Baaghi TV

Author: +9251

  • دےدو کشمیرکشمیریوں کو اور ہمارے پیارے مروانےبندکردو:بھارتی فوجی کی بیوہ کی دہائی

    دےدو کشمیرکشمیریوں کو اور ہمارے پیارے مروانےبندکردو:بھارتی فوجی کی بیوہ کی دہائی

    نئی دہلی :دےدو کشمیرکشمیریوں کو اور ہمارے پیارے مروانےبندکردو:بھارتی فوجی کی بیوہ کی دہائی ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے زیرقبضہ وادی کشمیر کے پونچھ علاقے میں کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجی کی بیوہ نے بھارتی فوج کی پست حالی اور تباہ حالی کے پردے چاک کردیئے

    ذرائع کےمطابق اس حوالے سے پونچھ میں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجی کی بیوہ نے بھارتی جرنیلوں اورحکمرانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ تو صرف غریبوں کے بچوں کوسرحد پرمرنے کے لیے بھیج رہےہیں

     

    اس حوالے سے بھارتی میڈیا کو اپنی دہائی سناتے ہوئے بھاری فوجی کی بیوہ نے جو بھارت میں رہنے والے غریبوں کی بے بسی اوربھارتی جرنیلوں اورحکمرانوں کی ہٹ دھرمی کے پردے چاک کیئے ہیں اس کے بعد یہ گمان کیا جارہا ہے کہ بھارتی فوج میں اس وقت ایک بغاوت کا سماں ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس خاتون نے تو بھارتی جرنیلوں اورحکمرانوں کو مخاطب ہوتےہوئے کہا کہ اپنے پیاروں کو کشمیر میں لڑے اور مرنے کے لیے بھیجو تو تمہیں بتہ چل جائے گا

    اس خاتون نے کہا کہ اب بس کردیں اورہمارے پیاروں کو مروانا بند کردیں

    بھارتی فوجی کی بیوہ نے کہا کہ ہم لاشے اٹھا اٹھا کرتھک گئے ہیں ، اب کشمیرکشمیریوں کو دے دیں اوربھارت کے غریبوں کو قربان ہونے سے بچا لیں اگرایسا نہ ہوا تو پھر ایک وقت آئے گا کہ ہمارے جوان اس ملک کے طاقتوروں کے لیے قربان نہیں ہوگے اورپھر بھارت دم توڑ جائے گا

  • ن لیگ کا ربیع الاول کے بابرکت مہینےمیں راولپنڈی میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان

    ن لیگ کا ربیع الاول کے بابرکت مہینےمیں راولپنڈی میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان

    اسلام آباد:ن لیگ نےربیع الاول کے بابرکت مہینےمیں کل راولپنڈی میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ نے ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کے سلسلے میں پہلا احتجاجی مظاہرہ راولپنڈی میں کرنے کا اعلان کر دیا۔

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی طرف سے ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کے اعلان کے بعد ن لیگ نے بھی مہنگائی اور معاشی تباہی کیخلاف20 اکتوبر سے سڑکوں پرآنے کا پروگرام تشکیل دیدیا۔

    اسی حوالے سے ش لیگ کے سربراہ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے راست اقدام کا فیصلہ ہوا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض ارکان نے ربیع الاول کے مقدس مہینے میں احتجاج نہ کرنے کا مشورہ دیا جوسختی سے مسترد کردیا گیا

    اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب، پارٹی کے چاروں صوبائی، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے صدور اور جنرل سیکریٹریز نے شرکت کی ۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ن لیگ نے ملک گیر احتجاج کے لیے ریلیوں، جلوسوں اور مظاہروں کے پروگرام کو حتمی شکل دیدی۔ 20 اکتوبر سے ملک بھر میں احتجاج کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    صوبوں اور اضلاع میں پارٹی عہدیداروں کو اجتجاج کی کال دے دی گئی، ملک گیر احتجاج کے سلسلے میں ن لیگ اپنا پہلا احتجاجی مظاہرہ راولپنڈی میں کرے گی۔ ملک گیر احتجاج کے سلسلے میں مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے اشتراک عمل کے لئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔

  • گوجرانوالہ کا تاریخی قصبہ ایمن آباد توجہ کا طلبگار

    گوجرانوالہ کا تاریخی قصبہ ایمن آباد توجہ کا طلبگار

    (ایمن آباد توجہ کا طلبگار)
    گوجرانوالہ کی صنعتی اور پیداواری زندگی سے الگ، جی ٹی روڈ کے شور شرابے سے ہٹ کر، ایمن آباد کا تاریخی قصبہ واقع ہے۔ موڑ ایمن آباد سے نکلنے والی چھوٹی سڑک زرخیز زمینوں اور لہلہاتی فصلوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہے اور کو ئی پانچ منٹ میں ہم ایمن آباد پہنچ جاتے ہیں۔

    پنجاب کے اس حصے میں خاص تاریخی اہمیت کا حامل یہ قصبہ کئی انمول مسلم، ہندو اور سکھ تعمیرات کا وارث ہے، خاص طور پر دیوان خاندان کی عالیشان حویلیاں، جن کے اب محض آثار ہی باقی رہ گئے ہیں۔ مگر یہ آثار بھی گزرے وقتوں کی شان و شوکت کی تفصیل بیان کیے دیتے ہیں۔ ایمن آباد کے اس ہندو خاندان نے ریاست جموں کشمیر پر قریب ایک صدی حکومت کی، مگر 1947 کے تاریخی واقعات میں یہ لوگ ہجرت کر گئے۔ پیچھے رہ جانے والے تعمیرات کے نمونے اپنے مکینوں کی جدائی بہت عرصہ برداشت نہ کر سکے، حویلیاں کھنڈرات میں بدلتی گئیں۔ اب ان کھنڈرات کے بھی نشان ہی باقی رہ گئے ہیں۔

    چار چار منزلہ عمارتوں سے نکلنے والی لاکھوں اینٹیں اردگرد بننے والے درجنوں نئے گھروں کی تعمیر میں کام آئیں اور کشمیر کی نایاب لکڑی سے بنے دروازے اور کھڑکیاں لاہور، گوجرانوالہ میں دولت مند شوقین لوگوں کے ہاں فروخت ہوئیں۔ یوں تو اس شہر میں دیوانوں کا پورا ایک محلہ آباد تھا مگر ساٹھ برس گزرنے کے بعد ایک تین چار منزلہ عمارت کا سامنے کا حصہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ پیچھے کی عمارتیں اس عرصے میں ضرورتوں اور مکینوں میں اضافے کے ساتھ بتدریج مسمار کی گئیں اور انہی اینٹوں کو کام میں لا کر نئے کمرے تعمیر کیے گئے۔

    چند دیواریں جو ابھی گرنے سے بچ گئی ہیں، دیواریں نقاشی کے خوبصورت نمونوں کی نشانیاں یوں لیے کھڑی ہیں، بقول غالب کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے۔ ہندو مذہبی کتھاؤں کے مضامین پر مبنی یہ دیواری نقاشی محفوظ کر لینے کے لائق ہے تاکہ کوئی قیامِ پاکستان سے پہلے یہاں آباد ہندو طرز معاشرت کو دیکھنا اور سمجھنا چاہے تو یہ مٹتے ہوئے نقوش اور گرتی ہوئی دیواریں اس کی مدد کر سکیں۔ہمارے فائن آرٹس کے پروفیسر دوست ڈاکٹر غلام عباس نے البتہ مٹی سے اٹے ہوئے ان نقش و نگار کو پونچھ کر اگلے کافی عرصے کے لیے ترو تازہ کر دیا ہے۔ شاید پھر کوئی ایسا یہاں سے گزرے جس کی نظر اس دیوار پر پڑے اور وہ سامنے گھر والوں سے پانی کی بالٹی مانگ کر فن کے ان نمونوں کے چہروں سے گرد صاف کرنے میں کچھ وقت صرف کرے۔

    کہا جاتا تھا ’’گوجرانوالہ پہلواناں دا، ایمن آباد دیواناں دا‘‘۔ گوجرانوالہ تو بدستور پہلوانوں کا ہے مگر ایمن آباد دیوانوں کا نہیں رہا۔ البتہ یہ ہے کہ گوجرانوالہ کی بات میں پہلوانوں کا ذکر بے شک نہ آئے، ایمن آباد کی بات دیوانوں کی بات کے بغیر پوری نہیں ہوتی، حالانکہ پنجاب کے اس تاریخی اہمیت کے شہر میں دیوان خاندان کا سروکار کوئی دو صدیاں پہلے شروع ہوا تھا جبکہ اس شہر کی آبادی قبل مسیح دور سے بیان کی جاتی ہے۔

