Baaghi TV

Author: +9251

  • مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرکے اسکولوں میں سوریہ نمسکارکرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی مذمت،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اسکولوں میں سوریہ نمسکار کرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی شدیدمخالفت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں سوال کیا کہ آخر ہمیشہ مسلمان طلبہ کوہی یوگ سے لے کر مکر سنکرانتی تک ہندو رسومات کی ادائیگی کیلئے کیوں مجبور کیاجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزارت تعلیم نے آزادی کے جشن کے تحت مکر سنکرانتی پر اسکولوں میں بڑے پیمانے پر سوریہ نمسکار کرانے کا حکم دیا تھا۔ اسی کے تحت جموں وکشمیر کے محکمہ تعلیم نے بھی اسکولوں میں یوگ اور سوریہ نمسکار کرانے کا حکم جاری کیاہے۔

    عمرعبداللہ نے ٹویٹ میں کہاکہ یوگ سے مکر سنکرانتی تک کیوں مسلم طلبہ کو یہ سب کرنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ مکر سنکرانتی ہندوئوںکاایک تہوار ہے اور اسے منانا یا نا منانا ہرکسی کا نجی معاملہ ہے۔ کیا بی جے پی ایسے حکم نامے سے خوش ہوگی، جب غیر مسلم طلبہ کو عید منانے کا حکم جاری کیا جائے۔

    ادھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی ایک ٹویٹ میں سکولوں میں کشمیری طلبہ کو سوریہ نمسکار کرانے کے حکمنامے کو کشمیریوں کی اجتماعی بے عزتی قراردیا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ کشمیری طلبہ اور اسٹاف کو زبردستی طورپر ہندو رسومات کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیاجاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے اس حکمنامے سے اس کی مذہبی انتہا پسندی ظاہرہوتی ہے ۔

    اس سے قبل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی مودی حکومت کے اس فیصلے کی شدیدمخالفت کرتے ہوئے کہاتھا کہ سوریہ نمسکار، ایک قسم سے سورج کی پوجا ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میںبھارتی حکومت سے ایسے پروگرام نہ کرانے اور مسلم طلبہ و طالبات کو اس میں شامل ہونے پر مجبور نہ کرنے کی اپیل کی تھی ۔

  • بھار ت میں کورونا وائرس سے دوسری لہر جیسی تباہی اوربڑے پیمانےپراموات کا خدشہ:اقوام متحدہ

    بھار ت میں کورونا وائرس سے دوسری لہر جیسی تباہی اوربڑے پیمانےپراموات کا خدشہ:اقوام متحدہ

    نئی دلی:بھارت میں کورونا وائرس سے دوسری لہرجیسی تباہی اوربڑے پیمانےپراموات کاخدشہ،اطلاعات کےمطابق اقوام متحدہ نے بھارت کیلئے کورونا وائرس کے حوالے سے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کی مہلک قسم اومی کرون تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے وبا کی دوسری لہر جیسی تباہی اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ کی عالمی اقتصادی صورتحال اور امکانات کے بارے میں ڈبلیو ای ایس پی2022 رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھار ت میں کورونا کی دوسری لہر یعنی ڈیلٹا ویرینٹ کی وجہ سے اپریل سے جون کے درمیان دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور معیشت کی بحالی شدید متاثر ہوئی تھی۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارت میںاومی کرون تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے آنے والے وقت میں جلد ہی پھر سے ویسی ہی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھار ت میںگزشتہ سال اپریل سے جون تک مہلک ڈیلٹا ویرینٹ کی لہر کے دوران 2لاکھ 40ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق بھارت کو اومیکرون کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے کورونا کی تیسری لہر کا سامنا ہے۔بھارت میں کورونا کی دوسری لہر نے بڑے پیمانے پرتباہی مچائی تھی اور انفیکشن اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ اس کی وجہ سے ملک کا نظام صحت بھی درہم برہم ہو گیا تھا۔

    رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ کی وجہ سے انفیکشن کی نئی لہریں پیدا ہو رہی ہیں اور معیشتوں پر اس کے اثرات میں اضافہ ہونا طے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کورونا وائرس کے پھیلا ئوکو روکنے کیلئے لوگوں کی ویکسین تک رسائی سمیت عالمی نقطہ نظر نہ اپنایا گیا تو یہ وبا پوری دنیا کی معیشت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے اور جنوبی ایشیا کو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • وزیر داخلہ شیخ رشید کی ترک ہم منصب سلیمان سوئیلو کے ساتھ ویڈیو کانفرنس:اہم معاملات پرگفتگو

