Baaghi TV

Author: +9251

  • سابق صوبائی وزیر سہیل انور کے گھر فلمی نوعیت کی واردات

    سابق صوبائی وزیر سہیل انور کے گھر فلمی نوعیت کی واردات

    کلفٹن میں سابق صوبائی وزیر سہیل انور سیال کے گھر ہونیوالی فلمی نوعیت کی چوری کی واردات کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب ملزم کو چوری کردہ رائفلیں بیچتے ہوئے پکڑ لیا گیا۔

    پولیس کی جانب سے ملزم کی واردات اور گرفتاری کی تصدیق کردی گئی ہے۔

    سابق صوبائی وزیر سہیل انور سیال کے گھر چوری کی فلمی نوعیت کی واردات کئی روز قبل ہوئی جب سہیل انور ملک سے باہر تھے۔

    ذرائع کے مطابق ایک ملزم سہیل انور سیال کے گھر کے باتھ روم میں 6 گھنٹے تک موجود رہا، ملزم سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود گھر میں داخل ہو گیا۔

    ملزم سہیل انور سیال کے گھر قیمتی اسلحہ چرانے گیا تھا جس مقام پر اسلحہ موجود تھا وہاں آمد و رفت کے باعث اس نے خود کو 6 گھنٹے باتھ روم میں بند رکھا، ملزم گاڑی میں آیا تھا جو سہیل انور کے گھر کے باہر کھڑی کی، ملزم نے اپنے کزن کو فون کرکے بتایا کہ گاڑی کی دوسری چابی کہاں ہے، ملزم کا کزن گاڑی کی دوسری چابی سے گاڑی سہیل انور سیال کے گھر سے لے گیا۔

    ملزم نے موقع ملنے پر دو قیمتی رائفلیں چھپائیں اور بیگ میں رکھ کر چھت سے پھینکی، وہ بیگ درختوں میں اٹک کر سہیل انور سیال کے پڑوسیوں کے گھر جاگرا، ملزم پڑوسیوں کے گھر گیا اور کہا کہ وہ سہیل انور سیال کے گھر سے آیا ہے، وہ رائفلوں کا بیگ لے کر وہاں سے فرار ہوگیا۔

    پولیس نے ملزم کو دونوں رائفلیں فروخت کرتے ہوئے پکڑ لیا جس کے بعد اس کے قبضے سے رائفلیں ضبط کرلیں جب کہ ملزم کی نشاندہی پر اس کے کزن کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

    دونوں ملزمان کو کئی روز قبل گرفتار کیا گیا اور ملزمان اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔

  • آن لائن سروس کے رائڈر کو قتل کرنے والے ملزمان گرفتار

    آن لائن سروس کے رائڈر کو قتل کرنے والے ملزمان گرفتار

    کراچی کے علاقے سچل تھانے کی حدود میں آن لائن سروس کے رائیڈر کو قتل کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    ملزمان نے موبائل فون چھینتے ہوئے مزاحمت پر رائیڈر کو قتل کیا تھا۔ واقعہ گزشتہ ماہ 25 ستمبر کو پیش آیا۔

    پولیس کے مطابق ملزمان کی شناخت منظرعام پر آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج سے کی گئی۔ گرفتار ملزمان میں عمر فاروق، محمد کامران اور محمد یوسف شامل ہیں۔

    ملزمان کے قبضے سے 2 پسٹل اور ڈسٹرکٹ کورنگی سے چھینی گئی موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی ہے۔ جب کہ مقتول رائیڈر کا چھینا ہوا موبائل فون بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق دوران تفتیش ملزمان نے ڈسٹرکٹ ایسٹ ملیر اور کورنگی کی حدود میں 100 سے زیادہ اسٹریٹ کرآئم کی وارداتوں کا اعتراف بھی کیا۔

  • شرمیلا فاروقی کے والد عثمان فاروقی انتقال کر گئے

    شرمیلا فاروقی کے والد عثمان فاروقی انتقال کر گئے

    رکن سندھ اسمبلی اسمبلی شرمیلا فاروقی کے والد محمد عثمان فاروقی کراچی میں انتقال کر گئے۔

