Baaghi TV

Author: +9251

  • ڈاکٹرعامرلیاقت کے خلاف 295 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر

    ڈاکٹرعامرلیاقت کے خلاف 295 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر

    کراچی : ڈاکٹرعامرلیاقت کے خلاف 295 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر،اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی ایم این اے اور ٹی وی اینکرڈاکٹرعامرلیاقت ان دنوں کچھ ایسی حرکتیں کررہے ہیں کہ جن کےبعد ہرذی شعور کو ان کے تحت الشعور کی تندرستی پرشک ہونے لگا ہے

    اس حوالے سے ویسے تو بہت سے ایسے حقائق ہیں مگرآج ایک ایسی حقیقت سامنے آئی ہے جس کودیکھنے کے بعد یہ دعویٰ اور بھی مضبوط ہوجاتا ہے،یہ درخواست علما کی طرف سے تھانہ سچل ایسٹ کراچی میں جمع کروائی گئی ہے

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسا واقعہ جو کہ آج سے 27 سال پہلے ہوا اورجس کے آج کے حالات سے کوئی تانے بانےنہیں پھرڈاکٹرعامرلیاقت جیسا شخص ان واقعات کو کیوں منسوب کرکے حالات خراب کرنا چاہتا ہے

    یہ درخواست جعفریہ الائنس کی طرف سے ایس ایچ او تھانہ سچل کو دی گئی ہے، اس میں کہا گیا کہ ڈاکٹرعامرلیاقت کی گفتگو اورحرکات سے مذہبی برداشت کو نقصان پہنچ رہا ہے اوراس شخص کی غلط بیانی سے معاملات خراب ہورہے ہیں،

    پاکستان جعفریہ الائنس کی طرف سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کی دفعہ 298 اے اور 295 اے کے تحت جو شخص کسی دوسرے مسلک اور فرقے کی دل آزاری اور جماعتوں میں تفریق پیدا کرکے حالات خراب کرتا ہے اس کے خلاف مقدمات درج ہونے چاہیں اور ڈاکٹرعامرلیاقت نے مدینہ مسجد کے واقعہ کو بنیاد بنا کریہ جرائم کیے ہیں ،اس لیے اس شخص پرمقدمہ درج کیا جائے

    یاد رہےکہ دو دن قبل بھی ڈاکٹرعامرلیاقت نے ایسی ہی کچھ حرکات کی تھیں جن کی وجہ سے وہ بہت زیادہ متنازعہ بن چکے ہیں

    یاد رہے کہ دو دن قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی ڈاکٹرعامر لیاقت کی ایک ویڈیو گردش کر رہیرتھی جو اب بھی موجود ہے جس میں وہ وزیراعظم عمران خا ن اور ریاست مدینہ پر بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں-

    ویڈیو میں ڈاکٹر عامر لیاقت کہتے ہیں کہ میں الفاظ کا بہت نپا تلا آدمی ہوں میرے لئے یہ لفظ بہت اہم ہے مدینہ،انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں مسجد مدینہ گرا رہے ہیں-

    ویڈیو میں کسی نے سوال کیا کہ حکومت تو آپ کی ہے آپ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟ جس پر رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ جو مسجدیں گراتی ہے وہ میری حکومت نہیں ہے –

    ڈاکٹر عامر لیاقت سے سوال کیا گیا کہ اس حوالے خان صاحب نے ابھی تک تو کوئی ایکشن نہیں لیا خان صاحب کو شرم نہیں آئی کہ وہ مسجد کے‌خوالے سے کوئی بات کریں؟ جس پر عامر لیاقت نے مزاحیہ انداز میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب کو شرم ہوتی تو آتی ناں-

    ویڈیو وائرل ہونے پر صارفین کی جانب سے عامر لیاقت پر تنقید کی جا رہی ہے جبکہ صارفین کا کہنا ہے کہ قبضے کی زمین پر مسجد بنائی گئی ہے اس کا جھگڑا ہے ناجائز زمین پر مسجد بنانا کہاں کا اسلام ہے-

    دوسری جانب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عامر لیاقت نے صفائی پیش کی کہا کہ میرا خان صاحب سے رشتہ ایسا ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا جو بھی میری بات آپ کو بُری لگی ہے یقیناً وہ بُری لگنی بھی چاہیئے لیکن بات کا تناظر چھپانا سب سے بُری بات ہے میں نے یہ بھی کہا تھا کہ شرم آتی ہے تو آتا ہے اور اقوام متحدہ میں آتا ہے پھر آ کر وہاں خطاب کرتا ہے رسول کی بات کرتا ہے میری اس ویڈیو کودرمیان میں سے کاٹ کر وائرل ویڈیو میں اگلا حصہ نہیں دکھایا گیا لیکن اس کے باوجود میں سب پی ٹی آئی رہنماؤں سے معذرت خواہ ہوں-

    عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ میں خان صاحب سے بھی معافی مانگتا ہوں اور ان کے پاس جا کر بھی معافی مانگوں گا ان کا عامر ایسا نہیں ہے ان کا عامر انہیں بہت چاہتا ہے دل سے محبت کرتا ہے-

    عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم جناب عمران خان جو میرے پارٹی چیئرمین لیڈر اور رہبر کے ساتھ ساتھ میرے دوست بھی ہیں انہیں یقیناً میرے الفاظ سے ٹھیس پہنچی ہے میں ان سے دل کی گہرائیوں سے معافی مانگتا ہوں اور پی ٹی آئی کے تمام ساتھیوں سے بھی ان کے کارکن بھائی کی حیثیت سے معافی کا طلب گار ہوں-

    اس سے قبل اپنے ٹوئٹ میں عامر لیاقت نے کہا کہ رات کے اس پہر ناسازی طبع کے باوجود اپنے حلقے کے اہل دیو بند کے ساتھ سینہ سپر کھڑا ہوں، سب کا تعلق مولانا فضل الرحمن صاحب سے ہے لیکن میرا تعلق اس رحمن سے ہے جس نے مدینے والے کو بھی تخلیق کیا ، الرحمن، علم القران، خلق الانسان، علمہ البیان، ہم سب ساتھ ہیں مدینہ مسجد نہیں گرنے دیں گے-

     

    https://twitter.com/Silent_deserts/status/1478010882668048384?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1478011415201996805%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es2_&ref_url=https%3A%2F%2Fbaaghitv.com%2Famir-liaqat-apney-e-leader-pr-baras-parey%2F

    رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ شکر گذار ہوں مولانا فضل الرحمن صاحب کے کارکنان اورعلمائے دیو بند کا جنہوں نے میری بات توجہ سے سنی اور ہم سب نے این ے 245 کی فلاح اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے جناب سومرو بھائی اور جناب سینیٹرعبدالغفور حیدری صاحب کی موجودگی میں مشترکہ پریس کانفرنس کا فیصلہ کیا ہے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل ماضی میں عامر لیاقت حسین کراچی کے مسائل پر وزیراعظم عمران خان سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں جب کہ انہوں نے کراچی کے مسائل پر مستعفی ہونے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن وزیراعظم سے ملاقات کے بعد انہوں نے استعفے کا فیصلہ واپس لیا تھا-

    جبکہ گزشتہ سال اکتوبر میں کراچی سے پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے عامر لیاقت حسین نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیاعامر لیاقت حسین نے ٹوئٹ کرتے ہوئے مستعفی ہونے کی اطلاع دی تھی تاہم انہوں نےاستعفیٰ دینے کی وجہ نہیں بتائی تھی عامر لیاقت حسین نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘قومی اسمبلی سے استعفیٰ ارسال کردیا ہے، اللہ تعالی عمران خان اور پی ٹی آئی کا حامی و نا صر ہو ۔ اللہ حافظ-

     

    ڈاکٹر عامر لیاقت آئے سن اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں کی شہ سرخیوں میں رہتے ہیں جبکہ اپنے بیانات کی وجہ سے انہیں صارفین کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا رہتا ہے گزشتہ دنوں بھی انہیں اپنی ’تشویش ناک‘ صحت سے متعلق ٹوئٹ کرنے کے بعد لوگوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    عامر لیاقت حسین نے 30 نومبر کی شب مختصر ٹوئٹ کی تھی کہ ’انہیں تشویش ناک حالت میں کراچی کے علاقے ڈیفینس میں موجود نجی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے‘ان کے اکاؤنٹ پر کی گئی ٹوئٹ سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی صحت سے متعلق ٹوئٹ کسی دوسرے شخص نے لکھی۔

     

     

    جہاں لوگوں نے ان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا اور لوگوں نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کیں، وہیں متعدد افراد نے ان کی ٹوئٹ کو ڈراما قرار دیتے ہوئے ان کے لیے نامناسب جملوں کا استعمال بھی کیا تھا درجنوں افراد نے ان کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ جب وہ تشویش ناک حالت میں ہیں تو ان کے اکاؤنٹ پر ری ٹوئٹ کس نے کیا؟ ساتھ ہی کچھ افراد نے انہیں اداکار قرار دیا تھا جبکہ کچھ صارفین نے تو انہیں چھوٹا نواز شریف اور چھوٹا الطاف حسین بھی کہا تھا-

