Baaghi TV

Author: +9251

  • جماعت اسلامی نے 31-اکتوبرکواحتجاجی مظاہرے کا اعلان کردیا

    جماعت اسلامی نے 31-اکتوبرکواحتجاجی مظاہرے کا اعلان کردیا

    لاہور:جماعت اسلامی نے 31-اکتوبرکواحتجاجی مظاہرے کا اعلان کردیا ،اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی کے کارکنان 31 اکتوبر کواسلام آباد ڈی چوک میں جمع ہونے کا پیغآم دے دیا گیا ہے اوران سے کہا گیا ہے کہ مہنگائی کے خلاف احتجاج میں شمولیت ضرور کریں

    اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے مرکزی ترجمان امیرالعظیم نے کہا ہے کہ 31 اکتوبرکو ہم اسلام آباد ڈی چوک میں جمع ہوں گے۔

    جماعت اسلامی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کاروان کا رخ اسلام آباد کی طرف ہے، اب نوجوان نوکریوں کیلئے ڈی چوک آرہے ہیں حکومت تیار رہے۔

    انکا کہنا تھا کہ اس حکومت میں تعلیم کا حصول بہت مشکل اورمہنگا ہوچکا ہے، ملک بھر میں مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔جماعت اسلامی کے مرکزی ترجمان امیرالعظیم نے مزید کہا کہ پنڈورا باکس میں سب سے زیادہ موجودہ حکمرانوں کے نام ہی ہیں۔

    پریس کلب لاہور کے باہر جماعت اسلامی نے مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد نے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی ۔

    احتجاجی مظاہرے میں جماعت اسلامی کے کارکنان نے شرکت کی، حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت مخالف نعرے بازی کی گئی ۔

    امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ اس حکومت کا وعدہ تھا کہ مہنگائی کو کم کریں گے، اس وقت یہ سونامی پاکستان کی بربادی بن چکی ہے، عمران خان کی حکومت نے قوم اور ملک کو تباہ کر دیا ہے، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو واپس لیا جائے۔

    ذکر اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ واپس لیا جائے ،چینی، گھی آٹا کی قیمتوں میں اضافہ واپس کیا جائے ،پوری قوم عمران خان کے اقدامات سے تنگ آگئی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ظالمانہ اقدامات واپس نہ لئے گئے تو یہ احتجاج بڑھے گا، انہوں نے لوگوں کے گھر چھین لئے، نوکریاں چھین لیں جبکہ 31 اکتوبر کو عوام جماعت اسلامی کے ساتھ اسلام آباد پہنچیں گے۔

