Baaghi TV

Author: +9251

  • فنانس ترمیمی بل 2021 سینیٹ میں پیش :اپوزیشن نے نامنظور،نامنظورکانعرہ لگاکرایوان مچھلی منڈی بنادیا

    فنانس ترمیمی بل 2021 سینیٹ میں پیش :اپوزیشن نے نامنظور،نامنظورکانعرہ لگاکرایوان مچھلی منڈی بنادیا

    اسلام آباد: فنانس ترمیمی بل 2021 سینیٹ میں پیش :اپوزیشن نے نامنظور،نامنظورکانعرہ لگاکرایوان مچھلی منڈی بنادیا،اطلاعات کے مطابق آج بالآخرحکومت نے ٹیکسز کے حوالے سے ایڈجسٹمنٹ پرمبنی ضمنی مالیاتی ترامیمی بل پیش کرہی دیا ،ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن کی طرف سے حسب روایت وہی اندازاپنایا گیا جووہ ماضی میں اپناتے رہے ہیں‌

    اطلاعات کے مطابق اس وقت جب وزیرخزانہ شوکت ترین نے ضمنی مالیاتی ترامیمی بل ایوان میں پیش کیا تواپوزیشن نے نامنظور نامنظور کے نعرے لگا کر ایوان کو مچھلی منڈی بنا دیا ، جس کے مناظرنے مقدس ایوان کے یہ لمحات دنیا بھرمیں شیئرکردیئے ہیں‌

     

     

    ·

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ وزیرخزانہ کی طرف سے جب یہ بل پیش کیا گیا تواس وقت حکومتی اراکین مطمئن جبکہ اپوزیشن کے اراکین بڑے مذبذب نظرآئے جس کا واضح ثبوت اپوزیشن اراکین کے ایوان میں نا منظور نا منظور کے نعروں سے ظاہر ہورہا تھا

     

     

    چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کااجلاس میں وزیرخزانہ کی طرف سے پیش کیا جانے والا ضمنی مالیاتی ترامیمی بل منظور ہونے کے بہت زیادہ مواقع ہیں کیوں کہ قومی اسمبلی میں میاں شہبازشریف کی طرف سے اس بل کے پیش کیے جانے کے موقع پرمزاحمت نہ کرنا اورپھرووٹنگ کے وقت غائب ہونا اس بات کا اشارہ تھا کہ ن لیگ کے چند ذمہ داران کی حمایت بھی عمران خان کوحاصل ہے اور پھر بعد ازاں ایسی خبریں بھی منظرعام پرآئیں تھیں جن سے شہبازشریف کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات درست ثابت ہوئے تھے

  • روہنگیائی مسلمان ایک طرف کورونا تو دوسری آگ کی لپیٹ میں‌ لپٹ گئے

    روہنگیائی مسلمان ایک طرف کورونا تو دوسری آگ کی لپیٹ میں‌ لپٹ گئے

    ڈھاکہ: روہنگیائی مسلمان ایک طرف کورونا تو دوسری آگ کی لپیٹ میں‌ لپٹ گئے ،اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں ایک کورونا کئیر مرکز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا جہاں روہنگیا مہاجر مریض موجود تھے۔

    میڈیا کے مطابق آتش زدگی کا واقعہ بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں پیش آیا تاہم خوش قسمتی سے جانی نقصان نہیں ہوا۔آتش زدگی کا واقعہ اس کیمپ میں پیش آیا ہے جہاں پر کورونا کے مریض روھنگیا بیمار موجود تھے.

    بنگلہ دیش کے فائربریگیڈ محکمے کے مطابق اوخیا شہر میں شام کے سات بجے آگ لگنے کا واقعہ رونما ہوا ہے اور کئی گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد آگ کو خاموش کردیا گیا۔ محمکے کے مطابق بارہ مریض کو کیمپ میں موجود تھے انکو بحفاظت ایک اور کیمپ میں منتقل کردیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    بعض گواہوں کے مطابق امکانی طور پر شاٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی ہے۔ گذشتہ مارچ کو کاکس بازار میں مہاجر کیمپ میں آگ لگنے کا واقعہ رونما ہوا تھا جس میں کم از کم پندرہ مہاجر ہلاک ہوئے تھے اور دس ہزار عارضی رہاشی کمرہ جل گیا تھا۔

    مذکورہ کیمپ سال 2017سے آباد ہے جہاں دس لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا موجود تھے جو میانمارفوج اور بدھ شدت پسندوں کے خوف سے یہاں پناہ لینے آئے ہیں۔

  • کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی

    کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی

    سرینگر:کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے مزیدآزادی پسند کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کی غرض سے بھارتی پولیس کو مہلک امریکی سگِ اسالٹ رائفلوں اور پستولوں سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے پہلے ہی اپنی فوج کو مقبوضہ کشمیرمیں جدید ترین رائفلوں سے لیس کردیا ہے ۔ حکام کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس جدید ترین امریکی سگِ اسالٹ رائفل حاصل کرنے والی پہلی فورس ہو گی ۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی فورس 500 سگ سوئر 716 رائفلیں اور 100سگ سوئر ایم پی ایکس نائن ایم ایم پستول خریدے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے حال ہی میں ان مہلک ہتھیاروں کی خریداری کیلئے انٹرنیشنل ٹینڈر جاری کیا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ سگ سوئراسالٹ 716رائفلزکشمیرمیں پولیس کے زیر استعمال انساس رائفلوں کے مقابلے میں زیادہ مہلک اور جدید ہے ۔ حکام کے مطابق رائفل جس کا وزن میگزین کے بغیر 3.82کلو ہے، ساڑھے چھ سے ساڑھے آٹھ سو رائونڈ فی منٹ فائر کرتی ہے اور 500میٹر تک کے فاصلے تک نشانہ بنا سکتی ہے ۔ یہ جدید ترین رائفل اپنی ان خصوصیات کی وجہ سے کشمیری نوجوانوں کے خلاف ایک مہلک ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں اپنی فورسز کو کشمیریوں کے قتل عام ، گرفتاریوں اور انہیں عمر بھر کیلئے معذور کرنے کیلئے خصوصی اختیارات دے رکھے ہیں ۔ جنوری 1989سے اب تک بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیرمیں95ہزار950سے زائد کشمیریوں کو شہید اور 11ہزار246خواتین کی بے حرمتی کی ہے ۔

  • ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    سرینگر:ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے ،اطلاعات ہیں کہ کشمیر ی تاجروں کا کہنا ہے کہ ایرانی سیبوں کی بھاری مقدار میں درآمد سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیبوں کی صنعت پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں اور نومبر کے وسط سے قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تاجروں نے کہاکہ شمالی بھارت میں سردی کی لہر اور جنوبی بھارت میں سیلاب کے بعد ہول سیل مارکیٹوں میں کشمیری سیبوںکی قیمتیں گرنے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی سیبوں کی درآمدسے جن کو بھارت میں ڈمپ کرنے کے بعد سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے، کشمیری سیبوں کی تجارت کو نقصان پہنچاہے۔کشمیر میں سیبوں کے تاجر اور کاشتکار ایرانی سیبوں میں پھپھوندے کی بیماریاں پائے جانے کے بعد پریشان ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ درآمد شدہ سیب اپنے ساتھ نئی بیماریاں لا سکتے ہیں۔

    شوپیاں میں سیب کے ایک کاشتکار اور تاجر محمد اشرف وانی کاکہناتھا کہ کاشتکاروں اور تاجروں کی انجمن کشمیری سیبوں کے تحفظ کے حوالے سے پریشان ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت نے حال ہی میں ایرانی کیویز میںکچھ نئی بیماریاںپائے جانے کے بعدفوری اقدامات کیے اور ان پر پابندی لگادی ۔ اب جب کہ ایرانی سیبوں میں بھی ایسی بیماریاں پائی گئی ہیں، حکومت کو فوری طور پر ان کی درآمد بند کر دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں بھارتی سیب میں 40 بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہیں ایران میں پیدا ہونے والے سیبوں میں 400 سے زیادہ بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے تمام سیب سمندری راستوں کے ذریعے بھارت لائے جا رہے ہیں کیونکہ بیشتر ممالک نے بیماریوں اور دیگر معیار کے مسائل کی وجہ سے ایرانی سیب درآمد کرنے سے انکار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ درآمد کو جلد از جلد بند کیا جائے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں واقع پھلوں کی پیداوار کی ایک کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اذہان جاوید نے کہا کہ درآمدسے نہ صرف قیمتیں گرجائیں گی بلکہ یہ نئی بیماریاں لا کر سیب کی صنعت پر تباہی مچا دے گی۔سرینگر میں پھلوں اور سبزیوں کی منڈی کے صدر بشیر احمد بشیر نے بتایا کہ تاجروں اور کاشتکاروں نے مالیاتی اداروں سے موٹے قرضے لے کر سیب کو کولڈ سٹوریج میں محفوظ کر رکھا ہے لیکن حکومت ایرانی سیبوں کی درآمد کی اجازت دے کر ان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔بشیر نے کہا کہ کشمیری سیبوں کی قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے جس سے تاجروں اور کاشتکاروںکوبھاری نقصان ہوا ہے۔

  • چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    لاہور(……9251 +)ہندوستان نے اپنی بحریہ کومزید 57 رافیل جنگی طیاروں سے لیس کرکےپاکستان اورچین کوپیغام بھیج دیا،اطلاعات ہیں‌ کہ ہندوستانی بحریہ کل اپنی بحریہ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے بڑی تعداد میں جنگی طیاروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کچھ کرنے جارہا ہے ، اس حوالے سے ہندوستانی دفاعی حکام کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اپنی بحریہ کومزید مضبوط کرکے پاکستان اور چین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہندوستان سے کبھی بھی نہ ٹکرانا

    ادھرہندوستانی افواج کی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان اپنے نئے مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز کے لیے ملٹی رول کیریئر پر مبنی جنگی طیاروں کی تلاش میں ہے جو اس وقت بھارت کی سمندری حدود میں آزمائش کے مرحلے میں ہے اور کارکردگی چیک ہونے کے بعد اس کو شامل کیا جائے گا
    ادھر ہندوستانی بحریہ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ MiG-29K کو تبدیل کرنے کے لیے جڑواں انجن والا طیارہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے جو فی الحال INS وکرمادتیہ سے چل رہا ہے۔

     

     

    ہندوستانی بحریہ 6 جنوری سے گوا میں آئی این ایس ہنسا میں ساحل پر مبنی ٹیسٹ سہولت میں رافیل لڑاکا طیاروں کے بحری ورژن کی فلائٹ ٹیسٹنگ کرے گی تاکہ 40,000 ٹن وزنی کیریئر آئی این ایس وکرانت کے مطابق بہترین جنگی طیارے کا تعین کیا جا سکے۔

    شاید اسی طاقت کے بل بوتے پر ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرمبیر سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستانی بحریہ ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ جنگجوؤں کے مشترکہ حصول کا پیچھا کر سکتی ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ روسی ساختہ جنگی طیاروں خاص کر میگ 29 کے متبادل کے طور پر ہندستانی بحریہ نے ڈائریکٹوریٹ آف نیول ایئر اسٹاف کی طرف سے جنوری 2017 میں ملٹی رول کیریئر برن فائٹر کے لیے معلومات کی درخواست (RFI) جاری کی گئی تھی کیونکہ فی الحال آپریشنل Mig-29K کو 2034 میں مرحلہ وار ختم کیا جانا ہے۔

    ہندوستانی بحریہ نے اپنے بحری بیڑوں کو مضبوط سے مضبوط تربنانے کےلیے مبنی جڑواں انجن لڑاکا طیاروں کے لیے عالمی ٹینڈر کا جائزہ لینے کا انتخاب کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ مقامی طور پر تیار کردہ ٹوئن انجن ڈیک بیسڈ فائٹر (ٹی ای ڈی بی ایف) 2032 تک پہنچنا ہے۔

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کل ہونے والے جنگی مظاہروں کے بعد اگرکوئی صورت حال تسلیٰ‌ بخش ہوتی ہے تو پھر ہندوستانی بحریہ اسی مقام پر رافیل-ایم (میرین) طیارے کے متبادل کے طور پر امریکی F-18 سپر ہارنٹس کی جانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بوئنگ F-18 سپر ہارنیٹ امریکی بحریہ کے لیے ایک آزمائشی اور ہندوستانی بحریہ کی ڈیمانڈ پر مبنی ملٹی رول فائٹر ہے، جس میں 1991 کی خلیجی جنگ سے متعلق حیرت انگیز مشنز ہیں۔

     

    بھارتی دفاعی حکام کے درمیان چلنے والی گفتگو اور باہمی پیغام رسانی سے یہ بھی چیزیں‌ سامنے آئی ہیں‌کہ IAC-1 کو INS وکرانت کے طور پر 15 اگست 2022 کو ہندوستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پرہندوستانی بحری بیڑوں میں آپریشنل کرنے کا پروگرام ہے ۔ ہندوستانی بحریہ طیارہ بنانے والی فرانسیسی کمپنیوں سے 2022 میں چار سے پانچ Rafale-M طیارے لیز پرلینے کا پروگرام بنا چکی ہے تاکہ طیارہ بردار جہاز کو آپریشنل بنایا جا سکے۔

