Baaghi TV

Author: +9251

  • چیف سیکرٹری پنجاب کا گوجرانوالہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دبنگ دورہ ، ہسپتال میں انتظام و انصرام کا جائزہ لیا اور مریضوں کی خیریت دریافت کی

    چیف سیکرٹری پنجاب کا گوجرانوالہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دبنگ دورہ ، ہسپتال میں انتظام و انصرام کا جائزہ لیا اور مریضوں کی خیریت دریافت کی

    گوجرانوالہ: چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے اپنے دورہ گوجرانوالہ میں اچانک ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال گوجرانوالہ کا دورہ کیا ۔ہسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی، صفائی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔

    چیف سیکرٹری نے پناہ گاہ، ایمرجنسی، ٹراما سینٹر اور مختلف وارڈز کا معائنہ بھی کیا اور ڈویژنل کمشنر کو ہسپتال کی عمارت کی تعمیر و مرمت کیلئے فنڈز مختص کرانے کی ہدایت کی۔

    دورہ کے دوران مریضوں کی عیادت کی اوران سے سہولیات کی فراہمی بارے، ڈاکٹروں اور عملہ کے رویہ بارے دریافت کیا ہے۔

    چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے ہسپتال میں موجود مریضوں سے سوال کیا کہ علاج معالجے میں کوئی مسئلہ تو درپیش نہیں، جس پرمریضوں نے ہسپتال میں سہولیات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔

    چیف سیکرٹری نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کسی عبادت سے کم نہیں، انہوں نے ہدایات کیں کہ ادویات کی فراہمی، عملہ کی حاضری کو یقینی بنایا جائے، ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اورعملہ مریضوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔

    چیف سیکرٹری نے ہسپتال میں انتظامات کی تعریف کی اور سہولیات کا معیار برقرار رکھنے کا حکم دیا ۔
    جبکہ پرنسپل ڈاکٹر معروف عزیز اور ایم ایس ڈاکٹر فضل الرحمن نے چیف سیکرٹری پنجاب کو بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہسپتال میں سرجیکل ٹاور اور مزید شعبوں کے قیام کے لئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

  • کرپشن اور ناقص کارکردگی کسی صورت برداشت نہیں،افسران میرٹ اور قانون کے مطابق اپنے فرائض بلا خوف وخطر سر انجام دیں۔

    کرپشن اور ناقص کارکردگی کسی صورت برداشت نہیں،افسران میرٹ اور قانون کے مطابق اپنے فرائض بلا خوف وخطر سر انجام دیں۔

    گوجرانوالہ: چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل کی زیر صدارت کمشنر آفس گوجرانوالہ میں اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں ترقیاتی سکیموں، پرائس کنٹرول اقدامات، زیر التوا ریونیو مقدمات کا جائزہ لیا گیا۔

    چیف سیکریٹری نے اجلاس میں محکموں کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح ریاست کا بنیادی منشور اور ذمہ داری ہے۔اس منشور پر عملدرآمد سرکاری افسران کا فرض ہے۔
    انہوں نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عام آدمی کو سرکاری دفاتر میں عزت و احترام ملے، افسران اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔

    چیف سیکرٹری نے کہا کہ کرپشن اور ناقص کارکردگی کسی صورت برداشت نہیں،افسران میرٹ اور قانون کے مطابق اپنے فرائض بلا خوف وخطر سر انجام دیں۔

    چیف سیکرٹری نے ترقیاتی سکیموں میں فنڈز کےبروقت استعمال اور شفافیت یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں پر پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔
    ریونیو سے متعلق عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، دو سال سے زائد کوئی ریونیو مقدمہ زیر التواء نہ رہے۔

    پرائس کنٹرول کے حوالے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اشیاء کی طلب، رسد اور قیمتوں کی مانیٹرنگ کی جائے۔ قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کیلئے مارکیٹ میں مقابلے کی فضا پیدا کی جائے، پھلوں، سبزیوں کی درست قیمتوں کے تعین اور منڈیوں کی مانیٹرنگ افسران کی ذمہ داری ہے۔

    بڑے سٹوروں پر ڈپٹی کمشنر کاؤنٹرز کے قیام کے سلسلہ میں چیف سیکرٹری کی کمشنراور ڈپٹی کمشنرز کو شاباش. کسان پلیٹ فارم اور ریڑھی بازاروں کے قیام کو بھی سراہا۔ پرائس کنٹرول اقدامات کے تحت 52 سہولت بازار، 151 ڈی سی کاونٹرز بنائے گئے ہیں،
    گوجرانوالہ ڈویژن میں گزشتہ ہفتے 3364 گراں فروشوں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔
    37 لاکھ سے زائد جرمانے، 74 مقدمات درج اور 90 افراد کو گرفتار کیا گیا، بریفنگ
    ریونیو کیسوں کی جلد سماعت کو یقینی بنایا جارہا ہے، کمشنر کی بریفنگ
    چیف سیکرٹری نے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے کئے جانیوالے اقدامات کو بھی سراہا.
    گوجرانوالہ ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ افسران نے اجلاس میں شرکت کی.

  • کار پارکنگ مافیا کے خلاف گوجرانوالہ شہر میں کاروائی جاری

    کار پارکنگ مافیا کے خلاف گوجرانوالہ شہر میں کاروائی جاری

    کار پارکنگ مافیا کے خلاف گوجرانوالہ شہر میں کاروائی جاری

    گوجرانوالہ: اسسٹنٹ کمشنرہیڈکوارٹرز شبیرحسین بٹ نے کار پارکنگ کےنام پرلوگوں کولوٹنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔

    کمشنرذوالفقاراحمد گھمن اورڈپٹی کمشنردانش افضال کی ہدایت پر شہر بھر میں پارکنگ کے نام پر لوگوں کو لوٹنے والے مافیا کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنرہیڈکوارٹرزشبیرحسین بٹ نے سوموار کے روز شہر کے مختلف علاقوں میں پارکنگ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ۔ مختلف مقامات پر بنے پارکنگ اسٹینڈ پر موٹرسائیکل پارکنگ پر 10 کی بجائے 30 روپے وصول کیے جا رہے تھے ۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر ناجائز پارکنگ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جہاں پر بھی موٹرسائیکل پارک کرنے پر 30 روپے وصول کیے جا رہے تھے ۔

  • سابق وزیر میاں محمد نواز شریف کی ویکسی نیشن نارووال پبلک سکول

    سابق وزیر میاں محمد نواز شریف کی ویکسی نیشن نارووال پبلک سکول

    نارووال
    سابق وزیر میاں محمد نواز شریف کی ویکسی نیشن نارووال پبلک سکول میں گذشتہ روز چھٹی والے دن مبینہ ہونے والے معاملہ پر ڈپٹی کمشنر نارووال،لاہور سے انکوئری کے لئے آئی ٹیم ہیلتھ انفارمیشن اینڈ سروس یونٹ نے طویل سرچ کے بعد ”ایپ“ میں انٹری ثابت ہونے پر نیوٹریشن سپروائز میاں ناصر رؤف اور ثاقب نامی محکمہ ہیلتھ کے ملازمین کو تھانہ صدر میں گرفتار کروا دیا،ڈپٹی کمشنر میڈم نبیلہ عرفان نے سی ای او ہیلتھ آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعہ کی انکوئری کی گئی جس میں یہ ثابت ہوا کہ انٹری ان کی ایپ سے کی گئی ہے

    اس لئے اندراج مقدمہ کیلئے سی ای او ہیلتھ نے تھانہ صدر کو درخواست دے دی ہے اور نیوٹریشن سپروائز میاں محمد رؤف اور ثاقب کو تھانہ صدر کے حوالے کردیا گیا ہے ڈی سی نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف کے شناختی کارڈ نمبر کو ہی نارووال میں ویکسی نیشن کی انٹری کی گئی ہے اس واقعہ کی مزید تفتیش کی جائے گی واضع رہے کہ”نیشنل ایمولیزیشن مینجمنٹ سسٹم“میں گذشتہ روز 3اکتوبر 2021کو سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ویکسین لگانے کی غلط انٹری کی گئی تھی جس کی خبر الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے پر محکمہ ہیلتھ اور ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئی۔
    محمد عارف راشد باغی ٹی وی نارووال

  • سگریٹ انڈسٹری کے وارے نیارے، تحریر: محمد شعیب

    سگریٹ انڈسٹری کے وارے نیارے، تحریر: محمد شعیب

    پاکستان میں ہر تیسرا شخص سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہے۔ ساتھ ہی ہمارے ملک میں کچھ ایسے بھی ہیں۔ جن کے پاس تین وقت کا کھانا کھانے کی اسطاعت نہیں ہوتی۔ لیکن وہ سگریٹ ضرور پیتے ہیں۔ ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 90 لاکھ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے پاکستان میں سستے سگریٹس کی دستیابی۔

    ۔ مثال میں آپکو دے دیتا ہوں پاکستان میں 20 سگریٹ کے پیکٹ کی اوسط قیمت 38 روپے ہے یعنی تقریباً دو روپے کا ایک سگریٹ۔ اندازہ لگائیں کہ روٹی 10 روپے کی ہے۔ یعنی پاکستان میں روٹی سگریٹ سے پانچ گنا زیادہ مہنگی ہے۔ اگر ملٹی نیشنل برانڈز کی مہنگی سگریٹس کی بات کی جائے تو وہ بھی ایک سگریٹ دس روپے میں مل جاتا ہے یعنی مہنگا ترین سگریٹ بھی روٹی کی قیمت میں مل جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں چھ سے پندرہ سال کی عمر کے بارہ سو بچے روزانہ تمباکو نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔ پھر نوجوان میں خاص طور پر یونیورسٹی کے طلباء میں یہ لت بہت تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ان میں تمباکو نوشی کی شرح 15 فیصد ہے۔ زیادہ تر مرد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ پھر ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے
    19 فیصد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ ۔ فی الحال تمباکو نوشی سے صحت کے نظام پر اضافی بوجھ پڑنے کے علاوہ نوجوانی کی اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ تمباکو نوشی سے سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔

    ۔ پھر برطانیہ کی آکسفورڈ اکانومی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 78 ارب سے زائد سگریٹ کی اسٹکس اسموک کی جاتی ہیں۔ جن میں 33 ارب سگریٹ اسٹیکس غیر قانونی ہیں۔ ان غیر قانونی سگریٹ اسٹیکس میں سے ساڑھے 8 ارب اسٹکس اسمگل کی جاتی ہیں جبکہ تقریباً 33 ارب اسٹکس ملک میں غیر قانونی طور پر تیار ہوتی ہیں۔۔ پھر صحت کے حوالے سے دیکھیں تو اتنا تمباکو نوشی سے ٹیکس اکٹھا نہیں ہوتا جتنے اخراجات ہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔PAKISTAN INSTITUTE OF DEVELOPMENT ECONOMICSکی اسٹڈی کے مطابق تمباکو نوشی سے متعلقہ تمام بیماریوں اور 2019 میں ہونے والی اموات کی وجہ سے ہونے والے کل3.85بلین ڈالرز کے اخراجات ہوئے ۔ جو کہ پاکستان کے GDP کا 6.1 فیصد ہے۔
    جبکہ تمباکو نوشی کی کل ٹیکس collection120بلین روپے تھی جو کہ تمباکو نوشی سے ہونے والے خرچے کا تقریباً 20فیصد بنتا ہے ۔ پھر اس وقت پاکستان میں کینسر ، دل ، شوگر ، بلڈ پریشر اور سانس کی بیماریوں کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے ۔ جو کہ تقریباً 71فیصد بنتی ہے ۔ صرف ان بیماریوں کے علاج پر پاکستان 2.74بلین ڈالرز خرچ کرتا ہے ۔

    ۔ میں آپکو خطے کے ممالک اور مختلف اشیاء کے ساتھ comparisonکرکے بتاتا ہوں تاکہ آپکو بات سمجھ میں آجائے ۔۔ اس وقت پاکستان میں گولڈ فلیک نامی سگریٹ سستا ہے اور تقریباً 50
    سینٹ میں پیکٹ دستیاب ہے جبکہ یہی سگریٹ بھارت میں چار ڈالر، بحرین میں 4.16 اور متحدہ عرب امارات میں 4.36 ڈالر میں دستیاب ہے۔ اب مہنگے سگریٹ کی قیمت دیکھیے۔ گولڈ لیف سگریٹ کا پیکٹ پاکستان میں 1.13 ڈالر، بنگلہ دیش میں 1.90،بھارت میں 2.48، سعودی عرب میں 3.47 اور سری لنکا میں 6.71 ڈالر میں دستیاب ہے۔ یعنی پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا میں یہ سگریٹ تقریباً پانچ ڈالر زیادہ مہنگا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں 2019 سے 2021 تک گوشت 32 فیصد، چکن 168 فیصد، انڈے 83 فیصد، دودھ 51 فیصد تک مہنگے ہوئے لیکن اسی عرصہ میں سگریٹ ایک فیصد بھی مہنگے نہیں ہوئے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ تمباکو کی صنعت بہت ٹیکس دیتی ہے ۔ صرف سکے کا ایک رخ ہے ۔ ۔ پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے معاشی اور صحت کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ تمباکو کے استعمال میں موجودہ ٹیکس کی شرح کا پانچ گنا سختی سے تجویز کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں میں 60 فی صد افراد سگریٹ نوشی سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں تاہم ان میں سے محض30 فیصد ہی کو ترک تمباکو نوشی کے مراحل میں ضروری سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں صرف 23 ممالک میں تمباکونوشی چھوڑنے کے خواہش مندوں کا ان کی حکومتیں ساتھ دیتی ہیں۔

    ۔ اب عالمی ادارہ صحت کی طرف سے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہاگیا ہے کہ وہ ٹوبیکو فری ماحول قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے لئے لوگوں کو شعور فراہم کریں، سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مندوں کا ساتھ دیں ، انھیں ایسے ہتھیار فراہم کریں کہ وہ اسے بہ آسانی ترک کرسکیں۔۔ دنیا بھر میں چھ لاکھ افراد ایسے بھی ہیں جو سگریٹ کے دھوئیں سے بیمار ہوتے ہیں حالانکہ وہ خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ ان کے قریب کوئی دوسرا فرد سگریٹ پیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق ہلاک ہونے والے 70لاکھ افراد تمباکو نوش ہوتے ہیں جبکہ دس لاکھ بیس ہزار افراد بلواسطہ طور پر تمباکونوشی سے متاثر ہوکر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً سات ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل بھی موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔۔ ویسے سگریٹ چھوڑنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا بتایا جاتا ہے۔ دراصل ہم اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اگر ہم فیصلہ کر لیں تو ترک سگریٹ نوشی مشکل نہیں ہے۔ زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاریں جو سگریٹ نہیں پیتے۔۔ جب سگریٹ کی طلب ہو تو خود سے عہد کریں میں قوت ارادی کا مضبوط ہوں ،میرا فیصلہ ہے میں سگریٹ نہیں پیوں گا ۔ اس کے ساتھ خود ترغیبی کے ذریعے خود کو ہی سگریٹ کے خلاف لیکچر دیں۔ ۔ مراقبہ ، یوگا اور پابندی سے ورزش کرنے سے سگریٹ نوشی سے نجات مل جاتی ہے کیونکہ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے ۔ لیکن سب سے اہم آپ کی قوت ارادی ہی ہے ۔

    ۔ ایک تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق سے تمباکو نوشی کے عادی افراد کیلئے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ چاہے آپ اسے چھوڑنے کی کوشش نہ بھی کر رہے ہو۔ جو افراد آغاز پر سگریٹ نوشی سے گریز کرنے کی کوشش شروع کرتے ہیں ان کی کامیابی کا کافی زیادہ امکان ہوتا ہے۔ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے۔ ۔ یاد رکھیں آپ کے پھیپھڑوں میں ایسی ’حیران کن‘ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کے باعث ہونے والے نقصان کی مرمت کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو سگریٹ نوشی کو ترک کرنا پڑے گا۔ اگر معاشرے کے سنجیدہ اور باشعور طبقہ نے اس طرف توجہ نہ کی تو شاید کوئی گھر اس تباہی سے نہ بچ سکے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ ڈاکٹرز ، پروفیسرز، ٹیچرز ، علماء سب کے سب عوامی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کریں۔ تعلیمی اداروں میں مباحثے اور سیمینار منعقد کروائے جائیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی سگریٹ اور دیگر منشیات کے تباہ کن اثرات سے عوام کو آگاہ کرے۔۔ ایسے نعرے اور سلوگن عام کئے جائیں کہ سگریٹ جلتا ہے تو کینسر پلتا ہے۔ نشہ کے عادی افراد سے نفرت کی بجائے ہمدردی کی جائے اور ان کا علاج کرکے انھیں زندگی کی طرف واپس لوٹایا جائے۔ ہمارا دین بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی ، اس نے ساری انسانیت کو بچالیا۔

  • وزیراعظم پاکستان عمران خان ایک محبت وطن انسان مگران کے اردگرد کچھ لوگ اچھے نہیں :آئی سی آئی جے

    وزیراعظم پاکستان عمران خان ایک محبت وطن انسان مگران کے اردگرد کچھ لوگ اچھے نہیں :آئی سی آئی جے

    لاہور:وزیراعظم پاکستان عمران خان ایک محبت وطن انسان مگران کے اردگرد کچھ لوگ اچھے نہیں :آئی سی آئی جے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھرمیں تحقیقات کے نام پرمشہورہونےوالے عالمی ادارے آئی سی آئی جے کے ادارے نے یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم ایک ایماندار شخص ہیں لیکن بدقسمتی سے اس مخلص انسان کے اردگرد کچھ لوگ مالی معاملات میں اچھے نہیں ہیں

    اس ادارے نے اپنی تحقیقات کی روشنی میں یہ بھی تسلیم کیا ہےکہ وزیراعظم عمران خان کرپٹ نہیں وہ کرپشن سے سخت نفرت کرتے ہیں اوروہ اپنے وطن کے لیے کچھ کرنے کے عزم سے پاکستان میں موجود ہیں مگران کی کوششوں کواس وقت دھچکا لگتا ہے جب ان کے ارد گرد بیٹھے ہوئے کچھ لوگ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں

    آئی سی آئی جے نے اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے ارد گرد ان افراد کا احاطہ کیا ہےجن کے نام ان تحقیقات میں دولت کو چھپانے اور پھرٹھکانے لگانے والوں میں شامل ہیں

    ادھر آئی سی آئی جے نے یہ بھی لکھا ہےکہ یہ تحقیقات وزیراعظم عمران خان کےلیے اس حوالے سے ایک دھچکہ ہیں کہ ان کی کابینہ کے کئی وزرا بھی آف شور کمپنیاں بنانے میں ملوث پائے گئےہیں‌

    عالمی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہےکہ یہ اب عمران خان کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں

    ان دستاویزات کے مطابق عمران خان کے وزیر خزانہ شوکت ترین اور ان کے اہل خانہ چار آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ مالیاتی مشیر طارق فواد ملک جنھوں نے ان کمپنیوں سے متعلق کاغذی کارروائی کی تھی آئی سی آئی جے کو بتایا کہ یہ کمپنیاں ترین خاندان کی طرف سے ایک بنک میں سرمایہ کاری کے ارادے سے بنائی گئی تھیں جس کے سعودی کاروباری رابطے تھے۔ ‘لیکن یہ ڈیل مکمل نہیں ہوئی۔’ شوکت ترین ماضی میں پیپلزپارٹی کی حکومت میں بھی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔پاکستان کے وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے پاکستان کے مقامی نیوز چینل جیو نیوز کو ایک بیان میں کہا ہےکہ پنڈورا پیپرز میں نامزد ان کی آف شور کمپنیاں اس وقت قائم کی گئی جب طارق فواد ملک، یو اے ای کی ایک کمپنی کے لیےکام کرتے تھے، انھوں نے سرمایہ کاری کے لیے باقاعدہ اجازت لی تھی۔

    آئی سی آئی جے کا دعویٰ ہے کہ انھیں پنڈورا پیپرز میں شواہد ملے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہی ایک متنازعہ کاروباری سودے سے حاصل ہونے والے رقم سے ایک خفیہ آف شور ٹرسٹ میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق مونس الہی سن 2007 میں اپنے خاندان کی پھالیہ شوگر ملز کی زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے سرمایہ کاری کرنا چاہتے تھے۔ ترجمان نے آئی سی آئی جے کے میڈیا پارٹنر کو بتایا کہ ’سیاسی انتقام اور ڈیٹا کی غلط تشریح بری نیت سے دستاویزات میں پھیلائی گئی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ان کے خاندان کے اثاثے قانون کے مطابق ڈکلیئر کیے گئے ہیں۔

    آئی سی آئی جے کے مطابق پنڈورا پیپرز سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کی جماعت کے سینیٹر اور آبی وسائل کے سابق وزیر فیصل واوڈا نے سن 2012 میں برطانیہ کی پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے ایک آف شور کمپنی بنائی تھی۔پنڈورا پیپرز کے بارے میں آئی سی آئی جے سے اپنے رد عمل میں فیصل واوڈا نے کہا کہ انھوں نے اپنے نام تمام اثاثے پاکستان ٹیکس حکام کے سامنے ڈکلیئر کیے ہوئے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان شہباز گل نے آئی سی آئی جے کو بتایا کہ عمران حان نے اپنی کابینہ کے تمام غیر منتخب ارکان کے لیے اپنے تمام اثاثے ڈکلیئر کرنا لازمی قرار دیا ہے اور یہ ہدایات پاکستان قوانین میں ارکان قومی اسمبلی کے لیے درج تقاضوں کے علاوہ ہیں۔تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان کے ایک وزیر مخدوم خسرو بختیار کے بھائی اور بزنس پارٹنر نے ایک آف شور کمپنی کے ذریعے سنہ 2018 میں لندن کے علاقے چیلسی میں ایک ملین ڈالر کی ایک پراپرٹی اپنی ضعیف والدہ کے نام منتقل کی

    دوسری طرف وزیراعظم عمران‌خان نے پینڈورا پیپرز کے منظرعام پرآنے کے بعد ان سرکاری اورحکومتی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ پنڈورا پیپرز کا خیر مقدم کرتے ہیں، پنڈورا پیپرز اشرافیہ کی ناجائز دولت کو بے نقاب کرتے ہیں،ٹیکس چوری اور بدعنوانی سے جمع دولت مالیاتی ‘پناہ گاہوں’ میں پہنچ جاتی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کےادارے نے چوری شدہ اثاثوں کا تخمینہ7ٹریلین ڈالر لگایا ہے، یہ دولت بڑے پیمانے پر آف شور ٹیکس ہیونز میں منتقل کی گئی۔

    وزیراعظم کا کہنا ہےکہ میری حکومت پنڈورا پیپرز میں سامنے آنے والے تمام شہریوں کی تحقیقات کرےگی، اگر کوئی غلطی ثابت ہوئی تو مناسب کارروائی کریں گے۔پنڈورا پیپرز میں کئی اہم پاکستانی شخصیات کے نام اور مالیاتی امور پر تحقیق بھی متوقع ہے

    تحقیقاتی صحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹیو جرنلٹس (آئی سی آئی جے) نے ’پنڈورا پیپرز‘ کے نام سے ایک تحقیق ریلیز کی ہے، جس میں بیرون ملک کمپنیاں رکھنے والی دو درجن سے زیادہ پاکستانی شخصیات کے نام شامل ہیں۔ ”’

    جن پاکستانی شخصیات کے نام پنڈورا پیپرز میں شامل ہیں ان میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین، سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کے بیٹے علی ڈار، چوہدری مونس الہی، وفاقی وزیر فیصل واوڈا، وفاقی وزیر خسرو بختیار، سابق وزیر پنجاب علیم خان، سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن شامل ہیں‌

    سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی میجر جنرل (ر) نصرف نعیم، نیشنل بنک آف پاکستان کے صدر عارف عثمانی، جنرل خالد مقبول کے داماد احسن لطیف، ایمبیسیڈر ایٹ لارج فار فارن انویسٹمینٹ علی جہانگیر، جنرل مشرف کے سابق ملٹری سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل شفاعت اللہ شاہ، نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے ڈائریکٹر جنرل عدنان آفریدی بھی شامل ہیں

    وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی وقار مسعود خان کے بیٹے عبداللہ مسعود، جنرل (ر) افضل مظفر کے بیٹے حسن مظفر، ابراج گروپ کے عارف نقوی، سابق سیکریٹری دفاعی پیداوار لیفٹیننٹ جنرل تنویر طاہر کی اہلیہ زہرا تنویر، جنرل (ر) علی قلی خان کی ہمشیرہ شہناز سجاد، ایگزیکٹ اور بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ، ائیر مارشل (ر) عباس خٹک کے بیٹے احد خٹک اور عمر خٹک، امپیریئیل شوگر ملز کے مالک نوید مغیس شیخ، تاجر بشیر داود، آس حفیظ (مرچنٹ) اور بزنس مین عارف شفیع ہیں۔

    یاد رہے کہ اپریل 2016 میں آئی سی آئی جے کی تحقیق پاناما پیپرز کے نام سے سامنے آئی تھی جس نے دنیا میں تہلکہ مچادیا تھا۔

    پاناما پیپرز ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل تھے جس میں درجنوں سابق اور اس وقت کے سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی ‘آف شور’ کمپنیوں کا ریکارڈ موجود تھا۔

    پاناما لیکس میں پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کا بھی آف شور کمپنیوں سے تعلق سامنے آیا تھا جس پر ان کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمات چلائے گئے تھے اور اسی وجہ سے نواز کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔

  • ڈاکٹرعامرلیاقت نےپھر استعفیٰ دے دیا

    ڈاکٹرعامرلیاقت نےپھر استعفیٰ دے دیا

    کراچی:ڈاکٹرعامرلیاقت نے استعفیٰ دے دیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کراچی کے قومی اسمبلی ڈاکٹرعامرلیاقت نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے اوراس حوالے سے ان کا کہنا ہےکہ انہوں نے استعفیٰ اسپیکرکوبھیج دیا ہے

    اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراپنے پیغام میں کہا ہےکہ وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفیٰ ہورہےہیں ساتھ ہی انہوں نے وزیراعظم عمران خان اورپارٹی کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہارکیا ہے

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی وہ استعفیٰ دے چکے ہیں لیکن اس وقت وزیراعظم نے استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا اوراب بھی امکان ہےکہ وہ اسعتفیٰ منظور نہیں کریں گے

    خیال رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت نے اس سے قبل جنوری 2020 میں بھی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا عندیہ دیا تھا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے کہاں جائیں؟، میں کھل کر بتانا چاہتا ہوں کوئی وفاقی وزیر قومی اسمبلی کے رکن کے فون تک کا جواب نہیں دیتا۔ حالات یہی رہے تو کم از کم میں اپنی نشست سے استعفی دینے میں ذرا بھی دیر نہیں کروں گا۔

  • پینڈورا پیپرز:مونس الٰہی کے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں، ترجمان چوہدری برادران

    پینڈورا پیپرز:مونس الٰہی کے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں، ترجمان چوہدری برادران

    لاہور:پینڈورا پیپرز:مونس الٰہی کے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں، ،اطلاعات کے مطابق پیڈورا پیپرز میں آف شورکمپنیوں کے حوالے سے چوہدری پرویز الٰہی کے فرزند ارجمند مونس الٰہی کا نام آنے پرچوہدری برادران کی طرف سے اس حوالے سے ایک تسلی بخش اعلان آگیا ہے

    ترجمان کا کہنا ہےکہ چوہدری برادران کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانےکے لیےفائلوں میں غلط اور گمراہ کن مواد بھرا گیا، ماضی میں مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

    ترجمان کا کہنا ہےکہ نام نہاد احتساب کے نام پر حقائق کے برعکس گمراہ کن پراپیگنڈا کیا گیا، چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے تمام اثاثے قانونی طور پر ڈکلیئرڈ ہیں۔

    خیال رہےکہ پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آگئی ہیں، ان افراد میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما و اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی کا نام بھی سامنے آیا ہے۔

    دوسری طرف اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے پنڈورا پیپرز میں شامل پاکستانیوں سے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ پنڈورا پیپرز کا خیرمقدم کرتے ہیں، پنڈورا پیپرز اشرافیہ کی ناجائز دولت کو بے نقاب کرتے ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا ہےکہ میری حکومت پنڈورا پیپرز میں سامنے آنے والے تمام شہریوں کی تحقیقات کرےگی، اگر کوئی غلطی ثابت ہوئی تو مناسب کارروائی کریں گے۔

  • مریم نواز کا داماد، بہنوئی اوربیٹا بھی آف شورکمپنیاں بنانےکےماہرنکلے:مریم نےصرف بیٹے کی تردید کردی

    مریم نواز کا داماد، بہنوئی اوربیٹا بھی آف شورکمپنیاں بنانےکےماہرنکلے:مریم نےصرف بیٹے کی تردید کردی

    لاہور:مریم نواز کا داماد، بہنوئی اوربیٹا بھی آف شورکمپنیاں بنانےکےماہرنکلے:مریم نےصرف بیٹے کی تردید کردی،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کی نائب صدرمریم نواز کے بہنوئی ، نوازشریف کےداماد علی ڈار اورمریم کے بیٹے جنید صفدر بھی آف شورکمپنیاں بنانے کے ماہر نکلے

     

     

    اس حوالے سے پہلے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ علی ڈار جو نواز شریف کے داماد ہیں کے نام آف شور کمپنی کے بعد اب نئ اطلاعات یہ ہیں کہ مریم نوز کے بیٹے جنید صفدر کے نام پر بھی پانچ آف شور کمپنیاں ہیں ، اس خاندان کو کتنا پیسہ چاہئے

     

    https://twitter.com/FawadPTIUpdates/status/1444727705941970948

    آگے چل کرفواد چوہدری کہتےہیں کہ آج پھر یہ ثابت ہوا ہے کہ زرداری اور نواز شریف کی کرپشن ان لمٹیڈ ہے۔ جب بھی دنیا میں کوئی بھی سکینڈل آتا ہے تو ان دونوں خاندانوں کے نام اس سے چمکتے ہوئے نکلتے ہیں

     

     

    دوسری طرف اس حوالے سے مریم نواز نے اپنے داماد اور بہنوئی کی آف شور کمپنیوں کے ماہر ہونے کی تردید تو نہ کی مگراپنے بیٹے کی کپنیوں کی تردید کرتے ہوئے اے آر وائی کودھمکی بھی دے دی ہے

  • ملک ایک قدم آگے ،سو قدم پیچھے کےمذاق پر چل رہا ہے ،سراج الحق

    ملک ایک قدم آگے ،سو قدم پیچھے کےمذاق پر چل رہا ہے ،سراج الحق

    مردان :ملک ایک قدم آگے ،سو قدم پیچھے کےمذاق پر چل رہا ہے ،اطلاعات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہےکہ یکساں احتساب ہوتا تو قوم بین الاقوامی سطح پر بار بار شرمندہ نہ ہوتی

    سراج الحق نے کہا کہ تین سال میں ملک بحرانوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ،معاشی اور خارجہ پالیسی کے بحران نے پاکستان کو مزید کمزور کر دیا ہے ،

    سراج الحق نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور میڈیا حملوں کی زد میں ہیں جبکہ قومی اسمبلی کا مسلسل کورم پورا نہ ہونا حکومت کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے

    سراج الحق نے کہا کہ چوتھے سال میں بھی حکومتی دعوے اور اعلانات میں کوئی صداقت نظر نہیں آئی ۔وزیر اعظم نے سب سے پہلا یوٹرن احتساب کے نعرے سے لیا

    سراج الحق نے کہا کہ جن کا احتساب ہونا چائیے تھا وہی مافیا ملک پر قابض ہو گیا ،سراج الحق نے کہا کہ پاناما لیکس میں شامل 436 افراد میں اکثریت پی ٹی آئی کی حکومت میں شامل ہیں