Baaghi TV

Author: +9251

  • بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے

    بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے

    سرینگر:بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے:حریت کانفرنس نے انکشاف کردیا ،بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ قابض بھارتی فورسز نے کالے قوانین کی آڑ میں علاقے میں سول انتظامیہ اور عدالتی اداروں کا مکمل کنٹرول حاصل کر رکھا ہے جس کے تحت لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بغیر کسی جرم کے قتل کیا جاتا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور تسلیم شدہ حق خودارادیت کا جائز مطالبہ اٹھانے کی وجہ سے کشمیری سیاسی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسانی رویے کی مذمت کی۔ ترجمان نے بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف جاری مزاحمتی تحریک کو خالصتاً ایک سیاسی اور مقامی تحریک قرار دیتے ہوئے کہ بھارتی سامراجی نظام حکمرانی عوام کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے پیش آرہا ہے اور فوج اور پیرا ملٹری دستوں کے ذریعے ان کے بنیادی حقوق کو پامال کر رہا ہے۔

    ترجمان نے فسطائی بھارتی جیل حکام کے ہاتھوں کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند رہنماﺅں اور کارکنوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نظربندوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں اور انہیں تنگ و تاریک سیلوں میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی سہولیات اور صحت بخش غذا کی عدم فراہمی کی وجہ سے نظر بند متعدد امراض کا شکار ہو گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کوروانا کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے نظربندوں کو جیل حکام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    انہوں نے محمد مقبول بٹ، محمد افضل گورو، سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، علی محمد آہنگر، مشتاق احمد بٹ اور عبدالرشید سمیت جسمانی تشدد، عدالتی جانبداری یا طبی غفلت سے دوران حراست شہید ہونے والے رہنماﺅں کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی بدنام زمانہ جیلوں میں بند حریت رہنماو¿ں کے خلاف مجرمانہ رویے پر بھارت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر مزاحمتی رہنماو¿ں اور کارکنوں کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔

    ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ڈاکٹر جی ایم بٹ، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، الطاف فنتوش، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی، مقصود احمد بٹ، شاہد یوسف، شکیل یوسف، مشہد یوسف، راشد یوسف صحرائی، اسد اللہ پرے، شوکت حکیم، معراج الدین نندا، رفیق احمد گنائی، پیر ہلال احمد، اب رشید لون، شکیل بٹ، غضنفر اقبال عابد زرگر، شوکت احمد خان، نذیر احمد شیخ، ظہور احمد بٹ، محمود ا، میر توبہ، محمد طوبیٰ، ظہور احمد بٹ۔ محمد ایوب ڈار، قادر بٹ، عاقب نجار، عارف وانی، امتیاز احمد، شیخ فاروق، نذیر پٹھانسمیت دیگر نظر بندوں کی استقامت کو سلام پیش کیا۔

    ترجمان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس پر زور دیا کہ وہ اپنی ٹیموں کے بھارتی جیلوں کے دورے اور کشمیریوں نظر بندوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے بھارت پر دباو ڈالے ۔

  • پی ٹی آئی کراچی کی قیادت آمنے سامنے ، عامر لیاقت کی علی زیدی پر تنقید

    پی ٹی آئی کراچی کی قیادت آمنے سامنے ، عامر لیاقت کی علی زیدی پر تنقید

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت نے علی زیدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی زیدی کےفیورٹ ازم کےکھیل سے کارکنان دل برداشتہ ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سندھ کی قیادت آمنے سامنے آگئی ، ایم این اے عامرلیاقت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صوبائی صدر علی زیدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا وزیراعظم نے اپنے چیمبرمیں 3بجے طلب کیاہے، علی زیدی کےفیورٹ ازم کےکھیل سے کارکنان دل برداشتہ ہیں ، مجھے چھوڑیے ایک سے ایک بڑھ کر ایک ہیرا ہے عمران خان کا ، لیکن علی بھائی کو نظر ہی نہیں آیا،اللہ بہتر کرے.

    عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ آخری گیند تک پی ٹی آئی کراچی کے لیے لڑوں گا، جب راستہ نہیں بچے وزیراعظم کا تب بھی ساتھ نہیں چھوڑوں گا، احتجاج جمہوری حق ہے ،عمران خان میرے لیے سب کچھ ہیں ، دوست کواتنانہ آزماؤکہ کھوبیٹھو،بالغ النظرجانتے ہیں کراچی میں میری کیاحیثیت ہے۔

  • افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام:مگرامید پھربھی باقی رہی

    افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام:مگرامید پھربھی باقی رہی

    کابل:افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں افغانستان کے قومی مزاحمتی محاذ (NRF) اور طالبان کے درمیان شروع ہوئی بات چیت شر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی ہے ۔

    ذرائع کے مطابق مزاحمتی محاذ کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر منگل کے روز کہا کہ امارت اسلامیہ کی ٹیم نے میٹنگ کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلنے پر مزاحمتی محاذ کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ افغانستان واپس چلے جائیں۔

    یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ مذاکرات میں ناکامی کو چھپایا جارہا تھا دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں امارت اسلامیہ کے نمائندے ہفتے کے روز ایران گئے اور پیر کو کابل واپس آگئے تھے لیکن اتنے دن گزرنے کے باوجود مذاکرات کوخفیہ رکھا گیا ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بہت جلد مذاکرات کا اگلہ دور بھی شروع کرنے پراتفاق ہوگیا ہے

    ذرائع کے مطابق شمالی اتحاد کے اہم رکن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے تہران کے زیر اہتمام طالبان حکام کے ساتھ اپنی دو روزہ میٹنگ کے دوران افغانستان میں ایک ثانوی حکومت کے قیام کی تجویز پیش کی۔ ٹیم کے رکن نے کہا کہ ان کے لیے ہماری تجویز واضح ہے اورایک ثانوی حکومت قائم کی جانی تھی جو اگلی حکومت کے لیے کام کرے گی اور عوام کو مساوی حقوق اور آزادی حاصل ہوگی۔ لیکن اگر طالبان کی رضا مندی نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے ہیں ۔

    دوسری طرف مذاکرات کی ناکامی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ اس کی شمالی اتحاد کی ٹیم کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ بات چیت کرنے والی ٹیموں میں امارت اسلامیہ کے چار عہدیداران اور مزاحمتی محاذ کے پانچ ارکان نے شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق امارت اسلامیہ کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی، قائم مقام وزیر اقتصادیات دین محمد حنیف، قائم مقام وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی، قائم مقام نائب وزیر سرحد و قبائلی امور حاجی گل محمد نیکا، جب کہ اسماعیل خان، سابق جہادی رہنما مولوی حبیب اللہ حسام، عبدالحفیظ منصور، حسام الدین شمس بڈگی کے سابق گورنر او رغور کے سابق گورنر عبدالظاہر فیض زادہ کی جانب سے نمائندگی کی۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجی صحافیوں کو بڑے پیمانے پر ہراساں کر رہے ہیں:ہیومن رائٹس واچ

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجی صحافیوں کو بڑے پیمانے پر ہراساں کر رہے ہیں:ہیومن رائٹس واچ

    نیویارک:انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں صحافیوں کو حکام کی طرف سے بڑے پیمانے پر دھمکیوں اور خوف و ہراساں کا سامنا ہے جس میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت چھاپے اور گرفتاریاں بھی شامل ہیں۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ 2022جس میں 2021کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے کہا کہ بھارتی فوج اور پولیس نے گزشتہ برس ستمبر میں چار کشمیری صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور ان کے فون اور لیپ ٹاپ ضبط کر لیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس جون میںآزادی اظہار کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور صوابدیدی حراست پر ورکنگ گروپ نے جموں و کشمیر کی صورتحال کو کور کرنے والے صحافیوں کی حراست اور دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ستمبر 2021 میںکل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی وفات کے بعد بھارت نے ان کے جنازے میں بڑے پیمانے پر لوگوںکی شرکت کو روکنے کے لیے دو دن کے لیے تقریباً مکمل مواصلاتی بلیک آوٹ نافذ کیا۔ سید علی گیلانی کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ انہیں آخری رسومات ادا کرنے کا حق نہیں دیا گیا۔

