Baaghi TV

Author: +9251

  • کراچی میں زمینوں پر قبضے کرانے والا پولیس افسر گرفتار

    کراچی میں زمینوں پر قبضے کرانے والا پولیس افسر گرفتار

    کراچی : کراچی میں زمینوں پر قبضے کرانے والا پولیس افسر گرفتار

    زمینوں پر قبضے کرانے والا ایس پی موقع واردات سے گرفتار کرلیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق کراچی کے ضلع غربی میں زمینوں پر قبضوں اور زبردستی تعمیرات اور دیگر جرائم کرانے کے الزام میں ایس پی رینک کے پولیس افسر کو گرفتار کرلیا گیا ہے، زیر حراست افسر کے اورنگی ٹائون اور سرجانی تھانے ممیں شکایات درج ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزم ایس پی پولیس موبائل میں آیا اور سرجانی میں زمینوں پر زبردستی تعمیرات کروا رہا تھااور مقامی افراد کو ڈرانے کے لیے سرجانی کے دیگر افسران کا نام بھی استعمال کر رہا تھا، لیکن جب مقامی پولیس موقع پر پہنچی تو افسر نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم اسے حراست میں لے لیا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ ملزم ایس پی کا کارندہ اورنگی ٹائون تھانے میں جرائم کے متعدد اڈے چلاوا رہا ہے، جبکہ ملزم کے خلاف مختلف تھانوں میں شہریوں نے شکایات درج کرارکھی ہیں، جن افراد نے شکایت کی ہے انہیں تھانے طلب کر لیا ہے، متاثرہ شہریوں کی درخواست کے بعد مزید کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

  • اب ہمیں آگے بڑھنا ہے:ووٹوں کے ڈبے خالی نہیں ہونے چاہیں: سعد رضوی

    اب ہمیں آگے بڑھنا ہے:ووٹوں کے ڈبے خالی نہیں ہونے چاہیں: سعد رضوی

    لاہور:اب ہمیں آگے بڑھنا ہے:ووٹوں کے ڈبے خالی نہیں ہونے چاہیں:اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کا کہنا ہے کہ ہمیں آگے چلنا ہے راستہ نہیں بدلنا۔

    لاہورمیں شہدائے ناموسِ رسالت کانفرنس و عرس حافظ خادم حسین رضوی سے خطاب کے دوران سعد رضوی نے کہا کہ مفتی منیب الرحمان سمیت جس نے بھی تحریک لبیک پاکستان کے لیے کاوشیں کیں ، ہم ان تمام لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں، وہ ان ماؤں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو لانگ مارچ میں بھیجا۔

    سعد رضوی نے مزید کہا کہ جس کی فکر اور نظریہ کمزور ہو اس کے ہاتھ میں ایٹم بم بھی ہو تو بھی وہ کچھ نہیں کرسکتا، ہمارے قائد خادم رضوی نے بتایا کہ کس طرح ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنی ہیں، ہمارے شہید بھی بازی جیت گئے، ہمارے زخمی بازی جیت گئے اور ہماری مائیں بھی بازی جیت گئیں کیونکہ یہ بازی موت سے نہ ڈرنے کی بازی تھی، ہم مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہیں کریں گے۔

    سربراہ ٹی ایل پی کا کہنا تھا کہ کارکن ہمارےاعتماد پر پورا اترے ہیں، ہمیں آگے چلنا ہے راستہ نہیں بدلنا۔ اب ہمارا ایک ہی مقصد ہے کہ ووٹوں کے ڈبے خالی نہیں ہونے چاہییں، کاغذوں کا وزن اتنا بڑھانا ہے کہ کوئی ہمارا ووٹ چوری نہ کر سکے۔

    واضح رہے کہ سعد رضوی کو حکومت سے معاہدے کے تحت رواں ماہ ہی رہا کیا گیا ہے۔اوران کوآئندہ ریاست کے خلاف اس قسم کے احتجاجی مظاہروں سے دور رہنے کی شرط پررہا کرنے کے ساتھ ساتھ تحریک پرسے پابندی ختم کی گئی ہے

