Baaghi TV

Author: +9251

  • اسلام آباد انتظامیہ ہوجائے تیار، لاہور سے احتجاجی قافلہ اسلام آباد کیلئے روانہ

    اسلام آباد انتظامیہ ہوجائے تیار، لاہور سے احتجاجی قافلہ اسلام آباد کیلئے روانہ

    ایف بی آر مردہ باد کے نام سے اسلام آباد ایف بی آر کے گھیراؤ کیلئے انجمن تاجران کا مارچ.

    پی ٹی آئی کی حکومت کے آنے کے بعد سے ٹیکسز میں بے جا اضافہ کیا جا رہا ہے، حال ہی میں حکومت کی جانب سے ایک نیا ٹیکس لگایا گیا ہے، جس کی پانچ مرلے کی دکان ہے وہ کمپیوٹر رکھے گا، اس کمپیوٹر سے نکلنے والی ہر سلپ پر ایک روپے کٹے گا.

    اس ٹیکس کو ختم کروانے کیلئے انجمن تاجران نعیمی گروپ کی طرف ایف بی آر اسلام آباد کے گھیراؤ کیلئے تمام تاجروں کو بابو سابو کے قریب ایک نجی شادی ہال میں اکٹھا کیا گیا ہے، یہاں سے کافلہ کی شکل میں اسلام آباد کی روانگی اختیار کی جائے گی.

    آل پاکستان انجمن تاجران نعیمی گروپ کے سربراہ نعیم میر کا تاجران کی جانب سے پرجوش استقبال کیا گیا، اب سے کچھ دیر بعد پریس کانفرنس کی جاۓ گی، پریس کانفرنس کے بعد تاجروں کی بڑی تعداد اسلام آباد میں ایف بی آر کے گھیراؤ کیلئے اسلام آباد جانے کیلئے تیار.
    رقبہ کی بنیاد پر سیلز ٹیکس میں جبری رجسٹرڈ نا منظور، نا منظور، نا منظور

    پریس ریلیز (باغی رپورٹر محمد اسامہ) انجمن تاجران نعیمی گروپ کے سربراہ نعیم میر نے کہا کہ آج ہم طے شدہ پروگرام کے مطابق اسلام آباد ایف بی آر کے گھیراؤ کیلئے تاجر برادری اکٹھا ہوگی ہے، پاکستان کے تاجر یک آواز ہو کر یہ کہیں گے ہم آپ کے صدارتی آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں، یہ ڈاکومنٹیشن سیلز ٹیکس ہم نہیں دیں گے، یا قانون کو تبدیل کریں، ہم نے ہر ٹیکس ادا کردیا ہے، ہم اپنے اصولی مؤقف کیلئے اسلام آباد جا رہے ہیں، ہم ایف بی آر کے دروازے اور شیشے توڑنے نہیں جا رہے، ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، تاجروں کیلئے احتجاج کرنا بہت مشکل عمل ہے، اپنی دکان کو چھوڑنا مشکل ہے، ہمیں روکا جائے کہ ہم احتجاج نہ کریں، ہمیں سکھ، چین سے کاروبار کرنے دیا جائے، ہمیں بار بار تنگ نہ کیا جائے، ہم عوام سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر یہ ٹیکس لگایا گیا تو اس کا بوجھ عوام پر پڑے گا، اسلام آباد، راولپنڈی کے تاجر بھی اس کے خلاف نکلیں، ہم اس حکومت سے تنگ ہیں، ہم سے با معنی اور باضابطہ کوئی رابطہ کرے گا تو ہم ان سے بات کرنے کو تیار ہیں، ایف بی آر نے ایسا قانون بنایا ہے کہ اس سے پارلیمنٹ کی آنکھوں میں دھول جھونک دیا ہے، سرینا ہوٹل اسلام آباد سے ایف بی آر مردہ باد کے نام سے ایک ریلی ایف بی آر کی طرف ریلی نکلے گی.

