پاکستان رینجرز(سندھ)کی جانب سے کراچی کے علاقے سعید آباد بلدیہ ٹاؤن میں گریس فل گرائمر اسکول میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس، المصطفی ویلفیئر ٹرسٹ اور الحیات ہسپتال جبکہ اندرونِ سندھ میں بدین کے علاقے گوٹھ احمد راہمو گنی میں پی پی ایچ آئی بدین اور الاشرف ویلفیئر ٹرسٹ میرپور خاص کے تعاون سے علاقے کے لوگوں کے لیے فری میڈیکل کیمپس کااہتمام کیا گیا۔
میڈیکل کیمپس میں علاقے کے غریب اور مستحق افراد کو مفت طبی سہولیات مہیا کی گئیں۔ اس موقع پر فری میڈ یکل کیمپس میں میڈیکل اسپیشلسٹ، ڈائیبٹالوجسٹ، ای این ٹی اسپیشلسٹ،جنرل فزیشن، آنکھوں کے اسپیشلسٹ،بچوں کے اسپیشلسٹ،گائناکالوجسٹ،ڈرماٹالوجسٹ،سائنالوجسٹ،لیڈی ڈاکٹرزاوررینجرزکے ڈاکٹرز نے 1800 سے زائد مریضوں جن میں خواتین،بچے اور بزرگ بھی شامل تھے کا طبی معائنہ کیااورمفت ادویات فراہم کی گئیں۔میڈیکل کیمپس میں کورونا وائرس کی ویکسین بھی لگائی گئیں۔ علاقے کے لوگوں نے پا کستان رینجرز سندھ کی جا نب سے کیئے جا نے والے اس اقدام کو سراہاتے ہو ئے خراج تحسین پیش کیا۔
Author: +9251
-

پاکستان رینجرز(سندھ)کی جانب سے بلدیہ ٹاؤن اور اندرون سندھ فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد
-

یوم امن کے موقع پر مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ہوا ہے،بلاول بھٹو زرداری
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج عالمی یوم امن کے موقع پر مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ہوا ہے۔اگر دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے تو اقوام متحدہ کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ایک ٹیسٹ کیس ہے۔عالمی یوم امن پر اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عالمی یوم امن کے موقع پر آج مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین بھارتی جارحیت کا سامنا کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج عالمی یوم امن کے موقع پر مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ہوا ہے۔اگر دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے تو اقوام متحدہ کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ایک ٹیسٹ کیس ہے۔مشرق وسطی سے وسطی ایشیا تک دنیا کو قیام امن کے حوالے سے بڑے چیلنجز درپیش ہیں جن کا مشترکہ کاوشوں سے حل نکالنا ہوگا۔ -

ہمارے ڈراموں میں مردوں کو مہذب کیوں نہیں دکھایا جاتا ، شرمیلا فاروقی
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی نے مقبول ترین ڈرامیخدا اور محبت ایک سین پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔گزشتہ روز شرمیلا فاروقی نے انسٹاگرام پوسٹ میں ڈرامہ خدا اور محبت سیزن 3 کے ایک سین کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ہمارے ڈراموں میں میاں بیوی کی بات چیت کو نارمل انداز میں بھی دکھایا جا سکتا تھا مگر سمجھ نہیں آتا کہ ڈرامہ رائٹر تشدد کے راستے کا ہی کیوں انتخاب کرتے ہیں صرف ٹوپی کے گرنے پر ہی خواتین پر تشدد کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہی ان کا کہنا تھا کہ ڈرامے خدا اور محبت کی نشر ہونے والی آخری یعنی 33 ویں قسط میں ڈرامے کا کردار ناظم شاہ اپنی اہلیہ صاحبہ کو ماہی کے ساتھ مزار جانے کے معاملے پر تھپڑ مار دیتے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میاں اور بیوی کے درمیان نارمل حالات میں بھی بات چیت ہو سکتی تھی مگر ڈراما ساز نے یہ دکھایا کہ جب کوئی مرد غصے میں آتا ہے تو وہ خواتین پر تشدد کرکے ہی پر سکون ہوتا ہے۔شرمیلا فاروقی نے کہا کہ پتہ نہیں کیوں ہمارے لکھاری اپنے ڈراموں میں مردوں کو مہذب کیوں نہیں دکھاتے، وہ کیوں ہر مرد کو ایسا دکھاتے ہیں کہ مرد غصے میں آکر آپے سے باہر ہوجاتا ہے اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے لگتا ہے۔ -