    گزشتہ برس جولائی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چار ماہرین نے بھارتی حکومت کو خط لکھ کر محمد اشرف خان صحرائی کی دوران حریت وفات کی تحقیقات پر زور دیا تھا جنہیں جولائی 2020 میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ گزشتہ برس مارچ میں اقوام متحدہ کے پانچ ماہرین کے نے بھارتی حکومت کو خط لکھ کر کشمیری سیاست دان وحید پری کی نظربندی، ایک دکاندار عرفان احمد ڈار کی حراست میں قتل اور نصیر احمد وانی کی جبری گمشدگی کے بارے میں معلومات طلب کیں۔

    انہوں نے جابرانہ اقدامات اور مقامی آبادی کے خلاف بنیادی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ دھمکیوں، تلاشیوں اور ضبطیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ کہ فروری 2021 میں بھارتی حکومت نے بالآخر مقبوضہ جموں و کشمیر میں 18 ماہ سے نافذ انٹرنیٹ بندش ختم کر دی جو نئی اگست 2019 میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد نافذ کی گئی تھی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کالا قانون آرمڈ فورسز ایکٹ جو مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں نافذ العمل ہے بھارتی فورسز اہلکاروں کو استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔

  • کلفٹن میں تاجر 73 لاکھ روپے لوٹنے کے دوران مزاحمت پر قتل

    کلفٹن میں تاجر 73 لاکھ روپے لوٹنے کے دوران مزاحمت پر قتل

    کراچی : کلفٹن میں نامعلوم ملزمان نے چاول کے تاجر کو 73 لاکھ روپے لوٹنے کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کرکے قتل کردیا اور رقم لوٹ کر باآسانی فرار ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق کلفٹن تھانے کے علاقے کلفٹن شون سرکل انڈر پاس کے قریب ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو شدید زخمی کردیا اور فرار ہو گئے۔
    زخمی شخص کو فوری طور پرچھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخمی شہری دوران علاج دم توڑ گیا، جہاں آنجہانی کی شناخت 35 سالہ ویر بھان ولد سمر داس کے نام سے کی گئی مقتول ویر بھان کلفٹن باتھ آئی لینڈ کا رہائشی اور چاول کا تاجر تھا۔ اس حوالے سے ایس پی کلفٹن ابریز علی عباسی کا کہنا تھا کہ مقتول ویر بھان اپنے بھائی کے ہمراہ کلفٹن بلاک 9 شون سرکل انڈر پاس کے قریب واقع نجی بینک سے تین چیک کیش کرانے کے بعد 73 لاکھ روپے لیکر بینک سے باہر نکلا اور بینک کے قریب کھڑی اپنی گاڑی کی جانب جا رہا تھا کہ مقتول جونہی اپنی گاڑی کے قریب پہنچاتواسی دوران موٹرسائیکل پر سوار 3 نامعلوم مسلح ملزمان آگئے اورانھوں نے اسلحہ کے زورپررقم چھیننے کی کوشش کی تومقتول کی جانب سے مزاحمت کرنے پر ملزمان نے فائرنگ کردی جس کے باعث شہری شدید زخمی ہوگیا۔