  • بچوں کونافرمان بنانےکا منصوبہ؟بچوں کےبال،کان کھینچنا     جرم ہوگا،سینٹ کی انسانی حقوق کمیٹی میں بل منظور

    بچوں کونافرمان بنانےکا منصوبہ؟بچوں کےبال،کان کھینچنا جرم ہوگا،سینٹ کی انسانی حقوق کمیٹی میں بل منظور

    اسلام آباد:بچوں کونافرمان بنانے کا منصوبہ؟بچوں کے بال،کان کھینچنا جرم ہوگا،سینٹ کی انسانی حقوق کمیٹی میں بل منظوربچوں پرجسمانی سزاؤں کی ممانعت کا بل سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں متفقہ طور منظور کرلیا گیا ہے جس کے مطابق بچوں کےبال،کان کھینچنا یا دھمکانہ بھی جرم ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹٰی نے متفقہ طور پر بل منظور کیا ہے جس کے متن کے مطابق بچوں کوکرنٹ لگانا ، ہاتھ،بیلٹ،سٹک،جوتے،لات اورچمچہ سےمارنا بھی جرم ہوگا۔

    منظور کئے گئے بل کے متن میں کہا گیا کہ 18سال سے کم عمر بچے کو تھپڑ مارنے پر بھی سزا ہو گی جبکہ ممانعت بل کااطلاق سکولز،مدراس،یتیم خانوں ودیگر اداروں پر ہوگا۔

     

     

    بل کے متن میں مزید بتایا گیا کہ وزرات تعلیم ،سکولز جبکہ وفاق المدراس کمیٹیز تشکیل دیں گی، کمیٹی 3ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں ایک خاتون رکن کا ہونا لازم ہوگا جبکہ بل نوٹیفائی کمیٹی 30 روز میں کسی شکایت پر فیصلہ کرےگی۔

    متن کے مطابق سزا یافتہ ملزم کو وفاقی محتسب میں اپیل کا حق حاصل ہوگا، بچوں کو سزا دینے میں ملوث شخص کومعطل،ملازمت سے فارغ یا پھر اس کی تنزلی کی جائےگی۔ جبکہ بچوں پر جسمانی سزامیں ملوث افرادکیخلاف پاکستان پینل کوڈ کے تحت سزابھی ہوگی۔

  • افغان طالبان کا ساتھ دینے پرپاکستان کیخلاف کارروائی کی جائے، امریکی سینیٹ میں بل پیش

    افغان طالبان کا ساتھ دینے پرپاکستان کیخلاف کارروائی کی جائے، امریکی سینیٹ میں بل پیش

    واشنگٹن :افغان طالبان کا ساتھ دینے پرپاکستان کیخلاف کارروائی کی جائے، امریکی سینیٹ میں بل پیش ،اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ میں افغانستان سے متعلق بل پیش کیا گیا جس میں افغآن طالبان کا ساتھ دینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کے خلاف یہ بل امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے سینیٹر جم ریش اوردیگر 20 ساتھیوں کے ساتھ مل کر افغانستان کیلئے انسداد دہشت گردی، نگرانی اور احتساب بل پیش کیا۔

     

     

    ری پبلکن سینٹرز کی طرف سے پیش کیے گئے بل کی دستاویزات کے صفحہ نمبر 25 پر پاکستان کے خلاف زہراگلا گیا ہے، جس کے مطابق ری پبلکن سینیٹرز کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ طالبان کا ساتھ دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور پاکستان سمیت طالبان کو مدد دینے والی ریاستوں اور غیر ریاستی افرادکی نشاندہی کی جائے، کن ممالک نےطالبان کاساتھ دیا یا کسی قسم کی مدد فراہم کی۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”422050″ /]

