Baaghi TV

Author: +9251

  • مظلوم ، مقتولہ نورمقدم پرظلم کے خلاف 11-اکتوبرکواسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کا اعلان

    مظلوم ، مقتولہ نورمقدم پرظلم کے خلاف 11-اکتوبرکواسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کا اعلان

    اسلام آباد:مظلوم ، مقتولہ نورمقدم پرظلم کے خلاف 11-اکتوبرکواحتجاجی مظاہرہ ،اطلاعات کے مطابق امان پاکستان ٹرسٹ نے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا ہےجس میں نورمقدم کےلیے انصاف اوراس کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کے لیے آواز بلند کی جائے گی

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق یہ پروگرام 11 اکتوبر جمعہ کو سہ پہر 3 بجے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے منعقد ہونے والا ہے۔

    تقریب میں سول سوسائٹی کے ممبران سے شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور اس میں امان پاکستان کی چیئرمین فرح عظیم شاہ کی موجودگی بھی شامل ہوگی۔ دیگر اہم سماجی اور سیاسی شخصیات بھی شرکت کریں گی۔

    ایمان پاکستان کے میڈیا کوآرڈینیٹر علی نقی نے پریس کو دعوت دی ہے کہ وہ اس پروگرام کو براہ راست کوریج کریں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے مقتول نورمقدم کے والدین نے بدھ کو اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے اپنی بیٹی کو انصاف دلانے کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا ۔

    سول سوسائٹی کے ارکان اور شوبز شخصیات کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج میں شرکت کی اور نورمقدم کے قتل کے خلاف نعرے بلند کیے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قتل ہونے والی لڑکی کے والد شوکت مقدم جو کہ پاکستان کے سابق سفیر بھی ہیں نے کہا کہ یہ حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی جا چکی ہے اور وہ اس معاملے میں انصاف حاصل کر کے دوسروں کی بیٹیوں کو بچانا چاہتےہیں

    انہوں نے کہا کہ ان کا مشن پاکستان میں گھروں اور دفاتر کو محفوظ رکھنا ہے اور وہ اس حوالے سے میڈیا اور سول سوسائٹی کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کا انٹرویو دینے اور ان کے لیے نور مقدمہ کے حوالے سے ہمدردی کا اظہار کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ اس نے ایک امید ظاہر کی کہ وہ یقینی طور پر اس کی بیٹی کو انصاف دلانے میں کامیاب ہوں گے۔

  • امریکی سپر اسٹار آر. کیلی کو جنسی اسمگلنگ کیس میں مجرم قرار دے دیا گیا

    امریکی سپر اسٹار آر. کیلی کو جنسی اسمگلنگ کیس میں مجرم قرار دے دیا گیا

    آر- کیلی امریکی آر اینڈ بی سپر سٹار جو اپنے گانے آئی بیلبیو آئی کین فلائی کیلئے جانا جاتا تھا، نوجوان، بچوں اور خواتین کے ساتھ کئی دہائیوں سے جنسی زیادتی کرتا رہا تھا، پیر کو عدالت نے اسے جنسی سمگلنگ کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے.

    کیلی کئی دہائیوں سے مجرمانہ الزامات سے بچنے میں کامیاب رہا تھا.

    کیلی کو 54 سال کی عمر میں سات مردوں اور پانچ عورتوں کی گواہی کے بعد دوسرے دن کی سماعت کے دوران تمام نو مقدموں کا مجرم قرار دیا گیا ہے، عدالت میں پیشی کے دوران کیلی نے کالے چشمے کے ساتھ فیس ماسک پہنا ہوا تھا، اس کی آنکھیں افسردہ کن تھیں، اس کے کیس کا فیصلہ نیورک کی بروک لین کی وفاقی عدالت میں سنایا گیا ہے، استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ مینیجرز اور اسسٹنس نے کیلی کی لڑکیوں سے ملنے اور انہیں فرمانبردار بنانے میں مدد کی تھی، جو ایک مجرمانہ کاروبار ہے، شکاگو میں زیر التوا وفاقی کیس میں کیلی کے دو ساتھیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے.

