Baaghi TV

Author: +9251

  • میری قوم کو بچالیں:پیمرا نے وزیراعظم کے حکم پرغیراخلاقی مواد،مناظردکھانے پرپابندی لگا دی

    میری قوم کو بچالیں:پیمرا نے وزیراعظم کے حکم پرغیراخلاقی مواد،مناظردکھانے پرپابندی لگا دی

    اسلام آباد:میری قوم کو بچالیں:پیمرا نے وزیراعظم کے حکم پرغیراخلاقی مواد،مناظردکھانے پرپابندی لگا دی،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے حکم پرپیمرا نے ایسا حکم جاری کردیاہے کہ جس کے منظرعام پرآنے کے بعد عوام الناس بہت خوش دکھائی دیتے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں وزیراعظم پورٹل پرشکایت کی گئی تھی جس کے بعد وزیراعظم نے پیمرا کو حکم دیا

     

     

    اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا ) نے پاکستان سٹیزن پورٹل ، پیمرا کمپلینٹ کال سینٹر اور فیڈ بیک سسٹم پرموصول ہونیوالی شکایات ، سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر پاکستانی ڈراموں پرہونیوالی تنقید کے بعد کہا ہے کہ گلے لگانا ،ماورائے ازدواجی تعلقات ،فحش مناظر ،فحاشی ،بولڈ ڈریسنگ ،اخلاق باختہ مناظر اور شادی شدہ جوڑوں کی مباشرت جیسے مناظر پاکستانی معاشرے کی ثقافت اور اسلامی تعلیمات کی صریحاخلاف ورزی ہے ،

    تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس طرح کے مناظر دکھانے سے گریز کریں ،تمام سیٹلائٹ ٹی وی لائسنس ہولڈر ز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ پیمرا قوانین پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائیں

  • لاہور:انٹرنیٹ سروس بحال، تمام راستے کھل گئے؛عوام الناس نے سُکھ کا سانس لیا ، شکرانے کے نفل پڑھے

    لاہور:انٹرنیٹ سروس بحال، تمام راستے کھل گئے؛عوام الناس نے سُکھ کا سانس لیا ، شکرانے کے نفل پڑھے

    : لاہور کے مختلف علاقوں میں کالعدم تحریک لبیک کے احتجاج کے باعث بند کی گئی انٹرنیٹ سروس بحال ہونے لگی۔

    لاہور کے مختلف علاقوں میں کالعدم تحریک لبیک کے احتجاج کے باعث بند کی گئی انٹرنیٹ سروس بحال ہونے لگی۔جبکہ کئی علاقوں کی سڑکوں کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر ٹریفک رواں دواں ہے، بابو صابو، سگیاں، شاہدرہ اور ٹھوکر نیاز بیگ سے شہری آ جا سکتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بابو صابو سے اسکیم اور یتیم خانہ روڈ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ لوئر مال، راوی پل اور سیکریٹریٹ چوک پر بھی ٹریفک رواں دواں ہے۔

    اطلاعات کے مطابق جی ٹی روڈ رانا ٹاؤن کے مقام پر کئی گھنٹے پولیس اور مزہبی جماعت کے کارکنوں میں تصادم جاری رہا,مظاہرین نے پولیس پر دھاوا بول دیا۔پولیس اہلکاروں کو پسپا کردیا۔

    جی ٹی روڈ رانا ٹاؤن آج سارا دن میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا،مزہبی جماعت کی پیش قدمی روکنے کے لیے رانا ٹاؤن کے مقام پر انتظامیہ کی جانب سے جی ٹی روڈ رانا ٹاؤن پرکنٹینر لگا کر شاہراہ بلاک کی گئی تھی ۔

     

     

     

    رینجرز کی بھاری نفری بھی موقع پر تعینات کی گئی تھی۔مظاہرین کی جانب سے پیش رفت جاری رکھنے پر پولیس کی جانب سے مظاہرین پر آنسوں گیس کی شیلنگ کی گئی جبکہ شیلنگ کے جواب میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا,مزہبی جماعت کے کارکنوں نے کالا شاہ کاکو کی جانب سے پولیس پر دھاوا بول دیا,دونوں اطراف سے حملے کے بعد پولیس پسپائی پر مجبور ہو گئی اور دستے الٹے پاؤں بھاگنے لگے۔

    مظاہرین نے اپنے ہتھے چڑھنے والے اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایااور پتھروں ،لاٹھیوں اور جو چیز بھی ان کے ہاتھ میں آئی اس سے پولیس پر تشدد کیاجس کے بعد کئی اہلکار شدید زخمی ہو گئے اور بے یارو مددگار طبی امداد کے منتظر رہے،مظاہرین نے پولیس کی درجنوں گاڑیاں بھی تباہ کردیں۔

    پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی مکمل پسپائی کے بعد مظاہرین نے اپنے راستے میں حائل تمام رکاوٹوں کو ہٹا کر اسلام آباد کی جانب پیش قدمی دوبارہ شروع کردی۔

  • وزیراعظم عمران خان مدینہ منورہ پہنچ گئے: ڈپٹی گورنر نے استقبال کیا

    وزیراعظم عمران خان مدینہ منورہ پہنچ گئے: ڈپٹی گورنر نے استقبال کیا

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان مدینہ منورہ پہنچ گئے:ننگے پاوں مدینے کی گلیوں میں چل کرعقیدت سے لطف اندوزہوتے رہے،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے تین روزہ دورے پر وزیراعظم عمران خان مدینہ پہنچ گئے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اپنے تین روزہ دورہ سعودی عرب کے موقع پر مدینہ منورہ پہنچ گئے، مدینہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن خالد الفیصل نے وزیراعظم عمران خان کا شاندار ا ستقبال کیا۔ وزیر اعظم مسجد نبوی میں روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیں گے۔