    شرمیلا فاروقی کی جانب سے ٹوئٹر پر والد کے انتقال سے متعلق ٹوئٹ بھی کی گئی۔

    محمد عثمان فاروقی پاکستان اسٹیل ملز کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

    شرمیلا فاروقی کے مطابق مرحوم عثمان فاروقی کی نمازِ جنازہ آج بروز منگل 12 اکتوبر کو بعد نمازِ عصر رحمانیہ مسجد طارق روڈ کراچی میں ادا کی جائے گی۔

    رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر والد کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے ایک تصویر بھی شیئر کی گئی، جس میں وہ والد کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔

    اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ پاپا میرا اور آپ کا دل ہمیشہ ایک ساتھ دھڑکتا رہے گا۔ شرمیلا فاروقی کے ٹوئٹ پر نامور شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے ۔

  • اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی، تحریر: محمد شعیب

    اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی، تحریر: محمد شعیب

    بہت سے لوگوں کو ایک غلط فہمی ہے کہ امریکہ نے چونکہ تیسری دنیا کے ممالک کی امداد میں کمی کردی ہے لہذا امریکہ نے از خود سپر پاور ہونے سے دستبرداری کر لی ہے۔ حالانکہ اصل صورتحال مختلف ہے امریکہ نے روس کا خطرہ کم ہونے پر امداد بند کی تھی۔ لیکن اس نے اپنی عسکری بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ امریکہ آج بھی دنیا کا بڑا پلیئر ہے۔ یہ سچ ہے کہ امریکہ کو اب سمندروں پر اجارہ داری بر قرار رکھنے کے مسائل در پیش ہیں۔

    اب امریکہ نے خاص حکمت عملی کے تحت جنوبی ایشیا، سنٹرل ایشیاء اور مشرق وسطیٰ سے اپنی توجہ ہٹا کر بحیرہ ہند ، انڈین پیسفک اور ساوتھ چائنہ سی پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ۔ اس وقت امریکہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ چین ہے ۔ آج کا امریکہ چین کی ابھرتی طاقت اور دنیا میں پھیلتے ہوئے اثرورسوخ سے پریشان نظر آتا ہے۔ چین کے خلاف چار ملکوں کی سوچ اور انڈرسٹینڈنگ چند سال سے واضح ہے۔ ان چار ممالک میں امریکہ کے علاوہ جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ پھر ابھی دو روز قبل کی خبر ہے جس میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے چین کو 21ویں صدی میں امریکا کے لیے سب سے بڑا جغرافیائی و سیاسی خطرہ قرار دیتے ہوئے چین سے متعلق معاملات دیکھنے کے لیے اعلیٰ سطح کا خصوصی چائنا مشن سینٹر قائم کردیا ہے۔ ڈائریکٹر سی آئی اے ولیم برنز نے کہا ہے کہ چائنا مشن سینٹر کا مقصد چین کی جانب سے درپیش عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ آسان الفاظ میں امریکہ نے چین کے خلاف گھیرا تنگ کرنے میں اب تک سات اقدامات اٹھائے ہیں ۔
    New China Monitor Centre in CIA
    Five Eyes Partnership
    Pacific Deterrence Initiative
    Quad
    Integrated Defence
    AUKUS
    Tech Grouping