    کہتے ہیں کہ سیالکوٹ کے راجپوت راجہ سالوان نے اس جگہ ایک شہر آباد کیا تھا۔ اس کا نام کیا تھا؟ کوئی نہیں جانتا۔ تاریخ صرف یہ بتاتی ہے کہ جب ظہیر الدین بابر نے 16ویں صدی کے دوسرے عشرے میں پنجاب کے اس حصے پر یلغار کی تو لاہور یا سیالکوٹ سے پہلے سید پور نامی قصبہ چغتائی حملے کی زد میں آیا۔ 1521 میں بابر کی فوج نے اس شہر کو روند ڈالا۔ بابا گرو نانک اپنے ساتھی بھائی مردانہ کے ساتھ ان دنوں سید پور میں مقیم تھے۔ سید پور کا رہنے والا لالو بابا جی سے عقیدت رکھتا تھا۔سید پور پر بابر کے حملے کا آنکھوں دیکھا حال دیکھنا ہو تو بابا گرو نانک کے کلام کے متعلقہ حصے دیکھ لیجیے۔ انسانی آبادی پر حملہ آوروں کا قہر اور ارزاں جانوں کا المیہ اس شہر آشوب میں پوری شدت سے نظر آتا ہے۔ سید پور کی آبادی کو قیدی بنا لیا گیا اور قیدیوں میں بابا گرو اور ان کے ساتھی بھی دھر لیے گئے۔ بالآخر گرو نانک ہی سید پور کے باسیوں کے لیے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوئے۔ بادشاہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا اور ان کے ساتھ ساتھ سید پور کی بخشش کا پروانہ جاری کر دیا۔ خود گرو نانک نے مسمار آبادی کی ایک ڈھیری پر ڈیرا لگایا۔ آج کے ایمن آباد سے شمال مغرب میں کچھ فاصلے پر گردوارہ روڑی صاحب اسی مقام پر واقع ہے۔

    بابر کے بیٹے ہمایوں کے دور میں پٹھان جاگیر دار شیر خان نے کافی قوت حاصل کرلی تھی اور خود کو شیر شاہ کہلوانے لگا تھا، شیر شاہ سوری۔ ایمن آباد یعنی اس دور کے سید پور کو شیر شاہ کے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ شیر شاہ نے پرانے شہر کی جگہ اپنے نام سے نیا شہر شیر گڑھ آباد کیا۔ 1555ء میں ہمایوں نے ایران سے واپس آ کر شیر شاہ کے وارثوں کو ہندوستان سے بے دخل کیا۔ ہمایوں کا جرنیل جس کا نام غالباً ایمن یا امین بیگ تھا اس نے شیر گڑھ کا قلعہ مسمار کردیا اور دہلی کی طرف جانے والی جرنیلی سڑک کے کنارے آباد اس اہم شہر کو اکبر کے دور میں ایمن یا امین بیگ سے منسوب کردیا گیا۔

    ایمن آباد جغرافیائی اہمیت کا حامل تو تھا ہی کہ جرنیلی سڑک اس قصبے کے پاس سے گزرتی تھی۔ زمین بھی زرخیز تھی چنانچہ مغل بادشاہت کے مضبوط بنیادوں پر قائم ہونے کی دیر تھی کہ اندرونی اور بیرونی خطرات سے راحت ملتے ہی ایمن آباد کی معیشت نے خوب ترقی کی۔ اسے صوبہء لاہور کے تحت ایک پرگنہ کے صدر مقام کی حیثیت حاصل ہو گئی جس کا سالانہ ریونیو 9 لاکھ روپے تھا۔