    مدینہ پہنچنے کے بعد وزیراعظم جب جہاز سے باہر آئے تو وہ جوتوں کے بغیر ننگے پیر تھے۔ان کی اس عقیدت کو دیکھ کرسعودی شیوخ ، وزرا اوردیگراعلیٰ حکام بہت متاثر ہوئے ، وزیراعظم بھی مدینہ شریف کی شاہراہوں پر احترام ،محبت اورعقیدت کے چلتے ہوئے انتہائی خوش دکھائی دے رہے تھے

    وزیراعظم کے وفد میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر توانائی حماد اظہر اور معاون خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم شامل ہیں۔

    قبل ازیں پاکستان کے وزرات خارجہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم 23 اکتوبر سے 25 اکتوبر کے دورے کے دوران ریاض میں ہونے والی ’مڈل ایسٹ گرین اینی شیئٹیو‘ سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

    سربراہی کانفرنس کے دوران وزیراعظم ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کو درپیش چینلجز پر اپنا نکتہ نظر بیان کریں گے۔ وزیراعظم اس موقع پر ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قدرتی طریقوں پر مبنی پاکستانی تجربات پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

    ایم جی آئی سربراہی کانفرنس سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کی ایما پر منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ مشرق وسطی میں اپنی نوعیت کی پہلی ایسی کانفرنس ہے۔

    یاد رہے کہ اس سال مارچ میں سعودی ولی عہد نے گرین سعودی عرب اور گرین مڈل ایسٹ کے نام سے منصوبے شروع کیے تھے۔ ان کا مقصد کرہ ارض اور قدرتی حیات کا تحفظ ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ایسے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے پیش کش کی تھی کہ اس سلسلے میں پاکستان کلین اینڈ گرین پاکستان اور ٹین بلین ٹری سونامی جیسے منصوبوں کا تجربہ بھی شیئر کر سکتا ہے

  • خبریں چلانےسے کسی کا استعفیٰ  نہیں‌ ہوجاتا:ابھی بھی وزیراعلیٰ ہوں:کوئی استعفیٰ نہیں دیا:جام کمال

    خبریں چلانےسے کسی کا استعفیٰ نہیں‌ ہوجاتا:ابھی بھی وزیراعلیٰ ہوں:کوئی استعفیٰ نہیں دیا:جام کمال

    کوئٹہ:خبریں چلانےسے کسی کا استعفیٰ نہیں‌ ہوجاتا:ابھی بھی وزیراعلیٰ ہوں:کوئی استعفیٰ نہیں دیا:اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ عہدے سے مستعفی ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

     

     

    ادھر وزیراعلیٰ جام کمال خان کے استعفے کے حوالے سے ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے بھی وزیراعلیٰ کے استعفے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جام کمال نے کوئی استعفیٰ نہیں دیا لہذا ایسی خبریں پھیلانے سے گریز کیا جائے

     

     

    یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین اور اپوزیشن کی جانب سے وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی جس پر رائے شماری 25 اکتوبر کو ہونا تھی۔

    اس سے قبل خبریں چل رہی تھیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے تحریک عدم اعتماد سے قبل ہی عہدے سے استعفی دے دیا اور استعفی گورنر بلوچستان آغا ظہور کو ارسال کر دیا تھا۔

    دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے لکھا کہ میں نے کوئی استعفی نہیں دیا۔ استعفی سے متعلق افواہیں نہ پھیلائی جائیں۔

    ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے بھی ٹویٹر پر لکھا کہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کے استعفی کے متعلق خبر میں صداقت نہیں۔

    خیال رہے کہ 20 اکتوبر کو بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پیش کی گئی تھی۔ جس پر رائے شماری 25 اکتوبر کو ہونا تھی۔

    رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔ قرارداد کی 33 ارکان نے حمایت کی تھی، اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر حمایت کا اعلان کیا تھا۔

    اس موقع پر عبدالرحمان کھیتران کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی خراب حکمرانی کے باعث مایوسی، بدامنی، بیروزگاری، اداروں کی کارکردگی متاثرہوئی ہے،وزیراعلی خود کو عقل کُل سمجھ کراہم معاملات کو مشاورت کیے بغیر چلا رہے ہیں۔ اہم معاملات کو مشاورت کے بغیر چلانے سے صوبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاگیا، وزیراعلیٰ اپنے طور پر صوبے کے معاملات چلارہے ہیں، مطالبہ کرتے ہیں کہ خراب کارکردگی پر وزیراعلیٰ کوعہدے سے ہٹایا جائے۔

    اس پر بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ نورمحمد نے پی ایچ ای وزارت سے استعفی دے دیا۔ جمہوری حوالے سے دل بڑا رکھنا چاہیے۔ میراگلہ اپوزیشن سے بنتا نہیں، اپوزیشن کو ساڑھے تین سالوں کے گلے شکوے ہیں۔ میراگلہ نالاں دوستوں سے بھی نہیں ہے۔ یہ سب سیاست کا حصہ ہے۔ جب ہم کہیں بات کرتے ہیں تو آج کے دور میں ہر چیز کو نمایاں کر دیا۔ ایسی بات کرنی چاہیے تاکہ چار ماہ بعد کھڑے ہو سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات وہ بات کریں جس کا کل دفاع کر سکیں، کسی کی سیاسی بات کو مائنڈ نہیں کیا۔ میں نہیں کہتا ہم سب ٹھیک کر رہے ہیں ۔ بہت سارے لوگ برداشت کرتے اور بہت سے نہیں کرتے۔