    4 مئی کی شنوائی کے الفاظ کے مطابق کیلی کو ان جرائم کے تحت کئی دہائیوں کیلئے جیل میں رہنا پڑسکتا ہے، جیسا کہ مان ایکٹ کی خلاف ورزی، جنسی سمگلنگ کے خلاف قانون جو کسی کو بھی غیر اخلاقی مقاصد کیلئے ریاستی حدود عبور کرنے سے منع کرتا ہے.

    کیلی کے وکلاء میں سے ایک وکیل ڈیوراکس کینک نے کہا کہ وہ مایوس ہیں اور اپیل کرنے کی امید رکھتے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ میں اس سے بھی زیادہ مایوس ہوں کہ حکومت نے تمام تر تضادات کو دیکھتے ہوئے مقدمہ کا جلد فیصلہ سنا دیا ہے.

    گواہوں کی شہادتوں میں سے کئی الزام لگانے والوں نے مقدمے کی سماعت کے دوران واضح تفصیل سے گواہی دی ہے، الزام لگایا کہ کیلی نے کم عمر ہونے پران کو ٹیڑھا اورافسوسناک خواہشات کا نشانہ بنایا ہے.

    برسوں سے پبلک اورنیوزمیڈیا نابالغوں کے ساتھ نامناسب تعلقات کے الزامات سے خوفزدہ ہونے سے زیادہ خوش دکھائی دیتا ہے، کیلی کی 1994 میں آر اینڈ بی فینوم عالیہ سے جنسی تعلق غیرقانونی شادی سے شروع ہوا تھا، جب وہ صرف 15 سال کی تھی.

    کیلی کے ریکارڈ اور کنسرٹ کے ٹکٹ فروخت ہوتے رہے ہیں، دوسرے فنکاروں نے ان کے گانوں کو ریکارڈ کرنا جاری رکھا تھا، یہاں تک کہ جب وہ 2002 میں گرفتار ہوئے اور ایک 14 سالہ لڑکی پر الزام لگایا کہ اس نے جنسی زیادتی اور پیشاب کی اپنی ریکارڈنگ خود بنائی تھی.

    وسیع پیمانے پرعوامی مذمت اس وقت تک نہیں آئی جب تک کہ وسیع پیمانے پر دیکھی جانے والی دستاویزی فلم زندہ بچ جانے والی آر کیلی نے اپنے کیس کو #MeToo دور کا نشان بنانے میں مدد کی تھی، الزام لگانے والوں کی آواز بلند کرنے میں مدد کی تھی.

    الزام لگانے والے حیران ہوئے کہ کیا ان کی کہانیوں کو پہلے نظر انداز کیا گیا تھا؟ کیونکہ وہ سیاہ فام عورتیں تھیں۔

    قائم مقام امریکی اٹارنی جیکولین کیسولز نے پیر کو کہا اس کیس کے متاثرین کے لیے آپ کی آواز سنی گئی ہے اور آخر کار انصاف ہوگیا ہے۔

    عدالت کے باہر پریس سے بات کرتے ہوئے ، کیلی کے کچھ الزام لگانے والوں کی وکیل ، گلوریا آلریڈ نے کہا کہ ان تمام شکاریوں میں سے جن کے پیچھے وہ چلی گئی ہیں – ایک فہرست بشمول ہاروی وائن اسٹائن اور جیفری ایپسٹین – "مسٹر۔ کیلی بدترین ہے۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران کیلی پر الزام لگانے والوں میں سے کئی نے اپنی رازداری کے تحفظ کے لیے اپنے اصلی ناموں کا استعمال کیے بغیر گواہی دی ہے، ججوں کو کیلی کی جنسی حرکتوں میں ملوث ہونے کی گھریلو ویڈیوز دکھائی گئیں ہیں، جن کے بارے میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ وہ متفق نہیں تھے، اس دوران دفاع نے الزام لگانے والوں کو گروپس اور اسٹاکرز کا لیبل لگا دیا گیا تھا.