  • بی بی عوام کے روزگار کی امید تھیں، بلاول بھٹو زرداری

    بی بی عوام کے روزگار کی امید تھیں، بلاول بھٹو زرداری

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بی بی عوام کے روزگار کی امید تھیں۔
    تفصیلات کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے باغ جناح جلسہ گاہ میں جیالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان کی عوام سے پوچھتا ہوں کہ کیا آج تک دنیا کی تاریخ میں ایسی بہادر بیٹی پیدا ہوئی جس کو بتایا جائے کہ آپ کو ایک آمر اور دہشتگرد قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ پھر بھی اس ملک اور عوام کو آمر سے آزادی دلانے کے لیے وطن آئیں، اس ملک میں الیکشن لڑنے کے لیے عوام کی خاطر آئیں۔
    چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ بی بی باہر سے بیٹھ کر الیکشن مہم چلا سکتی تھیں لیکن دھمکیوں کے باوجود بینظیر بھٹو زرداری آمر اور دہشتگردوں کی پروا کیے بغیر 18 اکتوںر کو وطن واپس آئیں۔ ہمیں پہلے سے معلوم تھا آپ پھانسی سے نہیں ڈرتیں۔
    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سانحہ کارساز پر دھماکہ ہوا تو جیالے بھاگنے کے بجائے اپنی قائد بینظیر بھٹو کو بچانے کے لیے آگے بڑھے۔ یہ عظیم مثال دنیا میں نہیں ملتی۔
    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے ملک کو معاشی ترقی دلائی۔ بی بی عوام کے روزگار کی امید تھیں۔
    بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ کسان محنت سے اپنی فصل اگاتا ہے، پیپلز پارٹی نے ہی کسان مزدور کو اپنا مقام دلایا۔ پیپلز پارٹی نے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگایا اور شہید بینظیر بھٹو نے نعرہ پورا کیا۔ شہید بینظیر بھٹو کے لیے یہی کہا جاتا ہے کہ بینظیر آئیں گی لائیں گی۔
    ان کا کہنا تھا کہ آج تاریخی بیروزگاری ہے، آج تاریخی مہنگائی ہے۔ آج بھی ملک کو پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج کی حکومت عوام سے دھوکا کرتی ہے۔ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا اس حکومت نے۔ کہاں گئی وہ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر کہا ہیں؟ انہوں نے اپنے ہزاروں لوگوں سے روزگار چھینا ہے۔ مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ عمران خان چور ہے۔ ہماری حکومت آئی تو عوام کو روزگار دلائیں گے، ہم چھت دیں گے گرائیں گے نہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت عام آدمی، مزدور، کسانوں اور سفید پوش لوگوں کی ہوتی ہے۔

  • سانحہ کارساز کے شواہد مٹانے کے سبب جوڈیشل کمیشن نہیں بن سکا، مراد علی شاہ

    سانحہ کارساز کے شواہد مٹانے کے سبب جوڈیشل کمیشن نہیں بن سکا، مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ 18 اکتوبر کی تحقیقات میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے درکار شواہد سانحے کے فوری بعد مٹا دیئے گئے جس کی وجہ سے تحقیقات مکمل نہیں ہوسکیں اور جوڈیشل کمیشن نہیں بن سکا۔
    باغ جناح میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو 18 اکتوبر 2007ء کو جلا وطنی ختم کرکے وطن واپس آئیں، 12 بجے رات جب قافلہ کارساز پہنچا تو دو دھماکے ہوئے جس میں 180 کارکنان شہید اور 500 سے زائد زخمی ہو گئے، آج کا جلسہ شہداء کارساز کی یاد میں منعقد کیا گیا ہے۔
    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت کی حکومت نے سانحہ کارساز کے شواہد مٹا دیئے جس کی وجہ سے تحقیقات متاثر ہوئیں اور شواہد مٹانے کی وجہ سے ہی سانحہ کارساز پر عدالتی کمیشن نہیں بن سکا، سانحہ 18 اکتوبر کے شہیدوں کے ورثا کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ سانحہ کارساز کے شہداء کو انصاف ملے۔
    انہوں ںے کہا کہ بلوچستان میں وزیر اعلی کی تبدیلی اگر جمہوری اور آئینی انداز میں ہوگی تو سب اسے تسلیم کریں گے، بلوچستان کا مسئلہ جمہوری انداز میں حل ہونا چاہیے۔
    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ جمہوری حکومت کو ہروقت خطرہ رہتا ہے، وفاق اور دیگر صوبوں کو خطرہ ہو گا تو دیکھیں گے کہ وہ کیسے حالات کا مقابلہ کرتے ہیں، عمران خان کے آنے سے تمام اشیا مہنگی ہوگئیں، ہم قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے وفاق میں آکر ملک میں آئین بحال کیا، بلوچستان کو آغاز حقوق پیکیج دیا، 18 ویں ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کرائی، عوام پیپلز پارٹی پر بھروسہ کرتی ہے، آئندہ بھی ہماری حکومت ہوگی، بلاول بھٹو عوام کے لیے نجات دہندہ ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت بجلی کی قلت ہے، ہم نے بجلی کا معاملہ وفاق کے سامنے اٹھایا ہے اور یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے گئے ہیں، صوبے میں گندم کی قلت نہیں ہے صرف عمران خان کی وجہ سے عوام آٹے سے محروم ہوگئے ہیں لیکن ہم آٹے کی قیمت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم گندم کی اسمگلنگ روکنے کے لیے وفاق اور دیگر صوبوں کو اقدامات کرنا ہوں گے۔
    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا معاملہ وزیر اعظم اور فوج کا ہے، اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔

  • اتنا چور وزیراعظم پاکستان کی تاریخ میں نہیں گزرا، بلاول

    اتنا چور وزیراعظم پاکستان کی تاریخ میں نہیں گزرا، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جتنا چور اس وقت ہمارا وزیراعظم ہے اتنا چور وزیراعظم پاکستان کی تاریخ میں نہیں گزرا، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے آج پھر پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے۔

    یہ بات انہوں نے کراچی میں پیپلز پارٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جلسے سے دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ بے نظیر بھٹو ایک آمر سے لڑنے کے لیے جان کی پروا کیے بغیر پاکستان واپس آئیں تاکہ ملک کو آمریت سے نجات دلائی جاسکے اور عوام کو روٹی کپڑا اور مکان دیا جاسکے لیکن انہیں شہید کردیا گیا، پیپلز پارٹی کے جیالے بم دھماکوں سے نہیں ڈرتے ہم سانحہ کارساز کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ عمران خان نے عوام کو نوکریاں اور مکان دینے کا وعدہ کیا لیکن اسے پورا کرنے کے بجائے روزگار اور چھت چھین لی، اسی طرح عمران خان نے کراچی کے عوام کو ہر وعدے کے عوض دھوکا دیا، جتنا چور اس وقت ہمارا وزیراعظم ہے اتنا چور وزیراعظم پاکستان کی تاریخ میں نہیں گزرا۔

    انہوں نے کہا کہ آج ملک میں جتنی مہنگائی ہے اتنی تاریخ میں کبھی نہیں رہی، بجلی، پٹرول، گیس، اشیائے خورونوش سمیت ہر چیز مہنگی ہوگئی، جینا اور مرنا بھی مہنگا ہوگیا، حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کردیا، لیکن سب جان لیں پیپلز پارٹی کی حکومت آنے والی ہے، ہم پہلے دن سے قائد عوام اور شہید بی بی کا سفر شروع کردیں گے، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے آج پھر پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے۔

  • پیپلز پارٹی کے قائدین نے باغ جناح جلسے کو وفاقی حکومت کے خلاف عوامی ریفرنڈم قرار دے دیا

    پیپلز پارٹی کے قائدین نے باغ جناح جلسے کو وفاقی حکومت کے خلاف عوامی ریفرنڈم قرار دے دیا

    پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین نے باغ جناح جلسے کو وفاقی حکومت کے خلاف عوامی ریفرنڈم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ وزیرا عظم عمران خان نہ کھپے ، نہ کھپے ، ،نہ کھپے ، جادو ٹونے سے حکومتیں نہیں چلتیں ۔ عوام کے حق حکمرانی پر ڈاکا ڈالنے والے وعدہ شکن وزیر اعظم کو سندھ کے عوام نہیں مانتے ہیں ۔
    ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے رہنماوں نثار کھوڑو ، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، علی مدد جتک اور دیگرنے باغ جناح میں پیپلز پارٹی کے تحت ہونے والے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ یہ جلسہ سانحہ کارساز کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقد کیا گیا تھا ۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میں بلاول بھٹو زرداری ، آصفہ بھٹو زرداری کو خوش آمدید کہتاہوں ، آج کا جلسہ لاکھوں افراد پر مشتمل ہے ، آج ہم سانحہ کارساز شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں ۔
    انہوں نے کہاکہ18 اکتوبر 2007 کو بے نظیر بھٹو جلا وطنی ختم کرکے وطن واپس آئیں ، ہر زبان پر نعرہ تھا بے نظیر آئے گی روزگار لائے گی ،اس دن رات 12 بجے کارساز کے مقام پر دو دھماکے کئے گئے ۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گرد بے نظیر کو نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن بے نظیر بھٹو کے بھائیوں نے اپنی جانیں قربان کرکے انہیں بچا لیا ، اگلے دن بے نظیر بھٹو زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچی ، اس کے بعد انہوں نے عوامی رابطہ مہم شروع کی لیکن دہشت گردوں نے انہیں 27 دسمبر کو شہید کر دیا ۔
    انہوںنے کہاکہ ہمیں اپنے شہدا کا غم نہیں بھولا ،ہر سال 18 اکتوبر کو شہیدوں کی یاد میں جلسہ کرتے ہیں ، یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے ، اسی لئے جلسہ ایک دن پہلے منعقد کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ہم بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں حقیقی جمہوریت لائیں گے اور اپنے ملک کے لوگوں کی خدمت کرتے رہیں گے ، اس ملک کا جو حال پی ٹی آئی کی حکومت نے کیا ہے اس سے عوام کو نجات دلائیں گے ۔
    آج لوگوں کو آٹا نہیں مل رہا ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے ، تین سالوں میں ہر چیز کی قیمت دگنی سے زیادہ ہو گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چینی کی قیمت 110 روپے سے زیادہ ہو گئی ہے ، اس حکومت کو احساس نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پٹرول کی قیمت 10 روپے بڑھا دی گئی ہے ،وفاقی حکومت عوام کی جان چھوڑو اور گھر جاو ، عوام کو موجودہ حکومت اور اس کی مہنگائی سے پیپلز پارٹی کی قیادت جان چھڑائے گی ۔
    انہوں نے کہاکہ عمران خان جس سے بھی پوچھ کر فیصلے کرتے ہیں ، وہ بہت غلط کرتے ہیں ۔ عمران خان کہتے تھے کہ ہم ملکی کی پیداوار بڑھائیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان کو معلوم ہی نہیں کے جی ڈی پی کا مطلب کیا ہے ، وزیر اعظم کے نزدیک جی ڈی پی کا مطلب گیس ڈیزل اور پٹرول کے نرخ بڑھانا ہے ، پٹرول کی قیمت میں 10 روپے اضافے کے بعد وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ابھی تو صرف 10 روپے بڑھائے ہیں ۔
    انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں عوام کو پیپلز پارٹی کو منتخب کرنا ہو گا ۔ پیپلز پارٹی ملک گیر کامیابی حاصل کرے گی اور پہلے سے زیادہ نشستیں جیتے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں آئندہ انتخابات پیپلز پارٹی سوئپ کرے گی اور وفاقی حکومت بنا کر ظالمانہ پالیسیوں کا خاتمہ کریں گے ۔ وزیر اعلی سندھ نے اپنی تقریر کے اختتام پر نعرے لگوائے اور شرکا سے یہ عہد لیا کہ وہ بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے ۔
    پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا کہ 18 اکتوبر کو نشانہ بے نظیر بھٹو تھیں ، بے نظیر بھٹو پاکستان کے مظلوم عوام کے لیے وطن واپس آئی تھیں ۔ا نہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی ملک میں ایسی جمہوریت بحال کرے گی ، موجودہ حکومت سے عوام کو چھٹکارا دلائیں گے ، جس نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے اور ہر مہینے مہنگائی کے بم بر سا رہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم کسی بیک ڈور دروازے یا چینل سے حکومت میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی کسی سازش کا حصہ بنیں گے ۔
    انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی ہے تھی اور برقرار رہے گی ۔انہوں نے کہاکہ ہم سانحہ کارساز کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ،ہم 18 اکتوبر کو شہیدوں کا دن مناتے ہیں ، یہ صرف پیپلز پارٹی کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی جمہوریت کے لیے شہید ہوئے تھے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے بی بی کو قرآن شریف کے وعدے دے کر بلایا تھا ، وہ پاکستان آئیں ، انہوں نے دعا کی کہ شکر ہے کہ میں اپنے ملک آ گئی ۔
    انہوں نے کہاکہ18 اکتوبر کو شہید بی بی کا قاتلانہ حملہ کیا گیا ۔ یہ حملہ اس ملک کی جمہوریت پر تھا ، ہمارا عزم ہے کہ ہم غریبوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم بھٹو شہید کے اصولوں پر چلتے ہوئے اصل جمہوریت لائیں گے،یہاں کوئی سلیکٹڈ نہیں ہو گا ، یہ نااہل حکمران عوام کی قسمت سے کھیل رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم گولیوں اور کوڑوں سے نہیں ڈرتے ،آج ہر دن کالا دن ہے ، وفاقی حکومت نے عوام کا جینا تنگ کر دیا ہے ۔
    انہوں نے کہاکہ یہ جادو ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں ،عمران ، عارف علوی ، عذاب بن کر عوام پر گرے ۔ انہوںنے کہاکہ اب قوت بازو دکھانے کا وقت ہے ، اب اس حکومت سے نجات دلانے کا وقت ہے ،مہنگائی بم ، پٹرول بم ، بے روزگاری کا بم ، ہم کتنے بم برداشت کریں ۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی تم بڑھاو اور الزام پہلے کی حکومت پر ڈال دو ، ایسے وزیر اعظم کو ہم نہیں مانتے ، ہم ایسے لوگوں کو نہیں مانتے جنہوں نے ووٹ میں خیانت کی ہو ۔
    انہوں نے کہاکہ سندھ کے عوام نے ریفرنڈم دے دیا ہے کہ عمران خان نہ کھپے ، پیپلز پارٹی پچاس سال سے قربانیاں دے رہی ہے ۔ انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دو گے ، بلاول کو وزیر اعظم بنائو گے ۔انہوںنے کہاکہ آج پٹرول 138 روپے ہو گیا ہے ، عوام غربت کی لکیر سے نیچے آ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ وقت حکومت سے نجات کا ہے ، پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر علی مدد جتک نے کہاکہ پیپلز پارٹی بلوچستان کی جانب سے شہدا کارساز کو سرخ سلام پیش کرتا ہوں ۔ ہم بی بی شہید کے مشن کو جاری رکھیں گے۔