پیار، پریم اور پریتم ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ
؎من کے اندر پی بسے پی کے اندر پریت
خود میں اتنا ڈوب جا مل جاے گا میت
ابراہیم اشکؔ کے اس دوہے کے پہلے مصرعہ میں میری نظر ”پی” اور ”پریت” پر ٹھہری ہوئی ہے۔ یہاں ”پی“ سے مراد محبوب اور ”پریت“ سے مراد محبت ہے۔ سنسکرت میں پاکیزہ محبت کے لیے لفظ پری "Pri” ہے اسی سے پریا (محبوب)،پریانکا اور پریا درشنی نام بھی ہے جس کا مطلب نظروں کو لبھانے والی ہوتا ہے۔ لفظ لبھانے کو آگے جاکر دیکھتے ہیں۔ ”پری“ نے ”پریم“ کو جنم دیاپریم کو ہم سراج اورنگ آبادی کے اس شعر میں دیکھ سکتے ہیں۔
؎تجھ زلف میں دل نے گم کیا راہ
اس پریم گلی کوں انتہا نئیں
اردو زبان میں ایک عام لفظ ہے ”پیار“ یہ بھی پری سے ہی ماخوذ ہے۔ اردو گیتوں میں جب پیا پکارا جاتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ پری کا ہی روپ ہوتا ہے۔قلی قطب شاہ کیا خوب کہہ گئے ہیں کہ
؎پیا باج پیالا پیا جاے نا
پیا باج یک تل جیا جاے نا
اگر بات کی جاے انگریزی کے لفظ love کی تو یہ پہلے lew تھا پھر lewbhبنا اور جرمن زبان میں پہنچ کر luboکا پیراہن پہن لیا اور قدیمی انگریزی میں جاکر lufu کا تاج پہن کر love ہوگیا۔ روسی اسے لیوب ”liub” جب کہ جرمن ”lieb” کہتے ہیں۔ انگریزی لغات بتاتی ہیں کہ جرمن لفظ کا ماخذ leubhہے اب اگر سنسکرت کے لفظ لوبھ (محبت، شہوت) پر نظر ماریں تو عقدہ کھلتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو تعلق باہمی ہے۔اور پھر اسی سنسکرت کے لفظ سے اردو کا لفظ لبھانابن گیا جس کامطلب لالچ دینا، پرچانا اور پُھسلانا وغیرہ ہے۔ آرزو لکھنوی کا شعر ملاحظہ کیجیے
؎معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے
دل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے
شپلے اور کلے براون جیسے ماہرین لسانیات اس بات پر متفق ہیں کہ لفظ ”پرائی” اور ”پری” کا ”پریا” سے تعلق ہے۔ اب ہمارا گمان ہے کہ پ (P) کی آواز ف (F)سے بدل گئی اور انگریزی کےFree اور جرمن کے Frei بن گئے۔ حضرت انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کو قیمتی ترین سمجھتا ہے اور اسے حتی الامکان آزادی دی جاتی ہے۔ اب اگر ہم جمعہ کی انگریزی Fridayپر نظر ماریں تو اس میں بھی غالب امکان ہے کہ یہی مادہ کارفرما ہوگا۔ویسے انگریزی کا مذکورہ لفظ Freyaسے نکلا ہے جو کہ ایک مفروضے کے مطابق پیار اور خوب صورتی کے دیوتا سے منسلک ہے اور شاید اسی کی وجہ سے انگریزوں کا خیال ہے کہ جمعہ کے روز پیدا ہونے والے بچے کے مقدر میں محبت زیادہ ہوتی ہے۔ پری کے”پ“ کا”ف“ سے بدلنا ہمیں انگریزی کے fray اور frightجیسے الفاظ سے روشناس کرواتا ہے۔ انگریزی میں friendہی ایسا لفظ ملا ہے جو پری کے اصل تک لے جاتا ہے۔ سویڈن کے لوگ دوست کو frande اور پرتگال کے لوگ veiend کہتے ہیں۔ قدیمی انگریزی محبت کرنا کو Freon لکھتے تھے جو کہ Friendکا ماخذ ہے اور یہ سنسکرت کے لفظ پری کے مفہوم سے مجھے توکچھ دور نہیں لگا۔باقی احمد پوری کا شعر پڑھیے کیا بروقت یاد آیا ہے اور ہمیں اجازت دیجیے
؎ دوست ناراض ہوگئے کتنے
اک ذرا آئنہ دکھانے میں -

شوہر کی خدمت”محبت یا غلامی”.تحریر: راحیلہ عقیل
نئے دور میں جہاں عورت کو آزادی چائیے وہی شوہر کے حقوق پر عورت چیخ اٹھتی ہے آج کی پڑھی لکھی عورت مرد سے برابری کا حق مانگتی ہے آزادی خودمختاری مانگتی ہے وہی وہ شوہر کے حقوق سنے ماننے سے صاف انکاری ہے شوہر کی خدمت فرض سمجھ کر کرنے والی خواتین کو کمزور جاہل سمجھا جاتا ہے جیسے عورت خدمت دباؤ یا زبردستی کررہی ہے حالانکہ
رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ’’اگر میں خدا کے سوا کسی دوسرے کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں ۔‘‘(جامع الترمذی، کتاب الرضاع (۱۰)باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ ، رقم
اس کے باوجود اس عمل کو آج کے دور میں بری نظر سے دیکھا جاتا ہے جہاں ہماری مائیں ابا جی کے گھر میں قدم رکھتے ہی پانی کا گلاس بھرے انکے سامنے کھڑی ہوتی انکے لیے گرم روٹی توے سے اتاری رہی ہوتی وہی آج کی عورت شوہر کو حکم دے رہی ہوتی آتے وقت روٹیاں لے آنا دس کام مرد کو باہر ہی گنوا دیے جاتے سارا دن کام سے تھکا ہارا مرد گھر میں سکون کا سانس کیسے لے آتے ہی ساس بہو کی چک چک شروع ہوجاتی،پہلے کے دور میں کہیں شاد و ناد ہی سنے کو ملتا میاں بیوی کے جھگڑے ہورہے ہیں اب کے دور میں یہ فساد ہر دوسرے گھر میں پایا جاتا ہے فساد کی آگ میں گھر اجڑ رہے اولاد الگ نافرمان ہورہی اللہ پاک نے جس عمل کو سخت ناپسند کیا وہی عمل تیزی سے پھیل رہا ہے اب کی عورت خدمت کو غلامی کا نام دے کر اپنی جان چھڑانا مناسب سمجھتی ہے اگر کوئی خاتون اس معاملے پر عورت کے حق میں بات کرے تو اسکو نیچا دکھایا جاتا بیٹیوں کو شوہر کی خدمت وفاداری محبت سکھانے کے بجائے کیسے قابو رکھنا ہے یہ طور طریقے سکھائے جاتے نا کے اسے سمجھایا جاے کے شوہر کی ایک آواز پر کھڑی ہوجاو۔۔۔۔۔۔اور رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’جس عورت کی موت ایسی حالت میں آئے کہ مرتے وقت اس کا شوہر اس سے خوش ہو وہ عورت جنت میں جائے گی۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح ، ۴۴۔باب حق الزوج علی المرأۃ ، رقم ۱۸۵۴، ج۲، ص۴۱۲)
اور یہ بھی فرمایا کہ ’’جب کوئی مرد اپنی بیوی کو کسی کام کے لئے بلائے تو وہ عورت اگر چہ چولھے کے پاس بیٹھی ہو اس کو لازم ہے کہ وہ اٹھ کر شوہر کے پاس چلی آئے۔‘‘
(جامع الترمذی ، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ (ت : ۱۰) رقم ۱۶۶۳، ج۲، ص۳۸۶)
اتنا سب جاننے کے باوجود ہمارے معاشرے میں طلاقیں بڑھ رہی ہیں بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرے اسکو خوش رکھے اسکا دل اپنی محبت سے بھر دے، اب الٹا عمل دیکھنے کو ملتا ہے ہر عورت پر لازم ہے وہ اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرے اسکی وفادار رہے زندگی بھر اسکی خدمت گزاری کرے
جو عورتیں اپنے شوہروں کی خدمت کرتی ہیں اللہ پاک انکو بہت پسند کرتے ہیں جس عورت سے اسکا شوہر خوش ہو ایسی حالت میں موت آجاے افضل ہے وہ عورت اور جس عورت سے اسکا شوہر ناراض ہو ایسی حالت میں عورت کو موت آجاے وہ جہنم کی آگ میں جلتی رہے گی شریعت کے مطابق زندگی گزارنے والی عورتیں دنیا و آخرت میں کامیابی رہیں گی۔۔۔۔۔۔اللہ پاک ہر بہن بیٹی کا نصیب اچھا کرےشوہر کی اطاعت و خدمت فرض ہے۔ آخرت کی زندگی میں کامیابی کا دارومدار شوہر کی خدمت میں مضمر ہے۔ جنتی عورت ہمیشہ شوہر کی تابعدار ہوتی ہے، اس کے آرام و سکون کا خیال رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
ہوسکتا ہے میری اس تحریر سے بہت سی خواتین کو اختلاف ہو وہ مانے نا نہیں مگر ہمیں ہمارے مذہب میں جو سکھایا سمجھایا اور بتایا گیا ہے وہی حقیقت ہے جس پر چل کر ہم اللہ کو راضی کرسکتے ہیں بےشک نیک عورتیں،نیک مرد ہی جنت میں جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
انشاء اللہ اگلی تحریر میں بیوی کے حقوق پر بھی لکھا جاےگا بشرط کے زندگی رہی -

کابل دھماکے میں بھارت ملوث. تحریر: محمد شعیب