    بل میں سوال کیا گیا ہے کہ پاکستان سمیت کن ممالک نے طالبان کو سفارتی، معاشی اور سکیورٹی مدد فراہم کی؟ جائزہ لیاجائے کہ سال 2001 سے 2020 تک پاکستانی حکومت نے طالبان کی کیسے مدد کی؟ طالبان کو پناہ گاہیں، ٹریننگ اورمنصوبہ بندی سمیت کیا امداد دی گئی۔

    بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ طالبان کے قبضہ کرنے میں پاکستان سمیت کون ریاستی اور غیر ریاستی کردارشامل تھے۔بل میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے دوحہ معاہدے کی شرائط پوری نہیں کیں جبکہ بل پاس ہونے کی صورت میں 3 ماہ میں افغانستان پر رپورٹ پیش کی جائے گی۔

    امریکی سینیٹرز کے بل میں افغانستان پر خصوصی ٹاسک فورس بنانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ٹاسک فورس کو افغانستان میں رہ جانے والے امریکی شہریوں اور اتحادیوں کے انخلا کا بندوبست کرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔

    بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر طالبان پر پابندیاں لگائی جائیں اور افغانستان میں انسداد دہشت گردی کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔سینیٹرجم ریش کا کہنا ہے کہ طالبان کے طاقت میں آنے سے القاعدہ اور داعش افغانستان میں مضبوط ہوسکتی ہیں۔

  • بے حسی کی بیماری   تحریر : شاہ زیب

    بے حسی کی بیماری تحریر : شاہ زیب

    ایک وقت تھا ہر چیز سانجھی ہوتی تھی۔ کسی محلے کے کسی گھر میں ایک فرد کو تکلیف ہوتی تھی تو سب کو اس کی فکر ہوتی تھی اور اگر کسی کے گھر میں کوئی  مسئلہ ہوتا تو لوگ اپنا مسئلہ سمجھ کر نہ صرف ان لوگوں کو تسلی دیتے تھے بلکہ اس مسئلے کے حل میں مدد بھی کرتے تھے، کسی دوسرے کے گھر کی خوشی کو لوگ اپنی خوشی سمجھتے تھے، اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے گویا تمام لوگ آپس میں اس طرح جڑے ہوئے تھے کہ ام کی خوشیاں اور پریشانیاں بھی مشترکہ ہوتی تھیں۔۔۔

    اس کے برعکس آج کا جدید دور جہاں ساتھ ہمسائے کو ہمسائے کی خبر نہیں۔ کسی ایک گھر میں کھانا ضائع ہو رہا تو ساتھ گھر میں بچے بھوکے سو رہے ہم ماڈرن بننے کے چکروں میں بے حس ہوتے جا رہے (آسان لفظوں میں انسانیت بھول بیٹھے ) پرائیویسی کے نام پر لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    ماڈرن ازم اور پرائویسی کے نام پر بے حس بننے سے معاشرہ انتشار کا شکار ہوا جس سے ہماری روایات دَم توڑ گئیں، وہ خوبصورت روایات جس میں اہل محلہ ہی خاندان تصور ہوتے تھے سب مل جل کر رہتے تھے ہر طرف امن اور پیار محبت کی فضا تھی بدقسمتی سے اب ایسی روایات ڈھونڈنے پر بھی نظر نہیں آتیں اور لوگ ان چکروں میں ایکدوسرے سے دور ہوتے جارہے کسی کو ایک دوسرے کی فکر نہیں سب کو اپنی زات کی فکر ہے،

    یقین کریں آج ہمارے سامنے کوئی انجان شخص حادثے کا شکار ہوجائے تو بجائے اس کی مدد کرنے کے ہم لوگ اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اس کی جان بچانے کی بجائے ہم  لائک کی فکر لاحق ہوتی ہے سامنے والی پریشانیاں ہمارے لیے محض کچھ نہیں ہوتی بلکہ ایک ڈرامہ ہوتا ہے، جسے دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی تشہیر کرنا فرض سمجھتے۔۔!!

