Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان ریڈ لیسٹ سے باہرہوگیا مگربرطانیہ کی پابندیوں سے نہ بچ سکا

    پاکستان ریڈ لیسٹ سے باہرہوگیا مگربرطانیہ کی پابندیوں سے نہ بچ سکا

    لاہور:پاکستان ریڈ لیسٹ سے باہرہوگیا مگرانگریزوں کی پابندیوں سے نہ بچ سکا ،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان سے برطانیہ جانے والوں کوسخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، یہ مشکلات بعض اس قدربڑھ جاتی ہیں کہ جانے والے مصیبت میں پڑجاتے ہیں

    اس حوالے سے کچھ ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ برطانوی حکومت نے کچھ زیادہ ہی پاکستان کے بارے میں پالیسی سخت کردی ہے ، حتی کہ پاکستانیوں کو طون عزیز سے جو کورونا ویکسین لگائی گئیں وہ برطانیہ میں قبول نہیں کی جارہیں

    ادھر اس حوالے سے کہا جارہا ہےکہ پاکستان سے برطانیہ جانے والوں پہلے قرنطینہ کےمرحلے گزرنا پڑے گا

    اس حوالے سے یہ بھی کہا جارہاہےکہ سب سے زیادہ وہ پریشان ہورہےہیں جن کی وہاں جابز ہیں اورجن کوبرطانیہ پہنچتےہی اپنے کام کاج میں لگ جانا ہےلیکن جب اس کےلیے یہ پروسیجرلازمی قراردیاجائے گا تووہ تو بیچارہ انتہائی تنگ ہوگا

    برطانیہ میں اس حوالے سے کچھ پابندیاں 22 ستمبر سے لاگو کی گئیں جبکہ اس کے بعد 4 اکتوبر سے کچھ مزید چیزیں لازم قرار دی جائیں گی

    اس تاریخ کے بعد تمام ممالک کو ریڈ، ایمبر اور گرین لسٹ میں تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ایمبر اور گرین لسٹ کی جگہ ممالک کو ایک نئی فہرست Rest of World ( ROW) میں شامل کیا جائے گا۔

    اس لسٹ میں شامل ممالک سے آنے والے افراد کو اگر ویکسین کی دونوں خوراکیں لگ چکی ہوں گی تو انھیں انگلینڈ روانگی سے قبل تین دن کے اندر اندر پی سی آر ٹیسٹ نہیں کروانا ہوگا۔

    لیکن ان مسافروں کو اپنی آمد کے دو دن بعد یعنی ’ڈے ٹو‘ ٹیسٹ کروانا ہوگا لیکن 4 اکتوبر سے نئے قوانین کے اطلاق کی صورت میں پی سی آر کی جگہ کم قیمت والا ’لیٹرل فلو ٹیسٹ‘ کروانا ہوگا۔اس میں شامل مملک سے آنے والے افرد کو 11 راتیں ہوٹل میں قرنطینہ کرنا ہوگا اور اکیلے سفر کرنے والے مسافروں کو اس کے لیے دو ہزار دو سو پچاسی پاؤنڈ ادا کرنے ہوں گے۔

    اس Tier 2 سسٹم کے لاگو ہونے سے پہلے جن آٹھ ممالک کو 22 ستمبر سے ریڈ لسٹ سے ہٹایا گیا ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ان ممالک میں ترکی، مالدیپ، مصر، سری لنکا، عمان، بنگلہ دیش، اور کینیا بھی شامل ہیں۔

    ادھر برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ریڈ لسٹ میں شامل ممالک سے برطانیہ آنے والے کسی ایک فرد کے لیے قرطینہ ہوٹل کے کمرے کی فیس 2285 پاؤنڈ ہے جس میں ٹرانسپورٹ، کھانے اور ٹیسٹوں کی لاگت بھی شامل ہے۔ ایک اضافی بالغ یا 11 سال سے زیادہ عمر کے بچے کے لیے یہ فیس 1430 پاؤنڈ تھی ور پانچ سے 11 سال تک کے بچے کے لیے 325 پاؤنڈ ادا کرنا لازم تھے۔

    اور اگر آپ انگلینڈ روانگی سے قبل قرنطینہ پیکیج کا انتظام نہیں کرتے تو آپ کو اوپر دی گئی رقم کے علاوہ 4 ہزار پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔قرنطینہ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی صورت میں مسافر کو دس ہزار پاؤنڈ تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • پاکستان کی طالبان سے متعلق پالیسی حقیقت پسندی، تحمل، رابطہ ، اور تنہائی سے اجتناب پر مبنی ہے: شاہ محمود