    ایمن آباد کی یہ اہمیت مغل سلطنت کے آخری مؤثر ترین بادشاہ کے دور تک قائم رہی۔ اورنگ زیب کے بعد جب سلطنت کا نظام تیزی سے زوال کی طرف گامزن تھا تو ایمن آباد اس زوال سے کیونکر بچ جاتا۔ پنجاب کے اس حصے میں سکھ جتھے ہر شے کو تہس نہس کیے دیتے تھے۔ 1738 میں ایمن آباد کا کماندار جسپت رائے انہی سکھوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا۔ دیوان لکھپت رائے نے بھائی کا بدلا یوں لیا کہ سکھوں کو مارمار کر جموں تک دھکیل دیا۔ جو 3 ہزار کے قریب ہتھے چڑھے انہیں لاہور لا کر دہلی دروازے کے باہر قتل کروا دیا، سکھوں کی تاریخ میں ان واقعات کو چھوٹا گلوگھاڑا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ہندوستان میں یہ مضبوط مغل سلطنت کے نزع کا دور تھا۔ ہر حکومت پچھلی سے کمزور اور نااہل ثابت ہوئی، پنجاب میں سکھ جتھوں کی قوت زور پکڑتی جا رہی تھی۔ 1760 میں رنجیت سنگھ کے دادا چڑت سنگھ نے ایمن آباد، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ بعد ازاں یہ علاقے مسلسل سکھ دراندازی اور قبضہ گیری کا ہدف رہے۔ رنجیت سنگھ کا دور آیا تو مہاراجہ نے ایمن آباد اپنے چہیتے وزیر دھیان سنگھ ڈوگرا کو بطور جاگیر عطا کردیا۔ دھیان سنگھ تو لاہور میں اپنی ہی سازشوں کے ہاتھوں انجام کو پہنچا اور رنجیت سنگھ کے تھوڑے عرصہ بعد پنجاب بھی پکے ہوئے پھل کی طرح انگریزوں کی جھولی میں آ گرا۔ البتہ دھیان سنگھ کے جاگیری دور سے جموں کشمیر اور ایمن آباد کا جو تعلق بنا، یہاں کے دیوان خاندان کی قابلیت کے باعث قیام پاکستان تک قائم رہا۔

    انگریزوں کے دور میں ہندوستان نے ترقی کے کئی نئے روپ دیکھے۔ ریل، برقی مواصلات، بجلی، ملکی انتظام، قانون اور انصاف کا جدید نظام۔ عام آدمی کی سوچ اور زندگی پر ان انقلابی جدتوں کا غیر معمولی اثر طے شدہ بات تھی۔ 1880 میں لاہور کو راولپنڈی سے ملانے والی ریلوے لائن بچھی تو ایمن آباد میں گاڑی رکنے لگی۔ طول و عرض کے فاصلے مٹھی میں بند ہوگئے اور ایمن آباد کا رابطہ لاہور، دہلی اور سلطنت کے دور دراز علاقوں سے براہ راست ہو گیا۔

    سہولتیں بڑھنے سے مواقعے بڑھنے لگے۔ زرعی معیشت میں کاروبار کی دولت کی آمیزش ہوئی تو طرزِ زندگی میں اس کا پرتو نمایاں ہوا۔ ایمن آباد کی شاندار حویلیاں، باغات، اینگلو سنسکرت اسکول اور شوالے اس متمول دور کی یادگار ہیں۔ اینگلو سنسکرت اسکول تو خیر گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول ہو چکا ہے، حویلیوں اور شوالوں کو آباد یا محفوظ رکھنے کے بجائے ویرانی اور بربادی کے سپرد کر دیا گیا۔
    حویلیوں کا حال تو بیان کر چکے، شوالوں کی بپتا یہ ہے کہ ایمن آباد کے آسمان پر فخر سے سر اٹھائے کھڑی یہ عمارتیں کہیں بھینسوں کا باڑہ ہیں اور کہیں بکریوں کا۔ ان میں سے ایک جسے قدرے محفوظ کہنا چاہیے وہ ہے جہاں ایک مقامی امام مسجد نے اپنے کنبے سمیت رہائش اختیار کر رکھی ہے۔

    مگر متروکہ املاک میں شمار میں ان حویلیوں اور مندروں کی حالت زار کا کیا شکوہ کریں جب عوام اور حکام کی توجہ سے محروم اسلامی آثار قدیمہ کے نادر نمونے بھی تباہی سے محفوظ نہیں۔ کیا کوئی نہیں جانتا کہ ایمن آباد کے مشرق میں کھیتوں اور فصلوں میں گھری قدیم مسجد جس کی طرف کوئی سیدھا راستہ بھی نہیں جاتا، لودھی (1451-1526) دور کی تعمیر ہے، اور اس لحاظ سے پاکستان کی قدیم ترین مساجد میں شامل ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہ ہمارا تاریخی اثاثہ ہے، مگر صرف کہنے کی حد تک۔