    بے حسی اور نفسا نفسی کا یہ عالم دیکھ کر بوڑھے والدین جو ساری عمر محنت مشقت کر کے اس قابل بناتے اب اس دور میں انکو بوجھ سمجھا جانے لگا جس سے بچے جلد از جلد چھٹکارا پانے کے لیے انکو اولڈ ایج ہوم بھیج دیتے۔۔

    ہمارے میڈیا میں دن رات ایسے واقعات اور حالات دکھائے جاتے معاشرتی بے حسی کے واقعات دیکھ کر روح کانپ اٹھتی کہ انسانیت کہا غائب ہو کر رہ گئی

    ہماری مشرقی اقدار اور اسلامی روایات سے دوری کی وجہ سے آج ہم اخلاقی طور پر زوال کا شکار ہیں۔ 

    کسی دوسرے کو تبلیغ کرنے اور سمجھانے سے پہلے ہمیں خود سمجھنے کی ضرورت ہے، ہم ذاتی طور پر ٹھیک ہونگے تو معاشرہ بھی ٹھیک ہوگا۔

    ہم آج اپنی بے حسی ختم کریں گے تو ایک نہ ایک دن یہ معاشرہ جس میں ہم سب رہتے ہیں اس کی بے حسی بھی ختم ہوجائے گی اور لوگ ویسے ہی ایک دوسرے کی دکھ سکھ تکلیفوں کو اپنی سمجھیں گے جس طرح پہلے سمجھتے تھے۔۔شکریہ

    @shahzeb___

  • داتا گنج بخش کے عرس پر مدعو کیے گئے مشائخ کے ساتھ اوقاف اہلکاروں کی بدتمیزی

    داتا گنج بخش کے عرس پر مدعو کیے گئے مشائخ کے ساتھ اوقاف اہلکاروں کی بدتمیزی

    لاہور: داتا گنج بخش کے عرس پر مدعو کیے گئے مشائخ کے ساتھ اوقاف اہلکاروں کی بدتمیزی ،اطلاعات کے مطابق حضرت داتا گنج بخش کے عرس کے موقع پر آئے ہوئے مشائخ عظام سے محکمہ اوقاف کی انتظامیہ کی طرف سے بدتمیزی گئی اور مشائخ کو سٹج پر جانے سے روکا گیا ۔

    ذرائع کے مطابق تمام مشائخ محکمہ اوقاف کی طرف سے جاری کردہ دعوت نامے ان کو بھیجے گئے تھے ۔ جن میں دیوان احمد مسعود چشتی، پیر سید محمد حبےب عرفانی، خواجہ نصرالمحمود ،پیر شمیم صابر صابری، خواجہ غلام قطب الدین فریدی، پیر علی حسین شاہ، پیر سید فرخ شاہ صابری، پیر عاصم سہروردی ، خواجہ محمد اکمل اویسیی اور دیگر شامل تھے ۔

    جس پر مشاءخ نے نشست کا بائیکاٹ کرنا چاہ رہے تھے تو کچھ حضرات مشاءخ کے ساتھ آنے والے فوٹو گرافر کو گیٹ پر موجو د ملازمین نے کمرے میں لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا ۔

    واقعہ کے خلاف خواجہ نصرالمحمود اور پیر شمیم صابر صابری احتجاجاً واپس چلے گئے ۔ باقی مشاءخ نے موقع پر موجود زونل منیجر اوقاف سے احتجاج کیا مگر اس نے کوئی نوٹس نہ لیا ۔ مشاءخ عظام نے محکمہ اوقاف کی انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دیا ۔

  • پاکستان اوربھارت کے درمیان ڈھاکہ میں ٹاکرے کا اعلان ہوگیا

    پاکستان اوربھارت کے درمیان ڈھاکہ میں ٹاکرے کا اعلان ہوگیا

    لاہور”پاکستان اوربھارت کے درمیان ڈھاکہ میں ٹاکرے کا اعلان ہوگیا،اطلاعات کے مطابق بڑے عرصے بعد ایک بار پھرایشین ہاکی فیڈریشن نے ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کی نئی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے۔

    ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کا چھٹا ایڈیشن پہلے نومبر 2020 میں کھیلا جانا تھا مگر کووڈ کی وجہ سے پہلے اس ایڈیشن کو مارچ 2021 پھر اکتوبر2021 اور اس کے بعد دسمبر تک ملتوی کردیا گیا تھا۔

    اب ایک بار پھر اس ایونٹ کی نئی تاریخوں کا اعلان کیا گیا جس کے تحت ایونٹ اب 14 سے 22 دسمبر تک ڈھاکا میں کھیلا جائے گا۔

    ایشین ہاکی فیڈریشن کے مطابق ڈھاکا میں ہونیوالے ایونٹ میں پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، ملائیشیا، جاپان اور کوریا کی ٹیمیں شریک ہوں گی۔اب تک ہونے والے 5 ایڈیشنز میں بھارت اور پاکستان دو دو مرتبہ چیمپئن بنے، 2018 کے ایونٹ کا فائنل بارش کی وجہ سے منسوخ ہوگیا تھا جس کے بعد دونوں کو مشترکہ فاتح قرار دیا گیا تھا۔

    ایشین ہاکی فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری طیب اکرام کاکہنا ہے کہ عالمی وبا کی وجہ سے کھیل کافی متاثر ہوئے ہیں، امید ہیں کہ ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی میں زبردست مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

  • افغان طالبان جس طرح غالب آئےاس کا تصورتک نہ تھا   :افغانستان سے فرارپرساکھ متاثر ہوئی،امریکی جنرل

    افغان طالبان جس طرح غالب آئےاس کا تصورتک نہ تھا :افغانستان سے فرارپرساکھ متاثر ہوئی،امریکی جنرل

    کابل "افغان طالبان جس طرح غالب آئے اس کا تصورتک نہ تھا:افغانستان سے انخلا سے امریکا کی ساکھ متاثر ہوئی،اطلاعات کے مطابق افغانستان میں رسوائی ، پسپائی اورپھرعبرتناک شکست کے بعد پہلی مرتبہ امریکی جرنیلوں کے تاثرات سامنے آئے ہیں ،

    اس حوالے سے امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی کا کہنا ہےکہ افغان طالبان جس طرح برق رفتاری سے غالب آئے اس کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا ،

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کا افغانستان پر اجلاس ہوا، اجلاس میں امریکی وزیر دفاع جنرل آسٹن، سینٹ کام کمانڈر جنرل مکنزی اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی بھی شریک ہوئے۔

    جنرل ملی کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے نے افغان فوج کا مورال کم کیا، طالبان اب بھی دہشت گرد تنظیم ہے،طالبان کے اب بھی القاعدہ کے ساتھ روابط ہیں، افغانستان میں القاعدہ دوبارہ منظم ہوسکتی ہے اور افغان سرزمین امریکا کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔

    جنرل ملی کا کہنا تھا کہ افغان فوج کا اس طرح تحلیل ہونا متوقع نہیں تھا، اشارے تھے کہ امریکی انخلا سے افغان فوج اور حکومت ختم ہوسکتی ہے، لیکن افغان فوج اور حکومت ختم ہونےکی توقع اتنی جلدی نہیں تھی،

    امریکی فوج کے جنرل کا کہنا ہےکہ افغان فوج میں نیت اور قیادت کا فقدان تھا، افغانستان سے انخلا سے امریکی ساکھ متاثر ہوئی، ٹرمپ اوربائیڈن کوخبردار کیا تھا کہ اچانک انخلا سے افغان حکومت گر سکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے کے تحت طے شدہ شرائط میں سے طالبان نے صرف ایک شرط پوری کی جو اتحادی افواج پر حملہ نہ کرنے کی تھی۔