  • کٹھ پتلی کا ہر وعدہ جھوٹ نکلا،ویسے بھی الٹی گنتی شروع ہوچکی :بلاول بھٹو زرداری

    کٹھ پتلی کا ہر وعدہ جھوٹ نکلا،ویسے بھی الٹی گنتی شروع ہوچکی :بلاول بھٹو زرداری

    کراچی: کٹھ پتلی کا ہر وعدہ جھوٹ نکلا،ویسے بھی الٹی گنتی شروع ہوچکی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومت کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک پر تبدیلی نہیں تباہی سرکار مسلط ہے، کٹھ پتلی کا ہر وعدہ جھوٹ نکلا، عوام کیلئے جینا مرنا مشکل ہوگیا،عمران خان کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے جبکہ حکومت کو بھگا کر ہی دم لیں گے، اگلی باری جیالوں کی ہوگی ۔

    باغ جناح کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کہتےتھےمہنگائی ہوتوسمجھووزیراعظم چورہے، عوام پوچھتےہیں ایک کروڑ نوکریاں اور 50لاکھ گھرکہاں ہیں؟جبکہ عمران خان کا عوام سےکیاگیاہروعدہ جھوٹا نکلا،ملک میں تاریخی بیروزگاری اور مہنگائی ہےجبکہ آج ملک میں عمران خان کی تبدیلی نہیں تباہی ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ آج ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی ضرورت ہے،ہماری حکومت عوام دوست ہوگی،غریب نہیں بلکہ غربت کا خاتمہ کریں گے،ملک میں تاریخی بیروزگاری اور مہنگائی ہے،پیپلز پارٹی حکومت میں آنے کے پہلے روز تنخواہوں میں اضافہ کرے گی۔

    جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے جہاں ہاتھ ڈالا وہاں مہنگائی،پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو اپنا وعدہ پورا کرتی ہے،اقتدار سنبھالتے ہی نوجوانوں کو روزگار دیں گے،عمران خان کو گھر بھیجنے تک احتجاج جاری رکھیں گے جبکہ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔

  • عمران خان کی الٹی گنتی شروع ہو گئی

    عمران خان کی الٹی گنتی شروع ہو گئی

    ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر کہاں ہیں ، یہ تبدیلی نہیں بلکہ تباہی ہے، عمران خان کی الٹی گنتی شروع ہو گئی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان ۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کی الٹی گنتی شروع ہو گئی۔
    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کے دوران مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا ہر وعدہ جھوٹ نکلا۔انہوں نے کہا کہ عوام پوچھ رہے ہیں کہ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر کہاں ہیں ؟ یہ تبدیلی نہیں بلکہ تباہی ہے۔ عمران خان جیسا چور اور کٹھ پتلی وزیر اعظم ملک کی تاریخ میں نہیں گزرا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے ڈیل کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے عوام کا جینا اور مرنا بھی مہنگا ہو چکا ہے۔ ملک میں تاریخی بے روزگاری ،غربت اور مہنگائی ہے۔ پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جو اپنا وعدہ پورا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی ضرورت ہے کیونکہ ہماری حکومت عوام دوست ہو گی۔
    ہم غریب نہیں بلکہ غربت کا خاتمہ کریں گے اور پیپلز پارٹی حکومت میں آنے کے پہلے روز ہی تنخواہوں میں اضافہ کرے گی۔ اقتدار سنبھالتے ہی نوجوانوں کو روزگار دیں گے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عمران خان کو گھر بھیجنے تک احتجاج جاری رکھیں گے جبکہ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانے دے گی جو آئین کے خلاف ہو اس کی ہم بھرپور مزاحمت کریں گے۔
    انہوں نے کہا کہ ماضی میں آمریت کے خاتمے کے لیے پیپلز پارٹی کی ضرورت تھی اور آج بھی سلیکٹڈ حکومت گرانے کے لیے پیپلز پارٹی سفید پوش طبقے کی آخری امید ہے۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے۔
    ٹیلی فونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے مہنگائی کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف سے پارٹی صدر شہباز شریف کی ٹیلی فون پر مشاورت بھی ہوئی ہے اور انہوں نے ملک میں بدترین مہنگائی کے خلاف بھرپور تحریک چلانے کے فیصلے کی توثیق کی۔دونوں رہنماؤں نے ملک کی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے پر اتفاق کیا۔

  • بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں جمہوریت کا قافلہ تحریک انصاف کی حکومت کو بہا لے جائے گا، جام اکرام اللہ دھاریجو

    بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں جمہوریت کا قافلہ تحریک انصاف کی حکومت کو بہا لے جائے گا، جام اکرام اللہ دھاریجو

    صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور محکمہ امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں جمہوریت کا قافلہ تحریک انصاف کی حکومت کو بہا کر لے جائے گا اور سانحہ کار ساز کے شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا اور ایکبار پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئے گی اور غریبوں کے مسائل حل ہوں گے۔
    یہ بات انہوں نے جلسے میں آنے والے شرکا کا خیر مقدم کرتے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے سکھر اور گھوٹکی کے کارکنوں کے لئے قائم استقبالی کیمپ نزد جناح باغ کا دورہ کیا اور صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو کی جانب سے کارکنوں کو ظہرانہ بھی دیا گیا۔

    اس موقع پر بھرپور خیر مقدم کرنے اور خیال رکھنے پر کارکنوں نے صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو سے اظہار تشکر کیا۔

    صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور محکمہ امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے مذید کہا کہ تمام ورکرز جوش و خروش سے جلسے میں شریک ہورہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت اندرونی و بیرونی دونوں محاذ پر ناکام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا جن بے قابو ہو کر غریبوں کو کھا رہا ہے۔عمران خان نے حکومت میں آنے سے قبل کہا تھا کہ جب ڈالر اور پٹرول مہنگا ہو تو سمجھ جانا وزیر اعظم چور ہے۔
    آج پٹرول اور ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ اب عمران خان بٹائیں کون چور ہے۔ جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ آج ہم سانحہ کار ساز کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرنے جمع ہوئے ہیں۔ ان شہیدوں کی وجہ سے ملک میں جمہوریت کا فروغ ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کارکن چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں متحد ہیں۔ جمہوریت کا یہ قافلہ تحریک انصاف کی جعلی حکومت کو بہا لے جائے گا۔ انہوں نے کہا آج کا جلسہ تاریخ ساز جلسہ ہے اور یہ جلسہ سلیکڈڈ حکمرانوں کی راتوں کی نیندیں حرام کر دے گا

  • شہرقائد کو کسی صورت بھی کنکریٹ کا جنگل نہیں بننے دیں گے ، ایاز میمن

    شہرقائد کو کسی صورت بھی کنکریٹ کا جنگل نہیں بننے دیں گے ، ایاز میمن

    کراچی تاجر الانئس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئر مین ایاز میمن موتی والا نے کہا ہے کہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے کسی بھی شہر میں اگر کہیں ہائی رائز بلڈنگز بنائی جاتی ہیں تو متعلقہ اداروں سے نقشہ پاس کروانا پڑتاہے اور اس نقشے میں بلڈنگز کے ساتھ ساتھ چالیس سے ساٹھ فٹ روڈز کی جگہ بھی چھوڑنی پڑتی ہے تا کہ گاڑیوں اور لوگوں کی آمدورفت کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو لیکن ایسا محسوس ہوتاہے کہ کراچی میں گنگا الٹی ہی بہتی ہے غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے قدم دن بدن مضبوط ہورہے ہیں، ان خیالات کا اظہارا نہوں نے اپنے ڈیفنس آفس سے جاری کردہ بیان میں کیا، ایاز میمن موتی والانے کہا کہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کرنے والی مافیا نے گلشن اقبال، گلستان جوہر، ناظم آباد، لسبیلہ، جمشید روڈ، گارڈن ایسٹ، گارڈن ویسٹ جیسے مہنگے ترین علاقوں کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا ہے اور ایس بی سی اے کی ملی بھگت سے ان علاقوں میں ہائی رائز غیرقانونی کمرشل بلڈنگز بنانی شروع کردی ہیں جبکہ قانون کے مطابق چالیس سے ساٹھ فٹ روڈز کی جگہ بھی یہ لوگ بلڈنگز کی چارد یواری میں گھیر رہے ہیں جو کہ نہایت غلط اور غیرقانونی عمل ہے، ایس بی سی اے کی مدد سے سڑکوں کی جگہ پر بھی بلڈنگز کی باونڈری وال بنائی جارہی ہے اور رشوت دیکر غیر قانونی تعمیرات کے نقشے پاس کروا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وزیراعظم عمران خان ، چیف جسٹس آف پاکستان، چیئر مین نیب اوروزیراعلیٰ سندھ کی کہ وہ کراچی میں ہونے والی غیرقانونی تعمیرات کو روکنے کے لیئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں کیونکہ جس طرح یہ غیر قانونی تعمیرات کرنے والے لوگ جو مختلف علاقوں سے آکر کراچی میں دھڑا دھڑ کمرشل بلڈنگز اور رہائشی پلاٹوں پر بڑی بڑی بلڈنگز بنارہے ہیں اس کو اگر نہ روکا گیا تو بہت جلد کراچی کنکریٹ کے قبرستان میں تبدیل ہوجائیگا، انہوں نے مزید کہا کہ غیرقانونی تعمیرات کرنے والوں کو انڈر ورلڈ مافیا کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے، اور وہ لوگ اپنے غیرقانونی پیسے کو استعمال کرتے ہوئے بلڈنگز بنواتے ہیں اور بعد میں عوام کو لوٹتے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ چیئر مین نیب بہت اچھا کا م کر رہے تھے اور تاجر الائنس مطالبہ کرتی ہے کہ چیئر مین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے تا کہ کرپشن، لوٹ مار اور دیگر وائٹ کالر جرائم کرنے والوں کا قلع قمع ہوسکے۔

