Baaghi TV

Author: +9251

  • افغان فضائی حدود میں امریکی ڈرونز کی پیٹرولنگ پر طالبان نے نرم لہجے میں سخت وارننگ دے دی

    افغان فضائی حدود میں امریکی ڈرونز کی پیٹرولنگ پر طالبان نے نرم لہجے میں سخت وارننگ دے دی

    کابل :افغان فضائی حدود میں امریکی ڈرونز کی پیٹرولنگ پر طالبان نے نرم لہجے میں سخت وارننگ دے دی م،اطلاعات کے مطابق افغانستان کی عبوری حکومت نے امریکا سے افغان فضائی حدود میں ڈرونز کی پیٹرولنگ روکنے کا مطالبہ کردیا۔

    طالبان کے ترجمان و نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عالمی قوانین کے تحت ممالک اپنی ریاستوں کی علاقائی اور فضائی خودمختاری کے واحد مالک ہیں لہٰذا امارت اسلامی افغانستان کی زمین اور فضائی حدود کی سرپرست ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ امریکی ڈرونز افغانستان کی فضائی حدود پر حملہ کر رہے ہیں اور امریکا نے تمام بین الاقوامی قوانین اور امارات اسلامی سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے اس طرح کی خلاف ورزیوں کی اصلاح اور روک تھام ہونی چاہیے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ تمام ممالک بالخصوص امریکا منفی نتائج کو روکنے کیلئے عالمی وعدوں اور قوانین پرعمل کریں۔

    خیال رہے کہ طالبان کے کنٹرول کے بعد 28 اگست کو کابل ائیرپورٹ کے قریب ڈرون حملہ کیا تھا جس میں 7 بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

    پہلے اس حملے میں داعش کی جنگجو کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم بعد میں امریکا نے ڈرون حملے میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا تھا۔

  • قلعہ روہتاس کا تاریخی پس منظر تحریر:فاروا منیر

    قلعہ روہتاس کا تاریخی پس منظر تحریر:فاروا منیر

    قلعہ روہتاس شمال مشرقی پاکستان میں جدید شہر جہلم کے قریب واقع ایک اسٹریٹجک چوکی ہے۔  اسے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری نے معزول مغل شہنشاہ ہمایوں کو اپنی سابقہ ​​بادشاہت میں واپس آنے سے روکنے کے ارادے سے نام نہاد "پرانے راستے” کے ساتھ بنایا جو شمال سے پنجاب کے میدانوں کی طرف جاتا ہے ۔
    ہمایوں کو پہلے شیر شاہ سوری نے چوسا میں شکست دی تھی اور وہ ایران فرار ہو گیا تھا ، لیکن اسے خدشہ تھا کہ اگر ہمایوں پنجاب واپس آنے میں کامیاب ہو گیا تو ہمایوں کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے ۔  شیر شاہ سوری کی دوسری تشویش گکھڑ قبائل کو سزا دینا اور شکست دینا تھا جو وادی کا کنٹرول رکھتے تھے اور مغلوں کے روایتی حلیف تھے۔

    قلعہ کا نام شاہ آباد ضلع کے روٹاس گڑھ کے گڑھ سے لیا گیا ہے جسے شیر شاہ سوری نے 1539 میں ایک ہندو شہزادے سے قبضہ میں لیا تھا۔ قلعے پر کام اس کے وزیر محصولات توڑ مال کھتری کی نگرانی میں 1541 میں شروع ہوا۔  تاہم ، گکروں کی مقامی آبادی دیہاڑی دار کے طور پر  کام کرنے کو تیار نہیں تھی، اور پھر تعمیر تیزی سے رک گئی۔  ٹوڈر مال کھتری نے شیر شاہ سوری کو ان مشکلات کے بارے میں لکھا اور بادشاہ نے جواب دیا کہ ان کی حکومت تعمیر کے اخراجات کے لیے کوئی بھی اخراجات برداشت کرے گی۔  اس حوصلہ افزائی کے ساتھ ، ٹوڈر مال کھتری اجرت بڑھانے میں کامیاب ہو گیا جس نے کئی گکروں کو رینک توڑنے اور تعمیراتی کوششوں میں شامل ہونے پر اکسایا۔  اگرچہ تعمیر کے دوران روزانہ کی تنخواہ کئی بار کم کی گئی تھی ، لیکن پھر بھی شیر شاہ سوری کے قلعے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کافی تھا۔