    سینٹ کام کمانڈر جنرل مکنزی کا کہنا تھا کہ میراخیال تھا کہ امریکی فوج افغانستان میں رہنی چاہیے کیونکہ امریکی فوج کے انخلا سے افغان فوج متاثر ہوگی،طالبان کے زیر اثر افغانستان کی طرف سے پاکستان پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، آنے والے دنوں میں پاکستان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

    جزل مکنزی کا کہنا تھا کہ افغانستان تک فضائی اور زمینی رسائی پاکستان کی ذریعے ہوتی رہی، افغانستان تک رسائی سے متعلق پاکستان کے ساتھ بات چیت رہی ہے۔امریکی وزیر دفاع جنرل آسٹن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مزید کسی فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں،

    جنرل آسٹن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہم نے ایک ریاست تو بنالی پر ایک قوم نہ بناسکے،حقیقت یہ ہےکہ ہم نے اور ہمارے اتحادیوں نے جو افغان فوج کو تربیت دی وہ بہت جلد بہہ گئی، متعدد بار ایک گولی چلائے وہ ہتھیار ڈال گئے، ہزاروں افغان فوج اور پولیس کے اہلکار مرگئے لیکن ہم ان میں جیتنے کی خواہش نہیں پیدا کرسکے۔

  • جنوبی وزیرستان میں آپریشن؛ 10 دہشتگرد ہلاک

    جنوبی وزیرستان میں آپریشن؛ 10 دہشتگرد ہلاک

    وزیرستان :جنوبی وزیرستان میں آپریشن؛ 10 دہشتگرد ہلاک،اطلاعات کےمطابق جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں 10 دہشت گرد مارے گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان میں خفیہ ‏اطلاعات پر کارروائی تو فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

    مارے جانے والے دہشتگردوں میں 4 سرکردہ لیڈر بھی شامل ہیں، آپریشن کےدوران ہتھیار،بھاری تعدادمیں گولیاں ‏قبضے میں لےلی گئیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق تمام دہشتگرد دیسی ساختہ بارودی سرنگیں بنانے اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے ‏دہشتگرد جنوبی وزیرستان میں بڑی وارداتیں کرنے کی منصوبہ بندی کررہےتھے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج ہر قیمت پر ملک سےدہشتگردی کےخاتمےکیلئےپر عزم ہے ۔

    ‏31اگست کو جنوبی وزیرستان کے علاقے آسمان منزا میں دیستہ ساختہ بارودی سرنگ کے دھماکے میں سپاہی ‏شہید ہوا تھا۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ دیسی ساختہ بارودی سرنگ کا دھماکا کلیئرنس آپریشن کے دوران ‏ہوا۔

    دوسریطرف آج ایران کے اندر سے پاکستانی سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں اورتازہ واقعہ میں ایران کی سرحد سے دہشتگردوں نے حملہ کر کے پاک فوج کے سپاہی کو شہید کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق دہشتگردوں نے ایرانی علاقے سے فرنٹیئر کور (ایف سی) چوکی پر حملہ کیا، حملہ بلوچستان کے جنرل ایریا چوکب میں کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے چھوٹے ہتھیاروں سے چوکی پر حملہ کیا، فائرنگ سے پاک فوج کا سپاہی مقبول شاہ شہید ہو گیا جبکہ ایک جوان زخمی بھی ہوا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایران کے متعلقہ حکام کو واقعہ کے حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

  • ایران کی سرحدوں سے پاکستان کےخلاف دہشت گردی:دہشتگردوں کا حملہ، پاک فوج کا سپاہی شہید

    ایران کی سرحدوں سے پاکستان کےخلاف دہشت گردی:دہشتگردوں کا حملہ، پاک فوج کا سپاہی شہید