    ترقیاتی کاموں کے حوالے سے جام کمال خان کا کہنا تھا کہ ہرضلع میں آج کام ہو رہا ہے۔ سیاست میں کسی اغواء نہیں کیاجاتا۔ ہم ناراض دوستوںسے قلم دان لے سکتے تھے۔ کسی کو ناراض ہونے سے روک نہیں سکتے، ہر جماعت کا ایک طریقہ کار ہوتاہے۔مجھے اپنی جماعت اور اتحادیوں نے ووٹ دیا، اپوزیشن نہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ رائے شماری کے دن ہونے والے فیصلے کو قبول کرون گا استعفی نہیں دونگا، ناکامی کاسامنا کرونگا یہ سیاست کا حصہ ہے۔ گورننس چلانے والا ایڈمنسٹرٹر ہوتا ہے۔ سب کا مشکور ہوں، خاص کر اپوزیشن لیڈر کا جنہوں آج اچھی تقرر کی۔ ہر ایم پی اے کا وزن ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ثناء بلوچ کا چیلنج قبول کرتا ہوں، اگر دو فیصد ووٹ نہ ملے تو ہمیشہ کیلئے سیاست چھوڑ دونگا،مگر اب ثناء کو اپنی بات قائم رہیں، میں سمجھ رہاتھاکہ اسد بلوچ پانچ سال تک رہے گا

  • مذاکرات جاری ،  سعد رضوی کی آمد کے منتظر،جس طرح کہیں وہ کردکھائیں گے:مرکزی شوریٰ کا اعلان

    مذاکرات جاری ، سعد رضوی کی آمد کے منتظر،جس طرح کہیں وہ کردکھائیں گے:مرکزی شوریٰ کا اعلان

    لاہور:تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہوچکا ہے اور اب یہ اطلاعات ہیں کہ مرکزی شوری نے اعلان کیا ہے کہ اب سعد رضوی مارچ کے سٹیج پر آ کر اعلان کریں گے تو مارچ رکے گا نہیں تو ہماری منزل اسلام آباد ہے۔

    ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تحریک لبیک کا تحفظ ناموسِ رسالتﷺ لانگ مارچ مرید کے پہنچ چکا ہے. ان شاءاللہ رات ادھر رک کر آرام کیا جائے گا اور کل صبح بعد نماز فجر قافلہ عشق و مستی اپنی منزل (فیض آباد) اسلام آباد کی جانب گامزن ہو گا.

    اعلان یہ ہوا ہے کہ مریدکے پہ ہم رکے ہیں اور امیر محترم کا انتظار کریں گے اگر وہ آگئے تو اگلے لائحہ عمل امیر محترم دیں گے ورنہ ہم یہاں سے صبح کو اسلام آباد نکالیں گے

    مرکزی شوری کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سادوکی ،کامونکی گجرانوالہ والے آگے بڑھو اور تحریکی بھائیوں کو کھانا اور پانی اور ضروری سامان پہنچانے میں کردار ادا کریں اور میزبانی کریں کل سے پیدل موبائل سگنلز نیٹ کا بھی مسلہ ہے سب میزبان بنیں اور مریدکے میں پہنچے

    ادھر اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تھانہ فیروز والہ میں وکلای ٹیم موجود ہے اور اویس شہید بھائی کے قتل کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست جمع کروا دی گئی

    ادھر اس سے پہلے آج جی ٹی روڈ رانا ٹاؤن کے مقام پر کئی گھنٹے پولیس اور مزہبی جماعت کے کارکنوں میں تصادم جاری رہا,مظاہرین نے پولیس پر دھاوا بول دیا۔پولیس اہلکاروں کو پسپا کردیا۔

    جی ٹی روڈ رانا ٹاؤن آج سارا دن میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا،مزہبی جماعت کی پیش قدمی روکنے کے لیے رانا ٹاؤن کے مقام پر انتظامیہ کی جانب سے جی ٹی روڈ رانا ٹاؤن پرکنٹینر لگا کر شاہراہ بلاک کی گئی تھی ۔

    رینجرز کی بھاری نفری بھی موقع پر تعینات کی گئی تھی۔مظاہرین کی جانب سے پیش رفت جاری رکھنے پر پولیس کی جانب سے مظاہرین پر آنسوں گیس کی شیلنگ کی گئی جبکہ شیلنگ کے جواب میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا,مزہبی جماعت کے کارکنوں نے کالا شاہ کاکو کی جانب سے پولیس پر دھاوا بول دیا,دونوں اطراف سے حملے کے بعد پولیس پسپائی پر مجبور ہو گئی اور دستے الٹے پاؤں بھاگنے لگے۔

    مظاہرین نے اپنے ہتھے چڑھنے والے اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایااور پتھروں ،لاٹھیوں اور جو چیز بھی ان کے ہاتھ میں آئی اس سے پولیس پر تشدد کیاجس کے بعد کئی اہلکار شدید زخمی ہو گئے اور بے یارو مددگار طبی امداد کے منتظر رہے،مظاہرین نے پولیس کی درجنوں گاڑیاں بھی تباہ کردیں۔

    پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی مکمل پسپائی کے بعد مظاہرین نے اپنے راستے میں حائل تمام رکاوٹوں کو ہٹا کر اسلام آباد کی جانب پیش قدمی دوبارہ شروع کردی۔

  • پی آئی اے کا بیڑا "تر”گیا ایک اور جدید طیارے کی شمولیت

    پی آئی اے کا بیڑا "تر”گیا ایک اور جدید طیارے کی شمولیت

    کراچی :پی آئی اے کا بیڑا "تر”گیا ایک اور جدید طیارے کی شمولیت،اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کے بیڑے میں ایک اور ایئر بس320 طیارہ شامل ہوگیا ، طیارہ فرانس کے شہر پرپیگنن براستہ مصر اسلام آباد پہنچا۔

    تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کے میں بیڑے جدید طیاروں کی شمولیت کا سلسلہ جاری ہے ، ڈرائی لیز پر حاصل کیا گیا دوسرا طیارہ اسلام آباد پہنچ گیا ، ایئربیس 320 طیارہ چھے سال کی لیز پر حاصل کیا گیا۔

    طیارہ فرانس کے شہر پرپیگنن براستہ مصر اسلام آباد پہنچا، اے 320 طیارہ آئندہ چند روز میں پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا جائے گا۔

    قومی ایئرلائن نے تین ہفتے قبل بھی ڈرائی لیز پر ایک طیارہ حاصل کیا تھا جو کہ آپریشن کا حصہ بن چکا ہے ، موجودہ انتظامیہ کے دور میں یہ تیسرا طیارہ ہوگا جو کہ پی آئی اے کے بیڑے کا حصہ بنا۔

    اس طیارے کی شمولیت سے پی آئی اے بیڑے میں ائیر بس 320 طیاروں کی مجموعی تعداد 11 ہوگئی ، بزنس پلان کے مطابق مزید طیارے پی آئی اے کے بیڑے کا حصہ بنیں گے۔

    طیاروں کے حصول میں تعاون کیلئے سی ای او پی آئی اے نے خصوصی طور پر وزیر ہوابازی اور وزارت خزانہ کا شکریہ ادا کیا ۔

    اس موقع پر ائیر مارشل ارشد ملک نے کہا کہ نئے اور بہتر طیاروں کے حصول سے پی آئی اے کے پروڈکٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا، پی آئی اے نے حالیہ دونوں میں آپریشن اور سیفٹی کے تمام بین الاقوامی معیار میں بہتری حاصل کی ہے۔

  • کل سےآج تک ٹی ایل پی والوں کےکاررواں کی لمحہ بہ لمحہ کہانی باغی ٹی وی  کی زبانی

    کل سےآج تک ٹی ایل پی والوں کےکاررواں کی لمحہ بہ لمحہ کہانی باغی ٹی وی کی زبانی

    لاہور:کل سے آج تک ٹی ایل پی والوں کے کاررواں کی لمحہ بہ لمحہ کہانی انٹیلی جینس اداروں کی زبانی ،اطلاعات کے مطابق کالعدم تحریک لبیک کی طرف سے شروع کئے گئے احتجاجی دھرنے نے زورپکڑ لیا ہے اور اس وقت یہ کاررواں بڑی تیزی سے آگے بڑھتا جارہا ہے

    اس دوران کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں نے کس طرح حفاظتی رکاوٹیں اور پابندیاں پس پشت ڈالیں اور اس دوران پولیس نے اپنے فرائض کس طرح ادا کیئے اس حوالے سے خصوصی اداروں نے لمحہ بہ لمحہ ایک رپورٹ مرتب کی ہے جو کچھ اسی طرح ہے ،ٹی ایل پی مارچ کے شرکاء نے کل رات پانچ بجے آزادی چوک پر رکنے کےبعد پھر آگے بڑھنا شروع کیا۔ پولیس کے ساتھ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب یہ کاررواں بھاٹی چوک پر پہنچا جہاں پولیس نے ٹی ایل پی کے لوگوں کے خلاف اس وقت سخت رویہ اختیار کیا جب ہجوم نے پولیس کی طرف سے کی گئی حفاظتی رکاوٹیں ہٹانا شروع کیں‌ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹھیک 8 بجے ٹی ایل پی کے مرکزی جلوس میں شامل افراد کی تعداد کم وبیش 1500 کے لگ بھگ تھی

    اداروں کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق تقریبا 9 بجے TLP کے 2 الگ الگ گروپ شیخوپورہ اور گوجرانوالہ سے مرکزی کارواں میں شامل ہونے کے لیے یہاں پہنچے۔ٹی ایل پی کے کاررواں کے حوالے سے جاری اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 10 بجے TLP کاروان نے لاہور کے مضافات میں مرکزی جی ٹی روڈ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہوئے شاہدرہ تک جا پہنچے اس موقع پر پولیس کے حفاظتی دستوں نے امامیہ ریلوے کراسنگ اور رانا ٹاؤن میں ٹی ایل پی کے مظاہرین کوآڑے ہاتھوں لیا ۔اس رپورٹ کے مطابق کم وبیش 12 بجے کے قریب لانگ مارچ مقام کالا شاہ کاکو کے قریب پہنچا جہاں ٹی ایل پی کارکنوں نے اپنے ان ساتھیوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی جن کے بارے میں دعویٰ ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔ٹھیک ایک بجے پولیس نے گوجرانوالہ سے لاہور آنے والے راستہ بند کر دیا تاکہ TLP کے کارکنان کو لانگ مارچ میں شامل ہونے سے بچایا جا سکے۔اس دوران پولیس نے بہتر حکمت عملی اپناتے ہوئے ٹی ایل پی کے کاررواں کو ایک مرتبہ روک دیا ہے جو اسلام آباد کی طرف جانے کےلیے بے چین نظر آتے ہیں‌

    دوسری طرف اس حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ محکمہ موسمیات نے 2 دن قبل شدید موسم کے لیے پیشگی وارننگ جاری کی تھی آج صبح گجرات ، سیالکوٹ اور مضافات میں بارش کی اطلاع ملی تھی ، رپورٹ کے مطابق اگر بارش کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مؤثر شرکاء کی تعداد میں کمی متوقع ہے۔

