Baaghi TV

Author: +9251

  • فارن فنڈنگ پی ٹی آئی پکڑی گئی :مریم نوازکے بیان پروفاقی وزرا نےحقیقت بتادی

    فارن فنڈنگ پی ٹی آئی پکڑی گئی :مریم نوازکے بیان پروفاقی وزرا نےحقیقت بتادی

    لاہور:فارن فنڈنگ پی ٹی آئی پکڑی گئی :مریم نواز کے حکومت پرتابڑتوڑحملے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سکروٹنی رپورٹ جاری ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پے درپے انکشافات، لیکس اور ثبوتوں کے انبار عمران سمیت پوری پی ٹی آئی کو فارغ کرنے کے لیے کافی ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ دوسروں پر چور چور کے الزام لگانے والے کی جب اپنی تلاشی لی گئی تو اس کا بال بال چوری میں ڈوبا نکلا۔

     

    ان کا کہنا تھا کہ دوسروں سے فنڈ کے نام پر مال اینٹھنا،پھر اس کو عیاشی کے لیے استعمال کرنا اور چوری چھپانے کے جھوٹ پہ جھوٹ بولنا۔ کیا پاکستان کی تاریخ میں عمران خان جیسا کرپٹ، جھوٹا اور سازشی حکمران آیا؟

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنکا تھا کہ عمران خان نے نا صرف چوری کی اور چھپائی بلکہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا اور انکی محنت اور خون پسینے کی کمائی پر عیش کی۔

    مریم نواز نے کہا کہ پے درپے انکشافات، لیکس اور ثبوتوں کے انبار عمران سمیت پوری پی ٹی آئی کو فارغ کرنے کے لیے کافی ہیں، اتنے سنگین فراڈ اور سکینڈل تاریخ میں کسی جماعت کے نہیں آئے۔

     

     

    انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں مزید کہا کہ انصاف کے نام پر پاکستان کو دھوکہ دینے والے عمران خان کا بھانڈہ بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے۔

     

     

    مریم نواز نے ایک بارپھرسابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی ذاتیات پرحملہ کیا اور پھر یہ بھی کہا کہ کون جانتا تھا ثاقب نثار کے صادق و امین کا چہرہ اتنا بھیانک نکلے گا، اس بھیانک چہرے پر پردہ ڈالے رکھنے پر الیکشن کمشن کے سابق عہدیدار بھی جوابدہ ہیں۔

     

    یاد رہے کہ ایک طرف مریم نواز الزام تراشی کررہی ہیں تو دوسری طرف پی ٹی ائی کے وزرا نے چیلنج کررکھا ہے اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کی پڑتال کرلی اور آج پارٹی سرخ رو ہوگئی مگر دوسری طرف یہ بھی ہونا چاہیے کہ یہ بھی سامنے آئے کہ ن لیگ کو کن پاکستان مخالف قوتوں نے فنڈنگ کی تاکہ قوم بھی پتہ چل سکے کہ ن لیگ کس طرح اپنی کرتوتیں چھپانے کے لیے پیڈ میڈیا اور دیگرذرائع استعمال کرکے حقائق کو توڑمروڑ کرپیش کررہی ہے ،اسد عمر نے کہا کہ پی پی کی فارن فنڈنگ کی رپورٹ بھی قوم کےسامنے آنی چاہیے

  • کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون اوراب فلورونا:بھارت کے بندہونے کا خطرہ:دہلی میں لاک ڈاون شروع

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون اوراب فلورونا:بھارت کے بندہونے کا خطرہ:دہلی میں لاک ڈاون شروع

    نئی دہلی. ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے ایک بار پھر پابندیوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ خود راجدھانی دہلی میں بھی مسلسل بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے پیش نظر پابندیاں دوبارہ سخت کر دی گئی ہیں۔

    اس کے تحت ویک اینڈ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر میں گھر سے کام کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے جبکہ پرائیویٹ دفاتر میں اہلکاروں کی حاضری پچاس فیصد رکھی گئی ہے۔