    قلعے کی ترتیب تقریباتکون سی ہے اور چار کلومیٹر کی دیواروں ، 68 گڑھوں اور تقریبا a ایک درجن بڑے دروازوں پر مشتمل ہے۔  قلعے کے شمال مغربی کونے کو باقی قلعے سے 530 میٹر لمبی دیوار سے تقسیم کیا گیا ہے جو ایک علیحدہ قلعہ کا علاقہ قائم کرتا ہے جو کہ بہت زیادہ قلعہ بند تھا۔  اس میں شاہی مسجد اور حویلی مان سنگھ (قلعہ کے اندر سب سے اونچی جگہ پر تعمیر) سمیت کئی بقیہ تعمیراتی آثار بھی شامل ہیں۔  یہ سٹیپ ویلز (باؤلی) سے بھی لیس ہے حالانکہ یہ قلعے کے زیادہ سے زیادہ علاقے میں جنوب مشرق میں بھی پائے جاتے ہیں۔

    قلعے کی دیواریں موٹائی میں مختلف  ہیں اور شمالی فریم پر موری گیٹ کے قریب زیادہ سے زیادہ 12.5 میٹر کی گہرائی تک پہنچتی ہیں جبکہ ان کی اونچائی 10 سے 18.3 میٹر تک  ہے۔  بنیادی تعمیراتی مواد سینڈ اسٹون کورس ملبے کی چنائی تھی جس میں چونے کے ساتھ دانے دار اینٹوں کے پاؤڈر ملا ہوا تھا۔  دروازے بہت مضبوط ایشلر چنائی سے بنائے گئے ہیں۔  بہت سی جگہوں پر دیواروں میں والٹڈ چیمبرز ہوتے ہیں جو اسٹوریج اور دیگر سامان کے لیے استعمال کیے جاتے تھے جن کی ضرورت تقریبا 30،000 فوجیوں کو تھی جو وہاں تعینات کیے جا سکتے تھے۔

    شیر شاہ سوری قلعہ مکمل طور پر مکمل ہونے سے پہلے ہی مر گیا اور جب ہمایوں پنجاب پر حکومت کرنے کے لیے واپس آئے تو قلعے کا بنیادی مقصد بے کار ہو گیا۔ ایک بڑی ستم ظریفی ، یہ قلعہ پھر گکروں کا دارالحکومت بن گیا-جن لوگوں کو شیر شاہ سوری نے زیر کرنا تھا۔ اگرچہ قلعہ اس وقت سے مغلوں کے کنٹرول میں تھا اس کے بعد یہ شہنشاہوں میں زیادہ مقبول نہیں تھا کیونکہ اس میں باغات اور دیگر عظیم الشان فن تعمیر کا فقدان تھا جس کے وہ عادی ہو چکے تھے۔ یہ اب ایک فوجی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ گکر مستحکم مغل اتحادی رہے۔ قلعے کی ریمائیلائزیشن صرف مغلوں کے ختم ہوتے سالوں میں شروع ہوئی جب سکھ شہنشاہ راجیت سنگھ نے پنجاب کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ایک حوصلہ افزا جنرل گورمک سنگھ لمبا نے 1825 میں گکھڑ کے سردار نور خان سے قلعہ پر قبضہ کر لیا ، اور یہ بعد میں سردار موہر سنگھ کے حوالے کر دیا گیا اور بعد میں دوسروں کو لیز پر دے دیا گیا۔ قلعہ کا آخری فوجی استعمال اس وقت ہوا جب راجہ فضل دین خان نے شیر سنگھ کو بغاوت میں شامل کیا ، حالانکہ قلعے پر کوئی کارروائی نظر نہیں آئی۔

  • شاہ محمود قریشی کی برطانوی ہم منصب سے ملاقات، کشمیر اور افغانستان سمیت اہم معاملات تبادلہ خیال کیا گیا

    شاہ محمود قریشی کی برطانوی ہم منصب سے ملاقات، کشمیر اور افغانستان سمیت اہم معاملات تبادلہ خیال کیا گیا

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی برطانوی ہم منصب سے ملاقات .

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی دورہ ء برطانیہ کے دوران، برطانوی وزیر خارجہ لِز ٹرس کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے، یہ ملاقات برطانوی دفتر خارجہ میں ہوئی ہے، دوران ملاقات پاک، برطانیہ دو طرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ اور علاقائی سلامتی سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے.

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے برطانوی وزیر خارجہ کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے.