    ادھراسلام آباد اور راولپنڈی میں ہونے والی ٹی ایل پی کی سرگرمیوں کے متعلق رپورٹ میں بتایا کہ کل رات دیر گئے اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری نے فیض آباد کے ارد گرد ہوٹلوں / ریستورانوں / جنرل سٹورز کو بند کرنے کا حکم دیا اور پھر اس پر عمل بھی کروایا ، پولیس نے لیاقت باغ ، بنی چوک اور آس پاس کے علاقوں میں بھی اس قسم کے احکامات صادرکرکے صورت حال کوقابومیں رکھنے کی کوشش کی سڑکوں کی صورتحال اب بھی ویسی ہی ہے جیسی پہلے بتائی گئی تھی۔ ایڈیشنل صدر – کے ایف سی تا فیض آباد مری روڈ مکمل طور پر بند ہے۔جنرل ٹریفک ڈس آرڈر سے بچنے کے لیے مال روڈ ، کچہری چوک اولڈ ایئرپورٹ روڈ ، کورال چوک ، پشاور روڈ اور آئی جے پی روڈ کو کھلا رکھا گیا ہے۔اسلام آباد I-9 سے کھنہ لنک 9 ویں ایونیو اور I-8 کے ذریعے ڈبل آر ڈی سگنل سے موڑنے کے بعد کھلا ہے۔

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہےکہ اس وقت ٹی ایل پی کے مختلف دھرنوں اورمظاہروں میں شامل افراد کی تعداد 8 سے 10 ہزار کے درمیان ہوسکتی ہے ، یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ لوگ جوجی ٹی روڈ کے ساتھ ساتھ اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں وہ جیسے جیسے کاررواں آگے بڑھتا جائے گا اس میں شامل ہوتے جائیں گے ، اس حوالے سے جہلم اورپوٹھوہار کے دیگرعلاقوں سے ایسی اطلاعات ہیں کہ لوگ تیار بیٹھے ہیں‌

    پوٹھوہار ریجن کے ضلع جہلم کا امیر پہلے ہی کاروان میں موجود ہے اور زخمی بھی ہے ،ادھراطلاعات کے مطابق امیر شمالی پنجاب کو ایل ای اے نے گرفتار کیا ہے اور راولپنڈی ڈویژن کے امیرمیجر یعقوب سیفی ابھی تک بڑی تعداد کے ساتھ وہاں موجود ہیں ،

    اسلام آباد اور راولپنڈی ڈسٹرکٹ میں ٹی ایل پی کے کارکنان بظاہر خاموش ہیں اور بڑی گرفتاریوں سے بچنے میں کامیاب ہو گئے ملک بھر سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پرکہا جاسکتا ہےکہ ٹی ایل پی کے کاررواں میں اضافہ ہوسکتا ہے اورحکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات ناکامی ہوسکتےہیں جس کی صورت میں معاملات کے بگڑنے کا زیادہ اندیشہ ہے جہاں تک تعلق ہے ٹی ایل پی سے مذاکرات کا تواس حوالے سے اداروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس مقصد کے لیے ٹی ایل پی کو مذاکرات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے وزیر داخلہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے وفاقی وزیر مذہبی امور کے ساتھ اسلام آباد میں رپورٹ کریں۔

    علامہ خادم حسین رضوی نے ناموس رسالت کے عنوان پر مسلمان قوم میں بیداری پیدا کی،مولانا معاویہ اعظم طارق

    تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

    کسی کو نہیں چھوڑیں گے، مذہبی جماعت کیخلاف بڑے فیصلے ہو گئے، شیخ رشید

    تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

    حکومت کیلئے نئی مشکل، تحریک لبیک کا ناموس رسالت مارچ کا اعلان

    سعد رضوی کی گرفتاری کی ویڈیو سامنے آ گئی

    تحریک لبیک کے کارکنان سڑکوں‌ پر نکل آئے،لاہور بند،ملک جام کرنیکا اعلان

    لاہور سمیت مختلف علاقوں میں تشدد،بلاول بھی میدان میں‌ آ گئے

    کالعدم مذہبی جماعت اور حکومت میں مذاکرات کامیاب،کیا ہوئے فیصلے؟

    فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کیلئے قرارداد ہو گی اسمبلی میں پیش

    فرانسسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد ،بڑی سیاسی جماعت کا اجلاس میں شرکت نہ کرنیکا فیصلہ

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی رہا؟

    کس کس کو رہا کیا جا رہا ہے؟ شیخ رشید کا کالعدم مذہبی جماعت بارے بڑا اعلان

    کالعدم جماعت سے پابندی کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    کالعدم تحریک لبیک نے پابندی کیخلاف ایسا کام کر دیا کہ حکومت کو بھی اجلاس بلانا پڑ گیا

    کالعدم تحریک لبیک کی درخواست، وزارت داخلہ میں اجلاس

    کالعدم جماعت کی بھی لیگل ٹیم ہو سکتی ہے؟ سعد رضوی سے ملاقات نہ کروانے کی درخواست پرعدالت کے ریمارکس

    سعد رضوی کی رہائی کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    تحریک لبیک کا دھرنا، انٹرنیٹ بند، پولیس کو مذاکرات میں ناکامی

    بریکنگ، تحریک لبیک کا اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان

    علامہ خادم رضوی کے استاد ،دوسرے بیٹے سمیت لبیک کی مرکزی شوریٰ کیخلاف حکومت کا بڑا فیصلہ

    تحریک لبیک کا مارچ شروع ہونے سے قبل ہی اسلام آباد "سیل” شیخ رشید پاکستان چھوڑ گئے