  • پاکستان بارکونسل کا کل 6 جنوری کو ہڑتال کا اعلان

    پاکستان بارکونسل کا کل 6 جنوری کو ہڑتال کا اعلان

    :پاکستان بارکونسل نے لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کی تقرری کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن اجلاس کے دن ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان کا کہنا تھاکہ 6 جنوری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس والے ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کیا جائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نے کہا ہے کہ 6 جنوری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس والے ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس عائشہ ملک کو لانے کا کیا مقصد ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ سپریم کورٹ میں ایک کے بجائے 3 خواتین ججز لائیں لیکن ان کی سینیارٹی کے مطابق ان کی تعیناتی کی جائے ۔وائس چیئرمین نے مزید کہا ہے کہ چیف جسٹس کہہ چکے ہیں کہ ججز تقرری کا معاملہ نئے چیف جسٹس پرچھوڑنا چاہیے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کاایک اجلاس کیا گیا جس میں لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کا معاملہ چار چار سے ٹائی ہوگیا ۔اُس وقت بھی جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کے معاملے پر وکلا کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق کہ چیف جسٹس پاکستان سپریم کورٹ میں جج کی تقرری کے لیے ہائی کورٹ کے جج کے نام کی سفارش کی جاتی ہے جس کی منظوری جوڈیشل کمیشن کی جانب سے دی جاتی ہے جبکہ جسٹس عائشہ ملک کے نام کی بھی چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے سفارش کی گئی تھی تاہم تکنیکی طور پر جسٹس عائشہ کا نام سپریم کورٹ میں بطور جج تقرری کے لیے مسترد کردیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ مزید رپورٹس کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال، اٹارنی جنرل پاکستان اور وزیر قانون نے جسٹس عائشہ ملک کے نام کی حمایت کی تھی جب کہ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس مقبول باقر، ،سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) دوست محمد اور پاکستان بار کونسل کے اراکین نے جسٹس عائشہ ملک کی عدالتِ عظمیٰ میں تقرری کے مخالف ووٹ ڈالا تھا ۔

  • لارڈ نذیر احمد: دارالامرا کے سابق رکن بچوں پر جنسی حملے کے مجرم قرار

    لارڈ نذیر احمد: دارالامرا کے سابق رکن بچوں پر جنسی حملے کے مجرم قرار

    برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے دارالامرا کے سابق رکن لارڈ نذیر احمد کو ستّر کی دہائی میں دو بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مرتکب قراردیئے گئے اوریوں آج ایک لمبی بحث بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئی

    تفصیلات کے مطابق لارڈ احمد آف روتھرہیم کو ایک لڑکے کے خلاف سنگین جنسی حملے اور ایک کمسن لڑکی کے ریپ کی کوشش کرنے کا مجرم پایا گیا۔اس حوالے سے شیفیلڈ کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ سلسلہ وار جنسی حملے روتھرہیم میں تب ہوئے جب وہ ٹین ایجر تھے۔

    برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کے سابق رکن لارڈ نذیر کو 1970 کی دہائی میں نوجوان لڑکے پر سنگین جنسی حملے اور لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کرنے کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایک خاتون نے شیفیلڈ کراؤن کورٹ کو بتایا کہ نذیر احمد، جو پہلے لارڈ احمد آف رودرہم تھے، نے اس پر اس وقت حملہ کیا جب وہ 16 یا 17 سال کے تھے لیکن وہ ان سے بہت کم عمر تھیں۔

    لارڈ نذیر نے اسی عرصے کے دوران ایک لڑکے پر بھی جنسی حملہ کیا اور انہیں عصمت دری کی کوشش کے دو الزامات کا مجرم پایا گیا۔

     

     

    2016 میں خاتون کے پولیس کے پاس جانے کے بعد اس نے متاثرہ مرد سے فون پر بات کی۔جیوری نے ان کی گفتگو کی ایک ریکارڈنگ سنی، جو اس شخص کے ای میل کرنے کے بعد ہوئی جس میں اس نے کہا کہ اس کے پاس ‘اس بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے کے خلاف ثبوت’ ہیں۔

    نذیر احمد پر ان کے دو بڑے بھائیوں 71 سالہ محمد فاروق اور 65 سالہ محمد طارق کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی تھی، لیکن دونوں کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے اَن فٹ سمجھا گیا۔

    خیال رہے کہ گذشتہ سال مارچ میں شواہد کے افشا میں مسائل کی وجہ سے پہلے مقدمے کی سماعت روک دی گئی تھی۔
    نذیر احمد نے نومبر 2020 میں ایک کنڈکٹ کمیٹی کی رپورٹ کے مندرجات کو پڑھنے کے بعد ہاؤس آف لارڈز سے استعفیٰ دے دیا تھا جس میں پتا چلا کہ انہوں نے اُن سے مدد مانگنے والی ایک مجبور عورت کے ساتھ جنسی استحصال کیا۔

  • پیپلزپارٹی سندھ کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے :پی ٹی آئی رہنما علی زیدی

