے محنت نہیں کی ۔زراعت کی ایک یونیورسٹی پاکستان میں وہ بھی یو ایس ایڈ سے بنی ۔ ہم کوشش کریں گے تو آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ آئی ٹی میں ہم بہت پیچھے ہیں اسکو پروموٹ کرنا ہے تا کہ فاءدہ اٹھا سکیں ۔تیسری چیز پاکستان چائنہ کا فری ٹریڈ کا بہت پرانا کنٹریکٹ ہے اس میں بارہ سو آئٹم ہیں ابھی تک ہم 273 کور کر ہے ہمیں ہزار ایٹم کا پتہ ہی نہیں ۔ہماری حکومت میڈیا کی نالائقی ہے کہ ہم عوام کو بتا نہیں سکے کہ کیسے اور کس پر بزنس کرنا ہے

    اس خوبصورت معاشی سوچ وبچار کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جب تک پاکستان میں سٹوڈںٹ یونین اور لوکل باڈیز بحال نہیں ہوتی جمہوریت میں بہتری نہیں آ سکتی ۔ ان دونوں کو بحال اور ایکٹو کرنا ہو گا اس سے نئے لیڈر نکلیں گے ۔ منی لانڈرنگ کرپٹو کے تھرو ہو رہی ہے چند سال تک کرپٹو کئی چیزوں کو ری پلیس کرے گی ہم جتنا جلدی قانون بنائیں گے اتنا جلدی فایدہ اٹھا سکتے ہیں

    اس موقع پر مبشرلقمان نے کہا کہ زراعت میں بہت کچھ آتا ہے پنجاب میں وزیر رہا ہوں تو پنجاب کا مجھے زیادہ پتہ ہے اگلی بار مفتاح اسماعیل شاہد خاقان عباسی اسحاق ڈار کو بھی دعوت دین گے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق سات ملین جانور ذبح ہوتے ہیں ہر سال قربانی ہوتی ہمارے جانور ایکسپورٹ نہیں ہوتے ،چارہ اگانے کے لیے لوگوں کے پاس زمینیں ہیں اگر ونڈہ دینا شروع کر دیں کہ حکومت فری دے تو پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔گوشت ایکسپورٹ کریں تو اسکا کتنا فائدہ ہے لیکن توجہ نہیں ہے

    مبشرلقمان نے پھر کہا کہ سیاحت کے لیے کیا کر رہے ہیں کتنے انتظامات کیے پہلے انفراسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے اسکے بعد سیاحوں کو سہولیات دیں پھر فایدہ ہو گا ہم نے سیاحوں کو کوئی سہولیات نہیں دی ہوئی صرف ٹول ٹیکس لے کر خوش ہونے سے کوئی فایدہ نہیں

    ان بہت قوانین موجود ہیں ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے ۔ اوورسیز والوں کو جس طرح ایئر پورٹ پر ٹریٹ کیا جاتا ہے لگ پتہ جاتا ہے جب تک بزنس مین کو اعتماد نہیں ہو گا کوئی بزنس نہیں کرے گا ۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے احسن بھون کا انٹرویو کر رہا تھا ان سے پوچھا ہائیکورٹ کے ججز کی تقرری کیسے ہوتی ہے تو اسکا کوئی امتحان نہیں جس کو ججز لگا دیا جائے ۔ میڈیا میں کسی کو اکانومی کی سینس ہی نہیں جنکو اکانومی کا پتہ ہے ایک شاہزیب خانزادہ ہے اور ایک شہزاد اقبال ۔یہ دونوں اچھا پروگرام کرتے ہیں رپورٹنگ بھی کرتے رہے ہیں ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلی بار مہاتیر محمد کو پاکستان عمران خان نے انوائیٹ کیا تو عمران خان نے کافی شکایات کی کہ پاکستان میں کرپشن بڑھی تو انہوں نے کہا کہ کرپشن اکانومی بہتر کرنے کا طریقہ ہے اسکو لیگل کر دیں جس کو جو دینا ہے پرمٹ کے پیسے ملیں گے بزنس سیو ہو گا تو اکانومی بہتر ہو گی