  • ٹی ٹونٹی ورلڈکپ:سکاٹ لینڈ نے پاپوانیو گینی کو شکست دیدی

    ٹی ٹونٹی ورلڈکپ:سکاٹ لینڈ نے پاپوانیو گینی کو شکست دیدی

    ابو ظہبی : ٹی ٹونٹی ورلڈکپ:سکاٹ لینڈ نے پاپوانیو گینی کو شکست دیدی ،اطلاعات کے مطابق آج ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے پہلے مرحلے کے دوران پانچویں میچ میں سکاٹ لینڈ نے پاپوانیو گینی کو 17 رنز سے شکست دیدی۔

    سکاٹ لینڈ نے پہلے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر165 رنز بنائے ، برینگٹن نے 70 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، کراس 45 سکور بنا سکے۔ موریا نے 4 جبکہ سوپر نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔

     

     

    ہدف کے تعاقب میں پاپوانیو گینی کی ٹیم 148 رنز پر ہمت ہار بیٹھی، وانووا 47 رنز بنا کر نمایاں رہے، دیگر کوئی بھی کھلاڑی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا۔ ڈیووے نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔

    ادھرآج آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے کے چھٹے میچ میں بنگلادیش نے عمان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    ٹی 20 ورلڈکپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں منگل کے روز کھیلے جارہے دوسرے میچ میں بنگلادیش کے کپتان محموداللہ نے عمان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ بنگلادیش کو رواں ٹی 20 ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں اسکاٹ لینڈ نے اپ سیٹ کرتے ہوئے 6 رنز سے شکست دی تھی۔واضح رہے کہ منگل کے روز کھیلے گئے پہلے میچ میں اسکاٹ لینڈ نے پاپوانیوگنی کو 17 رنز سے شکست دے دی۔

  • بھارتی آبدوز کو پاکستانی حدود سے بھگانے پرپاک بحریہ کوسلام:شہبازشریف

    بھارتی آبدوز کو پاکستانی حدود سے بھگانے پرپاک بحریہ کوسلام:شہبازشریف

    لاہور:بھارتی آبدوز کو پاکستانی حدود سے بھگانے پرپاک بحریہ کوسلام:اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بھارتی آبدوزکا سراغ لگانے اور اسے پاکستانی حدود سے بھگانے پرپاک بحریہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    ایک بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ نے پیشہ ورانہ مہارت اور ارض پاک کے تحفظ کے لیے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے، پاکستان آرمی، فضائیہ اور بحریہ نے ارض وطن کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کامظاہرہ کیا ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قوم اپنی بحریہ کی پیشہ ورانہ تیاری اور چوکسی کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، غیر معمولی صلاحیت اورپیشہ ورانہ تیاری کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور عملےکے لیے انعام اور اعزازات کا اعلان کیا جائے۔

    خیال رہےکہ پاک بحریہ نے بھارتی سب میرین کی پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش ایک بار پھر ناکام بنادی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی سب میرین نے 16 اکتوبر کو پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن پاک بحریہ نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مسلسل نگرانی سے بروقت بھارتی سب میرین کا پتا لگایا، مسلسل تیسری بار پاک بحریہ کے لانگ رینج پیٹرول ائیرکرافٹ نے بھارتی سب میرین کو بروقت ٹارگٹ کرکے روکا۔

  • بنگلادیش کا عمان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ:ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی رونقوں میں اضافہ

    بنگلادیش کا عمان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ:ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی رونقوں میں اضافہ

    ابوظہبی :بنگلادیش کا عمان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ:ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی رونقوں میں اضافہ ،اطلاعات کے مطابق آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے کے چھٹے میچ بنگلادیش نے عمان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    ٹی 20 ورلڈکپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں منگل کے روز کھیلے جارہے دوسرے میچ میں بنگلادیش کے کپتان محموداللہ نے عمان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ بنگلادیش کو ٹی2021 کے 20 ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں اسکاٹ لینڈ نے اپ سیٹ کرتے ہوئے 6 رنز سے شکست دی تھی۔

    واضح رہے کہ منگل کے روز کھیلے گئے پہلے میچ میں اسکاٹ لینڈ نے پاپوانیوگنی کو 17 رنز سے شکست دے دی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے پہلے مرحلے کے دوران پانچویں میچ میں سکاٹ لینڈ نے پاپوانیو گینی کو 17 رنز سے شکست دیدی۔