کیا کابل دھماکے میں بھارت ملوث ہے۔فرانس امریکہ اور اسٹریلیا سے بہت ناراض ہے اور سفیر واپس بلانے کے باوجود غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا۔ اب فرانس کیا کرنے جا رہا ہے۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے حیران کن معلومات لیک ہوئی ہیں کہ وہ چین پر ایٹمی حملہ سمیت کیا کچھ کر سکتے تھے اس پر بھی روشنی ڈالیں گے ہم آپ کو ایک عرصے سے بتا رہے ہیں کہ دنیا بدل رہی ہے، دوست دشمن اور دشمن دوست بن رہے ہیں، امریکہ اور یورپ نے اپنا دشمن ڈونڈھ لیا ہے جبکہ یہ اآپس میں بھی کسمکش میں مبتلا ہیں۔ دنیا کی توجہ اور جنگوں کا مرکز اب مشرق وسطہ سے ہٹ کر Asia- pacific کی طرف آرہا ہے۔
پہلے میں آپ کو تین خلیجی ممالک کے طاقتور ترین لوگوں کی تصویر دیکھانا چاہوں گا۔کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس تصویر میں درمیاں میں نیکرپہنے مشرق وسطہ کا سب سے طاقتور شخص اور سعودی عرب کا کراون پرنس محمد بن سلمان ہے۔ جبکہ اس سے بھی حیران کن بات اس کے ساتھ نیکر اور ٹی شرٹ میں کھڑا قطر کا امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی،جبکہ نیلی ٹی شرٹ میں متحدہ عرب امارات کے شہزادے اور قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زید النہیان ہیں۔ یہ تصویر سعودی ولی عہد کے نجی دفتر کے ڈائریکٹر بدر العساکر کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کی گئی۔عربی زبان میں کی جانے والی اس ٹوئٹ میں بدر العساکر نے لکھا کہ بحیرہ احمر میں ہوئی برادرانہ و دوستانہ ملاقات نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور اماراتی قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زید النہیان کی قربت کی وجہ بن گئی۔ دوہزار سترہ میں میں سعودی عرب، یو اے ای، بحرین اور مصر نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیے تھے۔لیکن اب اتنے دوستانہ ماحول میں تین ممالک کی اہم شخصیات کی تصویریں یہ پیغام دے رہی ہیں کہ جہاں دنیا بھر میں نئی صف بندی ہو رہی ہے وہاں مشرق وسطی میں بھی اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اور یہ خطے میں امن اور ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہیں بھارت کو اپنی بڑی مارکیٹ کی وجہ سے ایک Advantageحاصل ہے جس کی وجہ سے دنیا کی بڑی طاقتیں اس کے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈال رہی ہیں، لیکن آئے روز بھارت کا کوئی نہ کوئی کارنامہ منظر عام پر آجاتا ہے۔ ان ایک بڑا سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کیا بھارت کابل ائیرپورٹ پر خودکش حملےمیں ملوث ہے؟ داعش خراسان کےمیگزین ’صوت الہند‘ کےمطابق گذشتہ ماہ کابل ائیرپورٹ پر خودکش حملہ آور پانچ سال قبل بھارت میں گرفتار ہوا تھا، مگر اسے رہا کرکے افغانستان بھیج دیا گیا تھا مبصرین سوال اٹھا رہےہیں کہ کیا وہ بھارتی ایجنسی سے رابطےمیں تھا؟ جبکہ بھارت کے TTPBLAاورIsis کے ساتھ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بھارت انہی گروپوں کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے۔ کیا امریکہ اس پر تحقیق کرے گا ۔۔ نہیں۔۔ بلکہ امریکہ اپنا سارا غصہ پاکستان پر نکالنے کی کوشش کرے گا اوراس کے لیے امریکہ میں گراونڈ بنایا جا رہا ہے۔ اخباروں کے اداریوں سے لے کر گانگریس تک پاکستان کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کو غیر معمولی سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کے حملے کو روکا جا سکے۔
