Baaghi TV

Author: +9251

  • صبر و تحمل اور عفو و درگزر کا دامن تھامنے والا کبھی شرمندہ نھیں ہوتا، یغورعطاری

    صبر و تحمل اور عفو و درگزر کا دامن تھامنے والا کبھی شرمندہ نھیں ہوتا، یغورعطاری

    گوجرانوالہ: دعوت اسلامی کے تحت نجی میرج ہال اعوان چوک میں اجتماع منعقد ھوا جس میں رکن شوری حاجی یعفور عطاری نے خطاب فرمایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسان کے اچھے اخلاق، نرم گفتار، اور ستھرے کردار کی وجہ سے معاشرے میں اس کی عزت ہوتی ہے۔آسامی معاشرے میں بہترین اخلاق اپنانے پر بہت زور دیا گیا ہے۔اگر انسانی رویے بہتر ہونگے تو معاشرے میں بہتری آئے گی۔نرم لہجے و انداز کے سبب عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔صبر و تحمل اور عفو و درگزر کا دامن تھامنے والا کبھی شرمندہ نھیں ہوتا۔گھریلو، سماجی اور معاشرتی مسائل کو اچھے اخلاق سے حل کیا جا سکتا ہے۔دوسروں کی عزت کرنے والا خود بھی عزت پاتا ہے۔ہر انسان عزت کا طلبگار ہے آپ جس کو عزت دینگے وہ آپکی عزت بھی کریگا۔اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ دوسروں کی عزت کرو، کمزوروں کی مدد کرو، جو قطعہ تعلقی کرے اس سے تعلق جوڑو، جو محروم کرے اسے عطا کرو، جو ظلم کرے اس معاف کر دو۔اس سے بہترین معاشرہ وجود میں آتاہے۔انسان کی سوچ تعمیری ہونی چاہیے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی بہت لازم ہے۔جو دوسروں کے لیے سکون و خوشی کا سبب بنتا ہے اللہ پاک اس سے راضی ہوتا ہے۔اس اجتماع میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے بلڈ کیمپ بھی لگایا گیا جس میں دعوت اسلامی کے کارکنان نے اپنا خون عطیہ کیا۔اس اجتماع میں مولانا یعقوب عطاری، مولانا خوشی مدنی ،جہانزیب عطاری اور فیصل عطاری نے بھی شرکت کی آخر میں ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ ادا‘ فیصل مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہ بچی‘ ابر رحمت برستا رہا

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ ادا‘ فیصل مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہ بچی‘ ابر رحمت برستا رہا

    محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ ان کی وصیت کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی ، جس میں تمام وفاقی وزراء ، مسلح افواج کے سربراہان، سپیکر قومی اسمبلی شریک ہوئے ،اس کے علاوہ قائم مقام صدر مملکت ، چیئرمین جوائنٹ چیف سمیت تمام اعلی ریاستی شخصیات بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئیں ، اس موقع پر عوام کا جم غفیر بھی اپنے محسن کو الوداع کہنے کے لیےاسلام آباد کی فیصل مسجد پہنچا ، اس موقع پر اسلام آباد میں فیصل مسجد اور اس کے اطراف میں ابر رحمت بھی برستا رہا ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر قومی پرچم بھی سرنگوں رہا ۔
    وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم ان سے بہت پیار کرتی ہے کیوں کہ انہوں نے ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کی ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کیا ، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اے کیو خان کے انتقال پر بہت دکھ ہوا ، انہوں نے ہمیں ایک جارحیت والے بڑے ایٹمی پڑوسی کے خلاف تحفظ فراہم کیا ہے ، پاکستانی عوام کے لیے وہ ایک قومی ہیرو ہیں ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی وصیت کے مطابق فیصل مسجد کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
    صدر پاکستان عارف علوی نے بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ذاتی طور پر 1982 سے جانتا تھا ، ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ، قوم ان کی خدمات کو کبھی نہیں بھولے گی ۔ اسی طرح چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تمام سروسز چیفس نے پاکستان کے معروف سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے ، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں ، اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے۔

  • پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے والے ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی زندگی کی ایک جھلک

    پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے والے ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی زندگی کی ایک جھلک

    اسلام آباد :پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے والے ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی زندگی کی ایک جھلک ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مایہ نازایٹمی سائنسدان ، قوم کا فخر جنہیں قوم ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے نام سے یاد کرتی ہے دنیا انہیں ایٹمی سائنسداں، اسلامی ہیرو اور دیگر القابات سے یاد کرتی ہے۔ آج اسلام آباد میں وفات پاگئے ،

    ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی زندگی ابتدا سے لیکرآخرتک اسلام اوروطن کی محبت میں گُم رہے ، ڈاکٹرعبدالقدیرخان یکم اپریل 1936 کو بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہوئے،

    محسن پاکستان اور اسلامی ہیرو کہلائے جانے والے عبدالقدیر خان 16 برس کی عمر میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ 1952 میں بھوپال سے ہجرت کرکے کراچی پہنچے اور ادب کے شہر میں علمی سفر کا دوبارہ آغاز کیا۔

    محسن پاکستان کے والد محترم عبدالغفور ایک اسکول ٹیچر تھے جو وزارت تعلیم میں بھی اپنی خدمات انجام دے چکے تھے، جب کہ والدہ زلیخہ گھریلو اور انتہائی مذہبی سوچ کی حامل تھیں۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 1956 میں یونیورسٹی آف کراچی سے فزکس میں بیچلرز آف سائنس کی ڈگری حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کےلیے چلے گئے۔

    اس کے بعد آپ نے یورپ میں گزرے پندرہ برس کے دوران 1967 میں ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ سے ماسٹر کی ڈگری مکمل کی جب کہ سنہ 1972 میں بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن سے اکیڈمک، دھات کار، نظری طبیعیات میں ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی سند حاصل کی۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 31 مئی 1976 کو اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے پر کام شروع کیا اور 1984 میں اٹامک ڈیوائس بنانے میں کامیاب ہوئے، بعدازاں صدر ضیا الحق نے اس ریسرچ سینٹر کا نام تبدیل کرکے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ سینٹر کردیا تھا۔

    محسن پاکستان نے 8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کرکے ساری دنیا کو حیرت زدہ کردیا تھا اور دنیا کی حیرت میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب 1998 میں وزیراعظم نواز شریف کی اجازت سے بلوچستان کے شہر چاغی میں کامیاب ایٹمی تجربات کیے۔

    پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھنے والے اے کیو خان ریسرچ سینٹر نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زیر نگرانی غوری میزائل سمیت کئی چھوٹے بڑے جنگی آلات سے پاک فوج کو لیس کیا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 1989 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

    آپ واحد پاکستانی شہری ہیں جنہیں دو مرتبہ پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز ’نشان امتیاز‘ سے نوازا گیا، پہلی مرتبہ 1996 میں صدر پاکستان فاروق لغاری نے ڈاکٹر قدیر خان کو ’نشان امتیاز‘ عطا کیا جب کہ دوسری مرتبہ 1999 میں نشان سے نوازا گیا۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یکم جنوری 2001 سے 31 جنوری 2004 صدر پاکستان جنرل مشرف کے مشیر برائے سائنسی پالیسی رہے اور اسی عرصے میں سکیورٹی حکام کے ایٹمی ٹیکنالوجی اور معلومات ایران کو فراہم کرنے کے حوالے سے شامل تفتیش بھی رہے اور بعدازاں کئی برس نظربندی برداشت کی ـ

    ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو وقت بوقت 13 طلائی تمغے ملے، انہوں نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے، جب کہ 1993 میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند دی تھی۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سیچٹ کے نام سے ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہے جب کہ 2012 میں آپ نے ’تحریک تحفظ پاکستان‘ کے نام سے ایک سیاسی جماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ کروائی ـ

    تحریک تحفظ پاکستان کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں تھا اور اس پارٹی نے 2013 کے ’میزائل‘ کے انتخابی نشان پر عام انتخابات میں حصّہ بھی لیا تاہم ستمبر 2013 میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے اس جماعت کو ختم کردیا۔

    عبدالقدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران 1964 میں ہینی نامی مقامی خاتون سے شادی کی جو بعدازاں ہینی خان کے نام سے جانی گئیں۔
    ہنی خان سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی دو بیٹیاں ہیں، بڑی بیٹی ڈاکٹر دینا خان اور جب کہ چھوٹی صاحبزادی کا نام عائشہ خان ہیں۔

    ڈاکٹر خان نے ایک کتابچے میں پاکستانی اٹامک انجری کا حامل ملک سے متعلق تحریر کیا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسے پروان چڑھایا ـ

    اپنی ایک اور کتاب میں انہوں نے کہوٹہ میں فرانسیسی فرسٹ سیکریٹری کی پٹائی کے حوالے سے لکھا کہ جب کہوٹہ میں ریسرچ لیبارٹری زیر تعمیر تھی تو وہ سہالہ میں پائلٹ پروجیکٹ چلارہے تھے اس دوران فرانسیسی فرسٹ سیکرٹری فوکو کہوٹہ کے ممنوعہ علاقے میں بغیر اجازت داخل ہوگئے جس پر انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    محسن پاکستان نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ مار پٹائی کے بعد پتہ چلا کہ فرانسیسی سیکریٹری امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیے کام کرتا تھا، جس نے تہران میں اپنے سی آئی اے افسر کو لکھا کہ ’ کہوٹہ میں کچھ عجیب و غریب ہورہا ہے‘۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ میں رہائش کے دوران ایٹمی معلومات چوری کرنے کے الزامات میں مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا، یہ مقدمات ہالینڈ، جرمنی، بیلجیئم اور برطانیہ کے پروفیسرز کے الزامات کا جائزہ لینے کے بعد ختم ہوئے تھے۔

    ایٹمی سائنس داں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سنہ 2006 سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے، جو آج صبح اسلام آباد کے ایک اسپتال میں دوران علاج انتقال کرگئے، انہوں نے 85 برس کی عمر میں داعی عجل کو لبیک کہا۔

    خاندانی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عبد القدیر خان کی نماز جنازہ آج فیصل مسجد میں ادا کردی گئی ہے جبکہ ان کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق سیکٹر ایچ 8 قبرستان میں تدفین بھی کردی گئی اوریہ قوم کا محسن اس ملک کو ناقابل تسخیر بنانے کے بعد اس وطن عزیزکواپنے نوجوانوں کے سپرد کرکے اپنے رب کے پاس پہنچ گئے ہیں‌

  • محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کا نماز جنازہ ادا، جسد خاکی تدفین کے قبرستان کیلئے روانہ

    محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کا نماز جنازہ ادا، جسد خاکی تدفین کے قبرستان کیلئے روانہ

    اسلام آباد :محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کا نماز جنازہ ادا، جسد خاکی تدفین کے قبرستان کیلئے روانہ،اطلاعات کے مطابق محسن پاکستان اور پاکستان کے نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کر دی گئی۔

    قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کی گئی جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    محسن پاکستان کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ایک انکلوژر عوام کے لیے بنایا گیا تھا جبکہ دوسرا انکلوژر وی آئی پیز کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ کے بعد ان کے جسد خاکی کو تدفین کے لیے ایچ 8 قبرستان اسلام آباد روانہ کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کی نماز جنازہ کے موقع پر سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔

    نماز جنازہ سے قبل محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاک فوج کے دستے نے سلامی پیش کی جب کہ نماز جنازہ کے موقع پر بارش بھی ہوتی رہی۔

  • لاہور سے دن دیہاڑے 19 سالہ یونیورسٹی طالب علم اغوا

    لاہور سے دن دیہاڑے 19 سالہ یونیورسٹی طالب علم اغوا

    لاہور:لاہور سے دن دیہاڑے 19 سالہ یونیورسٹی طالب علم اغوا،اطلاعات کے مطابق لاہور سے دن یہاڑے ایک نوجوان طالب کو اغوا کرلیا گیا ہے اوریہ بھی اطلاعات ہیں کہ پولیس ابھی تک اس حوالے سے کوئی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کررہی

    ادھراس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ یہ طالب علم جس کا نام محمد اسحاق ہے وہ 7 اکتوبر کو دن گیارہ بجے اپنے گھر سے یوایم ٹی کےلیے نکلا، اورگھر سے گٹاربند تک بائیکا پرسفر کیا

    اس حوالے سے طالب علم محمد اسحاق کے ماموں عبدالقدوس نے اس حوالے سے تھانے میں درخواست جمع کرواتے ہوئے کہا ہےکہ ان کا بھانجا گھر سے بائیکا پرسواری کے لیے سوار ہوا اور پھر گٹاربند پراترگیا ، گٹاربند تک بائیکیا کی ایپ پراس کے جانے کا ریکارڈ ہے

     

     