    ایس پی کلفٹن نے کہا کہ مسلح ملزمان مقتول شہری سے 73 لاکھ روپے چھین کرفرارہونے میں کامیاب ہوگئے زخمی شہری کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا لیکن زخمی شہری جانبرنہ ہوسکا۔ پولیس کے مطابق مسلح ملزمان کی فائرنگ سے مقتول کی گاڑی کے شیشے بھی ٹوٹ گئے تھے واقعے کے بعد پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور جائے واردات سے شواہد اکٹھا کرکے تفتیش شروع کردی ہے اور جائے وقوع کے ارد گرد لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ واردات میں ملوث ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے ۔

  • کراچی میں انتہائی دلخراش واقعہ

    کراچی میں انتہائی دلخراش واقعہ

    کراچی : کراچی میں انتہائی دلخراش واقعہ

    ڈکیتی کی واردات کے دوران نوجوان کو ماں اور بہن کے سامنے قتل کر دیا گیا، نوجوان کی ایک روز پہلے ہی شادی ہوئی تھی۔

    تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز کراچی کے علاقے کشمیر روڈ پر انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈکیتی کی واردات کے دوران ایک روز قبل شادی کرنے والے نوجوان کو قتل کر دیا گیا۔

    بتایا گیا ہے کہ کشمیر روڈ پر واقع ایک گھر کے باہر موجود 2 خواتین کو ایک ڈاکو نے پستول دکھا کر لوٹنے کی کوشش کی۔ اسی دوران گھر کے اندر سے ایک نوجوان باہر نکلا اور فوری ڈاکو پر جھپٹ پڑا۔ اس دوران ڈکیت نے نوجوان پر گولیاں چلا دیں اور خواتین کو لوٹ کر فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق نوجوان کی ایک روز قبل ہی شادی ہوئی تھی، جبکہ جن خواتین کے سامنے اس کا قتل ہوا، وہ مقتول کی والدہ اور بہن ہیں۔

    پولیس کے مطابق قاتل کی تلاش جاری ہے۔ کراچی میں ہی ڈکیتی کی ایک اور واردات کے دوران نوجوان لڑکی کو زخمی کر دیا گیا۔ زمان ٹاؤن تھانے کے علاقے کورنگی کراسنگ بھٹائی آباد سیکٹر ایف میں واقع شمیم مسجد کے قریب ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر موٹر سائیکل پرسوار دو نامعلوم ملزمان نے مزاحمت پر فائرنگ کر کے 20 سالہ لڑکی کو زخمی کردیا اور فرار ہوگئے۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر زخمی لڑکی کو طبی امداد کے لئے جناح اسپتال منتقل کیا ۔

  • ناظم جوکھیو قتل کیس، ضمانت منسوخ ہونے پر ملزمان احاطہ عدالت سے فرار

    ناظم جوکھیو قتل کیس، ضمانت منسوخ ہونے پر ملزمان احاطہ عدالت سے فرار

    ناظم جوکھیوقتل کیس کے ملزمان عبوری ضمانت منسوخ ہونے پر عدالت سے فرار ہوگئے، ملزمان میں سلیم سالار، دودو خان، محمد سومار، محمد اسحاق اور محمدخان جوکھیو شامل ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کی ڈسٹرکٹ کورٹ ملیر میں ناظم جوکھیوقتل کیس کے ملزمان کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی ، جس میں عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

    عدالت نے ناظم جوکھیو قتل کیس کے ملزمان کی عبوری ضمانت منسوخ کردی ، جس کے بعد ملزمان احاطہ عدالت فرار ہو گئے، فرار ہونے والے ملزمان میں سلیم سالار، محمد سومار، محمد اسحاق، دودو خان اور محمد خان جوکھیو شامل ہیں۔

    یاد رہے ناظم جوکھیو کی بیوہ بااثر ملزمان کے سامنے ڈٹ گئیں اور کسی بھی قسم کی مفاہمت کے امکان کو مسترد کردیا تھا۔