    راولپنڈی: ایران کی سرحدوں سے پاکستان کےخلاف دہشت گردی:دہشتگردوں کا حملہ، پاک فوج کا سپاہی شہید،اطلاعات کے مطابق ایران کے اندر سے پاکستانی سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں اورتازہ واقعہ میں ایران کی سرحد سے دہشتگردوں نے حملہ کر کے پاک فوج کے سپاہی کو شہید کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق دہشتگردوں نے ایرانی علاقے سے فرنٹیئر کور (ایف سی) چوکی پر حملہ کیا، حملہ بلوچستان کے جنرل ایریا چوکب میں کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے چھوٹے ہتھیاروں سے چوکی پر حملہ کیا، فائرنگ سے پاک فوج کا سپاہی مقبول شاہ شہید ہو گیا جبکہ ایک جوان زخمی بھی ہوا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایران کے متعلقہ حکام کو واقعہ کے حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہےکہ چند دن پہلے انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے دیگر قانون نافذ کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر بلوچستان کے ضلع کیچ میں انٹیلی جنس بیس آپریشن کرتے ہوئے 3 ایسے ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جو گزشتہ ماہ گوادر میں ہونے والے خود کش حملے میں ملوث ہیں۔

    ان ملزمان کو ایران کے شہرشیران سے ایک ایرانی دہشت گرد سرغنہ رسول بنگش گوادراورگردونواح کے علاقوں میں دہشت گردی کےلیے استعمال کررہا تھا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چہ بہار کے علاقے شیران میں ایران کے حساس علاقے سے رسول بنگش بڑے عرصے سے بلوچستان میں دہشت گردی کارروائیاں کروا رہا ہے اوریہ ایرانی خفیہ ایجنسیوں کے علم میں لائے بغیرممکن نہیں ہوسکتا

    ادھر کوئٹہ سے سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے تربت کے علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مارا اور شعیب نامی شخص کو گرفتار کیا، بعد ازاں شعیب کی فراہم کردہ معلومات پر سیکیورٹی اداروں نے ایک اور مقام پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، یہاں سے سیکیورٹی اداروں نے متعدد ہتھیار اور دھماکا خیز مواد کے ساتھ دستی بم بھی برآمد کیے۔

  • چھوٹے بچے ،بڑوں کے رہبر   تحریر : راجہ ارشد

    چھوٹے بچے ،بڑوں کے رہبر تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے محلے کی مسجد میں ایک قاری صاحب ہیں جو بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے ہیں یہی امام مسجد بھی ہیں کل نماز مغرب کے بعد ان کے ساتھ بیٹھا تھا یوں ہی گپ شپ ہو رہی تھی امام صاحب اور میں ہم عمر بھی ہیں تو بات بڑی گھول کے کرتے ہیں وہ بتانے لگے کہ ۔

    ایک دن میرے پاس آپ کا پورانا پڑوسی آیا رانا امجد نام تھا میرے اس پڑوسی کا اور آج سے 8 یا 10 سال پہلے ہم دونوں ایک ہی بیلڈنگ میں رہتے تھے ۔ رانا امجد صاحب دوسرے فلور پر تھے اور میں گرونڈ پر تھا بس وہاں ہی سلام دعا ہوئی تھی ان سے ۔اس کے بعد میں نے گھر بدل لیا اور کام کاج کے چکر میں ان سے رابطہ بھی کم ہی ہو گیا۔ ابھی کوئی ایک سال پہلے کی بات ہے کہ ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور اتفاق سے میں اور امام صاحب نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے ہی تھے کہ وہ سامنے آ گئے۔

    امام صاحب سے تعارف بھی میں نے ہی کرویا تھا خیر امام صاحب نے کہا وہ آپ کے پڑوسی نہیں تھے رانا امجد صاحب۔ میں نے فورن جوابن کہا اللہ خیر کرئے امام صاحب کیا ہوا ان کو ؟

    امام صاحب نے کہا ہوا کچھ نہیں بتا رہا ہوں کہ جب آپ نے ان سے ملوایا تھا اس کے ٹھیک دو دن بعد رانا امجد صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے حضور میرے بیٹے نے عجیب و غریب بہکی بہکی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ شاید کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے یا جنات کا سایہ ہے ۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا میں نے کہا۔آپ بچے کو میرے پاس بھیجیں دیکھتے ہیں مسلہ کیا ہے۔