    اب یہ تمام معاہدے اور گروپنگ ایسی ہے ۔ جس کے بعد یہ تواتر کے ساتھ خبریں چل رہی ہیں کہ تیسری عالمی جنگ کسی وقت بھی چھڑ سکتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسے دھیمے لہجے میں سرد جنگ کہا جاتا تھا مگر اب اسے تیسری عالمی جنگ کہا جا رہا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ صرف چند برسوں میں ہی چین ترقی کی عالمی دوڑ اور عالمی سپر پاور کا درجہ لینے کے کھیل میں بہت آگے نکل گیا ہے ۔ اس کی معیشت تمام اندازوں سے زیادہ ترقی کر رہی ہے۔ اس کو کرونا سے لے کر کوئی بھی اتحاد اور ٹریڈ وار روک نہیں پا رہی ہے ۔ جو ذہن میں رکھنے کی چیز ہے وہ یہ ہے کہ آج جس سرد جنگ کا آغاز ہوتا نظر آ رہا ہے اس کی نوعیت جیواکنامک ہے۔ ٹیکنالوجی اس دوڑ کا اہم ستون ہے کہ موجودہ دور میں جو قوم ٹیکنالوجی میں آگے ہوگی وہی تیز اقتصادی ترقی کرسکے گی۔ ٹیکنالوجی کی جنگ کی ایک مثال چین کی (Huawei) کمپنی ہے جو ٹیکنالوجی میں خاصی آگے ہے۔ پھر امریکہ سمجھتا ہے جنوبی ایشیا کے معاملات کو سنبھالنے کیلئے اس کا نیا اتحادی انڈیا کافی ہے جس نے 2020 سے لیکر اب تک چین سے کئی بار مار کھائی ہے۔ ابھی حال ہی میں بھارتی میڈیا نے ارونا چل پردیش میں چینی فوجیوں کو زیر حراست رکھنے کے دعوے کئے تھے جس پر چین نے بھارتی فوجی قیدیوں کی تصاویر جاری کر کے ان کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ پھر ایک ہفتے پہلے چینی فوج بڑے آرام سے اتراکھنڈ میں پانچ کلومیٹر تک اندر آئی ۔ پل تباہ کیا۔ اور واپس چلی گئی ۔ کسی بھارتی سورما میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ چینی فوج کا سامنا کرے ۔ دراصل چین بھارت کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس نے کواڈ گروپ میں شامل ہو کر اچھا نہیں کیا اور اسی لیے مستقبل میں حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ بھارت نے اس میں شامل ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اس خطے میں مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ان کا بغل بچہ بن کر رہے گا ۔ اس بات کا چین بھارت کو مسلسل سبق سیکھا رہا ہے ۔

    آپ دیکھیں ففتھ جنریشن وار ہو ، بیانیہ کی جنگ ہو ، پراپیگنڈہ ہو ، سرحدوں پر معاملات ہو ، عالمی پلیٹ فارمز پر ایجنڈہ ہو ۔ چین پر محاذ پر اپنے مخالفین کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے ۔ امریکہ کی بد قسمتی یہ ہے کہ جنوبی ایشیا ء میں بھارت کے علاوہ اس کا عزت سے نام لینا والا کوئی ملک بچا نہیں ہے ۔ روس چین، سنٹرل ایشیاء کے ممالک ، پاکستان ، ایران ، ترکی سب امریکہ کے جارحانہ رویے سے نالاں ہیں۔ امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے کیلے کوئی تیار نہیں ہے۔ امریکہ بھی عالمی سطح پر بڑے منصوبے لانچ کرنے کیلئے بے تاب ہے۔ پر اس کی دال نہیں گل رہی ہے ۔ اسی وجہ سے امریکہ میں چین کے لیے ایک سخت مخالفانہ ماحول ہے۔ لیکن اس کے باوجود ابھی تک چین نے اپنی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے ۔ الٹا امریکہ کے لیے پیغام دیا جا رہا ہے کہ چین کی جو پالیسیاں ہیں۔ وہ اپنی جگہ درست ہیں اور امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو ان پالیسیوں کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑے گا۔ ۔ ساتھ ہی چین کا لب ولہجہ سخت ہو رہا ہے۔ سفارتی سطح پر چین کے ۔۔۔ وولف واریئرز ۔۔۔ جارحانہ کردار ادا کر رہے ہیں ۔ جس میں وہ مصلحت آمیز رویے کے بجائے تصادم کا لہجہ اختیار کر رہے ہیں۔ ابھی کل ہی تمام تر پریشر اور مغربی میڈیا کے پراپیگنڈہ کے باوجود چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا دیا ہے کہ تائیوان کو دوبارہ چین کا حصہ بنانے کا عمل ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ ہم یہ عمل پرامن طریقے سے کریں گے ۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ چین کے لوگ علیحدگی کے خلاف جدوجہد کی ایک عظیم داستان رکھتے ہیں۔ کسی کو بھی چینی عوام کے مضبوط عزم ، پختہ ارادے ،قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مضبوط صلاحیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے ۔ پر یہاں پر امریکی دوغلا کردار دیکھائی دیتا ہے ایک جانب اس نے تائیوان کو آگے لگا کر اب چین کے سامنے مرنے کے لیے اکیلے چھوڑدیا ہے ۔ یہ ہی ڈر بھارت اور جاپان کو بھی ہے کہ امریکہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیتا ہے ۔ سوال یہ ہے کیا جاپان ، آسٹریلیا اور انڈیا اپنے کندھے آسانی سے امریکہ کو پیش کردیں گے۔ انڈین لیڈرشپ خوب جانتی ہے کہ امریکہ انہیں چین سے لڑا کر ایک طرف ہو جائے گا اور نتائج انڈیا بھگتے گا۔ ۔ پھر انڈین یہ بھی سوچتے ہیں کہ آخر ایٹمی آبدوزیں آسٹریلیا کوکیوں مل رہی ہیں۔ اس پر بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ جب چاروں ممالک میں چین مخالف ایجنڈا پر اتفاق کسی حد تک موجود تھا تو پھر تین ممالک (امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا) کا نیا گروپ کیوں بنایا گیا؟