    تحریک لبیک کا مارچ، لاہور پولیس کا بھی پلان تیار،وزیراعظم بھی آ رہے ہیں آج لاہور

    تحریک لبیک کے خلاف بڑے آپریشن کی تیاری

    تحریک لبیک مارچ،کینٹینر ہٹ گئے، رستے کھل گئے

    تحریک لبیک مارچ،رکاوٹیں ایک بار پھر ختم،شرکا آگے بڑھنا شروع، شیلنگ سے ایک زخمی

    سعد رضوی آئیں گے تو اب مذاکرات ہوں گے، کالعدم تحریک لبیک کا دبنگ اعلان

    تحریک لبیک مارچ، شیخ رشید کی مذاکرات کی کوشش،تازہ ترین صورتحال جانیے فائز چغتائی سے

    کالعدم تحریک لبیک مارچ، گولی لگنے سے ایک زخمی کو ہسپتال منتقل کیا، ایدھی فاؤنڈیشن

    ہمیں کہا گیا تھا کہ یہاں سے آگے قدم بڑھایا تو بھون دیں گے، ویسا ہی کیا گیا، سید سرور شاہ

    شیخ رشید فوری جیل جائیں گے، فیصلہ ہو گیا

    ۔

  • بالآخر وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے عہدے سے استعفی دے ہی دیا

    بالآخر وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے عہدے سے استعفی دے ہی دیا

    کوئٹہ: بالآخر وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے عہدے سے استعفی دے ہی دیا ،اطلاعات کے مطابق اس وقت ملک میں عجیب صورت حال ہے ایک طرف ٹی ایل پی کا احتجاج تودوسری طرف بلوچستان سے آنے والی خبر نے سب خبروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے تحریک عدم اعتماد سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین اور اپوزیشن کی جانب سے وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی جس پر رائے شماری 25 اکتوبر کو ہونا تھا۔

    تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان نے تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے اور یہ استعفیٰ گورنر بلوچستان آغا ظہور کو ارسال کر دیا ہے۔

    خیال رہے کہ 20 اکتوبر کو بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پیش کی گئی تھی۔ جس پر رائے شماری 25 اکتوبر کو ہونا تھی۔

    رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔ قرارداد کی 33 ارکان نے حمایت کی تھی، اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر حمایت کا اعلان کیا تھا۔

    اس موقع پر عبدالرحمان کھیتران کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی خراب حکمرانی کے باعث مایوسی، بدامنی، بیروزگاری، اداروں کی کارکردگی متاثرہوئی ہے،وزیراعلی خود کو عقل کُل سمجھ کراہم معاملات کو مشاورت کیے بغیر چلا رہے ہیں۔ اہم معاملات کو مشاورت کے بغیر چلانے سے صوبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاگیا، وزیراعلیٰ اپنے طور پر صوبے کے معاملات چلارہے ہیں، مطالبہ کرتے ہیں کہ خراب کارکردگی پر وزیراعلیٰ کوعہدے سے ہٹایا جائے۔

    اس پر بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ نورمحمد نے پی ایچ ای وزارت سے استعفی دے دیا۔ جمہوری حوالے سے دل بڑا رکھنا چاہیے۔ میراگلہ اپوزیشن سے بنتا نہیں، اپوزیشن کو ساڑھے تین سالوں کے گلے شکوے ہیں۔ میراگلہ نالاں دوستوں سے بھی نہیں ہے۔ یہ سب سیاست کا حصہ ہے۔ جب ہم کہیں بات کرتے ہیں تو آج کے دور میں ہر چیز کو نمایاں کر دیا۔ ایسی بات کرنی چاہیے تاکہ چار ماہ بعد کھڑے ہو سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات وہ بات کریں جس کا کل دفاع کر سکیں، کسی کی سیاسی بات کو مائنڈ نہیں کیا۔ میں نہیں کہتا ہم سب ٹھیک کر رہے ہیں ۔ بہت سارے لوگ برداشت کرتے اور بہت سے نہیں کرتے۔

    ترقیاتی کاموں کے حوالے سے جام کمال خان کا کہنا تھا کہ ہرضلع میں آج کام ہو رہا ہے۔ سیاست میں کسی اغواء نہیں کیاجاتا۔ ہم ناراض دوستوںسے قلم دان لے سکتے تھے۔ کسی کو ناراض ہونے سے روک نہیں سکتے، ہر جماعت کا ایک طریقہ کار ہوتاہے۔مجھے اپنی جماعت اور اتحادیوں نے ووٹ دیا، اپوزیشن نہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ رائے شماری کے دن ہونے والے فیصلے کو قبول کرون گا استعفی نہیں دونگا، ناکامی کاسامنا کرونگا یہ سیاست کا حصہ ہے۔ گورننس چلانے والا ایڈمنسٹرٹر ہوتا ہے۔ سب کا مشکور ہوں، خاص کر اپوزیشن لیڈر کا جنہوں آج اچھی تقرر کی۔ ہر ایم پی اے کا وزن ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ثناء بلوچ کا چیلنج قبول کرتا ہوں، اگر دو فیصد ووٹ نہ ملے تو ہمیشہ کیلئے سیاست چھوڑ دونگا،مگر اب ثناء کو اپنی بات قائم رہیں، میں سمجھ رہاتھاکہ اسد بلوچ پانچ سال تک رہے گا۔

    سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ اراکین کو اسمبلی آنے دیا جائے جس پر جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر رکن اسمبلی لاپتہ ہیں تو ان کے لواحقین تھانے جاکر مقدمہ درج کرالیں۔ دہرےمعیار میں کسی چیز کو جانچبے کا پیمانہ ہونا چاہیے۔

  • مہنگائی کی وجہ سے پوری دنیا مشکلات کا شکار ہے حکومت مہنگائی پر جلد قابو پالے گی۔ چیئرمین مارکیٹ کمیٹی