  • تاجر کا دن دیہاڑے اغوا و رہائی، مقدمہ درج

    تاجر کا دن دیہاڑے اغوا و رہائی، مقدمہ درج

    کراچی : کراچی میں تاجر کا دن دیہاڑے اغوا و رہائی، مقدمہ درج کر لیا گیا ۔

    کراچی کے علاقے صدر کی الیکٹرانکس مارکیٹ کے تاجر کے دن دیہاڑے اغوا اور رہائی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کا مقدمہ تاجر کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے، جس کے مطابق مسلح افراد اسے حب لے گئے، تشدد کیا اور رقم چھین لی۔

    ایف آئی آرمتن کے مطابق چمن کے تاجر کو 2 روز قبل دوست نے زمین خریدنے کے بہانے پیسے لے کر بلایا، تاجر کو دوست نے پہلے گلشن اقبال میں گھمایا، پھر سفید ڈبل کیبن گاڑی میں مسلح افراد آئے۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق مسلح افراد تاجر کو اغوا کرکیحب لیگئے، ایک ملزم تاجر کی گاڑی لیکر پیچھے آیا۔متن کے مطابق ملزمان نے تاجر کی گاڑی کا پیچھا کرکے الیکٹرانکس مارکیٹ سے ہی اغوا کیا، جس کی سی سی ٹی وی ویڈیو موجود ہے۔پولیس حکام کے مطابق تاجر کا بیان ہے کہ ملزمان نے اس سے سادے کاغذات پر دستخط بھی کروائے ہیں، تحقیقات کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہا جاسکے گا۔صدر کراچی الیکٹرانکس مارکیٹ ڈیلر ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ہمارے تاجر کو انصاف دلایا جائے۔

  • سوڈانی فوج کا وزیراعظم کومشروط طورپر بحال کرنےکا فیصلہ:وزیراعظم اداروں سے مشاورت کرنے کے پابند

    سوڈانی فوج کا وزیراعظم کومشروط طورپر بحال کرنےکا فیصلہ:وزیراعظم اداروں سے مشاورت کرنے کے پابند

    خرطرم:سوڈانی فوج کا نئےمعاہدے کےتحت وزیراعظم کو بحال کرنےکا فیصلہ:وزیراعظم اداروں سے مشاورت کرنے کے پابند ،اطلاعات کے مطابق سوڈان میں فوجی بغاوت کے بعد ملٹری قیادت نے معزول وزیراعظم عبد اللہ حمدوک کو ایک معاہدے کے تحت بحال کرنے اور اسیر سیاسی رہنماؤں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملٹری قیادت اور سیاست دانوں کے درمیان مذاکرات کروانے والے ثالثوں نے اعلان کیا کہ سیاسی دھڑوں، سابق باغی گروپوں اور عسکری شخصیات کے درمیان معاہدے کے بعد سوڈان کی فوج نے معزول وزیر اعظم عبد اللہ حمدوک کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ٹائمزآف اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ سوڈانی فوجی قیادت اس بات پرجاکررضا مند ہوئی ہےکہ سوڈان کی سولین حکومت کی قیادت فوجی قیادت سے اہم قومی سلامتی کے معاملات پرمشاورت کرنے کے پابند ہوں گے اورفوجی قیادت کے ریاستی فیصلوں کوماننے کی بھی پابند ہوں گی ، موجودہ وزیراعظم سب سے پہلے اس معاہدے پرعمل کرکے دکھائیں گے

    ثالثوں کے علاوہ امت پارٹی کے سربراہ فضل اللہ برما ناصر نے بھی صحافیوں سے گفتگو میں اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اقتدار کی منتقلی کا یہ معاہدہ جنرل برہان، عبداللہ حمدوک، سیاسی قوتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان طے پایا ہے۔

    فضل اللہ ناصر نے مزید بتایا کہ عبوری حکومت کے وزیراعظم عبداللہ حمدوک ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک آزاد کابینہ تشکیل دیں گے اور تمام سیاسی قیدیوں کو فوج اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت رہا کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 25 اکتوبر کو فوجی لیڈر البرہان نے اقتدار پر قبضہ کرکے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی تھی اور عبوری حکومت کے وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کو گھر میں نظر بند کردیا تھا۔