    پاکستان کی طالبان سے متعلق پالیسی حقیقت پسندی، تحمل، رابطہ ، اور تنہائی سے اجتناب پر مبنی ہے: شاہ محمود

    نیویارک: پاکستان کی طالبان سے متعلق پالیسی حقیقت پسندی، تحمل، رابطہ ،اورتنہائی سے اجتناب پر مبنی ہے: اطلاعات کے مطابق نیویارک وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ طالبان سے ڈیل کرنے کے لئے نیا رویہ اپنانا ہوگا، پچھلا رویہ ناکام رہا ہے، عالمی برادری طالبان کو تسلیم کرنے سے متعلق روڈ میپ تشکیل دے۔

    جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈلائن میں امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طالبان سے متعلق پالیسی حقیقت پسندی، تحمل، رابطہ ، اور تنہائی سے اجتناب پر مبنی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی برادری طالبان کو تسلیم کرنے سے متعلق روڈ میپ تشکیل دے۔ روڈ میپ تشکیل دینے کے بعد عالمی برادری طالبان سے براہ راست بات کرے، طالبان تمام مطالبات پر پورا اتریں تو انہیں مراعات بھی دی جائیں، توقعات پر پورا اترنا طالبان کے اپنے لئے اچھا ہے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دنیا کے لئے طالبان کو تسلیم کرنا آسان ہوجائے گا، عالمی برادری کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ انکے پاس اسکے علاوہ کیا آپشن موجود ہے؟ کیا حقیقت سے نظریں چرانا عالمی برادری کے لئے ممکن ہوگا؟ پاکستان بھی بین الاقوامی برادری کی طرح ، پر امن اور مستحکم افغانستان دیکھنا چاہتا ہے، طالبان کو افغانستان کی سرزمین کو کسی اور ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ طالبان سے ڈیل کرنے کے لئے نیا رویہ اپنانا ہوگا، پچھلا رویہ ناکام رہا ہے، طالبان سے وسیع البنیاد حکومت کے قیام، انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کے احترام کی توقع ہے، افغانستان کی حکومت کو امداد دے کر طالبان کو ترغیب دی جاسکتی ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور امریکا افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرے، پاکستان طالبان کے ساتھ رابطوں کی بحالی میں مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہے، اچھی بات یہ ہے کہ طالبان ہمسایوں اور بین الاقوامی برادری کی سن رہے ہیں، طالبان نے پشتون اکثریتی کابینہ میں تاجک ،ازبک اور ہزارہ برادری کے اراکین شامل کئے، افغان حکومت میں اب تک خواتین موجود نہیں، ہمیں تھوڑا انتظار کرنا چاہیے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اطلاع ملی ہے افغانستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگئی ہے، لڑائی ختم ہوچکی ہے، پاکستان کو بڑے پیمانے پر افغان پناہ گزینوں کے مسئلے کا سامنا نہیں ہوا۔

  • پی آئی اے کچن سروسزمیں بےضابطگیاں:67کروڑ روپےکولگ گیا چونا

    پی آئی اے کچن سروسزمیں بےضابطگیاں:67کروڑ روپےکولگ گیا چونا

    اسلام آباد : پی آئی اے کچن سروسزمیں بےضابطگیاں:67کروڑ روپےکولگ گیا چونا ،اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کچن سروسز میں 67 کروڑ کے ٹھیکے میں بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ، بعض ارکان نے مطالبہ کیا ایف آئی اے کی حتمی رپورٹ پیش ہونےتک معاملہ موخرکیا جائے۔

    تفصیلات کے مطابق پی اےسی کا رانا تنویر حسین کی زیرصدارت اجلاس ہوا ، اجلاس میں ایوی ایشن ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ 2008-09کا جائزہ لیا گیا۔پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اس اہم اجلاس میں جس کی صدارت رانا تنویرحسین نے کی پی آئی اے کچن سروسز میں 67 کروڑ کے ٹھیکے میں بےضابطگیوں کا انکشاف ہوا،