    یوہ ناظم جوکھیو نے انکشاف کیا کہ ایم این اے جام عبدالکریم ہم سے ڈیل کرنا چاہتا ہے، وہ اپنے حامیوں کو بھیج کر ہم پر دباؤ ڈال رہا ہے، آپ لوگ ہمارے بڑوں کو بلا کر ڈیل کی باتیں کرتے ہو مگر میں واضح کردوں کہ ہم ناظم جوکھیو کی لاش کا سودانہیں کریں گے۔

    اس سے قبل عدالت نے ناظم جوکھیو قتل کیس میں پولیس کے عبوری چالان پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پولیس چالان منظور کرلیا تھا۔

    وکیل مدعی مظہر جونیجو نے کہا کہ پولیس چالان میں سقم ہے، تفتیشی افسر نے ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، عبوری چالان میں ضمانت پر رہا5 ملزمان کے نام کا اندراج نہیں کیا گیا۔

    مدعی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ضمانت پر رہا ملزمان کو مکمل فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے، ملزم زاہد کو بے گناہ قرار دینا تفتیشی افسر کی بدنیتی ظاہر کرتی ہے۔

  • کیا عمارت گرانے کے فنڈز بھی نہیں؟ سندھ ہائیکورٹ کا ایس بی سی اے پر اظہار برہمی

    کیا عمارت گرانے کے فنڈز بھی نہیں؟ سندھ ہائیکورٹ کا ایس بی سی اے پر اظہار برہمی

    سندھ ہائی کورٹ نے ایس بی سی اے کو رنچھوڑ لائن کی خطرناک قرار دی گئی عمارت سے متعلق ٹیکنیکل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    سندھ ہائی کورٹ میں رنچھوڑ لائن کی خطرناک قرار دی گئی عمارت گرانے کا معاملہ عمارت کے مالک زین العابدین و دیگر کی درخواست پر زیر سماعت آیا، جس میں عدالت نے ایس بی سی اے کو ٹیکنیکل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے سماعت کے دوران کہا کہ رنچھوڑ لائن پورا تباہ ہوچکا، کیا ایس بی سی اے کے پاس عمارت گرانےھ کے لیے بھی فنڈز نہیں ہیں؟ اب اس کام کےلیے بھی کسی این جی او کی مدد لیں گے؟

    اس دوران مالکان نے عدالت کو بتایا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے 2009 میں عمارت کو خطرناک قرار دیا تھا اور اب تک وہاں مختلف افراد رہائش پذیر ہیں لیکن ایس بی سی اے کارروائی نہیں کررہی۔

    کورٹ ذرائع کے مطابق مالکان نے عدالت میں خواہش ظاہر کی کہ وہ چاہتے ہیں کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی خطرناک قرار دی گئی عمارت کو خود گرائے کیوں کہ اگر عمارت کود گرگئی اور جانی نقصان ہوا تو ملبہ ہم پر ڈالا جائے گا لہذا عدالت کی جانب سے ایس بی سی اے کو عمارت کو مسمار کرنے کی ہدایت دی جائے۔

  • باغی ٹی وی کی دسویں سالگرہ پر صوبائی دفتر کراچی میں جشن کا سماں

    باغی ٹی وی کی دسویں سالگرہ پر صوبائی دفتر کراچی میں جشن کا سماں

    کراچی : باغی ٹی وی کی دسویں سالگرہ پر صوبائی دفتر کراچی میں جشن کا سماں ، سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق باغی ٹی وی کی دسویں سالگرہ کے موقع پر صوبائی دفتر کراچی میں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا ۔ جس میں صوبائی دفتر کراچی کے بیورو چیف ملک ضمیر نے کیک کاٹا ۔ اس موقع پر باغی ٹی وی کے اہم ذمہ داران نے شرکت کی جن میں باغی ٹی وی کراچی کی نیوز ایڈیٹرمہر رضا ، نیوز اینکر شبانہ شیخ ، نیوز اینکر مس اریبہ رمل ، ہر دلعزیز ہوسٹ اسد احمد خان ، کیمرہ مین راجا محمد طلحہ اس کے علاوہ اے آر جی کے وائس پریزیڈنٹ فیضان رضا ، باغی ٹی وی کی ٹیم کے وقار ، کندن لال ، محمد وارث اور دیگر نے شرکت کی ۔