    دفاع کی جانب سے کیلی کے وکیل کینک نے سوال کیا کہ اگر خواتین کو لگتا ہے کہ ان کا استحصال کیا جا رہا ہے تو کیلی کے ساتھ تعلقات میں کیوں رہیں۔

    کیلی، رابرٹ سلویسٹر کیلی میں پیدا ہوئے، 2019 سے ضمانت کے بغیر جیل میں ہیں، نیو یارک کیس گلوکار کے لیے قانونی خطرے کا صرف ایک حصہ ہے، اس نے الینوائے اور مینیسوٹا میں جنسی بدسلوکی کے الزامات کے لیے مجرم نہ ہونے کی بھی درخواست کی تھی، ان مقدمات میں مقدمے کی سماعت کی تاریخیں ابھی مقرر نہیں کی گئی ہیں۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے گلوکار کو ایک لاڈ پیار اور ایک کنٹرول فریک کے طور پر پیش کیا تھا، اس پرالزام لگانے والوں نے کہا کہ وہ اسے باپ کہنے کے احکامات کے تحت تھے، توقع کی جاتی تھی کہ جب بھی وہ کمرے میں جائے گا تو اسے اچھل کر چومے گا، پھر اس کے لیے خوش رہے گا، جب وہ پک اپ باسکٹ بال کھیل کھیل رہا تھا جس میں اس نے کہا کہ وہ بال ہاگ ہے۔

    مدعی الزام لگاتے ہیں کہ انہیں غیرافشاء کرنے والے فارموں پر دستخط کرنے کا حکم دیا گیا تھا، انہیں دھمکیوں اور سزاؤں کا نشانہ بنایا گیا تھا، جیسے کہ اگر انہوں نے روب کے قواعد کے نام سے جانا جاتا ہے توڑ دیا تو پرتشدد چھڑکنا، کچھ نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس نے جن ویڈیو ٹیپس کو ان کے ساتھ جنسی تعلقات کے دوران گولی ماری ہے وہ ان کے خلاف استعمال ہوں گے اگر وہ بے نقاب کردیں گے.

    مقدمے کی سماعت میں کیلی نے اپنے ساتھ بندوق رکھنے کے پریشان کن شواہد کو بے نقاب کیا کیونکہ اس نے الزام لگانے والوں میں سے ایک کے ساتھ جنسی اور زبانی طور پر بدسلوکی کی تھی، ایل اے کے ایک ریکارڈنگ سٹوڈیو میں اس نے ایس ٹی ڈی منتقل کی تھی، نابالغوں کو جنسی تعلقات پر مجبور کیا تھا، 2003 میں ایک خاتون کو بے ہوش کرنے کے بعد اس پر حملہ کیا تھا، نابالغ عالیہ ڈانا ہاگٹن سے اس کی دھوکہ دہی کی شادی کے گرد گھناؤنے حالات، مقدمے میں زیرغور 14 ممکنہ دھوکہ دہی کی کارروائیوں میں سے جیوری نے صرف دو کو ثابت نہیں کر پایا، الزامات میں ایک خاتون شامل تھی جس نے کہا کہ کیلی نے 2003 میں اس سے فائدہ اٹھایا جب وہ ایک غیر متوقع ریڈیو اسٹیشن انٹرن تھی۔

    عالیہ، جس کا پورا نام عالیہ ڈانا ہاگٹن تھا ، نے کیلی کے ساتھ کام کیا ہے، جس نے 1994 میں اپنا پہلا البم ایج نینٹ نٹنگ بٹ اے نمبر لکھا اور تیار کیا تھا، وہ 22 سال کی عمر میں 2001 میں ایک ہوائی جہاز کے حادثے میں فوت ہوگئی تھیں.

    کیلی پر اس سے پہلے ایک بار شکاگو میں چائلڈ پورنوگرافی کیس میں مقدمہ چلایا گیا تھا، لیکن 2008 میں اسے بری کر دیا گیا تھا.

  • عطاتارڑنے شہزاد اکبرکوانکی کہانی اپنی زبانی سنادی

    عطاتارڑنے شہزاد اکبرکوانکی کہانی اپنی زبانی سنادی

    لاہور:عطاتارڑنے شہزاد اکبرکوانکی کہانی اپنی زبانی سنادی ،اطلاعات کے مطابق ن لیگی رہنما عطا تارڑ نے شہبازشریف کوبرطانیہ کی مقامی عدالت کی طرف سے بے گناہی ثابت کرتے ہوئے منی لانڈرنگ نہ کرنے کی سٹیٹمنٹ دی ہے ، جس پراس وقت ملک میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں چل رہی ہیں