    انڈیا کی سابق سیکرٹری خارجہnirpama rao نے اس نئے اتحاد کو چار رکنی اتحاد کی پیٹھ میں سٹریٹیجک چُھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس لیے جو حالات دیکھائی دے رہے ہیں ۔ انڈیا امریکہ کی خاطر چین سے نہیں لڑے گا بلکہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلے گا۔ امریکہ سے وہ پہلے ہی کافی فائدے اٹھا چکا ہے۔ ۔ اسی لیے اس دفعہ سرد جنگ میں وہ تیزی نظر نہیں آئی جو گزشتہ صدی کی کولڈوار میں تھی۔ اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلی سرد جنگ میں یورپی ممالک پوری یکسوئی سے امریکہ کے ساتھ تھے۔ وہ نیٹو میں بھی شامل ہوئے جبکہ اکیسویں صدی کی کولڈوار کے ساتھی بشمول انڈیا اور جاپان دل و جان سے امریکہ کے ساتھ نہیں لگتے۔ ان کے چین کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات ہیں ۔ پھر صدر شی بھی دنیا کے سٹیج پر چین کا جارحانہ امیج دکھانے کے حامی رہے ہیں۔ صدر بننے کے بعد سے انہوں ان اقدامات پر زور دیا ہے کہ چین زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرے اور اپنے اندر فائٹنگ سپرٹ پیدا کرے۔ ہانگ کانگ ، تائیوان ، لداخ اس کی مثالیں ہیں ۔ چین کی اس پالیسی سے اس چیز کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اپنی سفارتی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی ضروری نہیں سمجھتا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ہانگ کانگ اور تائیوان پر کوئی بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اس طرح وہ ہمالیہ سے لے کر ساوتھ چائنہ سی تک پائے جانے والے علاقائی تنازعات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس وقت چین خاموشی سے تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی طاقت اور برتری کا خوف لوگوں کے ذہنوں سے چھو منتر ہو رہا ہے ۔ حالات بتا رہے ہیں کہ اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی۔ دنیامیں برتری اور خدمت کا تاج مشرقی قومیں پہنیں گی۔