    اس حوالے سے انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین نے چالیس سال میں کوئی لڑائی نہیں کی یہ اسکی کامیابی ہے انڈیا کو صرف اسکی حیثیت یاد کرواتا ہے امریکہ نے چالیس سال میں جنگیں کیں مریکہ کا وہ سٹیٹس نہیں جو چین کا ہے ۔ پالیسیز کو ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے

    مبشرلقمان نے کہا کہ سبسڈیز غریب کو نہیں ملتی ۔ غریب کو ملنی چاہیے ۔ بجلی کا بل جھگی والے کا اور تین کنال والے کا سبسڈیز میں فرق کیوں نہیں ۔ تین مرلے سے کم والے گھر کو بجلی فری ملنی چاہیے

    مبشرلقمان نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا گالی دینے میں آزاد ہے میڈیا اس دن آزاد ہے جس دن کمرشل انٹرسٹ سے آزاد ہو گا جب تک ہم یہ پروگرام نہیں کر سکتے کہ دنیا کی کوئی کریم جلد گورا نہیں کر سکتی میڈیا آزاد نہیں ۔اسمبلی میں جب کسی کو ٹریکٹر ٹرالی کہا جایے آڈیو لیک ہو جائے کتابیں پھینکی جایے تو پھر میڈیا کیا کرے ۔ڈر لگ رہا ہے کسی کی عزت ہی نہیں رہی ۔ لوز ٹاک کو بھی کنٹرول کرنا ہے ۔جسدن میڈیا ریٹنگ اور اشتہار کو چھوڑ کر بات نہیں کرے گا میڈیا آزاد نہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ بے حیائی والے ڈرامہ کی ریٹنگ آتی ہے کشمیر پر ریٹنگ نہیں کیونکہ ریٹنگ ایجنسی سنگاپور کی ہے پاکستان میں ریٹنگ ایجنسی بنانی پڑے گی ۔میڈیا پر مادر پدر آزادی بہت خوفناک ہے اس سے مجھے بھی ڈر لگتا ہے

    مبشرلقمان نے اس موقع پر گفتگو کو سمیٹتےہوئے کہا کہ اچھے آئی ٹی کے لوگ نوکریوں میں نہیں آئیں گے حکومت کو ایسے لوگوں کو استعمال کرنا چاہیے اگر بل گیٹس پاکستان ہوتا تو میں میں ب حساب کتاب دے رہے ہوتے کہ کہان سے پیسہ ایا۔ دنیا کہاں جا رہی ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ۔جمہوریت میں عوام ووٹ دیتی ہے اور حکومت بدل جاتی ہے لیکن اداروں پر چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ۔ میرا رائیٹ ہے کہ میں خط لکھوں تو جواب ملے لیکن نہیں ملے گا یہ جمہوریت نہیں ۔

  • کسی پر انگلی اٹھانے سے پہلے انسان کو اپنی طرف دیکھنا چاہئے : جنت مرزا

    کسی پر انگلی اٹھانے سے پہلے انسان کو اپنی طرف دیکھنا چاہئے : جنت مرزا

    کراچی : معروف ٹک ٹاکر جنت مرزا نے خود پرتنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی پر انگلی اٹھانے سے پہلے انسان کو اپنی طرف دیکھنا چاہئے۔‎
    ٹک ٹاکر جنت مرزا اور اداکارہ ایمن خان کے درمیان تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب ایمن خان نے ایک انٹرویو کے دوران جنت مرزا کو کم میک اپ کرنے کا مشورہ دیا۔ جنت مرزا نے ایمن خان کے تبصرے پر ایک تنقیدی ویڈیو بنائی جس میں ان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’’آپ کو کسی کی بھی زندگی میں دخل اندازی کرنے کا کیا حق ہے‘‘