    ہندوستان میں امبالہ ایئربیس پر پہلے ہی رافیل کی دیکھ بھال اور پرواز کی تربیت کی سہولت موجود ہے۔ بحریہ کے ہوا بازوں کو آئی این ایس ہنسا میں تربیت دی جائے گی۔

    اس موقع پر یہ بھی بتا دوں کہ چند دن پہلے اپنے حالیہ دورہ ہندوستان میں، فرانسیسی وزیر دفاع نے بھی ہندوستان کو کیرئیر پر مبنی رافیل کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔فرانسیسی وزیردفاع کا کہا تھا – "ہمیں معلوم ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز جلد ہی پہنچ جائے گا…اور اس کے لیے مزید طیاروں کی ضرورت ہوگی۔ اگر ہندوستان دوسرا رافیل خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم اسے دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس وقت، اس نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اگر ہندوستان کو ضرورت ہو تو فرانس ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ حاصل کیے جانے والے 36 سے زائد رافیل لڑاکا طیارے فراہم کرے گا۔

     

    2016 میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے بھی، Dassault Aviation بحریہ کے ساتھ Rafale کے بحری قسم کی فروخت کے بارے میں بات چیت کر رہی تھی۔

    ہندوستانی بحریہ کو بوئنگ کا جڑواں سیٹوں والا F/A-18 بلاک III سپر ہارنیٹ اس کے RFI کے جواب میں 57 ملٹی رول کیریئر پر مبنی فائٹرز کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ سپر ہارنیٹ بلاک III سپر ہارنیٹ کا سب سے نفیس قسم ہے اور چوتھی نسل کی لڑاکا صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑتا ہے۔

    ٹچ اینڈ گو لینڈنگ Rafale-M – امریکی بحریہ کے ذریعےیہ طیارہ "اسکی جمپ” ریمپ سے چل سکتا ہے اور اسے ہندوستانی تجزیہ کاروں کے ذریعہ "محفوظ ہند-بحرالکاہل کے لئے فعال کرنے والا” کا نام دیا گیا ہے، جنہوں نے سپر ہارنٹس کی صلاحیتوں اور ہندوستانی بحریہ کے لئے موزوں ہونے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا۔ یورو ایشین ٹائمز

    "F/A-18 سپر ہارنیٹ بلاک III ہندوستانی بحریہ (IN) کو پیش کش پر ہے جو امریکی بحریہ (USN) کا سب سے جدید، کثیر کردار، فرنٹ لائن لڑاکا ہے اور یہ بیڑے کے لیے ورک ہارس ہے، اور ایسا ہی رہے گا۔ ،‘‘ انکور کناگلیکر، ہیڈ انڈیا فائٹرز سیلز، بوئنگ ڈیفنس، اسپیس اینڈ سیکیورٹی، نے پہلے فنانشل ایکسپریس کو بتایا۔

    فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ رافیل میرین فائٹرز کو سپر ہارنٹس پر برتری حاصل ہے کیونکہ فرانس اور ہندوستانی حکومت کے درمیان 36 رافیل ڈبلیو کے لیے 8.7 بلین ڈالر کی ایک میگا ڈیل طے پائی تھی۔

    ادھر بھارتی فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے جو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی بحریہ ایک طرف پاکستان کوجواب دینے کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف بھارت ، جاپان ،آسٹریلیا اور امریکہ کے ساتھ ملکر جنوبی چین اور کواڈ ممالک کے درمیان ہونے والے جنگی معاہدوں کے مطابق چین کے بحری راستوں کی ناکہ بندی کے لیے استعمال ہوں گے جس کا مقصد چین کی بحری ناکہ بندی کرکے چین کومعاشی طورپرکمزوراور تباہ حال کرنا ہے

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    لاہور(….9251+) :اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا 43 سال بعد انکشاف ،تفصیلات کے مطابق معروف اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ نے خفیہ اداروں کی طرف سے ملنے والے حقائق کومنظرعام پرلاتے ہوئے بڑے بڑے سنگین انکشافات کیئے ہیں‌