    مہنگائی کی وجہ سے پوری دنیا مشکلات کا شکار ہے حکومت مہنگائی پر جلد قابو پالے گی۔ چیئرمین مارکیٹ کمیٹی

    فیصل آباد (عثمان صادق) چیئرمین مارکیٹ کمیٹی چوہدری ابرار رشید ڈھلوں نے کہاہے کہ مہنگائی کی وجہ سے پوری دنیا مشکلات کا شکار ہے تاہم موجودہ حکومت پرامید ہے کہ مہنگائی پر جلد قابو پالیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان مہنگائی کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقداما ت کر رہے ہیں انہی کاوشوں کی بدولت جلد مہنگائی پر قابو پاکر صارفین کو ریلیف فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن احتجاج کی بجائے ملک و قوم پر رحم کرے،نااہل درباری احتساب کے عمل کو متنازع بنانے کی بھرپور مگر ناکام کوشش میں ہیں،نئے پاکستان میں انصاف کی بدولت کرپشن اور مافیاز کا قلع قمع ممکن ہے،کئی سالوں تک ملک لوٹنے والوں کو عوام کی بات کرنا زیب نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ نااہلوں کو نہ عوام سے مطلب ہے نہ مہنگائی سے،نااہلوں کی ایک ہی منشا ہے کہ ان سے کرپشن کا سوال نہ پوچھا جائے،عوام کے نام پر پٹی ہوئی سیاست چمکانے کی کوششیں ناکام ہونگی۔انہوں نے مزید کہاکہ تحریک انصاف حکومت نے نااہلوں کی تباہ حال معیشت کو درست سمت دی، تحریک انصاف نے ڈوبتی معیشت کو سنبھالنے کے ساتھ کورونا وبا کا بھی مقابلہ کیا۔کورونا نے پوری دنیا میں تباہی مچائی،اموات کے ساتھ معیشتیں بھی ڈوبیں۔عوامی مسائل کا حل اورریلیف کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے،حکومت عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہر حد تک جا ئے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ تین سالوں میں عوام کی ریکارڈ خدمت کی ہے اورایسے فلاحی پروگرام شروع کیے گئے جن سے عام آدمی کا فائدہ ہوا ہے.

  • سرمایہ دارانہ نظام اپنی معیاد پوری کرچکا ہے:دنیا کواب نیا نظام تلاش کرنا چاہیے: پیوٹن

    سرمایہ دارانہ نظام اپنی معیاد پوری کرچکا ہے:دنیا کواب نیا نظام تلاش کرنا چاہیے: پیوٹن

    ماسکو:سرمایہ دارانہ نظام اپنی معیاد پوری کر چکا ہے: دنیا کواب نیا نظام تلاش کرنا چاہیے:اطلاعات کے مطابق روسی صدرولادی میر پیوٹن کا کہنا ہے کہ سرمایہ داری کا موجودہ ماڈل اپنی معیاد پوری کرچکا ہے، انہوں نے یورپی توانائی بحران کو بھی سرمایہ داری کا نتیجہ قرار دیا۔

    مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ سرمایہ داری کا موجودہ ماڈل اپنی آخری حدود تک پہنچ چکا ہے۔

    پیوٹن کا کہنا تھا کہ آج ہر کوئی کہتا ہے کہ سرمایہ داری کا موجودہ ماڈل جو دنیا کے تقریباً تمام ملکوں میں رائج ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی ڈھانچے کی بنیاد ہے، اپنی معیاد پوری کرچکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ دارانہ ماڈل اب تضادات اور اس کےنتیجے میں ہونے والے مسائل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پیدا کرسکتا۔

    روسی صدر کا کہنا تھا کہ امیر ترین ممالک اور خطوں میں دولت کی غیر مساوی تقسیم معاشرے میں عدم مساوات کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے یورپی توانائی بحران کو بھی سرمایہ داری کا نتیجہ قرار دیا جو کہ ان کی رائے میں اب کام نہیں کر رہا۔

    اس موقع پرسرمایہ دارانہ نظام کے متعلق کچھ مختصرتعارف ضروری ہے

    سرمایہ داری کیا ہے:
    سرمایہ داری ایک معاشی نظام ہے جو پیداوار کے ذرائع کی نجی ملکیت کے ساتھ ساتھ مارکیٹ آزادی کے اصول پر بھی مبنی ہے ، جس کا مقصد سرمایہ جمع کرنا ہے۔

    لفظ ٹھوس کے اتحاد سے قائم کیا جاتا ہے ایکوئٹی ہے، جس، اور یونانی لاحقہ اس تناظر کا مطلب ہے ‘اقتصادی سامان کے سیٹ’ میں آئایسیم ، جس کا مطلب نظام.

    لہذا ، سرمایہ دارانہ نظام ایک ایسا نظام ہے جو پیداوار کے ذرائع اور وسائل کی ملکیت پر مبنی ہے ، جس سے تجارتی منافع نکالا جاتا ہے۔

    سرمایہ داری ایک بنیادی اصول کے طور پر مارکیٹ کی آزادی کی تجویز کرتی ہے۔ روایتی سرمایہ دارانہ ماڈل کے مطابق مارکیٹ سپلائی اور مانگ کے قانون کے ذریعہ کنٹرول کی جاتی ہے جس کا مقصد کھپت کی ضروریات کو پورا کرنا ہے ۔ اس لحاظ سے ، پیداواریوں کے مابین مسابقت اس معاشی نظام کا ایک اہم پہلو ہے۔

    تاہم ، سرمایہ داری کی تعریف عین مطابق نہیں ہے کیونکہ ہر قوم میں پیدا شدہ سامان اور خدمات کی پیداوار ، کاروباری ، تقسیم اور قیمت کے حوالے سے ایک ہی راستہ میں مختلف حالات قائم ہیں۔