  • کراچی میں فائرنگ سے فجر کی اذان دیتے ہوئے مسجد کے پیش امام جاں بحق

    کراچی میں فائرنگ سے فجر کی اذان دیتے ہوئے مسجد کے پیش امام جاں بحق

    سہراب گوٹھ تھانے کی حدود نیو کراچی ایوب گوٹھ میں جامع محمدی مسجد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ، مقتول کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی ، پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 55 سالہ ویال بڈ خان ولد عالم خان کے نام سے کی گئی ، مقتول کے بیٹے نے بتایا کہ اس کے والد مذکورہ مسجد کے پیش امام تھے جنہیں نامعلوم ملزمان نے فجر کی اذان دینے کے دوران فائرنگ کر کے قتل کیا ہے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقعے پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد چھیپا کی ایمبولینس کو اطلاع دی تاکہ لاش اسپتال منتقل کی جا سکے ، پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش سے قبل کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا ، مقتول کو عقب سے پیٹ پر دو گولیاں ماری گئی ہیں۔
    پولیس نے کہا کہ مقتول کے والد اور بیٹے کا بیان لیا ہے ،ان کے بیانات سے دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے ، مقتول کا آبائی تعلق خیبر پختونخواہ کے علاقے کرک سے تھا ، پولیس نے پوسٹ مارٹم اور ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش مقتول کے والد اور بیٹے کے سپرد کر دی ۔

  • ایم کیوایم کے مبینہ ٹارگٹ کلر عبید کے ٹو اور نادر شاہ مقدمے سے بری

    ایم کیوایم کے مبینہ ٹارگٹ کلر عبید کے ٹو اور نادر شاہ مقدمے سے بری

    سندھ ہائیکورٹ نے 2 پولیس اہلکاروں کے قتل کے جرم میں سزا کیخلاف اپیل منظور کرتے ہوئے ایم کیوایم کے مبینہ ٹارگٹ کلر عبید کے ٹو اور نادر شاہ کو مقدمے سے بری کردیا۔ پیرکوجسٹس کے کے آغا اور جسٹس ارشاد علی شاہ پر مشتمل بینچ نے 2 پولیس اہلکاروں کے قتل کے جرم میں سزا کیخلاف اپیل پر فیصلہ سنادیا۔
    پراسیکیوشن ملزمان کی سزا برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکی۔ عدالت نے ایم کیو ایم کے عبید کے ٹو اور نادر شاہ کو بری کردیا۔
    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان کیخلاف مزید کیس نہیں ہیں تو جیل سے رہا کیا جائے۔ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے ملزمان کو 2 ، 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

    پولیس کے مطابق ملزمان نے 2000 میں ایم اے جناح روڈ پر پولیس اہلکاروں کو قتل کردیا تھا۔ شہید ہونے والے پولیس والوں میں ریحان اور نثار شامل تھے۔ ملزمان کیخلاف انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں دیگر مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ملزمان عبید کے ٹو اور نادر شاہ کو ایم کیو ایم مرکز 90 سے گرفتار کیا گیا تھا .

  • 17اکتوبر کا جلسہ ظلم و جبر ،مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہوگا ،سعید غنی

    17اکتوبر کا جلسہ ظلم و جبر ،مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہوگا ،سعید غنی

    پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے صدر و صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ 17اکتوبر کا باغ جناح کراچی میں منعقد ہونے والے تاریخی جلسہ عام ظلم وجبر ،مہنگائی اور بے روزگاری کے ساتھ مخالفین کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہوگا ،تاریخی جلسہ ثابت کردے گا کہ کراچی بھٹو کے چاہنے والوں کا شہر ہے ان خیالات کا اظہار انہوںنے 17اکتوبر باغ جناح کراچی کے جلسہ عام کی تیاریوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ کورنگی کے تحت جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پی پی کراچی کے نائب صدر مرزا مقبول احمد ،ڈسٹرکٹ کورنگی کے صدر جاوید شیخ ،جنرل سیکریٹری چوہدری اصغر آرائیں ،سیکریٹری اطلاعات جانی میمن ،سابق ایم این اے علی راشد ،سٹی ایریاز کے صدور اور جنرل سیکریٹریز نے بھی خطاب کیا اجلاس میں پیپلز پارٹی ،پیپلز یوتھ ،خواتین ونگ ،پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن ،منیارٹی ونگ سمیت دیگر ذیلی تنظیموں کے عہدیداروں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی سعید غنی نے کہاکہ پیپلز پارٹی کراچی کی ترقی چاہتی ہے اور انشا اللہ ہم شہر کراچی کو دنیا کا تاریخی شہر بنا ئیں گے انہوںنے کہاکہ ماضی میں شہر کے ساتھ اپنے ہونے کا دعویٰ کرنے والوں نے جو کیا وہ سب کے سامنے ہے انہوںنے کہاکہ اب عوام کو مسائل میں رکھ کر سیاست کرنے کا دور گزر چکا شہر کے باسی شہر کی ترقی او اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہر دور میں کراچی کی ترقی اور عوام کو مسائل سے نجات دلا نے کے لئے انقلابی اقدامات کئے ہیں سعید غنی نے کہاکہ حالیہ کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات اور حالیہ کنتو نمنٹ بورڈ الیکشن میں کراچی کے شہریوں سے پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب شہر کراچی کی عوام کسی بھی سیاسی نعرے اور جھناسے میں نہیں آئیں گے انہوںنے کہاکہ انشا اللہ آئندہ بلدیاتی اور عام انتخابات میں شہر کراچی کی عوام پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرائیں گے انہوںنے کہاکہ سندھ حکومت شہر کراچی کے چپے چپے میں ترقیاتی کاموں کا جال بچا دیا ہے انشا اللہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے بعد شہر کراچی کی عوام کو مثالی ماحول فراہم ہوسکے گا سعید غنی نے کارکنان سے کہاکہ وہ 17اکتوبر باغ جناح کے جلسہ عام کو تریخ ساز بنا نے کے لئے عوامی رابطہ مہم کا سلسلہ تیز کردیں جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب میں مرزا مقبول احمد نے کہاکہ پیپلز پارٹی ملک کی مقبول جماعت تھی ہے اور ہمیشہ رہے گی انہوںنے اس عزم کا اظہار کیا انشا اللہ 17اکتوبر کراچی کا جلسہ مخالفین کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دے گا ۔
    (

  • کراچی میں پارہ 38 ڈگری تک پہنچنے کا امکان

    کراچی میں پارہ 38 ڈگری تک پہنچنے کا امکان

    محکمہ موسمیات کا کہناہے کہ بدھ کو شہر میں بلوچستان کی گرم ریگستانی ہوائیں چلنے کے سبب پارہ 38 ڈگری کو چھوسکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کراچی کے ارلی وارننگ سینٹر فارہیٹ ویو کے مطابق بدھ کو شہر میں دن کے وقت سمندری ہوائیں معطل رہنے اور بلوچستان کی گرم شمال مغربی ہوائیں چلنے کا امکان ہے جس کے سبب درجہ حرارت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گرمی کا پارہ 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے تاہم شام کے وقت سمندر کی بند ہوائیں دوبارہ بحال ہونے کی توقع ہے۔
    محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 66 فیصد رہا۔

  • ججزہماری اپیل سنیں شنوائی نہیں ہورہی، وزیراطلاعات سندھ

    ججزہماری اپیل سنیں شنوائی نہیں ہورہی، وزیراطلاعات سندھ

    وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعیدغنی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اداروں میں افرادی قوت کی کمی ہے، عدالت کی مہربانی سے سندھ پبلک سروس کمیشن فنکشنل نہیں ہے، ججزہماری اپیل سنیں شنوائی نہیں ہورہی۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کی بیماری کے دوران سوائے وزیر اعلی سندھ کے وزیر اعظم یا کسی بھی صوبے کے وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم نے نہیں پوچھا۔
    میں سمجھتا ہوں وزیراعظم اور دیگر صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو معافی مانگنی چاہیے اور وزیر اعظم کو ان کی قبر پر کھڑے ہوکر میڈیا کے سامنے معافی مانگیں۔ سندھ حکومت مزدور دوست حکومت ہے۔ محکمہ محنت کے حوالے سے بہت ساری چیزیں ابھی کرنا باقی ہیں ہم نے سب سے زیادہ قوانین بنائے ہیں۔
    ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیر کے روز نیشنل انسٹی ٹیوٹ لیبر ایڈمنسٹریٹریشن ٹریننگ(NILAT) کے تحت 60 ویں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کورس برائے لیبر ایڈمنسٹریٹریشن اینڈ انڈسٹریل ویلفیئر کی افتتاحی تقریب سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