  • مقبوضہ کشمیر چپّے چپّے پربھارتی فوجی پھربھی خوف کے سائے:ریڈ الرٹ جاری

    مقبوضہ کشمیر چپّے چپّے پربھارتی فوجی پھربھی خوف کے سائے:ریڈ الرٹ جاری

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر چپّے چپّے پربھارتی فوجی پھربھی خوف کے سائے:الرٹ جاری،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں جہاں چپے چپے پربھارتی قابض افواج کے اہلکاربندوقیں تان کرکھڑے ہیں وہاں اس جبر کے باوجود بھی ہرطرف خوف کےسائے منڈلا رہےہیں

    دوسری طرف مقبوضہ وادی میں کشمیری حریت پسندوں نے غیرمقامی کشمیریوں کووہاں سے نکل جانے کا پیغام دے دے دیا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج پراس وقت سخت دباو ہے،

    ادھر کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع پونچھ میں نامعلوم افراد نے بھارتی فوج پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 اہلکار ہلاک ہوگئے جس کے ساتھ ہی گزشتہ ہفتے کے دوران ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 9 تک پہنچ گئی ہے ۔

    واقعہ کے بعد بھارتی فورسز کی بھاری نفری کو علاقے میں طلب کرکے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کردیا گیا ہے، علاقہ کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھارتی فوج کی بھاری نفری تعینات ہے اور کسی کو بھی آنے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل بھی مقبوضہ کشمیر میں ساتھیوں کی بازیابی کے لیے گئی بھارتی فوج کی ٹیم پر مسلح افراد نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جب کہ 2 روز قبل بھی فائرنگ کے نتیجے میں 2 اہلکار مارے گئے تھے۔

    ادھرسری نگر سے ذرائع کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں مودی کا منصوبہ حریت پسند ناکام بنانے لگے،

    بھارت سے بسائے گئے غیرمقامی افراد کو کشمیر سے نکالنے کیلئے حریت پسند شہری متحرک ہوگئے،

    آبادی کے تناسب کو بدلنے اور غیرمقامی افراد کو ڈومیسائیل دینے کے خلاف بھرپور تحریک کے آغاز پر سری نگر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے تمام غیر مقامی افراد کو کیمپس، قریبی تھانوں یا محفوظ مقام پر فوری بلانے کے احکامات جاری کیے۔

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارتی فوج پرکشمیری مجاہدین کے حملے تیز ہوگئےہیں جس کی وجہ سے اس وقت ایک بے چینی کی سی کیفیت قائم ہے

     

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وادی میں اس قدر زیادہ خوف ہے کہ غیرمقامی افراد فوجی کیمپوں میں محصور ہوکررہ گئے ہیں جس کی وجہ سے بھارتی فوج پربہت زیادہ دباو بڑھ گیاہے

    انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر وجے کمار نے اتوار کو اس حکم کی سختی سے تردید کی کہ غیر مقامی مزدوروں کو پولیس سٹیشنوں اور آرمی کیمپوں تک پہنچنے کا کہا گیا جسے "مکمل طور پر بے بنیاد اور جعلی حکم” قرار دیا گیا۔