    ہلاکت خیز کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کو دیکھتے ہوئے دہلی حکومت نے ویک اینڈ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ہفتہ اور اتوار کو رات کے کرفیو کے علاوہ دن کا کرفیو بھی ہوگا

    دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے منگل کو یہ اطلاع دی انہوں نے کہا کہ ویک اینڈ کرفیو لگانے کا فیصلہ ڈی ڈی ایم اے کے اجلاس میں کیا گیا انہوں نے کہا کہ ضروری خدمات کے علاوہ باقی سب پر کرفیو کا نفاذ ہوگا

    انہوں نے کہا کہ میٹرو اور بس کو 50 فیصد گنجائش پر چلانے کے فیصلے کے بعد دیکھا گیا کہ بس اسٹاپ اور میٹرو اسٹیشن کے سپر اسپریڈر بننے کاخدشہ ہے اس لیے اب بس اور میٹرو صد فیصد گنجائش کے ساتھ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بس اور میٹرو میں ہر ایک کے لیے ماسک پہننا لازمی ہو گا۔

    نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے اب گھر سے کام کریں گے، جب کہ 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ پرائیویٹ دفاتر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ضرورت کے وقت ہی گھروں سے باہر نکلیں۔ کورونا کے گائیڈ لائن پر سختی سے عمل کریں اور ماسک پہنیں۔

    ممبئی میں بھی کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے پیش نظر ممبئی کے میئر کشاری پیڈنیکر نے واضح کیا ہے کہ اگر کیس 20 ہزار سے اوپر جاتے ہیں تو لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جائے گا۔ یہاں وبا کی وجہ سے کچھ عرصہ قبل کھلنے والے سکول دوبارہ بند کیے جا رہے ہیں۔

    مہاراشٹر میں بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے اسکولوں کو ایک بار پھر بند کرنا پڑا ہے۔ ایک طالب علم کی ماں نے بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ اسکول بند کر دیا گیا ہے۔ سمارٹ فون نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بیٹا آن لائن کلاسز لینے سے قاصر ہے۔ اس سے اس کی پڑھائی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دہلی میں بڑھتی سردی اور کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے اسکول پہلے ہی بند کر دیے گئے ہیں۔

    دہلی میں اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیس بھی اس کی وجہ بن گئے ہیں۔ ملک میں جس طرح سے کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں، اس کا نیا ویریئنٹ اومیکرون بھی اس میں شامل ہے۔ اس کی منتقلی کی رفتار اب تک سامنے آنے والے تمام ویریئنٹس سے بہت زیادہ ہے۔

    تاہم، دہلی میں ایمس نے اپنے تمام فیکلٹی ممبران کو فوری طور پر ڈیوٹی میں شامل ہونے کو کہا ہے۔ ایمس نے موسم سرما کی چھٹیوں کے باقی دنوں (5 جنوری سے 10 جنوری) کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔

  • ہم حاضرہم قربان:اے اہل بلوچستان:بارشوں اورسیلاب میں گھبرانانہیں:خدمت اورامدادی کام جاری:ترجمان پاک فوج

    ہم حاضرہم قربان:اے اہل بلوچستان:بارشوں اورسیلاب میں گھبرانانہیں:خدمت اورامدادی کام جاری:ترجمان پاک فوج

    کوئٹہ:ہم حاضرہم قربان:اے اہل بلوچستان:بارشیں اورسیلاب گھبرانا نہیں:خدمت اورامدادی کام جاری:اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے ترجمان ادارے کی طرف سے اہل بلوچستان کو پیغام دیا گیاہے کہ سخت سردی بھی ہے اورپھربارشیں اس قدر ہورہی ہیں‌ کہ سیلابی صورتحال ہے لیکن گھبرانا نہیں ہم حاضرخدمت ہیں ،

      

     