    پبلک اکاونٹس کمیٹی کے بعض ارکان نے اعتراض کیا کہ پی اے سی نے آڈٹ پیرا نمٹا دیا، ایف آئی اےکی حتمی رپورٹ پیش ہونےتک معاملہ موخرکیاجائے۔رانا تنویرحسین کی صدارت میں اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا بولی کےعمل میں پانچ کمپنیوں نے حصہ لیا تھا، 2005 میں پی آئی اے کاعالمی معیار کاکچن نہیں تھا۔

    اس حوالے سے اپنی رپورٹ جمع کرواتے ہوئے ایف آئی اے نے کہاہے کہ کچن سروس بہترہونے سے کئی ممالک نے سروسز لینا شروع کیں، کچھ مسائل کی وجہ سے انتظامیہ کچن سروس کامعیار برقرار نہ رکھ سکی۔

    چیئرمین پی آئی اے نے کہا ایف آئی اے میں انکوائری کاعمل بہت سست ہے، ڈھائی سال میں 2031 کیس تیارکیے آج تک صرف 3نمٹائے گئے، 2006 کاڈیٹا ہے اورمیں دوسروں کے گواہ دھونے آتا ہوں،آڈٹ والے بھی آسانی سے جان نہیں چھوڑتے، ایف آئی اے والے بار بار ریکارڈ اور ڈیٹا مانگتے ہیں۔

  • دنیا سن لے ! چین کے ساتھ دوستی سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے:پاکستان کودوستی پرفخر ہے: اسد عمر

    دنیا سن لے ! چین کے ساتھ دوستی سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے:پاکستان کودوستی پرفخر ہے: اسد عمر

    اسلام آباد:دنیا سن لے ! چین کے ساتھ دوستی سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے:پاکستانی قوم اس کے پیچھے مشکلات کی وجہ سمجھتی ہے: اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ چینی سرمایہ کاری بڑھنے سے سکیورٹی کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ سی پیک مشرقی پڑوسی کی آنکھ میں کھٹکتا ہے، دوسروں کی جنگ میں شرکت کرکے پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی،چین کے ساتھ دوستی سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    اسد عمر نے کہاکہ اس وقت چین مخالف اتحاد جوبھارتی خواہشات کے مطابق پراکسی کررہا ہے اس اتحاد کی خواہش ہےکہ پاکستان چین سے الگ ہوجائےاورپھراکیلے چین کوگھیرکربے وفائی کی سزا دی جائے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت دنیا پاکستان سے بڑے مطالبے کررہی ہے اورجومختلف زاویوں سے پاکستان کومشکلات کا سامنا ہے قوم سمجھتی ہے کہ اس کی وجہ چین سے محبت اوردوستی کی سزا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قوم اپنے موقف پرکھڑی ہے اورکامیاب بھی ہوگی

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور کے ہمراہ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر دیگر معاہدوں پر دستخط کیے ہیں کیونکہ کل کی دنیا ڈیجیٹل کی دنیا ہے۔ آئی ٹی ایکسپورٹ میں47فیصداضافہ ہوا، پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے لیے چین کے مزدور واپس آ گئے تھے اور ان پر کام دوبارہ شروع ہو گیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ آج جن معاہدوں پر دستخط ہوئے ان میں سب سے خوش آئند یہ امر ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا جوائنٹ ورکنگ گروپ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق اور ان کے چینی ہم منصب نے اس پر دستخط کیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری معیشت میں زراعت اس لحاظ سے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ دو تہائی آبادی کا زراعت پر بالواسطہ یا بلاواسطہ انحصار ہے۔ پاک چین راہداری بہت اہمیت کی حامل ہے، پاک چین قیادت نے سی پیک کو واضح اہمیت دینے کی ہدایت دی۔ سی پیک کے کچھ نئے معاہدے اور ایک نیا جوائنٹ ورکنگ گروپ بنایا ہے۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ جے سی سی میں کے سی آر کا ذکر ہے۔ وزیراعظم جلد کے سی آر انفرااسٹرکچر منصوبے کا افتتاح کریں گے۔ چینی سرمایہ کاری بڑھنے سے سکیورٹی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ سی پیک ہمسایہ ملک کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دوسروں کی جنگ میں شرکت کر کے پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی، پاکستان کی واضح خارجہ پالیسی ہے، چین کے ساتھ دوستی سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ جتنا مرضی پریشرآجائے چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، بیجنگ کے ساتھ اسلام آباد کا تعلق خصوصی ہے، دوست ملک نے ہمیشہ ہرمشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا، چین کئی ایسی بھلائیاں کرتا ہے لیکن کہتا ہے بتانا نہیں، داسوڈیم واقعہ کی تحقیقات جاری ہے، ملوث افراد کوکیفرکردارتک پہنچایا جائے گا