    وزیر داخلہ شیخ رشید کی ترک ہم منصب سلیمان سوئیلو کے ساتھ ویڈیو کانفرنس:اہم معاملات پرگفتگو

    اسلام آباد:پاکستان اور ترکی کے وزراء داخلہ نے غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا ہے اور اسے دونوں ملکوں کا مشترکہ ہدف قرار دیا ہے۔ بدھ کو وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور ان کے ترک ہم منصب سلیمان سوئیلو کے مابین ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بات چیت ہوئی جس میں علاقائی امن وامان ، غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ اورباہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ویڈیو کانفرنس کے دوران پاکستان اور ترکی کے مابین باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    پاکستان اور ترکی نے غیر قانونی امیگریشن اورانسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے مشترکہ اقدامات کرنے پراتفاق کیا اور غیر قانونی امیگریشن اورانسانی سمگلنگ کے خاتمہ کو دونوں ممالک کا مشترکہ ہدف قرار دیا۔ پاکستان اور ترکی کے وزراء داخلہ نے ایک دوسرے کو اپنے ملک دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

    وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات انتہائی دیرینہ اوربرادرانہ ہیں۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمدنے کہا کہ مسلم اُمہ کو درپیش مسائل پر پاکستان اور ترکی کا موقف یکساں اور دوٹوک ہے، پاکستان نے افغان عوام کو قحط سے بچانے کے لئے امداد کیلئے صدا بلند کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ افغانستان پر اوآئی سی وزراء خارجہ غیر معمولی کانفرنس کا انعقاد پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، ترکی کی طرف سے افغان شہریوں کی امداد انتہائی قابل تحسین فعل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے ساتھ تعلقات کو پاکستان کے عوام میں بہت پذیرائی حاصل ہے، ترک صدر طیب اردگان پاکستان میں انتہائی مقبول مسلمان سربراہ مملکت ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ترکی کی طرف غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ روکنے کے لئے اقدامات کو تیز کیا جائے گا، ترکی کی طرف پاکستانیوں کی غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لئے وزارت داخلہ اور ایف آئی آے ہر ممکن اقدامات کریں گے، انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کے لئے پاکستان زیرو ٹالرنس پالیسی پر کاربند ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کو انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ایران اور افغانستان بارڈز پر باڑ غیر قانونی انسانی سمگلنگ اور منشیات کی نقل و حرکت روکنے میں بہت مدد گار ثابت ہوگی، پاکستان ایران بارڈر پر باڑ کا کام رواں سال مکمل ہو جائے گا، پاکستان اور ایران سرحد پر 700 کلومیٹر باڑ پہلے ہی لگاچکے ہیں۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو نے کہا کہ پاکستان اور ترکی دونوں برادر اسلامی ملک ہیں، باہمی تعلقات پر بہت فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کی داخلہ وزارتوں اور اس کے محکموں کے درمیان روابط بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا کو دہشت گردی، منشیات سمگلنگ، سائبر سکیورٹی کرائمز اور انسانی سمگلنگ جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، ان بڑے چیلنجز سے نبرد آزما ہونےکے لئے مشترکہ حکمت عملی اور پیش بندی کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بہتر روابط سے غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ سے موثر طریقے سے نمٹا جاسکتا ہے، غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کو روکنا دونوں ممالک کے لئےایک بڑا چیلنج ہے، غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ سے معاشی اور سماجی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔

  • کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم

    کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم

    لندن:کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم،اطلاعات کےمطابق اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس سیزن کے وائرل فلو کی طرح COVID-19 کو ایک عام بیماری قرار دیتےہوئے اس کے حوالے سے یورپین برادری کی ایک متفقہ رائے لینے کے لیے رابطے شروع کردیئے ہیں‌

    "صورتحال وہ نہیں ہے جس کا ہم نے ایک سال پہلے سامنا کیا تھا،” سانچیز نے اسپین کے کیڈینا ایس ای آر کے ساتھ ایک ریڈیو میٹنگ میں کہا۔ "میرے خیال میں ہمیں اب تک جس وبائی بیماری کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سے ہمیں COVID کے ارتقاء کا ایک مقامی بیماری کی طرف جائزہ لینا ہوگا۔”

    ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات اٹھانے سے اس بات کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کورونا اب وبائی مرض نہیں بلکہ موسمیاتی اور عارضی بیماری کے طور پردیکھا جائے گا، جیسا کہ یہ اس وقت موسمی انفلوئنزا کا سراغ لگاتا ہے،

    اسپین کی طرف سے دباؤ اسی طرح یوروپی ممالک کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو اس بیماری میں بُری طرح مبتلاہیں‌ ، جیسا کہ جرمنی جو ایک شدید حفاظتی ٹیکوں کا آرڈر پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ، اور فرانس ، جہاں صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ انہیں غیر ویکسین شدہ افراد کو "پریشان” کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ ویکسین لگوا کر دوسروں کے لیے مسائل پیدا کرنے سے دور رہیں‌

    اسپین کی اس تنظیم کی طرف سے کیے گئے اقدامات اس فریم ورک اس کی عکاسی کرتا ہے جو ملک میں انفلوئنزا کے بھڑک اٹھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بیماری کی لہروں کا اندازہ لگانے اور ان پر رد عمل ظاہر کرنے کے لیے منتخب ماہرین سے ٹیسٹ کی معلومات کا استعمال کرتا ہے

    اسپینی حکام کا کہنا ہے کہ اس کو فلو کی حیثیت سے ڈیل کیا جائے گا اور ملک میں جو سخت پابندیاں ہیں ان کو ختم کردیا جائے گا تاکہ عوام الناس آزادانہ چل پھر سکیں اور اس سلسلے میں ماسک کی پابندی کو بالکل ختم کردیا جائے گا لیکن اس کےلیے پہلے یورپین ممالک کے ساتھ مشاورت ضروری ہے

  • لاہور میں دھند کا راج، فلائٹ آپریشن معطل

    لاہور میں دھند کا راج، فلائٹ آپریشن معطل

    لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور میں دھند نے ڈیرہ ڈال لیا، علامہ اقبال ایئرپورٹ پر مقامی و بین الاقوامی پروازوں کا شیڈول درہم برہم ہوگیا ہے۔

    لاہور ایئرپورٹ پر فلائیٹ آپریشن معطل۔۔ رن وے پر حد نگاہ 50میٹر ہونے کے باعث گزشتہ 11 گھنٹوں سے لاہور ایئرپورٹ بند ہے۔

    لاہور ایئرپورٹ پر شدید دھند کے باعث فلائٹ آپریشن معطل ہوگیا ہے جس کے باعث اندرون و بیرون ملک سے آنے والی پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔ ایئرپورٹ حکام کی جانب سے مسافروں کو اپنی پرواز سے متعلق معلومات حاصل کرکے ایئرپورٹ آنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہےکہ جونہی دھند میں کمی واقع ہوگی، حد نگاہ ٹھیک ہوتے ہی فضائی آپریشن کو معمول پر لے آئیں گے۔

    ادھر اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ ‏لاہور جہاں دھند میں اضافے کے باعث فلائٹ شیڈول متاثر ہوا ہے اوراسی وجہ سے ‏ائیر بلیو کی لاہور سے شارجہ جانے والی پرواز 412صبح 9بجے تک تاخیر کا شکار‏ہے

    ادھر ذرائع کے مطابق ائیر بلیو کی لاہور سے ابوظہبی جانے والی پرواز 430 دوپہر بارہ بجے تک تاخیر کا شکار‏ہے ، ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق قطر ائیر ویز کی لاہور سے دوحہ جانےو الی پرواز 621دوپہر 1:30تک تاخیر کا شکار‏ہے اور ایسے ہی پی آئی اے کی لاہور سے ٹورنٹو جانے والی پرواز 789صبح 9:30تک تاخیر کا شکارہے

  • کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں کے رہنماوں کو سخت کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ

    کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں کے رہنماوں کو سخت کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ

    واشنگٹن : کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں نے کیا:سخت قید کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی صدارتی فتح کی تصدیق کو روکنے کی کوشش میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے امریکی کانگریس کی عمارت، کیپیٹل ہل، پر دھاوا بولنے کو آج ایک سال ہوگیا ہے۔ اب تک سات سو سے زیادہ افراد پر وفاقی جرائم کا الزام لگایا جا چکا ہے۔