    سرمایہ داری کی ابتدا
    دارالحکومت کی تاریخ قرون وسطی سے لے کر جدید دور (13 ویں اور 15 ویں صدی) کی طرف واپس آچکی ہے۔ اس عرصے میں ، جاگیرداری میں کمی واقع ہوئی اور مضبوط تجارتی سرگرمیاں اور گردش کرنے والے پیسوں سے چوری کی تشکیل شروع ہوگئی ، جس نے پروٹو سرمایہ داری یعنی ابتدائی یا ناکارہ سرمایہ دارانہ نظام کو جنم دیا ۔

    اس معاشی ماڈل کو 15 ویں صدی میں سمندری تفتیش اور امریکہ کی دریافت نے بڑھایا تھا۔ اس کے نتائج نئے تجارتی مال تک رسائی ، نئے تجارتی راستوں کی تشکیل اور مغربی سامراج کی توسیع ، شاہی طاقتوں کے ماتحت سرمایہ دارانہ سرمایہ داری یا تجارتی نظام کو جنم دیا۔

    جدید سرمایہ دارانہ نظام اٹھارہویں صدی کے دوسرے نصف میں سامنے یہ انفرادی آزادی، سیاسی اور اقتصادی دونوں کا ایک نیا نظام کی طرف صنعتی انقلاب اور سیاسی سوچ چلتی شائع جب.

    صنعتی انقلاب نے بڑے پیمانے پر پیداوار اور کھپت کی راہ پر معیشت کو ایک نیا محرک دیا۔ اس کے لئے بھی تنخواہ کی اسکیم کے تحت ملازمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کی ضرورت تھی۔ اس طرح مزدور طبقہ یا پرولتاریہ پیدا ہوا تھا۔

    سرمایہ داری کی خصوصیات
    سرمایہ داری کی وضاحتی خصوصیات میں مندرجہ ذیل ہیں:

    اس کے بنیادی عوامل دارالحکومت اور مزدور ہیں۔ اس سے سامان اور خدمات کی فراہمی اور طلب میں مسابقت بڑھتا ہے۔ ریاست کی کم سے کم شراکت کے ساتھ آزاد منڈی پر یہ شرط لگاتا ہے۔ کمپنی کمپنی کو انفرادی حق کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ ضروری معاشی وسائل رکھنے سے ہی کمپنی کھولی جاسکتی ہے اور دوسروں کو ملازمت مل سکتی ہے۔ سرمایہ داری تب ہی چل سکتی ہے جب کھپت کو یقینی بنانے اور سرمایے کو جمع کرنے کے لئے کافی معاشرتی اور تکنیکی وسائل ہوں۔یہ کم اجرت یا ملازمت کے مواقع کی پیش کش سے معاشرتی عدم مساوات پیدا کرسکتا ہے۔
    یہ بھی ملاحظہ کریں:

    سرمایہ داری کی 10 خصوصیات۔ دارالحکومت۔ مارکسسٹ نظریہ
    صنعتی سرمایہ داری
    صنعتی سرمایہ داری سرمایہ داری کا ایک ایسا مرحلہ ہے جو 18 ویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں پیدا ہوا تھا ، جب اہم سیاسی اور تکنیکی تغیرات سامنے آئیں۔ یہ مالیاتی سرمایہ داری کے ساتھ ساتھ ابھرا ۔

    اس کا سب سے بڑا اثر صنعتی انقلاب کے ساتھ ہوا ، اس وقت تکنیکی تبدیلیوں اور پیداوار کے طریقوں کو فروغ دیا گیا تھا۔ کرافٹ اور مینوفیکچرنگ کی جگہ میکانائزڈ مینوفیکچرنگ نے لے لی۔

    مالی سرمایہ
    سرمایہ داری کی مختلف قسمیں ہیں جو مارکیٹ ، ریاست اور معاشرے کے مابین موجود رشتے کے مطابق مختلف ہیں۔

    مالیاتی سرمایہ داری ایک طرح کی سرمایہ دارانہ معیشت سے مماثلت رکھتی ہے جس میں بڑی صنعت اور بڑے تجارت کو تجارتی بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی معاشی طاقت کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

    سرمایہ داری اور سوشلزم
    سرمایہ دارانہ نظام کے برعکس سوشلزم ہے جو مزدور طبقے کے ذریعہ پیداوار کے ذرائع کو مختص کرنے اور کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے ، یہ ریاستی اور معاشرتی یا اجتماعی پیداوار بھی ہوسکتا ہے ، جہاں "ہر ایک ہر چیز کا مالک ہے۔”

    اسے کارل مارکس کے ذریعہ تیار کردہ کمیونزم کے ارتقاء کے طور پر بھی سمجھا جاتا ہے اور جو ریاست کے قواعد و ضوابط اور کنٹرول کے ذریعے سرمایہ داری ، آزاد منڈی اور نجی ملکیت کے نقصانات کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔

    سرمایہ داری اور عالمگیریت
    سرمایہ دارانہ نظام کا ایک مظہر عالمگیریت ہے ، جو 20 ویں صدی کے آخر میں دنیا کے ممالک کے مابین نقل و حمل اور مواصلات کے ذرائع کی کم قیمتوں کے ذریعہ معاشی ، معاشرتی ، ثقافتی اور سیاسی انضمام کو گہرا کرنے کا عمل ہے۔

    عالمگیریت سرمایہ کاری کی حرکیات کی ضرورت سے پیدا ہوئی ہے تاکہ ایک ایسا گلوبل ولیج تشکیل پائے جو ترقی یافتہ ممالک کے لئے