  • مریم نوازنے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی حمایت کرنے والے پارٹی قائدین کوگنہگار،بڑے وڈّھے”پاپی”قراردیا

    مریم نوازنے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی حمایت کرنے والے پارٹی قائدین کوگنہگار،بڑے وڈّھے”پاپی”قراردیا

    لاہور:مریم نوازنے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی حمایت کرنے والے پارٹی قائدین کوگنہگار،بڑے وڈّھے”پاپی”قراردیا ،اطلاعات کے مطابق مریم نوازنے ایک بارپھرپارٹی قائدین اوردیگرممبران کوگہنگار اوربڑے "وڈھے پاپی” قرار دیا ہے ،

    ن لیگ کی نائب صدر مریم نوازنے یہ سنگین الزام پہلی مرتبہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی دیا لیکن اس بار توپارٹی قائدین اورممبران کوبہت بہت بڑا گہنگار اورپاپی قراردیتےہوئے کہا کہ جن لوگوں نے پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن میں حمایت کی مریم نواز کی انہوں نے نوازشریف کو ناراض کیا

    آج کے تازہ بیان نے پارٹی میں بہت زیادہ بے چینی اورغیریقینی کی صورت حال اس وقت پیدا کردی جب آج مریم نوازاپنے جرائم کے دفاع میں کمرہ عدالت میں پہنچی توصحافی نے ایک سوال کردیا

    صحافی نے ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز سے سوال کیا کہ بی بی صاحبہ ذرا یہ تو بتائیں کہ ایک ایکسٹینشن پہلے دی گئی تھی اب چئیرمین نیب کو دی جا رہی کیا کہیں گی؟مسلم لیگ ن نے تو ووٹ دیا تھا؟

    اس پر مریم نوازنے بڑے متکبرانہ اورتحقرانہ انداز میں کہاکہ پہلی والی ایکسٹینشن کے گناہ میں میں شریک نہیں تھی،میں اُس ن لیگ میں نہیں تھی

    دوسری طرف پارٹی ورکرزمریم نواز کے اس بیانیئے پربہت زیادہ پریشان ہیں اوراکثرکا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرکہنا ہےکہ مریم نواز نے پارٹی تباہ کردی ہے اورمریم نواز کیوجہ سے آج ن لیگ بہت پیچھے چلی گئی ہے اب بھی وقت ہے کہ مریم نواز کو پارٹی امورسے ہٹا دیا جائے اورپارٹی میاں شہبازشریف کے سپرد کردی جائے

  • شریف فیملی قومی دولت لوٹ کرلےگئی:پارٹی ارکان قسمیں کھاکرآخرت تباہ کررہےہیں:بس یہی زندگی ہے؟شہبازگل

    شریف فیملی قومی دولت لوٹ کرلےگئی:پارٹی ارکان قسمیں کھاکرآخرت تباہ کررہےہیں:بس یہی زندگی ہے؟شہبازگل

    لاہور:شریف فیملی قومی دولت لوٹ کرلے گئی اورپارٹی ارکان قسمیں دے رہے ہے:یہ ہے ان کی زندگی کا مقصد:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی شہبازگل کہتے ہیں کہ ہوتا ہے انسان سے غلطی بھی ہوجاتی ہے لیکن معاشرےمیں سمجھ داراپنے بیٹے اور خاندان کے کسی فرد کی قسم نہیں کھاتے

    شہبازگل کہتے ہیں دیکھا ہےمعاشرے میں کبھی کبھار کوئی معاملہ ہوجائے اورایسے معاملات انسان کی زندگی میں ہوتے رہتے ہیں ، لیکن اکثر دیکھا ہے کہ لوگ خوف خدا کی وجہ سے کہتے ہیں کہ ٹھیک ہےمیرا فلاں سچا ہے لیکن میں‌ تو سگے بیٹے کی بھی قسم نہیں کھاوں گا ، جس پرالزام ہے وہ اپنے آپ کو خود سچا ثابت کرے ، شہبازگل کہتے ہیں یہ معاشرے کا ایک پلس پوائنٹ ہے