    اس حوالے سے پیغام جاری کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورت حال پیدا ہونے کے بعد پاک فوج کا امدادی کام جاری ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے پانی نکالنے کا عمل بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مقامی آبادی اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کرنے کے ساتھ ساتھ گوادر اور تربت کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوج کا امدادی کام جاری ہے، پسنی، جیوانی، سربندر، نگور میں خوراک اور شیلٹرز کی فراہمی بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران سول انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا جا رہا ہے۔

  • صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد کورونا کا شکار

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد کورونا کا شکار

    لاہور:صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد کورونا کا شکار،اطلاعات کے مطابق مہلک کورونا وائرس کے وار جاری ہیں، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد کوکوروناہوگیا۔

    تفصیلات کےمطابق شہر میں کورونااور ڈینگی کا مل کروار جاری ہے،کورونا کے کیسز میں اچانک اضافے نے پانچویں لہر کے خدشات بڑھا دیئے،صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد کوکوروناہوگیا۔ڈاکٹریاسمین راشدکاکوروناٹیسٹ مثبت آیاہے،ڈاکٹر یاسمین راشد نے آج ہی اجلاس کی صدارت بھی کی،

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے اجلاس کے دوران ماسک اتار رکھا تھا،اجلاس میں چیف سیکرٹری اورڈی سی بھی بغیر ماسک پہنے موجود تھے،صوبائی وزیرصحت نےاپنےگھرمیں قرنطینہ کرلیا۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ بیٹے کا امریکا پہنچنے پر کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تو اپنا بھی ٹیسٹ کرایا جو مثبت آیا۔ اجلاس میں شریک تمام افراد کو بھی کورونا ٹیسٹ کرانے کا کہا گیا ہے۔

    کورونا کی وجہ سے گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران مزید 161 نئے کیسز رپورٹ ہوگئے اور مثبت کیسز کی شرح بھی2 فیصد تک جاپہنچی ،جبکہ ڈینگی فیور میں مبتلا ایک مریض دم توڑگیا،شہر میں ڈینگی کے19 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال دوسری بار کورونا وائرس کا شکار ہوئے، صوبائی وزیر نے تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کر کے خود کو گھر پر قرنطینہ کرتے ہوئے صحت یابی کی درخواست کی تھی ۔

    دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی میاں مجتبی شجاع الرحمان بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے ۔ مجتبی شجاع الرحمان نے بھی خود کو اپنے گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔

  • انصاف کی بات تو یہ ہے کہ ن لیگ،پی پی کی فارن فنڈنگ رپورٹ قوم کےسامنے آئے:اہم شخصیات کا مطالبہ

    انصاف کی بات تو یہ ہے کہ ن لیگ،پی پی کی فارن فنڈنگ رپورٹ قوم کےسامنے آئے:اہم شخصیات کا مطالبہ

    اسلام آباد :انصاف کی بات تو یہ ہے کہ ن لیگ،پی پی کی فارن فنڈنگ رپورٹ قوم کےسامنے آئے:اہم شخصیات کا مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزرا نے مطالبہ کیا ہےکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی بھی فارن فنڈنگ رپورٹ جاری کی جائے۔

    وفاقی وزیر اسد عمر نےکہا ہےکہ الزامات تو بہت بڑے لگتے رہے ہیں، بے نظير ماضی میں نواز شریف پر اسامہ بن لادن سے امداد لینے کا الزام لگاتی رہی ہیں ، جب فنڈنگ کی رپورٹ قوم کے سامنے آئے گی تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ تحریک انصاف نے سب سے زيادہ شفاف طریقے سے پیسا اکٹھا کیا۔

    وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہےکہ الیکشن کمیشن کھلی عدالت میں کیس چلائے ہمیں اعتراض نہیں، سپریم کورٹ کےفیصلے پر الیکشن کمیشن کو تمام جماعتوں کی جانچ پڑتال کرنی ہے۔