    کراچی : وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، عام انتخابات سے پہلےپی پی کا سندھ سےبوریہ بستر گول کردیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر علی زیدی کا سندھ کے سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے ، علی زیدی سے لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما اللہ بخش انڑ کی ملاقات کی۔

    Unmute
    ملاقات میں دونوں رہنماؤں میں سندھ کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی اور سندھ میں پی ٹی آئی کی تنظیم سازی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر علی زیدی نے کہا کہ سندھ سے ڈاکو راج ختم کرنے کیلئےپی ٹی آئی متحرک ہو چکی، اب وقت آگیا ، سندھ میں پی پی کے خلاف عوام کو اکھٹا ہونا ہوگا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، عام انتخابات سے پہلےپی پی کاسندھ سےبوریہ بستر گول کردیں گے ، تحریک انصاف کو سندھ میں مضبوط بنانے جارہے ہیں۔

  • بھارتی دفاعی حکام نے چیف آف ڈیفنس جنرل بپن راوت کی موت کوپائلٹ کے کھاتے میں ڈال دیا

    بھارتی دفاعی حکام نے چیف آف ڈیفنس جنرل بپن راوت کی موت کوپائلٹ کے کھاتے میں ڈال دیا

    بھارتی دفاعی حکام چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کی ہلاکت کے معاملے کو فوج کی باہمی لڑائے سے ہٹاکراسے پائلٹ کی غلطی سے منسوب کرنے کی بھرپور کوشش کررہےہیں ،شاید یہ وجہ ہے کہ بھارتی دفاع حکام نے ایک تازہ کہانی بیان کرکے سارا ملبہ پائلٹ پرڈال دیا ہے ، ذرائع نے بدھ کی سہ پہر کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے حادثے کی ممکنہ وجہ پائلٹ کی غلطی تھی جس کی وجہ سے گزشتہ ماہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کی موت واقع ہوئی۔

    ذرائع نے بتایا کہ ایم آئی 17 وی 5 ہیلی کاپٹر جس میں جنرل راوت، ان کی اہلیہ مدھولیکا، اور 12 دیگر مسلح افواج کے اہلکار تھے – تمل ناڈو کے کوئمبٹور کے سلور ایئر فورس بیس سے ویلنگٹن کے ڈیفنس اسٹاف سروسز کالجز تک – ایک CFIT کے بعد گر کر تباہ ہو گیا، یا کنٹرولڈ فلائٹ میں داخل ہوا۔ علاقہ، واقعہ۔

    CFIT اس وقت ہوتا ہے جب ہوا کے قابل ہوائی جہاز، پائلٹ کے مکمل کنٹرول میں ہوتے ہوئے، نادانستہ طور پر علاقے، پانی یا کسی رکاوٹ میں اڑ جاتا ہے۔

    IATA (انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن) کے مطابق، اس اصطلاح سے مراد وہ حادثات ہیں جن میں دوران پرواز زمین، پانی، یا کسی اور رکاوٹ کے ساتھ تصادم کا کنٹرول کھو جانے کے اشارے کے بغیر ہوتا ہے۔

    ریاستہائے متحدہ کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ CFIT "… خطوں (زمین، پہاڑ، پانی کے جسم، یا رکاوٹ) کے ساتھ ایک غیر ارادی تصادم ہے جبکہ ایک ہوائی جہاز مثبت کنٹرول میں ہے۔”

    اس طرح کے واقعات میں اہم امتیاز یہ ہے کہ ہوائی جہاز پرواز کے عملے کے کنٹرول میں ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ یہ حادثہ ابر آلود موسم میں ہوا اور اس بات پر زور دیا کہ طیارہ – جس کو کئی سابق فوجی افسران نے NDTV کو "انتہائی محفوظ” قرار دیا ہے – حادثے کے وقت خراب نہیں تھا۔

    ایک سہ فریقی انکوائری – جس کی قیادت ملک کے سب سے بڑے ہیلی کاپٹر پائلٹ ایئر مارشل مانویندر سنگھ کررہے ہیں – کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 8 دسمبر کو تمل ناڈو کی نیلگیری پہاڑیوں میں ہونے والے حادثے کی تحقیقات کرے۔

  • نیشنل بینک کو2ہزارارب کا نقصان ذمہ دارکون؟سوالات شروع ہوگئے

    نیشنل بینک کو2ہزارارب کا نقصان ذمہ دارکون؟سوالات شروع ہوگئے

    لاہور:نیشنل بینک کو2012 سے 2020 تک 2ہزارارب کا نقصان ذمہ دارکون؟سوالات شروع ہوگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک سالہ دور حکومت اورپھرن لیگ کے 5 سالہ دور حکومت اورایسے ہی پی ٹی آئی کے شروع کا ڈیڑھ سال پاکستان کے قومی بینک جسے نیشنل بینک کہا جاتا ہے ، کو 2ہزارارب کا نقصان پہنچا ہے