    ڈاکٹرشہباز گل کہتے ہیں کہ شریف فیملی نے توپارٹی ارکان کی زندگیاں بھی برباد کردی ہیں ، جو میرٹ پربات کرتےہوئے اپنے خاندان کے فرد کےلیے قسمیں نہیں اٹھاتے وہ سارے پارٹی ارکان شریف فیملی کے لیے قسمیں کھا رہے ہیں ، ان کی صفائیاں دے رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ وہ حیران ہیں کہ زندگی میں اور بھی معاملات ہوتے ہیں لیکن جب بھی کوئی بات ہوئی ہے تو ن لیگ کے مقلد کارکنان ، پارٹی ممبران قسمیں کھاتے ہیں کہ نوازشریف کی ساری کی ساری دولت محنت اور خون پسینے سےبنائی ہوئی ہے

    ان کا کہنا تھا کہ کوی مریم نوازکی دولت کوجائزثابت کرنے کےلیے قسمیں کھارہےہیں تو کوئی شہبازشریف کوسمجھی تے ہیں کہ ان کی ساری کی ساری دولت اپنے ہاتھ سے کمائی کی ہے

    ڈاکٹرشہازگل کہتے ہیں کہ وہ حیران ہیں کہ بڑے بڑے معزز،بذرگ اورقابل احترام پارٹی ارکان کو بھی مجبور کردیا گیا ہےکہ وہ بس ہر وقت صفائیاں پیش کریں ، ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی ایسے نہیں دیکھا کہ ملزم اس کے انتہائی قریبی خونی رشتے اورپھروکیل کے علاوہ کوئی بھی سامنے نہیں آیا لیکن یہاں تو پوری کی پوری پارٹی ہی قسمیں کھانے اورصفائیاں دینے پرلگی ہوئی ہے

    وہ کہتے ہیں کہ وہ اس بات پر بھی حیران ہیں کہ ان قسمیں کھانے والوں کوکیا یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہمارا کیا بنے گا اورہم لگے ہوئے ہیں ہر وقت شریف فیملی کی دولت کے دفاع میں

    شہاز گل کہتےہیں کہ شہباز شریف منی لانڈرنگ کیس میں اہلیہ اوربچوں سے لاتعلق،معاون خصوصی شہبازگل کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے بیٹے والد سے لاتعلق لیکن دادا کی جائیداد سے تعلق ہے،

    معاون خصوصی شہبازگل کا کہنا تھا کہ نئی بات نہیں،نوازشریف سپریم کورٹ میں اپنے بچوں سے لاتعلقی کا اظہارکرچکے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ دولت نے سگے باپ کواولاد سے دولت کی خاطرلا تعلق پیش کردیا

    ان کا کہنا تھا آئندہ جب ووٹ دینا پڑا ن لیگ لائن میں لگ کر دے گی اور آپ خاموش ہوں گی،

  • مولانا فضل الرحمن نے دوست بدلنے کا فیصلہ کرلیا:اشارہ بھی دے دیا

    مولانا فضل الرحمن نے دوست بدلنے کا فیصلہ کرلیا:اشارہ بھی دے دیا

    ڈیرہ اسمعٰیل خان:مولانا فضل الرحمن نے دوست بدلنے کا فیصلہ کرلیا:اشارہ بھی دے دیا ،اطلاعات کے مطابق بڑی تیزی سے بدلتےسیاسی حالات اورپی ڈی ایم کی نامرادیوں کے بعد مولانا فضل الرحمن نے اپنے دوست بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہے

    اس سلسلے میں معلوم ہوا ہےکہ اس کے اشارے مولانا پہلےبھی دے چکے اوراب بھی ن لیگ اورجے یو آئی ف کے درمیان کچھ ایسی دوریاں پیدا ہوگئی ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھیوں نے مشورہ دیا ہے کہ نوازشریف اورمریم نواز کوبچاتے بچاتے کہیں ہم اپنا سب گنوا نہ لیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس سلسلے میں پہلے بھی کئی بار ایسا فیصلہ ہوا لیکن نوازشریف فورا مریم نواز کو مولانا کے پاس بھیج کرمنا لیتےتھے ، جس پرمعاملہ ٹل جاتاتھا، تاہم اب مولانا نے مریم سے متاثرنہ ہونے کا ارادہ کرلیا ہے