    تاہم اب سوشل میڈیا پر اس تنازع نے شدت اختیار کرلی ہے۔ حال ہی میں انسٹاگرام پر سوال، جواب سیشن کے دوران ایک صارف نے جنت مرزا کو بیوقوف کہتے ہوئے نہایت تنقیدی لہجے میں کہا کہ ایمن خان نے سچ کہا تھا اس پر ویڈیو بنانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔‎
    صارف کے تبصرے پر جنت مرزا نے بھڑکتے ہوئے کہا میں نے اپنی ویڈیو میں کسی کا نام نہیں لیا تھا لہذا اندازے لگانا بند کرو۔ جنت نے مزید کہا دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے خود پر گہری نظر ڈال لیں۔‎
    میں سب کی عزت کرتی ہوں لیکن ہماری کچھ اداکارائیں کیوں سب پر تنقید کرتی ہیں اور انہیں جج کرتی ہیں۔ وہ خاتون (ایمن خان) جنہوں نے مجھے کم میک اپ کرنے کا مشورہ دیا ایک بار اداکارہ ماورہ حسین کی جسمانی ساخت پر بھی تبصرہ کرچکی ہیں۔ اور بہت سی دوسری معروف شخصیات کو بھی نشانہ بنایا۔‎
    جنت مرزا نے ایک بار پھر ایمن خان کا نام لیے بغیر انہیں مشورہ دیا کہ ایسے متنازع جوابات دینے کے بجائے مثبت رہنےکی کوشش کریں اور سب کی حوصلہ افزائی کریں۔ عزت دیں اور عزت لیں ۔

  • نیب سکھر: سال کے دوران 403 ملزمان کو سزا دلوائی،چیئرمین نیب کا شاندار کارکردگی پر خراج تحسین

    نیب سکھر: سال کے دوران 403 ملزمان کو سزا دلوائی،چیئرمین نیب کا شاندار کارکردگی پر خراج تحسین

    اسلام آباد:نیب سکھر نے گزشتہ 4 سال کے دوران نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 10 اور 25 B کے تحت 403 ملزمان کو سزا دلوائی ہے اور ان سے اربوں روپے ریکور کئے گئے ہیں جبکہ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے نیب سکھر کی شاندار کارکردگی کو سراہا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈ کوارٹرز میں اجلاس ہوا جس میں 10 اکتوبر 2017ء سے 31 دسمبر 2021ء تک نیب سکھر کی کارکردگی بالخصوص نیب آرڈیننس 1999ء کی شق 10 اور 25B کے تحت سزائوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب ظاہر شاہ، پراسیکیوٹر جنرل اکائونٹیبلٹی سید اصغر حیدر، ڈی جی آپریشنز اور نیب کے دیگر افسران نے شرکت کی جبکہ ڈی جی نیب سکھر مرزا سلطان محمد سلیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل نیب سکھر نے بتایا کہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں 10 اکتوبر 2017ء سے 31 دسمبر 2021ء کے دوران نیب سکھر کی بھرپور پراسیکیوشن کے باعث نیب آرڈیننس 1999ء کی شق 10 کے تحت 70 اور شق 25B کے تحت333 ملزمان کو سزا ہوئی۔

    اجلاس کے دوران ڈی جی نیب سکھر نے بتایا کہ 2017 میں نیب آرڈیننس 1999 شق 10 کے تحت جن 26 ملزمان کو سز ا سنائی گئی ان کی تفصیلات یہ ہیں احتساب عدالتوں نے ملزمان علی ڈینو گاہوتی کو 20 ملین روپے، محمد اسلم لنڈ کو 10 ملین روپے، گل شیر احمد سولنگی کو 30 ملین روپے، محمد ایاز رانا کو 100 ملین روپے، محمد حسین مغل 20 ملین روپے، محمد سبحان 10 ملین روپے، کاشف ایاز رانا 250 ملین روپے، آصف اعجاز رانا 250 ملین روپے، رجب علی2.5 ملین روپے، جاوید آفتاب تنویری 0.1 ملین روپے، اعجاز علی 0.65 ملین روپے، نبی بخش 0.075 ملین روپے، عبدالغنی 0.17 ملین روپے، روشن علی 0.7 ملین روپے، آغا فیض رسول0.07 ملین روپے، سید شایان علی 0.26 ملین روپے، مختار علی 0.6 ملین روپے، مشتاق حسین 1.3 ملین روپے، نظام الدین 0.36 ملین روپے، سجاد علی 0.28 ملین روپے، محمد نواز 0.075 ملین روپے، امیر بخش 0.41 ملین روپے، امن اللہ 0.15 ملین روپے اور رمیض رجب کو 0.07 ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