    فرخ حبیب نےکہا کہ 45کروڑ روپےکے فنڈز کا مسلم لیگ ن نے نہیں بتایا، مسلم لیگ ن نے 9 اکاؤنٹس کو خفیہ رکھا ہوا تھا، پیپلز پارٹی نے بھی 2013 میں 9، 2014 میں 11 اور 2015 میں 11 اکاؤنٹس کو چھپایا، پیپلز پارٹی کے 35کروڑ روپےکی فنڈنگ پرکوئی تفصیلات موجود نہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہےکہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن نے حقائق سامنے رکھے، نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے اکاؤنٹس بھی سامنے رکھے جائیں، تاکہ عوام کو اندازہ ہوسکےکہ کون سی پارٹی کیسےفنڈنگ کر رہی ہے۔

  • بلوچستان اسمبلی کےکس رکن نےکتنا ٹیکس دیا،حیران کُن تفصیلات،سب حیران رہ گئے

    بلوچستان اسمبلی کےکس رکن نےکتنا ٹیکس دیا،حیران کُن تفصیلات،سب حیران رہ گئے

    کوئٹہ :بلوچستان اسمبلی کےکس رکن نےکتنا ٹیکس دیا،حیران کُن تفصیلات سامنے آگئیں ،اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 2019 میں اراکین بلوچستان اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

    بلوچستان اسمبلی ایف بی آر کی 2019 کی ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق صوبائی مشیر اکبر اسکانی ایک کروڑ 33لاکھ روپے ٹیکس ادا کرکے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے رکن اسمبلی ہیں، سابق وزیر اعلیٰ جام کمال نے 1 کروڑ 17 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا اور وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے دس لاکھ 61 ہزار روپے ٹیکس دیا۔

    رکن اسمبلی عارف جان محمد حسنی نے سب سے کم دو لاکھ 69 ہزار، اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے 8 لاکھ 78 ہزار روپے کا ٹیکس دیا ، سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے 3 لاکھ 43ہزار روپے، سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری نے پانچ لاکھ 81 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ۔

    رکن اسمبلی حمل کلمتی نے 28 لاکھ 84 ہزار روپے، سکندر عمرانی نے 21 لاکھ 10 ہزار روپے، سردار عبدالرحمان کھیتران نے 12 لاکھ 43ہزار روپے ، مٹھا خان کاکڑ نے گیارہ لاکھ 57 ہزار روپے، نواب زادہ طارق مگسی نے دس لاکھ 99 ہزار روپے ، عبدالخالق ہزارہ نے دس لاکھ 42 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ۔

    رکن اسمبلی عبدالواحد صدیقی نے چھ لاکھ 46 ہزار روپے، احمد نواز نے چھ لاکھ 53 ہزار روپے ، اختر حسین لانگو نے چھ لاکھ 62 ہزار روپے ، اسد اللہ بلوچ نے سات لاکھ 60 ہزار روپے ، اصغر علی ترین نے سات لاکھ 81ہزار روپے، بشرٰی رند نے سات لاکھ 92 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا۔

    ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے چھ لاکھ 73 ہزار روپے ، نوابزادہ گہرام بگٹی نے پانچ لاکھ 94 ہزار روپے ،،اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی نے چھ لاکھ 40 ہزار روپے ، ماہ جبین شیران نے چار لاکھ بیس ہزار روپے ، مستورہ بی بی نے پانچ لاکھ 39 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا۔

    میر نعمت اللہ زہری نے پانچ لاکھ 68 ہزار روپے ، میر ضیاء اللہ لانگو نے چھ لاکھ 39 ہزار روپے ، مبین خان خلجی نے پانچ لاکھ44ہزار روپے ، محمد نواز نےپانچ لاکھ66ہزار روپے ،سردار صالح محمد بھوتانی نے سات لاکھ 86 ہزار روپے ،نصر اللہ زیرے نے چھ لاکھ 52 ہزار روپے ، نور محمد دومڑ نے نو لاکھ 13 ہزار روپے، مولوی نور اللہ نے پانچ لاکھ 99 ہزار روپے ، سلیم احمد کھوسہ نے 8 لاکھ 26 ہزار روپے، سردار یار محمد رند نے پانچ لاکھ 96 ہزار روپے، سردار سرفراز چاکر ڈومکی نے سات لاکھ 29 ہزار روپے، شام لعل لاسی نے 6 لاکھ 24 ہزار روپے ،سید احسان شاہ نے 7 لاکھ 81 ہزار روپے ، ٹائٹس جانسن نے6 لاکھ 36 ہزار روپے اور عمر خان جمالی نے 8 لاکھ95 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ۔