    اس حوالے سے یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش کرتے ہوئے پاکستان کوجوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی روکنے کے لیے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کو دھمکیاں دی تھیں‌ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں‌ باقاعدہ ان کمپنیوں پرحملےکروائے گئے، ان حملوں کے دومقاصد تھے ایک تو یہ ثآبت کرنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان کی حامی قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے دوسرا جو اسرائیلی موساد ایجنسی ایک متبادل تاثرپیدا کررہی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی صورت میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوسخت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نےتقریبا 43 سال بعد سال 2022 کے پہلے ہفتے میں اس سازش پرسے پردہ ہٹاتے ہوئے خطرناک حقائق پیش کئے ہیں‌۔ اخبار کے مطابق، "اس بات کے مضبوط شواہد ہیں‌ کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوملنے والی دھمکیوں‌ کے پیچھے موساد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ان ملکوں کوخبردار کیا تھا کہ اگرجوہری ٹیکنالوجی فراہم کی گئی تو پاکستان بلاشبہ عالم اسلام کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بن جائے گا جو اسلام کے مقابل دیگرمذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی خطرے سے کم نہیں‌

    اخبار نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 1980 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے آلات کی تعمیر پر مل کر کام کیا۔ NZZ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام میں مدد کرنے میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کا گہرا کردار ہے اور یہ تعلق ایران سے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان تک جاپہنچتا ہے

    اخبار نے سوئس مؤرخ ایڈریان ہانی کا حوالہ دیا جس نے کہا کہ ممکنہ طور پر موساد سوئس اور جرمن کمپنیوں کے بم حملوں میں ملوث تھی، تاہم، یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی "سگریٹ نوشی بندوق” نہیں تھی کہ موساد نے یہ حملے کیے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تنظیم، جو پہلے سے نامعلوم ادارہ ہے، نے سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں ہونے والے دھماکوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    NZZ آنجہانی پاکستانی ایٹمی سائنسدان، عبدالقدیر خان کے کردار پر رپورٹ کیا ہے، جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی تھے، جنہوں نے 1980 کی دہائی کے دوران جوہری ہتھیاروں کے آلات کے لیے مغربی اداروں اور کمپنیوں سے ٹیکنالوجی اور بلیو پرنٹس حاصل کرنے کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ خان نے 1987 میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ایک وفد سے زیورخ کے ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نیوکلیئر انرجی کمیشن کے سربراہ انجینئر مسعود نرغی کر رہے تھے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران دو جرمن انجینئرز، گوتھارڈ لیرچ اور ہینز میبس،انجینئر مسعود نرغی کے ساتھ، جنہوں نے امریکہ میں پی ایچ ڈی کی تھی، سوئٹزرلینڈ میں خان کے گروپ سے ملے۔ جبکہ اس سلسلے میں مزید ملاقاتیں متحدہ عرب امارات میں دبئی میں ہوئیں۔

    پاکستان کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تیز کرنے کی کوششوں کے ساتھ، امریکی حکومت نے کامیابی کے بغیر، جرمن اور سوئس حکومتوں کو اپنے ممالک میں ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کی مدد کر رہی تھیں۔ موساد کے مشتبہ ایجنٹوں نے مبینہ طور پر سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں پاکستان کی مدد کرنے والی کمپنیوں اور انجینئرز کے خلاف کارروائی کی۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا انتقام لینے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجسی موساد نے اس وقت کے برلن میں نامعلوم مجرموں نے ان میں سے تین کمپنیوں پر دھماکہ خیز حملے کیے: 20 فروری 1981 کو کورا انجینئرنگ چور کے ایک سرکردہ ملازم کا گھر؛ 18 مئی 1981 کو مارکڈورف میں Wälischmiller کمپنی کی فیکٹری کی عمارت پر؛ اور آخر کار، 6 نومبر 1981 کو، ایرلانجن میں ہینز میبس کے انجینئرنگ آفس میں۔ تینوں حملوں کے نتیجے میں صرف املاک کو نقصان پہنچا، صرف میبس کا کتا مارا گیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس دوران ” دھماکہ خیز مواد کے حملوں کے ساتھ کئی فون کالز بھی ہوئیں جن میں اجنبیوں نے دیگر ڈیلیوری کمپنیوں کو انگریزی یا ٹوٹے ہوئے جرمن میں دھمکیاں دیں۔ بعض اوقات فون کرنے والا دھمکیوں کو ٹیپ کرنے کا حکم دیتا۔ ‘وہ حملہ جو ہم نے Wälischmiller کمپنی کے خلاف کیا تھا وہ آپ پر بھی ہو سکتا ہے’ – اس طرح Leybold-Heraeus انتظامیہ کے دفتر کو ڈرایا گیا۔ اس وقت کے VAT کے مالک Siegfried Schertler اور اس کے ہیڈ سیلز مین Tinner کو کئی بار بلایا گیا۔ Schertler نے سوئس وفاقی پولیس کو بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی خفیہ سروس نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ یہ تحقیقاتی فائلوں سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے،