    ڈی جی نیب سکھر نے بتایا کہ نیب آرڈیننس کی شق 10 کے تحت 2018 میں 10 ملزمان کو سزا سنائی گئی۔ احتساب عدالتوں نے ملزمان زبیر علی المانی 210 ملین روپے،مزمل حسین 50 ملین روپے،عبدالباری منگی 50 ملین روپے،عبدالستار 50ملین روپے،عبدالحفیظ دریجو50ملین روپے،سید لال شاہ 50 ملین روپے،خان محمد مری 100 ملین روپے،غلام عباس 0.5 ملین روپے،غلام اصغر سرکی ایک ملین روپے، غلام عباس سدھائیو 0.3 ملین روپے، ممتاز 0.5 ملین روپے، غلام یاسین مہر 0.3 ملین روپے، سلیم خان کھوسو 0.5 ملین روپے، شیخ محمد قاسم 9.57 ملین روپے، خادم حسین شاہ 35.061 ملین روپے اور عبدالغفار کلوار کو 38.52 ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی ۔ احتساب عدالتوں نے 2019 میں نیب آرڈیننس 1999 کی شق 10 کے تحت 10 ملزمان کو سزا سنائی ۔

    احتساب عدالتوں نے ملزمان غلام حسین کلواڑ کو 9.28 ملین روپے، قمر رضا 4.38 ملین روپے، خادم حسین 15.36 ملین روپے،فرمان علی عباسی 2.19 ملین روپے،عارف حسین 5.5 ملین روپے،محمد کلیم 16.4 ملین روپے،محمد مقیم 16.4 ملین روپے، امتیازاحمد مہر 16.4 ملین روپے، بدیع الزمان 3.34 ملین روپے اور سلمان مہر کو 18.40 ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ احتساب عدالتوں نے 2020 میں نیب آرڈیننس کی شق 10 کے تحت 4 ملزمان کو سزا سنائی ۔ احتساب عدالتوں نے ملزمان نجیب ناریجو کو 10 ملین روپے،ریاض احمد کو 10 ملین روپے،طفیل احمد سومرو کو 15 ملین روپے اور وقار احمد سومرو کو 10 ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

    احتساب عدالتوں نے 2021 میں نیب آرڈیننس کی شق 10 کے تحت 14 ملزمان کو سزا سنائی ۔ احتساب عدالتوں نے ملزمان آصف سردسار آرائیں کو8.95 ملین روپے، غلام مصطفیٰ کو 2.73 ملین روپے، ضمیر حسین ابڑو کو 1.35 ملین روپے، جاوید علی جاگیرانی 0.524 ملین روپے، عنایت اللہ ابڑو کو 3.47 ملین روپے، قربان علی ابڑو کو 16.13 ملین روپے، غلام عباس شیخ کو 14.81 ملین روپے، غلام قادر آہیر کو 0.635 ملین روپے، طفیل احمد آہیر کو 0.458 ملین روپے، جہانگیر چنا کو 1.50 ملین روپے، غلام قادر بھٹو کو 5.89 ملین روپے، پرشوتم کو 109.82 ملین روپے، نذر علی جاکھرانی کو 63.15 ملین روپے اور ڈاکٹر غلام حسین انڑ کو 1.7.56 ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