داعش کی 20 صفحات پر مشتمل پروپیگنڈہ میگزین کے نئے شمارے میں لکھا گیا ہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ہزاروں افغان بیورو کریٹ ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور اسی دوران عبد الرحمان لوگری نامی خود کش حملہ آور نے 13 امریکی فوجیوں اور ایک درجن سے زائد طالبان جنگجو سمیت 250 کے قریب لوگوں کو ہلاک کیا۔میگزین میں لکھا گیا ہے کہ ’کابل ایئر پورٹ حملے میں ملوث خود کش حملہ آور عبدالرحمان پانچ سال پہلے دہلی میں اس وقت پکڑا گیا تھا جب وہ وہاں پر کشمیر میں مظالم کا بدلہ لینے کے لیے ہندو عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ لیکن اللہ نے کچھ اور فیصلہ کیا تھا ۔ ان کو گرفتاری کے بعد قید میں رکھا گیا تھا اور پھر افغانستان ڈی پورٹ کردیا گیا جہاں پر ایئرپورٹ پر خود کش حملہ کیا۔‘وائس آف ہند میگزین کے بارے میں مختلف رپورٹس میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ میگزین بھارت سے آپریٹ کیا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان کے لیے ایک انتہائی اچھی خبر ہے کہ ارجنٹینا نے پاکستان سے 12 جے ایف-17 اے بلاک تھری لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔یہ خبر اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی جب ارجنٹینا کی حکومت نے اپنی قومی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سال 2022 کے بجٹ میں اس مقصد کے لیے 66 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی۔فنڈ مختص کرنے کی تجویز کا مطلب یہ نہیں کہ سودا طے پاگیا ہے کیوں کہ فروخت کے معاہدے پر ابھی دستخط ہونے باقی ہیں۔تاہم اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ارجنٹینا نے جے ایف-17 طیاروں کو زیر غور متعدد آپشنز پر فوقیت دی ہے۔ارجنٹینا اس خریداری پر گزشتہ سال سے غور کر رہا ہے جب برطانیہ نے اس کی دیگر ذرائع سے طیارے خریدنے کی سابقہ کوششوں کو روک دیا تھا۔2015 سے سویڈن اور جنوبی کوریا سے لڑاکا طیارے خریدنے کی کوشش کررہا تھا لیکن دونوں فروخت کنندگان برطانوی دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے۔ارجنٹینا نے 2015 میں سویڈش جے اے ایس 39 گرپن لڑاکا طیارے حاصل کرنے کی کوشش بھی کی تھی، بعد میں اس نے جنوبی کوریائی ایف اے-50 فائٹنگ ایگل میں بھی دلچسپی دکھائی۔جے ایف-17 جیٹ طیاروں میں برطانیہ کی تیار کردہ ایجیکٹر سیٹ بھی ارجنٹینا کو طیاروں کی فروخت میں ایک تنازع بنی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ ارجنٹینا کی فضائیہ کے لیے لڑاکا طیاروں کی تلاش میں دوسری مشکل مہنگے آپشنز کے لیے فنڈز کی کمی ہے۔خیال رہے کہ ارجنٹینا کی فضائیہ 2015 میں نمایاں طور پر ختم ہو گئی تھی جب اس نے ڈاسالٹ میراج 3 انٹرسیپٹر طیارے کے پرانے بیڑے کو ریٹائر کیا تھا جو اس وقت تک فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتا تھا۔جے ایف 17 تھنڈر ایک جدید، وزن میں ہلکا، تمام موسموں، دن، رات ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جس نے مودی کی بے وقوفی اور بادلوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کی کوشش کے نتیجے میں بھارتی مگ طیارے زمین بوس کر کے دنیا بھر میں شہرت کمائی ۔