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) میں 2012 سے 2020 تک بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا پردہ فاش کیا ہے، جس سے قومی خزانے کو 2000 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔

    S. No Subject
    1. Irregular appointment, promotions, and deputation of SEVP/Group Chief (Logistic) – Rs.813.18 million
    2. Irregular appointment of SEVP/ Head (International Banking) – Rs. 33.980 million
    3. Irregular  appointment  of  Chief  Technology  Officer/Group  Chief  -Rs.33.252 million
    4. Irregular appointment of SEVP/Group Chief/ Head (HR) – Rs.33.980 million
    5. Irregular appointment & promotion of SVP/Head of Compensation & Benefits – Rs.13.806 million
    6. Irregular appointment of EVP / Senior HR Business Partner – Rs. 14.195 million
    7. Irregular appointment of EVP / Senior HR Business Partner – Rs. 8.500 million
    8. Irregular appointment of SVP/ Chief Security Officer – Rs.6.00 million
    9. Irregular appointment of  SEVP/Group  Chief  (Chief  Risk  Officer)  – Rs.24.208 million
    10. Un-authorized payment of salary to SEVP without joining the Bank -Rs.24.208 million
    11. Irregular appointment of employees without advertisement – Rs.267.635 million
    12. Irregular appointment & promotion of SVP/ Corporate Head – Rs.36.190 million
    13. Irregular appointment of Vice President (VP) / Executive Logistic Support- Rs.20.349 million
    14. Illegal/defective appointment of President/CEO (NBP) – Rs. 307.17 million
    15. Irregular appointment as Chairman, Board Specialized Committees – Rs. 3.278 million
    16. Irregular appointment of Chairman, Board of Directors
    17. Irregular appointment of Manager (E-Remittances) – Rs.14.502 million
    18. Irregular appointment of SVP/ Head of Organizational Effectiveness – Rs. 9.902 million
    19. Irregular appointment of EVP/ Divisional Head (International Business Strategy) – Rs. 16.380 million
    20. Irregular & unlawful appointment of SVP/Wing Head-Recruitment & Placement – Rs.17.728 million
    21. Irregular deployment of Senior Executive Vice President (SEVP) on deputation and payment of benefits – Rs.  million
    22. Irregular appointment of EVP/Divisional Head (Learning & Development)- Rs.7.200 million
    23. Irregular appointment of EVP/Head of HR Governance – Rs.9.500 million
    24. Irregular  appointment  of  employees  after  attaining  the  age  of superannuation – Rs.611.065 million
    25. Irregular appointment of VP/Research Associate for Chairman (BoD Secretariat) – Rs.4.200 million
    26. Irregular appointment, promotion & extension of contract beyond 60 years of EVP/Secretary Board – Rs.51.570 million
    27. Irregular payment in lieu of end service benefits – Rs. 29.396 million
    28. Irregular appointment of Vice President/HR Business Partner – Rs. 6.480 million
    29. Wasteful expenditure on employment of Special Assistance at Chairman Secretariat (BoD) on retainer ship basis – Rs. 4.500 million
    30. Irregular appointment of SVP/Wing Head (HR Operations) -Rs.18.92 million
    31. Irregular appointment of SVP/Head of Leadership Development – Rs.4.400 million
    32. Irregular appointment of Vice President /Wing Head (Engineering Wing) – Rs.6.300 million
    33. Irregular/unauthorized employment of staff at Chairman Secretariat (BoD) – Rs.18.840 million
    34. Irregular Appointment of Vice President/Wing Head (Corporate Investment Banking) – Rs.14.320 million
    35. Irregular appointment of HR Business Partners on favoritism basis – Rs.7.343 million
    36. Irregular appointment of  Vice  President  (VP)  –  Head of  Business Technology – Rs. 28.440 million
    37. Excess payment to  BoD members in violation of Finance Division directives – Rs. 6.556 million
    38. Irregular appointment of Vice President/Wing Head (AML-CFT) – Rs. 9.870 million
    39. Irregular appointment of Legal Advisory Associate through defective criteria – Rs. 1.750 million
    40. Irregular appointment of Executive Secretary on favoritism basis – Rs.1.050 million
    41. Irregular payment in lieu of un-availed privilege/annual leave – Rs.1.459 million
    42. Irregular appointment of executives/officers without the involvement of Head Hunters – Rs.72.462 million
    43. Loss due to defective club membership policy – Rs. 72.637 million
    44. Loss due to irrational dual club membership – Rs. 7.310 million
    45. Loss due to the inappropriate procedure adopted in hiring Consultancy Firms – Rs. 13.621 million
    46. Mis-procurement in awarding a contract for the hiring of Head hunters without tendering – Rs. 52.779 million
    47. Wasteful /irrational expenditure on hiring Head hunters – Rs. 103.086 million
    48. Undue favor by acquiring House Building Finance at the appointment – Rs. 287.028 million
    49. Irrational/defective buy-back policy of vehicles – Rs. 83.462 million
    50. Irregular payment to Head hunter/consultant in violation of consultancy agreement – Rs. 2.706 million
    51. Irregular promotion on defective/irrational policy
    52. Irregular promotion of 75 Officers/Executives in violation of Promotion Policy
    53. Non-verification of educational certificates and antecedents through Head hunters/ Consultants
    54. Loss due to delayed verification process initiated against fake degrees/certificates holders
    55. Unlawful retention of convicted officials in harassment case
    56. Overstay allowed to employees at foreign branches
    57. Delay in the verification of degrees and antecedents
    58. Non-production of auditable record