    وزیر خارجہ نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے استحکام کیلئے، برطانوی ہم منصب کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا تاکہ دو طرفہ اسٹریٹیجک تعلقات کو اگلے مرحلے تک لے جانے کیلئے مشترکہ کوششیں بروئے کار لائی جا سکیں، برطانوی ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور خطے کے امن کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا ہے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پائمالیوں کے حوالے سے برطانوی پارلیمنٹ میں مباحثے کا انعقاد، قابلِ تحسین ہے، ہمیں توقع ہے کہ برطانیہ، نہتے کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے اور ان کے جائز حق "حق خود ارادیت” کے حصول کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریگا.

    وزیر خارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی افواج کے تین ہزار سے زائد جنگی جرائم کے ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد پر مبنی دستاویزی ثبوت "ڈوزیئر” برطانوی ہم منصب کو پیش کیا ہے.

    دونوں وزرائے خارجہ کے مابین افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ ء خیال ہوا ہے.

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کی اولین ترجیح افغانستان کو پنپتے ہوئے انسانی بحران سے بچانا ہے، پاکستان کی جانب سے، افغان شہریوں کو بھجوائ گئی انسانی امداد اور "انسانی راہداری” (Human Corridor ) کے قیام سے برطانوی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا ہے، پاکستان نے کابل سے دس ہزار سے زائد غیر ملکی شہریوں کو بحفاظت نکالنے میں معاونت فراہم کی، موجودہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے، افغانستان کو تنہا نہ چھوڑے، عالمی برادری، افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے ان کی انسانی و معاشی معاونت کو یقینی بنائے،

    وزیر خارجہ نے پاک- برطانیہ، اسٹریٹیجک مذاکرات کے پانچویں جائزہ اجلاس کے حوالے سے برطانوی وزیر خارجہ الزبتھ ٹرس کو دورہ ء پاکستان کی دعوت دی جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا ہے.

    واضح رہے کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران، یہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونیوالی دوسری ملاقات ہے.

  • ووٹنگ مشین اور انتخابی اصلاحات:وزیراعظم نے اہم فیصلہ کرلیا

    ووٹنگ مشین اور انتخابی اصلاحات:وزیراعظم نے اہم فیصلہ کرلیا

    اسلام آباد:ووٹنگ مشین اور انتخابی اصلاحات:وزیراعظم نے اہم فیصلہ کرلیا ،وزیر اعظم کا ووٹنگ مشین اور انتخابی اصلاحات پراتحادیوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور انتخابی اصلاحات پرپارٹی اور اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینےکا فیصلہ کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل طلب کر لیا جبکہ یہ اجلاس 2 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔

    ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی اور اتحادیوں کوانتخابی اصلاحات بل میں ترمیم پربریفنگ دی جائے گی جبکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین، آئی ووٹنگ اورانتخابی اصلاحات پرمشاورت ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق ووٹنگ مشین، آئی ووٹنگ اور انتخابی اصلاحات پراتحادیوں سے اتفاق رائے پربات ہوگی۔

    وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو انتخابی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے آزاد اور شفاف انتخابات کے لیے ای ووٹنگ سسٹم لانے کا اعلان کیا تھا۔

    وزیر اعظم نے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات کو بھی خفیہ رائے شماری کے بجائے اوپن بیلٹنگ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

    تاہم سینیٹ انتخابات اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے آئینی ترمیم منظور کروانا ہوگی جس کے لیے حکومت کو اپوزیشن کی حمایت درکار ہے۔

  • شیخ رشید کی کینڈین ہائی کمیشنر سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

    شیخ رشید کی کینڈین ہائی کمیشنر سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

    وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے کینیڈا کی ہائی کمشنر برائے پاکستان وینڈی کرسٹین گلمور نے ملاقات کی ہے، ملاقات میں پاک کینیڈا دوطرفہ تعلقات سمیت افغانستان اور خطے کی مجموعی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے.

    ملاقات میں اتفاق کیا گیا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن خطے کی ترقی اورافغان شہریوں کی خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے، افغان شہریوں کی انسانی بنیادوں پر امداد ضروری ہے۔غذائی قلت پیدا ہونے کے عوامل کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تعلقات انتہائی دیرینہ ہیں۔ مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے.

    وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن اور سیاسی استحکام کے لئے اپنا کردار کرتا رہے گا، افغانستان ایک خود مختار ملک ہے؛ اپنے فیصلے خود لینے کے لئے بااختیار ہے، افغانستان کی حکومت کو مشورہ دے سکتے ہیں؛کسی خاص فیصلے پر مجبور نہیں کرسکتے، طالبان حکومت کو اس وقت فنڈز اور انسانی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، مالی اور انسانی وسائل کی کمی سے حکومت چلانا طالبان کے لئے ایک بڑاچیلنج ہوگا.