    سازشی نظریے کیو اینوں کے نام نہاد شامن جیکب چانسلی، جنہوں نے سر پر سینگ سجائے اور سمور دار کھال پہنے ہجوم کی قیادت کی، کو41 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ جینا رائن نامی خاتون، جو کیپٹل ہل میں بلوائیوں کا حصہ بننے سے قبل نجی جہاز پر واشنگٹن ڈی سی پہنچی تھی اور بعد میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس لیے جیل نہیں جائیں گی کیونکہ ان کے ’بال سنہرے ہیں‘ اور ’رنگ سفید‘ ہے، ان کو 60 دن قید کی سزا دی گئی ہے۔

     

    ادھر اس حوالے سے انتہائی دائیں بازو کے مسلح گروہ جیسے ’پراؤڈ بوائز‘ اور ’اوتھ کیپرز‘ کے اراکین کے خلاف مزید پیچیدہ مقدمات کی سماعت جاری تھی جس کے بعد ان کے حوالے سے باقاعدہ آج اعلان کیا گیا کہ تمام سازشیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے

    ادھر حکام نے جمعرات کو بتایا کہ انتہائی دائیں بازو کے اوتھ کیپرز ملیشیا گروپ کے بانی اور رہنما سٹیورٹ رہوڈز کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل پر حملے میں بغاوت کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    روڈس کسی انتہا پسند گروپ کا وہ اعلیٰ ترین رکن ہے جسے مہلک محاصرے میں گرفتار کیا گیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب محکمہ انصاف نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں بغاوت کی سازش کا الزام لگایا ہے۔

    رہوڈز پر اوتھ کیپرز کے ایک درجن سے زائد دیگر اراکین اور ساتھیوں کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی ہے، جو حکام کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کو روکنے کے ارادے سے واشنگٹن آئے تھے۔

    رہوڈز 6 جنوری کو کیپیٹل کی عمارت میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تشدد کو بھڑکانے میں مدد کی جس نے ووٹ کی تصدیق میں خلل ڈالا۔ اوتھ کیپرز کیس وفاقی حکام کی جانب سے 6 جنوری کو اب تک کا سب سے بڑا سازشی کیس ہے، جب ہزاروں ٹرمپ حامی فسادیوں نے پولیس کی رکاوٹوں پر دھاوا بول دیا اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے، درجنوں افسران کو زخمی کر دیا اور قانون سازوں کو بھاگنے پر مجبور کیا۔

    لیکن اب ایسے لگ رہا ہےکہ جیسے اب امریکی عدالتیں اس کیس کوانجام تک پہنچانے کےلیے کوشاں ہیں

  • بھارت میں مسلم نسل کُشی عروج پر:مودی سرکارکو مہلت دینے والے ذمہ دار:دنیا کوکچھ کرنا ہوگا

    بھارت میں مسلم نسل کُشی عروج پر:مودی سرکارکو مہلت دینے والے ذمہ دار:دنیا کوکچھ کرنا ہوگا

    نئی دہلی :بھارت میں مسلم نسل کُشی عروج پر:مودی سرکار،ذمہ دارمگرپھر بھی دنیا خاموش،اطلاعات ہیں کہ دنیا کے ماہرین اس وقت اس بات پر پریشان ہیں کہ مودی سرکارکے دور میں مسلمانوں کی نسل کشی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ،مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے مگر مگرعالمی برادری کو کوئی پرواہ تک نہیں

    پروفیسر گریگوری ایچ اسٹینٹن نے ہندوستان میں مسلمانون کی نسل کشی کے حوالے سے ہنگامی الرٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک مسلم کمیونٹی پر ظلم و ستم کے ساتھ نسل کشی کے 8ویں مرحلے پر پہنچ گیا ہے۔

    پروفیسر اسٹینٹن "نسل کشی کے 10 مراحل” تھیوری کے معمار ہیں اور جینوسائیڈ واچ کے بانی بھی ہیں، جو ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو نسل کشی اور قتل عام کی دیگر تمام اقسام کی پیشین گوئی اور روک تھام کے لیے کام کرتی ہے۔