    ادھر اس حوالے سے جہاں شہزاد اکبرنے ن لیگ کے دعووں کے کٹے چھٹے کھول کررکھ دیئے ہیں وہان اب ن لیگ اپنے ان دعووں کو سچے ثابت کرنے کے لیے مختلف قسم کے حیلے بہانے ، دعوے اورحقائق پیش کرکے شہزاداکبرکے دعووں کو جھوٹا ثابت کرنے پرلگے ہوئےہیں

    اسی حوالے سے ن لیگ کے رہنماعطاء تارڑ کا این سی اے کو لکھا گیا خط دکھاتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ ہے وہ اے آر یو کا خط جو آپ ہی کے دفتر سے 11 دسمبر 2019ء کو جاری ہوا۔

    نون لیگی رہنما نے کہا کہ منی لانڈرنگ سمیت تمام الزامات کو برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی اور برطانوی عدالت نے رد کر دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ 20 ماہ پر محیط تحقیقات بند کر دی گئیں، برطانوی ایجنسی نے شہباز شریف اور سلیمان شہباز کو الزامات سے بری کر دیا۔

    مسلم لیگ نون کے رہنما عطاء تارڑ کا یہ بھی کہنا ہے کہ آپ اب بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آئے، شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

    یاد رہےکہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور ان کے خاندان کے بینک اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ، کرپشن اور مجرمانہ سرگرمی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ21 ماہ کی تحقیقات میں 20 سال کے مالی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

     

    تاہم مشیر داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف اورسلمان شہباز کی بریت کی خبر غلط اور مس رپورٹنگ ہے۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کوئی ٹرائل تھا ہی نہیں جو بریت ہوتی۔

    رپورٹ کے مطابق برطانوی ایجنسی نے حکومت پاکستان، نیب اورایسٹ ریکوری یونٹ کی درخواست پر تحقیقات شروع کی تھیں جب کہ تحقیقات کے دوران شہباز شریف اور شریف خاندان کے برطانیہ اورمتحدہ عرب امارات میں اکاونٹس کی چھان بین کی گئی۔ نیشنل کرائم ایجنسی کی رپورٹ کے بعد شہباز شریف اور سلیمان شہباز کے منجمد بینک اکاؤنٹس بحال کر دیے گئے۔

  • 246  سال کی تاریخ میں پہلی بار امریکہ میں سکھ کی سُنی گئی

    246 سال کی تاریخ میں پہلی بار امریکہ میں سکھ کی سُنی گئی

    نیویارک: 246 سال کی تاریخ میں پہلی بار امریکہ میں سکھ کی سُنی گئی ،اطلاعات کے مطابق امریکہ کے ایک 26 سالہ سکھ امریکی بحریہ کے افسر کو بعض پابندیوں کے ساتھ پگڑی پہننے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ اطلاع ایک میڈیا نیوز میں دی گئی۔ وہ اس آئیکونک فورس کی 246 سالہ تاریخ میں ایسا کرنے کی اجازت پانے والے پہلے شخص ہیں ۔

    نیو یارک ٹائمز کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ تقریبا ً پانچ سالوں سے ہر صبح لیفٹیننٹ سکھبیر تو ر امریکی بحریہ کی وردی پہنتے آئے ہیں اور جمعرات کو ان کے سر پر سکھ پگڑی پہننے کی خواہش بھی پوری ہو گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تور میرین کور کی 246 سالہ تاریخ میں پہلے شخص ہیں جنہیں پگڑی پہننے کی اجازت دی گئی ہے۔ تور نے ایک انٹرویو میں کہا ، ‘آخر میں مجھے اپنے ایمان اور اپنے ملک میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کی نوبت نہیں آئی ہے۔ میں جیسا ہو ں ویسا ہی رہتے ہوئے ان دونوں کا احترام کرتا ہوں ۔ تور نے یہ حق حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔ جب انہیںاس سال کپتان کے طور پر ترقی دی گئی تو انہوںنے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ خبر کے مطابق یہ پہلا ایسا کیس تھا جو اتنے عرصے تک جاری رہا۔