    ملک میں ایک بار پھر ہونے والی فوجی بغاوت کو عالمی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا تھا جب کہ ملک بھر میں پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا تھا جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔

    واضح رہے کہ سوڈان میں سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے صدر عمر البشیر کو 2019 کے عوامی احتجاجی تحریک کے بعد عہدہ چھوڑنا پڑا تھا جس کے بعد سے بننے والی ہر عبوری حکومت بحران کا شکار رہی ہے۔

  • وزیراعظم نے عثمان بزدار کوایک کام جلد از جلد کرنے کی ہدایت کردی

    وزیراعظم نے عثمان بزدار کوایک کام جلد از جلد کرنے کی ہدایت کردی

    اسلام آباد: وزیراعظم نے عثمان بزدار کوایک کام جلد از جلد کرنے کی ہدایت کردی،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ہدایت دی ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو اسمبلی سے جلد منظور کرایا جائے، اور بلدیاتی انتخابات کے جلد انعقاد کے لئے قانونی کارروائی مکمل کی جائے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے وزیر بلدیات پنجاب میاں محمود الرشید نے پرائم منسٹر ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بات چیت ہوئی، وزیر بلدیات نے وزیراعظم کو بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2021 کے نمایاں خدوخال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2021 کا مقصد نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی یقینی بنانا ہے، نئے ایکٹ کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو زیادہ بااختیار بنایا جائے گا۔

    وزیراعظم سے ملاقات کے دوران محمود الرشید کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ کے مؤثر نظام سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پرحل ہوں گے، نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم نچلی سطح پر عوام کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے عوام کو بااختیار بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان میاں محمود الرشید کو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے جلد انعقاد کا ٹاسک دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے جلد انعقاد کے لئے قانونی کارروائی مکمل کی جائے، پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو اسمبلی سے جلد منظور کرایا جائے۔ وزیراعظم نے انصاف صحت کارڈ اور احساس پروگرام کے متعلق تقریبات کے انعقاد کی بھی ہدایت کی۔

    ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھرمیں بلدیاتی انتخابات کرانےپرعمل درآمد شروع کردیا ہے اوربلوچستان،کے پی ،سندھ ، اسلام آباد کے بعد پنجاب میں انتخابات کروانے کے حوالے سے ہدایات جاری کردی ہیں ، ان ہدایات کے بعد وزیراعظم نے پنجاب حکومت کوجلد ازجلد اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے

  • سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں‌:سول سوسائٹی گروپ آف انڈیا

    سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں‌:سول سوسائٹی گروپ آف انڈیا

    سرینگر:سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں‌:سول سوسائٹی گروپ آف انڈیا ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں قائم ایک سول سوسائٹی گروپ” کنسرنڈ سیٹیزنز گروپ“نے سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں ایک جعلی مقابلے میں عام شہریوں کے قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اصل حقیقت کو سامنے لانے کے لئے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سابق بھارتی وزیر یشونت سنہا کے زیر قیادت کنسرنڈ سیٹیزنز گروپ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ حکام کی طرف سے مجسٹریٹ کے ذرےعے تحقیقات کا حکم واقعے سے چشم پوشی کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ گروپ نے کہاکہ مجسٹریل انکوائری کو فوری طور پر عدالتی تحقیقات میں تبدیل کیا جانا چاہیے تاکہ سچائی کو بے نقاب کیا جا سکے اور قانون کی حکمرانی پر لوگوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

    بیان میں کہاگیا کہ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ تحقیقات کو فوری طوپر مکمل کیا جائے اورواقعے میں ملوث افراد کو معطل کیاجائے۔ ہم ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طورپر جموں و کشمیر کا دورہ کریں اور اس مسئلے کو پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں اٹھائیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گروپ 2016 سے کشمیر کے دوروں کے بعد تیار کی گئی اپنی نو رپورٹوں میں کشمیر کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے جس طرح بہت سے دوسرے لوگ جن میںصورتحال سے واقف فوجی کمانڈر بھی شامل ہیں، فوجی حل کے بجائے سیاسی حل پر زوردے رہے ہیں۔