    رکن اسمبلی یونس عزیز زہری نے چھ لاکھ 57 ہزار روپے ، زابد علی ریکی نے پانچ لاکھ 14 ہزار روپے ،ظہور احمد بلیدی نے چھ لاکھ 54 ہزار روپے ،زمرک خان اچکزئی نے 8 لاکھ 89 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا۔

    بلوچستان اسمبلی کے 44 اراکین اسمبلی کے نام ٹیکس ڈائریکٹر ی میں شامل ہیں جب کہ 21 اراکین اسمبلی کے نام ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرنے کے باعث ٹیکس ڈائریکٹری میں شامل نہیں کیے گئے۔

  • تحریک انصاف سرخرو ہوئی،ثابت ہوگیا فارن فنڈنگ کاکوئی معاملہ نہیں،پاکستان زندہ باد: فواد چوہدری

    تحریک انصاف سرخرو ہوئی،ثابت ہوگیا فارن فنڈنگ کاکوئی معاملہ نہیں،پاکستان زندہ باد: فواد چوہدری

    لاہور:تحریک انصاف سرخرو ہوئی،ثابت ہوگیا فارن فنڈنگ کاکوئی معاملہ نہیں،پاکستان زندہ باد:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزير اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کی فائنڈنگ میں یہ بات عیاں ہوگئی کہ تحریک انصاف کی فنڈنگ شفاف ہے، تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر سرخرو ہوئی ، طے ہوگیا ہے کہ فارن فنڈنگ کاکوئی معاملہ نہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کے ہمراہ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئےکہاکہ ہم چاہتے ہیں سب جماعتوں کی فنڈنگ کو سامنے لایا جائے۔

     

    https://twitter.com/FawadPTIUpdates/status/1478367342031740931?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1478367342031740931%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F273796-

    فواد چوہدری نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف نے ن لیگ کا اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا، ن لیگ کے اکاؤنٹ میں 8 کروڑ روپے ڈلوا کر نکلوائے گئے، چاہتے ہیں الیکشن کمیشن پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے اکاؤنٹس کی اسکروٹنی بھی کرے۔

    وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ دوسری جماعتوں میں فنڈنگ وڈیروں اور کاروباری لوگوں سے چلتی ہے، الیکشن کمیشن میں پیش ہونے والی رپورٹ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی کے) اکاؤنٹس کی اسکروٹنی نہیں ہو رہی۔

    اس موقع پر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نےکہاکہ الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی جہاں پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی پڑتال کر رہی ہے ویسے ہی ن لیگ اور پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی پڑتال بھی کرے۔

    انہوں نے کہا کہ ماہرین کی پڑتال کے مطابق ن لیگ کے 9 اکاؤنٹس ایسے ہیں جو الیکشن کمیشن کو نہیں بتائے گئے، ان میں کروڑوں کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے، پیپلز پارٹی نے 2013 میں 9 اکاؤنٹس، 2014 میں 11 اور 2015 میں 10اکاؤنٹس چھپائے،

    انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس 34کروڑ کے عطیات کا کوئی ریکارڈ نہیں، قانون کے مطابق کوئی سیاسی جماعت کسی دوسری جماعت کو فنڈز نہیں دے سکتی لیکن پیپلز پارٹی نے، پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز اور پارلیمنٹیرینز نے پیپلز پارٹی کے اخراجات اٹھائے تھے۔

  • پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے:مولانا ہدایت الرحمان نے ایسے کیوں کہا؟اہم خبرنے سب کوحیران کردیا

    پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے:مولانا ہدایت الرحمان نے ایسے کیوں کہا؟اہم خبرنے سب کوحیران کردیا

    پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے:مولانا ہدایت الرحمان نے ایسے کیوں کہا؟اہم خبرنے سب کوحیران کردیا،اطلاعات کے مطابق گوادر حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا ہے کہ پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو صوبہ نہیں کالونی سمجھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں، بلوچستان کے شہریوں کو تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے نکلنے والی سوئی گیس پورے ملک میں پہنچی، بلوچستان میں آج بھی لکڑیاں جلا کر کھانا بنایا جاتا ہے، بلوچستان کو صوبہ ہی نہیں سمجھا جا رہا ہے، جو حق کلبھوشن کو دیا گیا ہے، اگر اس کا 50 فیصد بلوچستان کو حق دیں تو مسائل حل ہو جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے، بلوچستان میں معدنیات سب سے زیادہ ہے، پوری دنیا کے سونے کا تیسرا بڑا ذخیرہ بلوچستان میں ہے، گوادر کے رہائشی بخار کا علاج بھی کراچی سے کراتے ہیں، ہم بنیادی سہولیات کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو کیا یہ تعصب کی بات ہے، بلوچستان کی سوئی، سونے اور گوادر کے پورٹ پر پہلا حق وہاں کے رہائشیوں کا ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ جب ہم نے دھرنا دیا تو کہا گیا کہ ہم سیپیک کے خلاف ہے، بلوچستان میں سی پیک کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، بلوچستان میں ایک کلو میٹر بھی سی پیک کی سڑک نہیں بنی، کسی ایک چیز کی نشاندہی کر دیں کہ بلوچستان میں سی پیک منصوبے کے تحت ترقیاتی کام ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اعلان کے بعد نہ اسکول ملا، نہ اسپتال ملا، نہ روڈ ملا، نہ بس چیک پوسٹیں ملی ہے، وزیر اعظم جن کو ناراض بلوچ سمجھتے ہیں وہ بیرون ملک بہترین زندگی گزار رہے ہیں، ادھر جو ناراض بلوچ ہیں ان کی فکر کریں۔

    انہوں نے کہا کہ سوا کروڑ بلوچ ناراض ہے، ترقی کون نہیں چاہتا؟ صاف پانی کون نہیں چاہتا؟ تعلیم کون نہیں چاہتا؟ ہمیں ترقی چاہیے لیکن تذلیل برداشت نہیں کر سکتے، کسی کے ماں باپ کو گالی دینا اگر کلچر ہے تو ہمارے لیے بلوچ والدین کو گالی دینا، آگ لگانے کے برابر ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے دھرنے کو کوریج نہیں ملی کیونکہ کترینہ باجی کی شادی ہو رہی ہے، کترینہ باجی کو شادی کی کوریج ملی، گوادر حق دو تحریک کے دھرنے کو کوریج نہیں ملی، تین ماہ بعد کوئٹہ دھرنا دینے جا رہے ہیں جس میں ہماری ایک ہی بات ہوگی کہ کیا ہمیں پاکستانی سمجھتے ہیں؟

    گوادر حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے مزید کہا کہ اگر ہمیں پاکستانی سمجھتے ہیں تو ہم اس زبان میں بات کریں گے، اگر ہمیں پاکستانی نہیں سمجھتے تو اس زبان میں بات کریں گے، کم از کم ہم کلبھوشن سے زیادہ پاکستانی ہے۔

  • روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    نیویارک:روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا گیا،اطلاعات کے مطابق نیٹو ممالک (مغربی عسکری اتحاد) نے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا ہے۔

    نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یوکرائن کی سرحد پر روس کی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    نیٹو کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق وزرائے خارجہ وڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات کریں گے۔

    وزرائے خارجہ یورپ کی سلامتی کے ساتھ ساتھ یوکرائن کی سرحد پر روس کی جانب سے فوجی اور ہتھیار جمع کرنے کے بعد پیدا ہونے والی بین الاقوامی کشیدگی پر بھی وسیع تناظر میں بات کریں گے۔