    اس بار یہ بھی سننے کو آرہا ہے کہ نوازشریف محمود خان اچکزئی اور مولانا کے کے بعض قریبی دوستوں کو بھی اپروچ کرچکےہیں

    ادھراس حوالے سے تازہ ترین اپ ڈیٹس کے متعلق یہ کہا جارہاہےکہ مولانا فضل الرحمن نے قانون سازی کے لیے بننے والی انتخابی اصلاحات کی کمیٹیوں سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا سرا سرنقصان ن لیگ اورفائدہ حکومت کو ہوگا، ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے مولانا فضل الرحمن الیکٹرانک ووٹنگ کے خلاف نہیں ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمن الیکٹرانک ووٹنگ کے حق میں ہیں لیکن ن لیگ کے اتحادی ہونے کی وجہ سے وہ معاہدے کے مطابق ن لیگ کے موقف کے ساتھ غیرارادی طور پرہیں لیکین وہ ان انتخابی اصلاحات کی مخالفت نہیں کریں گے

    دوسری طرف مولانا فضل الرحمن نے واضح طورپرکہہ دیا ہے کہ ن لیگ پی ڈی ایم کا حصہ ہے کسی بھی معاملہ پر پی ڈی ایم کو اعتماد میں لینا ہوگا ، لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جے یو آئی ف کو اب ن لیگ پراعتماد نہیں رہا

    یہ معتبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے خدشات کا اظہار کیا ہے اور مولانا فضل الرحمان کا ن لیگ سے شدید احتجاج بھی کیا ہے جواگلے آنے والے دنوں میں پی ڈی ایم کی ٹوٹ بٹوٹ کا سبب بنے گی

  • سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان

    سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان

    آج عالم اسلام کے مرکزمملکت سعودی عرب کا قومی دن جوش وخروش سے منایا جارہا ہے۔سعودی عرب سمیت دنیا بھر کہ سفارتخانوں میں تقریبات کا اہتمام ہورہا ہے۔سعودی عرب کے قومی دن پر ہر مسلمان کے جذبات مختلف ہیں۔سعودیہ عرب سے پاکستان کا دینی اعتبار سے بھی اہم رشتہ ہے کعبۃ اللہ اور گنبد خضریٰ کی وجہ سے.پاک سعودی تعلقات پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے قبل کے ہیں.1946ء میں قائد اعظم نے ایم ایچ اصفہانی کی معیت میں مسلم لیگ کا ایک نمائندہ اقوام متحدہ بھیج دیا اس وفد کے ذمے یہ کام سونپا گیا تھا کہ تحریک پاکستان کے لئے عالمی راہنماؤں کی تائید حاصل کی جائے۔ اقوام متحدہ کا اجلاس شروع ہو چکا تھا تب چونکہ پاکستان معرض وجود میں نہیں آیا تھا اس لئے مسلم لیگ کے وفد کو اجلاس میں داخل ہونے سے روک دیا۔اس وقت سعودی وفد کی قیادت شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز (جو بعد ازاں مملکت کے بادشاہ بنے)کر رہے تھے۔ جب معلوم ہوا تو بنفس نفیس خود باہر نکل کر انھوں نے مسلم لیگ کے وفد سے نہ صرف ملاقات کی بلکہ اپنے ہوٹل میں ایک ظہرانہ رکھا اور عالمی راہنماؤں کو وہاں مدعو کیا اور ان سے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں کا وفد آپ کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہتا ہے چنانچہ نیویارک کے ہوٹل میں وفد نے اپنا موقف عالمی راہنماؤں کے سامنے پیش کیا۔پاکستان معرض وجود میں آیا تو مرحوم شاہ عبدالعزیز آل سعود پہلے راہنما تھے جنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو ٹیلیفون کرکے مبارک باد پیش کی تھی.اس کے بعد پاکستان اور سعودی عرب میں دوستی کا پہلا معاہدہ شاہ ابن سعود کے زمانے میں 1951ء میں ہوا تھا۔ شاہ فیصل کے دور میں ان تعلقات کو بہت فروغ ملا۔ سعودی عرب ان چند ممالک میں ہے جنہوں نے سرکاری سطح پر مسئلہ کشمیر میں پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی۔ ستمبر1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد کی۔ اپریل 1966ء میں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔ یہ مسجد آج شاہ فیصل مسجد کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ 1967ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان میں فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔ اپریل 1968ء میں سعودی عرب سے تمام برطانوی ہوا بازوں اور فنی ماہرین کو رخصت کر دیا گیا اور ان کی جگہ پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ء کے سیلاب مین مالی امداد فراہم کی اور دسمبر 1975ء میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔ پاکستان کے عوام ان کو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک بڑے شہر لائل پور کا نام انہی کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا جبکہ کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ انہی کے نام پر شاہراہ فیصل کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک بہت بڑی آبادی شاہ فیصل کالونی کہلاتی ہے اور اسی کی نسبت سے کراچی کے ایک ٹاؤن کا نام شاہ فیصل ٹاؤن ہے۔جبکہ سعودی دارالحکومت ریاض اور جدہ شہر میں ”شارع محمد علی جناح ” کے نام سے سڑکیں موسوم ہیں۔ایک وقت وہ بھی پاکستان پر آیا جب ہمارے ہمسائے ملک بھارت نے دھماکے کرکے ہمیں خبردار کردیا.پورے عالم اسلام میں کسی کے پاس ایٹمی قوت نہیں تھے.پاکستان نے بسم اللہ پڑھ کر اس منصوبے پر کام شروع کردیا.عالمی طاقتوں نے پاکستان کے قرضے بند کردیے پاکستان کی امداد روک دی کوئی پاکستان کو ایک بیرل تیل دینے کو تیار نا تھا.اس موقع پر مخلص دوست سعودی عرب نے پچاس ہزار بیرل تیل فی دن کے حساب سے تین ماہ مفت تیل دیا جس سے پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکا.جب پاکستان ایٹمی قوت بن گیا اور 1998 ء مئی میں چھ دھماکے کرکے بھارت کو اس کی جارحیت کا جواب دیا دوسری طرف سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل اللہ کے حضور سجدے میں جھک گئے اور سعودیہ میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں کیونکہ پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن چکا تھا.
    کوئی بھی ایسا مشکل وقت پاکستان پر آیا ہو سعودی حکومت نے پاکستان کا ساتھ دیا.جب حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے دوران جنگ ہوئی توسعودیہ عرب نے پاکستان سے مدد طلب کی.پاکستان نے اس وقت کے حکمران میاں محمد نواز شریف کو اپنے حامیوں سمیت دیگر اراکین اسمبلی کی مخالفت بھی تھی اس کے باوجود انہوں نے سعودیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی حامی بھرلی اور یہاں سے فوج روانہ کی.سعودیہ عرب نے پاکستان کے ساتھ ملکر فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کیا جس میں 39 ملک کی افواج کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس فوجی اتحاد کی سربراہی جنرل راحیل شریف کو سونپی گئی جو پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے.
    پاکستان اور سعودیہ کی دوستی کے بارے میں اگر لکھا جائے تو کتاب چھپ سکتی ہے اتنے الفاظ ہیں تو چلتے ہیں پاکستان کی برسراقتدار حکومت کے سعودیہ عرب سے تعلقات کی طرف جب عمران خان صاحب وزیر اعظم بنے انہوں نے وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے سعودیک عرب کا دورہ کیا اور اس کے بعد بھی مختلف اوقات میں دورے کیے جن میں سعودی عرب کے حاکم کو پاکستان دورے کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کی اور پاکستان تشریف لائے اس دوران کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔اس حالیہ کورونا وباء نے پوری دنیا میں اپنا جال بچھایا اسی طرح سعودی عرب کو بھی بری طرح اس نے متاثر کیا۔سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے لاکھوں زائرین حرمین شریفین اور مدینۃ النبی ﷺ کی زیارت سے محروم رہے۔اس وباء کے دوران سعودی حکومت نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔بالخصوص حج جیسے فریضے کو رکنے نہیں دیا جو کہ میں سمجھتا ہوں سعودی حکومت کا قابل تحسین اقدام ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کا قلب وجان کا تعلق خدا تعالی ہمیشہ قائم رکھے اور سرزمین حرمین کو دشمن کی نظر سے محفوظ رکھے۔آمین

  • خصوصی صفائی آپریشن کی مانیٹرنگ کے سلسلہ میں سی ای او کاشف رضا اعوان کا دیگر افسران کے ہمراہ شہر کا دورہ