آسٹریلیا کے ساتھ آبدوزیں فراہم کرنے کے 50 ارب آسٹریلوی ڈالرز کا معاہدہ منسوخ ہونے کے بعد فرانس نے امریکہ اور آسٹریلیا پر جھوٹ بولنے اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہےفرانس کے وزیر خارجہ نے کہا: ’جھوٹ بولا گیا، دہرا معیار اختیار کیا گیا، اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی اور توہین کی گئی۔ ایسے نہیں چلے گا۔‘اب دو اتحادیوں کے درمیان ’سنگین بحران‘ پیدا ہو رہا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کا بیان فرانسیسی صدرکے حکم پر تاریخ میں پہلی دفعہ امریکہ اور آسٹریلیا سے فرانس کے سفیروں کو واپس بلانے کے ایک روز بعد سامنے آیافرانسیسی سفیروں کو واپس بلانا ایسا اقدام ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں اور اس سے معاہدے کی منسوخی پر فرانس میں پائے جانے والے غصے کا اظہار ہوتا ہے۔AUKASآکوس میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ لیکن اس حوالے سے فرنسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہہم ان کی مسلسل موقع پرستی کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس لیے وضاحت کے لیے اپنے سفیر کو واپس بلانے کی ضرورت نہیں۔‘سکیورٹی معاہدے میں لندن کے کردار کے بارے میں فرانس کے وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’سارے معاملے میں برطانیہ کی حیثیت کسی حد تک تیسرے پہیے کی ہے۔‘جب فرانس 2022 میں NATO صدارت سنبھالے گا تو یورپی یونین کی سلامتی کے حوالے سے حکمت عملی کی تیاری کو ترجیح دے گا۔جبکہ امریکہ کے مطابق ۔۔ اس دفاعی معاہدے کے ذریعے (ساؤتھ چائنہ سی) میں چینی اثر و رسوخ کم کرنے کی کوشش کی جائے گی
ڈونلڈ ٹرمپ چین پر ایٹمی حملہ کر سکتے تھے۔؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت ختم ہونے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد کئی کتابیں سامنے آ چکی ہیں جن میں وائٹ ہاؤس میں سابق رپبلکن صدر کے چار ہنگامہ خیز سالوں کے اختتام کے بارے میں ڈرامائی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جن میں سے چند ایک کا میں ذکر کر دیتا ہوں۔وائٹ ہاؤس کی ایک میٹنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر کہا کہ ان کی بیٹی ایوانکا کے شوہر اور وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر جیرڈ کشنر امریکہ سے زیادہ اسرائیل کے وفادار ہیں اپنے دور صدارت کے اختتام کے قریب اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے لیے صدر ٹرمپ کا رویہ اس قدر تشویش ناک ہو گیا تھا کہ انہوں نے سوال کرنا شروع کر دیا کہ کیا 2020 کے انتخابات ہارنے کے بعد ٹرمپ کا ذہنی استحکام اس قدر انتشار کا شکار ہو جائے گا کہ وہ ملک کو جنگ میں دھکیل دیں گے۔ایوان کی سپیکر نینسی پیلوسی ٹرمپ کے حامیوں کے کیپیٹل ہل پر حملے سے اس قدر ناراض ہوئیں کہ انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملے سے کہا کہ وہ صدر کو بغاوت کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا جانا چاہیے۔اور جنرل مارک ملے خود اس بات سے بہت پریشان تھے کہ صدر ٹرمپ کی حرکتیں غیر ملکی حریف کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ امریکی فوج کے سربراہ کو بالآخر اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ بیک چینل کالز کا سلسلہ شروع پڑا تاکہ انہیں یقین دلایا جا سکے کہ امریکی حکومت مستحکم ہے اور صدر ٹرمپ بیجنگ پر حملہ نہیں کریں گے۔جنرل مارک ملے پریشان ہو گئے کہ صدر ٹرمپ’ بدمعاشی پراتر‘ جائیں گے اور 20 جنوری کو عہدہ چھوڑنے سے پہلے کسی بھی وقت چین پر ایٹمی حملہ کر دیں گے۔کیپیٹل ہل پر حملے کے دو دن بعد جنرل ملے نے نیشنل ملٹری کمانڈ سینٹر کے انچارج سینئر افسران کا ایک اجلاس بلایا تاکہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے رسمی عمل کا جائزہ لیا جائے جس میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل تھا۔جنرل ملے نے افسران کو بتایا کہ وہ کسی بھی ایسے احکامات کو نظر انداز کر دیں جن میں ان کو بائے پاس کیا گیا ہو۔جنرل ملے نے اجلاس میں موجود ہر ایک افیسر کی آنکھوں میں دیکھنے اور ان سے زبانی تصدیق کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے۔ آپ ضابطہ کار پر عمل کریں۔ اور میں اس ضابطہ کار کا حصہ ہوں
