Baaghi TV

Author: +9251

  • ائیرپورٹ پر ہراسگی کا نشانہ بننے والی لڑکی منظر عام پر آ گئی

    ائیرپورٹ پر ہراسگی کا نشانہ بننے والی لڑکی منظر عام پر آ گئی

    کراچی ایئرپورٹ پر لڑکی کو ہراساں کرنے کے واقعے کی تفصیلات سامنے آگئیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 15برس کی لڑکی کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے والوں نے اسے روکا اور پاسپورٹ سمیت سارے دستاویزات لے لیے اور ایک فورم دیا کہ اس کو بھرو۔میں نے ابھی آدھا بھرا تھا تو افسر نے کہا کہ آدھا میں خود بھر دوں گا۔ اس میں لکھا تھا کہ آپ نمبر دیں جس میں میں نے والد کا نمبر دے دیا۔
    وہ کہنے لگا کہ بحرین کا نمبر دو میں نے والد کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میرا نمبر دے دو ۔میں نے والد کا نمبر دے دیا۔افسر نے کہا کہ آپ کا نمبر چاہیے ،میں نے کہا کہ یہی نمبر ٹھیک ہے اس نے کہا کہ نہیں اگر میں بحرین میں آپ کے ساتھ رابطہ کرنا چاہوں گا تو کیسے رابطہ کروں گا ۔
    لڑکی کی شکایت کے مطابق وہ سرکاری افسر اس کے بعد بھی نمبر مانگتا رہا۔

    ایئرپورٹ کے باہر لڑکی کے چچا ان سے فون پر رابطے میں رہے، افسر نے لڑکی کو کہا کہ فون بند کرو۔لڑکی نے اپنے چچا کو بتایا کہ اس کو ڈر لگ رہا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ کوئی ایشو نہیں ہے تم اندر محفوظ ہو۔لڑکی کے چچا کے مطابق مذکورہ افسر نے لڑکی سے یہ بھی کہا کہ باہر سے جو بھی آتا ہے وہ ہمارے لئے مٹھائی لاتا ہے تم مجھے کیا دو گی۔انہوں نے ایئرپورٹ پر احتجاج کیا جس کے بعد شور مچ گیا۔
    انہوں نے مطالبہ کیا کہ افسر کو باہر نکالو جس نے یہ باتیں کی ہیں نہیں تو ہم نہیں جائیں گے جس کے بعد اس افسر کو بلایا گیا۔خیال رہے کہ گذشتہ روز کراچی ایئرپورٹ پر فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی ای) افسر کی جانب سے بحرین سے آئی لڑکی کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سب انسپکٹر سنجے نے لڑکی سے موبائل نمبر اور مٹھائی مانگی۔
    لڑکی کے نمبر نہ دینے پر ایف آئی اے افسر نے اسے ہراساں کیا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے عامر فاروقی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سب انسپکٹر سنجے کو معطل کردیا۔ڈائریکٹر ایف آئی اے عامرفاروقی نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیگی اور ملوث افسر کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، الزامات درست ثابت ہونے پر افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائیگی .

  • وزیراعظم صاحب:آپ کے وزیراعلٰٰی توسورہےہیں:آپ ہی بوڑھی ماں کوانصاف دے دیں:بوڑھی خاتون کی دہائی

    وزیراعظم صاحب:آپ کے وزیراعلٰٰی توسورہےہیں:آپ ہی بوڑھی ماں کوانصاف دے دیں:بوڑھی خاتون کی دہائی

    گجرخان :وزیراعظم صاحب:آپ کے وزیراعلٰٰی توسورہےہیں:آپ ہی بوڑھی ماں کوانصاف دے دیں:بوڑھی خاتون کی دہائی ،اطلاعات کے مطابق گجر خان کی ضعیف بیمار خاتون بی بی نثار فاطمہ اپنی بہو مظلوم فاطمہ کے ساتھ پچھلے 11 سال سے انصاف کی متلاشی ہے اوراس بوڑھی ماں کو کہیں سے بھی انصاف نہیں مل رہا ،

    ذرائع کے مطابق سال 2010 میں ملزمان مصدر، گولڈن، خاور، فیصل اور طیب اپنے گینگ کے ساتھ مل کر فریادی کی نابالغ 13, 14 سالہ کی پوتی ہما کنول دو بیٹیاں اور ایک نواسے کو زنا اور عصمت فروشی کیلئے اغواء کر کے لے گئے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اغواء کے خلاف فریادی نثار فاطمہ نے تھانہ جاتلی میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔گینگ کا سرغنہ ریٹائرڈ ڈی ایس پی کامل شاہ اور اسکا بیٹے اور سب انسپکٹر سٹی وارڈن وسیم نے ملی بھگت سے مغویوں کو ڈرا دھمکا کر کیس بند کرا دیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اس گینگ کے سرغناؤں نے مدعی ضعیف خاتون اور انکے خاندان کو جھوٹے کیس میں پھنسوا دیا۔ضعیف فریادی خاتون نے سپریم کورٹ تک فریادیں کیں جس پر کیس پھر سے چل پڑا۔مقدمہ مقامی عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن پولیس نابالغ بچی اور دیگر کو برآمد نہیں کرا سکی۔

    فریادی خاتون کی درخواست پر سپریم کورٹ نے معصوم بچی کو برآمد کرانے کے احکامات جاری کئے لیکن پولیس کی ملی بھگت سے مغویوں کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔

    ریٹائرڈ ڈی ایس پی کامل شاہ اور اس کے بیٹے سب انسپکٹر سٹی وارڈن وسیم عباس گینگ کے سرغنہ ہیں جنہوں نے اپنے کالے کرتوتوں کو چھپانے کیلئے مغویوں کو استعمال کیا اور فریادی خاتون کے خاندان کے افراد کو زنا اور قتل کے جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا۔

    11 سال بعد مغوی ہما کنول گینگ کی چنگل سے نکل کر 30-09-2021 کو گجر خان کی مقامی عدالت پہنچی اور 164 کا بیان ریکارڈ کرا کر گینگ کو بے نقاب کر دیا۔

    ہما کنول نے بیان میں ملزمان کی موجودگی میں بتایا کہ ملزمان مصدر، گولڈن، خاور، فیصل اور طیب اس سے جسم فروشی کرواتے رہے۔

    ہما کنول نے اپنے بیان میں بتایا کہ گینگ کہ سرغنہ ریٹائرڈ ڈی ایس پی کامل شاہ اور اسکا بیٹا سٹی وارڈن وسیم عباس، ذوالقرنین اور مقصود شاہ بھی مجھ سے زنا بالجبر کرتے رہے۔

    ہما کنول نے اپنے بیان میں بتایا کہ ریٹائرڈ ڈی ایس پی اور اس کے بیٹے نے اسے جسم فروشی کیلئے مختلف بازاروں میں فروخت کیا۔ہما کنول نے اپنے بیان میں بتایا کہ مسمات جنیز، مسمات اسباط اور مسمات سعیدہ بھی جسم فروشی کے گھناؤنے دھندے میں ملوث تھیں۔

    ہما کنول نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ اسکی دونوں پھپیاں نرجس اور سدرہ بھی گینگ کے ساتھ ملی ہوئی ہیں جو مجھے دھوکہ سے اغواء کر کے اس گینگ کے پاس لے گئیں۔

    فریادی خاتون بی بی نثار فاطمہ اور بچی ہماں کنول کی والدہ مظلوم فاطمہ نے صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے اپیل کی ہے کہ ملزمان ریٹائر ڈی ایس پی کامل شاہ اسکا واڈرن بیٹا وسیم عباس ذوالقرنین،مقصود مسمات جانیس،سعیدہ،اسباط،ناصر ،طاہر کلیار اور افشین سمیت گینگ کے دیگر ملزمان کو فوری گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے اور مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔

    0308.8543556. بی بی نثار فاطمہ

  • ایک ہی برانڈ کی 24 سے زائد قیمتی گاڑیاں چھیننے والا ملزم پکڑا گیا

    ایک ہی برانڈ کی 24 سے زائد قیمتی گاڑیاں چھیننے والا ملزم پکڑا گیا

    صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی سے ایک ہی برانڈ کی 24 سے زائد قیمتی گاڑیاں چھیننے والا ملزم پکڑا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل ( اے وی ایل سی ) کی جانب سے شہر قائد کی شاہراہ نور جہاں میں کارروائی عمل میں لائی گئی جس کے نتیجے میں ایک ہی برانڈ کی 24 سے زائد قیمتی اور مہنگی گاڑیاں چھیننے والے ملزم کو گرفتار کیا گیا ، ملزم علی حسن 2 ارب سے زائد کی گاڑیاں چھین چکا ہے۔
    بتایا گیا ہے کہ اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل نے ملزم سے ہینڈ گرنیڈ ، جیمر ، گاڑی اور پستول بھی برآمد ہوئیں ، ملزم گاڑیاں چھیننے کے بعد صوبہ بلوچستان لے جاتا تھا ، جہاں 20 سے 25 لاکھ میں گاڑی فروخت کی جاتی تھی جس کے بعد ملزمان گرنیڈ اور پستول ساتھ رکھتے تھے۔
    دوسری جانب کراچی میں نجی بینک کے پیسوں سے بھری گاڑی لوٹنے والے ملزمان کو پشاور سے گرفتار کر لیا گیا ، تین ملزمان کو تھانا تہکال کی حدود سے گرفتارکیا گیا ، ملزمان سے ستر لاکھ روپے اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے ، ملزمان نے اگست میں کراچی میں نجی بینک سے رقم لے جانے والی گاڑی روکی تھی اور واردات کے دوران 20 کروڑ 50 لاکھ روپے لوٹے گئے تھے۔

    پشاور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واردات سے متعلق کراچی کے تھانہ میٹھادر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا ، ملزمان کی گرفتاری سے متعلق کراچی پولیس کو بھی آگاہ کردیا گیا ، بینک کی گاڑی لوٹنے کی واردات میں ڈرائیور بھی شریک تھا ،ملزمان گاڑی کے تعاقب میں تھے، بینک کی گاڑی کے ڈرائیور کو ڈرامائی انداز میں اسلحہ کی نوک پر روکا گیا تھا، بینک کی گاڑی کا ڈرائیور ملزمان کے ساتھ رابطے میں تھا ، نامعلوم مقام پر ملزمان رقم تقسیم کر کے دوسری گاڑی میں روانہ ہوگئے تھے۔
    واضح رہے کہ واردات 9 اگست کو صبح ساڑھے 9 بجے پیش آئی جس کا مقدمہ میٹھا در تھانے میں درج کیا گیا ، شہر قائد میں نجی سکیورٹی کمپنی کی وین طارق روڈ سے بینک کی رقم ڈیلیورکرنے کے لیے روانہ ہوئی تھی ، میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئی آئی چندریگرروڈ پرگارڈز کچھ رقم لے کرنیچے اترے تو ڈرائیور وین لے کرفرارہو گیا ، وین میں 20 کروڑ روپے کی رقم موجود تھی ، ڈرائیور نے وین مسکین گلی میں چھوڑدی اور رقم لے کر بھاگ گیا ، واردات سے متعلق پولیس کو اطلاع دی گئی، جس کے بعد میٹھادر پولیس نے واردات کا مقدمہ درج کرکے ڈرائیور کی تلاش شروع کر دی تھی۔

  • دنیا زلزلوں کی لپیٹ میں آگئی ، 24 گھنٹوں میں پاکستان،جاپان،بحرالکاہل سمیت درجنوں ممالک میں زلزلے

    دنیا زلزلوں کی لپیٹ میں آگئی ، 24 گھنٹوں میں پاکستان،جاپان،بحرالکاہل سمیت درجنوں ممالک میں زلزلے

    لاہور:دنیا زلزلوں کی لپیٹ میں آگئی ، 24 گھنٹوں میں پاکستان،جاپان،بحرالکاہل سمیت درجنوں ممالک میں زلزلے،اطلاعات کے مطابق دنیا کی زندگی خطرے میں ہے اورمسلسلے 24 گھنٹوں سے دنیا میں کہین نہ کہیں زلزلوں کی اطلاعات آرہی ہیں ،

    تازہ واقعہ کے مطابق جنوبی بحرالکاہل میں واقع جزائر میں6.7 شدت کا زلزلہجنوبی بحرالکاہل میں واقع جزائر میں زلزلےکے شدید جھٹکے محسوس کیےگئے ہیں۔

    برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق زلزے کے جھٹکے جنوبی بحرالکاہل میں جزائر پر مشتمل ملک وانواتو میں محسوس کیے گئے ہیں۔

    یورپی زلزلہ پیمامرکز کے مطابق زلزلےکی شدت 6.7 ریکارڈ کی گئی ہے اور اس کی گہرائی 511 کلومیٹر تھی۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکی زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہےکہ زلزلےکے بعد سونامی کی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔

    یاد رہے کہ کل سےپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کئی زلزلے آچکے ہیں جن میں بڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان ہوچکا ہے ، ادھر جاپان میں بھی شدید زلزلہ رات کو آیا جہاں بھی بہت زیادہ نقصان کی اطلاعات ہیں اور اب بحرالکاہل کے ملکوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیئے جارہےہیں‌

  • مولانا فضل الرحمن امید سے ہوگئے:وفاق ، پنجاب ، کے پی میں‌ ناکامی کے بعد بلوچستان میں تبدیلی کے لیے پُراُمید

    مولانا فضل الرحمن امید سے ہوگئے:وفاق ، پنجاب ، کے پی میں‌ ناکامی کے بعد بلوچستان میں تبدیلی کے لیے پُراُمید

    کوئٹہ :مولانا فضل الرحمن وفاق ، پنجاب ، کے پی میں‌ ناکامی کے بعد بلوچستان میں کامیابی کے لیے پُراُمید ،اطلاعات کے مطابق بالآخر مولانا فضل الرحمن سیاسی طور پر کچھ حد تک امید سے ہوگئے ہیں‌

    ادھر اس حوالے سے بلوچستان کی تازہ ترین صورتحال پر جے یو آئی کا ردعمل سامنے آگیا ، اس سلسلے میں مولانا عبدالغفورحیدری کی پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے لاہور میں اہم ملاقات ہوئی ہے

    یہ بھی معلوم ہواہے کہ مولانا عبدالغفور حیدری نے بلوچستان کی سیاسی صورت حال پر مولانا فضل الرحمان کو تفصیلات سے اگاہ کیا،

    ترجمان جے یو آئی نے مولانا فضل الرحمن کے اُمید سے ہونے کے حوالے سے اچھی خبر سناتے ہوئے کہا ہےکہ جام کمال کی حمایت کی درخواست پر معذرت کرلی ۔

    اسلم غوری ترجمان جے یو آئی کا کہنا ہے کہ پارٹی بلوچستان اور پارلیمانی پارٹی کے فیصلے درست سمت میں ہیں ۔ تین سال تک جام کمال نے غیر جمہوری رویہ اپنایا ۔

    ترجمان جے یو آئی کا کہنا ہے کہ اس دوران جام حکومت کا اپوزیشن سمیت اپنے اتحادیوں سے بھی غیر مناسب رویہ رہا ۔

    یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمن نوازشریف کے ساتھ مل کراس حکومت کے خلاف اول روز سے ہی کوششوں میں مصروف ہیں اور یہ بھی حقیقت ہےکہ مولانا فضل الرحمن سینٹ ، قومی اسمبلی ،پنجاب اور کے پی میں حکومتوں کی تبدیلی کے حوالے سے کوشاں تھے لیکن ناکامی مقدر ٹھری ،

    اب بڑے عرصے کے بعد مولانا فضل الرحمن کو یہ امید ہوگئی ہےکہ اگراپوزیشن مزید اتحادی اپنے ساتھ کھڑے کرلے توبلوچستان سے جام حکومت کا خاتمہ ہوسکتا ہے

  • پولیس کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے آئی جی پنجاب نے نیا میکنزم دے دیا

    پولیس کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے آئی جی پنجاب نے نیا میکنزم دے دیا

    لاہور:پولیس کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے آئی جی پنجاب نے نیا میکنزم دے دیا،اطلاعات کےمطابق آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے آپریشنز پولیس کی کارکردگی جانچنے کیلئے جدید میکانزم واضح کردیا۔

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نے اٹھارہ پوائنٹس پر مبنی احکامات اور تفصیلی پرفارمے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو بھجوا دئیے۔ان پوائنٹس کی بنیاد پر ریجنز اور اضلاع میں آپریشنز ٹیموں کی کارکردگی کو جانچا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب کاکہنا تھا کہ شہریوں کے مسائل کا بروقت حل اور انکی جان و مال اور عزت کا تحفظ میری اولین ترجیح ہے۔جو افسریا اہلکار شہریوں کیلئے تکلیف یا پریشانی کا باعث بنا وہ نہ صرف میری ٹیم بلکہ محکمہ پولیس کا حصہ بھی نہیں رہے گا۔

    آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ رٹ آف اسٹیٹ برقرار رکھنے میں کسی بھی طرح کی غفلت یا کوتاہی قابل معافی نہیں ہوگی۔15پر موصول کالز پر فوری رسپانس یقینی بنانے کے ساتھ ساتھFIRکے بروقت اندراج کو یقینی بنایا جائے۔

    آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ پرائم منسٹر پورٹل (پی ایم ڈی یو) پر آنے والی شکایات پربروقت اقدامات نہ کرنیوالے خود کو سخت محکمانہ کاروائی کیلئے تیار رکھیں۔ اسلحہ کی نمائش اور ہوائی فائرنگ کے مرتکب افرادکے خلاف ایکشن سے پہلوتہی کرنے والے خود کو سخت ترین کاروائی کیلئے تیار رکھیں۔

    آئی جی پنجاب نے کہا کہ 1787پر موصول شہریوں کی شکایات کو مقررہ ٹائم لائن کے اندر حل نہ کرنے والے سپر وائزری افسرا خود کو کسی رعائیت کا مستحق نہ سمجھیں۔ کسی افسر یا اہلکار کو60دنوں سے زائد معطل ہرگز نہ رکھا جائے،سزا یا بحالی کا فیصلہ مقررہ وقت کے اندر ہونا چاہئیے۔

    آئی جی پنجاب نے کہا کہ پتنگ و دھاتی ڈور کی تیاری، فروخت اور استعمال کنندگان کے خلاف کاروئیوں کو مزید فاسٹ ٹریک کیا جائے۔

    آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ پرانی دشمنیوں کے خاتمے اور ان میں مزید نقصان کی پیش بندی کیلئے موثر حکمت عملی نہ بنانے والوں کو جواب دہ ہونا ہوگا۔اشتہاری مجرمان اور عدالتی مفروران کو پابند سلاسل کرنے کیلئے سپر وائزری افسران اقدامات میں تیزی لائیں۔

  • ٹویٹر اکاؤنٹ کی تصدیق کیسے کروائیں، تحریر:ام سلمیٰ

    ٹویٹر اکاؤنٹ کی تصدیق کیسے کروائیں، تحریر:ام سلمیٰ

    اگر آپ ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں اور بہت ہی فعل رہتے ہیں تو یقیناً آپ نے سنا ہوگا ایک بار پھر ٹوئٹر نے ایک اور وقفے کے بعد اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کا عمل دوبارہ کھول دیا۔
    اس خبر سے بہت سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیوں بہت سے لوگ جو بہت زیادہ فعل رہتے ہیں سوشل میڈیا پے خاص طور پر ٹوئٹر پر انکے لیے یہ خبر بہت بڑی خوش خبری تھی.اب سب سے پہلے جاننا یہ ہے کے ٹوئٹر جن کٹیگری میں تصدیق کے لیے آپ کی درخواست قبول کر سکتا ہے کیا آپ اس میں فٹ ہوتے ہیں؟

    کیوں کے اگر آپ ان کٹیگریز میں پورے نہں اُتر رہے تو یہ خبر آپ کے لیے نہں اور اگر آپ درج ذیل کٹیگری میں پورے اُتر رہے ہیں تو آپ کو اسکا پورا طریقے کار جاننے کی ضرورت ہے.سب سے پہلے آپ ٹوئٹر کی تصدیق کے عمل کی کٹیگری دیکھیں.

    ٹویٹر نے اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کے عمل کو دوبارہ شروع کیا ہے ، کمپنی نے اپنے ٹویٹر تصدیق شدہ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہا ، جہاں وہ سسٹم کی حیثیت کے بارے میں اپ ڈیٹس شائع کرتی ہے اب نئے سرے سے تصدیق شدہ پروگرام شروع کرنے کے بعد سے ، ٹوئٹر نے چند اور کٹیگریز کو شامل کیا ہے اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر کچھ مسائل بھی ائے ٹوئٹر کو جس کی وجہ سے اسے ایک سے زیادہ بار تصدیقیں بند کرنا پڑی ہیں۔ ان وقفوں کا اعلان 2 سے 3 بار کیا گیا تاکہ اس تصدیق کے عمل کو مزید شفاف کیا جائے.اور ٹوئٹر کی کمپنی نے کہا کہ اسے درخواست اور جائزہ لینے کے عمل دونوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

    ٹویٹر برسوں سے اکاؤنٹ کی تصدیق کے عمل کی شفاف کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ ہر کوئی مطلوبہ بلیو بیج چاہتا تھا جو پہلے عوامی شخصیات اور اعلی عوامی مفادات کے دوسرے اکاؤنٹس کو دیا گیا تھا جنہوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ وہی ہیں جو وہ کہتے ہیں کہ وہ ہیں – جیسے سرکاری افسر ، صحافی ، مشہور شخص ، برانڈ یا کاروبار ، یا کوئی اور قابل ذکر نام۔

    لیکن جب کہ اصل نظام کا مقصد صرف اکاؤنٹ کی صداقت کو بتانا تھا ، بہت سے لوگوں نے ٹویٹر کی توثیق کرنے والے بیج ہولڈرز کو کسی نہ کسی درجے کی اعلی حیثیت کے طور پر دیکھا۔ یہ مسئلہ اس وقت سر پر آیا جب 2017 میں ٹویٹر نے دریافت کیا کہ جیسن کیلر سے تعلق رکھنے والے اکاؤنٹ کی تصدیق کی گئی ہے ، اس شخص نے جس نے ورجینیا کے شارلٹس ویل میں سفید فام بالادست ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ، ٹویٹر نے سرکاری طور پر تصدیق روک دی ، لیکن کچھ لوگوں کی خاموشی سے تصدیق جاری رکھی جن میں عوامی عہدے کے لیے امیدوار ، منتخب عوامی عہدیدار ، صحافی اور دیگر شامل ہیں۔

    آخر کار ، کمپنی نے مئی 2021 میں سسٹم کو دوبارہ شروع کیا ، یہ کہتے ہوئے کہ اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے تاکہ اس کو مزید شفاف بنایا جائے اور اب اس کے لیے ایک الگ ٹیم ہوگی جو اس پورے عمل کو دیکھے گی۔ اس کے لیے نئے قوانین بھی جاری کیے جن میں واضح طور پر لکھا گیا کہ کون تصدیق کی درخواست کر سکتا ہے اور کون نہیں۔ لیکن تصدیق کی مانگ اتنی زیادہ تھی کہ ٹوئٹر کو اس کے لانچ ہونے کے صرف 8 دن بعد تصدیق کو عارضی طور پر روکنا پڑا تاکہ ٹیم درخواستوں کی تعداد کو پکڑ سکے۔

    اِس تصدیق کے عمل میں آپ کے لیے آسان کٹیگری ہوسکتی ہے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی اور فری لانس کی کیٹیگری بھی آپ اس کی تفصیلات چیک کریں اگر آپ فری لانس کوئی کام کر رہے ہیں جیسے بلاگر ہیں آپ میک اپ کے فیشن کے اور اگر آپ لکھتے ہیں فری لانس تو آپ کے لیے آسانی ہے کے آپ اس کیٹیگری میں تصدیق کے عمل کے لیے کوشش کر سکتے ہیں اگر آپ لکھاری ہیں اور کسی ادارے کے ساتھ جُڑے ہیں تو آپ آسانی سے تصدیق کے عمل کے کے درخواست دے سکتے ہیں اور اگر آپ نئے لکھاری ہیں اور ابھی سیکھنے کے مرا حل میں ہیں تو آپ کو پاکستان میں کچھ ویب سائٹ مدد کر سکتی ہیں آپ کے تحریروں کو شائع کرنے میں اس وقت کچھ ویب سائٹ جو کے میں یہاں آپکو آپکی تحریر جو شائع کرنے میں مدد کر سکتی ہیں ان میں سرے فہرست باغی ٹی وی ہے اور اسی طرح اردو گلوبلی اور ایشیا نیوز اور بھی کئی اس طرح کی ویبسائٹ نے لکھاریوں کی مدد کر رہی ہیں لکھنے کے عمل کو صرف اپنے کے تصدیق کے عمل میں استعمال کے علاوہ بھی اگر آپ شروع کرتے ہیں تو آپ معاشرے کی اصلاح کے لیے لکھ سکتے ہیں اور دوسرا یہ کے ایک سبب ہوسکتا ہے کسی مسئلہ کو اجاگر کرنے کےلئے سوشل میڈیا پے تفصیل کے ساتھ تو آپ اپنے شوق کو مکمل کرنے کے لئے تصدیق کے عمل میں شامل ہونے کے لئے بھی اس کو شروع کر سکتے ہیں.اُمید کرتی ہوں کافی اچھی معلومات میں نے آپ سے شیئر کی ہیں آپ کے لیے انتہائی فائدے مند ہوسکتی ہیں اگر آپ اپنا اکائونٹ ٹوئٹر سے تصدیق کروانا چاہتے ہیں.
    تحریر
    ام سلمیٰ
    @aworrior888

  • خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے؟

    خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے؟

    خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے۔
    معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔
    اگر آپ کہتے ہیں کہ لباس کی وجہ سے ہوتا ہے تو برقعہ پہننے والی خواتین اور چھوٹی بچیوں کا کیا قصور ہے۔
    یہاں تک کہ جانوروں تک کو نہیں بخشتے
    اگر آپ کہتے ہیں کہ گھر سے باہر نکلنے کی وجہ سے ہوا تو کتنے کیسز ہیں جن میں گھر میں گھس کر ریپ کردیا گیا۔
    اگر آپ کہتے ہیں کہ اس لیے کیونکہ یہاں اپنی جنسی فرسٹریشن نکالنے کے مواقع میسر نہیں ہیں، یہاں قحبہ خانے نہیں ہیں تو عرض ہے کہ جن ملکوں میں قحبہ خانوں کی کثرت ہے اور اویلیبلٹی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے تو وہاں ریپ کیسز کی شرح اس قدر زیادہ کیوں ہے۔
    امریکہ میں ایک لاکھ سے زیادہ ریپ کیسز ہیں ۔ یاد رہے کہ یہ ریپ کیسز ہیں، زنا باالرضا پر وہاں کوئی پکڑ یا قدغن نہیں ہے۔ 18 سال سے زائد عمر کا لڑکا یا لڑکی جیسے چاہے تعلقات قائم کرسکتے ہیں۔ اس پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
    مزید اگر یہ بھی دیکھنا ہے کہ امریکہ میں ایک عورت کتنی محفوظ ہے تو یوٹیوب پر ویڈیوز موجود ہیں کہ نیویارک شہر میں کسی خاتون کو کس طرح چھیڑ ا جاتا ہے۔ a woman is cat called more than hundred times in a day, while she was walking through NYC.
    لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ دنیا کے ساتھ موازنہ کرکے کہنا کہ ہمارے ہاں تو یہ مسئلہ اس قدر نہیں ہے۔ یہ سراسر چشم پوشی ہے۔ ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ رپورٹ کم ہوتا ہے۔ اکثریت ایسا کوئی بھی واقع رپورٹ ہی نہیں کرواتی۔ اس لیے دنیا کے حقائق دینے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ نا م نہاد تقدیس مشرق کے حدی خوان بنے پھریں جو اب بہت خال ہی کہیں اپنا وجود رکھتی ہے۔
    لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اگر یہ سب کچھ کے باوجود بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں تو کیسے محفوظ ہوں گی۔
    لیکن اس کو سمجھنے سے پہلے ہم یہ جان لیں کہ پوری دنیا میں مرد خواتین کو اس بری نظر سے ہی کیوں دیکھتے ہیں تو معاملہ اس قدر سادہ نہیں ہے۔ صرف چست یا تنگ کپڑے پہننا ایک فیکٹر ہوسکتا ہے مگر یہ وجہ نہیں ہے۔
    وجوہات بہت ساری ہیں جو مل کر اس قدر دماغ کو خراب کردیتی ہیں کہ محرم رشتوں تک کا احترام بھی انسان بھول جاتا ہے۔
    سب سے پہلے اور سب سے بڑی وجہ میڈیا انڈسٹری ہے۔ میڈیا سے مراد فلم اور فیشن اور میڈیا کے تمام شعبے ہیں ۔ آپ اپنی میڈیا انڈسٹری کو دیکھیں ، کیا یہاں عورت کو بیچا نہیں گیا، اور پھر یکمشت نہیں بیچا گیا ، بلکہ اب تو ناز الگ بکے اور انداز الگ، جسم بھی ٹکڑے ٹکڑے کرکے بیچا گیا۔
    میں دنیا کی بات نہیں کرتا ، ہمارے اپنے ملک کو دیکھ لیں، چہرہ ایسا کہ ہر کوئی دیکھتا رہ جائے،
    نظر اٹھے اور مڑ نا پائے،
    آپ جہاں نظریں وہاں۔۔۔۔
    تو یہ ساری ٹیگ لائن جو دن رات ہمیں ٹی وی اشتہارات کی صورت دکھائی گئی تھیں کیا ان کا مقصد عورت کی عزت کرنا سھنا تھا یا حوا کی اس بیٹی کو ایک پراڈکٹ بنا کر بیچنا تھا۔
    پھر فلم انڈسٹری دیکھ لیں، دنیا بھر میں آڈلٹ سینز کے بغیر فلم نہیں بنتی، نیٹ فلکس کی شرائط میں شامل ہے کہ فلم میں ایسے سینز ہونا ضروری ہیں۔ سنسر بورڈ جیسے ڈھکوسلے تو صرف ہمارے ہوں ہیں۔ ڈھکوسلے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان سے جو کچھ پاس ہوجاتا وہ سب بھی جنسی جذبات کو بھڑکانے کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔
    اب ہر طرف میڈیا میں ، بل بورڈز پر عورت کی بھرمار، یہاں تک کہ مردانہ ریزر بھی عورت ہی بیچے، یہ سب دیکھ کر جنسی فرسٹریشن اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔
    پھر یہاں ایک دوسری وجہ کا آغاز کرتا ہوں ۔
    کتنے لوگ ہیں جو شادیاں دیر سے کرتے ہیں۔ ضرورت انہیں بہت پہلے ہوتی ہے۔ بجا کہ شادی صرف اسی ایک ضرورت کا نام نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک ضرورت ہے۔ جب جائز طریقے سے یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی تو پھر ایک انسان کب تک صبر کرسکتا ہے۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو پارسائی کا یہ بوجھ سہتے ذہنی مریض ہوجاتے ہیں۔ اور رہ گیا ہمارا مذہبی طبقہ تو معذرت کے ساتھ یہ مسئلہ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔مجے پتہ ہے کہ یہ جملہ بول کر میں بہت سی توپوں کا رخ اپنی طرف کررہا ہوں مگر حقیقت ایسی ہی ہے۔ ماسوائے چند ایک لوگوں کو چھوڑ کر یہی بھیڑ چال ہے۔
    اس سب کے بعد دماغ تو سن ہوجاتا ہے کہ پھر حل کیا ہے۔
    سن لیں جس طرح وجہ ایک نہیں ہے اسی طرح حل بھی ایک نہیں ہے۔ بلکہ ایک جامع لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ میرے جیسا بندہ چند گزارشات تو کر سکتا ہے مگر اس معاملے کو ہنگامی بنیاوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ارباب اختیار و ارباب حل و عقد کو ایک مربوط لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ جلد شادیوں کو رواج دیں۔ اور آگہی ضرور ہونی چاہیے۔ ہمارے قوانین جو ابھی تک برطانیہ نے بنائے تھے ، وہی چل رہے ہیں ۔ یہ قوانین رعایا کے لیے تھے۔ ان قوانین کو ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے۔ قصہ مختصر حل بھی بہت ہوسکتے ہیں، بس اس کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں محفوظ رہ سکیں۔ ورنہ خوف کی فضا میں دم گھٹ جاتے ہیں۔ اور معاشرے مردہ ہوجاتے ہیں۔
    حنظلہ عماد
    @hanzla_ammad

  • عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا، شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد

    عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا، شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد

    فیصل آباد(عثمان صادق)ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد نے کہا ہے کہ عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا لہذا وہ اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کریں۔انہوں نے یہ بات اوپن ڈور پالیسی کے تحت اپنے آفس کے باہر کھلی کچہری کے دوران لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے کہی۔مختلف محکموں کے ضلعی افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا کہ ان کی شکایات کے حل کے لئے محکمانہ کارکردگی کی کڑی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور انہیں ہر ممکن ریلیف فراہم کریں گے۔انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ کھلی کچہری میں پیش کی جانے والی شکایات کے حل میں گہری دلچسپی لیں اوردرخواست گزاروں کو اطمینان بخش ریلیف فراہم کریں۔انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی محکموں کے افسران سے کہا کہ وہ اپنے دفاتر میں موجود رہ کر شہریوں کی شکایات کا ازالہ کریں۔ڈپٹی کمشنر نے درخواست دہندگان کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لئے متعلقہ محکموں کو متحرک کیا گیا ہے اور شکایت کا ازالہ نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • ڈی پی او کی زیر نگرانی شیخوپورہ پولیس کی دبنگ کاروائیاں جاری

    ڈی پی او کی زیر نگرانی شیخوپورہ پولیس کی دبنگ کاروائیاں جاری

    شیخوپورہ ( نمائندہ باغی ٹی وی) ڈی پی او شیخوپورہ جناب احسن سیف اللہ کی ہدایت کے مطابق زیر نگرانی عمران عباسDSPفیروزوالہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اس سلسلہ میں جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سپیشل سرچ آپریشن علاقہ تھانہ فیکٹری ایریا میں کیا گیا ہے دوران سرچ آپریشن 675 مکانات کی چیکنگ کی گئی اور بزریعہ سپیشل ناکہ بندی 850 موٹر سائیکلوں کو چیک کیا گیا دوران سرچ آپریشن متعدد جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے 3610 گرام چرس ، 25 لیٹر شراب ، 01 کلاشنکوف، 02 رائفل 223 بور، 02 بندوق 12 بور، 10 پسٹل 30 بور برآمد کرکے ملزمان کے خلاف مطابق قانون کاروائی عمل میں لاءی گئی ۔ دوران سپشل 09 مجرمان اشتہاری اور ایک کس سابقہ ریکارڈ یافتہ کو بھی گرفتاد کیا گیا۔ 02 کس افراد کے خلاف کرایہ داری ایکٹ کے تحت کاروائی کی گئی ۔
    اس سپیشل سرچ آپریشن میں SHOتھانہ فیکڑی ایریا خرم ڈوگرسب انسپکٹر اور سرکل کی نفری کے علاوہ ایلیٹ فورس کو بھی شامل کیا گیا۔
    اس موقع پر DPO شیخوپورہ کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائیاں اسی طرح جاری رہیں گی اور شیخوپورہ کو امن کا گہوارہ بنایا جائےگا۔یا تو جرائم پیشہ افراد کو اپنی مجرمانہ سرگرمیاں ترک کرنا پڑیں گی یا ان کو بندسلاسل ہونا پڑےگا۔