    خصوصی صفائی آپریشن کی مانیٹرنگ کے سلسلہ میں سی ای او کاشف رضا اعوان کا دیگر افسران کے ہمراہ شہر کا دورہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے شہر میں خصوصی صفائی آپریشن کی مانیٹرنگ کے سلسلہ میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کاشف رضا اعوان نے آپریشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں کا علی الصبح دورہ کیا۔انہوں نے ستیانہ روڈ،جھال چوک،ڈی گراونڈ،بٹالہ کالونی اور دیگر علاقوں کے دورہ کے موقع پر کہا کہ صفائی آپریشن میں سخت مانیٹرنگ سے موثر اور مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔افسران کے علی الصبح فیلڈ میں موجود ہونے کے سبب تمام مشینری بھی فیلڈ میں بروقت پہنچ رہی ہے۔انہوں نے یونین کونسلوں میں تعینات صفائی عملہ اور گاڑیوں کے اوقات کار کا بھی جائزہ لیا۔انہوں نے فیلڈ افسران کو ہدایت کی کہ عملہ صفائی کی سخت مانیٹرنگ کی جائے،شہر کی صفائی میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔خستہ حال ویسٹ کنٹینرز فوری مرمت کراکر رکھے جائیں تاکہ شہریوں کو کوڑا کرکٹ ڈمپ کرنے میں آسانی ہو۔سی ای او ایف ڈبلیو ایم سی نے کارکردگی میں مزید بہتری کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ تمام ورکرز اور فیلڈ سٹاف اپنی فیلڈ میں حاضری 100 فی صد کریں۔سی ای او ایف ڈبلیو ایم سی کاشف رضا اعوان نے مختلف علاقوں کے وزٹ کے دوران شہریوں سے درخواست کی ہے کہ صفائی برقرار رکھنے کے لئے ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا ساتھ دیں۔صفائی کے متعلق شکایات کی صورت میں ہماری ہیلپ لائن 1139 یا سوشل میڈیا اکاونٹس پر آگاہ کریں۔

  • 9 ارب روپے کی خطیر رقم سرکاری ہسپتالوں میں ادویات و علاج معالجہ کی غرض سے جاری

    9 ارب روپے کی خطیر رقم سرکاری ہسپتالوں میں ادویات و علاج معالجہ کی غرض سے جاری

    فیصل آباد (عثمان صادق ) صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی سے الحاق شدہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویات وعلاج معالجہ کی فراہمی اور ہسپتالوں کی ڈویلپمنٹ کے لئے 9 ارب روپے کے خطیر فنڈز کی منظوری دی گئی ہے جن میں سے 2 ارب روپے کا بجٹ ادویات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ مریضوں کو لوکل پرچیز کے ذریعے ادویات فرا ہم کی جا ئیں گی۔انہوں نے یہ بات دورہ فیصل آباد کے دوران فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔وائس چانسلر ڈاکٹر ظفرعلی چوہدری، ایم پی اے عادل پرویز گجر اور دیگر ارکان بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ادویات کے فنڈز سے مریضوں کو لوکل میڈیسن کے علاوہ مہنگی ادویات بھی دستیاب ہونگی۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی کا مسئلہ سر اٹھا رہا ہے اگرچہ فیصل آباد میں صورتحال سنگین نہیں لیکن احتیاط ناگزیر ہے۔انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ذریعے شہریوں سے اپیل کی کہ گھروں میں کسی جگہ پانی جمع نہ ہونے دیں،بارشوں کے دوران زیادہ احتیاط برتیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی چوتھی لہر میں اگرچہ کمی ہوئی ہے لیکن ایس اوپیز پر عملدرآمد میں کمی نہیں ہونی چاہیے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بھرپور کوشش ہے کہ اس سال کے آخر تک صوبہ کے 70 فیصد لوگوں کو ویکسینیٹ کردیا جائے جبکہ اب تک 4 کروڑسے زائدافراد کو کورونا ویکسین لگائی جاچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے آئندہ 10لاکھ روپے تک علاج معالجہ فری ہوگا،جن افراد نے ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا وہ فوری بنوالیں تاکہ ہیلتھ کارڈ کی سہولت سے محروم نہ رہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ الائیڈ ہسپتال میں آکسیجن جنریٹنگ پلانٹ لگا رہے ہیں جس سے آکسیجن کی کمی دور ہوگی جبکہ کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے کیموتھراپی کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