    جسٹس فار آل آرگنائزیشن کے ذریعہ منعقدہ ایک ورچوئل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ہندوستان نسل کشی، ظلم و ستم کے مرحلے 8 میں ہے، قتل و غارت گری سے صرف ایک قدم دور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی "یہ ہوتا دیکھ کر بہت خوش ہوں گے”۔

    پروفیسر اسٹینٹن نے ہندو انتہا پسند گروپ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ساتھ تعلق پر مودی کو مزید تنقید کا نشانہ بنایا۔ "آر ایس ایس جب سے قائم ہوئی ہے نفرت سے بھری ہوئی ہے، یہ بنیادی طور پر ایک نازی تنظیم ہے، اور حقیقت میں، اس نے ہٹلر کی تعریف کی،”

    اس تقریب میں امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک سے چار سو کمیونٹی اور بین المذاہب رہنماؤں نے شرکت کی۔ جسٹس فار آل نے معروف واچ ڈاگ جینوسائیڈ واچ کے ذریعہ اعلان کردہ نسل کشی کے ہنگامی الرٹ کا مطالبہ کیا اور اس کی تائید کی۔

    یونائیٹڈ سٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم کی چیئرپرسن نادین مینزا نے کہا، "ہندوستان میں تکثیریت کی ایک خوبصورت تاریخ ہے… لیکن 2014 سے بی جے پی حکومت کی قیادت کرنے کے ساتھ، ہم نے اسے خالص ہندو ریاست کے لیے جارحانہ انداز میں وکالت کرتے ہوئے سیکولر اصولوں کو ختم کرتے دیکھا ہے”۔ . حالیہ ہندو مذہبی پارلیمنٹ کو "پریشانی سے بالاتر” کے طور پر حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی کانگریس کو امریکہ بھارت دو طرفہ تعلقات میں مذہبی آزادی کے خدشات کو اٹھانا چاہیے”۔

    جسٹس فار آل کے سی ای او امام عبدالمالک مجاہد نے ہندوستان کو انتہا پسندی اور فاشزم سے بچانے کی کوششوں پر زور دیا۔ ہندوستان کی تکثیریت اور جمہوریت کی بھلائی پوری دنیا کے لیے اچھی ہے۔ اس لیے یہ دنیا کے مفاد میں ہے کہ ہندوستان کو فاشزم سے بچانے کے لیے مل کر کام کیا جائے۔‘‘

  • عمر عطا بندیال پاکستان کے اگلے چیف جسٹس ہوں گے:صدر نے منظوری دیدی

    عمر عطا بندیال پاکستان کے اگلے چیف جسٹس ہوں گے:صدر نے منظوری دیدی

    اسلام آباد:صدر مملکت عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج، جسٹس عمر عطا بندیال کی بطورچیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کردی۔اور پاکستان کے اگلے چیف جسٹس عمرعطا بندیال ہوں گے

    جسٹس عمر عطا بندیال کی تعیناتی 2 فروری 2022 سے ہوگی۔ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس گلزار احمد یکم فروری 2022 کو ریٹائر ہوجائیں گے۔جسٹس عمر عطا بندیال اس وقت جسٹس گلزار کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

    صدر مملکت نے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت کی ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی اگلے ماہ فروری میں ریٹائرمنٹ کے بعد آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال 2 فروری 2022 کو پاکستان کے اگلے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔

    جسٹس عمرعطا بندیال 2فروری2022سے ایک سال سات ماہ 15دن کے لیے اس عہدے پرفائزرہیں گے ۔واضح رہے کہ جسٹس گلزار احمد سمیت عدلیہ کے سات سینئر ججز رواں سال ریٹائر ہو جائیں گے۔ ان میں سپریم کورٹ کے پانچ ججز اور لاہور ہائی کورٹ کے دو ججز شامل ہوں گے۔

    سپریم کورٹ کے جج 65 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد ریٹائر ہوتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے جج 62 سال کی عمر میں عہدہ سے ریٹائر ہوتے ہیں۔رواں سال ریٹائر ہونے والے ججز میں جسٹسگلزار جو کہ یکم فروری کو ریٹائر ہو جائیں گے جن کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی محمد امین احمد 5 مارچ کو ریٹائر ہونگے

    4 اپریل کوجسٹس مقبول باقر ، جسٹس مظہر عالم خان مندوخیل 13 جولائی اور جسٹس سجاد علی شاہ 13 اگست کو ریٹائر ہوں گے۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم 30 جون 2022 کو ریٹائر ہونگے جبکہ جسٹس چوہدری مسعود جہانگیر 2 دسمبر کو ریٹائر ہو جائیں ۔