    بیان میں کہاگیا ہے کہ ہم نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ سیاسی حل تمام فریقین کے ساتھ بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے۔ لیکن ہمارے اس مطالبے سے کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔بھارتی حکومت نے گورنر راج سے لے کر آئینی تبدیلیوں تک ہر چیز کی کوشش کی ہے لیکن کچھ بھی نہیں کرسکی کیونکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔بیان میں کہا گیا کہ شہریوں کے قتل سے ثابت ہوا ہے کہ زمینی صورتحال معمول سے بہت دور ہے جس کا دعویٰ حکام وقتاً فوقتاً کرتے رہے ہیں۔

    بیان میں کہاگیا کہ بے گناہ شہریوں کے قتل جیسے واقعات سے صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔ گروپ نے بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کے اس بیان کی بھی مذمت کی جس میں انہوں نے عسکریت پسندوں کو تشدد کرکے قتل کرنے کی حمایت کی تھی۔ بیان میں کہاگیا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل راوت کو ملک کے قوانین کا کوئی احترام نہیں ہے اور وہ صرف جنگل راج پر یقین رکھتے ہیں۔ سی سی جی نے کہا کہ جنرل راوت کو فوری طور پر یہ بیان واپس لینا چاہیے اور اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

  • دنیا والو :بھارتی حکومت کشمیری مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے : محبوبہ مفتی

    دنیا والو :بھارتی حکومت کشمیری مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے : محبوبہ مفتی

    سرینگر:دنیا والو :بھارتی حکومت کشمیری مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہاہے کہ بھارتی حکومت نئی جماعتوں کو فروغ دے کر جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے کپوارہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اگرچہ انتخابات لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اہم ہیں لیکن یہ مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہیں اورنہ یہ میری ترجیح ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس کو تقسیم کیا جا رہا ہے، لوگوں کو پی ڈی پی اور این سی سے نکال کر نئی جماعتیں بنائی گئی ہیں اور یہ سب کچھ کشمیری عوام کو بے اختیار کرنے اوران کی طاقت کو کم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہامجھے یقین ہے کہ کشمیری عوام سیاسی طور پر بالغ ہیں اور وہ اسے سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں نے اپنے پرامن احتجاج کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی کو تین متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے پر مجبور کیا۔ محبوبہ مفتی نے امید ظاہر کی کہ ایک دن آئے گا جب بھارتی حکومت دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کرے گی۔انہوں نے کہاکہ کسانوں نے ایک سال تک پرامن احتجاج کیا اور اپنے حقوق حاصل کیے۔

    پی ڈی پی سربراہ نے کہاکہ بدقسمتی سے جموں و کشمیر میں لوگوں کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں جنگل راج ہے، لیکن یہ ایسا نہیں رہے گا، ایک دن آئے گا جب بھارتی حکومت کو ہمیں دفعہ 370 اور -A 35سود کے ساتھ واپس کرنا پڑےگا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ خصوصی حیثیت کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    انہوں نے کہاکہ بی جے پی کو دفعہ 370 کو منسوخ کرنے میں 70 سال لگے، اس لیے ہم بھی اپنی شناخت کی بحالی اور ہمارے ساتھ کئے گئے وعدوں پرعملدرآمدکے لیے جدوجہد کریں گے جوبھارتی آئین میں درج ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک دفعہ 370 اور -A 35 بحال نہیں ہو جاتا اور مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جاتا۔

  • سندھ حکومت کا صوبے کےتمام وکلا کو ہیلتھ انشورنس دینےکا فیصلہ : وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ

    سندھ حکومت کا صوبے کےتمام وکلا کو ہیلتھ انشورنس دینےکا فیصلہ : وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ

    کراچی (21 نومبر) سندھ حکومت کا صوبے کےتمام وکلا کو ہیلتھ انشورنس دینےکا فیصلہ : وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وکلاءکیلئے ہیلتھ انشورنس دینے کا اعلان کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ بار کی سالانہ عشائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہیلتھ انشورنس پالیسی کےتحت وکلا کو مفت علاج کی سہولت دستیاب ہوگی نیز ہیلتھ انشورنس پالیسی کے لئے رقم صوبائی حکومت ادا کرے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوئر کورٹس,اور اعلی عدالتوں کےوکلا ہیلتھ انشورنس پالیسی سےمستفید ہوسکیں گے ۔
    سندھ میں 33ہزار سےزائد وکلا رجسٹرڈ ہیں اور وکلا ہیلتھ انشورنس پالیسی کےلئے وزیراعلی سندھ نےسمری منظور کرلی ۔ انہون نے کہا کہ وکلا کو ہیلتھ انشورنس پالیسی دینےوالا سندھ پہلا صوبہ ہوگا ۔
    وکلا ہیلتھ انشورنس پالیسی کےلئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے 12کروڑ روپے کےفنڈز بھی جاری کئے ۔

  • میرا بچپن ہائی کورٹ کی لان میں کھیلتے گذرا : وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا سندھ ہائی کورٹ بار کی سالانہ عشائیہ تقریب سے خطاب

    میرا بچپن ہائی کورٹ کی لان میں کھیلتے گذرا : وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا سندھ ہائی کورٹ بار کی سالانہ عشائیہ تقریب سے خطاب

    کراچی : میرا بچپن ہائی کورٹ کی لان میں کھیلتے گذرا ۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ ہائی کورٹ بار کی سالانہ عشائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا بچپن ہائی کورٹ کی لان میں کھیلتے گزرا جب میرے والد ہائی کورٹ کے وکیل تھے۔ ان دنوں میرے والد مجھے اور میری بہن کو اسکول سے یہاں چھوڑتے اور خود اپنے کیسز کیلئے نکل پڑتے ۔ انھوں نے کہا کہ میرے والد زندگی میں ایام میں ویل چیئر پر سخت بیماری کی حالت میں آکر بیل کیلئے پیش ہوئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس ملک کا آئین ہے جس سے ہم سب نے فالو کرنا ہے۔ میں 2002 سے رکن اسمبلی ہوں، 1973 کے آئین میں اسمبلی رکنیت کیلئے دو اہلیت تھیں جس میں اس ملک کا شہری ہونا اور عمر کی حد شامل تھی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وقت کے ساتھ مقننہ کو کمزور کرنے کیلئے 7 اہلیت رکھی گئی جس میں صادق و امین بھی شامل ہوگئی جبکہ پہلے نااہلیت کی چارحدیں تھیں اب 16 ہوگئی ہیں جس میں پروفیسر اور سیکنڈ ایئر بھی اہل ہونا شامل کردیا گیا ہے اور اب ایف بی آر، ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں سے رپورٹ منگوائی جاتی ہیں۔ جسٹس منصور علی خان کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جس وقت جسٹس منصور علی خان چیف جسٹس پنجاب تھے تو کسی نے لکھا کہ یہ مریکل ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب ایک مقننہ انتخابات کیلئے جاتے ہیں پھر اسکروٹنی شروع ہوتی ہے۔ اگر رکن اسمبلی بن گیا تو چینلنج بھی ہونا شروع ہوجاتا ہے، میں انسٹرکشس کو کمزور کرنے کیلئے جو بات کرتا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آئین کو تحفظ نہ دے سکے، اگر کوئی رکن اسمبلی بن جاتا ہے تو چیلنج کی صورت میں ٹربیونل کو چھ ماہ فیصلہ کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایگزیکٹو کو کمزور کیا گیا ہے، ایگزیکٹو کیسز بھی مجھے بھگتنے پڑتے ہیں، اگر کچھ کہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ توہین عدالت لگ جائے گی، باقی دنیا میں توہین عداہت کے کیسز ختم ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لندن میں ایک اخبار نے جج کا الٹا فوٹو شائع کرکے کیپشن لکھا پرانا فوٹو ۔ جس پر جج نے کہا میں پرانا ہوں، لیکن بیوقوف نہیں اس کا فیصلہ لوگوں نے کرنا ہے لیکن میں توہین عدالت نہیں لگاؤ ں گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ اب عدلیہ ایگزیکٹو کا پاور بھی لے گئی ہے، عدلیہ نے ایگزیکٹو اور مقننہ کے پاور پر بھی قبضہ کیا ہے اس طرح کرنے سے ادارے کمزور ہوگئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان نے آج لاہور میں کہا کہ ہم دباؤ یا ڈکٹیشن نہیں لیتے، چیف جسٹس کی یہ بات سن کر مجھے خوشی ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ جسٹس منصور علی خان نے لکھا تھا کہ عدلیہ آخری امید ہے، عدلیہ نے جمہوریت کو تحفظ دینا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں جب سیاست میں آیا تو میرے والد نے کہا کہ آپ کے کام پر شک کیا جائے گا،میں امریکا میں نوکری کررہا تھا جب مجھے والد نے بلاکر انتخابات لڑنے کیلئے کہا۔ خطاب کے آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے وکلاءکیلئے ہیلتھ انشورنس دینے کا اعلان کیا اور سندھ ہائی کورٹ کے دیرینہ مسئلہ پارکنگ کا حل بھی نکالنے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شرکاء کو سندھ کابینہ میں میرپورخاص میں ہائی کورٹ سرکٹ بینچ قائم کرنے کی بات بھی کی ۔

  • ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی  نے دوا ساز اداروں اور ڈاکٹروں کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

    ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے دوا ساز اداروں اور ڈاکٹروں کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

    اسلام آباد :ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے دوا ساز اداروں اور ڈاکٹروں کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا،اطلآعات کے مطابقڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے ملک بھر میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے لیے ادویات کی مارکیٹنگ کے طریقوں کو ریگولیٹ کرنے کے نئے منظور شدہ قوانین جاری کردیے ہیں۔

    ڈریپ نے وفاقی حکومت سے منظوری حاصل کرنے کے بعد ’ایتھیکل مارکیٹنگ ٹو ہیلتھ کیئر پروفیشنلز رولز 2021‘ کے عنوان سے فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی ریگولیشن کے لیے نیا ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے۔

    اس حوالے سے ڈریپ کی جانب سے دوا ساز اداروں کے لیے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے تاکہ اس پر باقاعدہ عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔

    ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے دوا ساز اداروں اور ڈاکٹروں کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے، میڈیا رپورٹ کے مطابق فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور ڈاکٹروں کے تعلقات پر مبنی ضابطہ اخلاق وفاقی کابینہ کی منظوری سے جاری کیا گیا جس کے مطابق دوا ساز اداروں کو ڈاکٹروں کو نقد رقوم دینے سے روک دیا گیا ہے، اس کے علاوہ دوا ساز ادارے ڈاکٹروں کے اہل خانہ اور دیگر افراد کے سفری اخراجات برداشت نہیں کریں گے۔

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”438885″ /]

    ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ کے بغیر غیر ملکی سفر کے اخراجات نہ دیے جائیں جب کہ تعلیمی اور سائنٹیفک کانفرنسوں کے لیے غیر ضروری رقوم بھی فراہم نہ کی جائیں۔ تمام طبی تعلیمی کانفرنسیں ملک کے اندر منعقد کی جائیں اور طبی کانفرنسوں کے دوران تفریحی پروگرام، بے تحاشا مہنگے کھانے نہ مہیا کیے جائیں، اس کے علاوہ دوا ساز اداروں کو ڈاکٹروں کے ذاتی تفریحی اور سفری اخراجات سمیت ڈاکٹروں کو ہر طرح کے تحائف اور اہل خانہ لئے ہر طرح کی تفریحی سرگرمیاں منعقد کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ڈریپ کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق میں دوا ساز کمپنیوں کو نئے رولز پر عمل کے لیے سینئر افسران مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے