Baaghi TV

Author: +9251

  • کراچی میں کلفٹن، ڈیفنس میں افغان ڈکیت گینگ سرگرم

    کراچی میں کلفٹن، ڈیفنس میں افغان ڈکیت گینگ سرگرم

    کراچی کا پوش علاقہ کلفٹن اور ڈیفنس ڈاکوئوں کے رحم و کرم پر ہے، ایک کے بعد ایک واردات پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، سب سے زیادہ واردتیں افغان گینگ کرکرے کر رہا ہے جو کہ 100 سے زائد ملزمان پر مشتمل ہے۔کلفٹن اور ڈیفنس میں گھروں میں لوٹ مار کی پے در پے وارداتیں جاری ہیں، شہری بھاری مالیت کے طلائی زیورات اور نقد رقم سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے کیونکہ پولیس واقعے میں ملوث ڈاکوئوں کے گروہوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔
    پولیس حکام کے مطابق وارداتوں میں 2 گینگ اگست سے سرگرم ہیں، پوش علاقوں میں ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ایک افغان گینگ بھی ہے جس کے 100 سے زائد کارندے سرگرم ہیں۔
    افغان گینگ کرکرے واردات میں سفید اور سلور کرولا گاڑی استعمال کر رہا ہے۔گینگ ہر واردات کے لیے کار کی مختلف جعلی نمبر پلیٹیں استعمال کرتا ہے، ڈیفنس اور کلفٹن میں 60 فیصد سے زائد وارداتوں میں یہی افغان گینگ ملوث ہے۔

    ایس ایس پی سائوتھ کے مطابق ڈیفنس کلفٹن میں ڈاکوئوں کے گروہ اگست سے سرگرم ہیں، جن میں سے ایک افغانی کرکرے گینگ بھی شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال ضلع جنوبی میں لوٹ مار کی 29 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، افغان گینگ کرکرے اور دوسرے ڈکیت گینگ کو جلد گرفتار کر لیں گے۔کلفٹن اور ڈیفنس میں لوٹ مار کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کو روکنے میں پولیس کی ناکامی پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔پوش علاقے کو پر امن بنانے کے لیے پولیس کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • کراچی میں لوٹ مار کی کوشش ناکام ملزمان رنگے ہاتھوں گرفتار

    کراچی میں لوٹ مار کی کوشش ناکام ملزمان رنگے ہاتھوں گرفتار

    پولیس نے لوٹ مار کی کوشش ناکام بنا کر دو ملزمان کو گرفتار کرلیا، جبکہ مختلف واقعات میں دو افراد زخمی ہوگئے۔کراچی کے کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس نے کارروائی کے دوران دو ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔ ملزمان شہری سے لوٹ مار کر کے فرار ہو رہے تھے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے دونوں ملزمان کو دھر لیا۔
    ملزمان کے قبضے سے موبائل فون، موٹر سائیکل اور نقدی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔محمود آباد ریلوے کالونی میں فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر زخمی ہونے والے کو علاج کے لیئے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ زخمی کی شناخت اٹھارہ سالہ عبداللہ ولد امتیاز کے نام سے ہوئی ہے، جسے ٹانگ میں گولی لگی ہے۔شریف آباد میں جھگڑے کے دوران خنجر کے وار سے بچہ زخمی ہوگیا۔ زخمی بچے کی شناخت 12 سالہ ارسلان کے نام سے ہوئی۔

  • اگر اچھی چیز اپنے وقت پر ختم ہو جائے تو لوگوں کو یاد رہتی ہے : انورمقصود

    اگر اچھی چیز اپنے وقت پر ختم ہو جائے تو لوگوں کو یاد رہتی ہے : انورمقصود

    مشہورمصنف اور مزاح نگارانور مقصود نے کہاہے کہ اگر اچھی چیز اپنے وقت پر ختم ہو جائے تو لوگوں کو یاد رہتی ہے اور اگر وہ بدستور چلتی جائے تو تباہی ہوتی ہے جس کی سب سے بڑی مثال مارشل لا کی ہے۔ جو ایک وقت کے لیے ہوتا ہے کہ الیکشن کرائیں اور چلے جائیں لیکن اگر یہ کئی کئی برس تک جاری رہے تو تباہی ہو جاتی ہے۔
    ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے پہلی بار آن ایئر انکشاف کیاکہ انہوں نے معروف کامیڈی پروگرام ففٹی ففٹی سے کنارہ کشی اختیار کر کے شوشا نامی پروگرام کیوں شروع کیا تھا، جسے آگے جاکر دیگر ناموں سے بھی پیش کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب ففٹی ففٹی کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت ان کے ساتھ کام کرنے والے ان کی بہت عزت کرتے تھے۔
    لیکن جیسے جیسے پروگرام مشہور ہوتا گیا وہی ٹیم ہِٹ ہو گئی۔

    انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ جنرل ضیا الحق نے ففٹی ففٹی کی پوری ٹیم کو انعام دینے کے لیے مدعو کیا لیکن انہیں نہیں بلایا۔ جب انہوں نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہیں بتایا گیا کہ کامیڈی شو میں تو اداکاروں کا کام ہوتا ہے لکھنے والوں کا نہیں۔انور مقصود نے کہا کہ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے شوشا شروع کیا جس میں انہوں نے سلیم ناصر، شکیل، جاوید شیخ اور شفیع محمد جیسے سنجیدہ اداکاروں سے کامیڈی کرائی۔
    انہوں نے کہاکہ ٹی وی کے ساتھ ان کی ناراضگی کا سلسلہ ہمیشہ سے ہی چل رہا ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے آنگن ٹیڑھا کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔انور مقصود کے بقول آنگن ٹیڑھا میں ان کے کئی جملوں پر ٹی وی سے تعلق رکھنے والوں کو اعتراض تھا لیکن پھر بھی وہ اس سیریز کو آگے بڑھانے کے خواہش مند تھے۔ان کے بقول اگر اچھی چیز اپنے وقت پر ختم ہو جائے تو لوگوں کو یاد رہتی ہے اور اگر وہ بدستور چلتی جائے تو تباہی ہوتی ہے جس کی سب سے بڑی مثال مارشل لا کی ہے۔ جو ایک وقت کے لیے ہوتا ہے کہ الیکشن کرائیں اور چلے جائیں لیکن اگر یہ کئی کئی برس تک جاری رہے تو تباہی ہو جاتی ہے۔

  • کراچی سمیت سندھ بھر میں ڈینگی مچھر کے وار جاری

    کراچی سمیت سندھ بھر میں ڈینگی مچھر کے وار جاری

    کراچی سمیت سندھ بھر میں ڈینگی مچھر کے وار جاری ہیں، ماہرین صحت کے مطابق 80 فیصد ڈینگی کے وہ مریض سامنے آرہے ہیں جو ماضی میں بھی اس کا شکار ہوچکے ہیں۔
    اس ضمن میں ماہر انفیکشن ڈیزیز ڈائویونیورسٹی آف ہیلتھ سائسنز ڈاکٹر سعید خان نے بتایاکہ خواتین اور بچے بھی ڈینگی میں مبتلا ہو کر اسپتال میں داخل ہورہے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ پہلے سے ڈینگی سے متاثر افراد تیزی سے ڈینگی میں مبتلا ہوسکتے ہیں، ڈینگی وائرس کی چار اقسام ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی وائرس کی اقسام میں ڈین وی ون، ٹو، تھری اور فور شامل ہیں، ڈینگی مچھر پانی میں افزائش پاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹھہرے ہوئے پانی میں مچھر تیزی سے پیدا ہوتا ہے