-

ڈی ایس پی فیروزوالہ کی شاندار کاروائی
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) ڈی پی اوصاحب شیخوپورہ جناب احسن سیف اللہ صاحب کی ہدایت کے مطابق زیر نگرانی عمران عباسDSP فیروزوالہ، جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں
اس سلسلہ میں جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سپیشل سرچ آپریشن علاقہ تھانہ فیکٹری ایریا میں کیا گیا ہے جو دوران سپیشل سرچ آپریشن درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا جن کے قبضہ سے 04 عدد کلاشنکوف، 01 رائفل223بور،01 گن 12 بور، 02 پسٹل 120گولیاں ، 3کلو 547گرام چرس، 25 لیٹر شراب برآمد کرکے مطابق قانون کاروائیاں عمل میں لائی گئیں
دوران سرچ آپریشن 02 کس سابقہ ریکارڈ یافتگان جنیند عرف چاند اور علی حیدر کی گرفتاری عمل میںلائی گئی جبکہ 07 کس ملزمان کو کرایہ داری ایکٹ کی پاسداری نہ کرنے کی پاداش میں گرفتارکرکے قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی
اس سپیشل سرچ آپریشن میں SHOتھانہ فیکڑی ایریا فیصل عباس انسپکٹر اور سرکل کی نفری کے علاوہ ایلیٹ فورس کو بھی شامل کیا گیا۔اس موقع پر DPOصاحب شیخوپورہ کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائیاں اسی طرح جاری رہیں گی اور شیخوپورہ کو امن کا گہوارہ بنایا جائےگا۔یا تو جرائم پیشہ افراد کو اپنی مجرمانہ سرگرمیاں ترک کرنا پڑیں گی یا ان کو پابند سلاسل ہونا پڑےگا۔
-

ڈسٹرکٹ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام انٹر تحصیل ہاکی چیمپئن شپ کا انعقاد
فیصل آباد (نمائندہ ایف ٹی وی) ڈسٹرکٹ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام سپورٹس کیلنڈر 2021/2022 انٹر تحصیل ہاکی چیمپئن شپ بوائز ہاکی سٹیڈیم میں کھیلا گیاجس میں پانچ تحصیل کی ٹیموں نے حصہ لیا پہلا میچ تحصیل فیصل آباد سٹی اور تحصیل فیصل آباد صدر کے درمیان کھیلا گیا جو تحصیل فیصل آباد سٹی نے 3/0سے جیت کر فائنل کیلئے کوالیفائی کیا دوسرے میچ میں تحصیل جڑانوالہ نے تحصیل تاندلیانوالا کو 5/0سے جیت کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کیا سیمی فائنل تحصیل جڑانوالہ اور تحصیل چک جھمرہ کے درمیان کھیلا گیا جو وقت مقرر پر ایک ایک گول سے برابر رہا پھر پنلٹی شوٹس پر دلچسپ مقابلے میں تحصیل جڑانوالہ نے 7/6 سے جیت کر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا۔فائنل میچ تحصیل فیصل آباد سٹی اور تحصیل جڑانوالہ کے درمیان کھیلا جائے گا سپورٹس ڈیپارٹمنٹ اور ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن کے عہدیداران بھی موجود تھے۔
-

ضلع میں انسداد پولیو مہم پر عمل درآمد کا جائزہ
فیصل آباد (عثمان صادق) ضلع میں انسداد پولیو مہم پر عملدرآمد کاجائزہ اجلاس ڈی سی آفس میں منعقد ہوا جس میں ڈویژنل کمشنر ثاقب منان اورڈپٹی کمشنر علی شہزادنے مائیکروپلان کے مطابق مقررہ اہداف اور حاصل کئے گئے ٹارگٹس کا جائزہ لیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹرز محمد خالد،اسسٹنٹ کمشنرز صاحبزادہ محمد یوسف،عمر مقبول،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق سپرا،ڈی ایچ او ڈاکٹر بلال احمد اور دیگر افسران بھی موجودتھے۔