    ڈائریکٹرجنرل نیب سکھر نے بتایاکہ نیب آرڈیننس 1999 کی شق 25 B کے تحت اکتوبر 2017 سے دسمبر 2017 تک 41 ملزمان کو احتساب عدالتوں نے سزا سنائی ۔ احتساب عدالتوں نے ملزمان عبداللہ نیگور کو 0.32 ملین روپے، امتیاز علی 0.19 ملین روپے،گلشن علی 0.22ملین روپے،بشیر احمد 11.20 ملین روپے،حاجی سلطان احمد5.14 ملین روپے،حاجی سکندر علی 5.14 ملین روپے،ساجد علی 0.077ملین روپے،مرک 0.067 ملین روپے، وزیر اعلی 0.15ملین روپے، دلیل خان 0.070ملین روپے،غلام عباس 5.14ملین روپے،شاہ محمد بابر 0.11ملین روپے،حسین بخش 0.29ملین روپے،رانجن خان 0.094ملین روپے،عبدالغفور 0.038ملین روپے،محمد یوسف جوکھیو1.28ملین روپے،خادم حسین بھٹو0.33ملین روپے،توفیق احمد چانڈیو 0.27ملین روپے،اعجاز علی 0.11ملین روپے،سلیم احمد 0.020ملین روپے،ندیم احمد 0.32ملین روپے،امتیاز علی 0.73ملین روپے،امان اللہ عباسی 0.066ملین روپے،خان محمد 0.049ملین روپے،شوکت علی راجپوت ایک ملین روپے، کمال الدین ایک ملین روپے، سید تنویر رضا 0.45ملین روپے،ایاز احمد چنا0.26ملین روپے،علی رضا میمن 0.038ملین روپے،عبدالرحیم 0.037ملین روپے،سریش کمار ایک ملین روپے، منصور علی میمن ایک ملین روپے، رستم علی 0.20ملین روپے، محمد فاروق 0.20ملین روپے،امان اللہ لاکھو0.23ملین روپے،دوست محمد 0.037ملین روپے،مختیار خاتون 0.16ملین روپے،محمد اقبال شیخ ایک ملین روپے، قرا بی بی 0.02ملین روپے، نادیہ 0.29 ملین روپے اور شعیب احمد کو 0.96 ملین روپے کی سزا سنائی گئی۔ ڈائریکٹرجنرل نیب سکھر نے بتایاکہ نیب آرڈیننس 1999 کی شق 25 B کے تحت 2018 کے دوران 55 ملزمان کو احتساب عدالتوں نے سزا سنائی ۔ احتساب عدالتوں نے ملزمان عباس علی کو 13.46 ملین روپے، علی اصغر کو 1.80 ملین روپے،پیر بخش کو 0.09 ملین روپے،عبدالستار لاشاری کو 0.026 ملین روپے،محمد ایوب کو 0.063 ملین روپے،نیمل کو 0.020 ملین روپے، محمد اشرف 0.015 ملین روپے،محمد پیرزادہ 5.82 ملین روپے،دلشاور علی ابڑو1.17 ملین روپےمعین الدین کو 3.66 ملین روپے،عدنان احمد بھٹو کو 0.68 ملین روپے،طارق خان کو 2.078 ملین روپے،محمد نواز کو 0.98 ملین روپے،شیر باز گولو کو 0.11 ملین روپے،سید الطاف حسین کو 0.11 ملین روپے،کنیر اختر کو 0.47 ملین روپے،ماجد احمد کو 0.23 ملین روپے،محمد صدیق مگسی 12.62 ملین روپے، عبدالقیوم ایک ملین روپے، توفیق احمد 0.81 ملین روپے، زاہد حسین 63.64 ملین روپے، حبیب الرحمن 1.91 ملین روپے، نثار احمد سومرو 1.23 ملین روپے، نوشین 0.35 ملین روپے، احمد خان مری 0.63 ملین روپے، میرحسن 0.049 ملین روپے، امام زیدی 0.20 ملین روپے، ایاز علی 0.051 ملین روپے، کلیم اللہ 0.12 ملین روپے، رومیش کمار 0.19 ملین روپے، شیوادری 0.056 ملین روپے، سید سردار علی 0.052 ملین روپے، محمد اکرم خان 0.049 ملین روپے، عبدالقیوم کو 0.35 ملین روپے، گوتم کمار 0.038 ملین روپے، راہب خان 0.067 ملین روپے، محمد سلیم 1.85 ملین روپے، ممتاز شاہ 0.083 ملین روپے، غلام رسول بلوچ 0.34 ملین روپے، راجیش کمار 0.28 ملین روپے، طارق عزیز 0.88 ملین روپے، عبدالکریم 3.08 ملین روپے، سعید حسین مگسی 2.96 ملین روپے، زاہدہ 0.70 ملین روپے، شہباز علی گولو 0.04 ملین روپے، غلام فاطمہ 0.72 ملین روپے، طاہر عزیز 1.46 ملین روپے، فہد خان 1.60 ملین روپے، اشفاق احمد 0.64 ملین روپے، امجد علی 1.98 ملین روپے، فضل احمد 2.36 ملین روپے، عنایت علی 1.10 ملین روپے، فیض محمد 0.60 ملین روپے، جی آنند 1.89 ملین روپے اور شاہد حسین کو 0.66 ملین روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔

    ڈائریکٹرجنرل نیب سکھر نے بتایاکہ نیب آرڈیننس 1999 کی شق 25 B کے تحت 2019 کے دوران 112 ملزمان کو احتساب عدالتوں نے سزا سنائی ۔ احتساب عدالتوں نے ملزمان میر علی نواز خان 9 ملین روپے، عرفان علی 0.74 ملین روپے، خادم حسین 0.55 ملین روپے، جاوید احمد میمن 0.53 ملین روپے، اختر علی سولنگی 1.84 ملین روپے، علی محمد 0.067 ملین روپے، شمس الدین سولنگی 0.067 ملین روپے، پرویز احمد سولنگی 1.38 ملین روپے، پرویز احمد عباسی 1.38 ملین روپے، فیاض علی 0.12 ملین روپے، رستم علی 1.01 ملین روپے، مسرت مستوئی 0.41 ملین روپے، جاوید احمد 0.41 ملین روپے، جمیل احمد چوہان 0.26 ملین روپے، الہٰی بخش 0.10 ملین روپے، سید صدیق شاہ 1.34 ملین روپے، سعید علی چنو 1.57 ملین روپے، ممتاز علی 0.63 ملین روپے، عبدالحلیم شیخ 0.76 ملین روپے، شبیر احمد 1.48 ملین روپے، سعید احمد 0.49 ملین روپے، مہراب خان 0.49 ملین روپے، غلام اصغر راجپوت 1.33 ملین روپے، منیر احمد 0.33 ملین روپے، عبدالسلیم 0.45 ملین روپے، ساجد علی 0.55 ملین روپے،ممتاز علی 1.63 ملین روپے، ذوالفقار علی1.41 ملین روپے، بدرالدین سومرو 3.36 ملین روپے، محمد خان 0.21 ملین روپے، شعیب رضا 0.37 ملین روپے، پارس رام 0.29 ملین روپے، محمد ایوب سومرو 0.11 ملین روپے، محمد پناہ 0.24 ملین روپے، عبداللہ نگوری 0.26 ملین روپے، مختیار احمد 1.98 ملین روپے، امداد علی 10.91 ملین روپے، وزیر احمد 1.86 ملین روپے، غلام رسول تالپور 2.25 ملین روپے، ممتاز علی 2.25 ملین روپے، خدا بخش راجپر 0.20 ملین روپے، ہریش مل 452.06 ملین روپے، لیاقت علی راجپر 9.65 ملین روپے، شبیراحمد دستی 8.90 ملین روپے، ارشاد احمد 0.67 ملین روپے، الطاف حسین 1.24 ملین روپے، ممتاز علی سولنگی 0.13 ملین روپے، ثنا اللہ کلوار ،عبدالغفور لاشاری 0.30 ملین روپے، منظور احمد سولنگی 0.23 ملین روپے، عجیبن 0.24 ملین روپے، نصر اللہ 55.23 ملین روپے، جمشید علی 138.96 ملین روپے اور 6.968 ملین روپے، ستی ون8.19 ملین روپے، تیلو مال 44.44 ملین روپے، ثنا اللہ 23.90 ملین روپے، ویکیش کمار 160.61 ملین روپے، مانو رام 27.17 ملین روپے، اللہ جیوایو 110.68 ملین روپے، گانو 127.93 ملین روپے اور 92.36 ملین روپے، طارق حسین 2.81 ملین روپے،آفتاب حسین میرانی 161.61 ملین روپے، رامیش کمار 3.66 ملین روپے، ثنا اللہ خان 0.82 ملین روپے، ممتاز علی 0.10 ملین روپے، نظام الدین 0.73 ملین روپے، عاشق علی 0.28 ملین روپے، میاں عبدالرسول 29.35 ملین روپے، سیرو رام 132.47 ملین روپے، محمد رمضان 22.074 ملین روپے، پرمانند لال 18.65 ملین روپے، فواد احمد 0.03 ملین روپے، عامر شیخ 8.096 ملین روپے، عبدالکریم 0.08 ملین روپے، منیر احمد 0.11 ملین روپے، محمد ایوب 0.22 ملین روپے، محمد حیات 0.055 ملین روپے، شبیر احمد 0.31 ملین روپے، سید غلام شبیر 0.11 ملین روپے، محسن علی 0.11 ملین روپے، عبدالعزیز 0.22 ملین روپے، مسرور احمد 0.22 ملین روپے، جواد علی جواد 0.19 ملین روپے، الطاف حسین 0.44 ملین روپے، محمد یونس 0.35 ملین روپے، ذوالفقارعلی 0.53 ملین روپے، غازی خان 0.89 ملین روپے، محمد شریف 0.22 ملین روپے، عبدالنبی 0.10 ملین روپے، نیاز احمد 0.45 ملین روپے، محبت خان 0.62 ملین روپے، عامر خان 0.67 ملین روپے، وکیل احمد 0.64 ملین روپے، حبیب اللہ 3.85 ملین روپے، غلام ربانی 0.04 ملین روپے، شاہد علی 0.61 ملین روپے، قمر الدین پیرزادہ 0.058 ملین روپے، جاوید احمد 0.41 ملین روپے، شاہد علی 0.59 ملین روپے، ایاز احمد 17.86 ملین روپے، غلام نبی 2 ملین روپے، غلام سرور 17.09 ملین روپے، سدورو خان 3.15 ملین روپے، میر محمد ساریو 3.15 ملین روپے، طارق حسین 9.027 ملین روپے، علی گل 6.92 ملین روپے، ظفر جاوید 0.43 ملین روپے، عبدالخالق 12.28 ملین روپے، الہٰی بخش 0.65 ملین روپے اور سراج احمد کو 0.73 ملین روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔ ڈائریکٹرجنرل نیب سکھر نے بتایاکہ نیب آرڈیننس 1999 کی شق 25 B کے تحت 2020کے دوران 82ملزمان کو احتساب عدالتوں نے سزا سنائی ۔ احتساب عدالتوں نے ملزمان قربان علی 14.01 ملین روپے، عبدالواحد 0.53 ملین روپے، محمد کاشف بھٹو 1.39 ملین روپے، شفقت حسین 0.61 ملین روپے، گل محمد 8.32 ملین روپے، اعجاز احمد 0.80 ملین روپے، عطا محمد 0.99 ملین روپے، بخش علی 2.32 ملین روپے ، درمحمد 1.67 ملین روپے، فیصل خان 1.33 ملین روپے، ہزار خان 2.56 ملین روپے، ماجد علی 0.72 ملین روپے، نیاز محمد 1.44 ملین روپے، برکت علی 16.19 ملین روپے، بشیر احمد شیخ 16.19 ملین روپے، محمد فیصل میمن 69.89 ملین روپے، محمد رفیق 1.75 ملین روپے، سعید فضل 0.31 ملین روپے، پردیپ کمار 76.94 ملین روپے، نویل مل 1140.37 ملین روپے، عبدالقادر 0.32 ملین روپے، محمد طارق 5.73 ملین روپے، محمد اسماعیل جتوئی 1.86 ملین روپے، شاہ نیل گل 20 ملین روپے، غلام اصغر 1.76 ملین روپے، عبدالحنان 1.04 ملین روپے، شیر محمد 0.88 ملین روپے، ثنا اللہ 0.55 ملین روپے، عبدالوحید 0.84 ملین روپے، غلام مرتضیٰ 0.78 ملین روپے، رحمت اللہ 0.60 ملین روپے، خیرمحمد 0.65 ملین روپے، عبدالباقی 1.09 ملین روپے، سجاد حسین 0.77 ملین روپے، فیض محمد 0.77 ملین روپے، جمال الدین شر 1.05 ملین روپے، خورشید احمد 0.64 ملین روپے، شہزاد 0.96 ملین روپے، ممتاز علی اعوان 0.58 ملین روپے، علی خان 2.31 ملین روپے، معشوق علی 1.08 ملین روپے، نواز علی سانگی 3.15 ملین روپے، اریش مل 137.77 ملین روپے، جنسر بھائیو 142.24 ملین روپے، غلام سرور 2.37 ملین روپے، نثار احمد3.08 ملین روپے، امتیاز علی 0.51 ملین روپے، قرار حسین 0.56 ملین روپے، ذیشان گل20 ملین روپے، محمد وقاص 20 ملین روپے، سچن 10.34 ملین روپے، سرور علی 18.23 ملین روپے، وکرم لال 15.87 ملین روپے، اسرار احمد 1.017 ملین روپے، بخمیر مزاری 