  • ریجنل پولیس آفیسر عبدالکریم کی ڈی پی او آفس نارووال میں کھلی کچہری

    ریجنل پولیس آفیسر عبدالکریم کی ڈی پی او آفس نارووال میں کھلی کچہری

    ریجنل پولیس آفیسر عبدالکریم کی ڈی پی او آفس نارووال میں کھلی کچہری۔
    کھلی کچہری میں عوامی شکایات کو سنااور شکایات کے ازالہ کے لیے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں۔
    کھلی کچہریوں کا مقصد پولیس اورعوام کے درمیان خوشگوار فضا پیداکرنا اور نفرت کی حائل خلیج کو دور کرنا ہے۔
    شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور جرائم پیشہ عناصر کو عدالت مجاز سے سزا دلوانا پولیس کااولین فرض ہے۔
    ریجنل پولیس آفیسر عبدالکریم
    گوجرانوالہ ریجن : انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب راؤ سردار علی خان کے احکامات کے پیش نظر ریجنل پولیس آفیسر عبدالکریم نے ”عوامی رابطہ مہم“کے تحت ڈی پی او آفس نارووال میں لگائی جانے والی کھلی کچہری میں عوامی شکایات کو سنااور شکایات کے ازالہ کے لیے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نارووال سید علی اکبر کے علاوہ ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز بھی موجود تھے۔شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسرعبدالکریم نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد پولیس اورعوام کے درمیان خوشگوار فضا پیداکرنا اور نفرت کی حائل خلیج کو دور کرنا ہے۔شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور جرائم پیشہ عناصر کو عدالت مجاز سے سزا دلوانا پولیس کا فرض ہے۔آر پی او نے کہا کہ کمیونٹی کے تعاون کے بغیر پولیس کا وجود بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کا فرض ہے کہ جرائم پیشہ اور شر پسند عناصر کی نشاندہی کریں تا کہ جرم کو سر زد ہونے سے قبل روک لیا جائے اور جرائم کی بیخ کنی میں مدد مل سکے۔آر پی او نے کہا کہ پولیس افسروں کے لئے لاز م ہے کہ وہ اپنے رویوں میں بہتری لائیں اور عوام الناس کی خدمت کے لئے خود کو وقف کر دیں۔اپنی ڈیوٹی ایمانداری اور دیانتداری سے سر انجام دیں۔کھلی کچہری میں لوگوں کے مسائل سنتے ہوئے کہا کہ عوام الناس کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کے لئے کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔آخر میں ریجنل پولیس آفیسرعبدالکریم نے کہا کہ عدل و انصاف کی فراہمی اور امن و امان کی بہتر صورت حال کے لئے شہریوں کا تعاون ناگزیر ہے۔

  • کراچی میں ایک بار پھر بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ شروع

    کراچی میں ایک بار پھر بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ شروع

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایک بار پھر بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ شروع کردی گئی جس سے شہری اذیت کا شکار ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے، بلدیہ اتحاد ٹاؤن، قائم خانی کالونی، گلشن غازی، اے بی سینیا لائن، جٹ لائن، لائنز ایریا، ملیر، درخشاں، وائر لیس گیٹ، شاہ فیصل کالونی، گرین ٹاؤن میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے۔

    یاد رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے گزشتہ روز ہی بجلی کی قیمتوں میں 1روپے 95 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا ہے۔

    نیپرا کے مطابق منظوری کا اطلاق صرف اکتوبر کے مہینے کے بلوں پر ہوگا، اس سے چند روز قبل بھی نیپرا نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 65 پیسے مہنگی کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

    نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد بجلی کی فی یونٹ قیمت 16.44 سے بڑھ کر 18.09 روپے فی یونٹ ہوگئی جس کی وجہ سے بجلی صارفین پر 90 ارب روپے کا بوجھ پؑ رہا ہے۔

  • بنگلہ دیش نے81 ہزار روہنگیا افراد کو جزیرے میں منتقل کرنے کی خواہش کا اظہارکردیا

    بنگلہ دیش نے81 ہزار روہنگیا افراد کو جزیرے میں منتقل کرنے کی خواہش کا اظہارکردیا

    ڈھاکہ :بنگلہ دیش نے81 ہزار روہنگیا افراد کو جزیرے میں منتقل کرنے کی خواہش کا اظہارکردیا ،اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش اور اقوام متحدہ کے درمیان مدد فراہم کرنے کے معاہدے کے بعد 80 ہزار سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کو خلیج بنگال کے ایک جزیرے پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات شروع ہوگئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی عہدیداروں نے بتایا کہ فلاحی اداروں کی تشویش کے اظہار کے باوجود میانمار سے تقریباً 19 ہزار مسلمان پناہ گزین پہلے ہی سرزمین پر پُرہجوم کیمپوں سے بھاشن چار جزیرے میں منتقل ہو چکے ہیں۔

    بنگلہ دیش کے مہاجرین کے کمشنر شاہ رضوان حیات نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہر سال خلیج بنگال میں آنے والے مون سون کے طوفان کے نومبر میں ختم ہونے کے بعد ہزاروں مزید جائیں گے۔

    انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘ہم ایک لاکھ کا کوٹہ مکمل کرنے کے لیے فروری کے آخر تک تقریبا 81 ہزار روہنگیا کو بھاشن چار جزیرے میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں’۔

    حکومت نے 53 مربع کلومیٹر پر پھیلے جزیرے پر تقریباً 35 کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں جو تقریباً 20 سال پہلے سمندر سے نکلا تھا۔خراب موسم کے ساتھ، جزیرہ بنگلہ دیش کی سرزمین سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور کچھ روہنگیا گروہوں کا کہنا تھا کہ لوگوں کو وہاں جانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار روہنگیا باشندے، بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد پر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

    ان میں سے بیشتر 2017 میں میانمار کے فوجی آپریشن، جس کے بارے میں اقوام متحدہ نسل کشی کا خدشہ ظاہر کیا تھا، سے بھاگ کر یہاں آئے تھے۔بنگلہ دیش کی پناہ گزینوں کو رکھنے پر تعریف کی گئی تھی جنہیں مستقل گھر تلاش کرنے میں بہت کم کامیابی حاصل ہوئی۔

  • بلوچستان میں زلزلے شروع:ہرنائی کے بعد سبی اور گردونواح میں زلزلہ،شدت 3 اعشاریہ 2 ریکارڈ

    بلوچستان میں زلزلے شروع:ہرنائی کے بعد سبی اور گردونواح میں زلزلہ،شدت 3 اعشاریہ 2 ریکارڈ

    کوئٹہ:بلوچستان میں زلزلے شروع:ہرنائی کے بعد سبی اور گردونواح میں زلزلہ،شدت 3 اعشاریہ 2 ریکارڈ ،اطلاعات کےمطابق بلوچستان میں سبی اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں جبکہ زلزلے کی شدت 3 اعشاریہ 2 ریکارڈ کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق بلوچستان میں سبی اور گردونواح میں 3 اعشاریہ 2 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز سبی سے82 کلو میٹر شمال مشرق میں تھا۔

    زلزلے کے جھٹکوں کے بعد لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے۔

    یاد رہےکہ بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب آنے والے زلزلے کے نتیجے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم کے مطابق کم از کم 24 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

    سول انتظامیہ، فوج اور ایف سی کی جانب سے متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو فوری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    بلوچستان کے ڈی جی ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ناصر علی بگٹی نے فون پر بی بی سی سے کو بتایا کہ ایم ایس ہرنائی کے مطابق اب تک 200 سے زائد زخمیوں کو علاج فراہم کیا گیا ہے جبکہ نو ایسے مریض جن کی حالت تشویشناک ہے انھیں بذریعہ ہیلی کاپٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔ ان میں چار خواتین، دو بچے اور تین مرد شامل ہیں۔

  • سینئر اساتذہ کا اندرونِ سندھ جبری تبادلہ کراچی دشمن فیصلہ ہے ،ْحافظ نعیم الرحمن

    سینئر اساتذہ کا اندرونِ سندھ جبری تبادلہ کراچی دشمن فیصلہ ہے ،ْحافظ نعیم الرحمن

    امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے کراچی سے تعلق رکھنے والی 39خواتین اساتذہ ایسوسی ایٹ پروفیسر سمیت 67اساتذہ کو گریڈ 19میں ترقی دے کر اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں جبری طور پر ٹرانسفر کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سندھ حکومت کا ایک اور کراچی دشمن فیصلہ قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ یہ فیصلہ کراچی کے سینئر اساتذہ بالخصوص خواتین اساتذہ کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی اور ناانصافی ہے ۔
    ترقی کے نام پر ان اساتذہ کو ملازمتوں سے اور کراچی کے تعلیمی اداروں کو سبجیکٹ اسپیشلسٹ اساتذہ سے محروم کرنے کی سازش ہے ۔سندھ حکومت کے اس فیصلے کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا،یہ فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے اور ترقی پانے والے تمام مردو خواتین اساتذہ کو کراچی کے تعلیمی اداروں میں ہی تعینات کیا جائے ۔
    حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ان تمام اساتذہ نے کراچی کے تعلیمی اداروں میں ہی اپنی خدمات انجام دینے کے لیے ملازمت حاصل کی تھی اور ان کی رہائش بھی یہیں ہے اس لیے اب انہیں اچانک اپنی رہائش سے دور بھیجنا کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جاسکتا ،بالخصوص خواتین اساتذہ آخر کس طرح اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر اور ان سے دور رہ کر اپنی ملازمت کو برقرار رکھ سکیں گی ۔

    حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی کے ان 67مرد وخواتین اساتذہ کو جبری تبادلے کے ذریعے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا جارہا ہے اور اس طرح من پسند لوگوں کے لیے جگہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو نہ صرف کراچی کے لوگوں کی حق تلفی بلکہ کراچی کے کے طالب علموں کے تعلیمی مستقبل کو بھی تباہ کرنے کی کوشش ہے ۔

  • معیشت کی بحالی کیلئے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور سود سے چھٹکارا پہلی شرط ہے، سراج الحق

    معیشت کی بحالی کیلئے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور سود سے چھٹکارا پہلی شرط ہے، سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ معیشت کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور سود سے چھٹکارا پہلی شرط ہے۔ کرپشن کا خاتمہ اور ملکی وسائل کو غریبوں پرصرف کیا جائے۔ حکمران اشرافیہ نے کرپشن اور بدعنوانی سے مال بنایا۔ حکومت مافیاز کے نرغے میں ہے۔ کرپٹ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو ایک پائوں غریبوں کی گردنوں پر اور دوسرا اقتدار کے ایوانوں میں ہے۔
    ایسے لیڈرز چاہییں جو ملک کو خودانحصاری کے راستے پر ڈال سکیں۔ تینوں بڑی جماعتیں مفادات کی سیاست کر رہی ہیں۔ حکمران پارٹی اور دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کو ملک اور قوم کے مفاد سے کوئی غرض نہیں۔ نیب کو سیاسی مقاصد کے لیے پہلے بھی استعمال کیا جاتا رہا اب بھی یہی روش جاری ہے۔
    سندھ کے نوجوانوں کو نوکریاں چاہییں۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے سندھ کے لیے کچھ نہیں کیا۔ کراچی کے لیے اربوں روپے کے منصوبوں کا اعلان صرف کاغذوں پر کیا گیا۔ نظام کی تبدیلی کے لیے قوم کو متحد ہو کر جماعت اسلامی کا ساتھ دینا ہو گا۔ تینوں بڑی جماعتیں ایکسپوز ہو گئیں اب قوم جماعت اسلامی کو موقع دے۔ ووٹ آپ کے پاس ایک امانت ہے، اللہ کا واضح حکم ہے کہ اہل لوگوں کو اقتدار کے لیے منتخب کرو۔
    جب ووٹ کرپٹ سرمایہ دارانہ نظام کے محافظوں کو ملے گا تو پھر یہی ظالمانہ نظام ہم پر مسلط رہے گا۔ ہمارے فیصلے ہمارے ہاتھ میں ہیں۔آئیے عہد کریں کہ ملک کا نظام خلافتِ راشدہ کے اصولوں پر چلانے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ ربیع الاوّل کا مہینہ رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا مہینہ ہے۔ حضورؐ پوری کائنات کے لیے رحمت بن آئے۔ پوری انسانیت کو اس مہینے کی مبارک باد دیتا ہوں۔
    عشقِ مصطفیؐ کا تقاضا ہے کہ نظام مصطفی ؐکے لیے جدوجہد کرتے ہوئے پیغام مصطفیؐ کو عام کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سفید مسجد سکھر میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب، پیما ضلع سکھر کے ذمے داران کے اجلاس اور تاجر رہنمائوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مرکزی نائب امیر اسداللہ بھٹو، سندھ کے امیر محمد حسین محنتی،قیم صوبہ کاشف سعید شیخ، ضلعی نائب امیر پروفیسر نظام الدین میمن، نائب قیم ضلع علامہ حزب اللہ جکھرو، سندھ کے سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا، امیر ضلع سلطان احمد لاشاری، تاجر رہنما حاجی ہارون میمن، خیر محمد تنیو، پیما کے صوبائی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر غیاث شان اور ضلعی صدر ڈاکٹر احمد مجتبیٰ میمن اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