Baaghi TV

Author: +9251

  • طیب اردگان نے چاند پرجانے کا حکم دے دیا

    طیب اردگان نے چاند پرجانے کا حکم دے دیا

    انقرہ:طیب اردگان نے چاند پرجانے کا حکم دے دیا ،اطلاعات کے مطابق طیب اردگان کی خواہش پر ترک حکومت نے چاند پر خلائی جہاز بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے 10 سالہ ویژن کے بڑے اہداف حاصل کرنے کا عزم کیا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکش اسپیس ایجنسی کا کہنا ہے کہ چاند کے مشن پر بھیجنے کے لئے خلائی جہاز کی تیاری کی اسٹڈیز شروع کر دی گئیں ہیں، چاند کے مشن پر بھیجنا ترک صدر ایردوان کے 10 سالہ ویژن کے 10 بڑے اہداف میں شامل ہے۔

    ترکش اسپیس ایجنسی کا کہنا تھا کہ ترکی خلا میں اپنے خلابازروں کو بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، ترکی میں 4 سے 10 اکتوبر تک “ورلڈ اسپیس ویک” منایا جائے گا۔

    اسپیس ایجنسی نے مزید کہا کہ ترک صوبے ایرزوروم میں چار میٹر کی ایک ٹیلی اسکوپ نصب کی جائے گی، یہ ٹیلی اسکوپ “ایسٹرن اناطولیہ آبزرویٹری” میں لگائی جائے گی جو یورپ کی سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ ہو گی۔

    خیال رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے رواں سال 9 فروری کو نیشنل اسپیس پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے 10 اہداف مقرر کئے تھے جس میں ترک خلا بازوں کو خلا میں بھیجنا اور مون مشن بھی شامل تھا۔

  • جنگوں نے امریکہ کا دیوالیہ نکال دیا۔ تحریر: محمد شعیب

    جنگوں نے امریکہ کا دیوالیہ نکال دیا۔ تحریر: محمد شعیب

    کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکی حکومت کے خزانے کی سیکرٹری Janet Yellen نے کہا ہے کہ امریکی معیشت ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے۔ معیشت کے بارے میں اس طرح کے فقرے کسی پاکستانی کے لیے سننا ایک عام سی بات ہے، لیکن بحثیت امریکی اگر حکومت کا ایک بڑا عہدے دار یہ کہے کہ اس کی حکومت کے پاس دس دن کے بعد یعنی سولہ یا چودہ اکتوبر کو اپنے فوجیوں کو دینے کے لیے Pay checques. اپنے پچاس لاکھ ریٹائرڈ شہریوں کو دینے کے لیے Social security fund اور اپنے تیس لاکھ فیملیوں کو Monthly child tax credit دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں تو یہ کتنا بڑا دھماکہ ہے۔یہ دھماکہ صرف امریکیوں کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے جو اپنی تجارت ڈالر میں کر رہے ہیں اور Foreign reserve کی صورت میں کھربوں ڈالر اپنے بینکوں میں رکھے بیٹھے ہیں۔