    اس موقع پر سیکرٹری محنت سندھ لئیق احمد، مزدور رہنماء حبیب الدین جنیدی ،ناصرمنصور، ڈی جی نیلات انجینئر غلام سرور اوتیرو، نورالہدی، کورس کوآڈینیٹر سید ایوب علی و دیگرنے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میرا نیلات میں آناجانا وزیربننے سے پہلے کا ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ اہم ادارہ ہے، ماضی میں اس کوصحیح استعمال نہیں کیا گیا۔
    سعید غنی نے کہا کہ اس ادارے کی عمارت 1965میں بنی آج تک وفاق نے اس کی تزئین وآرائش نہیں کی تھی۔اٹھارویں ترمیم کے بعد ہم نے اس کام کوشروع کیاہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس ادارے میں مزدورلیڈران سے لیکرافسران کی تربیت ہوتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سلسلے میں معزز عدالیہ میں اپنی درخواست جمع کرائی ہے لیکن ابھی تک اس کیس پر شنرائی نہیں ہورہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ میری معزز عدلیہ اور ججز صاحبان سے استدعا ہے کہ وہ ہماری اپیل کی شنوائی شروع کریں، فیصلہ انہوں نے قانون کے تحت کرنا ہے، اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ سندھ پبلک سروس کمیشن ختم کردیں تو ہم ان کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی عمارت کو ہی ڈھا دیں گے اور تعیناتی کے لئے کوئی اور قانونی راستہ دیکھیں گے۔

  • وزیراعلیٰ سندھ سے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الہی کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الہی کی ملاقات

    وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل چوہدری مونس الہی سے ملاقات میں کہا کہ انکی حکومت 1991 کے پانی کے معاہدے کے علاوہ پانی کی تقسیم کی کوئی بھی اسکیم قبول نہیں کرے گی ، بشمول تین درجے کے فارمولے کے۔انھوں نے کہا کہ ارسا کو مضبوط بنانے کیلئے معاہدے اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ پانی کے معاہدے کو اس کے حقیقی روح کے مطابق نافذ کیا جاسکے اور خریف کے ابتدائی اور اختتامی عرصے کے دوران پنجاب میں لنک کینال کھولنے کی اجازت نہ دی جائے۔
    اجلاس پیر کو وزیراعلی ہاس میں منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر مونس الہی کی معاونت وفاقی آبی سیکرٹری شہزاد بنگش ، جوائنٹ سیکرٹری پانی مہر علی شاہ اور ڈائریکٹر اشعر عباس زیدی نے کی جبکہ وزیراعلی کی معاونت انکی ٹیم نے کی جس میں وزیر آبپاشی جام خان شورو ، چیئرمین پی اینڈ ڈی حسن نقوی ، چیف انجینئر آبپاشی ظریف کھوڑو ، ممبر ارسا زاہد جونیجو ، وزیراعلی سندھ کے ایڈیشنل سیکرٹری فیاض جتوئی شامل تھے .
    اجلاس کے آغاز میں وفاقی وزیر مونس الہی نے کہا کہ انہوں نے پانی کی تقسیم کی اسکیم کے بارے میں ان کے نقطہ کو سننے کیلئے صوبے کے اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات شروع کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام بقایا مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلی مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر کی جانب سے پانی کی تقسیم کے مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ 1991 کا معاہدہ مشترکہ مفادات کونسل اجلاس نے منظور کیا جوکہ تمام صوبوں کیلئے قابل قبول ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ہماری معمولی شکایت ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت ارسا کو مضبوط کرے تاکہ وہ پانی کے معاہدے کو اس کے حقیقی روح کے مطابق نافذ کرسکے اور مزید کہا کہ ارسا معاہدے پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہا ہے اور پنجاب کو اپنی لنک کینال کھولنے کی اجازت دی ہے۔ مراد علی شاہ نے ماضی کی تاریخ سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ کا پانی پچھلی کئی صدیوں سے آبپاشی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