    59. Irregular disbursement of loan in Bangladesh branches – Rs. 25,842.86 million (USD 164.04 million)
    60. Loss on the penalty imposed by SBP/other Regulatory Bodies – Rs. 3,322.304 million
    61. Non-recovery of no-performing loans of NDFC (defunct) – Rs.3,592.901 million
    62. Loss on purchase of shares at higher rates – Rs. 2,331.546 million
    63. Non-transfer of ownership of PSO shares – Rs. 8,193.241 million
    64. Loss on sale of land at lesser rates – Rs.65.500 million
    65. Non-recovery from defaulters – Rs. 18,967.81 million (USD 120.400 million)
    66. Loss due to non-recovery of outstanding principal – Rs. 6,132.678 million
    67. Blockade of funds by investment in unquoted securities –Rs. 437.886 million
    68. Non-utilization/disposal of non-banking assets acquired in satisfaction of claims – Rs. 3,968.329 million
    69. Loss due to excess payment of interest on deposit accounts – Rs. 4.353 million
    70. Unrealized loss on forwarding foreign exchange contracts –Rs. 7,276.90 million
    71. Unrealized loss on put option – Rs. 306.339 million
    72. Loss on purchase of shares at higher rates –Rs. 2.414 million
    73. Loss due to non-recovery of outstanding interest – Rs. 11.973 million
    74. Non-recovery against Nostro Foreign Accounts – Rs. 4.794 million
    75. Loss due to poor performance of Groups/Department – Rs.70,087.67 million
    76. Wasteful expenditure on the investigation of Bangladesh Operations- Rs.10.00 million
    77. Violation of Accounting Standard IAS-8 (Change in Accounting Estimates and Errors) – Rs. 286.00 million
    78. Outstanding entries of Nostro Foreign Accounts – Rs. 8,097.709 million
    79. Non-recovery of outstanding advances -Rs. 52,882 million
    80. Irregular investment in companies by holding shares more than 30%
    81. Non- resolving of suspicious transaction alerts in violation of the Anti-Money Laundering (AML) Act
    82. Violation of SBP Regulations and Anti-Money Laundering (AML) Act
    83 Non-obtaining of audited financial statements/Wealth Statement of borrowers in violations of Prudential Regulations
    84. Weak Internal Control Systems in NBP, Bangladesh branches
    85. Loss due to cash shortage in Vault and ATM at Nowshera Road Branch – Rs. 12.516 million
    86. Embezzlement/misappropriation in  FE-25 loans, FIM, and Bill of Exchange– Rs. 2,787 million
    87. Loss due to non-deposit of the amount into Federal Treasury at KDA Civic Centre Branch, Karachi – Rs. 307.436 million
    88. Fraud/forgery in SSP Officer Account at Kandhkot Branch, Larkana – Rs. 215.705 million
    89. Embezzlement of   Government   funds (DPO Account-Gujrat)– Rs. 630.800 million
    90. Misappropriation/embezzlement in Government pension payment at main branch, Kotri, Hyderabad – Rs. 70.723 million
    91. Loss due to fraudulent activities in Khuzdar Cantt Branch– Rs. 19.219 million
    92. Loss due to fraud/embezzlement in Government Treasury at Pano Akil City Branch – Rs. 309.452 million
    93. Loss due to misappropriation of funds / internal fraud engaging at Khanaspur Ayubia & Khairagali Branches, Abbottabad – Rs. 472.539 million
    94. Loss due to embezzlement of funds at Qamrooti Branch, Mirpur (A.K) – Rs. 44.899 million
    95. Loss due to dacoity during transportation from Taftan to Dalbadin (Chest), Regional Office, Quetta– Rs. 53.00 million
    96. Loss on disbursement of bogus Agriculture Finance – Rs.20.385 million
    97. Misappropriation/embezzlement through accounts of demand finance gold – Rs. 70.723 million
    98. Loss due to fraud at Timber Market Branch, Multan–
    Rs. 31.307 million
    99. Loss due to unauthorized debit to GL Heads ATM Cash at Loralai Branch, Sibi – Rs. 67.240 million
    100. Loss due to fraud by Manager, Serhota Branch District, Kotli Mirpur (AJK)– Rs. 21.018 million
    101. Loss due to fictitious/flying general entries at Jhang branch – Rs. 28.131 million
    102. Misappropriation/shortage in cash at Jutial Cantt Branch, Gilgit– Rs. 17.105 million
    103. Loss due to replacement of original gold ornaments with fake ones– Rs. 13.587 million
    104. Fraudulent withdrawal through IBT from the account at Anarkali Branch, Lahore– Rs. 11.237 million
    105. Misappropriation/shortage in cash vault at Remount Depot Branch, Sargodha – Rs. 13.155 million
    106. Loss due to cash shortage at Main Branch, Multan – Rs. 14.430 million
    107. Loss due to negligence of bank staff at Nazimabad Branch, Karachi – Rs. 32.00 million
    108. Loss due to theft of gold ornaments at Thandkoi Branch, Mardan – Rs. 51.00 million
    109. Loss due to fraudulent pension payment at Dera Allah Yar Branch, Sibi –Rs. 8.201 million
    110. Embezzlement/misappropriation at Model Branch Clifton, Karachi – Rs.5.900 million
    111. Loss due to fraudulent payment from an account at Durand Road Branch, Lahore – Rs. 8.700 million
    112. Embezzlement through payment of tampered/altered payment order –Rs. 7.051 million
    113. Loss due to embezzlement by staff members at AIB Gulistan-e-Johar Branch, Karachi – Rs. 3.378 million
    114. Loss due to fraud through fake property loan against Saibaan Scheme – Rs. 3.458 million
    115. Loss due to misappropriation/embezzlement in NBP Advance Salary Accounts at Abbaspur Branch, Muzaffarabad – Rs 2.487 million
    116. Loss due to penalty imposed by SBP on violation of Foreign Exchange Regulations Act, 1947 – Rs. 1,200.718 million
    117. Irregular disbursement of loan to M/s Hascol Petroleum Limited -Rs. 14,150 million
    Total: Rs. 235,823.9 million