2.54 ملین روپے، پرشوتم 3.15 ملین روپے اور 3.84 ملین روپے، دیانند12.29 ملین روپے، میر محمد 0.13 ملین روپے، ذوالفقار علی 0.65 ملین روپے، عبدالمجید 0.17 ملین روپے، جوہر لال 0.3 ملین روپے، گہنو 3.92 ملین روپے، عبداللطیف 250.31 ملین روپے، طارق علی زرداری 5.87 ملین روپے، ہادی بخش زرداری 0.12 ملین روپے، ثابت علی شاہ 1.26 ملین روپے، ضمیر علی رجپر4.12 ملین روپے، تاج محمد رند0.60 ملین روپے، جوہر لال 0.3 ملین روپے، طارق حسین 6.42 ملین روپے، نذیر حمد شیخ 0.04 ملین روپے، صدام حسین 0.16 ملین روپے، ماجد علی 0.05 ملین روپے، طارق عزیز 0.03 ملین روپے، ہریش چند 0.08 ملین روپے، فتح چند 1.07 ملین روپے، فتح محمد 1.68 ملین روپے، محمدشریف 36.50 ملین روپے، محمد عامر 16.54 ملین روپے اور خیر محمد کو 1.14 ملین روپےجرمانے کی سزا سنائی گئی۔ ڈائریکٹرجنرل نیب سکھر نے بتایاکہ نیب آرڈیننس 1999 کی شق 25 B کے تحت 31دسمبر2021 تک 43ملزمان کو احتساب عدالتوں نے سزا سنائی ۔ احتساب عدالتوں نے ملزمان محمد حنیف0.75ملین روپے ، عبدالستارشیخ 0.56ملین روپے ،سنیل کمار 2.78ملین روپے ،طفیل احمد 3.38ملین روپے ،فدا حسین 1.21ملین روپے ،سکندر علی 95058ملین روپے ،عبدالرزاق 29.76ملین روپے ، 14ملین روپے اور 31.35ملین روپے ،پرویز احمد 0.34ملین روپے ،عبدالرزاق 17.8ملین روپے ،فہد حسین 0.16ملین روپے ،سید یتیم علی شاہ 1.67ملین روپے ،طارق احمد 0.57ملین روپے ،سکندر علی 0.47ملین روپے ،بلاول اقبال 1.03ملین روپے ،منگومل 0.07ملین روپے ،خادم حسین 1.26ملین روپے ،عبدالخالق 6.33ملین روپے ،بشیر احمد 1.56ملین روپے ،عبدالخالق 1.04ملین روپے ،محمدعابد 0.78ملین روپے ،قاضی خیر محمد 0.68ملین روپے ،امتیاز علی 1.55ملین روپے ،غلام قاسم 1.24ملین روپے ،غلام محمد 0.22ملین روپے ،منور علی 1.12ملین روپے ،ظہیر الدین 2.02ملین روپے ،واحدبخش 0.65ملین روپے ،دیدار علی 0.57ملین روپے ،شہزاد بھٹو 1.26ملین روپے، عبدالوحید 1.05ملین روپے اور 1.61ملین روپے ،محمد اشرف 0.20ملین روپے ،اظہارالحق 0.09ملین روپے ،نازیہ اکرم 0.77ملین روپے ،غلام فرید 0.51ملین روپے ،قاضی محمد حنیف 1.57ملین روپے ،لطیف ڈینو0.61ملین روپے ،تنویراحمد 0.47ملین روپے ،ہدایت اللہ میمن 4.68ملین روپے ،محمد اشرف 0.021ملین روپے اور ہدایت اللہ میمن سے 2.136179ملین روپے جرمانہ کی سزا دی گئی۔

    اس موقع پر چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کی مجموعی کارکردگی میں نیب سکھرکی شاندار کارکردگی کا اہم کردار ہے انہوں نے ڈی جی نائب سکھر مرزا سلطان محمدسلیم کی سربراہی میں نیب سکھر کی کارکردگی کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ نیب سکھرمستقبل میں بھی ایسی کارکردگی کا تسلسل جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے نیب کے تمام افسران بدعنوانی کے خاتمے کو قومی فرض سمجھ کر ادا کررہے ہیں۔