ڈویژنل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ انسداد پولیو کی جاری مہم کو سو فیصد کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے سرتوڑکوششیں کی جائیں اور مائیکرو پلان کے مطابق روزانہ کا ہدف مکمل کریں تاکہ پانچ سال تک کی عمر کا کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔انہوں نے مہم پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے پولیو ٹیموں کو ذمہ داریاں مزید احسن انداز میں نبھانے کی تاکید کی اور کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اڈوں،ریلوے سٹیشن سمیت دیگر اہم عوامی مقامات پر پولیو ٹیموں کی موجودگی یقینی بنانے اور بچوں کو قطرے پلانے کی اہم ذمہ داری میں غفلت نہ کی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ مہم پر عملدرآمد کی اچانک چیکنگ کا سلسلہ جاری رہے گا اور کوتاہی پر متعلقہ ایریا انچارج ذمہ دار ہو گا۔اجلاس کے دوران ڈی ایچ اونے مہم پر عملدرآمد اور مانیٹر نگ کے بارے میں بریفنگ دی۔
-

چھابڑی والے مزدور،تحریر: فروانذیر
میرا آج کا موضوع ان لوگوں پر ہے جو روزی کمانے کیلئے گلی محلوں میں گھومتے رہتے ہیں،
اپنا وقت لگاتے ہیں، تپتی دھوپ میں نکلتے ہیں۔ میں بات کر رہی ہوں چھابڑی والوں (Street Hawker) کے بارے میں۔۔۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔
اللہ نے ہر انسان کو برابر وسائل نہیں دیئے۔ جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں اسی طرح کوئی انسان برابر نہیں۔
اللہ نے کسی کو امیر بنایا تو کسی کو غریب
اللہ امیر کو دے کر آزماتا ہے تو غریب سے لے کر آزماتا ہے۔
اللہ دیکھتا ہے میرا بندہ کتنا خرچ کرتا ہے دوسروں پر،
اللہ دیکھتا ہے میرا غریب بندہ کتنا صبر کرتا ہے۔۔
کوئی اچھا کاروبار کرتا ہے تو کوئی چھوٹا۔
اسی طرح کچھ ایسے لوگ جو گلی محلوں میں گھوم کر تپتی دوپہر میں بارش میں اپنی روزی کو کمانے نکلتے ہیں،
جیسے سبزی والا، سموسوں والا، جو سکولوں کالجوں کے باہر ہوتے ہیں۔ یہ سب کوئی حرام روزی نہیں کمارہے یہ اپنی محنت سے حلال رزق کماتے ہیں۔
لیکن کچھ انکو حقیر سمجھتے ہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
کیوں سمجھتے ہیں لوگ ایسا؟؟؟؟
وہ کچھ ٹائم کیلیے سوچے اگر یہ سبزی والے نہ ہوتے تو گھروں میں کیا بناتے ظاہر سی بات ہے دالیں گوشت وغیرہ،
لیکن انسان سبزی کے بغیر نہیں رہ سکتا
تو یہ سب حلال رزق کماتے ہیں اپنے گھر والوں کو پالنے کیلیے۔۔
چاہے کم ہوتا ہے لیکن جتنا اللہ چاہتا ہے اسے اتنا رزق عطا فرماتا ہے۔
بیشک حلال رزق میں برکت ہوتی ہے وہ چاہے کم ہو یا زیادہ۔
اللہ پاک نے ہر انسان کی قسمت میں اسکا رزق پیدا ہوتے ساتھ ہی لکھا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم سبکو ایک مقصد کیلیے دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اپنی آخرت کو سنوار سکیں عبادت کرسکیں اللہ کا شکرادا کریں۔
اللہ نے ہر انسان کی قسمت کو بہتر اور بہترین بنایا ہے صرف مسلمان ہی نہیں کافر کے ساتھ بھی
اللہ پاک ہم سب کو حسن سلوک کی ہدایت فرماتا ہے۔ صرف مسلمان کے ساتھ نہیں ہر انسان کے ساتھ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو، امیر ہو یا غریب ہو عربی ہو عجمی ہو یا جو بھی ہے۔
اللہ کی نظر میں کوئی بھی انسان کمتر نہیں ہے۔ ہم انسان ایک مکھی کے پر جتنا بھی کچھ پیدا نہیں کرسکتے لیکن اللہ کی پیدا کردہ مخلوق کا مذاق اڑاتے ہیں
کچھ پڑھے لکھے لوگ بھی ایسا کام کر رہے ہوتے ہیں۔
میری ان سب سے درخواست ہے جو لوگ اپنے سے زیادہ دوسروں کو کمتر سمجھتے ہیں۔ چھوٹے کام کرنے والوں کو حقیر سمجھتے ہیں ان سب کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں نہ سمجھیں کہ وہ خود کو نا شکرا بنا لیں۔
کیونکہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی،
اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو ایک دوسرے کو برابر سمجھنے اور مساوی سلوک کرنے والا بنادیں۔
آمین ثمہ آمین