    دنیا میں یہ تجارت کا اصول ہے کہ اگر ایک سال کے تجارتی اور قرضے کے بل کے لیے پیسے آپ کے اکاونٹ میں موجود نہیں ہیں تو آپ کی کریڈٹ ریٹنگ گر جاتی ہے اور آپ کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ایک تلوار کی طرح سر پر لٹکنے لگتا ہے۔ اس لیے ہر ملک اپنی تجارت اور قرضوں سمیت اپنے خزانے ڈالر سے بھر کر رکھتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ڈالر چھاپنے والا ملک یہ کہے کہ اس کے پاس ایک ہفتے بعد اپنے سرکاری ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہ نہیں ہے تو سوچیں یہ کتنا بڑا طوفان پیدا کر دے گا۔ کیونکہ امریکی فیڈرل گورنمنٹ کے ملازم ہونے سے زیادہ اور کون سی نوکری محفوظ ہو سکتی ہے، یہاں تو پاکستان کے سرکاری ملازم کا کوئی مان نہیں ہے۔ جو ایک دفعہ حکومت میں بھرتی ہونے کے بعد اس قوم کے داماد بن جاتے ہیں۔ نخرے سے کام کرتے ہیں اور پھر تمام تر سہولتوں کے بعد ساری زندگی قوم کے پیسے سے پینشن ملتی ہے۔ جوانی بھی محفوظ اور بڑھاپا بھی۔ بحرحال واپس آتے ہیں امریکی معیشت کی طرف۔کہ آخر یہ مسئلہ ہے کیا اور کیا امریکہ اس سے نکل جائے گا۔ اس وقت امریکہ اور پاکستان کی معیشت میں ایک بیماری مشترک ہے، اور وہ قرض کے پیسے سے حکموت چلانے کا فن۔ امریکہ نے دنیا پر اپنی بالادشتی قائم رکھنے کے لیے اپنے اخراجات کو بہت زیادہ بڑھا لیا ہے۔ جہاں امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے وہیں دنیا میں سب سے زیادہ قرضہ بھی امریکہ نے ہی لیا ہوا ہے جو
    28.3 trillion dollerبنتا ہے۔ چاہے کوئی عام سا شخص ہو یا بڑا ملک، معیشت کا ایک سادہ سا اصول ہے کہ اگر آپ کے اخراجات آپ کی آمدنی سے زیادہ ہیں تو اسے پورا کرنے کے لیے آپ کو قرضہ لینا پڑے گا، اور اس قرض پر سود آپ کے اخراجات میں مزید اضافہ کر دے گا۔ اور اسطرح قرض کی واپسی کے لیے مزید قرض
    Debt Trap میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اس وقت امریکہ اپنی GDP کا اٹھانوے فیصد لے چکا ہے اور اگر سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو اگلی دو دہائیوں میں اس کا قرضہ اس کی
    GDP کے 195% ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں کنگال پارٹی کو قرض دینے والوں میں بھی کمی آ جاتی ہے اورتباہی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ بحثیت انسان تو ہم نے دیکھا ہے کہ بہت دے لوگ خودکشی کر لیتے ہیں لیکن ممالک Desprate ہو کر ایسے کام کر بیٹھتے ہیں کہ تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

    اس وقت امریکہ کے آمدنی اور کمائی میں تین ٹریلین ڈالر کا فرق ہے حکومت چلانے کے لیے اسے ہر سال تین ہزار ارب ڈالر قرض لینا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنے ملازمیں کو وقت پر تنخوا دے دے سکیں اور حکومتی مشینری چلتی ہے۔گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر کی معیشتیں تاریخ کے بد ترین بحران سے گزری تھیں جس کے دوران ترقی یافتہ معیشتوں نے ہزاروں ارب ڈالر کے نوٹ چھاپ کر عوام کو گھر بیٹھے تقسیم کیے تھے تاکہ ممکنہ عوامی بغاوت کو ابھرنے سے روکا جا سکے۔ لیکن اب معیشتوں کی بحالی کے آغاز کا واویلا کیا جا رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ اب سرمایہ دارانہ نظام ریکوری کی جانب گامزن ہے۔ لیکن گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے واقعات نے اس ریکوری کے کھوکھلے پن کو عیاں کر دیا ہے اور یہ عندیہ دے دیا ہے کہ آنے والے عرصے میں ماضی کی نسبت کہیں گہرا اور وسیع عالمی مالیاتی بحران ممکن ہے جو پوری دنیا کی معیشتوں کو ڈبونے کا باعث بن سکتا ہے۔ دنیا بھر کے حکمران طبقات اس صورتحال میں شدید خوفزدہ ہیں اور اپنے نظام کو بچانے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں لیکن ایک بوسیدہ اور انہدام کے قریب پہنچی عمارت کی طرح اس نظام پر جتنا مرضی رنگ و روغن کر لیا جائے اس کی بنیادوں میں موجود خرابی کودرست نہیں کیا جا سکتا۔اس وقت امریکہ میں لڑائی یہ ہے کہ ہر ملک میں ایک Debt limit ہوتی ہے جس میں حکومت کو ایک حد تک قرض لینے کی لمٹ دی جاتی ہے اور حکومت کو بے مہار نہیں چھوڑا جاتا کہ وہ جتنے مرضی قرضے لے کر شہہ خرچیاں کرے۔ اس طرح امریکہ میں بھی ایک Debt limitہے اور امریکہ اپنی لمٹ سے کہیں زیادہ قرض پہلے ہی لے چکا ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ کی کانگریس قانون سازی کے زریعے یہ فیصلہ کرے گی کہ حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لیے مزیدDebt limitبڑھانی چاہیے یا نہیں، اس وقت کانگریس میں Republican اور Democrat کی تعداد برابر ہے۔ اور اس کے لیے مخالف پارٹی Republican کی سپورٹ کی ضرورت ہے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ جس طرح بائیڈن نے2 trillionڈالر کے
    Infrastructure planاناونس کیئے ہوئے ہیں اس کے لیے وہ کسی صورت Debt limitبڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بحرحال اس صورتحال کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا امریکہ میں یہ صورتحال 2011میں بھی پیش آگئی تھی ۔ لیکن اس وقت اس بحران کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے، امریکہ کی ایک بیمار گھوڑے جیسی صورتحال پوری دنیا کی ذہن سازی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے لوگ اب سونے سمیت دیگر کرنسیوں میں تجارت سمیت بہت سے آپشنز کو بڑا سیریس لینا شروع ہو گئے ہیں۔ جو امریکہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ کیسے اس کے لیے آپ کو یہ چھوٹی سے کہانی سننی پڑے گی۔

    اب ذرا یہ سوچیے کہ امریکی وزارت خزانہ محض ایک سال کی مدت میں کہاں سے تین ہزار پانچ سو ارب ڈالر کا خسارہ پورا کرنے کا اہتمام کرسکتی ہے؟ آخر ایسا کیا ہوگیا تھا کہ امریکہ مختصر میعاد کے قرضوں کی دلدل میں پھنس گیا؟ امریکی حکومت نے بھی وہی کیا جو بہت سے پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں کیا کرتی ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ نے قرض اتارنے کے لیے قرض لینے کی روایت پر عمل کیا۔ اندرونی قرضوں پر سود کا بوجھ کم کرنے کے لیے قرضے لیے جاتے رہے۔ بہت سے پرائیویٹ ادارے اسی روش کو اپناکر تباہی کی منزل تک پہنچے۔ امریکا سمیت دنیا بھر میں بہت سے بڑے ادارے اور حکومتیں قرضوں کو ادا کرنے کے بجائے ادائیگی ٹالنے کے جتن کرتی رہتی ہیں۔ جب تک خرابی مکمل طور پر واقع نہیں ہو جاتی! یہ طریق کار انسان، اداروں اور حکومتوں کو قرضوں پر قرضے لیتے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ قرض دینے والے جلد یا بدیر بیدار ہوکر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ قرض کی واپسی کا امکان کس حد تک ہے؟ اور جب ایسا ہوتا ہے تب خرابی تیزی سےپھیلنے لگتی ہے اور سود کی شرح بھی ہوش ربا رفتار سے بلند ہوتی جاتی ہے۔ پھر محفل اجڑنے لگتی ہے اور دیوالیہ قرار دیے جانے کی منزل آجاتی ہے۔ جب حکومتیں دیوالیہ ہوتی ہیں تو اسے ڈیفالٹ کہا جاتا ہے۔ کرنسی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے اور اس مارکیٹ میں سٹے بازی کرنے والے اندازے لگاتے رہتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت کب ڈیفالٹ کر جائے گی۔اگر کوئی ملک اپنے قلیل المیعاد قرضوں کو ایک سال میں ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اسے غیر معمولی سیکورٹی رسک سے تعبیر کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں بازار زر کے سٹے باز آپ کے بونڈ، سیکورٹی اور کرنسی کو نشانہ بنانے لگتے ہیں اور ڈیفالٹ کی راہ واقعی ہموار ہو جاتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گرین اسپین اور گوئیڈوٹی کے طے کردہ معیار کے مطابق امریکا کہاں کھڑا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ کسی بھی شخص یا ملک کو قرض دینے سے پہلے اس کے اثاثے یا جائیداد دیکھی جاتی ہے، اگر اس کے قرض اس کی جائیداد یا اثاثوں سے بڑھ جائیں تو وہ مقام اس کی تباہی کا مقام ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کی کرنسی کا طاقت کا اندازہ اس کے پاس سونے کے ذخائر سے ہوتا ہے، امریکہ کے پاس دنیا کا سب سے زیادہ سونا ہے۔ جو8133 tonبنتا ہے جس کی مالیت تقریبا پانچ سو بلین ڈالر بنتی ہے۔ جس کے مقابلے میں کہیں زیادہ وہ قرضہ لے چکا ہے۔ بھارت کے پاس 704 ton جبکہ پاکستان کے پاس یہ64 Tonہے۔ امریکا کے قلیل المیعاد بیرونی قرضے اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ امریکا پر قرضوں کا بوجھ اس قدر ہے کہ اب معیشت کی حقیقی بحالی کے بارے میں سوچنے والے احمق دکھائی دیں گے۔ قومی خزانے پر بوجھ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب اترتا دکھائی نہیں دیتا۔اب اگر امریکہ مزید ڈالر چھاپتا ہے جو کہ وہ پہلے ہی بہت چھاپ چکا ہے، سات بلین ڈالر سے زاہد کے چین، جاپان اور دیگر ممال نے امریکہ کے Treasury bill خریدے ہوئے ہیں۔اگر وہ اس صورتحال سے ڈالر کو چھوڑ کر سونا خریدنے پر لگ گئے تو صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔

    @shoaibsb1

  • ماڈل متھیرا پہلے سب کچھ عیاں پھرناں: گندی ویڈیوزخود لیک کیں  پھرتردید کرکے دنیا کوجھٹلا دیا

    ماڈل متھیرا پہلے سب کچھ عیاں پھرناں: گندی ویڈیوزخود لیک کیں پھرتردید کرکے دنیا کوجھٹلا دیا

    لاہور:ماڈل متھیرا پہلے سب کچھ عیاں پھرناں:گندی ویڈیوزخود لیک کیں پھرتردید کردی ،اطلاعات کےمطابق ماڈل اورٹی وی کی زینت بننے والی پاکسانی ماڈل متھیرا اپنے آپ کومشہورکروانے میں بڑی ماہرہیں ،

     

    متھیرا کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلے خود ہی کیمرے کے سامنے سب کچھ کھول کررکھ دیتی ہیں اورپھرتردید کرکے دنیا کوجھوٹا قراردیتی ہیں ، یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اس سے پہلے کئی بارمقبول ہونے کا یہ کھیل رچا چکی ہیں

     

    متھیرا جنہیں بدنام زمانہ ٹی وی ماڈل کا نام دیا جاتا ہے کی تازہ لیک ہونے والی ویڈیوز نے متھیرا کی حقیقت کو عوام کے سامنے اورکھول کررکھ دیا ہے ،متھیرا کی تازہ ترین ویڈیوز اورتصاویرنے متھیرا کوایک انتہائی بیہودہ رویے والی ماڈل قراردیا جارہا ہے

     

    متھیرا کا انسٹآ گرام پیج بھی متھیرا کی ایسے کاموں میں دلچسپی کو ظاہرکرتا ہے جس میں متھیرا اپنے آپ سے باہر نظرآتی ہے ،

     

    دوسری طرف پاکستانی اداکارہ متھیرا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی نازیبا ویڈیوزپر بول پڑیں۔انسٹاگرام سٹوری پر متھیرا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان سے منسوب نازیبا ویڈیوز جعلی اور ایڈٹ شدہ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز گردش کررہی ہیں جن میں ان کا چہرہ ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کے ذریعے لگایا گیا۔متھیرا نے کہا کہ جس نے بھی یہ حرکت کی ہے اس کو سزا ضرور ملے گی۔

  • دہشت گردی کے الزام میں گرفتارملزم کی معاونت پر2 ایف آئی اے اہلکار گرفتار

    دہشت گردی کے الزام میں گرفتارملزم کی معاونت پر2 ایف آئی اے اہلکار گرفتار

    اسلام آباد : دہشت گردی کے الزام میں گرفتارملزم کی معاونت پر2 ایف آئی اے اہلکار گرفتار،اطلاعات کے مطابق فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے دو اہلکاروں کو دہشتگردی کے الزام میں گرفتار ملزم کے کرپٹو کرنسی اکاؤنٹ چھپانے کے لئے سہولت کاری پر گرفتار کر لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق 2 ایف آئی اے اہلکاروں نے دوران حراست ملزم حافظ اصغر کو غیر قانونی سہولت فراہم کی۔ تحقیقاتی ادارے کی جانب سے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔

    ڈی جی ایف آئی اے ثنا اللہ عباسی نے محکمے کے اندر ایسے واقعہ کا علم ہوتے ہی اس کا نوٹس لے لیا، اور فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی اے اہل کاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

    ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ انہوں نے محکمے کے اندر کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا رکھی ہے، ہیڈ کانسٹیبل احتشام اور فرمان ایاز نے مبینہ طور پر دوران ڈیوٹی ملزم کو بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسی چھپانے کے لئے انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ کی سہولت فراہم کی جس کے نتیجے میں گرفتار ملزم نے اپنے بٹ کوائنز اور دیگر کرپٹو کرنسی کے اکاؤنٹ کے پاس وَرڈ تبدیل کردیئے۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی ونگ نے ثبوتوں کو ضائع کرنے اور کرپٹو کرنسی کو منتقل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    ایف آئی اے کے تحت اینٹی کرپشن سرکل نے ملوث اہلکاروں کے خلاف اینٹی کرپشن کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزمان سے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • سندھ ہائیکورٹ کالاپتا افراد کے اہل خانہ کی کفالت سرکار کے سپرد کرنے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کالاپتا افراد کے اہل خانہ کی کفالت سرکار کے سپرد کرنے کا حکم

    کراچی : سندھ ہائیکورٹ کالاپتا افراد کے اہل خانہ کی کفالت سرکار کے سپرد کرنے کا حکم،اطلاعات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا افراد کی عدم بازیابی سے متعلق درخواست پر اہل خانہ کی کفالت سرکار کے سپرد کرنے کا حکم دیتے ہوئے سیکریٹری سوشل ویلفیئر، سیکرٹری زکوٰة، سیکرٹری وومن ڈیولپمنٹ اور ڈائریکٹر بیت المال کو طلب کرلیا۔

    منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ لاپتا افراد کی عدم بازیابی پر عدالت حکومت اور متعلقہ اداروں پر برہم ہوگئی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ایک بار مرنے کا اتنا دکھ نہیں ہوتا، لاپتا افرادکے اہلخانہ روز روز مرتے ہیں۔ ریاست پوری کی پوری فیملیز کو کیوں دشمنی پر اترنے کے لیے مجبور کررہی ہے؟

    جسٹس اصلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیئے لاپتا افراد کو بازیاب کرانا ریاست کی زمہ داری ہے۔ اس گھرانے پر کیا گزرتی ہوگی جس کا سربراہ لاپتا ہے۔ جن کے شوہر لاپتا ہے ان کے گھر کفالت کون کرتا ہوگا؟ کبھی سوچا خواتین اپنے بچوں کی کیسے پرورش کرتی ہوں گی؟ جس گھر سربراہ 7، 8 سال سے لاپتا ہے سوچیں اس پر خاندان پر کیا گزرتی ہوگی؟ لاپتا شہری کسی کیس میں مطلوب نہیں تھے تو انکے خاندان کی کفالت کون کرے گا؟ کب تک خواتین کے بھائی بوڑھے ماں باپ دوسروں کی کفالت کرتے رہیں گے۔

    رینجرز کے وکیل حبیب احمد ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ کے لاپتا افرادکے اہلخانہ کی کفالت کا یا معاوضہ دینے کے لئے کمیٹی بنا دی جائے۔ لاپتا افراد کا ہر کیس ایک جیسا نہیں ہے، پہلے جیسا لینا ضروری ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے اب ہم لاپتا افراد کے اہلخانہ کو کمیٹیوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری چوائسز پر روزانہ سینکڑوں افراد کو ملازمت فراہم کرتی ہے۔ من پسند افراد کو تو ملازمتین فراہم کرتے ہیں کچھ اللہ کے بندوں کے لئے بھی کریں۔ لاپتا شخص کی بیوی،بیٹی یا بیٹے کو ہی سرکاری ملازمت دے دی جائے۔ عدالت نے لاپتا شہری عادل خان، محمد علی اور محمد نعیم کی بازیابی کے لئےاقدامات کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے لاپتا افراد کے اہلخانہ کی کفالت سرکار کے سپرد کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے میکنزم بنانے کے لئے متعلقہ حکام کو 7 اکتوبر کو طلب کرلیا۔

  • ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ پورا ہوچکا،چورسے مشاورت کوئی بھی پسند نہیں کرتا :فواد چوہدری

    ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ پورا ہوچکا،چورسے مشاورت کوئی بھی پسند نہیں کرتا :فواد چوہدری

    لاہور:ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ پورا ہوچکا،چورسے مشاورت کوئی بھی پسند نہیں کرتا :اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہےکہ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ پورا ہوچکا ہے اور اب بات ایک کروڑ نوکریوں سے کہیں آگے چلی گئی ہے۔

    اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی جانب سے حکومت میں آنے کے بعد ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ پورا ہوچکا ہے۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ساڑھے 16 لاکھ سے زائد افراد کو بیرونِ ملک بھجوایا گيا ، پنجاب کے محکمہ صحت نے 40 ہزار سے زائد نوکریاں دیں ، دیگر محکموں میں بھی لوگوں کو نوکریاں دی گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تین سال میں ایک کروڑ نوکریوں سے کہیں آگے کام جاچکا ہے۔

    دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کے آرڈیننس کا مسودہ مکمل ہوگیا ہے لیکن آج کابینہ میں بحث نہیں ہوئی، حزب اختلاف کو اپوزیشن لیڈر تبدیل کرنا چاہیے تاکہ ہم مشاورت کرسکیں، اپوزیشن لیڈرسے مشاورت کے حوالے سے کل اس ضمن میں آرڈیننس آئے گا۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملک میں نئی مردم شماری میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے گا۔ لوگوں کو جب گنا جاتا ہے تو ایک ہی وقت میں کرفیو لگاکر گنا جاتا ہے کہ کون کہاں ہے، لوگوں کو سوالنامہ بھیجا جاتا ہے کہ جہاں آپ ہیں وہاں 6 مہینے سے زیادہ عرصے سے رہ رہے ہیں اور کیا مزید 6 مہینے رہیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک طریقہ کار کے مطابق آگے چلیں گے، مردم شماری میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جس میں ٹیبلیٹس کا بھی استعمال کیا جائے گا، نادرا اور دیگر اداروں کی مدد لی جائے گی۔ مردم شماری کے مکمل ہونے کے بعد نئی حلقوں کے لیے الیکشن کمیشن کو مطلع کیا جائے گا۔

  • جاوید اقبال ہی چیئرمین نیب رہیں گے،مگرکب تک ؟آرڈیننس کا مسودہ صدر کو ارسال

    جاوید اقبال ہی چیئرمین نیب رہیں گے،مگرکب تک ؟آرڈیننس کا مسودہ صدر کو ارسال

    اسلام آباد:جاوید اقبال ہی چیئرمین نیب رہیں گے،مگرکب تک ؟آرڈیننس کا مسودہ صدر کو ارسال ،اطلاعات کے مطابق نئی تقرری تک جاوید اقبال ہی چیئرمین نیب رہیں گے، وزیراعظم کی منظوری کے بعد ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ صدر مملکت کو ارسال کر دیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق نیب ترمیمی آرڈیننس 2021ء تیار کر لیا گیا ہے، تیار کیا گیا آرڈیننس صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

    مجوزہ آرڈیننس کے مطابق صدر کو 4 سالہ مدت مکمل ہونے پر دوبارہ چئیرمین نیب کو تعینات کرنے کا اختیار مل گیا ہے، دوبارہ چئیرمین نیب کی تقرری کے لیے وزیر اعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کی مشاورت ہوگی، مشاورت کے ذریعے چئیرمین نیب کے تقرر تک موجودہ چئیرمین کام جاری رکھیں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں قانونی ٹیم کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان شریک ہوئے۔

  • سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، محمد نعیم شہزاد

    سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، محمد نعیم شہزاد

    سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم

    محمد نعیم شہزاد

    جو پایہ علم سے پایا بشر نے
    فرشتوں نے بھی وہ پایہ نہ پایا

    آدمیت کی معراج علم سے ہے۔ علم وہ جوہر کامل ہے جو آدم خاکی کو ثریا کی بلندیوں تک لے جاتا ہے اور اسے مسجود ملائک کے منصب تک پہنچا دیتا ہے۔ مگر آدمی کو علم سیکھنے کے لیے شروع سے ہی کسی استاد کی حاجت رہی ہے۔ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے خود تعلیم دی اور انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ گویا ذات باری تعالیٰ اس کائنات کی سب سے پہلی استاد ٹھہری۔ اولین وحی الٰہی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَم یَعْلَم
    انسان کو وہ سکھایا جو اسے معلوم نہ تھا۔
    آدمیت کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا اور اس کی راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کا نزول ہوتا رہا۔
    اس الہامی مذہب اور اس کے پیغام کی اتباع کے بغیر انسانی معاشرہ تباہی کا شکار ہوا اور اس کی پیروی سے ہی ترقی کے زینے چڑھتا رہا۔

    حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی تھے انسانوں کا دائرہ کار محدود تھا اور ایک گھر اور ایک خاندان کی شکل میں الہامی علوم کی اشاعت و تبلیغ کا آغاز ہوا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا اپنے حجم میں کثیر اضافہ کر چکی تھی اور ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بار عظیم کو احسن طریقے سے سنبھالا اور چہار دانگ عالم اللہ تعالیٰ کی تکبیرات بلند کر دی۔

    تاریخ پر سرسری سی نگاہ بھی دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے معاشرے سے انسانیت معدوم ہو چکی تھی۔ لوگ بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے، جوئے اور شراب کے رسیا تھے اور حلال و حرام کی تمیز بھلا بیٹھے تھے۔ معاشرہ تہذیب و تمدن سے عاری تھا۔ الغرض معاشرہ ہر طرح کی خرابی کا مرقع تھا اور برائی پر تفاخر کیا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی عرق ریزی اور جانفشانی سے معاشرے کی تطہیر کا اہم فریضہ سر انجام دیا اور 23 برس کے مختصر عرصے میں ایک نئی دنیا بسا دی۔

    مخلوق کو مخلوق کے دام فریب سے نکالا، غلاموں کو آزادی اور محکموں کے حقوق متعین کیے۔ بیٹی کو اللہ کی نعمت قرار دیا اور عملی طور پر ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر رووپ میں عورت کی قدر منزلت واضح فرما دی۔ وحشیوں کو تہذیب و تمدن کا شاہکار بنایا اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسوں کو باہم شیر و شکر کر دیا۔

    آدمیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف و کرم اور احسان کی کا یہ عالم ہے کہ خود رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث کو مومنوں پر ایک احسان عظیم قرار دیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم انسان کی اخروی نجات کے لیے اس قدر فکر مند ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ کہف میں فرمایا

    فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّـفۡسَكَ عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ اِنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ اَسَفًا ۞

    ترجمہ:
    اگر یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہ لائے تو لگتا ہے کہ آپ فرط غم سے ان کے پیچھے جان دے دیں گے
    القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 6

    آج عالمی یوم اساتذہ #WorldTeachersDay کے موقع پر ہم معلم انسانیت کے مشکور ہیں جن کے دم سے ہم شرف آدمیت کو پہنچے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اکرم، معلم انسانیت پر ان گنت درود و سلام بھیجے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جس معاشرے کی اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے بنیاد رکھی تھی اس کا احیاء کریں تاکہ نسل انسانی محرومی اور نا انصافی سے بچ سکے اور آدمیت کی رفعت کو چھو سکے۔ آئیے ہم کوشش کریں کہ معاشرے میں پھیلی افراتفری اور ناانصافی پر کڑھنے کی بجائے اپنے حصے کی بھلائی پھیلائیں تاکہ ہمارا معاشرہ بھلائی کا گہوارہ بن جائے۔

    محمد نعیم شہزاد
    @UstaadGe

  • وزیر اعظم کا یو این سمٹ سے خطاب:چاراہم معاملات پرزبردست گفتگوسن کرسب حیران رہ گئے

    وزیر اعظم کا یو این سمٹ سے خطاب:چاراہم معاملات پرزبردست گفتگوسن کرسب حیران رہ گئے

    جنیوا: وزیر اعظم کا یو این سمٹ سے خطاب:چاراہم معاملات پرزبردست گفتگوسن کرسب حیران رہ گئے ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا ویکسین کے حوالے سے موجود عدم مساوات کو ختم کرنا ہوگا، ترقی پذیر ممالک سے کرپشن کے ذریعے امیر ممالک میں رقوم کی منتقلی کی وجہ سے بھی معاشی عدم مساوات جنم لے رہی ہے، آگہی کے ذریعے اس ناانصافی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے تحت ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ ورلڈ لیڈرز سمٹ ڈائیلاگ میں وزیر اعظم عمران خان نے ورچوئل خطاب کیا، انھوں نے کہا انتہائی اہم ڈائیلاگ میں شرکت پر خوشی ہے، میں چار اہم معاملات پر بات کروں گا۔

    انھوں نے کہا بدقسمتی سے امیر ممالک ترقی پذیر ملکوں کے مقابلے میں 20 گنا تیزی سے ویکسین لگا رہے ہیں، ویکسین کے حوالے سے اس عدم مساوات کو ختم کرنا ہوگا، ویکسین کی مساوی تقسیم یقینی بنانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔

    یو این سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا میں نے ترقی پذیر ملکوں کے لیے قرضوں میں سہولت کے لیے مہم چلائی، کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے، قرضوں میں سہولت کرونا کے خاتمے تک جاری رہنی چاہیے۔

    یو این سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا پاکستان جیسے ممالک ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے امیر ملکوں کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہیں، یہ ممالک اپنی بقا کے لیے گلیشیئرز سے آنے والے پانی پر انحصار کرتے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیئرز پگھلنے کی شرح میں تیزی آئی ہے، اس لیے امیر ممالک ماحول کے لیے مالی معاونت میں حصہ ڈالیں، خصوصاً ان ممالک کی مدد کریں جن کا کاربن کے اخراج میں حصہ بہت کم ہے۔

    عمران خان نے کہا غریب ملکوں سے امیر ممالک میں رقوم کی غیر قانونی منتقلی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، فیکٹ آئی پینل کے مطابق ٹیکس کی ان محفوظ پناہ گاہوں میں 7 ٹریلین ڈالرز چھپائے گئے ہیں، ہر سال ترقی پذیر ملکوں سے ایک ٹریلین ڈالر غیر قانونی طور پر منتقل ہو رہے ہیں، اس لوٹ مار کی وجہ ترقی پذیر ملکوں کی بدعنوان اشرافیہ ہے۔

  • پاکستان اور سعودی عرب کےمابین نہ ختم ہونے والا دیرینہ مذہبی اور تاریخی رشتہ ہے:ایئر چیف مارشل

    پاکستان اور سعودی عرب کےمابین نہ ختم ہونے والا دیرینہ مذہبی اور تاریخی رشتہ ہے:ایئر چیف مارشل

    راولپنڈی :پاکستان اور سعودی عرب کےمابین نہ ختم ہونے والا دیرینہ مذہبی اور تاریخی رشتہ ہے:اطلاعات کے مطابق سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کےمابین دیرینہ مذہبی،ثقافتی اور تاریخی رشتہ قائم ہے۔

    ترجمان پاک فضائیہ کی جانب سے کرددہ بیان کے مطابق کمانڈر رائیل سعودی نیول فورسز وائس ایڈمرل فہد بن عبداللہ کی سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے انکے دفتر میں ملاقات ہوئی جس میں دونوں معززین نے پیشہ ورانہ اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔

    اس موقع پر سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دیرینہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتہ قائم ہے جو دونوں فضائی افواج کے مابین مضبوط روابط کا مظہر ہے۔ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہیں۔

    ملاقات میں سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے دونوں برادر ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    واضح رہے اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کمانڈر رائل سعودی نیول فورسز وائس ایڈمرل فہد بن عبداللہ کی ملاقات ہوئی تھی جس میں باہمی دلچسپی،علاقائی سیکیورٹی اورفوجی ومیری ٹائم تعاون پرتبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں جانب سےباہمی دفاعی اورسیکیورٹی تعاون کومزیدفروغ دینےپراتفاق کیا تھا جبکہ افغان صورتحال اورخطےمیں امن واستحکام کی کوششوں پربھی بات چیت کی تھی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملاقات میں کمانڈر رائل سعودی نیول فورسز وائس ایڈمرل فہد بن عبداللہ نےافغان صورتحال بالخصوص غیرملکی عملےکےانخلاء میں پاکستان کےکردارکوسراہا تھاجبکہ سعودی امیرالبحر نےخطےمیں دیرپاامن کیلئےپاکستان کیساتھ ملکرکام کرنےکےعزم کا بھی اعادہ کیا تھا۔

    ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھاکہ پاکستان اورسعودیہ کےباہمی تعلقات مضبوط پارٹنرشپ میں بدل چکےہیں۔ دونوں ملکوں کے گہرے، قریبی اورتاریخی نوعیت کےتعلقات ہیں۔