  • میشا شفیع کی حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد، قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    میشا شفیع کی حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد، قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    لاہور:مقدمے میں میشا شفیع کی جانب سے مجسٹریٹ کے روبرو ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ مجسٹریٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    معروف سنگر علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے مقدمے میں لاہور کی مقامی عدالت نے میشا شفیع کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔

    سوشل میڈیا پر جنسی ہراساں کرنے کے الزام میں مہم چلانے پر ایف آئی اے نے علی ظفر کی مدعیت میں میشا شفیع کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    مقدمے میں میشا شفیع کی جانب سے مجسٹریٹ کے روبرو ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ مجسٹریٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    مجسٹریٹ نے میشا شفیع سمیت تمام ملزمان کو 8 فروری کو طلب کر لیا ہے۔

    خیال رہے کہ میشا شفیع ہتک عزت کے کیس میں 4 اور 5 جنوری کے علاوہ 8 جنوری کو بھی عدالت میں پیش ہوئی تھیں جب کہ 10 جنوری کو بھی وہ عدالت میں پیش ہوئیں مگر کیس کی سماعت نہ ہوسکی اور انہیں اگلی سماعت پر طلب کرلیا گیا۔

    گلوکارہ میشا شفیع 10 جنوری کو بھی عدالت میں جرح کے لیے پیش ہوئیں اور اپنی حاضری مکمل کروائی، فاضل جج کے رخصت پر ہونے کے باعث ڈیوٹی جج نے سماعت کیے بغیر ہتک عزت کیس کی کارروائی ملتوی کردی اور میشا شفیع کو آئندہ سماعت پر دوبارہ عدالت پیش ہونے کا حکم دیا۔

    دوران سماعت علی ظفر کے وکلا نے میشا شفیع کے کیس کو ڈیوٹی جج کو سماعت کا اختیار دینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے کاروائی کیے بغیر ہی سماعت ملتوی کی۔

    اس سے قبل میشا شفیع 8 جنوری کو بھی جرح کے لیے پیش ہوئی تھیں جب کہ 4 اور تین جنوری کو بھی ان سے جرح کی گئی تھی۔

  • ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    اسلام آباد:سابق اسپیکرکی بولتی بند:ضمنی ترامیمی بل پراپوزیش کو شکست پرشکست:لندن میں زلزلہ ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی گیڈربھبکیاں اس وقت دم توڑ گئیں جب قومی اسمبلی میں کپتان کے وفادار کھلاڑیوں نے لندن والوں کی خواہشات پرپانی پھیردیا،

    ادھر اطلاعات کے مطابق آج جب قومی اسمبلی میں کپتان کے کھلاڑیوں نے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپوزیشن کی تمام سازشوں کو مسل دیا تو سُنا ہے کہ لندن میں سیاسی شکست نے زلزلہ برپا کردیا ہے ، جس پر میاں نوازشریف کی طبعیت خراب ہوگئی ہے

    دوسری طرف مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ میاں شہبازشریف کی طرف سے حکومت کودرپردہ حمایت حاصل تھی جو کہ ہراہم موقع پر پہلے بھی ملتی رہی ہے ،

    اسلام آباد سے اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن راستہ روکنے میں ناکام ہو گئی، ضمنی مالیاتی بل پر اپوزیشن کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

    قومی اسمبلی ایوان اس وقت 342 ارکان پر مشتمل ہے، حکومت کے پاس 182 ارکان جبکہ اپوزیشن کے پاس 160ارکان ہیں، اپوزیشن کے 12 اور حکومت کے 12 ارکان ایوان سے غیر حاضر ہیں۔ حکومت کو اس وقت ایوان پر 18 ارکان کی برتری حاصل ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ ان کی آمد پر ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا جبکہ اپوزیشن نے وزیراعظم کیخلاف نعرے لگائے۔

    اجلاس کے دوران ضمنی بجٹ پر پیپلز پارٹی نے ترمیم پیش کی جبکہ سپیکر نے ترمیم پر زبانی رائے شماری دی جسے اپوزیشن نے چیلنج کیا، سپیکر کی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو کھڑے ہونے کی ہدایت کی، سپیکر کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کی ترمیم پر گنتی کی گئی ہے۔ ترمیم کےحق میں 150 جبکہ مخالفت میں 168 ووٹ پڑے۔

    اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین بتائیں منی بجٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی،

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ شاہد خان عباسی اور دیگر اراکین نے پوچھا کہ یہ بل کیوں لے کر آ رہے ہیں تو میں انہیں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں جب آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ ان پٹ اور آؤٹ پُٹ کو میں توازن لائیں، اگر آپ نہیں کرے گیں تو جی ایس ٹی پورا نہیں ہو گا، ہم اس کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری 18 سے 20 ٹریلین کی ریٹیل سیلز ہیں، اس میں سے صرف ساڑھے تین ٹریلین کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے، جب بھی دستاویزی شکل دینے کی بات کی جاتی ہے تو شدید واویلا مچ جاتی ہے کیونکہ سب نے بندر بانٹ کی ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 343ارب میں سے 280ارب ری فنڈ ہوجانا ہے اور بقیہ صرف 71 ارب رہ جاتا ہے تو یہ ٹیکس کا طوفان نہیں بلکہ اس کو دستاویزی شکل دینا ہے لیکن اس سے سب بھاگتے ہیں کیونکہ ان کی آمدن کو دستاویزی شک دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں آمدن اور کھپت پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن یہاں انکم پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا اور وہ اس لیے نہیں ہورہا کیونکہ یہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ انہوں نے کیا طوفان مچایا ہوا ہے کہ غریب کو کیا ہو جائے گا، یہ دودھ اور ڈبل کی بات کررہے ہیں لیکن ہم نے ان پر سے ٹیکس ختم کردیا ہے، ہماری حکومت تو صرف تین سال سے ہے، پچھلے 70سال سے کیا ہوا ہے، جی ڈی پی کی مناسبت سے ٹیکس کب 18 سے 19فیصد پر گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم ٹیکس کو 18 سے 19 فیصد نہیں کریں گے اس وقت تک چھ سے آٹھ شرح نمو نہیں دکھا سکتے، یہ سب جانتے ہیں لیکن شتر مرغ بنے ہوئے ہیں۔

    اجلاس میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں ہوئے، اپوزیشن نے مشترکہ طور پر پروڈکشن آرڈر کیلئے درخواست دی تھی، آپ نے وزیرستان کو ایوان میں حق سے محروم رکھا۔

    احسن اقبال اور اسپیکر اسد قیصر میں ایوان میں گنتی کے معاملے پر بحث ہوئی لیکن اسپیکر قومی اسمبلی نے دوبارہ گنتی کرانے سے انکار کردیا۔

    احسن اقبال دیگر اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو ووٹنگ کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا البتہ وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ ترمیم منظور کر لی گئیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیرخزانہ کہتے ہیں کیوں اتنا شورہورہا ہے، شوکت ترین کو خود سمجھ نہیں آرہی کہ مہنگائی کیوں ہو رہی ہے، وہ خود کو کراچی کا نمائندہ کہتے ہیں، وزیرصاحب کراچی میں گھومیں اورعوام سے اس منی بجٹ بارے پوچھیں، عوام سے پوچھیں وہ کیوں شور مچا رہے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ ہم نے یہ ترمیم پاکستان میں کاروبار اور صنعتی ریل پیل کو بڑھانے کے لیے تجویز کی ہے، کسٹمز ایکٹ پہلے بینک گارنٹی دی جاتی تھی لیکن اب اس کی جگہ کارپویٹ گارنٹی مانگ رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ امپورٹر کے کیش فلو پر اثر پڑے گا۔

    اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا تنویر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بنیاد ٹھیک کررہے ہیں لیکن یہ کیسی بنیاد ٹھیک کررہے ہیں جو اپوزیشن اور حکومت دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔

    سابق سپیکر ایاز صادق نے بھی ووٹنگ نہ کرناے پر اعتراض کیا جس پر سپیکر نے جواب دیا کہ آپ کے دور کا ریکارڈ بھی نکال لیں گے تاہم وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ سپیکر تھے تو آپ نے کئی مرتبہ ووٹنگ کو بلڈوز کیا لہٰذا اسپیکر صاحب آپ رولنگ دیں، ان کا کام وقت ضائع کرنا ہے، جس پر سابق اسپیکر کی بولتی بند ہوگئی ہے