    باغی ٹی وی کے دس سال مکمل ہونے پر باغی ٹی وی ٹیم کراچی نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان صاحب کی لمبی زندگی کے لئے دعا بھی کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔ مبشر لقمان صاحب نے دس سال پہلے اس سفر کا آغاز اپنی انتھک محنت سے کیا پچھلے سال وہ کراچی آئے اور کراچی میں باغی چینل کے صوبائی دفتر کی بنیاد رکھی جس کے بیورو چیف ملک ضمیر صاحب ہیں ۔

    باغی نیوز کے مطابق بیورو چیف ملک ضمیر صاحب ٹیم کے ساتھ گھل مل گئے سالگرہ کا کیک کاٹا اس کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کے ساتھ خوشیوں میں شامل ہو گئے ۔

    اس موقع پر ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان کا بھی شکریہ ادا کیا اور باغی ٹی وی کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کے لئے دعائیں مانگی گئیں ۔باغی ٹی وی کے دس سال مکمل ہونے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں کی مبارکباد کا سلسلہ بھی جاری ہے ، مختلف وکلاء برادری نے بھی مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔

    باغی ٹی وی کی دسویں سالگرہ، ٹویٹر پر #10YearsOfBaaghiTv ٹاپ ٹرینڈ

    باغی ٹی وی کی کامیابی کے دس برسوں کا سہرا مبشر لقمان کے سر۔خراج تحسین

    باغی ٹی وی”کی آج 10 ویں سالگرہ:پاکستان سمیت دنیابھرمیں‌ لوگوں کے دل کی دھڑکن بن گیا

    کراچی دھماکہ،باغی ٹی وی بیورو آفس کے شیشے ٹوٹ گئے

    باغی ٹی وی کی دسویں سالگرہ، دفتر میں کاٹا گیا کیک،مبشر لقمان کو دی مبارکباد

  • برطانوی شہزادے کیخلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ خارج کرنیکی درخواست مسترد

    برطانوی شہزادے کیخلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ خارج کرنیکی درخواست مسترد

    نیویارک : برطانوی شہزادے کیخلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ خارج کرنیکی درخواست مسترد ،اطلاعات کے مطابق امریکی عدالت نے برطانوی پرنس اینڈریو کیخلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کو ہر لحاظ سے مسترد کردیا۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پرنس اینڈریو کو 2001 میں ایک خاتون ورجینیا جیفری کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات پر امریکا میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    رپورٹس کے مطابق پرنس اینڈریو کے وکلاء نے 2009 میں جیفری ایپسٹین کے ساتھ دستخط شدہ ایک معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو خارج کر دینا چاہیے لیکن نیویارک کے جج لیوس کپلن نے فیصلہ سنایا کہ کیس کی سماعت ہو سکتی ہے۔

    خیال رہے کہ ورجینیا جیفری نے پرنس اینڈریوپر جنسی زیادتی کاالزام لگایاتھا جبکہ کیس کےاہم ملزم ایپسٹن نے 2019 میں جیل میں خودکشی کر لی تھی۔

    دوسری جانب پرنس اینڈریو نے ان الزامات کو ہمیشہ مسترد کیا تاہم امریکی عدالت کے فیصلے کے بعد خیال کیا جارہا ہے کہ 61 سالہ ڈیوک آف یارک کے خلاف کیس کی سماعت اب اس سال کے آخر میں ہو سکتی ہے۔

    امریکی عدالت کے فیصلے پر ورجینیا جیفری نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ پرنس اینڈریو کی اس مقدمے کو خارج کرنے کی کوشش کو عدالت نے مسترد کر دیا ہے اور اب ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