    سکاٹ لینڈ نے پہلے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر165 رنز بنائے ، برینگٹن نے 70 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، کراس 45 سکور بنا سکے۔ موریا نے 4 جبکہ سوپر نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔

    ہدف کے تعاقب میں پاپوانیو گینی کی ٹیم 148 رنز پر ہمت ہار بیٹھی، وانووا 47 رنز بنا کر نمایاں رہے، دیگر کوئی بھی کھلاڑی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا۔ ڈیووے نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔

  • اےاللہ: جب تک توزندہ رکھےاسلام پراور موت ایمان پر:    رول آف لاکےلیےبھی لڑتارہوں گا: وزیراعظم عمران خان

    اےاللہ: جب تک توزندہ رکھےاسلام پراور موت ایمان پر: رول آف لاکےلیےبھی لڑتارہوں گا: وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: اے میرے اللہ جب تک تو زندہ رکھے اسلام پراور موت ایمان پر:رول آف لا کے لیے بھی لڑتا رہونگا:،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک زندہ ہوں رول آف لا کے لیے لڑتا رہونگا، طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ہوگا۔

    اسلام آباد میں قومی رحمت للعامین ﷺ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنی سمت درست کرنی ہے، ملکی ترقی کے لیے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے، ملک کے نوجوانوں کو صحیح راستے پر لگانا چیلنج ہے، برطانوی جمہوریت میں ووٹ بکنے کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا، جب تک زندہ ہوں رول آف لا کے لیے لڑتا رہونگا، طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ہوگا۔

    انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک جھوٹ بولنے پر مقامی بااثر شخص کو جیل بھیج دیا گیا اور اگر میں پاناما کی بات کروں تو ہر روز نئے جھوٹ کہے گئے اور قطری خط آگیا۔ اگر انگلینڈ میں قطری خط آجاتا اسی وقت کیس رکنا تھا، اس طرح حلف نامے پر جھوٹ بولا گیا، برطانیہ کا عدالتی نظام اور پاکستان کے عدالتی نظام سے بہت مختلف ہے، اگر مورل اتھارٹی نہ ہو تو انصاف نہیں ہوسکتا یہاں سب کو معلوم ہے کہ سینیٹ بھی پیشہ چلتاہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 90 لاکھ پاکستانی بیرون ملک موجود ہے، اگر 30 سے 40 ہزار پاکستان آکر سرمایہ کاری کردی تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی، میں ایک ایسے پاکستانی کو جانتا ہے جس کے اتنی دولت ہے جتنا پاکستان پر آئی ایم ایف کا قرضہ ہے۔ لیکن پاکستان کا سسٹم انہیں پاکستان نہیں آنے دیتا، وہ پاکستان آنے کےلیے بے قرار رہتے ہیں، اگر خوشحال ہونا ہے تو قانون کی بالادستی قائم نہیں کریں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ اللہ کا خاص شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم آج بھر پور طریقے سے نبی آخر الزمان ﷺ کے یومِ ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل کو اپنے پیارے نبی ﷺ کی سیرت کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔ اسلام تلوار کی زور پر نہیں تھا بلکہ فکری انقلاب سے پھیلا تھا، سوچ بدلی اور ذہن بدلے تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب تک نبی کریم ﷺکی تعلیمات پر گامزن رہے کامیابی ان کا مقدر بنی اور جو لوگ منحرف ہوئے انہیں پستی نصیب ہوئی، اس طرح مدینہ کی ریاست ایک ماڈل بنی۔

    انہوں نے کہا کہ 3 سال اقتدار میں رہتے ہوئے مجھے حیرت ہوئی کہ اللہ نے پاکستان کو کتنی نعمتیں بخشی ہیں لیکن ہمیں اپنا راستہ ٹھیک کرنا ہے اور اس کوشش میں مجھے اور میری پارٹی کو 25 سال ہوگئے ہیں۔ ریاست مدینہ کے پہلا اصول اخلاق معیار تھا، حضرت محمدﷺ نے معاشرے میں اچھے، برے کے فرق سے متعلق آگاہ کیا، دنیا نے ایسے معاشرے اور فرد کو اہمیت دی۔

    عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلاب لاسکتے ہیں۔ ریاست مدینہ کے اہم ستون میں فلاحی ریاست کا تصور بھی ہے، حضرت محمد ﷺ نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی اور ریاست نے نچلے طبقے کو بنیادی حقوق دیے اور انصاف اور انسانیت کی بدولت قومیں ایک ہوجاتی ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ملک میں جاگیردانہ نظام کو تو کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ بیرونی طاقت آکر ملک میں اپنی حکمرانی کا جھنڈا نصب کردے، اس لیے برصغیر کو فتح کرنا آسان تھا لیکن افغانستان کو فتح نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ادھر جاگیردانہ نظام نہیں ہے۔ ریاست مدینہ میں میرٹ کا بالادستی تھی، قابلیت کی بنیاد پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے اور اسی معاشرے میں لیڈرز پیدا ہوئے، شخصیت سازی کی بدولت صحابہ لیڈر بن گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سمیت تمام دیگر شعبہ جات میں اگر لیڈر صادق و امین نہ ہو تو اس کی عزت نہیں ہوتی، مدینہ کی ریاست میں پہلی مرتبہ خواتین کو وراثت اور غلاموں کو حقوق فراہم کیے۔ جس طرح مغرب میں نوکروں کو رکھا جاتا ہے اور جو صورتحال یہ یہاں ہے، اس کو دیکھ کر شرم آتی ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ خاندانی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، ٹی وی چینلزکے پروگراموں کو مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے، ہم بچوں سے موبائل نہیں چھین سکتے، کم از کم تربیت تو کر سکتے ہیں۔ ہم نے اپنے نوجوانوں کوبچانا ہے، ہالی ووڈ کلچرہمارے نوجوانوں کوتباہ کرے گا۔

  • سسکتی ہوئی انسانیت کو نبی کریم ؐ کی ولادت کے سبب راحت ملی ،ثروت اعجاز قادری

    سسکتی ہوئی انسانیت کو نبی کریم ؐ کی ولادت کے سبب راحت ملی ،ثروت اعجاز قادری

    سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ سسکتی ہوئی انسانیت کو نبی کریم ؐکی ولادت کے سبب راحت ملی ،سرکار دو عالم ؐ تمام عالمین کیلئے رحمت بن کر تشریف لائے ،ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم سرکار مدینہ کا جشن ولادت دورود وسلام کی صدائوں میں منارہے ہیں ،گلی گلی سج گئی گھرگھر سبز جھنڈے لگ گئے گلی محلوں کو برقی قمقموں سے سجا کر آقا کریم کی ولادت کی خوشی منائی جارہی ہے ،عشقان رسول کا ٹھاٹھے مارتا سمندر دنیا کو واضع پیغام دے رہا ہے عشق رسول میں جینا ہے اور عشق رسول میں مرنا ہے ،انسانیت کی خدمت کرنا عبادت ہے ،اقلیتوں کو دین اسلام تحفظ فراہم کرتا ہے ،پاکستان میں تمام اقلیتیں آزادی سے زندگی بسر کررہی ہیں ،انسانیت کے علمبردارمحسن انسانیت کا احسان نہ بھولیں ، محسن انسانیت نے بلاتفریق رنگ ونسل اور مذہب انسانیت کی خدمت کا درس دیا ،مغرب سے اسلام شعائر کے خلاف توہین آمیز رویئے اور توہین آمیز خاکے دنیا کی بد ترین دہشتگردی ہے ،نبی کریم ؐ خاتم النبیین ہیں ،سید صدیق اکبر نے جھوٹے نبوت کے دعویدار مسلمہ کذاب کو واصل جہنم کرکے دنیا کو پیغام دے دیا نبی کریم ؐ کی ختم نبوت کا تحفظ ہم اپنی جانوں کا نذارنہ دے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ،سچے مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ سرکار دو عالم ؐ کی شان میں ہلکہ سی بھی ہرزہ سرائی برداشت نہیں کرتا ،جھوٹے نبوت کے دعویداروں کو مغرب پناہ دیتا ہے اور شعائر اسلام کی توہیں کرنیوالوں کے پیچھے بھی یہود ونصاریٰ کا ہاتھ ہوتا ہے،ملک کو معاشی عدم استحکام سے نکالنے کیلئے ایک ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے ،موجودہ حکمرانوں نے عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے ،مہنگائی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے ،لگتا ہے حکومت غربت کی بجائے غریب کو ختم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیاقت آباد ڈاکخانہ پر پاکستان سنی تحریک کے تحت نکالی جانیوالی میلاد ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ سرکارؐ سے محبت کا تقاضہ ہے کہ ہر فرد اپنا احتساب کرئے ،غریبوں کو حقوق دلانے کیلئے آواز اٹھائے ،عدل وانصاف کی فراہمی جو ناپید ہوچکی ہے عوام کو ستا اور فوری انساف سلانے کیلئے عملی طور پر تحریک چلائی جائے ،سیاسی ومذہبی قوتوں کو آج اس مبارک موقع پر دعوت دیتا ہوں آئو ملک کے مفاد میں ایک ہوجائیں اور ایسی پالیسیاں بنائیں ملک ترقی کرئے خوشحالی آئے ،انہوں کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو عملی طور پر اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے دعوئوں سے کام نہیں چلے گا ،عوام غربت سے بیزار ہوکر خودکشی کررہے ہیں حکمران بتائیں غریبوں کا خون کس کے ہاتھوں میں تلاش کریں ،غریب کو روزگار نہیں مہنگائی آسمان کو چھورہی ہے کوئی غریب کی داد رسی یا آواز اٹھانے والا نہیں ہے ،میلاد النبی کے موقع پر تمام عالم کے مسلمانوں کو سرکار دو عالم کی ولادت کی مبارکباد پیش کرتا ہوں ،سرکار ؐ کی پیدائش سے قبل انسانیت سسک رہی تھی بچیوں کو زندہ درگورکردیا جاتا تھا ،عورت کو نفرت سے دیکھا جاتا ہے آقا کریم کی ولادت کے سبب اندھیروں کو بادل چھٹ گئے ظلم وستم کے دور کا خاتمہ ہوا انسانیت راحت اور قرار آگیا عورت کو وہ مقام عطا کیا گیا جو دنیا کے کسی بھی مذہب میں نہیں ہے ،یہود ونصاریٰ فحاشی وعریانی پھیلا کر مسلمانوں کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں ہمیں اپنی نسلوں کو دینی ودنیاوی تعلیم دلانا ہوگی تاکہ اسلام وملک دشمنوں قوتوں کو پنپنے کا موقع نہ ملے