    واشنگٹن اور اوہائیو میں پرورش پانے والے ایک ہندوستانی تارکین وطن کے بیٹے تور کو کچھ حدود کے ساتھ ڈیوٹی پر پگڑی پہننے کی اجازت دی گئی ہے۔ وہ عام ڈیوٹی کے دوران پگڑی پہن سکتے ہیں ، لیکن جنگ کے میدان میں تعینات ہونے پر وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ این وائی ٹی نیوز نے خبر دی ہے کہ تور نے میرین کور کمانڈنٹ کے پابندی کے فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اگر ہر جگہ پگڑیاں پہننے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو وہ کور کے خلاف مقدمہ کریں گے ۔

  • کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کراچی پورٹ پر ہونے والی ڈریجنگ کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی

    کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کراچی پورٹ پر ہونے والی ڈریجنگ کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی

    برتھ کے پی ٹی نے ڈریجنگ ویسلز میں وسیع پیمانے کی گہرائی کی اجازت دے دی.

    کراچی پورٹ ٹرسٹ کی رپورٹ کے مطابق کراچی پورٹ کے برتھ اور چینل کی ڈریجنگ کو جنوری 2021 سے ترجیح دی گئی ہے، تاکہ زیادہ اور متنوع کارگو ہینڈلنگ کیلئے ڈیزائن کی گہرائی کو برقرار رکھا جا سکے، ایک پلیٹ فارم بی ایچ ڈی علی جو جئی سالوں کے وقفے کے بعد رواں سال جنوری میں آپریشنل کردیا گیا ہے، ڈریجر زیداہ پیداوار کیلئے ںائٹ آپریشن بھی کررہا ہے، یکم جنوی 2021 سے 31 اگست 2021 کی مدت کے دوران مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار مکعب میٹر ڈریج کیا گیا ہے، جس میں کے پی ٹی میں خاطر خواہ بچت ہوئی ہے، اس نے (برتھ 1، 4، 5)میٹر11، (برتھ 6،7،10)میٹر13، (20،21)میٹر10، اور (آئل پیرز 1، 3)میٹر13 ڈیزائن کی گہرائی حاصل کی گئی ہیں.

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عوام اور وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افئیرز سید علی حیدر زیدی کی کاوششوں نے اس فاسٹ ڈریجنگ آپریشن نے کے پی ٹی کو گہرے ڈرافٹ ویسلز کو ایڈجست کرنے، ٹرن آراؤنڈ ٹائم کو کو بہتر بنانے، برتھ کے ساتھ محفوظ برتھنگ، ڈیمریج کی چارجز کو کم کرنے اور ریونیو کی پیداوار کو بڑھانے کے قابل بنایا.

    رپورٹ کے مطابق قابل ذکر یہ ہے کہ کلچر سکشن ڈریج یعنی سال 2015 کے بعد چننہ کریک میں شامل کیا گیا ہے، جس نے کریک میں گہرائی اور سمندری بہاؤ کو بھی اس کے ساتھ ساتھ مانوجوئی میں بھی سمندری رہائش گاہ میں بہتری میں اضافہ کیا ہے.

  • سابق برطانوی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے

    سابق برطانوی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے

    بریکنگ….

    برطانیہ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن وفات پاگئے ہیں، ان کی نماز جنازہ کا ااعلان بعد میں کیا جائے گا، ان کا انتقال ان کے آبائی شہر ایبٹ آباد میں ہوا ہے.

    واجد شمس الحسن کو 2008 میں پاکستان کی طرف سے برطانیہ میں ہائی کمیشن کی ذمہ داری دی گئی تھی، 2013 میں واجد شمس الحسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، واجد شمس الحسن بے نظیر کے قریب ترین ساتھیوں میں سے تھے.

    آصف زرداری کی طرف سے واجد شمس الحسن کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، سینیٹر و پی پی رہنماء شیری رحمان نے واجد شمس الحسن کی وفات افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں زندگی بھر جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی صحافت اورپیپلز پارٹی کیلئے وقف کی، ان کی وفات ان سے وابستہ خاندان اور علاقہ مکین کے دلی توزیت کرتی ہوں.

  • ڈالر کی اڑان برقرار، تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ڈالر کی اڑان برقرار، تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں آج ڈالرکی قیمت 172 روپے میں فروخت ہورہا ہے.