     

  • پُرامن خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات کے لیےدوسرے مرحلے کیلئے فوج کی تعیناتی کا فیصلہ

    پُرامن خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات کے لیےدوسرے مرحلے کیلئے فوج کی تعیناتی کا فیصلہ

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات میں ری پولنگ اور دوسرے مرحلے کے لئے پولنگ سٹیشنوں پر پولیس کے ساتھ پاک فوج کو تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں پولنگ سٹیشنوں پر بے ضابطگیوں کے کیسوں کی سماعت کے موقع پر کیا فیصلہ کیا گیا، جس میں مختلف شواہد اورویڈیو کی بنیاد پر واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت انتخابات کے دروان امن و امان قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔

    اس تناظر میں تمام حالات اور واقعات کو سامنے رکھنے ہوئے خیبرپختونخوا میں ری پولنگ اور دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں پولیس کے ساتھ ساتھ پاک فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نہ صرف پُرامن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے بلکہ ووٹربلا خوف و خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں ۔

    اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے وزارت دفاع کو مراسلہ بھی تحریر کردیا ہے ، مزید الیکشن کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ان واقعات میں ملوث اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کو بھی یقینی بنایا جائے گا ۔

  • صحافتی برادری  کے خلاف سازشیں :مریم نواز اور پرویز رشید کی مبینہ آڈیو لیک، صحافتی تنظیموں کی شدید مذمت

    صحافتی برادری کے خلاف سازشیں :مریم نواز اور پرویز رشید کی مبینہ آڈیو لیک، صحافتی تنظیموں کی شدید مذمت

    مریم نواز اور پرویز رشید کی مبینہ آڈیو لیک، صحافتی تنظیموں کی شدید مذمت
    لاہور:مریم نواز اور پرویز رشید کی مبینہ آڈیو لیک، صحافتی تنظیموں کی شدید مذمت ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز اور سابق وزیراطلاعات پرویز رشید کی صحافیوں کے بارے میں مبینہ غیر اخلاقی گفتگو پر ایسوسی ایشن آف الیکٹرونک میڈیا اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (ایمنڈ)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) اور کراچی پریس کلب کے صدر نے شدید مذمت کی ہے۔

    ایمنڈ نے کہا کہ مذموم مقاصد کیلئے کسی بھی سیاسی جماعت یا ادارے کی جانب سے ورکنگ جرنلسٹس کی توہین کو مسترد کرتے ہیں،کسی شخص یا ادارے کو میڈیا ہاؤسز کو ڈکٹیٹ کرنے کا حق نہیں۔