    محمد اسحاق کے ماموں عبدالقدوس کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس کا فون اچانک بند ہوجاتا ہے اورجب اس سے رابطہ نہیں ہوا توپھرتھوڑی دیر بعد یونیورسٹی میں رابطہ کیا گیا جہاں سے اس کے متعلق یہی جواب ملا کہ وہ یونیورسٹی نہیں آیا

    عبدالقدوس کہتےہیں کہ انہیں خدشہ ہےکہ ہمارے بھانجے کو کسی نے اغواکرلیا ہے ، پولیس اوردیگرسیکورٹی ادارے ہمارے بیٹے کو بازیاب کرائے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں یہ خدشہ ہے کہ کہیں اغوا کارہمارے بھانجے کو کوئی نقصان پہنچائیں گے اس لیے پولیس جلد از جلد اس مشکل کوحل کرنے کے لیے کوشش کرے

    اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ

  • مسافر طیارہ گر کر تباہ، 19 افراد ہلاک

    مسافر طیارہ گر کر تباہ، 19 افراد ہلاک

    تاتارستان :مسافر طیارہ گر کر تباہ، 19 افراد ہلاک ،اطلاعات کے مطابق روس کے علاقے تاتارستان میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہونے سے 19 افراد ہلاک ہو گئے۔

    روسی میڈیا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے ایل 140 طیارے میں 22 کے قریب افراد سوار تھے، حادثے کے وقت طیارے میں 2 پائلٹ اور 20 اسکائی ڈائیورز موجود تھے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارہ حادثے میں 19 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ 3 افراد زخمی ہیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثے کی وجوہات کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا ہے تاہم واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے روس کا اے این 26 کامچٹکا کے مرکزی شہر پیٹرو پاولوسک سے شہر پلانا کی جانب پرواز کر رہا تھا کہ اچانک وہ غائب ہوگیا اور طے شدہ وقت پر لینڈ بھی نہیں کر سکا۔

    انہوں نے بتایا کہ جہاز پر کل 29 افراد سوار تھے جن میں 23 مسافر اور عملے کے 6 اہلکار بھی شامل تھے لیکن بعد میں انہوں نے تصدیق کی تھی کہ کل افراد کی تعداد 28 ہے۔

    ویلینٹینا گلازوفا کا کہنا تھا کہ یہ بحرالکاہل پر روس کے انتہائی مشرق بعید میں ایک وسیع جزیرہ نما علاقے کامچٹکا کی ایک مقامی ایوی ایشن کمپنی کا طیارہ تھا۔

  • شارجہ سے کراچی آنے والی قومی ایئرلائن کی پرواز حادثے سے بال بال بچ گئی

    شارجہ سے کراچی آنے والی قومی ایئرلائن کی پرواز حادثے سے بال بال بچ گئی

    شارجہ سے کراچی آنے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی پرواز سے کئی پرندے ٹکرا گئے جس کے باعث جہاز کے ونگ کو نقصان پہنچا اور طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق شارجہ سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز کے طیارے کے سامنے اور ونگ سے کئی پرندے ٹکرائے جس کے سبب مذکورہ حصوں کو نقصان شید پہنچا تاہم کپتان نے مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کو بحفاظت کراچی ائیر پورٹ پر اتار لیا۔
    بتایا گیا ہے کہ لینڈنگ سے قبل طیارے سے پرندے ٹکرانے کی وجہ سے ایئر بس 320 طیارے کے ونگ اسکرین کو شدید نقصان پہنچا جب کہ پرندے ٹکرانے کے باعث جہاز کے ونگ بھی متاثر ہوئے ، مذکورہ طیارے میں 100 سے زائد مسافر سوار تھے اور کپتان نے طیارے کو بحفاظت کراچی ایئرپورٹ اتارا تاہم پرندے ٹکرانے کی وجہ سے طیارے کو گراؤنڈ کردیا گیا جس کی وجہ سے کراچی سے لاہور جانے والی پرواز بھی منسوخ کردی گئی۔
    یاد رہے کہ 5 اکتوبر کو لاہور سے استنبول کے لیے اڑان بھرنے والے طیارے سے بھی پرندہ ٹکرا گیا جس کے باعث طیارے کو شدید نقصان پہنچا ، طیارے میں 350 مسافر سوار تھے ،پائلٹ نے طیارے کو بحفاظت ایئرپورٹ پر اتار لیا ،جس کے بعد غیر ملکی ائیرلائن نے مسافروں کو طیارے میں تاخیر کے باعث مسافروں گھر جانے کا مشورہ دیا تاہم طیارے کی روانگی غیر معینہ مدت کے لیے تاخیر ہونے پر مسافروں نے احتجاج بھی کیا اور مسافروں نے گھر جانے کی بجائے ائیر لائن سے ہوٹلوں میں رہائش دینے کا مطالبہ کیا ۔
    اس سے دو روز قبل نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر نجی آئر لائن کے طیارے سے پرندہ ٹکرانے سے جہاز بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا لیکن پرندہ ٹکرانے سے طیارے میں فنی خرابی پیدا ہو گئی ، جس کے بعد پائلٹ نے حاضر دماغی سے طیارے کو بحفاظت اتار لیا ، نجی ائیرلائن کی پرواز ای آر 500 کراچی سے اسلام آباد آ رہی تھی کہ لینڈنگ سے قبل پرندہ جہاز سے زور دار طریقے سے ٹکرایا ، ٹیکنیکل خرابی کے باعث جہاز کی وآپس کراچی روانگی تاخیر کا شکار ہو گئی ، واپس جانے والے مسافروں کو سی ٹو لاونج میں بیٹھا گیا۔
    سول ایوی ایشن نے شہریوں کو ایئرپورٹ کے علاقے کے قریب کوڑا کرکٹ پھینکنے سے سختی سے منع کیا ہے تاکہ کوڑا کرکٹ پر جھپٹنے والے پرندے کسی بڑے حادثے کا باعث نہ بن سکیں ، اس حوالے سے شہریوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، سربراہ پاک فضائیہ