    اجلاس کے اختتام پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کی صحافیوں کو بریفنگ بھی متوقع ہے۔

    نیٹو وزرائے خارجہ کا اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ 10 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکا اور روس کے درمیان ہونے والے اجلاس سے قبل منعقد ہوگا۔

    اس کے علاوہ نیٹو روس کونسل کا اجلاس 12 جنوری کو متوقع ہے جس سے نیٹو اور روس کے درمیان طویل عرصے کے بعد رابطہ قائم ہوگا۔

    ان دو اجلاسوں کے علاوہ آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (OSCE) کا اجلاس 13 جنوری کو ہوگا۔ اِس تنظیم میں روس، یوکرائن، امریکا اور یورپی ممالک شامل ہیں۔

     

    نیٹو کے وزرائے خارجہ کی آخری ملاقات 30 نومبر کو لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں ہوئی تھی اور نومبر سے روس کو دی جانے والی وارننگ دہرائی گئی تھی۔

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے یوکرائن کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی، جارحیت کے نتائج سیاسی اور اقتصادی پابندیوں کی شکل میں سامنے آئیں گے۔

  • ہیلی کاپٹرہمارے اورفائدہ آپ اُٹھائیں،یہ نہیں ہوسکتا:افغان حکومت کا ہمسائیہ ممالک سے مطالبہ

    ہیلی کاپٹرہمارے اورفائدہ آپ اُٹھائیں،یہ نہیں ہوسکتا:افغان حکومت کا ہمسائیہ ممالک سے مطالبہ

    کابل :ہیلی کاپٹرہمارے اورفائدہ آپ اُٹھائیں،یہ نہیں ہوسکتا:افغان حکومت کا ہمسائیہ ممالک سے مطالبہ،اطلاعات کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت نے پڑوسی ممالک سے اپنے ہیلی کاپٹر واپس مانگ لیے۔

    افغانستان کی طالبان عبوری حکومت نے اُزبکستان اور تاجکستان کو منتقل کیے گئے ہیلی کاپٹروں کی واپسی کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

    طالبان عبوری حکومت کے نائب ترجمان امام اللہ سمن غنی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سابق حکومت نے ازبکستان اور تاجکستان کو 40 سے زائد ہیلی کاپٹر منتقل کیے تھے۔

    افغانستان کی سابق ​​حکومت کے پاس 164 سے زائد ہیلی کاپٹر تھے جن میں سے بہت سے امریکا نےعطیے میں دیے تھے۔

    مذکورہ ممالک کے حکام سے ہیلی کاپٹروں کی واپسی کے لیے بات چیت شروع ہونے کا اعلان کرنے والے نائب ترجمان طالبان سمن غنی کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ہیلی کاپٹر کب واپس کیے جائیں گے۔

    طالبان کی عبوری حکومت کی وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کی واپسی کی درخواستیں اس سے قبل ازبکستان اور تاجکستان کی حکومتوں کو بھیجی جا چکی ہیں اور وہاں سے ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا ہے۔

    15 اگست کو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سابق حکومتی ارکان نے بہت سے ہیلی کاپٹر پڑوسی ممالک کو منتقل کر دیے تھے۔اس کے علاوہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان فضائیہ کے درجنوں پائلٹ بھی ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

    طالبان انتظامیہ کو پائلٹوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ کئی بار بیرون ملک فرار ہوجانے والے پائلٹس کی واپسی کا مطالبہ کر چکی ہے۔

    ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وادی پنجشیر اور دیگرعلاقوں میں ان ملکوں کی طرف سے جوہیلی کاپٹرافغانستان کی سرحدوں میں آکرمداخلت کرتے ہیں وہ بھی افغانستان کی ملکیت ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ازبکستان اور تاجکستان نے افغآن حکومت کے اس مطالبہ کو نظرانداز کردیا ہے اورکوئی مثبت جواب نہیں دیا جس کی وجہ سے افغانستان اور ہمسائیہ ممالک کے درمیان حالات سردمہری کا شکار ہوسکتے ہیں