    مریم نواز اور پرویز رشید کی مبینہ آڈیو لیک کے معاملہ پر ’رپورٹ کارڈ‘ میں گفتگو

    سی پی این ای نے کہا کہ مبینہ آڈیو لیک میں سیاستدانوں کی صحافیوں کے خلاف غیر اخلاقی گفتگو نے میڈیا کنٹرول کرنے کی پوشیدہ آمرانہ سوچ کا پردہ چاک کر دیا۔

    پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ پرویز رشید نے اپنی قیادت کو خوش کرنے کیلئے صحافیوں کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کی۔

    کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور سیکرٹری جنرل رضوان بھٹی نے بھی مذمت کی۔

    صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں نے مریم نواز اور پرویز رشید سے معذرت کرنے کا بھی مطالبہ کردیا۔

    خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر مریم نواز اور پرویز رشید کی مبینہ آڈیو گردش کررہی ہے جس میں دونوں جیو نیوز کے پروگرام ’رپورٹ کارڈ‘ کے تجزیہ کاروں پر تنقید کر رہے ہیں اور پرويز رشید کی جانب سے نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے گئے تھے۔

  • کراچی:یونیورسٹی میں لڑکے لڑکیوں کو ہراساں کرنے والا نیٹ ورک پکڑا گیا:اہم انکشافات کی توقع

    کراچی:یونیورسٹی میں لڑکے لڑکیوں کو ہراساں کرنے والا نیٹ ورک پکڑا گیا:اہم انکشافات کی توقع ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے معاشی حب شہرکراچی کی کراچی یونیورسٹی میں لڑکے لڑکیوں کو ہراساں کرنے والا نیٹ ورک پکڑا گیا

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عمران ریاض کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے رکشے ڈرائیور کو ساتھی سمیت گرفتار کرلیا ہے۔

    عمران ریاض کا کہنا ہے کہ رکشہ ڈرائیور یونیورسٹی کے پروفیسر کا ڈرائیور ہے۔

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عمران ریاض کا کہنا تھا کہ نیٹ ورک مختلف یونیورسٹی میں موجود جوڑوں کی ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتا تھا،

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عمران ریاض نے انکشاف کیا کہ گرفتار ملزمان نے 7مختلف جوڑوں کو بلیک میل کر کے بھتہ طلب کرلیا

    انہوں نے بتایا کہ نیٹ ورک مختلف یونیورسٹی میں موجود جوڑوں کی ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتا تھا۔ گرفتار ملزمان نے 7مختلف جوڑوں کو بلیک میل کر کے بھتہ طلب کرلیا ہے۔

    ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان لڑکیوں کو اکیلے ملنے پر بھی مجبور کرتے تھے۔ایڈیشنل ڈائریکٹر عمران ریاض نے مزید کہا کہ ایف آئی اے موبائل فونز سے مزید ڈیٹا ریکور کررہے ہیں۔

  • معزز عدالت نے قاتل ظاہرجعفرکے سارے ڈرامے مسترد کردیئے:انصاف کا تقاضا بھی یہی تھا:مبشرلقمان

    معزز عدالت نے قاتل ظاہرجعفرکے سارے ڈرامے مسترد کردیئے:انصاف کا تقاضا بھی یہی تھا:مبشرلقمان

    لاہور:معزز عدالت نے قاتل ظاہرجعفرکے سارے ڈرامے مسترد کردیئے:انصاف کا تقاضا بھی یہی تھا:مبشرلقمان نے اللہ کا شکرادا کرتے ہوئےکہا ہے کہ عدالت نے قاتل ظاہرجعفر کی بچ بچاو کی ساری خودساختہ کہانیاں مسترد کرکے قاتل ظاہرجعفر کی درخواست خارج کردی ہے

    اطلاعات کےمطابق سینئر صحافی تجزیہ نگارمبشرلقمان جو کہ مقتولہ نورمقدم پر ہونے والے ظلم کے خلاف پہلے دن سے ہی آوازاٹھا رہے ہیں اورقاتل کوپھانسی کے پھندے پرلٹکتے دیکھنا چاہتےہیں ،آج ان کی جدوجہد کو اس وقت حوصلہ ملا جب عدالت نے قاتل ظاہر جعفر کی تمام تاویلیں ، دلیلیں اور ڈرامے مسترد کرکے سزا دینے کے لیے راہ ہموار کردی ہے

     

     

    اس حوالے سے انہوں‌ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پرپیغام دیتے ہوئے اور خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ آج اس وقت انصاف کو انصاف ملا جب عدالت نے ظالم قاتل ظاہرجعفر کی ساری کہانیاں مسترد کردی ہیں‌

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ معزز عدالت نے نورمقدم قتل کیس میں ظاہر جعفرک مجرم قراردے کردرخواست خارج کردی ہے اب اس کے بعد امید کی جاسکتی ہے کہ بہت جلد ظاہر جعفر اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے ،