Baaghi TV

Author: +9251

  • وزیراعظم عمران خان کی کوششیں رنگ لے آئیں:کالعدم ٹی ٹی پی نے 20 سال بعد بالآخرفائربندی کا اعلان کردیا

    وزیراعظم عمران خان کی کوششیں رنگ لے آئیں:کالعدم ٹی ٹی پی نے 20 سال بعد بالآخرفائربندی کا اعلان کردیا

    لاہور:وزیراعظم عمران خان کی کوششیں رنگ لے آئیں:کالعدم ٹی ٹی پی نے 20 سال بعد بالآخرفائربندی کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق ایک طرف وزیراعظم عمران خان کی پاکستان کوامن کا گہوارہ بنانے کی مخلصانہ کوششیں جاری تھیں تودوسری طرف اللہ نے اس خلوص کا پھل دے دیا اورقوم کو20 سال بعد خوشخبری مل گئی

    ذرائع کےمطابق پاکستان کے اندردہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والی کالعدم ٹی ٹی پی نے آج وزیراعظم عمران خان کواپنا وزیراعظم تسلیم کرتے ہوئے ان کی امن کی خواہش کا احترام کیا ہے اوریہ اعلان کیا ہے کہ وہ آج کے بعد پاکستان کے خلاف کسی قسم کی مسلح کارروائی نہیں کریں گے

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ اعلان وزیراعظم عمران خان کی جدوجہد کے نتیجے میں سامنےآیا ہے،

     

     

    ادھر اس حوالے سے باغی ٹی وی ذرائع کو ملنے والی اطلاعات کےمطابق ابتدائی طورپریہ فائربندی 20 دن کےلیے ہے لیکن امکان یہی ظاہر کیا جارہاہےکہ جس طرح وزیراعظم پاکستان کی مخلصانہ کوششیں جاری ہیں امید کی جاسکتی ہےکہ یہ فائربندی ہمیشہ کے لیے ہوجائے گی جس کا لامحالہ فائدہ ، سکون اہل پاکستان کوہوگا

    بڑی تیزی سے اس حوالے سے ڈویلوپمنٹ ہورہی ہے اوریہ بھی اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم کی ان کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کو بہت جلد اور بھی خوشخبریاں بھی ملنے والی ہیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ بہت جلد بلوچستان سے بھی اچھی خبرین آنا شروع ہوجائیں گی

  • گاڑی کی بجائے موت دینے والے ایم جی موٹرز کے مینجرگرفتار

    گاڑی کی بجائے موت دینے والے ایم جی موٹرز کے مینجرگرفتار

    لاہور:گاڑی کی بجائے موت دینے والا ایم جی موٹرز کے مینجرگرفتار،اطلاعات کےمطابق حبس بے جا میں کسٹمر کی موت کے الزام میں ایم جی موٹرز کے مینجر کو دو محافظوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق مقامی اخبار ’’روزنامہ خبریں‘‘ نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر معاملہ اٹھنے کے بعد قانون حرکت میں آیا اور ایم جی موٹرز کے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کیا جنہوں نے مبینہ طور پر ایک شہری کو حبس بے جا میں رکھا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔

    اخبار کے مطابق ایف آئی آر صوبائی دارالحکومت کے تھانہ فیکٹری ایریا میں مرنے والے شخص کے ڈرائیور کی مدعیت میں درج کی گئی جو اس وقت اپنے مالک کے ہمراہ اور واقعے کا عینی شاہد تھا۔

    شکایت کنندہ نے بتایا کہ اس کے مالک مسٹر گوندل نے ایم جی موٹرز لاہور کے ساتھ اس سال فروری میں گاڑی بک کروائی تھی اور کمپنی کی جانب سے گاڑی آنے کا بتانے کےبعد ان سے ملنے گیا تھا۔

    مدعی مقدمہ کے مطابق کمپنی کے دفتر پہنچنے پرکمپنی نے گاڑی فراہم نہ کی جس پر فریقین کے مابین بحث ہوئی جو بعد میں جھگڑے میں تبدیل ہوئی جس کے بعد اس مرحوم گوندل دفتر سے باہر نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے مگر ایم جی موٹرز کے مینجر زبیر احمد نے سکیورٹی گارڈز کے ساتھ مل کر گاڑی کو جانے نہیں دیا اور انہیں حبس بے جا میں رکھا ،

    اسی دوران گوندل صاحب کی طبعیت خراب ہو گئی اور وہ بیہوش ہو گئے مگر اس کے باوجود منیجر اور گارڈز نے گاڑی کو جانے نہیں دیا، بعد ازاں گوندل صاحب کو بے ہوشی کی حالت میں اتفاق ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے مردہ قرار دیا ۔

    واضح رہے کہ ایم جی حکام کی جانب سے موقف میں کہا گیا کہ مرحوم اپنی گاڑی کی ترسیل میں تھوڑی تاخیر کے بارے میں سن کر آپے سےباہر ہو گئے تھے اور پیکیجیز مال میں ایم جی شوروم کے منیجر کو دوبار تھپڑا مارا ، وہ ایم جی موٹرز کے منیجر کو مارنے کے بعد فرار ہو رہے تھے جب پیکیجز مال کی سکیورٹی نے انہیں روکا ، مگر ڈرائیور کی جانب سے صحت خراب ہونے کا بتانے پر انہیں جانے دیا گیا ۔

    آٹوموبائل حکام نے مزید کہا کہ مرحوم کو ریسکیو 1122 ایمبولینس کے ذریعے اتفاق ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی موت کسی جسمانی تشدد کے باعث نہیں بلکہ قدرتی وجوہات سے ہوئی ہے ۔

     

     https://خان صاحب کتنے مافیےمارو گےہرگھر سے مافیا نکلےگا:ایم جی گاڑی کا بیوپاری :موت کی خریداری

    یاد رہےکہ اس حوالے سے باغی ٹی وی نے بھی آوازاٹھائی تھی اوراس واقعہ کو اعلی حکام اوروزیراعظم تک پہنچایا تھا

  • خود ساختہ دانش وری .تحریر: فروا نذیر

    خود ساختہ دانش وری .تحریر: فروا نذیر

    پاکستان میں آج کل ایک سوچ پروان چڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل افراتفری کا شکار ہو رہی ہے اور اس سوچ کی وجہ سے نظریہ پاکستان اور پاکستانیت شدید مجروح ہو رہے ہیں۔
    یہ سوچ خود ساختہ دانش وری کی سوچ ہے۔ آج کل ایک ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ جو شخص جتنا باغیانہ سوچ رکھتا ہو گا وہ اتنا ہی بڑا عقل مند اور دانش ور ہو گا۔ نوجوان نسل شہرت اور ہیروپنتی کے چکر میں اینٹی سٹیٹ کارروائیوں میں بڑے شوق سے شامل ہو کر سوشل میڈیا پر ملک و قوم کی بے حرمتی کرتے نظر آتے ہیں۔
    اسی سوچ کی وجہ سے لسانیت اور صوبائیت کو ہوا دی جا رہی ہے اور معصوم عوام کے ذہنوں میں انتشار، اختلاف اور علیحدگی کی گھٹیا سوچ کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کے مخلوط صوبائی حسن میں ہے۔ جس طرح کسی گلدستے میں ایک ہی رنگ کے پھولوں کی نسبت مختلف رنگ کے پھول زیادہ خوبصورت لگتے ہیں ایسے ہی پاکستان میں بھی مختلف ثقافتوں کا امتزاج انتہائی دلکش اور حسین لگتا ہے۔ پاکستان اپنی خوبصورتی اور مہمان نوازی کی وجہ سے عالمی سیاحت کا پسندیدہ ترین ملک بن چکا ہے۔
    اس باغیانہ سوچ کی بیشتر وجوہات ہیں۔ بیسویں صدی میں دنیا میں لاتعداد سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جن میں انقلابِ روس اور چی گویرا کی جدوجہد سرِفہرست ہے۔ ہماری موجودہ نسل ان سے مختلف سیاسی اور سماجی صورتحال میں رہتے ہوئے انقلابی اور چے گویرا بننے کے چکروں میں اپنی اصلیت بھی کھوتی جا رہی ہے۔ نصف صدی قبل سوویت یونین نے پاکستانی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے افکار کی تشہیر کے لئے خاطر خواہ انویسٹمنٹ کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو نظام خود سوویت یونین میں ناکام ہوا یہاں کے دیسی انقلابی اسی نظام کو پاکستان میں لاگو کرنے کی جدوجہد میں پڑ گئے۔ اس دور کے طالب علم آج کل مختلف اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہو چکے ہیں اور اکثر ریٹائر بھی ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کی لگائی پود آج بھی پل بڑھ رہی ہے۔ جو لوگ محکمہ تعلیم میں آئے انہوں نے اپنے طالب علموں کے درمیان اپنے خیالات خوب پھیلائے اور نتیجتاً انہیں بھی اپنا ہم خیال بنا لیا۔ اسی طرح ہر محکمے میں اس سوچ کے کچھ نہ کچھ لوگ موجود ہیں جو خود ساختہ سرخ انقلاب کا لولی پاپ لئے اپنی ہی جد و جہد میں مگن ہیں۔

    یہ لوگ ہر اس قدم کو سراہتے پیں جو ریاستِ پاکستان کی اساس، بنیاد، نظام اور نظریئے کے خلاف ہو۔ یہ لوگ کبھی بھی ملکی یا بین الاقوامی سطح پر ریاست کے کسی بھی بیانئے کو قبول یا پروموٹ نہیں کرتے۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے مخالفت کرتے ہیں۔
    آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر ملکی و اسلامی اقدار کی دھجیاں بکھیری جاتی پیں۔ کبھی یہ لوگ عورت مارچ کے نام پر سڑکوں پر آتے ہیں تو کبھی ان کو اساتذہ کے ڈریس کوڈ پر اعتراض ہوتا ہے۔ کبھی ان کو امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے پر اعتراض ہوتا ہے تو کبھی ABSOLUTELY NOT پر۔ کبھی یہ لوگ ایک فرضی تصویر کو افغان سفیر کی بیٹی بنا کر اغوا کے ڈراپ سین کا واویلا کرتے ہیں تو کبھی حقائق سامنے آنے پر چوہے کی طرح اپنی اپنی بلوں میں گھس جاتے ہیں۔
    یہ لوگ جیسے چاہتے ہیں ویسے رہتے ہیں وہی پہنتے ہیں اور بولتے ہیں لیکن پھر بھی ہر وقت یہ لوگ پاکستان پر طرح طرح کی تہمتیں اور الزامات لگانے کے درپے رہتے ہیں۔
    یورپ میں تیزاب گردی کے سینکڑوں واقعات ہوتے ہیں لیکن کسی کو کوئی خبر نہیں جبکہ پاکستان میں رونما ہونے والے اکا دکا واقعات پر بھی فلمیں بن جاتی ہیں اور آسکر مل جاتے ہیں۔
    ان لوگوں کا سب سے بڑا سپورٹر مغربی ایجنڈا ہے۔ مختلف این جی اوز اور آرگنائزیشنز کے ذریعے ان لوگوں کو فنڈنگ دی جاتی ہے۔ اور ان کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاتا ہے۔
    حکومتِ پاکستان نے نظریہ پاکستان اور پاکستانیت کو فروغ دینے کے لئے یکساں نصابی نظام لاگو کیا تو سب سے زیادہ تکلیف بھی اسی طبقے کو ہوئی۔ کیونکہ یکساں نصابی نظام سے پاکستان میں موجود من گھڑت سوچ کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور نئی نسل کو پاکستانیت کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس باغیانہ سوچ کا خاتمہ ہو جائے گا۔
    حالانکہ پوری دنیا میں ہر کہیں نصاب حکومت خود ہی سیٹ کرتی ہے۔ حتیٰ کہ کوریا جیسے ملک میں تو ہیئر کٹ بھی حکومت کی طرف سے منظور شدہ سٹائل سے ہٹ کر نہیں ہو سکتی۔ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور حکومتِ پاکستان ملکی مفاد کا ہر قسم کا فیصلہ کرنے کی مجاذ ہے۔
    تمام نوجوان نسل سے میری گزارش ہے کہ کسی بھی باغیانہ سوچ کا شکار ہوئے بغیر ہم سب کو اپنے ملک اور قوم کے وقار کو مدِ نظر رکھ کر صرف اور صرف ملکی مفاد کا تحفظ کرنا ہو گا۔ تاکہ ہمارا وطن بھی ترقی کرے اور پھلے پھولے۔
    خدائے ذوالجلال  پاکستان کا حامی و مددگار ہو
    پاکستان زندہ باد

  • امریکہ کو بھی جلد یا بدیر طالبان حکومت کوتسلیم کرنا ہوگا،عمران خان

    امریکہ کو بھی جلد یا بدیر طالبان حکومت کوتسلیم کرنا ہوگا،عمران خان

    اسلام آباد:دعا اورتمنّا یہی ہے کہ میرے وطن میں امن لوٹ آئے: اسی لیےکالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کررہے ہیں:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان ہے کہ ہماری حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت ہورہے ہیں۔ اگر وہ ہتھیارڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان مسئلہ پر ہمیشہ ایک ہی موقف رہا کہ طاقت مسئلے کا حل نہیں ،حکومت کالعدم ٹی ٹی پی میں کے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہے،کالعدم ٹی ٹی پی اگر وہ ہتھیارڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے، کالعدم ٹی ٹی پی سے بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے ہم امن کیلئے بات چیت پریقین رکھتےہیں، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحدراستہ ہے ،طالبان حکومت کوتسلیم کرنے سے متعلق ہمسایہ ممالک سے بات چیت جاری ہے،پشتون روایت میں انتقام عام بات ہے ،کوئی ان کے گھرمیں گھس کر مارے تو وہ ردعمل تودیں گے ،افغانستان میں پشتون بڑی تعداد میں آباد ہیں،امریکہ کو بھی جلد یا بدیر طالبان حکومت کوتسلیم کرنا ہوگا ،افغانستان کوغیر ملکی امداد نہ ملی تو حکومت گرجائے گی اور افراتفری پیدا ہوگی پاکستان اورافغانستان کی تاریخ کاقریبی تعلق ہے میں عراق،افغانستان اورحتیٰ کہ اپنے ملک میں طاقت کے استعمال کا مخالف رہا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی جانوں کی قربانیاں دیں مگر تسلیم نہیں کیا گیا ہماری قربانیوں کو نظر انداز کرکے الزام تراشی کی گئی افغانستان میں تربیت یافتہ فورسزکا ہتھیارڈالنے کا ذمہ دار کون ؟دنیا کے بعض ممالک کا پاکستان کے ساتھ رویہ دہرے معیار کا ہے ،افغانستان میں ازبک،تاجک اور ہزار رہتے ہیں ،طالبان کوازبک ،تاجک اورہزارہ کوحکومت میں شامل کرنے کی تجویز دی پاکستان طالبان حکومت کی پشت پناہی نہیں کررہا نہ ہی افغانستان کوکنٹرول کیا جا سکتا ہے،لوگ افغانوں کی فطرت کونہیں سمجھ سکتے ،وہ زیرتسلط رہنے والے نہیں ہم انسانی بنیادوں پرافغانوں کی مدد کے خواہاں ہیں پاکستان امریکہ کےساتھ رابطے میں ہے،دہشتگردی کے خلاف ڈرون حملہ بدترین طریقہ ہے، ڈرون حملوں میں بڑی تعداد میں بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں،امریکی صدر جوبائیڈن اس وقت بہت دباو میں ہیں ،بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات کررہے ہیں حیرت ہے کہ اگر امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں تو امریکہ مخالف سمجھا جاتا ہے،طالبان نے افغانستان کا کنٹرول حاصل کیاتھا تو امریکہ کو دھچکہ لگا امریکی صدر جوبائیڈن پر ائیرپورٹ واقعے پر بہت تنقید ہوئی اورہورہی ہے،افغانستان کی صورتحال پر جوبائیڈن کو تنقیدکا نشانہ بنانا ناانصافی ہے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ 2014میں سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا حالیہ دنوں میں دہشت گردوں کےحملے بڑھنے پر تشویش ہے،اب بھیکہتا ہوں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اوردنیا کو افغانوں کی مددکرنی چاہیے،افغانستان میں امریکہ کے خلاف نفرت پیدا ہوئی کیونکہ وہاں کے لوگوں کو نقصان پہچا،مسئلہ کشمیر دنیا کے ہر فورم پراجاگر کررہے ہیں چین اور پاکستان اچھے دوست ممالک ہیں،چینی صدر کے اپنی قوم کے لیے جدوجہد تاریخی ہے،چینی صدر نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا اور میں نے بھی جانا تھا لیکن کورونا کی وجہ سے ممکن نہ ہوا ،چینی صدر کا اپنی قوم کے لیے جدوجہد تاریخی ہے،

    یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو مشروط معافی دیے جانے کے بیان دیا تھا۔ ترک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے انٹرویو کے دوران کہا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے تاہم بات چیت کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔ میرے خیال میں کچھ طالبان گروپ حکومت سے مفاہمت اور امن کی خاطر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایسے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہیں۔

    انٹرویو کے دوران سوال کیا کہ بات چیت ہتھیار ڈالنے پر ہو رہی ہے جس پر جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ مفاہمتی عمل کے بارے میں ہے۔ ہتھیار ڈالنے کی صورت میں انہیں معافی دی جا سکتی ہے اور وہ عام شہری بن جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ میں معاملات کے عسکری حل کے حق میں نہیں ہوں اور کسی قسم کے معاہدے کے لیے پرامید ہوں تاہم ممکن ہے کہ طالبان سے بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہو لیکن ہم بات کر رہے ہیں۔انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کیا افغان طالبان پاکستان کی مدد کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس لحاظ سے مدد ہو رہی ہے کہ یہ بات چیت افغان سرزمین پر ہو رہی ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایک جانب ان کی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بات چیت کر رہی ہے تو تنظیم حملے کیوں کر رہی ہے تو عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ حملوں کی ایک لہر تھی۔

    اس سے قبل سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لوگ دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے کا وعدہ کریں اور آئین پاکستان کو تسلیم کریں تو حکومت اراکین کو معاف کرنے کیلئے تیار ہو سکتی ہے۔

  • وہاڑی:دسویں جماعت کا طالب علم کورونا ویکسین لگوانے کے بعد جانبحق:سی او اہیلتھ نے انکوائری کا حکم دے دیا

    وہاڑی:دسویں جماعت کا طالب علم کورونا ویکسین لگوانے کے بعد جانبحق:سی او اہیلتھ نے انکوائری کا حکم دے دیا

    وہاڑی:دسویں جماعت کا طالب علم کورونا ویکسین لگوانے کے بعد جانبحق:سی او اہیلتھ نے انکوائری کا حکم دے دیا ،اطلاعات کے مطابق وہاڑی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے کہ جس نے کورونا ویکسین کے بارے میں شکوک وشبہات پھیلانے والوں کے شک کواور بھی مضبوط کردیا ہے

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ایک سکول کے دسویں کلاس کے طالب علم کوفائزر کی کورونا ویکسین لگانے کے بعد پیش آیا جب بچہ دو دن قبل ویکسین لگوانے کے بعد آج وفات پاگیا

     

     

    وہاڑی سے ذرائع کے مطابق اسلامیہ ہائی سکول میں دسویں جماعت کے 16 سالہ طالب محمد مدثر کو 2 روز قبل سکول میں کرونا ویکسین لگائی گئی تھی،

    لواحقین کا کہنا ہےکہ طالب علم سکول کا کام کرتے ہوئے اچانک نیچے گرا اور موت واقع ہو گئی، لواحقین کے مطابق جانبحق ہونے والا طالبِ علم پیرمراد کالونی ملتان روڈ کا رہائشی تھا

    وہاڑی سے ذرائع کے مطابق سی ای او ہیلتھ وہاڑی ڈاکتر انجم اقبال کہتے ہیں کہ سکول میں 70 بچوں کو کرونا ویکسین لگائی گئی تھی،

     

     

    https://twitter.com/MATAHIR_/status/1443913829818245120

    سی ای او ہیلتھ وہاڑی ڈاکٹر انجم اقبال کا کہنا تھا کہ ضلع بھر 30ستمبر کو ایک دن میں 60 ہزار افراد کو کرونا ویکسین لگائی گئی ،جس میں 12سال سےزائد عمر کے 7 ہزار سکول طلباء و طالبات کو بھی کرونا ویکسین لگائی گئی،

    سی ای او ہیلتھ وہاڑی ڈاکٹرانجم اقبال کا کہناتھا کہ کہیں سے بھی ویکسین لگنے کے بعد شکایت موصول نہیں ہوئی ،

    سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر انجم اقبال کہتے ہیں کہ اس حوالے سے محکمہ صحت کی ٹیم بچے کی ہلاکت کی تحقیقات کرکے رپورٹ کرے گی ۔

  • سرکاری ملازمین کو مفت بجلی نہیں ملے گی:حکومت کا فیصلہ:کیا عمل درآمد ہوگا؟بحث شروع

    سرکاری ملازمین کو مفت بجلی نہیں ملے گی:حکومت کا فیصلہ:کیا عمل درآمد ہوگا؟بحث شروع

    اسلام آباد:سرکاری ملازمین کو مفت بجلی نہیں ملے گی:حکومت کا فیصلہ:کیا عمل درآمد ہوگا؟بحث شروع ،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے لیسکو سمیت تمام کمپنیوں کے افسران و ملازمین سے مفت بجلی کی سہولت واپس لینے کا فیصلہ کر لیا۔

    دوسری طرف اس حوالے سے فری یونٹس کی بجائے تنخواہوں میں اضافی ادائیگیوں کی تجاویز دے دی گئیں۔

    وفاقی حکومت کے فیصلے کی روشنی میں پاور سیکٹر کے تمام افسران و ملازمین کو عہدے کے مطابق فری بجلی کی سپلائی دی جا رہی ہے۔ جس میں گریڈ 1 سے لیکر 21 تک کے افسران و ملازمین فری بجلی کی سپلائی سے مستفید ہو رہے ہیں تاہم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے کمپنیوں کے سربراہان کی جانب سے فری یونٹس ختم کرنے کی تجاویز پر فیصلہ کیا گیا ہے،۔

    فری یونٹس کی بجائے تنخواہوں میں اضافی ادائیگی کرنے کی تجاویز دے دی گئیں، واضح رہے کہ لیسکو سمیت تمام تقسیم کار کمپنیوں میں ملازمین کو فری یونٹس سپلائی دی جاتی ہے، ملازمین کو ہر ماہ ایک سو پچاس سے لیکر 2 ہزار یونٹس تک مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔

    دوسری طرف عوام الناس کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ خام خیالی ہے یہ کیسے ممکن ہےجو واپڈا اہلکار ببانگ دہل بجلی چوری کرتے ہیں اور ہراہلکار درجنوں گھروں کوبجلی بائی پاس کرکے دیتے ہیں وہ کیسے حکومتی داو میں آئیں گے

  • بیوروکریٹس بھی شریف فمیلی کے فالوورز نکلے

    بیوروکریٹس بھی شریف فمیلی کے فالوورز نکلے

    لاہور: بیوروکریٹس بھی شریف فمیلی کے فالوورز نکلے ،اطلاعات کے مطابق قوم پہلے شریف فیملی کی لوٹ مار کی سزا جھیل رہی ہے اوراب ایک نئی کہانی سامنے آگئی ہے جواور بھی خطرناک ہے ، اطلاعات ہیں کہ بیوروکریٹس بھی شریف فیملی کی ان حرکات کے دلدادہ ہیں اوریہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے بیوروکریٹس بھی اس بہتی گنگا میں نہارہے ہیں ،

    ادھرلاہور سے ذرائع کے مطابق ایک ایسے ہی بااثر بیوروکریٹ طاہر خورشید ایک مرتبہ پھر نیب کے ریڈار پر آگئے۔

    طاقت ور بیورو کریٹ طاہر خورشید کیخلاف نیب کا گھیراتنگ کرنے کی تیاریاں مکمل، سابق پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیر اعلیٰ پنجاب طاہر خورشید المعروف ٹی کے کو 11 اکتوبر کو نیب طلبی کا پروانہ جاری کر دیا گیا، نیب کے حکم نامہ طلبی کے مطابق طاہر خورشید کو اثاثہ جات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کاکہا گیا ۔

    طاہر خورشید کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمپلینٹ سیل نیب لاہور عثمان مجید کے روبرو پیش ہونے کا نوٹس دیا گیا، طاہر خورشید کی رہائش گاہ ہاؤس نمبر 429 اسٹریٹ 7 بلاک اے ڈی ایچ اے لاہور اور پیپلز کالونی فیصل آباد کے ایڈریس پر کال اپ نوٹس بھیجا گیا۔

    واضح رہےکہ طاہر خورشید 10 اگست 2021 کو بھی نیب لاہور میں آمدن سے زاید اثاثہ جات کیس میں پیش ہوچکے ہیں۔

  • وَش ہے یا وائرس، تحریر:محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    وَش ہے یا وائرس، تحریر:محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے شاعر رشید حسرت کا شعر ہے کہ
    ؎ خدا کا خوف نہیں وائرس کا تھا خدشہ
    جسے بھی موقع ملا ہے وہ چین چھوڑ گیا
    مندرجہ بالا شعر میں وائرس پر نظر ٹک جاتی ہے۔وائرس کا لفظ لاطینی زبان سے انگریزی زبان میں پھر ادھر سے دیگر الفاظ کی طرح غیرمحسوس انداز سے اردو میں داخل ہوا۔ لاطینی زبان میں بھی یہ لفظ یونانی زبان سے آیا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ یونانی لفظ ”یوس“کی تبدیل شدہ شکل وائرس ہے۔لاطینی زبان کے لفظ ”Virus“کا ماخذ ”Weis“ہے۔ لاطینی زبان کے لفظ Virulentusکو پہلی بار انگریزی میں 1398ء کے قریب Virusمیں ترجمہ کرکے استعمال کیا اور پھر 1798ء میں ان ذرائع کا نام وائرس رکھ دیا گیا جو بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔سائنسی نقطہ نظر سے بات کروں تو 1880ء میں اسے استعمال کیا گیا اور کمپیوٹر کی دنیا میں یہ لفظ 1972ء میں داخل ہوا۔ گھریلوانسائیکلوپیڈیا میں وائرس کے متعلق لکھا ہے ”متعدی امراض کا سبب بننے والا زہر یا جراثیم سے بھی نہایت چھوٹا کوئی عنصر جو عام خوردبین سے نظر نہیں آتا“وائرس کو ہم زہریلا مادہ، متعدی امراض کا زہراور بَس وغیرہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ایک اور کتاب ”اپنے لوگ“ میں وائرس کے متعلق لکھا ہے ”اب کوئی فائدہ نہیں، محبت کا وائرس فاصلوں کی پروا نہیں کرتا“۔ خالد مبین کہتے ہیں
    ؎ محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی
    ہمارے درمیاں یہ فاصلے کیسے نکل آے

    سنسکرت میں یہ لفظ ”وش“ کی شکل میں دیکھ کر گمان گزرا کہ یہ لفظ ہو نہ ہو ادھر سے ہی اُدھر تک پہنچا ہو۔ پھر جب اس متعلق چیمبرز ڈکشنری کا ایک حوالہ ملا تو گمان کو یقین کی قوت میسر آئی۔ یاد رہے کہ یہ انگریزی کا Wishنہیں ہے بلکہ سنسکرت کا ”وش“ ہے جس سے وش کنیا کی طرف دھیان جاسکتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ ایسی حسینہ جسے زہر پلاکر تیار کیا گیا ہو اور قدیم روایات کے مطابق اس سے لوگوں کو مروایا جاتا ہے۔ وِش ناشک لفظ پہلی بارمیری نظروں سے گزرا ہے جب اسے لغت میں دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس سے مراد تریاق ہوتاہے۔آگ کا دریا کتاب میں لکھا ہے”آہا پنڈت جی کٹوٹا کا وش ناشک میرے پاس بھی نہیں، کمال نے ہنس کر جواب دیا“۔ وش اگرچہ اردو میں بھی مستعمل رہا ہے لیکن اس کا ایک مترادف لفظ بِس بھی اردو میں پڑھا اور لکھا جاتا ہے جسے ہم دیوان حالی میں دیکھ سکتے ہیں۔
    ؎ کی نصیحت بری طرح ناصح
    اوراک بِس ملادیابِس میں
    اگر وِش کو وَش کردیا جاے تو فارسی کا لفظ بن جاے گا جس کا مطلب ہو مانند، نظیر اور خوب، وَش کے متعلق امجد اسلام امجد صاحب نے کیا خوب کہا ہے
    ؎ ہو چمن کے پھولوں کا یاکسی پری وش کا
    حسن کے سنورنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
    اب دوبارہ سے لفظ وائرس پر چلیے۔ اس سے مراد شروع میں زہر تھا جو بعد میں مہلک کے معنوں میں بھی آگیا۔ انگریزی زبان میں سیاسی جھگڑوں کو بیان کرنے کے لیے Virulent اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ وائرس پر کیا کچھ بیتا اور اس پر کیسے کیسے تجربات ہوے اور کس قدر درجہ بندیاں ہوئیں اور کیسے یہ لفظ سائنس کا حصہ بن گیا۔ یہ ایک الگ کہانی ہے کہ اس تک پہنچنا میرے لیے قدرے مشکل کام ہے۔ سرفراز شاہد کیا خوب کہتے ہیں کہ
    ؎ہے مبتلاے عشق بتاں میرا ڈاکٹر
    جو مجھ میں وائرس ہے وہی چارہ گر میں ہے

  • عالمی فٹبالر میسی بال بال بچ گئے

    عالمی فٹبالر میسی بال بال بچ گئے

    پیرس:فرانس کے ہوٹل میں چوری، فٹبالر میسی بال بال بچ گئے ،اطلاعات کے مطابق پیرس میں چور فائیو اسٹار ہوٹل میں گھس گئے، تین کمروں سے اشیاء لوٹ کر لے گئے تاہم ہوٹل میں ٹہرے ہوئے ارجنٹائن کے اسٹار فٹبالر لیونل میسی واردات سے بال بال بچ گئے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ ہوٹل فرانس کے فٹبال کلب "پیرس سینٹ جرمین” سے گاڑی کے ذریعے 15 منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔ میسی اپنی بیگم اور تین بیٹوں کے ساتھ ہوٹل میں مقیم ہیں۔