  • حضور پاک ﷺ کی ولادت تمام انسانیت کیلئے باعث رحمت ہے، وزیراعلیٰ سندھ

    حضور پاک ﷺ کی ولادت تمام انسانیت کیلئے باعث رحمت ہے، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حضور پاک ﷺ کی ولادت تمام انسانیت کیلئے باعث رحمت ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عید میلا النبی ﷺ کے جلوس میں شرکت کی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت انسانیت کو شفقت ، محبت اور مساوات کا درست دیتی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ جشن عید میلادالنبی ﷺ منانے کے ساتھ ہمیں حضور پاک ﷺ کی تعلیمات پر عمل بھی کرنا چاہیے۔

  • پروازیں منسوخ کرنے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سخت نوٹس لے لیا

    پروازیں منسوخ کرنے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سخت نوٹس لے لیا

    اندرون ملک پروازوں کی اچانک منسوخی کے معاملے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے سخت نوٹس لے لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر ایئرٹرانسپورٹ کی جانب سے پی آئی اے،سرین ائیر، ائیر بلیو اور ائیر سیال کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔

    سی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ پروازوں کی منسوخی پر مسافروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر شکایات موصول ہوئی ہیں، یکم اکتوبر سے 18 اکتوبر تک مجموعی طور پر 1145 پروازوں میں سے 383 پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔

    سی اے اے کے مطابق قومی ائیرلائن کی جانب سے 417 میں 130 شیڈول پروازیں منسوخ کی گئی ہیں جبکہ سرین ائیرلائن نے 117، ائیربیلو نے86 اور ائیر سیال نے 50 پروازیں منسوخ کی ہیں۔

    سی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل اور چارٹرڈ پروازوں کی اجازت مانگنے سے قبل ایئرلائن آپریٹرز متعلقہ دفتر کو حلف نامہ پیش کریں گے ،شیڈول ڈومیسٹک پروازیں باقاعدگی اور پابندی وقت کے ساتھ بالترتیب 90 اور 80 فیصد کے ساتھ چلایا جائے۔

    واضح رہے کہ تکنیکی وجوہات یا مجبوری کی صورتحال میں ڈومیسٹک پروازوں کی منسوخی کی اجازت سی اے اے سے طلب کی جائے گی۔