    Schertler نے کہا کہ جرمنی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم، جس کا نام ڈیوڈ تھا، نے VAT ایگزیکٹو سے رابطہ کیا۔ کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ڈیوڈ نے ان پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے "یہ کاروبار” بند کر دیں اور ٹیکسٹائل کے کاروبار میں جائیں۔

    سوئس اور جرمن کمپنیوں نے خان جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک کے ساتھ اپنے کاروبار سے نمایاں منافع حاصل کیا۔ NZZ نے رپورٹ کیا کہ "ان میں سے بہت سے سپلائرز، خاص طور پر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے، جلد ہی پاکستان کے ساتھ کروڑوں مالیت کے کاروبار میں داخل ہو گئے:

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا خوف تھا کہ پاکستان اگرجوہری قوت بن گیا تو اس سے عرب دنیا اوردیگراسلامی ملکوں کو حوصلہ ملے گا اور پھراس کا دباو بلا شبہ اسرائیل اور دیگراسرائیل کے حمایت یافتہ ممالک پرپڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسرائیل ،امریکہ ، بھارت ، برطانیہ سمیت درجنوں اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں ان کی حکومتوں اور دیگراداروں کو بڑی آسانی سے شکست دے کرپاکستان کوپہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) لکھتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بانی ہے جس نے مختلف اوقات میں اسرائیل ، امریکہ ، برطانییہ ،بھارت اور دیگردرجنوں اتحادی ملکوں کے سارے منصوبوں کوخاک میں ملایا ، اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے اس مقصد کے لیے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ دیگر بھی کئی خفیہ کردار متحرک کررکھے تھے جن کو آج تک موساد، را ، سی آئی اے ، برطانوی ، فرانسیسی اور دیگرملکوں کی خفیہ ایجنسیاں محسوس اور ڈی ٹیکٹ نہ کرسکیں‌ اور یہی پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہی پاکستان کے ایٹمی اثآثوں کی نگہبان اورمحافظ ہیں،امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک پاکستان کی سیاسی حکومتوں کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جب مسلّح افواج کو اس بات کی خبرملتی کہ سیاسی حکومتوں کے سربراہ امریکہ کوخوش کرنے کے لیے امریکہ اور اتحادیوں کے لیے سہولت کاربن رہے ہیں تو پھرملکی سلامتی اورپہلی ایٹمی اسلامی ریاست کی جوہری قوت کو بچانے کے لیے مجبورا حکومتوں کو ختم کردیا جاتا تھا

  • عزیر بلوچ رینجرز اہلکار قتل کیس میں بری

    عزیر بلوچ رینجرز اہلکار قتل کیس میں بری

    عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ اور شیر محمد عرف شیرو کو بری کردیا۔

    کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دو رینجرز اہلکاروں کے قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے عدم شواہد کی بنا پر گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ اور شیر محمد عرف شیرو کو بری کردیا۔

    عذیر بلوچ کے وکیل عابد زمان نے عدالت میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کئے جاسکے۔

    پروسیکیوشن جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ اور شیر محمد عرف شیرو کو بری کردیا۔

    اس مقد مہ میں پولیس کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزمان نے دو اہلکاروں اعجاز اور ناصر کو اغوا کے بعد قتل کیا تھا اور مقتولین کی مسخ شدہ نعشیں میوہ شاہ قبرستان میں پھینک دی تھیں۔

    اس مقدمہ میں دونوں ملزمان کے خلاف پاک کالونی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھاتاہم استغاثہ کی جانب سے شواہد پیش نہ کیا جانے پر عدالت نے دونوں ملزمان کو بری کردیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس مارچ میں عزیر جان بلوچ کو پولیس اسٹیشن حملے کے مقدمے میں بھی بری کردیا گیا تھا۔