     

     

    تاہم یہ خبر پہلے برطانوی اخبار "دی سن” میں شائع ہوئی تھی۔ چور ہوٹل کی چھت سے براہ راست بالکونی میں اترے اور پھر کم از کم 3 کمروں میں گھس کر وہاں سے حجم میں چھوٹی اور مالیت میں بڑی اشیاء پر ہاتھ صاف کیا۔

    دوسری طرف فرانس کے سرکاری ذرائع کے مطابق اس وقت فرانس میں چوربازاری اورلوٹ مارعروج پرہےپیرس جیسے بڑے شہر میں‌ بھی روزانہ ڈکیتی ، قتل اورچوربازاری کے درجنوں واقعات رپورٹ ہورہے ہیں

    ادھرغیرجانبدارحلقوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ فرانس میں امن وامان کی صورت حال مخدوش ہوتی جارہی ہے اوراب توسیکورٹی کے ذمہ داراداروں کے اہلکار بھی لٹ رہے ہیں اورجس کی وجہ سے ہرطرف خوف کی فضا ہے

  • پاکستان کےخلاف ڈالرپراکسی شروع:پاکستانی روپے   کمزورتراورڈالرطاقتورترین ہوجائےگا؟،فچ کی پیشگوئی

    پاکستان کےخلاف ڈالرپراکسی شروع:پاکستانی روپے کمزورتراورڈالرطاقتورترین ہوجائےگا؟،فچ کی پیشگوئی

    اسلام آباد :ڈالرپراکسی کے ذریعے پاکستان پروار:اگلے سال کتنے پاکستانی روپے کمزورتراورڈالرطاقتورترین ہوجائے گا؟، اطلاعات کے مطابق ريٹنگ ايجنسی فچ نے 2022ء میں ڈالر کی قيمت سے متعلق بڑی پيشگوئی کردی۔ بتايا کہ آئندہ سال پاکستانی روپیہ مزید کمزور اور ڈالر 180 روپے تک پہنچ جائے گا۔

    غیر ملکی ریٹنگ ایجنسی فچ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال کے باعث پاکستانی روپے کی قدر گراوٹ کا شکار ہے، آئندہ سال روپیہ مزید کمزور ہوجائے گا۔

    ریٹنگ ایجنسی نے اپنی نئی فارکاسٹ میں کہا ہے کہ 202ء میں ڈالر کی قیمت 180 روپے تک پہنچ جائے گی، فچ نے 2021ء میں ڈالر کے ریٹ 158 روپے تک رہنے کی پیشگوئی کی تھی تاہم رواں سال اوسطاً ڈالر کا نرخ 164 روپے تک رہا۔

    امریکی ریٹنگ ایجنسی نے اس سے قبل پاکستان میں ڈالر 2022ء میں 165 روپے تک رہنے کا اندازہ لگایا تھا، تاہم موجودہ حالات میں اس پر نظر ثانی کے بعد نئی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ بالکل اسی طرح جب ترکی نے امریکہ کوآنکھیں دکھائی تھیں تواس وقت ترکی کی کرنسی لیرا جوکہ بہت مضبوط تھی اورترکی یہ دعوے کررہا تھا کہ اس نے آئی ایم ایف کے سارے قرضے اتاردیئے ہیں اب آنکھیں‌دکھانے کے نتیجے میں ڈالرکے حملوں‌ کی صورت میں معاشی طورپرکمزورملک بن کررہ گیا ہے ، اورلیرا کرنسی روپےکی طرح ہرروز زوال پزیرہورہی ہے

    بالکل اسی طرح اب پاکستان کوامریکہ سے بے وفائی کی سزا مل رہی ہےاورامریکہ آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک، پریس کلب جیسے اداروں کے ذریعے پاکستانی کرنسی کا ریپ کررہا ہے اورڈالروہی رنگ دکھا رہا ہے جو ترکی میں دکھائے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستانی کرنسی اب اپنی گراوٹ کی پست ترین سطح پرآگئی ہے

    واضح رہے کہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 170.66 روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی پہلی بار تاریخ کی بلند ترین سطح 173 روپے کو عبور کرگیا۔

    پاکستان میں ڈالر کے نرخ میں گراوٹ کا سلسلہ مئی میں شروع ہوا، اس دوران تقریباً 5 ماہ میں ڈالر کی قیمت 150.95 روپے سے بڑھ کر 170.66 روپے تک پہنچ چکی ہے۔

    مزید