    وزیر داخلہ شیخ رشید نے مزید کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری طالبان کو وقت اور وسائل دے؛ امید ہے طالبان اپنے وعدوں پر مکمل عملدآمد کرینگے، افغانستان سے انخلاء میں بین الاقوامی برادری کی مدد اور معاونت جاری رکھیں گے، کینیڈا میں مقیم پاکستانی دونوں ملکوں کی سماجی اور معاشی ترقی میں کردار ادا کررہے ہیں.

    کینیڈین ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ کینیڈین ہائی کمیشن کی درخواست پر افغان شہریوں کے انخلاء پر پاکستان کے مشکور ہیں، پاکستان کا افغانستان سے غیر ملکی اور افغان شہریوں کو نکالنے میں کردار غیر معمولی کارنامہ ہے، موجودہ حالات میں افغان شہریوں کے لئے انسانی بنیادوں پر امداد کی ہے، پاکستان کی طرف سے تیس لاکھ افغان مہاجرین کی دیکھ بھال قابل رشک ہے.

    پاکستان کینیڈا کی درخواست پر مزید افراد کو افغانستان سے نکالنے میں معاونت فراہم کریگا۔ وزیر داخلہ شیخ رشید کی ہائی کمشنر کو یقینی دہانی کروائی گئی ہے.

  • بلاول بھٹو کا واجد شمس الحسن کی وفات پر اظہار افسوس

    بلاول بھٹو کا واجد شمس الحسن کی وفات پر اظہار افسوس

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واجد شمس الحسن کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے.

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ واجد شمس الحسن کے انتقال پر مجھ سمیت پوری پارٹی دکھی ہے، واجد شمس الحسن کے انتقال سے پاکستان ایک مدبر محبِ وطن سے محروم ہوگیا ہے، مرحوم صرف پاکستان پیپلز پارٹی نہیں، بلکہ پوری قوم کا اثاثہ تھے، مرحوم واجد شمس الحسن نے جمہوریت، صحافت اور سفارتی محاذ پر گراں قدر خدمات سرانجام دیں ہیں،

    سابق برطانوی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ دعا ہے، اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے.

    پی پی پی چیئرمین نے مرحوم کے تمام سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں صبرکی تلقین کی ہے.

  • کراچی میں چہلم کا ماتمی جلوس اپنے مقام پر پہنچ گیا

    کراچی میں چہلم کا ماتمی جلوس اپنے مقام پر پہنچ گیا

    کراچی میں نوسئہ رسول کے چہل کے حوالے مرکزی جلوس اپنی مقرر کردہ راستوں سے ہوتا ہوا نمائش چورنگی پہنچ گیاہے، جلوس کے راستوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، پولیس اور سندھ رینجر سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں.

    نواسئہ رسول حضرت امام حسین کے چہلم کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہو کر نمائش چورنگی پہنچ گیا ہے، امام بارگاہ علی رضا کے سامنے نماز ظہرین کی تیاریاں جاری ہیں، شہر کے مختلف علاقوں سے عزادارن کی مرکزی جلوس میں آمد کا سلسلہ جاری ہے، چہلم امام حسین کے مرکزی جلوس کی حفاظت کے لئے 7 ہزار سے زائد رینجرز پولیس کے جوان تعینات ہیں،

    جلوس کی گزرگاہوں پر واقع بلند عمارتوں پر رینجرز پولیس کے ماہر نشانہ باز بھی موجود ہیں، کراچی۔مرکزی جلوس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد موجود ہے، پولیس و رینجرز کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے جلوس کی نگرانی بھی جاری ہے.

  • گلگت بلتستان:بھری وین نالے میں جاگری، 5 افراد جاں بحق

    گلگت بلتستان:بھری وین نالے میں جاگری، 5 افراد جاں بحق

    گلگت بلتستان:بھری وین نالے میں جاگری، 5 افراد جاں بحق ،اطلاعات کے مطابق گلگت میں شاہراہ قراقرم پر مسافروں سے بھری وین نالے میں جاگری جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ شاہراہ قراقرم پر سلطان آباد کے قریب پیش آیا جہاں جوتل سے گلگت آنے والی مسافروں سے بھری وین موڑ کاٹتے ہوئے گہرے نالے میں جاگری۔

    حکام نے بتایا کہ حادثے میں 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں کچھ افراد کے نالے میں گرکر لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔

    یاد رہےکہ چند دن پہلے بھی گلگت بلتستان سے ایسی خبریں موصول ہوئی تھیں جن میں‌ کئی مقامات پرحادثات رونما ہوئے تھے جن میں کئی افرادجانبحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے

  • مصطفیٰ کمال کی سلیم قادری کی زوجہ کے جنازہ میں شرکت

    مصطفیٰ کمال کی سلیم قادری کی زوجہ کے جنازہ میں شرکت

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے قائد سنی تحریک شہید سلیم قادری کی زوجہ محترمہ اور سربراہ سنی تحریک صاحبزادہ علامہ بلال سلیم قادری کی والدہ محترمہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے.