  • وزیراعلیٰ سندھ سے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ کی ملاقات ہوئی جس میں وزیراعلیٰ سندھ نے رمیز راجہ کو شیلڈ، اجرک اور سندھی ٹوپی پیش کی۔

    ملاقات میں جاوید قریشی ممبر بورڈ آف گورنرس بھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں کراچی اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن، کرکٹ کو پروموٹ کرنا اور دیگر معاملات پر بات چچیت ہوئی۔

    اسٹیڈیم کے میچز کی سکیورٹی کو بہتر کرنا ہے تاکہ عوام کو تکلیف نہ ہو، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا سڑکوں کو بند کرنے والا طریقہ کار کرنا ہوگا۔

    *سندھ پیکچ*

    سندھ میں کرکٹ کے بہترین کھلاڑی ہیں، رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ حیدرآباد سے زاہد حسین، لاڑکانہ سے شاہنواز ڈاھانی اور دیگر علاقوں سے اچھے کھلاڑی ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کہتے ہیں حیدرآباد میں کرکٹ کو بحال کرنا چاہتا ہوں، حیدرآباد کا اسٹیڈیم تو بہترین ہے صرف ہوٹل کا مسئلہ ہے، ہم اب منصوبہ بنا رہے ہیں کہ کھلاڑیوں کو بائی ایئر لیکر جائیں،یہ منصوبہ پی سی بی سے فائنل کرینگے، جب کرکٹ حیدرآباد لے جائینگے تو مزید ٹیلنٹ آگے آئے گا۔

    سکھر میں ہم اسپورٹس کامپلیکس بنا رہے ہیں، سکھر کے کامپلیکس میں 2 کرکٹ گراؤنڈز، فوٹبال اور دیگر گراؤنڈٖ ہونگے،پی سی بی کی ٹیکنیکل ٹیم سکھر اسپورٹس کامپلیکس کا دورہ کرے،ہم پی سی بی کی رہنمائی میں سکھر گراؤنڈ بہتر کرینگے۔

    رمیز راجہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو پی سی بی کی طرف سے ہر طرح کی سپورٹ دینے کی یقین دہانی کرائی ہم سندھ میں مزید ٹیلنٹ تلاش کرینگے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ہم سندھ کی ٹیم کواسپونسر کرنے کیلئے تیار ہیں۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں کرکٹ پروموٹ کرینگے۔

  • سرگودھا : تھانہ میلہ کے علاقہ بھابھڑا میں گھر میں گھس کر ملزمان کی فاٸرنگ ۔

    سرگودھا : تھانہ میلہ کے علاقہ بھابھڑا میں گھر میں گھس کر ملزمان کی فاٸرنگ ۔

    سرگودھا: تھانہ میلہ کے علاقہ بھابڑہ میں گھر میں گھس کر ملزمان کی فائرنگ

    سرگودھا: 3 نامعلوم ملزمان نے گھر میں گھس کر فائرنگ کی۔ 2 سگے بھائی شدید زخمی

    سرگودھا: زخمیوں میں محمد اعجاز اور محمد سرفراز شامل ہیں۔ پولیس

    سرگودھا: زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال سرگودھا منتقل کر دیا گیا

    سرگودھا: نامعلوم ملزمان فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب

    سرگودھا: تھانہ میلہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کا آغاز کر دیا

    سرگودھا: واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے۔ مزید حقائق تفتیش کے بعد سامنے آئیں گے۔ پولیس

  • کراچی میں 8 جنوری سے سردی بڑھے گی،محکمہ موسمیات

    کراچی میں 8 جنوری سے سردی بڑھے گی،محکمہ موسمیات

    کراچی میں 8 جنوری سے سردی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔چیف میڑولوجسٹ کراچی سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ کراچی میں8 جنوری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔ درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ میں جاسکتا ہے۔ بارش کے پورے سلسلے میں 40 سے 50 ملی میٹربارش ہوسکتی ہے۔

    چیف میڑولوجسٹ کے مطابق کراچی میں آج شام یا رات سے گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔5 جنوری کی دوپہرتک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ اس دوران تیز سرد ہوائیں چل سکتی ہیں۔

    سردارسرفراز نے مزید بتایا کہ مغربی ہواؤں کا سلسلہ 6 جنوری کی دوپہر سے ایک بار پھر سرگرم ہوگا۔ شہرمیں6 جنوری کی دوپہرسے 7 جنوری کی دوپہرتک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ اس کے بعد بارش میں وقفہ آجائے گا۔