    اگلی صبح وہ لڑکا میرے پاس آ گیا وہ نو عمر لڑکا تھا میں نے انتہائی محبت ، شفقت کے انداز میں بات چیت شروع کی تو وہ لڑکا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ۔پھر اس نے بتایا کہ میں نے ایک ایسے گھر میں آنکھ کھولی اور پرورش پائی ہے جہاں کے رہنے والوں کو دین سے کوئی سروکار نہیں۔ نمازوں کی فکر ہے نہ روزں کی نہ قرآن مجید کی تلاوت نہ دیگر عبادات کی ہمارا گھرانا سر تا پاوں گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے۔میرے والد نے کبھی نماز نہیں پڑھی وہ کبھی کبھار جمعہ کی نماز پڑھ لیتے ہیں بس۔

    میں نے پوچھا پھر آپ نے کیا کہا اس بچے کو امام صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے اپنے والد کے ساتھ احسان کرنے کی تلقین کی اور کہا بیٹا تمارا اپنے والد پر سب سے بڑا احسان یہ ہو گا کہ تم رات کی تنہائیوں میں اپنے اللہ تعالٰی کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنے والد کی ہدایت کے لیے دعا کرو ۔لڑکے نے بہت ذوق و شوق سے میری باتیں سنی اور اس پر عمل کرنے کا کہ کر چلا گیا۔

    میں نے کہا آچھا پھر امام صاحب کیا ہوا وہ لڑکا دوبارہ کبھی وآپس آیا ؟ امام صاحب نے کہا ہاں ابھی کل کی بات ہے وہ لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔استاد محترم جیسے آپ نے بتایا تھا میں نے اسی طرح کیا جب سارے گھر والے خواب غفلت میں پڑے ہوتے میں اٹھ کر وضو کرتا اور نماز تہجد ادا کرتا اللہ کے حضور گڑ گڑا کر اور رو رو کر دعائیں کرتا۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا ۔ ایک دن اتفاق سے میرے والد کہیں سفر پر تھے وہ رات کو تاخیر سے گھر لوٹے تو انہیں دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ میرا بیٹا ایک تاریک کمرے میں اللہ سے دعا کر رہا ہے ابو جان نے قریب آ کر سنا تو میں کہہ رہا تھا۔

    اے میرے رب میرے والد کو ہدایت نصیب فرما ۔اے میرے رب ان کے دل کو دین کے لیے کھول دے اور انہیں اہل جہنم میں سے نہ کرنا۔ یا رب تو ہی ہے جو یہ کر سکتا ہے۔
    ابو جان حیران و پریشان کچھ دیر کھڑے رہے ۔۔۔۔۔۔

    پھر وہ باتھ روم میں گئے اور غسل کیا اور میرے پیچھے نماز پڑھنے لگے انہوں نے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور آئندہ سے پکا نماز پڑھنے کا عہد کر لیا ۔ لڑکے نے بتایا کہ ابو جان نے مجھے گلے لگایا اور شاید اپنے ہی بیٹے کا اس طرح کا ذوق عبادت دیکھ کر حسرت و ندامت سے زار و قطار روتے رہے۔امام صاحب کی بات ختم ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھوں نے بھی برسنے کی تیاری کر لی ہو بس سبحان اللہ منہ سے نکلا اور امام صاحب سے اجازت لے کر گھر کو چکا آیا۔

    قارئین دیکھا کس طرح یہ چھوٹا سا لڑکا اپنے والد اور سارے خاندان کی ہدایت کا باعث بن گیا ۔ اللہ پاک ہم سب کو بھی اپنی ہدایت سے مالامال کر دیں اور سیدھے اور سچے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین ثم امین یا رب العالمین۔
    RajaArshad56