    چئیر مین پی ایس پی سید مسطفیٰ کمال نے نماز جنازہ میں شرکت کرتے ہوئے علامہ بلال سلیم قادری سے اظہار تعزیت کیا ہے، مرحومہ کی کامل مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے.

    چئیر مین پی ایس پی سید مصطفیٰ کمال کے ہمراہ اراکین نیشنل کونسل ملک نثار اور ہمایوں عثمان راجپوت کے علاؤہ کارکنان کی بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی ہے.

  • شہباز شریف 6 ماہ میں 25 سال کیلئے جیل جائیں گے :جھوٹ،جعل سازی اس خاندان کا مقدرہے: فواد چودھری

    شہباز شریف 6 ماہ میں 25 سال کیلئے جیل جائیں گے :جھوٹ،جعل سازی اس خاندان کا مقدرہے: فواد چودھری

    اسلام آباد: میرٹ پر کیس چلا تو شہباز شریف 6 ماہ میں 25 سال کیلئے جیل جائیں گے:جھوٹ ، جعل سازی اس خاندان کا مقدرہے: اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر کی برطانوی عدالت سے رہائی کے معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام شریف فیملی سے پیسوں کی وصولی چاہتے ہیں، میرٹ پر کیس چلا تو شہبازشریف 6 ماہ میں 25 سال کیلئے جیل جائیں گے۔

    وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ الیکٹرول ریفارمزبہت ضروری ہے، پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ساتھ گفتگوخوش آئند ہے، پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ساتھ گفتگوکوآگے بڑھنا چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان نے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان، رکن قومی اسمبلی علی محمد خان کو اپوزیشن سے بات کرنے کی ہدایت دی۔ ای وی ایم کے معاملے پراپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات میں اپوزیشن کی مشاورت کا خیرمقدم کرتے ہیں تاہم اس عمل میں وقت ضائع نہیں ہونا چاہیے، وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ سمندر پار پاکستانیوں کوووٹ کا حق دینا انتخابی اصلاحات کا اہم جزو ہو گا۔ سمندر پار پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، اوورسیزپاکستانیوں کو انتخابی نظام سے نکالنا زیادتی ہو گی، انتخابات میں شفافیت یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کوالیکٹرانک ووٹنگ مشین اورآئی ووٹنگ پربریفنگ دی گئی، ہم نے بیس مشینیں ایک پرائیویٹ کمپنی سے منگوائی ہیں۔ الیکٹرورل ریفارمز پر اپوزیشن سے بات چیت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

    برطانوی عدالت سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی بریت سے متعلق فیصلے پر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر نے تفصیلی پریس کانفرنس کی، عدالتی فیصلے پر مس، فیک رپورٹنگ کرنا بڑا مسئلہ ہے، مس رپورٹنگ پرہمارا آر آئی یونٹ کیس فائل کرے گا، شہبازشریف کا کیس میرٹ کی بنیاد پر اگر روزانہ کیس چلا تو انہیں اگلے چھ ماہ میں کم ازکم 25سال کے لیے جیل جا سکتے ہیں۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے شہباز شریف کیس کا روزانہ کی بنیاد پرکیسے چلے گا، لیگی صدر کے کیس میں کبھی ایک، کبھی دوسری خبر لگا کرخوشی کے شادیانے بجاتے ہیں، سزا سے لڈو بانٹنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا، پاکستان کے لوگ شریف فیملی سے پیسوں کی ریکوری چاہتے ہیں۔

    وزیر اطلاعات کاکہنا تھا کہ 2013 کے مقابلے میں موجودہ حکومت کے دور میں این ایچ اے کی سڑکوں کی تعمیر میں بہت بچت ہو رہی ہے۔ بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کابینہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹ میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، کاٹن کی فصل پچھلے سال کی نسبت بہتر ہو گی، دیہات کی معیشت واضح بہتری کی طرف جا رہی ہے، امپورٹڈ اشیا کے استعمال کرنے والی چیزوں میں مہنگائی ہے۔