    پاکستان میں آج ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، اس کے ساتھ ہی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے، ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے، مارچ 2018 میں ڈالر کا ریٹ 110.69 روپے کا تھا، مئی 2019 میں ڈالر کا ریٹ 150.99 روپے کا تھا، 2020 میں پاکستان میں ڈالر کا ایورج ریٹ 161.83 روپے تھا، اپریل 2021 میں ڈالر کا ریٹ 152.78 تھا، اب مسلسل اضافے کے بعد 172 روپے ہوگیا ہے.

    آج پاکستان میں کرنسی ریٹ کچھ اس طرح ہیں.
    امریکی ڈالر کی قیمت خرید 171.50 روپے اور قیمت فروخت 172.20 روپے ہے، یو کے پاؤنڈ کی قیمت خرید 233.20 روپے اور قیمت فروخت 235.50 روپے ہے، یورو کی قیمت خرید 198.70 روپے اور قیمت فروخت 200.50 روپے ہے، یو اے ای کے درہم کی قیمت خرید 46.80 روپے اور قیمت فروخت 47.25 روپے ہے، سعودی ریال کی قیمت خرید 45.35 روپے اور قیمت فروخت 45.80 روپے ہے، جاپان ین کی قیمت خرید 1.5100 روپے اور قیمت فروخت 1.5600 روپے ہے، آسٹریلین ڈالر کی قیمت خرید 123.00 روپے اور قیمت فروخت 125.00 روپے ہے، کیناڈین ڈالر کی قیمت خرید 134.00 روپے اور قیمت فروخت 136.00 روپے ہے، ترکش لیرا کی قیمت خرید 20.50 روپے اور قیمت فروخت 22.00 روپے ہے، تھائی بھٹ کی قیمت خرید 4.75 روپے اور قیمت فروخت 5.50 روپے ہے، چائنی رینمبی کی قیمت خرید 24.50 روپے اور قیمت فروخت 26.00 روپے ہے.

  • اکتوبر کی صبح کوعوام پر پٹرول بم گرانے کی تیاری

    اکتوبر کی صبح کوعوام پر پٹرول بم گرانے کی تیاری

    پاکساتن میں اس ماہ کے اختتام پر پٹرول کی قیمت 130 روپے فی لیٹر ہونے کا امکان.

    دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتوں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم سے ملحقہ تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، جس کا اثر پاکستان پر بھیہ ہوسکتا ہے، جیسے ہی عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، پاکستان میں بھی پٹرول مہنگا کردیا جاتا ہے.

    دنیا کی کچھ میں پٹرول کی قیمتیں کچھ اس طرح ہیں، برطانیہ میں آج پٹرول کی قیمت 1.852 ڈالر فی لیٹر ہے، امریکہ میں آج پٹرول کی قیمت 0.93 ڈالر فی لیٹر ہے، جاپان میں آج پیٹرول کی قیمت 1.414 ڈالر فی لیٹر ہے، بھارت میں آج پٹرول کی قیمت 1.388 ڈالر فی لیٹر ہے، چائنہ میں آج پٹرتول کی قیمت 1.171 ڈالر فی لیٹر ہے، سعودی عرب میں آج پٹرول کی قیمت 0.52 سعودی ریال فی لیٹر ہے، متحدہ عرب امارات میں آج پٹرول کی قیمت 2.38 درہم فی لیٹر ہے، کوویت میں آج پٹرول کی قیمت 0.12 کوویتی دینار فی لیٹر ہے، قطر میں آج پٹرول کی قیمت 0.563 ڈالر فی لیٹر ہے، پاکستان میں آج پٹرول کی قیمت 0.731 ڈالر فی لیٹر ہے.

  • تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اورمذہبی رہنما رواداری،پیارومحبت اور باہمی تعاون کو مزید تقویت دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ڈپٹی کمشنر

    تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اورمذہبی رہنما رواداری،پیارومحبت اور باہمی تعاون کو مزید تقویت دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ڈپٹی کمشنر

    فیصل آباد (عثمان صادق) ڈپٹی کمشنر علی شہزادنے ڈی سی آفس میں پاکستان علماء کونسل واتحادی جماعتوں کے وفد سے ملاقات کی۔ مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری پاکستان علماء کونسل وممبر اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب علامہ طاہر الحسن نے وفد کی قیادت کی۔اجلاس کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر الحسن نے کہاکہ پاکستان علماء کونسل ہمیشہ پاکستان کی سلامتی اور پائیدار امن کیلئے مصروف عمل ہے اورپیار،محبت،بھائی چارہ اور امن کا درس دیتا ہے اور تمام مکاتب فکر نے ہمیشہ فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے اہم کردار ادا کیا جس کا تسلسل آئندہ بھی جاری رہے گا۔وفد میں مولانا رفیق جامی،مولانا عبیداللہ گورمانی، مولانا حبیب الرحمن عابد،میاں ارشاد مجاہد، مولانا امین الحق،مولانا اظہار الحق، صاحبزادہ حمزہ طاہر الحسن،مولانا غلام اللہ خان،مولانا طاہر رضوی، سید حسنین شیرازی، وقار الحسن جعفری،مولانا عمر وقاص بیگ ودیگر علماء کرام موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے علماء کرام کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے مثبت رویوں اورمخلصانہ کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ چہلم محرم الحرام کے موقع پر بھی اتحاد ویگانگت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا وقت کا شدید ترین تقاضا ہے لہذا تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اورمذہبی رہنما رواداری،پیارومحبت اور باہمی تعاون کی فضاء کو مزید تقویت دینے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ کسی شرپسند یا تخریب کارکومذہبی کشیدگی پھیلانے کاموقع نہ ملے۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام معاشرے کا ممتاز اور اہم ترین طبقہ ہیں جن کی رہنمائی سے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے لہذا وہ بھائی چارے،صبروتحمل اوربرداشت کی ترغیب دینے کا درس جاری رکھیں۔انہوں نے کہا کہ چہلم محرم الحرام کے موقع پرضلع بھر میں سیکورٹی کے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں تاہم انہیں کامیاب بنانے میں تمام مکاتب فکر کے علماء کابھرپور تعاون ناگزیر ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ترجیح ہے اس ضمن میں علماء کرام کے تعاون اور تجاویزکا خیر مقدم کریں گے۔انہوں نے شہریوں کو کورونا سے بچاؤ کے لئے ویکسین لگوانے اور احتیاطی تدابیر کا پیغام عام کرنے کی بھی اپیل کی اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔آخر میں امن وامان کے قیام کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔

  • کراچی میں کورونا کے بعد ڈنگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

    کراچی میں کورونا کے بعد ڈنگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

    کراچی میں کوویڈ وائرس کے ساتھ ساتھ ڈنگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف ہوا ہے۔

    ڈاؤیونیورسٹی کے پروفیسر اف پیتھالوجی پروفیسر سعید خان نے بتایا کہ امسال ڈنگی وائرس میں جینیاتی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں جس کو طبی زبان میں سیرو ٹائپ کہتے ہیں، ڈنگی سیرو ٹائپس، ڈنگی انفیکشن DEN-1 ، DEN-2 ، DEN-3 اور DEN-4 نامی قریبی متعلقہ وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے، ان چار وائرسوں کو سیرو ٹائپس کہا جاتا ہے، ایک سیرو ٹائپ میں بھی کچھ جینیاتی تبدیلیاں پائی گئیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ امسال ڈنگی وائرس سے متاثرہ مریضوں میں شدید نوعیت کی پیچیدگیاں بھی سامنے آرہی ہیں جس پر ڈاؤیونیورسٹی کے ماہرین مزید تحقحق کر رہے ہیں، دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈنگی وائرس بھی اپنی شکل تبدیل کررہا ہے اور امسال ڈنگی وائرس سے متاثرہ افراد میں شدید پیچیدگیاں بھی سامنے آرہی ہیں، کراچی میں گذشتہ کئی سال سے اسپرے مہم نہ کیے جانے کی وجہ سے وائرس شدت اختیار کررہا ہے۔

    صوبائی محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل سندھ کی جانب سے ایکسپریس کو اعدادوشمار جاری کیے جس میں بتایا گیا ہے کہ ماہ ستمبر یعنی ایک ماہ کے دوران کراچی سمیت سندھ میں 457 افراد ڈنگی وائرس سے متاثر ہوئے۔