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر نے کہا کہ ملکی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گرانقدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے مزید کہا کہ اللہ ان کے درجات بلند کرے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

  • کراچی میں رکشا ڈرائیور نے بدفعلی کے لئے 5 بچوں کے اغوا کی کوشش ناکام بنادی

    کراچی میں رکشا ڈرائیور نے بدفعلی کے لئے 5 بچوں کے اغوا کی کوشش ناکام بنادی

    بلدیہ ٹاؤن میں رکشا ڈرائیور نے بدفعلی کیلیے 5 بچوں کے اغوا کی کوشش ناکام بنا دی ۔
    ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک شخص 5 بچوں کو 2 الگ الگ رکشوں پر لے جارہا تھا، بار بار اترنے کی جگہ تبدیل کرنے پر ایک رکشا ڈرائیور کو شک ہوا، اس نے بچوں سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ بچے مدرسے سے پڑھ کر گھر واپس جا رہے تھے اور دوسرے رکشے پر سوار شخص نے انہیں ماموں کے گھر لے جانے کا لالچ دیا ہے۔

    ساری صورت حال معلوم ہونے پر رکشا ڈرائیور نے پولیس کو فون کردیا، پولیس نے موقع پر پہنچ کر بچوں کے ساتھ شخص کو پکڑ کر بچے اپنی تحویل میں لے لئے۔
    پولیس نے کہا ہے کہ بازیاب بچوں میں 2 بچیاں اور 3 بچے شامل ہیں، ان کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے، بچوں کو ان کے گھر والوں کے حوالے کردیا گیا ہے، ملزم نے اپنی شناخت فہیم کے نام سے کرائی ہے، اس نے ابتدائی تفریش کے دوران ہی بچوں کے اغوا کا اعتراف کرلیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو 3 ماہ قبل طلاق دی ہے۔ ان سے بچوں کو غلط نیت سے اغوا کیا تھا۔

  • بشریٰ انصاری قومی ایئرلائن کی ناقص سہولیات پر برس پڑیں

    بشریٰ انصاری قومی ایئرلائن کی ناقص سہولیات پر برس پڑیں

    اداکارہ بشریٰ انصاری باکمال لوگوں کی لاجواب سروس پاکستان قومی ایئر لائن کی ناقص سہولیات پر برس پڑیں۔

    اداکارہ بشریٰ انصاری ٹورنٹو سے واپسی پر پی آئی اے کی بزنس کلاس میں سفر کررہی تھیں جہاں انہیں غیر معیاری کھانا اور پھٹا ہوا کمبل دیا گیا۔ اداکارہ نے پی آئی اے کی جانب سے دی جانے والی ناقص سہولیات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے قومی ایئر لائن کی انتظامیہ پر تنقید کی۔

    بشریٰ انصاری نے کہا پی آئی اے کی جانب سے انہیں ایسا کھانا دیا گیا جو تیسرے درجے کی ٹرین میں بھی نہیں دیا جاتا۔